The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 20 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ چرسی بابا ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Chitral Times

بزمِ درویش ۔ چرسی بابا ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ چرسی بابا ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ چرسی بابا ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بابا ٹلی انگلیوں میں دبے چرس کے سگریٹ کے کش پر کش لگا رہا تھا دوسرے ہاتھ سے بھنگ کا بھرا پیالہ میری طرف بڑھایا اور نشیلی آواز میں بولا لو جی جنت کا مشروب پیو اور پھر دیکھو کس طرح تم کو جنت کے نظارے میں زمین پر کرواتا ہوں میں بابے کی چالاکی بھانپ گیا تھا کہ وہ مجھے بھنگ پلا کر پھر چرس کاایک سگریٹ پلا کر دماغی طور پر مفلوج کر کے ہیپناٹائز کر کے اپنی مرضی کی بات منوانا چاہتا تھا اب اگر میں بھنگ کا پیالہ چڑھا کر اوپر سے چرس کے سگریٹ پی کر دماغ کو شل کر کے خو د کو اُس کے حوالے کر دیتا

دماغی طور پر تو اِس میں بابے کا تو کوئی کمال نہیں تھا یہ تو بھنگ اور چرس کا کمال تھا جو میں نے نیم بے ہو ش بے سدھو سا ہو کر اُس کی ہاں میں ہاں ملاتا جاتا اور وہ اِس کو اپنی کرامات کہتا کہ میں نے اپنی روحانی تو جہ روحانی پاور سے مشاہدہ یا نظارہ کر ا دیا ہے میں بابے کی یہ چالاکی جان چکا تھا اب میں جرات ہمت کا مظاہرہ کر نے جارہا تھا میں نے ہاتھ کے اشارے سے کہا بابا جی یہ پیالہ آپ خود نوش فرما لیں یا اپنے کسی چیلے کو دیں میں ایسی نشہ آور چیزوں کا استعمال نہیں کر تا کیونکہ ہر قسم کا نشہ جو آپ کا ہوش چھین لے میں اُس کو حرام سمجھتا ہوں اور اسلام نے حرام چیزوں کو سختی سے منع کیا یہ آپ کے ڈیرے پر کس قسم روحانیت فقیری درویشی ہے جو آپ روحانیت فقیری کے طالبین کا ایسی نشہ آور چیزیں پلا کر ان کے دماغوں کو مفلوج کر تے ہیں پھر جب ان کے دماغ حواس ایک خاص زون میں چلے جاتے ہیں اپنی توجہ سے ان کو ہپناٹائز کر کے نظارے اور مشاہدے کراتے ہیں یہ شعبدہ بازی ڈرامہ بازی تو کوئی بھی کر سکتا ہے اِس میں آپ کا کیا کمال ہے میں تو سائل ہوں جو طلب حق کا متلاشی ہے جو الٰہی رنگ چاہتا ہے جب کہ تم بھنگ اور چرس پیش کر رہے ہو میں تو آپ کا روحانی تصرف توجہ چاہتا ہوں کہ آپ خاص نگاہ تو جہ روحانی طاقت کا مظاہرہ کریں اور میرے من کی سیاہی کو روشن اجالوں میں بدل دیں مجھے زمان و مکان سے آزاد کردیں میری روح کو مادی جسم سے آزد کر کے زمین پھر افلاک کی سیر کرادیں

میں فرش سے عرش تک کا مشاہدہ چاہتا ہوں چرس کے سگریٹ اور بھنگ کا مشروب نہیں یہ تو آپ نشئی بنانا چاہتے ہیں تاکہ میں پھر دنیا داری کا نہ رہوں گھر والوں خاندان والوں کا نہ رہوں پھر آپ کے ڈیرے پر پڑا رہوں آپ مجھے چرس بھنگ پلاتے رہیں میں مصنوعی روحانی دنیا کے نظاروں میں گم رہوں یہ تو میرے ساتھ زیادتی ہے باباجی کو ئی اللہ ھو کی ضرب لگاؤ توجہ سے لطیفہ قلب میں جان ڈالو یہ سب کچھ چرس بھنگ کے بغیر یہ میں نہ آپ کو کرنے دوں گا اور نہ ہی آپ ایسے کریں میں کوئی جاہل اندھی تقلید والا مرید نہیں کہ آپ کو چیک کئے بغیر ہی آپ کے روحانی مقام مرتبے کو پہچان کر آپ کے سامنے جھک جاؤنا بابا جی نا یہ شعبدہ بازی نہیں مجھے حقیقت اصل روحانیت دکھائیں یہ پیالے اور سگریٹ بند کر کے آنکھ سے آنکھ ملا کر بات کریں باباٹلی میرے اِس جرات مند انہ رویے کے لیے بلکل بھی تیار نہیں تھا اُس کا واسطہ تو دن رات عقیدت مند غلاموں سے پڑتا تھا جواُس کے آبروئے چشم پر سجدہ ریز ہوتے تھے ہاں میں ہاں ملاتے تھے بابا پریشان ہو گیا تھا کہ یہ گستاخ کہاں سے آکر اُس کے روحانی مقام و مرتبے کو چیلنج کر نے کی گستاخی کر رہا ہے چیلوں کے چہروں پر بھی پریشانی اور غصے کے تاثرات پھیلتے جارہے تھے کیونکہ کسی نے آکر اُن کے مرشد اعلیٰ کو چیلنج کرنے کی گستاخی کی تھی

ایک دو چیلوں نے میری طرف غصے سے بڑھنا چاہا تو میں نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا کہ آرام سے بیٹھو کیونکہ میں یہاں آنے سے پہلے اچھی طرح چرس بھنگ بوٹی افیم پر کام کر چکا تھا کہ جب میں نیا نیا اِس دنیا میں وارد ہواتو اکثر کو یہ کہتے سنا کہ چرس فقیری نشہ ہے چرس بھنگ تو جڑی بوٹیاں ہیں یہ نیچرل ہیں اِن کے استعمال سے گناہ نہیں بلکہ خاص قسم کا سرور آتا ہے جو غلط نہیں ہے روحانی طالب علموں کے لیے ایک اور نقطہ بیان کرتا چلوں کہ آخر روحانی ڈیروں پر چرس افیم بھنگ بوٹی کا استعمال کیوں ہوتا ہے اور کیا اِن نشہ آور چیزوں کا روحانیت فقیری سے کوئی تعلق ہے بھی کہ افسانے ہی بنے ہیں اصل میں دنیا بھر میں جب بھی کوئی انسان جو فطری طور پر روحانی فطرت مزاج رکھتا ہے جب روحانی دنیا میں داخل ہو تا ہے یا روحانی منازل طے کر نا شروع کرتا ہے تو دنیا کے یہ روحانی سلسلے میں مراقبہ ارتکاز توجہ پر مشقیں کرا ئی جاتی ہیں اور یہ سچ بھی ہے کہ اگر روحانی ترقی روحانی لطائف کو بیدار چھپی روحانی قوتوں کو بیدار کر نا چاہتے ہیں من کے اندھیروں کو روشن اجالوں میں بدلنا چاہتے ہیں

روحانی یونٹوں کو آن کرنا چاہتے ہیں تو تزکیہ نفس پر عمل کرتے ہوئے ہر حال میں مراقبہ کرنا پڑتا ہے یا تصور شیخ بھی مرشد کے تصور پر زور دیا جاتا ہے اِس کے لیے پھر روحانی طالب دل پر اللہ کا تصور یا سیاہ دائرہ بنا کر اُس کو غور سے دیکھتا یا پھر شمع بینی چاند پر غور کر نا ایسی مشقیں کرکے اصل میں طالب منتشر دماغ کو ایک نقطے پر لانے کی کو شش کرتا ہے وہ مراقباتی حالت پانے کے لیے ایک نقطے پر اپنے سارے حواس کو فوکس کرتا ہے یہ مشکل کام ہے جیسے ہی طالب توجہ ارتکاز کی مشق سٹارٹ کرتا ہے دماغ پر مختلف سوچوں کی یلغار ہو جاتی ہے میں بھی جب شروع میں کسی روحانی بزرگ کے پاس جاتا تو وہ یہی کہتا جا کر میرا نشانہ پکاؤ یعنی تصور شیخ میں فنا ہو جا ؤ تو میں نے بہت غور کیا کہ تصور شیخ یا مراقبہ تو میں کرو ں گا اِس میں مرشد کا کیاکمال ہے تو بات سمجھ آئی کہ مراقبہ کی بیداری اور ارتکاز کی آخری حدوں کو کراس کرنے سے انسان کے باطنی یو نٹ آن ہو تے ہیں یا انسان روح کی روشنی تک رسائی کے لیے جائل پردوں کے پار اُس وقت دیکھتا ہے جب وہ ارتکاز پا لے یعنی روحانی بیداری کے لیے مراقبہ اور ارتکاز نہایت ضروری لازمی ہے لیکن ارتکاز کو پانے کے لیے جسم دماغ کا ایک خاص حالت میں جانا ضروری ہے

جہاں جا کر آپ کے من کی کھڑکی آن ہو تی ہے جہاں آپ روشن جہاں کا مشاہدہ اور دیدار کرتے ہیں جہاں آپ کے باطنی حواس بیدار ہو تے ہیں یعنی مراقبہ ارتکاز پہلی کھڑکی یا سیڑھی ہے جہاں سے آپ باطن کی دنیا میں داخل ہو تے ہیں مراقبہ پر میں اپنی مختلف کتابوں میں تفصیل سے لکھ چکا ہوں اب جب طالب مراقبہ یا تصور شیخ کی کو شش کرتا ہے اور اُس کادماغ ایک نقطے پر نہیں ٹہرتا اُس پر خیالات کی یلغار ہو جاتی ہے سالک بار بار کوشش کرتا ہے لیکن یکسوئی حاصل نہیں کر پاتا اب وہ اِس تلاش میں ہوتا ہے کہ کس طرح دماغی سوچھوں سے نجات پا کر ایک نقطے پر یا دل پر اللہ کے تصور کو پکا کروں اب یہاں پر پرانے پاپی جو جھوٹی روحانیت فقیری کا جال پھیلائے بیٹھے ہیں سامنے آتے ہیں بھنگ کا پیالہ چرس کا سوٹا افیم کی ٹافی یا بوٹی پلا کر دماغ کو مفلوج کر تے ہیں ان نشہ آور چیزوں سے خیالات کی یلغار بند ہو جاتی ہے دماغ اُس زون میں داخل ہو جاتا ہے جہاں پر جو مرشد کہے طالب اُس نقطے پر مرکوز ہو جاتاہے یعنی نشانہ پکانا مراقبہ کرنا آسان ہو جاتا ہے جس خیال پر آپ غور کریں گے آپ اُسی میں ڈوبتے چلے جائیں گے مادی دنیا سے آپ کا رابطہ منقطع ہو جائے گا (جاری ہے)