The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 5 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ادویات خریداری کے عمل سے متعلق عدالتی فیصلے پر محکمہ صحت کا موقف، سوشل میڈیا پر پوری ایم سی سی پروکیورمنٹ کی تنسیخ کی خبریں جھوٹی ہیں،۔ ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم

Chitral Times

ادویات خریداری کے عمل سے متعلق عدالتی فیصلے پر محکمہ صحت کا موقف، سوشل میڈیا پر پوری ایم سی سی پروکیورمنٹ کی تنسیخ کی خبریں جھوٹی ہیں،۔ ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم

ادویات خریداری کے عمل سے متعلق عدالتی فیصلے پر محکمہ صحت کا موقف، سوشل میڈیا پر پوری ایم سی سی پروکیورمنٹ کی تنسیخ کی خبریں جھوٹی ہیں،۔ ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم
Health themes. Background of a large group of assorted capsules, pills and blisters. Drug abuse.

ادویات خریداری کے عمل سے متعلق عدالتی فیصلے پر محکمہ صحت کا موقف، سوشل میڈیا پر پوری ایم سی سی پروکیورمنٹ کی تنسیخ کی خبریں جھوٹی ہیں،۔ ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم

1400 آئٹمز میں سے صرف 15 آئٹمز پر ری ٹینڈرنگ کے آھکامات جاری ہوئیں۔ ان آئٹمز پر پہلے ہی حکم امتناعی کے تحت سپلائی معطل رہی، پروکیورمنٹ کے عمل میں ہر طرح کی شفافیت کو یقینی بنائی گئی ہے، عدالتی فیصلے کی سوشل میڈیا پر غلط وضاحت قابل مذمت ہے: ڈی جی ہیلتھ ڈاکٹر محمد سلیم

پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کی سوشل میڈیا اور میڈیا پر غلط ترویج اور گمراہ کُن وضاحت کی مُذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر پوری ایم سی سی پروکیورمنٹ کی تنسیخ کی خبریں جھوٹی ہیں۔ 1400 آئٹمز میں سے صرف 15 آئٹمز پر ری ٹینڈرنگ کے احکامات جاری ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق ان آئٹمز پر پہلے ہی حکم امتناعی کے تحت سپلائی معطل رہی اور اب تک کسی بھی مراکز صحت کو کوئی ترسیل نہیں ہوئی۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پروکیورمنٹ کے عمل میں ہر طرح کی شفافیت کی یقینی بنائی گئی ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم بتایا کہ محکمہ صحت خیبر پختونخوا ادویات کی خریداری کا عمل مشتہر کردہ ٹینڈر ڈاوکومنٹ کے مطابق صاف و شفاف طریقے سے سر انجام دیتا ہے، ادویات کی خریداری مقرر کردہ معیار (BSDs)، اور فارماسیوٹیکل سٹینڈرڈ اور ادویات کے قانون ڈریپ ایکٹ 2012 اور ڈرگ ایکٹ1976،خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ اتھارٹی (KP-PPRA) کے قوانین اور اصولوں کے تحت کیے جاتے ہے۔

انہوں نے عدالتی فیصلے کی سوشل میڈیا پر غلط وضاحت کو گمراہ کُن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم نامے میں محکمہ صحت کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ صرف ان اشیاء کی دوبارہ ٹینڈرنگ کرے جو M/S Frontier Dextrose Limited (Respondent No. 6) کو دی گئی تھیں۔ سوشل میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی ہیں کہ حکومتی میڈیسن کوآرڈینیشن سیل (MCC) مالی سال2024-25 کی پوری پروکیورمنٹ منسوخ کر دی گئی ہے، جو کہ بے بنیاد اور حقائق کے برخلاف ہیں۔ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں بلکہ صرف ایک کمپنی کو دی گئی ادویات جو کہ 15 آئٹمز ہے اور ان پر پہلے ہی سے حکم امتناعی بھی ہے، کی دوبارہ ٹینڈرنگ کے احکامات جاری کردیے گئے ہیں۔ اس پروکیورمنٹ پراسس کو مخصوص کمیٹیٹز جس میں تقریباً70 کے قریب مختلف طبی شعبوں کے ماہرین، انتظامی سربراہان اور ریگولیٹری حکام شامل ہوتے ہیں۔

تمام پروکیورمنٹ پراسیس کو سخت جانچ، بین الاقوامی اور قومی معیار کے مطابق کوالٹی ایشورنس، اور ڈرگ ایکٹ 1976، ڈریپ ایکٹ 2012 اور متعلقہ ریگولیٹری دفعات کی تعمیل کے طریقہ کار سے گزارا جاتا ہے۔ اس پروکیورمنٹ پراسیس میں محکمہ صحت براہ راست مینوفیکچررز یا ایمپورٹر جو کامیاب بولی دہندگان کے ساتھ معاہدہ طے کرتا ہے وہ کمپنیاں جو مروجہ قوانین پر پورا نہیں اترتی ان کی ٹینڈرز رد کردیے جاتے ہے، کامیاب فرمز کی ہر سپلائیز بیچ وائز ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری میں جانچ پڑتال کے بعد مریضوں کے استعمال میں لائی جاتی ہیں، کوئی بھی دوائی بغیر جانچ پڑتال کے مریضوں کو نہیں دی جاتی، اگر کوئی دوائی جو کسی بھی وجہ سے معیار کے خلاف ہو اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی ڈرگ ایکٹ اور ڈریپ ایکٹ کے تحت عمل نیں لائی جاتی ہیمالی سال 2024-25کے دوران، خریداری کا عمل شروع کیا گیا، جس میں خیبر پختونخوا کے صحت مراکز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے چودہ سو (1400)اشیاء کو اشتہار دیا گیا تاکہ معیاری اور کم قیمت ادویات کی دستیابی ملک کے معروف فرمز سے کی جا سکے۔

اس عمل کو مکمل طور پر خریداری کے قوانین، اشتہاری معیار اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق سرانجام دیا گیا۔ متاثرہ بولی دہندگان کو پروکیورمنٹ ادارے، پروکیورنگ اتھارٹی کے سربراہ،اور خیبر پختونخوا پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے سامنے اپنا موقف پیش کرنے کا پورا موقع فراہم کیا گیا تاکہ مکمل شفافیت اور مقررہ اصولوں پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز ڈاکٹر محمد سلیم نے مزید بتایا کہ ضلع صوابی کے ایک شہری، جس کا اس میڈیسن ٹینڈر پراسیس میں کسی قسم کی شمولیت یا وابستگی یا ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی پاکستان میں مینوفیکچررز یا ایمپورٹر یا ڈرگ کنٹرول اتھارٹی خیبرپختونخوا میں کسی قسم ان-لسمنٹ نہیں ہے،جس نے ایک خاص فرمز M/S Frontier Dextrose Limited کے دو(2) پراڈکٹ پر اعتراض کیا جس پر صوبہ پنجاب کے پروکیورمنٹ اتھارٹی نے اعتراض کیا تھا،

معزز عدالت نے اپنے فیصلے میں صرف ان ادویات کی دوبارہ ٹینڈرنگ کا حکم دیا ہے جو M/S Frontier Dextrose Limited کے حصے میں آئی تھیں۔واضح رہے کہ M/S Frontier Dextrose Limited کو سال ۲۰۲۴-۲۵ میں چودہ سو(۱۴۰۰)سے ادویات کے ٹینڈر میں صرف میں پندرہ(۱۵) آئٹمز کا معاہدہ دیا گیا تھا، جن پر ۱۹ نومبر ۲۰۲۴ سے حکم امتناعی (Stay) لگا ہوا ہے اور اس دوران کوئی بھی سپلائی سرکاری صحت مراکز کو فراہم نہیں کی گئی۔محکمہ صحت خیبر پختونخوا، شفافیت، ریگولیٹری اصولوں کی پاسداری، اور ادویات کی خریداری میں اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے عزم کا پر قائم ہے۔ کسی بھی فیصلے کو موجودہ قوانین اور ریگولیٹری فریم ورک کے مطابق ہونا چاہیے تاکہ خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے صحت کی سہولیات میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔