بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ کے خلاف چترال میں رات دس بجے تک احتجاجی دھرنا جاری ، مذاکرات ناکام، مطالبات کی منظوری تک دھرنا جاری رہیگا، مقرریں، کل واپڈ آفس اور گولین گول پاور ہاوس کو تالے لگانے کا اعلان،
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) بجلی کی ناروا لوڈ شیڈنگ کے خلاف جماعت اسلامی کی کال پر تمام سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی تنظیموں کا اتالیق پل پر سڑک بلاک کر کے دھرنا تاحال جاری ہے جوکہ لوڈ شیڈنگ کے مکمل خاتمے کا اعلان ہونے تک جاری رہے گا۔ احتجاجی مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مقرریں نے کہا کہ چترال میں ۱۰۸میگاواٹ بجلی پیداہونے کے باوجود ناروا لوڈشیڈنگ علاقے کے عوام کے ساتھ انتہائی زیاتی اور ظلم ہے ، اگرچترال میں کوئی ادارہ یا شخصیات بجلی کے بلوں کی ڈیفالٹر ہیں تو ان کی سزا اہالیان چترال کو نہیں دی جانی چاہئے جبکہ چترال کے عوام بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ پر ایک پلیٹ فارم پر اور ایک پیج پر جمع ہیں اور ہر قسم کی سیاسی تعصبات سے بالاترہیں۔ دھرنے کی وجہ سے چترال گول اور دونوں طرف موٹر گاڑیوں کی ٹریفک گزشتہ دودنوں سے معطل ہوکر رہ گئی ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں ژوغور دنین روڈ کو متباد ل کے طور پر استعمال کیا جارہا ہے۔
دریں اثناء چترال شہر کے نواحی گاؤں چومورکھون کے مقام پر بھی لوڈشیڈنگ کے خلاف روڈ بلاک جاری ہے جس سے پشاور سے آنے اور جانے والی سینکڑوں گاڑیوں میں مسافرپھنس کررہ گئے ہیں۔ ابھی تک مظاہرین سے بات چیت کے لئے ضلعی انتظامیہ کی طرف سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ عمائدین علاقہ کا ڈپٹی کمشنر کے ساتھ میٹنگ بھی بے معنی ختم ہوگئی،
احتجاجی دھرنا رات دس بجے تک جاری ہے ، اورمطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں کل واپڈ آفس اور گولین گول گرڈ اسٹیشن کو تالہ لگانے کا اعلان کیا گیا ہے۔اخری اطلاع کے مطابق رات دس بجے کے بعد دعا کے ساتھ دھرنا کل اتوار کے دن گیارہ بجے تک ملتوی کرتے ہوئے مظاہرین پرامن منتشر ہوگئے۔
