مقتول شیراز احمد خان کے اندوہناک قتل کا ڈراپ سین، ملزم نے اقبال جرم کرلیا
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) ڈی پی او چترال اپر محمد عتیق شاہ نے کہا ہے کہ مورخہ 25/02/2025 کو مسمی شیر محمد نے اپنے 12 سالہ بیٹے شیراز احمد خان کی گمشدگی کے حوالے سے رپورٹ کرنے پر تھانہ لاسپور میں 156ضمن 2 ضابطہ فوجداری کے تحت انکوائری کا آغاز کیا جاتا ہے۔ اور گمشدہ شیراز احمد خان کی تلاش میں گھر والوں کے ساتھ ساتھ مقامی پولیس بھی تگ و دو شروع کرتا ہے۔ اگلی صبح مورخہ 26/02/2025 کو بوقت شام ویلہ شیراز احمد خان کی لاش دیرو گوچ رمان سے برامد ہوتی ہے۔ مقامی پولیس فوراً موقع پر پہنچ کر ابتدائی کاروائیاں مکمل کرنے کے بعد لاش کو بغرض پوسٹ مارٹم THQ ہسپتال بونی منتقل کرتا ہے، جہاں ابتدائی ڈاکٹری رائے کے مطابق وقوعے کو خودکشی نہیں، بلکہ قتل کا قوی اندیشہ قرار دیا جاتا ہے۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چترال اپر محمد عتیق شاہ اور SP انوسٹی گیشن چترال اپر اجمل خان اور ڈی ایس پی مولائی شاہ ودیگر کے ہمراہ تفصیلات بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ موت کے اسباب معلوم کرنے کے لئے انکوائری زیرِ دفع 156 ضمن 2 ضابطہ فوجداری کو انکوائری زیرِ دفع 174 ضابطہ فوجداری میں منتقل کیا جاتا ہے۔ تحقیقات کے دوران مقتول کے گلے میں ڈالے گئے تسمے کا ہوبہو دوسراتسمہ مقتول کے گھر سے برامد ہوتا ہے۔ اس طرح کے اور شواہد و دیگرحالات و واقعات سے اس بات پر شک مزید پختہ ہوتا ہے کہ مقتول کے قتل میں بہت ہی قریبی ہاتھ ملوث ہے۔
دوسری طرف مقتول کے سوتیلے بھائی مسمی عید الرحمان کا رویہ جائیداد اور میراث کی تقسیم کو لیکر ہمیشہ سے منفی رہا ہوتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پہلے بھی قاتل عید الرحمان کا رویہ مقتول کی والدہ کے ساتھ جائیداد کی تقسیم کو لیکر ہمیشہ خراب رہا ہے۔
اسطرح کے دیگر اور منفی عوامل مقتول کی ماں کو اپنے سوتیلے بیٹے عیدالرحمان کے خلاف روبروئے عدالت بیان قلمبند کرانے پر باور کراتی ہیں۔
ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر چترال اپر محمد عتیق شاہ اور SP انوسٹی گیشن چترال اپر اجمل خان اس مقدمے کی تفتیش کے لیے ماہر تفتیشی افسران پر مشتمل JIT تشکیل دیتے ہیں.
جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم ساینسی تکنیک اور مہارتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے وقوعے کو ہر زاویے اور انتہائی باریک بینی سے مشاہدہ کرتے ہوئے مزید شواہد صفحہ مسل پر لاتے ہیں اور یوں ملزم عید الرحمان عدالت کے روبرو براہِ راست اپنے جرم کا اعتراف خود کرتا ہے۔
اس قتل کے پیچھے انسانی خمیر میں بسی لالچ اور اپنوں کے لئے بوئی گئی نفرت جیسے عوامل اور دیگر پیچیدگیاں کار فرما ہیں۔ ایسی پیچیدگیاں جو اپنے ہی بھائی کے خون سے ہاتھ رنگین کراکر دنیا اور آخرت کی ذلتوں میں انسان کو دھکیل دیتے ہیں۔
