دنیا کی بلند ترین پولو گراونڈ شندور ٹاپ میں چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقدہ آئس ہاکی کے مقابلے اختتام پذیر، سنسنی خیز مقابلے کے بعد گلگت ٹیم نے ایک کے مقابلے میں دو گول سے ٹائٹل اپنے نام کرلیا
مستوج ( نمائندہ چترال ٹائمز ) دنیا کی بلند ترین پولو گراونڈ شندور ٹاپ میں چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ منعقدہ آئس ہاکی کے مقابلے اختتام پذیر ہوگئے، فائنل میچ سنسنی خیز مقابلے کے بعد گلگت کی ٹیم نے اپنے نام کرلیا، منفی گیارہ ڈگری سینٹی گرڈ درجہ حرارت کے باوجو د کھلاڑیوں اور تماشائیوں کی شرکت دیدنی تھی ،
تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورزم اتھارٹی و ضلعی انتظامیہ اپرچترال کے زیراہتمام چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ دنیا کی بلند ترین پولوگراونڈ شندور سے ملحق منجمد جھیل میں منعقدہ آئس ہاکی کے مقابلے اختتام پذیر ہوئے ، منفی گیارہ سینٹی گریڈ درجہ حرارت اور یخ بستہ ہواوں کے باوجود سنسنی خیز مقابلے دیکھنے کو ملے، پہلے اور دوسرے ہاف میں چترال اور گلگت کے مابین میچ برابر رہا، تاہم پینلٹی اسٹروک میں ۱یک کے مقابلے میں دو گول سے گلگت کی ٹیم نے برتری حاصل کی ،
فائنل میچ کے مہمان خصوصی ڈئ جی کلچراینڈٹورزم اتھارٹی خیبرپختونخوا تشفین حیدر تھے جبکہ ڈپٹی کمشنر اپر چترال ودیگر بھی موجود تھے ۔
ڈی جی تشفین حیدر نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اس ایونٹ کو سالانہ کلینڈر ایونٹ کے طور پر منانے کا اعلان کیا ۔ چترال کی تاریخ میں پہلی مرتبہ سطح سمندر سے 12500فٹ کی بلندی پر واقع شندور پاس میں منعقدہ آئس ہاکی میں کھلاڑی جم کرکھیلے جہاں کھیلاڑیوں کے ساتھ تماشائیوں نے بھی خوب انجوائے کیا،اگر سیاحوں کیلئے سہولیات فراہم کی گئی تو شندور پولوفیسٹول کی طرح یہ ایونٹ بھی ملکی سیاحوں کے ساتھ بین الاقوامی سیاحوں کے لئے بھی توجہ کا مرکز بنے گا۔
انھوں نے کہاکہ آئس ہاکی کا انعقاد مشیر سیاحت زاہد چن زیب کی کوششوں سے ممکن ہوا، ہر سال شندور ٹاپ پر آئس ہاکی کے میچز منعقد کرینگے،






