آئی ایم ایف معاہدے کی منظوری میں چین پاکستان کی حمایت کرے گا، وزیر خزانہ
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ ٹیکسز بڑھانے کے لیے عوام کو سہولیات دینا ہوں گی۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور چین دونوں بلاکس کے ساتھ آگے چلنا ہے، ملکی معیشت کی بہتری کیلئے اقدامات کر رہے ہیں، اگر ٹیکسز بڑھانے ہیں تو حکومت کو بھی عوام کو سہولیات دینا ہوں گی، مقامی سطح پر ٹیکسز کے حوالے سے بات چیت چل رہی ہے۔محمد اورنگزیب نے کہا کہ تنخواہ دار طبقہ مجھے کہتا ہے آپ نے ہمارے لئے کیا کیا، کوشش کر رہے ہیں نچلے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ نہ ڈالا جائے، تاجر دوست اسکیم متعارف کرائی ہے، تاجروں کیلئے ٹیکسیشن کے عمل کو انتہائی آسان کردیا ہے، ٹیکس نادہندگان ملک اور عوام کے ساتھ مخلص نہیں ہیں، ٹیکس واجبات کی ادائیگی سے معیشت مضبوط ہوگی۔وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ تاجر اور سرمایہ کاروں کیلئے سہولیات کی فراہمی ترجیح ہے، ایف بی آر کی اصلاحات پر ہر ہفتے میٹنگ ہوتی ہے، وزرائے اعلیٰ زرعی شعبے میں ٹیکس کیلئے قانون سازی لائیں گے،انہوں نے کہا کہ نان فائلز کا پورا لائف سٹائل کا ڈیٹا موجود ہے، ڈیٹا ہی سب سے بڑا ثبوت ہوگا، نان فائلرز کو ٹیکس افسران براہ راست نوٹس نہیں بھیج سکیں گے، اس کے نتیجے میں ایف بی آر سے ہراسگی ختم ہوگی، نان فائلز کو سینٹرلائزڈ طریقے سے نوٹس کئے جائیں گے۔غریب طبقہ پر متعدد ٹیکسز سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت اپنے اخراجات سنجیدگی سے کم کرنے پر غور کر رہی ہے اور رائٹ سائزنگ کیلئے 5 وزارتوں کا جائزہ لے رہے ہیں، پانچ وزارتوں کے بعض شعبوں کا انضمام کر سکتے ہیں، آئی ٹی اور ٹیلی کام کے انضمام پر غور کر رہے ہیں، صحت کا شعبہ صوبوں کی ذمہ داری ہے، کشمیر اور گلگت بلتستان کی وزارتیں ضم کرنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ توانائی پر تفصیلی بات چیت ہوئی، دورہ چین میں پانڈا بانڈ اور کول پاور پلانٹس کو مقامی کوئلے پر منتقلی کی بات ہوئی، چین کے وزراء نے آئی ایم ایف سے بات چیت کو سراہا، چین نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کی حمایت کی ہے، آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری میں چین پاکستان کی حمایت کرے گا۔وزیر خزانہ نے زور دیا کہ ہمیں ٹیکس کے مراحل کو آسان کرنا ہوگا، بیرون ممالک میں ہر سال ایک سادہ فارم آتا ہے جس میں بتایا جاتا ہے آپ کا اتنا ٹیکس کٹ چکا ہے، بس شہری کو یہ بتانا ہوتا ہے کہ اس نے کوئی گاڑی یا گھر خریدا یا فروخت کیا، لیکن یہاں میں دیکھ رہا ہوں کہ ہر سال تنخواہ دار طبقے کو ٹیکس کی ادائیگی کے لیے وکیل کی ضرورت پڑتی ہے۔
جماعت اسلامی کے حکومت سے مذاکرات طے، لیاقت بلوچ کی سربراہی میں کمیٹی تشکیل
راولپنڈی(سی ایم لنکس) جماعت اسلامی نے راولپنڈی میں جاری دھرنے کے دوران حکومت کی پیش کش کو قبول کرتے ہوئے آج مذاکرات کے لیے نائب امیر لیاقت بلوچ کی سربراہی میں 4 رکنی کمیٹی تشکیل دے دی۔راولپنڈی کے لیاقت باغ میں عوام کے ریلیف کے لیے جاری جماعت اسلامی کے دھرنے میں وفاقی وزیراطلاعات اور طارق فضل چوہدری سمیت حکومت وفد نے امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان سے ملاقات کی۔ترجمان جماعت اسلامی کے مطابق حکومتی وفد نے جماعت اسلامی کی قیادت سے دھرنا فوری ختم کرنے کی درخواست کی، جس کو جماعت اسلامی نے مسترد کردیا تاہم حکومتی پیش کش پر حافظ نعیم الرحمان نے مذاکرات کے لیے ہانمی بھرلی۔انہوں نے بتایا کہ حکومتی نمائندہ ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے دھرنے میں پہنچ کر حافظ نعیم اور لیاقت بلوچ سے ملاقات کی اور کہا کہ میں دعوت دینے آیا ہوں اور مذاکرات ا?ج ہوں گے۔ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی کے وفد میں نائب امیر لیاقت بلوچ، سیکریٹری جنرل امیرالعظیم سید فراست شاہ اور نصراللہ رندھاوا شامل ہیں۔ترجمان جماعت اسلامی نے بتایا کہ حکومتی وفد میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطااللہ تارڑ بھی شامل تھے۔انہوں نے کہا کہ 4 رکنی کمیٹی آج (28 جولائی) حکومت سے مذاکرات کرے گی تاہم وقت اور مقام کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔ان کا کہنا تھا کہ وفاقی وزیر اطلاعات اور حکومتی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کی امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان اور دیگر قائدین سے خوش گوار ماحول میں ملاقات ہوئی اور وفاقی وزیراطلاعات نے کہا کہ جماعت اسلامی ایک پرامن جماعت ہے، امید ہے ہمارے مذاکرات نتیجہ خیز ہوں گے۔ترجمان جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان پریس کانفرنس کریں گے اور اگلے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے تاہم انہوں نے مطالبات کی منظوری کے بغیر دھرنا ختم کرنے کے تمام امکانات مسترد کر دیے ہیں۔