لمحہ فکریہ ۔ تحریر میر سیما آ مان
ہمیشہ ہی یہ کہا جاتا ہے کہ عورت ایسی ہونی چاہیے ماں ایسی ہونی چاہیے بیٹی ایسی ہو بیوی ایسی ہو کبھی بھی یہ سوال نہیں اٹھایا جاتا کہ مرد کیسا ہونا چاہیے ۔باپ کے روپ میں اسے کیسا ہونا چاہیے بیٹا اور شوہر کیسا ہونا چاہیے ۔ہمارے معاشرے میں مرد کو پیدائشی طور پر آزادی دی جاتی ہے کہ وہ جیسا چاہے خود کو شیپ دے دے جیسی چاہے زندگی گزارے اس پر کوئی پابندی نہیں یہی وجہ ہے کہ مرد تا عمر ایک بے لگام گھوڑے کی مانند گزارتا ہے اور اسکا خمیازہ اسکے ساتھ زندگی گزارنے والی عورت کو بھگتنا پڑتا ہے۔حالانکہ آپ مذہبی فرائض کو ہی دیکھ لیں کہ وہ مرد عورت کے لیے الگ الگ نہیں اترے ہیں۔نماز حج روزہ کے احکامات جس طرح ایک عورت کے لیے بلکل اسی طرح مرد کے لیے ہیں گناہ ثواب کے عوامل بھی اسی طرح ہیں نجانے کس جاہلیت کے دورمیں عزت اور غیرت کو غلط روپ دے کر پروان چڑھایا گیا ۔یا تو پھر ایسا ہوتا کہ کسی مذہبی کتاب میں عورت کو حیوان محض چارہ کھانے والی گردانا جاتا اور مرد کو انسان تو بات ہی ختم تھی سارا فساد ختم تھی مگر فساد کا جڑ ہی یہی بات ہے کہ بد قسمتی سے دونوں انسان کہلاتے ہیں
تو انکے حقوق اور فرائض بھی ایک ہیں۔لیکن شائد اس بات کو تسلیم آئندہ بھی کبھی نہیں کیا جائے گا ۔ بحر حال مرد ہو یا عورت ساٹھ ستر سال کی جو زندگی لیکر ہم آ ئیے ہیں اسے سکون سے حتیٰ کہ عزت سے گزارنے کا حق ہر کوئی رکھتا ہے ۔ اور یہ سب تب ہوگا جب ہماری تربیت کا ماحول بدلے گا۔ جب عورت کے ساتھ مرد کے لیے بھی ایک اصول مرتب کیا جائے گا کہ اسے کیسا باپ بیٹا بھائی اور شوہر ہونا چاہیے ۔اور بے شک بہترین مرد وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے سب سے بہتر ہو۔۔ہمارے مردوں کی سب سے بڑی بد قسمتی ہی یہ ہے کہ وہ اپنی عورت کے علاؤہ دنیا بھر کے تعلقات کے لیے بہترین ہوتے ہیں لیکن اپنے حقدار تک پہنچتے پہنچتے نہ انکے پاس اچھے الفاظ بچ جاتے ہیں نہ اخلاق ۔ غیر عورتوں سے اخلاق برتنے والا مرد کبھی بھی نیک نہیں ہو سکتا ۔ بحر حال حالیہ دنوں میں خبروں کی زینت بننے والا اپر چترال کا واقعہ نا انصافی کے اس نظام کی بھرپور عکاسی کرتا ہے جہاں بیک وقت کہیں لڑکیوں سے افیر چلانے والا مرد محض ایک چٹ پٹی خبر بن گئی ہے۔اپنے ہی جیسے ڈھیڑ سارے مردوں سے داد وصول کر رہا ہے ۔جبکہ حقیقتاً یہ خبر عالمی سطح پر ایک چترالی مرد کے کردار کی کمزوری کو پیش کر رہا ہے ۔مخترا یہ کہ ہم اپنی غیر سنجیدہ فطرت سے ایک غیر سنجیدہ ،بے مہذب اور مذہب اور فکر آ خرت سے اذاد ایک بے پرواہ نسل ترتیب دے رہے ہیں جو کہ لمحہ فکریہ ہے ۔۔
