خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور پوری قوم پولیس کی ان قربانیوں پر فخر محسوس کرتی ہے۔ نگران وزیراعلیٰ
پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ نے کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے اور پوری قوم پولیس کی ان قربانیوں پر فخر محسوس کرتی ہے ۔ پولیس جوان عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لئے جان ہتھیلی پر رکھ کر فرائض انجام دے رہے ہیں ، یہ اس قوم پر پولیس فورس کا بڑا احسان ہے ۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ خیبرپختونخوا پولیس کے جوان جس جوانمردی اور بہادری کے ساتھ دہشتگردی کا مقابلہ کر رہے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی، دہشتگردی کے خلاف جنگ میں حکومت اور پوری قوم پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور ہم مل کر اس ناسور اور فتنے کو ختم کریں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کے روز پولیس لائن پشاور میں منعقدہ پولیس دربار سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سید ارشد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ دشمن کے بزدلانہ حملوں سے پولیس کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور پولیس جوانوں کا مورال ہمیشہ کی طرح بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان نگران صوبائی حکومت کی ترجیحات میں سرفہرست ہے اور اس مقصد کے لئے پولیس کی تمام تر ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پر پورا کیا جائیگا۔ پولیس فورس کو جدید آلات سے لیس کرنے کے لئے وسائل کی کمی کو آڑئے نہیں آنے دیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے زخمیوں کے سرکاری طور پر علاج کے لئے خصوصی فنڈز کا بندوبست کیا جائے گا جبکہ پولیس کے جوانوں کے ذہنی سکون اور فلاح و بہبود کا ہر طرح سے خیال رکھا جائیگا۔
قبل ازیں وزیراعلیٰ نے پولیس لائن دورہ کے موقع پر یادگار شہداءپر حاضری دی، یادگار پر پھول رکھے اور شہداءکے درجات کی بلندی کے لئے فاتحہ خوانی کی۔ وزیراعلیٰ نے پولیس لائن میں قائم ڈیٹا انالیسز سیکشن کا بھی دورہ کیا جہاں انہیں سیکشن کے افعال اور مختلف امور بارے بریفنگ دی گئی۔ انسپکٹر جنرل پولیس اختر حیات خان اور پولیس کے دیگر اعلی حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔
بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے ارشد حسین شاہ نے کہا کہ صوبے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، وفاق کی طرف سے ضم اضلاع کے شیئرز اور دیگر فنڈز پورے نہیں مل رہے لیکن صوبائی حکومت مالی مسائل کے باوجود پولیس کو مضبوط بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نگران وزیراعلیٰ نے کہا کہ انتخابات کے لئے 56 ہزار سکیورٹی اہلکاروں کی کمی کا سامنا ہے اور یہ معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا گیا ہے ۔ ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کے انعقاد سے متعلق الیکشن کمیشن اور عدالت کا فیصلہ حتمی ہوگا، اس سلسلے میں الیکشن کمیشن یا عدالت کا جو بھی فیصلہ ہوگا صوبائی حکومت اس پر عملدرآمد کے لئے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔

وزیر اعلیٰ کے زیرصدارت خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کو فعال بنانے کے حوالے سے اجلاس
پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) نگران وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جسٹس( ر) سید ارشد حسین شاہ کی زیر صدارت بدھ کے روز وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ کو فعال بنانے سے متعلق معاملات پر غوروخوص کیا گیا۔وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری برائے منصوبہ بندی سید امتیاز حسین شاہ اور سیکرٹری صحت محمود اسلم کے علاوہ چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیسکو قاضی طاہر ، ڈائریکٹر جنرل پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی خالد محمود اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس کو منصوبے کی تکمیل پر پیشرفت سے متعلق بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ منصوبہ فیڈرل پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 2013 میں شروع کیا گیا تھا۔منصوبے کا سول ورک تقریباً 90 فیصد مکمل کر لیا گیا ہے تاہم ہسپتال کو فعال بنانے کےلئے بجلی اور گیس کے کنکشنز کے علاوہ سیوریج لائن کی عدم موجودگی کا مسئلہ درپیش ہے،۔
مزید بتایا گیا کہ ہسپتال کے لئے طبی آلات کی خریداری کے لئے فنڈز کے اجراءکے علاوہ ہسپتال کےلئے نئی آسامیوں کی تخلیق کی ضرورت ہے۔ وزیر اعلیٰ نے ہسپتال کی سیوریج لائن کی تعمیر کےلئے پشاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو فوری طور پر پلان تیار کرکے اس پر عملدرآمد یقینی بنانے جبکہ ہسپتال کے لئے درکار آسامیوں کی تخلیق کے لئے ایس این ایز منظوری کےلئے صوبائی کابینہ کے اگلے اجلاس میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ طبی آلات کی خریداری کےلئے ہسپتال کےلئے فنڈز کے اجراءکا معاملہ متعلقہ وفاقی حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔وزیر اعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہسپتال کو بجلی اور گیس کنکشنز کی فراہمی کےلئے پیسکو اور ایس این جی پی ایل حکام کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ خیبر انسٹیٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ عوامی فلاح کا اہم منصوبہ ہے، اسکی تکمیل میں مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔اس سلسلے میں کوتاہی اور غفلت کے مرتکب افراد کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

