بزمِ درویش ۔ روحانی حاضری ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی
پچھلے کئی کالموں سے چونکہ میں حاضری پر ہی لکھ رہا ہوں جن میں قارئین کے بہت سارے سوالوں کے جواب دینے کی کو شش بھی کی اِن کالموں کے چشم کشا حقائق نے بہت سارے قارئین کے اذھان میں مچلنے والے سوالوں کے تسلی بخش جواب دئیے لیکن ابھی بھی بہت سارے قارئین نے سوالات کئے جن کی وجہ سے مجھے ایک بار پھر حاضری پر لکھنا پڑ رہا ہے تاکہ قارئین کے سوالوں کے جواب انہیں مل سکیں قارئین کے زیادہ تر سوال یہ تھے کہ اولیاء اللہ جو حاضری کرتے ہیں یا مرشد اپنے مرید کو پیارے آقا کریم ﷺ کی کچہری میں حاضری کرتے ہیں یا صاحب مزار کے حضور حاضری پیش کرتے ہیں وہ پھر کیا ہے اِس لیے مجھے یہ کالم لکھنے کی ضرورت پیش آئی یہاں پر میں قارئین کی تسلی کے لیے ایک دوست کا واقعہ بیان کروں گا جس میں بہت سارے سوالوں کے جواب ہونگے چند سال پہلے میرے پاس کسی یونیورسٹی کے پروفیسر صاحب آئے جو میری کتاب اسرار روحانیت پڑھ کر بہت متاثر تھے مجھ سے ملنا چاہ رہے تھے بیٹھے تو بولے پروفیسر صاحب میں روحانیت اولیاء اللہ کے بہت خلاف تھا میرے گھر والے روحانیت کے ماننے والے بزرگوں سے عقیدت اور خدمت کرنے والے تھے لیکن میں بلکل بھی تصوف روحانیت کو پسند نہیں کرتا تھا لیکن میرے والد صاحب بہت زیادہ روحانیت کو مانتے تھے
اُن کے سند ھ میں بزرگ بھی تھے جن سے ملنے وہ ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو جایا کرتے تھے یہ ان کا برسوں کا معمول تھا ان کے مرشد سال میں ایک بار اپنے مریدوں سے ملنے کے لیے اِدھر کا رخ کرتے تو وہ ہمارے گھر بھی تشریف لاتے اگر ہمارے گھر نہیں تو گاؤں میں کسی دوسرے مرید کے گھر آتے تو والد صاحب وہاں عقیدت و احترام سے ضرور جاتے اِس سال جب مرشد صاحب نے اِدھر کا رخ کیا تو انہوں نے ہمارے گھر کو عزت بخشی کہ وہ ہمارے گھر قیام کریں گے اب مرشد صاحب جب کسی کے گھر تشریف لاتے تھے تو وہ اکیلے نہیں بلکے اِن کے ساتھ آئے ہوئے اور گاؤں کے مریدین سب اکٹھے ہو جاتے مریدوں کی تعداد سینکڑوں میں پہنچ جاتی ایک قسم کا جلسہ سا ہو جاتا اب جو میزبان ہو تا وہ سب کے قیام و طعام کا انتظام کر تا جس پر لاکھوں روپے خرچ ہو جاتے مجھے اِس پر بہت اعتراض تھا جو میں نے والد صاحب سے بھی کیا کہ یہ فضول خرچی ہے آپ اپنے بال بچوں کا مال نام نہاد روحانیت پر لٹا نے لگے ہیں جس میں کوئی سچائی نہیں ہے لیکن والد صاحب نے ایک نہ سنی سختی سے حکم دیا کہ سب گھر والے مہمانوں اور مرشد صاحب کا دل سے احترام کریں گے نہیں تو میں ناراض ہو جاؤں گا
لہذا مجبورا ً ہم سب بہن بھائی استقبال کی تیاریوں میں لگ گئے مقررہ دن مرشد اپنے مریدوں کے لشکر کے ساتھ ہمارے گھر پر آکر براجمان ہو گئے اطراف کے دیہات سے بھی لوگ جو ق در جوق مرشد کی بارگاہ میں حاضری دینے لگے میں تنقیدی عقیدت اور تقلیدکو کڑی نظروں سے دیکھ رہاتھا کہ یہ کس طرح غلاموں کی طرح گردنیں جھکائے ایک انسان کی خدمت میں حاضر ہیں اِس مرشد اور عام مرید میں کیا فرق ہے جو یہ سب غلام بننے حاضر ہیں میری روحانیت سے مخالفت میرے والد صاحب کو بہت دکھ دیتی تھی انہیں موقع ملا تو انہوں نے مرشد صاحب سے میرے بارے میں بات کی کہ یہ بزرگوں کو اور روحانیت کو بلکل نہیں مانتا بلکہ یہ کہتا ہے کہ مجھے پہلے کچھ دکھاؤ تاکہ میں یقین کر سکون ورنہ یہ باتیں افسانے ہیں جن کو میں نہیں مانو گا مرشد نے غور سے میرے والد صاحب کی بات سنی اور کہا اللہ اِس کا دل ضرور بدلے گا رات کو کھانا کھانے کے بعد ہمارے بڑے صحن میں زمین پر دریاں بچھی تھیں مرشد کریم کے لیے سٹیج تیار تھا اُس پر وہ جلوہ گر تھے کھانے کے بعد محفل نعت کا انتظام تھا پرسوز نعت خوانوں نے ماحول کو خوب گرمایا
محفل نعت کے بعد ذکر کی محفل پھر اُس کے بعد دل پر اللہ کا تصور اور مراقبہ کی محفل تھی اس مراقبے کی محفل کے بارے میں مشہور تھا کہ مرشد کریم اپنے مریدوں کو نبی کریم ﷺ کی حاضری کچہری محفل میں لے جاتے ہیں یہ میرے لیے سب بہت حیران کن اور تجسس سے بھر پور تھا خاص وقت پر روشنیاں بجھا دی گئیں سب سے کہا گیا اب آنکھیں بند کر کے دل پر اللہ کے تصور کو خیال سے پڑھیں میں نے بھی ہدایات کو فالو کیا خاموشی سی طاری تھی کہ اچانک مجھے غنودگی کا نشیلا سا احساس ہونے لگا ایک سرور آمیز مدہوشی نیند کا خمار تھا جو مُجھ پر طاری ہو رہا تھا میں شاید نیند کی وادی میں اُترتا جا رہا تھا پھر میرا اِس مادی دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا اچانک نظروں کے سامنے اندھیرے کی چادر چاک ہونے لگی ایک منظر کے خدو خال واضح ہو نے لگے کوئی روشن سی جگہ جہاں پر نور اور مسحور کن خوشبوؤں کا راج تھا چاروں طرف نورانی پھوار کا احساس تھا بہت سارے نورانی بزرگ مودب حاضر تھے اونچی جگہ پر ایک نورانی ہستی جلوہ افروز تھی سب اُن کے سامنے مودب ہیں چاروں طرف صدائیں گونج رہی تھیں کہ یہ نبی رحمت محبوب خدا آقا کریم ﷺ ہیں میں حیرت اور اشتیاق سے اِس منظر میں مگن تھا
میں مختلف چہرو ں کو بھی دیکھ رہا تھا میں اپنی قسمت پر نیند میں بھی رشک کر رہا تھا کہ یہ میری قسمت کہ میں سرور دو جہاں ﷺ کا دیدا کر رہا ہوں یہ خواب انگیز منظر کافی دیر تک چلتا رہا پھر اچانک کسی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہامجھے مرشد کریم اپنے پاس بلا رہے ہیں روشنیاں جلا دی گئیں میں نشیلے قدموں سے جا کر مرشد کے قدموں میں بیٹھ گیا اِس سوچ میں کہ مرشد میرے خواب سے واقف ہیں یا نہیں اُسی وقت مرشد نے مجھے دیدا ر کی مبارک دی اور خواب کے منظر کی ساری تفصیلات میرے ساتھ شئیر کیں یعنی جو کچھ میں نے دیکھا مرشد نے بھی وہ سب کچھ دیکھا یہاں سے میری زندگی کا موڑ آیا جب میں روحانیت کا ماننے لگا اور بزرگوں سے عشق کرنے لگا محترم قارئین جب کوئی نیک انسان شریعت محمدی ؐ کے دائرے کے اندر رہ کر تذکیہ نفس اور تقوے کے مشکل مراحل طے کر کے ارتکاز کی پکی منزل حاصل کر لیتا ہے تو وہ توجہ کا مالک ہو تا ہے جو طالب مرید پر توجہ کر کے اُس کو بھی شاہ مدینہ ﷺ کی کچہری میں پہنچا دیتا ہے لیکن وہ شریعت کا پابند اور اللہ اور رسول ﷺ کا خادم اور ماننے والا ہو یہ مقام خاص لوگوں کو حاصل ہو تا ہے جو لوگ شریعت محمدی ﷺ سے باہر تقوے سے دور ہوں وہ اصلی حاضری والے بزرگ نہیں شعبدے باز فراڈی ہو تے ہیں اُن سے دور رہنا چاہیے اور نیک بزرگ عورتوں میں حاضر نہیں ہوتے ہیں یہ سب ڈرامہ فراڈ ہو تا ہے جس سے بچنا چاہیے۔