آن لائن قرضہ ایپس میں قرضوں اور بھاری سود لینے پر پابندیاں عائد
اسلام آباد(چترال ٹائمزرپورٹ) آن لائن قرضہ ایپلی کیشنز کے ذریعے صارفین سے اربوں روپے لوٹنے سے متعلق ایس ای سی پی نے آن لائن قرضہ ایپلی کیشنز کے قوانین سخت کر دیے۔ایس ای سی پی حکام کے مطابق عوام کو آن لائن جھانسے میں لاکر کئی گنا زیادہ سود لینے پر پابندی عائد کی گئی ہے، آن لائن کمپنی ایک صارف کو 25 ہزار سے زائد قرض نہیں دے سکے گی اور کمپنی قرض واپسی کی صورت میں صارف سے دگنی سے زیادہ رقم نہیں لے سکے گی۔حکام کے مطابق ایک صارف بیک وقت تین لینڈرز سے 75 ہزار روپے تک قرض لے سکے گا، اس سے پہلے کمپنیاں قرضہ دے کر صارفین سے 5 گنا سے زیادہ ٹیکس لیتی تھیں۔اسلام آباد میں میڈیا ورکشاپ میں صحافیوں سے بات چیت ایس ای سی پی حکام نے بتایا کہ کمپنیوں کے شیئرہولڈر کی جنرل میٹنگ میں الیکٹرانک ووٹنگ کرانے کی تجویز زیرغور ہے، بروکر ہاوسز کے نام سے واٹس ایپ کے ذریعے ہونے والی تجارت غیرقانونی ہے۔حکام نے بتایا کہ اسٹاک مارلیٹ میں ان سائیڈ ٹریڈنگ کی تحقیقات کے لیے کال ریکارڈنگ کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں، ان سائیڈ ٹریڈنگ کا کیس عدالت میں ثابت کرنا ایک چیلنج ہے، ان سائڈ ٹریڈنگ ایک وآٹ کالر جرم ہے جس کی کوئی خاص سزا متعین نہیں، قوانین میں سختی کی وجہ سے پچاس بروکرز ٹریڈنگ اونلی بروکر پر شفٹ ہوگئے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا باقی 2فیصد کام کیوں روکا گیا؟ سینیٹ میں جواب جمع
اسلام آباد(سی ایم لنکس)پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا باقی 2 فیصد کام کیوں روکا گیا؟ اس حوالے سے سینیٹ کے اجلاس میں وزارتِ داخلہ کا تحریری جواب پیش کر دیا گیا۔وزارتِ داخلہ کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر 98 فیصد باڑ کی تنصیب کا کام مکمل کر لیا گیا ہے۔تحریری جواب میں وزارتِ داخلہ نے بتایا ہے کہ خطرات کے باوجود کوشش کی جا رہی ہے کہ باقی باڑ کو لگانے کا کام بھی مکمل کیا جائے۔وزارتِ داخلہ کے تحریری جواب میں بتایا گیا ہے کہ پاک افغان سرحد پر باڑ لگانے کا باقی 2 فیصد کام تنازعات کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔تحریری جواب میں وزارتِ داخلہ نے بتایا ہے کہ تقسیم شدہ دیہات کی وجہ سے کام روکا گیا ہے، مسئلہ دو طرفہ بات چیت سے حل کیا جا رہا ہے۔وزارتِ داخلہ کے تحریری جواب میں کہا گیا ہے کہ معاملہ مشترکہ کوآرڈنینشن کمیٹی میں زیرٍ بحث ہے، اس وقت تمام روایتی راستے اور غیر قانونی کراسنگ بند کی گئی ہیں۔

