The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 7 November 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

آنے والے بورڈ امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان

Chitral Times

آنے والے بورڈ امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان

آنے والے بورڈ امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان

آنے والے بورڈ امتحانات میں نقل کی روک تھام کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھائیں گے۔ وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی
سٹوڈنٹ لرننگ آؤٹ کمز پر مبنی امتحانات سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں بیدار ہوں گی۔ وزیر تعلیم

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) صوبہ بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہان کی جانب سے وزیر تعلیم فیصل خان ترکئی کو متعلقہ بورڈز میں لائی گئی اصلاحات کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیمات مسعود احمد اور ایڈیشنل سیکرٹری عبدالاکرم بھی موجود تھے۔ صوبائی وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ آنے والے میٹرک کے بورڈ امتحانات میں صوبہ بھر سے آٹھ لاکھ اکیاسی ہزار بچے امتحانات میں حصہ لیں گے۔ ان امتحانات کے لیے 3500 کے قریب امتحانی ہالز بنائے گئے ہیں۔ وزیر تعلیم کو بتایا گیا کہ امتحانات کے دوران تمام بورڈز سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے امتحانی ہالز کی مانیٹرنگ بھی کریں گے۔ تمام بورڈز کی جانب سے طلبہ کی ڈیجیٹل حاضری لی جائے گی جس سے نقل کی روک تھام میں بھرپور مدد ملے گی۔ بریفنگ کے دوران تمام چیئرمینز کی جانب سے بتایا گیا کہ پرچوں کی آن سکرین مارکنگ کی جائے گی جس کا سب سے بڑا فائدہ خواتین مارکرز کو ہوگا جنہیں اپنے گھروں میں مارکنگ کی سہولت میسر آئے گی۔ اس سسٹم کے تحت ہفتے کے تمام دنوں کے 24 گھنٹے مارکنگ کا کام جاری رہے گا اور ان تمام مارکرز کو سافٹ ویئر کے ذریعے 24 گھنٹے مانیٹر بھی کیا جائے گا۔ اس موقع پر سیکرٹری تعلیم مسعود احمد کا کہنا تھا کہ اگر ہمیں کسی بھی ہال سے امتحانی عملے کے حوالے سے شکایات موصول ہوئیں تو ان کے خلاف فوری ایکشن ہوگا۔ امتحانات میں نقل کرنے اور کروانے کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی اپنائی جائے گی۔ وزیر تعلیم کو سٹوڈنٹ لرننگ آؤٹ کمز پر مبنی امتحانات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور بتایا گیا کہ اس سے طلبہ کی تخلیقی صلاحیتیں بہتر ہوں گی اور ہمارے طلبہ مقابلے کے امتحانات میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں گے۔ وزیر تعلیم کی جانب سے تمام بورڈز میں لائی جانے والی اصلاحات کو سراہا گیا اور امتحانی عملے کی ڈیوٹیز کے حوالے سے موجود نظام کو مزید فعال اور بہتر بنانے کی ہدایات دی گئیں۔

ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز پھل، سبزیوں اور گوشت سمیت دیگر خوردونوش اشیاء کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے اور گراں فروشی میں ملوث عناصر پر چھاپوں میں مزید تیزی لاکر انکے خلاف گھیرا تنگ کریں۔وزیرخوراک

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ) خیبرپختونخوا کے وزیر برائے خوراک ظاہر شاہ طورو نے ڈپٹی کمشنرز اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز کوھدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ پھل، سبزیوں اور گوشت سمیت دیگر خوردونوش اشیاء کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافے اور گراں فروشی میں ملوث عناصر پر چھاپوں میں مزید تیزی لاکر انکے خلاف گھیرا تنگ کریں، انہوں نے مزید کہا کہ ڈپٹی کمشنرز، اسسٹنٹ کمشنرز اور ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولرز اپنے دفتروں سے نکل کر اشیائے خوردونوش کی قیمتوں کی خود کڑی نگرانی کریں اور ہر صورت سرکاری نرخ ناموں پر عملدرآمد یقینی بنائیں،ان کا کہنا تھا کہ جو بھی نہیں سدھرتا اسکے خلاف سخت تادیبی کاروائی عمل میں لائی جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اپنے دفتر سے جاری ایک بیان میں کیا،ظاہر شاہ طورو نے کہا کہ پورے صوبے میں حکومتی مشینری پوری طرح گراں فروشوں اور ملاوٹی خوراکی اشیاء کے خلاف سرگرم عمل ہے جس کے کچھ ثمرات بازاروں میں آنا شروع ہو گئے ہیں اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں نسبتاً کمی آئی ہے، صوبائی وزیر خوراک کا اپنے بیان میں یہ بھی کہنا تھا کہ جو بھی افسر بلا وجہ اپنی ڈیوٹی میں غفلت یا کوتاہی میں ملوث پایا گیا اسکے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی کچھ اشیائے خوردونوش کے مہنگا ہونے کے حوالے ظاہر شاہ کا کہنا تھا کہ بیشتر خوراکی اشیاء کی قیمتوں کا تعین وفاقی حکومت کی طرف سے کیا جاتا ہے، اپنے بیان میں فوڈ اتھارٹی کی کاکردگی کے حوالے صوبائی وزیر نے کہا کہ فوڈاتھارٹی کے قیام کے مقاصد کے حصول اور انکی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے صوبائی حکومت سنجیدگی سے اقدامات بھی اٹھا رہی ہے، صوبائی وزیر نے یہ بھی کہا کہ ملاوٹ مافیا اور خودساختہ مہنگائی والوں کا راستہ روکنا ہم سب کی مجموعی ذمہ داری ہے، انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں اورمصنوعی مہنگائی اور غیر معیاری خوراکی اشیاء کو ختم کرنے کیلئے محکمہ خوراک کی جانب سے شکایات سیل نمبروں پر اطلاع دیں تاکہ بروقت محکمہ خوراک کے افسران ایسے عناصر کیخلاف کاروائی یقینی بناسکے۔