The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

انٹرنیٹ بندش اور فائروال کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر

Chitral Times

انٹرنیٹ بندش اور فائروال کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر

انٹرنیٹ بندش اور فائروال کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر

انٹرنیٹ بندش اور فائروال کیخلاف اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی درخواست دائر

اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) فائر وال کی تنصیب اور ملک میں انٹرنیٹ بندش کے خلاف لاہور کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ میں بھی درخواست دائر کردی گئی ہے۔درخواست گزار نے ایمان مزاری کے توسط سے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ شہریوں کے بنیادی حقوق متاثر کرنے والی فائر وال کی تنصیب کو روکا جائے۔درخواست میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ فائر وال کی تنصیب تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور بنیادی حقوق کے تحفظ سے مشروط قرار دی جائے۔ ذریعہ معاش کے لیے انٹرنیٹ تک رسائی کو آئین کے تحت انسانی بنیادی حقوق قرار دیا جائے۔عدالت میں دائر درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ فریقین سے فائر وال سے متعلق تمام تفصیلات پر مبنی رپورٹ طلب کی جائے اور درخواست پر فیصلہ ہونے تک فائر وال کی تنصیب کا عمل معطل کردیا جائے۔

شہریوں کی بلا تعطل انٹرنیٹ تک رسائی کو یقینی بنانے کے احکامات دیے جائیں۔درخواست کے مطابق بظاہر فائروال کی انسٹالیشن کے باعث انٹرنیٹ کی اسپیڈ میں انتہائی کمی آئی ہے۔ نوجوانوں کا نقصان ہوا جو ڈیجیٹل اکانومی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یک رپورٹ کے مطابق تھری جی اور فور جی سروسز کی بندش سے 1.3 ارب روپے یومیہ کا نقصان ہو رہا ہے۔عدالت میں پیش کیے گئے مؤقف میں مزید کہا گیا ہے کہ ایکس کی بندش اور فائروال کی انسٹالیشن سے انٹرنیٹ اسپیڈ میں کمی سے بنیادی حقوق متاثر ہو رہے ہیں۔ ملک بھر کے صارفین کو ایک ماہ سے سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے استعمال میں مشکلات کا سامنا ہے۔ پبلک فنکشنریز کے non responsive رویے کی وجہ سے مزید کنفیوڑن پیدا ہوئی ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے ٹاک شو میں سوشل میڈیا کو کنٹرول کرنے کی بات کی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی ریاست مخالف مواد کو فلٹر کیا جاتا ہے۔ مسلم لیگ ن کے دانیال چوہدری نے امریکا اور یوکے میں فائروال کے استعمال کا دعویٰ کیا جو جھوٹا نکلا۔درخواست میں سیکرٹری کابینہ، سیکرٹری آئی ٹی ٹی، سیکرٹری داخلہ کو فریق بنایا گیا ہے جب کہ پی ٹی اے، وزارت انسانی حقوق بھی فریقین میں شامل ہیں۔

سابق صوبائی وزیر شکیل خان کی برطرفی کے حوالے سے گڈ گورننس کمیٹی کا موقف

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے گڈ گورننس کمیٹی کی سفارشات پر صوبائی وزیر شکیل خان کے خلاف تادیبی کاروائی کرتے ہوئے انکو انکے عہدے سے برطرف کردیا ہے، گڈ گورننس کمیٹی وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے احکامات کی توثیق کرتی ہے اور عوام الناس کو عموماً اور پی ٹی آئی کے کارکنان اور عہدیداران کو حصوصا تسلی دینا چاہتی ہے کہ عمران خان کے نظریہ انصاف اور رول آف لاء کے مطابق عمل کرتے ہوئے تمام معاملات کو نمٹایا گیا ہے۔یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر گڈ گورننس کمیٹی نے محکمہ سی اینڈ ڈبلیو کے حوالے سے انکے سیکرٹری اور صوبائی وزیر کے خلاف شکایات موصول ہونے پر تفصیلی انکوائری کی،انکوائری کے دوران تمام طرح کی شہادتوں اور شواہد کو بشمول صوبائی وزیر شکیل خان اور سیکرٹری ڈاکٹر اسد کے بیانات بھی قلمبند کیے گئے.کمیٹی نے مالی بے ضابطگیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور محکمانہ احکامات سے غفلت کی بنیاد پر صوبائی وزیر کے خلاف الزامات ثابت ہونے پر اپنی سفارشات مرتب کرکے وزیراعلی خیبرپختونخوا کو پیش کیں،کمیٹی آئندہ بھی محکموں کے بارے میں شکایات اور صوبائی وزراء کی کارکردگی پر عمران خان کے دئیے ہوئے احکامات اور نظریئے کے مطابق بغیر کسی تحصیص اور امتیاز کے عمل درآمد کرتی رہی گی۔

وزیرِ اعظم کا قیمتی پتھروں کی صنعت کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی خود صدارت کرنے کا فیصلہ

اسلام ا ٓباد(سی ایم لنکس)وزیرِ اعظم شہباز شریف نے قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی خود صدارت کرنے کا فیصلہ کر لیا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیرِ اعظم نے صنعت کی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے اصلاحات کا فیصلہ کیا۔اجلاس میں وفاقی وزراء جام کمال خان، خالد مقبول صدیقی، احد خان چیمہ، محمد اورنگزیب، رانا تنویر حسین، مصدق ملک، گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد، کوآرڈینیٹر رانا احسان افضل، چیف سیکریٹریز گلگت بلتستان، آزاد کشمیر، کے پی نے بھی شرکت کی۔وزیرِ اعظم نے اس موقع پر کہا کہ قیمتی پتھروں کی صنعت کی ترقی اور اصلاحات کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی خود صدارت کروں گا۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے وفاقی وزیرِ نج کاری عبدالعلیم خان کو اصلاحات کے نفاذ کی ذمے داری سونپ دی۔خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم شہباز شریف نیکہا کہ حکومت گلگت بلتستان میں کان کنی اور ویلیو ایڈیشن پائلٹ پراجیکٹ شروع کرے گی، گلگت بلتستان حکومت کو مکمل مالی معاونت فراہم کریں گے، قیمتی پتھروں کی روایتی طریقے سے کان کنی سے قیمتی اثاثہ ضائع کیا جا رہا ہے۔انہوں نے ہدایت کی کہ 1 ماہ میں لائحہ عمل تشکیل دے کر اس کے نفاذ کے لیے اقدامات شروع کیے جائیں، قیمتی پتھروں کی صنعت اور شعبے کی اصلاحات سے متعلق عملی اقدامات اور نتائج پیش کیے جائیں، قیمتی پتھروں کی اسمگلنگ کی اجازت بالکل بھی نہیں دی جائے گی۔وزیرِ اعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ گلگت بلتستان حکومت سے مشاورت کے بعد ایک ہفتے میں رپورٹ پیش کی جائے، قیمتی پتھروں کی عالمی سطح پر رائج سرٹیفیکیشنز کے لیے اقدامات کیے جائیں۔اس موقع پر وزیرِ اعظم شہباز شریف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں قیمتی پتھروں کی کان کنی سے متعلق 178 بڑیلائسنسز دیے جا چکے ہیں، پاکستان میں 18 قیمتی پتھروں کی اقسام پائی جاتی ہیں، پاکستان کی قیمتی پتھروں کی برآمدات کا 80 فیصد حصہ خام مال پر مبنی ہے۔