چترال کے سرکاری گوداموں میں پڑے گندم کااسٹاک خراب ہونے کا قومی امکان، قومی خزانے کو آربوں روپے نقصان کا خدشہ، گندم اسٹاک کو مارکیٹ ریٹ سے کم قیمت پر فروخت کرکے خزانے کو بڑے نقصان سے بچایا جائے۔ عوامی حلقے

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال سمیت صوبے کے دیگر اضلاع کے سرکاری گوداموں میں پڑے گندم رواں سال کے گرمی میں مکمل خراب ہونے اور قومی خزانے کو آربوں روپے کا نقصان پہنچنے کا قومی امکان ہے، تفصیلات کے مطا بق گزشتہ سال صوبائی حکومت نے بڑی مقدار میں گندم خرید کر صوبے کے مختلف گوداموں میں اسٹاک کردیاہے، جس کے بعد مقامی مارکیٹ میں سرکاری نرخ سے انتہائی کم نرخ پر گندم اور آٹا دستیاب ہونے کے باعث گزشتہ ایک سال سے چترال کے اکثر گوداموں میں ایک بوری گندم بھی فروخت نہیں ہوئی ہے، جبکہ بعض گوداموں سے صرف چند بوری فروخت ہونے کی اطلاعات ہیں ِ، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ سرکاری گندم کی فی کلو ریٹ 115/- روپے جبکہ سو کلو گرام گندم کی بوری کی قیمت 11500/-روپے ہے، جبکہ پرائیویٹ دکانوں میں یہی بوری 8500/-روپے سے بھی کم قیمت پر فروخت کی جارہی ہے،
اسی طرح چترال لوئیرکے بازار وں میں بہترین فائن آٹا کی بیس کلو 1500روپے سے 1650روپے کے درمیان دستیاب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سرکاری گوداموں کے بجائے پرائیویٹ دکانوں سے خریداری کررہے ہیں۔ اس کے مقابلے میں سرکاری گودام میں بیس کلو گندم کی قیمت 2300/-روپے ہے جبکہ پیسوائی کا خرچہ الگ ہوگا۔ عام خریداروں کے مطابق بازار کاآٹا سرکاری گودام سے نصف قیمت پر دستیاب ہے،اور کوالٹی بھی بہت اچھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سرکاری گوداموں میں پڑے گندم کی اسٹاک روان موسم گرما میں مکمل طور پر خراب ہونے کا قوی خدشہ ہے،
چترال ٹائمز کو موصولہ زرائع کے مطابق لوئیر چترال کے سرکاری گوداموں میں گزشتہ سال تقریبا دس ہزار میٹرک ٹن گندم اسٹا ک کیا گیا ہے۔جبکہ اس سے پہلے تقریبا ایک ہزار میٹرک ٹن گندم اسٹاک میں موجود تھی۔ اسی طرح اپرچترال میں بھی گزشتہ سال تقریبا چار ہزار میٹرک ٹن گندم اسٹاک کیا گیا ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب لواری ٹنل پہلی دفعہ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا تھا تو اُسی سال محکمہ فوڈ کے بعض افسران نے بے غیر منصوبہ بندی کے اسی طرح ضرورت سے زیادہ گندم اسٹاک کیئے، جبکہ بازار میں آٹا وافر مقدار میں دستیاب ہونے کے باعث لوگ سرکاری گندم کے بجائے آٹا لینے کو ترجیح دی جس کے باعث دروش اور آرندو کے گوداموں میں پڑے گندم مکمل طور پر کیڑے لگنے سے خراب ہوگئے مگر ستم ظریفی یہ ہوئی کہ محکمہ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لئے گودام کلرکوں پر سارا ملبہ گراکر ان کو مورد الزام ٹھیرایا، جس کے باعث بیچارے کلریکل اسٹاف ضلعی عدالتوں سے لیکر انٹی کرپشن اور سپریم کورٹ تک کئی برسوں عدالتوں کا چکر لگاتے رہے۔ اور مقدمات میں بری ہونے کے باوجود محکمہ نے انھیں نہیں بخشا۔ شاید صوبائی حکومت یہ تجربہ دوبارہ دھرنا چاہتی ہے۔
چترال کے مختلف مکاتب فکر کا کہنا ہے کہ چترال کے طول وعرض خصوصا لوئیر چترال کے آرندو، دروش، عشریت، گنگ، آیون، دنین ودیگر گرم علاقوں کے گوداموں میں پڑے گندم مکمل طور پر خراب ہونگے، جس سے علاقے کے ساتھ سرکاری خزانے کو بھی آربوں روپے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے، انھوں نے صوبائی حکومت کے ذمہ داران، وزیراعلیٰ، وزیر خوراک، چیف سیکریٹری ودیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیاہے کہ سرکاری گوداموں میں پڑے گندم کو مارکیٹ ریٹ سے کم کرکے فروخت کرنے کا بندوبست کیا جائے بصورت دیگر قومی خزانے کو ایک بہت بڑا نقصان پہنچے گا، یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ چترال کے علاوہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی گندم کی خاطر خواہ اسٹاک موجود ہے اور وہاں پر بھی یہی صورت حال کے پیش نظر سرکاری گوداموں میں گندم کی خریداری نہ ہونے کے برابر ہے۔ لہذا حکومت کو اس کی فوری نوٹس لینے اور جلد از جلد گندم کا پرانااسٹاک نکالنے کا بندوبست کرے بصورت مذکورہ سٹاک کیڑے مکوڑوں کا خوراک بنے گا اور قومی خزانے کو آربوں روپے کا نقصان اُٹھانا پڑے گا۔



