آبادی میں اضافہ اور سب کے لئے انصاف ۔ شاہ عالم علیمی
دنیا کی آبادی 15 نومبر 2022ء کو آٹھ ارب ہوگئی ہے۔ یعنی زمین پر انسانوں کی تعداد آٹھ ارب کی عدد تک پہنچ چکی ہے۔ زمین اور انسانی تاریخ میں یہ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ اس سے پہلے زمین پر اتنی تعداد میں بہ یک وقت انسان موجود نہیں تھے۔
1800ء میں پہلی بار انسانی آبادی ایک ارب کی فیگر کو عبور کرگئی۔ اس کے پیچھے سائنس اور صنعتی ترقی کی وجہ تھی۔ جس سے وافر مقدار میں خوراک کی فراہمی اور بیماریوں کے خلاف مدافعت کا جدید نظام ممکن ہوا۔
پچاس سال پہلے دنیا کی آبادی دو فیصد فی سال کے حساب سے بڑھ رہی تھی پھر کم ہوکر اب ایک فیصد کے حساب سے بڑھ رہی ہے۔
انسانی آبادی کے بڑھنے کی یہ رفتار زمین اور زمین پر موجود وسائل کو سامنے رکھ کر پھر بھی بہت زیادہ ہے۔
آبادی میں اضافہ کے اس رفتار میں بھی مگر تغیرات موجود ہے۔
ترقی یافتہ ممالک جیسے کہ یورپ اور شمالی امریکہ اور مشرقی ایشیاء کی آبادی بشمول چین نسبتاً کم ہورہی ہے جبکہ ترقی پذیر اور غریب ممالک کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔
آبادی میں اضافہ جنوبی ایشیاء کے ممالک میں، جن میں پاکستان بھی شامل ہے، تیزی ہورہا ہے۔ جنوبی ایشیاء میں پہلے ہی دنیا کی پچیس فیصد آبادی موجود ہے جبکہ بھارت چین کو پیچھے چھوڑ کر دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن چکا ہے۔ اور پاکستان اور بنگلہ دیش دنیا کی سب سے زیادہ آبادی والے ممالک میں شامل ہیں۔
ورلڈ پاپولیشن ریویو کے مطابق دنیا کے دس سب سے زیادہ آبادی والے ممالک بالترتیب درجہ زیل ہیں؛ چین، بھارت (اب ان دونوں ممالک کی آبادی 1.4 ارب ہر دو کے ساتھ کل 2.8 ارب ہے) ریاست متحدہ ہائے امریکہ، انڈونیشیا، پاکستان، نائیجریا، برازیل، بنگلہ دیش، روس، اور میکسیکو۔
اقوام متحدہ کے زیلی ادارے ڈپارٹمنٹ اوو اکنامکس اینڈ سوشیل افئیرز کے مطابق آبادی میں اضافہ کی رفتار مختلف ممالک اور خطوں میں مخلتف ہے۔ اسی ادارے کے مطابق 2050ء تک دنیا کے آٹھ ممالک میں آبادی میں اضافہ ہوتا رہے گا جن میں پاکستان کے علاوہ جمہوریہ کانگو، مصر، ایتھوپیا، بھارت، نائجیریا، فلپائن اور تنزانیہ شامل ہیں۔
یو این کے مطابق نومبر 2022ء کے وسط میں دنیا کی آبادی 8 ارب اور 2030ء تک 8.5 ارب ہوجائے گی۔ 2050ء تک یہ تعداد 9.7ارب ہونے کے امکانات ہیں۔
پاکستان جیسے ملکوں کو تہہ در تہہ چیلنجز کا سامنا ہے۔ سیاسی عدم استحکام، اشرافیہ کی حکمرانی، مذہبی جنونیت، ناقص علم، فرسودہ نظام تعلیم، نہ ہونے کے برابر بیرونی سرمایہ کاری، معاشی مشکلات، قرضوں پر قرضے، اس پر کرپشن، موسمیاتی تبدیلی اور بے ہنگم آبادی۔
روز اول سے پاکستان میں اشرافیہ کی حکمرانی قائم ہے۔ وہ جو چاہیے اپنی مرضی سے کرتے ہیں۔ ان کو نظام کو چلانے کے لئے خصوصی تعلیمی ادارے گرائمر اسکولوں اور ایچی سن کالجوں کی شکل میں دستیاب ہے۔ جہاں وہ حکمرانی کی تعلیم عوام کو کنٹرول کرنے اور پیسہ بنانے کے گر سکھتے ہیں۔
یہ طبقہ مذہب فوج جمہوریت غرض ہر دستیاب شے کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔ عوام کو مذہب سیکورٹی اور جمہوریت کے نام پر گمراہ کرتا ہے اور نظام کو منیوپولیٹ کرکے ارام سے حکمرانی کرتا ہے۔
اس سارے منظر نامے میں آبادی میں بے تحاشہ اضافہ اور اوپر سے موسمیاتی تبدیلی نے اس سوال کو جنم دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں جینے کا سامان کیسے ہو۔ کہتے ہیں کہ غربت انسان کا صرف جینا ہی مشکل نہیں بناتی بلکہ سوچ کو مفلوچ کرکے اس کو سوچنے بھی نہیں دیتی۔ غریب کی سوچ یہ ہوتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرے تاکہ وہ بچے بڑے ہوکر اس کی مدد کرے۔ اس پر مستزاد یہ کہ نظام اسے بتارہا ہے کہ زیادہ سے زیادہ بچے پیدا کرو یہ مذہب کی تعلیم ہے۔ یوں غریب بچہ پر بچہ پیدا کررہا ہے لیکن اس کی مناسب تعلیم و تربیت تو درکنار مناسب خوراک مہیا کرنے سے بھی محروم رہتا ہے۔ اور وہ بچے بھی مزید غربت کی چکی میں پستے رہتے ہیں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ معاشرتی اور معاشی نظام میں مزید بگاڑ پیدا ہوتا ہے جسے ایک فیصد اشرافیہ آسانی کے ساتھ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتا ہے۔
پاکستان آبادی میں بے ہنگم اضافہ اور موسمیاتی تبدیلی ہر دو کا سامنے کرنے والا دنیا کے ٹاپ پانچ ممالک میں شامل ہے۔ سماجی، معاشی، سیاسی اور تعلیمی انصاف کے بیغیر ان دونوں چیلنجز کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔
چیلنجز میں الجھا ہوا ایک مقروض ملک میں سب کے لیے انصاف کے تحت نظام میں بڑی تبدیلی ناگزیر ہے۔ اس کے بیغیر social disintegration نوشتہ دیوار ہے۔