نیشنل اکنامکس کونسل کے اجلاس میں چترال کے اہم منصوبوں کے لئے فنڈنگ روکنا اور بعض منصوبوں کےلئے معمولی رقم مختص کرنا چترال کے عوام کے ساتھ مذاق ہے نظرثانی کی جائے۔ وقاص احمد ایڈوکیٹ
چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال ڈویلپمنٹ مومنٹ (سی ڈی ایم) کے سابق صدر وقاص احمد ایڈوکیٹ نے کہا ہے کہ نیشنل اکنامکس کونسل کے اجلاس میں چترال کے متعدد روڈ منصوبوں کو آنے والی مالی سال کے دوران التواء میں رکھنے یعنی پی ایس ڈی پی سے نکالنے پر چترال کے عوام میں شدید بے چینی پھیل گئی ہے جس کا وہ تصور بھی نہیں کرسکتے تھے۔ جمعرات کے روز جاری کردہ پریس ریلیز میں انہوں نے کہا ہے کہ انتہائی معتبر ذرائع کے مطابق نیشنل اکنامکس کونسل کے اجلاس میں لواری کے اپروچ روڈ اور اپر چترال میں بونی بزند روڈ کے لئے کوئی فنڈنگ نہیں ہوگی جبکہ چترال شندور روڈ کے لئے صرف 1500میلین روپے مختص کئے گئے ہیں جوکہ قطعی طور پر ناکافی ہے.2200 ملین میں سے 1500 ملین اونٹ کے منہ میں زیرے کے برابر ھے اس طرح سالانہ 1500 ملین رکھا جائے تو شندور روڈ ائندھ 12 سالوں تک بھی تعمیر نھیں ھو سکتی جبکہ گرم چشمہ روڈ کو بھی پی ایس ڈی پی سے نکالا گیا اور کالاش ویلی روڈ کے لیے 70 کڑور مختض کرنا بھی چترال کے ساتھ مذاق ھے ۔
انہوں نے کہا ہے کہ چترال کے عوام نے مسلم لیگ (ن) حکومت سے امیدیں وابستہ کی تھی کہ جاری سڑک منصوبوں کے لئے مناسب فنڈز مختص کئے جائیں گے لیکن ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا گیا ہے۔ اور دو جاری پراجیکٹس کو پی ایس ڈی پی سے نکالا گیا انھوں نے کہا کہ جاری پراجیکٹس کو پی ایس ڈی پی سے نکال کر دوسرے علاقوں میں نیا پراجیکٹ شروع کرنا مکمل غیر قانونی اور غیر آئینی ھے ۔انہوں نے مذید کہا کہ چترال گرم چشمہ لواری اپروچ۔ روڈ تورکہو بونی بوزند روڈ کے لیے مقدمہ پشاور ہائی کورٹ میں زیر سماعت ھے اور 24 جون کو تاریخ مقرر ھے اسی مقدمے میں وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کیا گیا ھے عدالت میں Sub Judice معاملے کو پی ایس ڈی پی سے نکالنا غیر قانونی ھے اس بارے میں 24 جون کو عدالت کو بھی آگاہ کیا جائے گا ۔انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور دوسرے حکام سے اپیل کی ہے کہ چترال کی مخصوص حالات کو سامنے رکھتے ہوئے لواری ٹنل کے اپروچ روڈ، بونی بزند روڈ کو اس سال کے اے ڈی پی میں شامل کرنے اور چترال شندور روڈ کے لئے کم ازکم 5ارب روپے منظور کرنے کا اعلان کیا جائے۔

