اساتذہ کی ریشنلائزیشن اور ای ٹرانسفر پالیسی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس، ای ٹرانسفر کے لئے اساتذہ 9 ستمبر سے 19 ستمبر تک آن لائن درخواستیں جمع کرواسکتے ہیں۔وزیرتعلیم
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر برائے تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت اساتذہ کی ریشنلائزیشن اور ای ٹرانسفر پالیسی کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں ایڈیشنل سیکرٹری فیاض عالم، ڈائریکٹر آئی ٹی صلاح الدی،ن ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد اقبال اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ صوبائی وزیر تعلیم نے کہا کہ جتنے سکولوں میں اساتذہ کی خالی آسامیوں اور ریشنلائزیشن کی نشاندہی کی گئی ہے ان کے فوری طور پر آرڈر جاری کیے جائیں گے انہوں نے ہدایت کی کہ کسی قسم کی کوتاہی ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی اور ضرورت کے مطابق اساتذہ کی دستیابی یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر تعلیم نے ای ٹرانسفر پالیسی کے حوالے سے کہا کہ تمام تر انتظامات مکمل ہیں یکم ستمبر سے آٹھ ستمبر تک خالی آسامیاں اپلوڈ کی جائے گی اور اسی دوران اساتذہ کو بذریعے سوشل میڈیا، پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا آگاہی دی جائے گی۔ تاکہ وہ خالی آسامیوں کے لئے بذریعہ ای ٹرانسفر اپلائی کر سکیں 9 ستمبر سے 19 ستمبر تک اساتزہ آن لائن درخواستیں جمع کروائیں گے جبکہ 20 سے 24 ستمبر تک متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز درخواستوں کی ویریفیکیشن کریں گے۔ 26 ستمبر کو فائنل منتخب شدہ اساتذہ کا لسٹ جاری کیا جائے گا۔ جبکہ 27 ستمبر کو آرڈرز جاری کئے جائیں گے۔
وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ وہ ای ٹرانسفر پالیسی کے تمام مراحل کی خود نگرانی کریں گے اور ضلع وائز ہر امیدوار کی ویریفیکیشن کی جائے گی، انہوں نے ہدایت دی کہ ای ٹرانسفر پالیسی میں پوسٹ ظاہر نہ کرنے والے اور غلط ویریفیکیشن کرنے والے متعلقہ ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسرز کے خلاف کاروائی کی جائے گی کیونکہ یہ ایک شفاف اور میرٹ پر مبنی نظام ہے اور اس کو ہر صورت کامیاب اور قابل عمل بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے بعد محکمہ تعلیم میں تمام تبادلے صرف ای ٹرانسفر پالیسی کے تحت ہوں گے وقت کے ضیاع کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی اور اساتذہ کو سفارش سے بچا کر صرف تعلیم پر توجہ دینے کے قابل بنائے جائیں گے، وزیر تعلیم نے یہ بھی ہدایت جاری کی کہ ای ٹرانسفر پالیسی سے بھرپور استفادہ حاصل کرنے اور سسٹم کو مزید فعال بنانے کے لیے بذریعہ ایٹا مزید 400 کمپیوٹر آپریٹرز بھی بھرتی کیے جائیں گے جس کے لیے تمام تر انتظامات مکمل ہیں۔
وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے محکمہ تعلیم سے لمبی چھٹیوں پر جانے والے اور ڈیپوپٹیشن پر تعینات اساتذہ پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ایک ہفتے کے اندر ایک جامع رپورٹ تیار کی جائے اور اس میں ایسے تمام ملازمین کی نشاندہی کریں جو کہ چھٹی یا ڈپوٹیشن پر ہیں اور ان کے خلاف فوری کاروائی کی ہدایت کی کہ جن کی غیر موجودگی میں طلبہ و طالبات کا قیمتی وقت ضائع ہو رہا ہے۔ وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ ایسے اساتذہ کو کسی بھی قیمت پر معاف نہیں کیا جائے گا اور ان کے خلاف کاروائی ہوگی سکولوں میں استاد ضروری ہے اور اس کی دستیابی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے حالیہ میٹرک نتائج میں خراب کارکردگی دکھانے والے اساتذہ کے خلاف کاروائی کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا کہ ایسے تمام اساتذہ کی ضلع وائر تفصیلات فراہم کی جائے۔ خراب کارکردگی دکھانے والوں کے خلاف قانونی کاروائی ہوگی اور ان کے دور دراز سکولوں میں تبادلے، انکریمنٹس کی بندش، وارننگ اور کارکردگی میں بہتری نہ آنے کی صورت میں ان کو نوکریوں سے فارغ کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ تمام تر توجہ طلبہ اور معیاری تعلیم اور بہترین نتائج پر دے رہے ہیں اور اس ضمن میں تمام اساتذہ کو اپنا مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔
سکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے جلد از جلد فعال کیا جائے گا تاکہ کم وقت میں ان سکولوں کو فعال کیا جا ئے اور صوبے کے بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی دی جا سکے۔ صوبائی وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے حوالے سے اہم اجلاس
پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبر پختونخوا کے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کی زیر صدارت پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے حوالے سے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر پختونخوا میں تعلیم کے معیار کو بہتر بنانے کے اقدامات پر غور کیا گیا۔ وزیر تعلیم نے موجودہ تعلیمی سال کیلئے صوبہ بھر کے 8 موزوں سکولوں کا انتظام پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت چلانے کے عمل کو فوری طور پر شروع کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ اگلے مرحلے فیز 2 میں 8 مزید سکولوں کے انتظام کے لیے بھی کیس تیار کیا جائے۔ اجلاس میں ایڈیشنل سیکرٹری ریفاررمز جہانگیر اعظم، ایڈیشنل ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ٹیم نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران صوبے کے مختلف اضلاع میں حال ہی میں قائم کئے گئے 100 سے زائد لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے بننے والے نئے پرائمری سکولوں کی فہرست بھی پیش کی۔
اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ ان سکولوں کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے جلد از جلد فعال کیا جائے گا تاکہ کم وقت میں ان سکولوں کو فعال کیا جا ئے اور صوبے کے بچوں کو معیاری تعلیم تک رسائی دی جا سکے۔ اس اقدام سے ان سکولوں میں جدید تدریسی تکنیکیس متعارف کرائی جائیں گی تاکہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کو جدید تعلیم فراہم کی جا سکے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی نے کہا کہ نئے قائم شدہ سکولوں میں اساتذہ کی آسامیوں اور دیگر لوازمات پر وقت لگتا ہے وقت کے ضیاء کو کنٹرول کرنے کیلئے فوری طور پر پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت ان سکولوں کو فوری طور پر فعال کیا جائے گا۔ وزیر تعلیم نے مزید کہا کہ ان سکولوں میں بچوں کو بغیر کسی فیس کے معیاری تعلیم فراہم کی جائے گی، جبکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی مدد سے محکمہ تعلیم کے سالانہ بجٹ میں کمی لانے میں بھی معاونت ملے گی۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ سے طلباء و طالبات کی نہ صرف مفت تعلیم جاری رہے گی بلکہ سرکاری سکولوں کا معیار تعلیم بھی بہتر ہوسکے گا۔ فیصل خان ترکئی نے مزید کہا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کیلئے سیکرٹریٹ لیول پر پی پی پی یونٹ اور ڈائریکٹوریٹ لیول پر پی پی پی سل بھی قائم کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اپنے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کیلئے تمام آپشنز زیر غور لانے ہیں۔ تاکہ شرح خواندگی بڑھانے کیساتھ ساتھ معیاری تعلیم فراہمی یقینی ہو سکے۔