آئی ایم ایف جائزہ مشن تکمیل کے تین ہفتے گزر گئے، بورڈ اجلاس میں نظرثانی اور قسط کے اجراء کی منظوری کا اعلان کیوں نہیں کیا جاتا؟ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ دو قرضوں کی ایک ساتھ ڈیل کیوں کر رہی ہے،تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) وزیر اعلی خیبر پختونخوا کے مشیربرائے خزانہ و بین الصوبائی رابطہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے وفاقی حکومت سے آئی ایم ایف معاہدوں کے بارے میں سوالات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف مشن نے 24 مارچ 2025 کو اپنا جائزہ مکمل کیا جبکہ تین ہفتے گزر نے کے بعد بھی بورڈ اجلاس میں نظرثانی اور قسط کے اجراء کی منظوری کا اعلان نہیں کیا گیا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت نے ائی ایم ایف سے نئے موسمیاتی فنڈ کی بات چیت کی تھی جس کے حوالے سے نئے قرض کے لیے بورڈ کا اجلاس بھی زیر التواء ہے۔مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت دو قرضوں کو ایک ساتھ کیوں ڈیل کر رہی ہے تاخیر کی وجوہات کیا ہیں۔ مشیر خزانہ خیبرپختونخوا نے کہا کہ کیا پیٹرول کی قیمتوں میں ریلیف نہ دینا IMF کے ریونیو شارٹ فال سے منسلک ہے۔ مزمل اسلم نے کہا کہ کیا آئی ایم ایف آنے والے بجٹ کے اعداد و شمار دیکھنے کا انتظار کر رہا ہے؟ مزمل اسلم نے کہا کہ وزیر اعظم شہباز شریف قرض لینے کو کامیابی تصور کرتے ہیں اور قرض لینے پر کابینہ اور غیر کابینہ اراکین کو مبارکباد دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے درجنوں ایم او یوز پر دستخط کیے ہیں جو تاحال مکمل نہیں ہوئے۔