چترال بونی روڈ پر واقع مروئے پائین کے مقام پر نالہ میں پانی کے منجمد ہونے سے پیدل اور موٹر گاڑیوں کا گزرنا محال ہوگیا، این ایچ اے حکام خودکوبری الزمہ قراردیا
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) چترال بونی روڈ پر واقع مروئے پائین کے مقام پر نالہ میں پانی کے منجمد ہونے سے پیدل اور موٹر گاڑیوں کے ذریعے نالے کو عبور کرنا عملی طور پر جان جوکھوں کا کام بن گیا ہے۔ نالے پر ابھی تک پل تعمیر نہیں ہوئی ہے جبکہ پانی نالے میں مکمل طو ر پھیل کر کناروں تک کم از کم60فٹ تک سڑک کو منجمد کئے رکھتا ہے جس میں پھسلن کا سوفیصد خطرہ موجود رہتا ہے اور گزشتہ ڈیڑھ مہینوں کے دوران سوسے ذیادہ موٹر گاڑیوں کے الٹ جانے کی معمولی نوعیت کے حادثات پیش آچکے ہیں۔ چترال بونی روڈ مصروف ترین شاہراہ ہے جوکہ اپر چترال کو ملک کے دوسرے حصو ں سے ملاتا ہے اور روزانہ کے حساب سے اس سڑک سے تقریباً ایک ہزار گاڑیاں گزرتی ہیں۔
اس سڑک پرسفرکرنے والوں کا کہنا ہے کہ صبح سویر ے اور شام غروب آفتاب کے بعد یہاں سے گزرنا بہت ہی مشکل ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہاں کئی گھنٹے انتظارکرنا پڑتا ہے جب گاؤں کے مقامی لوگ جمع ہوکر انہیں گاڑی گزرنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ اس دوران صوبائی وزیر تعلیم اور اپر چترال کے ایم پی اے بھی اس مقام سے گزرکر حالت زار کا اپنی آنکھوں کا مشاہدہ کیا لیکن ابھی تک کوئی کام کی خبر عوام کونہیں ملی۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) لویر چترال کے ضلعی صدر عبدالولی خان ایڈوکیٹ نے پریس کلب نیوز کو بتایاکہ انہوں نے ڈی سی لویر چترال سمیت نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے کئی افسران کو اس بارے میں آگاہ کیا ہے لیکن کوئی کاروائی عمل میں نہیں آئی۔
ان کا کہنا تھاکہ اس مقام پر پھسلن کی وجہ سے موٹر گاڑی کا کوئی مہلک حادثہ پیش آجائے تو اس صورت میں این ایچ اے حکام کے خلاف غفلت کا ایف آئی آر درج کیا جاسکتاہے۔ انہوں نے کہاکہ اس مقام پر تنصیب کے لئے آر سی سی کلورٹ تیار ہوکر صرف دو کلومیٹر دور موری لشٹ کے مقام پر پڑے ہوئے ہیں جنہیں نالے میں ڈا ل کر اوپر کور کرنے سے مسئلہ حل ہوگا۔ اس بارے میں جب این ایچ اے کے چترال میں تعینات اسسٹنٹ ڈائرکٹر maintenance امیر زیب سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھاکہ یہ مقام چونکہ پراجیکٹ کے ساتھ ہے اس لئے چترال شندور روڈ پراجیکٹ کے ٹھیکہ دار کے ذمے ہے۔

