The Voice of Chitral since 2004
Friday, 19 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹیاں ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

Chitral Times

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹیاں ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹیاں ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

بزمِ درویش ۔ حوا کی بیٹیاں ۔ تحریر:پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

جنت بیٹی کے منہ سے نکلنے والے الفاظ شہد بن کر میری سماعتوں کو روح پرور چاشنی میں بھگوتے چلے گئے اُس کے منہ سے نکلا ایک ایک لفظ مصری کی ڈلی کی طرح چوسنے لگا میں کیف و سرور کا ایسا زیست آفریں احساس قلب و رو ح چھونے لگے بنت حوا کا حقیقی اور مقدس روپ میرے سامنے تھا۔ مجھے لگا میرے سامنے کوئی مقدس ہستی بیٹی ہے جس کو دیکھنے کی میں سعادت حاصل کر رہا ہوں جیسے میں کسی مندر مسجد گرجے گردوارے کے اندر آگیا ہوں جیسے کوئی مقدس ورد کے مقدس الفاظ میرے ہونٹوں پر مچل رہے ہیں اور ان الفاظ کی چاشنی سے میرے جسم کا انگ انگ کیف و نشاط کے سرور آمیز حالت میں جھوم رہا ہے آج میری جنت بیٹی سے پہلی ملاقات تھی اِس کا باپ میرا دوست تھا جو اپنی ڈاکٹر بیٹی جنت سے عشق کر تا تھا دونوں کا رشتہ لازوال بے مثال تھا۔

جنت کے والد صاحب سرکاری آفیسرہیں روحانیت تصوف سے فطری شغف رکھتے ہیں میری کتابیں اور کالم بہت شوق سے پڑھتے ہیں اولیاء اللہ اور مجھ فقیر مشتِ غبار سے محبت کر تے ہیں اکثر میرے پاس آتے ہیں ایک بیٹا اور ایک بیٹی جنت لیکن یہ اپنی بیٹی سے پیار نہیں عشق کرتے ہیں بھر پور اعتماد بھروسہ کر تے ہیں اُس کو فیصلہ کر نے کی بھی مکمل آزادی دے رکھی ہے جنت بیٹی سے ملنے سے پہلے مجھے لگتا تھا کہ جنت ایک امیر سرکار ی آفیسر جو بہت ساری زرعی زمینوں کا بھی مالک ہے کی لاڈلی بیٹی ہے یقینامغرور اور خود سر ہو گی اپنی ذات کی اسیر اپنی ہر بات منواتی ہوگی جوانی کے نشے میں آکر اپنی پسند کی شادی پر زور دے گی اور اپنی مرضی کرے گی جنت کی شادی کا وقت آیا تو جنت کا باپ مجھے بولا یار بیٹی کی شادی کا وقت آگیا ہے میں اُس کو آپ سے ملاؤں گا آپ اُس کی مرضی پوچھ لیں آج جب میں جنت سے ملا تو وہ بہت خوبصورت تھی میں نے جب اُس سے پوچھا بیٹی تمہاری پڑھائی مکمل ہوگئی ہے اب تمہاری شادی کا وقت آگیا ہے لہذا تم بتاؤ تم اگر کسی کو پسند کرتی ہو تو میں تمہارے والد صاحب سے کہہ کر تمہاری مدد کر سکتا ہوں

میری بات سننے کے بعد جنت بیٹی بولی انکل میں آپ کو اچھی طرح جانتی ہوں بلکہ آپ کی کچھ کتابیں بھی پڑھی ہیں آپ کی بہت عزت کرتی ہوں جہاں تک شادی کا تعلق ہے میں شادی وہاں کروں گی جہاں میرے والد صاحب کہیں گے اور جس کو میرے ابا پسند کریں گے وہی میرے لیے بہترین خاوند ہو گا میرے ابا میری نیچر کو دنیا میں سب سے زیادہ جانتے ہیں اُس نے بچپن سے آج تک میری پرورش کی میر ے ہر سکھ کا خیال رکھا ہے دکھ مشکل کو ہمیشہ مُجھ سے دور رکھا تو ایسا والد میرے لیے خاوند کا بہتر فیصلہ کر سکتا ہے ایسا والد جن سے پچھلے پچیس سال میرے آرام پسند ناپسند کا خیال رکھا مجھے آزادی اعتماد بھروسہ دیا میرے فیصلوں کو مانا اعتماد کیا میں کسیے کس طرح اُس والد کے خلاف جا سکتی ہوں مجھے تو حیرت ہو تی ہے اُن بیٹیوں پر جو کتنے آرا م سے جو ان ہو کر باپ والدین کو ٹھوکر ما ر کر ایک اجنبی کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں ایسا نیا شخص جس کوچند دن یا چند مہینے سے جانتی ہیں اُس کو اُس والد پر ترجیح دیتی ہیں جو اپنی محبت ثابت کر چکا ہوتا ہے جس نے زندگی کی ہر خوشی دی ہر آرام کا خیال رکھا جو مشکلوں کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو تا رہا جو معاشرے میں سر اٹھا کر جیتا آیا ہوں

میں اپنی حماقت سے اُس کا سر جھکا دوں جنت اپنے والد کی عزت و قار معاشرے میں مقام کے بارے میں بات کر رہی تھی اور میں ان سینکڑوں لڑکیوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جو جیسے ہی جوانی کے آنگن میں قدم رکھتی ہیں کتنے آرام سے آسانی سے اُس شفیق باپ کو بھول جاتی ہیں جس نے خون پسینے سے مزدوری کر کے محنت کر کے اُس کو پالا اُس کے دکھ سکھ کا خیال رکھا اُس کی ضرورتیں پوری کیں اُس کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا رہا خون پسینے کی کمائی سے اُس کی زندگی کو آرام دہ بنایا جوان ہوتے ہی آنکھیں پھیر لیں اُس شخص کے لیے جو چند دن سے اُس کی زندگی میں آیا ہو جس نے ابھی پر فار م بھی نہیں کیا پھر اُس شفیق والد کے سامنے عدالت میں کھڑی ہو کر اُس والد کو ظالم خوشیوں کا قاتل قرار دیتی ہیں اور غیر کا ہاتھ پکڑ کر چلی جاتی ہیں یہ بھول جاتی ہیں کہ والد گھر جا کر پھانسی کے پھندے سے لٹک جائے گا یا زہر کا پیالہ ہونٹوں سے لگالے گا یہ بھول جاتی ہیں

اُس والد کی موت کا سبب بنتی ہیں جس نے اپنی جوانی بیٹی کے آرام پرورش میں گزار دی ہو ہم ہر روز یہ سنتے ہیں فلاں لڑکی نے والدین کو ٹھکرا کر فلاں سے شادی کر لی گھر سے بھاگ گئی تو ایسی سرکش لڑکیوں کی خدمت میں عرض ہے کہ میں پچھلے تیس سال سے روحانی خدمت خلق کا کام کر رہا ہوں اِس دوران ہر روز سینکڑوں لڑکیاں ایسی میری زندگی میں آچکی ہیں جنہوں نے والدین سے سرکشی کر کے گھر سے بھاگ کر یا ناراض ہو کر اپنی مرضی کی شادی کی لیکن آج تک ان سینکڑوں لڑکیوں میں ایک بھی ایسی نہیں ملی جس نے کہا ہو کہ میں اپنی مرضی والدین کے خلاف شادی کر کے خوش ہوں اگر آپ کو کوئی پسند ہے اور والدین بھی خوش ہیں تو والدین کے دعائیں ساتھ شامل ہو جاتی ہیں تو برکت پڑ جاتی ہے ورنہ گھر سے بھاگنے والی اکثر تو طوائفوں کے کوٹھوں پر جسم فروشی کر تی نظر آتی ہیں آج جنت نے جب کہا کہ میں والد کی مرضی کی شادی کروں گی تو دل و دماغ جھوم گئے اور میں بنت حواکی بیٹیوں پر حیران تھا کہ یہاں پر جنت جیسی باکردار بیٹیاں بھی ہیں اور بہت ساری گھر سے بھاگنے والی جو یہ بھول جاتی ہیں کہ گھر سے باہر درندے منہ کھولے اُن کا انتظار کر رہے ہیں۔