The Voice of Chitral since 2004
Thursday, 10 September 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

ملزم کی جیل میں عمر قید کاٹنے کے بعد سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر ہونیکا انکشاف

Chitral Times

ملزم کی جیل میں عمر قید کاٹنے کے بعد سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر ہونیکا انکشاف

ملزم کی جیل میں عمر قید کاٹنے کے بعد سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر ہونیکا انکشاف
A general view of the Pakistan's Supreme Court is pictured in Islamabad on April 6, 2022. - Pakistan President Arif Alvi told the country's election commission on April 6 to fix a date for a new national ballot, as the supreme court adjourned a hearing into the legality of political manoeuvres that led to parliament being dissolved. (Photo by Aamir QURESHI / AFP)

ملزم کی جیل میں عمر قید کاٹنے کے بعد سزا کیخلاف اپیل سماعت کیلئے مقرر ہونیکا انکشاف

اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)سپریم کورٹ میں ملزم کی جیل میں عمر قید کاٹنے کے بعد سزا کے خلاف اپیل سماعت کے لیے مقرر ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔سرکاری پراسیکیوٹر نے کہا کہ اس کیس میں ملزم سزا کاٹ کر جیل سے رہا ہو چکا ہے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ 2017ء میں ملزم نے سزا کے خلاف جیل پٹیشن دائر کی۔جسٹس اطہر من اللّٰہ نے کہا کہ اپیل مقرر نہ ہونے پر 2017ء سے تمام چیف جسٹس صاحبان ذمے دار ہیں، سپریم کورٹ بھی انتظامی طور پر اپیل مقرر نہ ہونے کی ذمے دار ہے۔ صدر، گورنر اور پارلیمنٹ کے پاس عدلیہ سے رپورٹ منگوانے کے اختیارات ہیں، فوجداری کیس میں تفتیش کے لیے محض 350 روپے مختص کیے جاتے ہیں، تفتیش اور فوجداری نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے۔

جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھائی گئی، اے ٹی سی، اسپیشل کورٹ اور ماتحت عدلیہ میں ججز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت ہے، عام عدالتوں میں ججز اور اسٹاف کی کمی ہے، ججز کی تعداد بڑھانے کے ساتھ انفرا اسٹرکچر بھی مہیا کیا جانا چاہیے۔جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ عدالت میں سیاست نہ کریں، فوجداری اور سروس کے مقدمات میں صوبہ بھی انصاف کرے۔جسٹس شہزاد ملک نے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ میں 4 لاکھ مقدمات زیرِ التوا ہیں۔عثمان کو 2007ء میں شیخوپورہ میں یاسین نامی شخص کو قتل کرنے پر عمر قید کی سزا ہوئی تھی۔عدالت نے ملزم کی عمر قید کی سزا مکمل اور جیل سے رہا ہونے کے سبب مقدمہ نمٹا دیا۔

بھٹو کیس میں فیئر ٹرائل کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا: چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ جاری

اسلام آباد(سی ایم لنکس)چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی نے بھٹو ریفرنس پر اضافی نوٹ جاری کر دیا۔ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس کا تفصیلی فیصلہ 5 جولائی 2024ء کو جاری ہوا تھا، چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ آج ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا ہے۔اضافی نوٹ میں چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے کہا ہے کہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور دیگر ججز کے نوٹس پڑھنے کا اتفاق ہوا، جسٹس منصور علی شاہ کے نوٹ سے ایک حد تک اتفاق کرتا ہوں، ریفرنس میں دی گئی رائے میں کیس کے میرٹس پر کسی حد تک بات کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ صرف ایڈوائزری دائرہ اختیار رکھتی ہے، تاہم فیئر ٹرائل کے سوال پر فیصلے کے پیراگراف سے اتفاق کرتا ہوں، یہ ریفرنس شاید سامنے نہ آتا مگر کچھ واقعات اس کا مو جب بنے۔

چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا اضافی نوٹ میں کہنا ہے کہ جسٹس نسیم حسن شاہ کے انٹرویو کے کچھ نکات کو ایڈریس کرنا ضروری ہے، اس وقت کی غیر معمولی سیاسی فضاء میں دباؤ نے انصاف کے عمل کو متاثر کیا، یہ سب عدالتی آزادی کے نظریات سے متصادم تھا۔اضافی نوٹ میں کہا گیا ہے کہ آئینی طرزِ حکمرانی سے انحراف سیاسی مقدمات میں عدالتی کارروائیوں پر غیرضروری اثر ڈالتا ہے، ایسیحالات میں جسٹس دراب پٹیل، جسٹس محمد حلیم اور جسٹس صفدر شاہ نے جراؤت مندانہ اختلاف کیا۔انہوں نے کہا کہ ان ججز کا اختلاف بھلے نتائج تبدیل کرنے میں ناکام رہا مگر غیر جانبداری کے پائیدار اصولوں کا ثبوت ہے، جس سے میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ذوالفقار بھٹو کیس کے ٹرائل اور اپیل میں فیئر ٹرائل کے تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔