The Voice of Chitral since 2004
Friday, 6 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپٹ عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم

Chitral Times

بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپٹ عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم

بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپٹ عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم

بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپٹ عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا، وزیراعظم

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعظم نے کہا ہے کہ بجلی تقسیم کار کمپنیوں میں کرپٹ عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت توانائی، پاور ڈویڑن کے امور پر جائزہ اجلاس وزیر اعظم ہاؤس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔اجلاس کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ بجلی چوری کی روک تھام، لائین لاسز میں کمی اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر کرنا توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں بجلی کی ترسیل کی پانچ کمپنیوں میں نئے بورڈ چئیرمین اور ممبران کی تعیناتی ایک شفاف عمل کے ذریعے کی گئی ہے، امید ہے ان نئی تعیناتیوں سے ڈسکوز کی کارکردگی میں بہتری آئے گی۔

وزیراعظم نے وفاقی وزیر پاور اور وفاقی سیکرٹری پاور کو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی، انسداد بجلی اور دیگر معاملات پر چاروں صوبوں کا دورہ کرنے اور صوبائی حکومتوں سے رابطہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ انسداد بجلی چوری کے لئے ہول آف دی گورنمنٹ اپروچ اپنائی جائے۔وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو انسداد بجلی چوری کے حوالے سے پولیس فورس اور تحصیلداروں کی تعداد ڈسکوز کی ضرورت کے مطابق پوری کرنے کی ہدایت بھی کی۔انہوں نے کہا کہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں میں موجود کرپٹ عناصر سے سختی سے نمٹا جائے گا۔ انہوں نے ڈسکوز کی عوامی شکایات کے ازالے کے حوالے سے کچہریوں کے نظام کو مؤثر اور نتیجہ خیز بنانے کی ہدایت کی۔

وزیراعظم نے بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے حوالے سے بنائی گئی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس فی الفور طلب کرنے کی ہدایت بھی کی۔اجلاس کو پاور ڈویڑن کے مختلف امور پر بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے حوالے سے ایس او پیز اور اسٹیئرنگ کمیٹی کو نوٹیفائی کر دیا گیا ہے۔ اجلاس کو مزید آگاہ کیا گیا کہ اچھی کارکردگی دکھانے والے افسران کی پزیرائی کے حوالے سے پیکج تیار کیا جا رہا ہے۔اجلاس میں وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پاور اویس احمد خان لغاری اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی-

جولائی میں بجلی کی لاگت 9روپے یونٹ رہی،بل 80 روپے سے کیوں آرہا ہے؟ڈاکٹر گوہر

اسلام آباد(سی ایم لنکس)سابق نگراں وزیرتجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے سوال اٹھایا ہے کہ جولائی میں بجلی کی لاگت 9روپے یونٹ رہی، تو بل کیسے 80 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہے ہیں؟ڈاکٹر گوہر اعجاز نے ٹوئٹ کرتے ہوئے کہا کہ جولائی میں بجلی کی کل اوسط پیداوار 20000 میگاواٹ تھی جس میں سے 35 فیصد بجلی یعنی 7000 میگاواٹ ہائیڈل ذرائع سے حاصل کی گئی۔انہوں نے بتایا کہ جولائی میں بجلی کی پیداواری لاگت 9روپے تین پیسے فی یونٹ رہی، جب ایندھن کی قیمت 9.03 روپے فی یونٹ ہے تو بل کیسے 40، 60، یا 80 روپے فی یونٹ تک پہنچ رہے ہیں؟سابق نگراں وزیرتجارت نے کہا کہ پاکستان کے پاس 43,000 میگاواٹ سے زیادہ بجلی کی پیداوارکی صلاحیت ہے، لیکن بنیادی مسئلہ مجموعی بدانتظامی کے ساتھ پیدا نہ ہونے والی بجلی کے استعدادی چارجز کی ادائیگی ہے، کیپسٹی چارجز سے رہائشی، تجارتی، صنعتی، اور زرعی تمام صارفین متاثر ہو رہے ہیں، پاکستان صرف اس بجلی کی ادائیگی کر سکتا ہے جوحقیقت میں پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی حکومت کو تمام صارفین رہائشی، کمرشل، صنعتی اور زرعی کو انصاف دینا ہے،اب سب دم توڑ رہے ہیں، پنجاب حکومت کا 500 یونٹس کے صارفین کو 2 ماہ کے لیے 14 روپے فی یونٹ ریلیف دینا قابل تعریف ہے۔