The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اپر چترال:  انتظامیہ نے میری چاردیواری گرائی اور چادروچاردیواری کی تقدس کوپامال کیا، جنالی کوچ کی رہائشی خاتون کا الزام، ۔ ہم نے صرف سرکاری زمین وارگزار کرائی ہے۔ ضلعی انتظامیہ 

Chitral Times

اپر چترال:  انتظامیہ نے میری چاردیواری گرائی اور چادروچاردیواری کی تقدس کوپامال کیا، جنالی کوچ کی رہائشی خاتون کا الزام، ۔ ہم نے صرف سرکاری زمین وارگزار کرائی ہے۔ ضلعی انتظامیہ 

اپر چترال:  انتظامیہ نے میری چاردیواری گرائی اور چادروچاردیواری کی تقدس کوپامال کیا، جنالی کوچ کی رہائشی خاتون کا الزام، ۔ ہم نے صرف سرکاری زمین وارگزار کرائی ہے۔ ضلعی انتظامیہ 

اپر چترال:  انتظامیہ نے میری چاردیواری گرائی اور چادروچاردیواری کی تقدس کوپامال کیا، جنالی کوچ کی رہائشی خاتون کا الزام، ۔ ہم نے صرف سرکاری زمین وارگزار کرائی ہے۔ ضلعی انتظامیہ

اپر چترال(نمائندہ چترال ٹائمز) اپرچترال کے ہیڈ کوارٹر بونی سے کے نواحی علاقے جنالی کوچ سے تعلق رکھنے والی ایک ضعیف خاتون کی ویڈیو گزشتہ رات سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی ہے، جس میں وہ ڈسٹرکٹ اپر چترال کی انتظامیہ اور پولیس پر رات کے وقت ان کے گھر میں داخل ہونے اور چادر و چار دیواری کے تقدس کی پامالی کا الزام لگا رہی ہیں۔

اس واقعے کے بعد متاثرہ گھرانے کے سربراہ، شیر فراز نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ گزشتہ دو سال سے اس مقام پر رہائش پذیر ہیں۔ ان کے مکانات دریائی کٹاؤ کے باعث مکمل طور دریا برد ہوگئے تھے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت ان کے موجودہ گھر کے بالکل سامنے ایک سرکاری عمارت تعمیر کر رہی ہے، جس سے ان کے گھر کی پرائیویسی متاثر ہو رہی ہے۔ “اس عمارت کی تعمیر ہمارے لیے پردے کا مسئلہ پیدا کر رہی ہے، اور یہ ہمارے لیے ناقابل قبول ہے،

دوسری جانب، ضلعی انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ جہاں یہ گھر تعمیر کیا گیا ہے، وہ جگہ سرکاری زمین ہے، اور سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق اس پر تعمیرات غیر قانونی ہیں۔ ان کے مطابق، “یہ تعمیرت تجاوزات ( انکروچمنٹ) کے زمرے میں آ تےہیں، اور ہم نے صرف وہ چار دیواری ہٹا ئی ہے جو گھر کے باہر سرکاری زمین پر تعمیر کی گئی تھی۔ چادر اور چار دیواری کا کوئی تقدس پامال نہیں کیا گیا۔ اورہ مذکورہ خاتون سوشل میڈیا میں ویڈیو چلاکر صرف لوگوں کی ہمدردیاں حاصل کرنا چاہتی ہے، جبکہ انتظامیہ نے اپنی ذمہ داری نبھائی ہے۔

دونوں فریقین اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں، تاہم اس واقعے کے حوالے سے عوامی حلقوں میں سوالات اٹھ رہے ہیں۔ اگر واقعی یہ انکروچمنٹ کا معاملہ تھا تو انتظامیہ کو چاہیے تھا کہ دن کی روشنی میں اور مناسب نوٹس کے بعد کارروائی کرتی۔ رات کی تاریکی میں انکروچمنٹ ہٹانے کی کوشش شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے اور عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچاتی ہے۔

یہ واقعہ ایک بار پھر ضلعی سطح پر شفاف اور حساس طریقے سے قانون پر عمل درآمد کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے، تاکہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر نہ ہوں اور ریاستی رٹ بھی قائم رہے۔

chitraltimes junali koch controvercial land beteen citizen and administration 5

chitraltimes junali koch controvercial land beteen citizen and administration 4

chitraltimes junali koch controvercial land beteen citizen and administration 3

chitraltimes junali koch controvercial land beteen citizen and administration 7