The Voice of Chitral since 2004
Wednesday, 17 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

اصلی اور نقلی انگریز……….ڈاکٹر اسماعیل ولی

Chitral Times

اصلی اور نقلی انگریز……….ڈاکٹر اسماعیل ولی

ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ہاں “ولایتی” اور “انگریزی” کے الفاظ اعلی معیار کی اشیا کے لیے استعمال ہوتے تھے- اور یہ حقیقت بھی تھی کہ وہ اشیا اپنی پایداری ، خدمت گذارٰی ، خوبصورتی ، اور مضبوطی میں اپنی مثال اپ تھیں- اسی طرح ریلوے سٹیشن میں جا کر دیکھیں بہت سے چیزوں پر اٹھارہ سو کا سنہ دیا ہوا ہے- لیکن وہ اب بھی کام کر رہی ہیں- ان کے پلوں اور راستوں کی نشانیاں اب بھی چترال میں پایی جاتی ہیں- اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ محنت کرتے تھے- اور قومی جذبے کے حامل لوگ تھے- اگر ان میں یہ قومی جذبہ نہ ہوتا-اور وہ روسی پیش قدمی کو روکنے کے لیے اتنا بڑا “کھیل” کھیلنے کا منصوبہ نہ بناتے- تو یہاں کی تاریخ ہی کچھ اور ہوتی-

اب یہا ں جو کچھ ہو رہا ہے- خواہ اس کا تعلق انتظامی امور سے ہو- قانون سے ہو- تعلیم سے ہو- کھیلوں سے ہو- یا فوج سے ہو- ان سب کی بنیادیں انگریزوں نے فراہم کیں- فوجداری قوانین کو انہوں نے جس طریقے سے کوڈ کیا- وہ اپنی جگہ ایک شاہکار ہے-اور اسی کو بغلوں میں دبا کر ہم چیختے رھتے ہیں- اسلامی فقہ پر جو معیاری کتاب ہے- وہ ایک غیر مسلم کی ہے- کاروباری تعلیم پر جتنی کتابیں دستیاب ہیں- وہ ساری مغربی یا کچھ ہندوستانی مصنفین کی ہیں- ہم نے صرف ہشیاری یہ دکھایی کہ اسلام پسند لوگوں کو خوش کرنے یا انکی رضا پسندی حاصل کرنے کے لیے کالج سے پہلے “اسلامیہ” کا سابقہ لگایا- اب یہ “اسلامی” کالج بن گیا- اور اب نیے سابقے بھی پڑھنے کو مل رہے ہیں- یعنی اسلامک بینکینگ یا اسلامی فنانس 150

مجھے جو بات سمجھ نہیں ارہی ہے وہ یہ ہے- اصل انگریز جب ادھر تھے- تو ہمارا کیا نقصان کر رہے تھے- اگر سب کچھ ان سے” ادھار” لیکر یہ ریاست چلانی تھی- تو وہ “نقد” ہی ٹھیک نہیں تھا- ترقی بھی ہوتی- معیاری تعلیم بھی ہوتی- معیاری ہسپتال بھی بنتے- کرپشن کم ہوتی- گلگت یا چترال ریل کے ذریعے وسط ایشیایی مملک سے جڑے ہوتے- اور کاروباری سرگرمیوں کی وجہ سے سارا علاقہ ترقی کرتا- اب بھی معیاری تعلیم کے لیے ہم وہاں جاتے ہیں- معیاری علاج کے لیے وہاں جاتے ہیں- اب بھی مشیر وہاں سے اتے ہیں- تحقیق وہاں کی معیاری ہوتی ہے- وہاں جا کے ملازمت کرنے کو ہر ایک کا دل چاہتا ہے- جو قانوں وہاں بنتا ہے- کوشش ہوتی ہے- کہ اس کی نقل فورا یہاں لاگو ہو- ان کے غیر سرکاری ادارے ہمارے بے روزگار لڑکوں اور لڑکیوں کو ملازمتیں فراہم کر رہے ہیں- اور ترقیاتی منصوبوں پر کام کر رہے ہیں- سالانہ یہاں سے سیکڑوں طلبا و طالبات ثقافتی تبادلے کے نام پر امریکہ جاتے ہیں- لیکن وہاں سے کسی طالب علم کو یہاں اتے ہوے نہیں سنا- حالالنکہ ہم بھی ان کو چند دنوں کے لیے مہمان رکھ سکتے ہیں- اور ان کو معلوم ہوتا- کہ یہاں ہر ایک خود کش نہیں ہے- اور نہ حالت اتنے خراب ہیں-

دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنت برطانیہ کی طاقت کمزور ہو گیی- اور وہ اتنی بڑی حکومت کو منظم رکھنے کی متحمل نہیں رہی- اور ان کے غلام ممالک یکے بعد دیگرے ازاد ہوتے گیے  اور ہمارے حصے میں بھی ازادی اگیی- فرق اتنا ہوا- پہلے اصلی انگریز ہم پر حکومت کرتے تھے- اب نقلی انگریز حکومت کرتے ہیں- ان نقلی انگریزوں کے کیی روپ ہیں- مثال کے طور پر اگر بات شہادت کی ہو- تو “اسلام” کو استعمال کرینگے- بات جب اصلی انگریزوں کو خوش کرنے کی ہو- تو کہیں گے- چودہ سو سال پہلے کی باتیں اب بھی دوہرایی جا رہی ہیں- ہم اکیسویں صدی میں رہ رہے ہیں- جب گاوں میں جلسے کے لیے جاینگے- تو پگڑی یا پکوڑ پہنیں گے- یا زیارتوں میں جاکر عام لوگوں کو بے وقوف بناییں گے- اگر وسایل اجازت دیں- تو مولانا صاحبان بھی اپنی اولاد کو ھارورڈ یا اکسفورڈ میں پڑھانے کی حسرت دل میں لیے بیٹھے ہیں- بالفاظ دیگر ہمارے پاس کویی تعلیمی نظام یا سیاسی نظام یا معاشی نظام یا کاروباری نظام عملا کہیں موجود نہیں- جس کو ہم دنیا کے سامنے پیش کر سکیں- اور دنیا والوں کو بتا دیں- دیکھیں یہ نظام کتنا موثر ہے- کتنا پیداواری صلاحیت والا ہے- کم خرچے پر زیادہ امدن دینے والا ہے- ماحول کے لیے کتنا اچھا ہے- عدل و انصاف کے لحاظ سے کتنا موثر ہے- انسان دوست ہے-

اس ناکامی کی ایک ہی بنیادی وجہ ہے- وہ علم سے دوری علم کا انحصار تحقیق پر منحصر ہے- مغرب اور امریکہ میں جتنے علوم اب پڑھاے جارہے ہیں- وہ اسمان سے یکدم نہیں اترے ہیں- بلکہ تحقیق کی بدولت کتابی صورت میں اگیی ہیں- اور لوگ ان سے فایدہ اٹھا رھے ہیں- ہمارے تحقیق کا دروازہ صدیوں سے بند ہے- بند اسلیے ہے- کہ ہماری حیثیت ایک شکست خوردہ قوم کی ہے- اور شکست خوردہ قوم میں بنیادی خامی یہ ہوتی ہے- کہ اس میں خود اعتمادی نہیں ہوتی- اسلیے ہمیشہ دوسروں پر اعتماد کرتی ہے- اور خود اعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے خود انحصاری نہیں ہوتی- اگر ہم موجودہ حالات کا بغور جایزہ لیں- تو ہماری ہر چیز ادھار ہے- ہمارے روزمرہ کے الفاظ “سر” اور میڈم” سے لیکر قانونی اصطلاحات تک سارے ادھار ہیں- ادھار اسلیے ہیں- کہ ہم اپنی اصطلاحات کو “پسماندہ” سمجھتے ہیں- اور خود اعتمادی نہ ہونے کی وجہ سے دل میں شرمندگی محسوس کرتے ہیں- اسلیے انگریزی زبان کا جو اثر ہے- وہ دیدنی ہے- کیونکہ وہ “اقا” لوگوں کی زبان ہے-

یہاں ہم یہ بھول جاتے ہیں- “اقا” لوگوں کی یہ زبان بھی کسی زمانے میں شکست خوردہ لوگوں کی زبان بھی- جب گیارہ سو میں فرانسیسی بولنے والوں نے انگریزی بولنے والوں کو شکست دی تھی- اگرچہ اس کے اثرات اب بھی باقی ہیں- چونکہ فرانسیسی زبان میں اسم صفت بعد اسم کے بعد استعمال ہوتا ہے- اسلیے اج بھی اکاونٹنٹ جنرل یا ایڈوکیٹ جنرل کھتے ہیں- ایک زمانہ تھا- کہ انگریز بھی لاطینی یا فرانسیسی میں لکھنے کو ترجیح دیتے تھے- غلامی کی ذہنیت سے نجات حاصل کرنے کیلے محنت اور تسلسل ضروری ہیں- لیکن محنت اور تسلسل کے پس پشت خود اعتمادی اور خود انحصاری کا جذبہ کار فرما نہ ہو- تو یہ نجات ناممکن ہے-

امریکہ والوں نے بھی برطانیہ کے تسلط سے اپنے اپ کو ازاد کیا ہے- اور ان کو پتہ تھا  کہ غلامانہ ذہنیت سے اپنے اپ کو کیسے اازاد کرنا ہے- اور یہ بھی ان کو معلوم تھا  کہ کیسے کرنا ہے- سب سے پہلے انہوں نے اپنا اپنا ہیجا الگ کیا- رسمی خط لکھنے کا انداز الگ کیا- صداراتی نظام اپنایا- اور اتنی محنت کی کہ ان کا ہارورڈ ، اکسفورڈ اور کیمرج کو پیچھے چھوڑ گیا- اور برطانیہ کی جگہ دنیا کی غیر رسمی سلطنت پر قابض ہے- اور ہم نے امریکہ کی غلامی شروع کی- ترقی کی جو تعریف وہ کرتے ہیں- وہی ہم نے ادھار لی- اور اس ادھار والی ترقی کے سہارے چل رہے ہیں-

ہمارا علم مستعار ہے- ہماری معیشت مستعار ہے- ہماری سیاست مستعار ہے اور ہماری معاشرت مستعار ہے- ہمارے میڈیا کے تصورات مسستعار ہیں- ہماری زبان مستعار ہے- ہم فحاشی کو ارٹ سمجھتے ہیں- اور ارٹ کے ذریعے سیاست کرتے ہیں- لہذا جب تک ہم ان ادھار کی اشیا و خدمات کو چھوڑ کر خود اعتمادی اور خود انحصاری کے جذبے کے ساتھ اپنی قومی شناخت کو بنانے کے لیے جہد مسلسل نہیں کریں گے- ہم غلام رہیں گے- اور ہماری ذہنیت غلامی سے اگے نہیں بڑھے گی- ہم “مفت” کی چیزیں حاسل کرکے خوش ہوتے رہیں گے-