The Voice of Chitral since 2004
Saturday, 12 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

پسند کی شادی ۔ تحریر عبد الباقی چترالی

Chitral Times

پسند کی شادی ۔ تحریر عبد الباقی چترالی

پسند کی شادی ۔ تحریر عبد الباقی چترالی

ہندوکش کے دامن سے چرواہے کی صدا ۔ پسند کی شادی ۔ تحریر عبد الباقی چترالی

زندگی میں ہر کسی کو کبھی نہ کبھی ایسے صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔کچھ عرصے کے لیے اپنے گھر والوں اور پیاروں سے عارضی طور پر جدائی اختیار کرنا پڑتی ہے۔کبھی یہ جدائی محنت مزدوری اور ملازمت کی خاطر ہوتا ہے۔اور کبھی تعلیم کی خاطر۔یہ عارضی جدائی ہمارے لئے کتنے تکلیف دہ اور مشکل ہوتا ہے۔گھر سے رخصت ہوتے وقت ایک ایک قدم بھاری محسوس ہوتے ہیں۔دل پر پتھر رکھ کر منزل کی طرف روانہ ہونا پڑتا ہے۔اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اب ذرا ان لڑکیوں کے بارے میں سوچئے،جو ایک اجنبی لڑکے کے وعدوں اور دعووں پر اعتماد اور اعتبار کر کے گھر سے بھاگ کر پسند کی شادی کر کے ہمیشہ کے لئے اپنی گھر والوں اور پیاروں سے جدائی اختیار کر رہی ہے۔اپنے والدین اور خاندان والوں کے لئے رسوائی اور شرمندگی کی باعث بن رہی ہے۔معاشرے میں ایسے لڑکیوں پر کون بھروسہ کر سکتا ہے۔جو ایک اجنبی لڑکے کی خاطر والدین اور خاندان والوں کی عزت و آبرو خاک میں ملا رہی ہو۔

گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکیاں نہ صرف اپنی خاندان والوں کی نظروں میں گر جاتی ہے بلکہ سسرالیوں میں بھی ان کی کوئی قدر وقیمت اور عزت و اخترام نہیں ہوتے ہیں۔

گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکیاں چاہئے کتنے ہی نیک سیرت صاحب کردار کیوں نہ ہو معاشرے میں ان کی کردار کو مشکوک نظروں سے دیکھے جاتے ہیں۔گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکیوں کو مستقبل میں مشکلات سے دوچار ہونا پڑتی ہے۔اور زندگیاں ان کے لئے وبال بن جاتی ہیں۔گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکیاں معاشرے میں باعزت زندگی گزارنے کے قابل نہیں رہتی ہیں۔معاشرے میں گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے والے لڑکوں اور لڑکیوں کو سخت نا پسند نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔

گزشتہ چند سالوں سے بھاگ کر شادی کرنے کی رجحان میں بے تحاشہ اضافہ ہو گیا ہے۔یہ فتنہ کسی ایک علاقے،قبیلے اور خاندانوں کا نہیں بلکہ یہ فتنہ پورے چترالی معاشرے میں جنگل میں لگی آگ کی طرح تیزی سے پھیلتا جا رہا ہے۔کنواری لڑکیوں کی علاؤہ شادی شدہ خواتین بھی شوہر اور بچوں کو روتے پھٹتے چھوڑ کر آشنا کے ساتھ فرار ہو رہی ہیں۔چترال کی مختلف علاقوں میں یہ افسوس ناک شرمناک واقعات کئی بار رونما ہو چکے ہیں۔

اگر اس فتنے کو روکنے کی کوشش نہیں کی گئی،تو چترال کا پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔مستقبل میں کوئی خاندان،قبیلہ اور علاقہ اس فتنے سے محفوظ نہیں رہ سکتے ہیں۔پورے معاشرے کو اس کا سنگین نتائج بھگتنا پڑے گا۔ہمارے معاشرے میں والدیں اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دینے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں،لیکن بچوں کی اخلاقی تربیت کی طرف توجہ نہیں دیتے ہیں۔جس کے نتیجے میں بچے اور بچیاں اخلاقی تربیت نہ ہونے کی وجہ سے بے راہروی کا شکار ہو کر خود بھی مشکلات سے دوچار ہو رہی ہیں،اور والدین کے لئے بھی پریشانی اور بد نامی کے باعث بن رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں شادی بیاہ کے مہنگے فرسودہ رسم و رواج اور ذات پات کا نظام اس فتنے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔اس فرسودہ رسم و رواج کی وجہ سے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں گھروں سے بھاگ کر شادی کرنے پر مجبور ہو رہے ہیں۔سوشل میڈیا اور موبائل فون کا بے جا اور غلط استعمال اس فتنے میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔اس فتنے کو روکنے کے لئے والدین،مذہبی راہنما،استاتذہ کرام، معززین علاوہ،سماجی کارکنان اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس فتنے کی روک تھام کے لئے مناسب اقدام اٹھانا چاہیے۔و رنہ چترال کا پورا معاشرہ اس کی لپیٹ میں آ سکتا ہے،کوئی خاندان،قبیلہ اور علاقہ اس فتنے سے محفوظ نہیں رہ سکے گا۔