خیبرپختونخوا میں 13 مراکز میں ایڈز کی مفت سکریننگ اورعلاج کی سہولیات دستیاب ہیں، اب تک 2080 خواتین، 6105 مرد، اور 171 خواجہ سرا ایڈز کا شکار ہیں۔ مشیر صحت کاایڈز کے عالمی دن کی مناسبت سے پیغام
پشاور (چترال ٹائمزر پورٹ) ایڈز کے عالمی دن کی مناسبت سے خیبرپختونخوا کے مشیر صحت احتشام علی نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ”ایڈز کے عالمی دن کا مقصد عوام کو اس بیماری کے بارے میں آگاہ کرنا اور انہیں سکریننگ کی اہمیت کا شعور دینا ہے۔ ہمیں مریض سے نہیں بلکہ مرض سے نفرت کرنی چاہیے۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے قبائلی اضلاع سمیت 13 مراکز میں ایڈز کی مفت سکریننگ اور علاج کی سہولیات دستیاب ہیں، ہم وقت کے ساتھ ان مراکز کی تعداد بڑھائیں گے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو سکریننگ کی سہولت فراہم ہو سکے۔مشیر صحت نے عوام سے اپیل کی کہ استعمال شدہ سرنج کا دوبارہ استعمال نہ کریں اور خون کی منتقلی کے لیے ہمیشہ ٹیسٹ شدہ خون کا انتخاب کریں۔ انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں اس وقت 8356 ایڈز مریض رجسٹرڈ ہیں مگر ہمیں خدشہ ہے کہ کئی افراد بغیر سکریننگ کے اس بیماری کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں جو ہمارے لیے ایک ٹائم بم کی مانند ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ طبی عملہ اور ہیلتھ کیئر کمیشن کو آلات جراحی کی سٹرلائزیشن کو یقینی بنانا چاہیے اور عوام کو چاہیے کہ حجام کی دکان یا بیوٹی پارلر جیسی جگہوں پر ہمیشہ ڈسپوزیبل اشیاء کے استعمال پر اصرار کریں۔مشیر صحت نے کہا کہ اب تک 2080 خواتین، 6105 مرد، اور 171 خواجہ سرا ایڈز کا شکار ہیں اور سکریننگ کے عمل میں اضافے کے ساتھ یہ تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ 2024 میں 1173 نئے مریض رجسٹرڈ ہوئے جو 2023 میں 1147 تھے۔انٹی گریٹڈ ایچ آئی وی، ہیپٹائٹس، اور تھیلسیمیا کنٹرول پروگرام کے پروجیکٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق حیات تاج نے اپنے پیغام میں کہا کہ ایڈز کے مریضوں کے ساتھ ان کی بیماری کی بنیاد پر امتیازی سلوک انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ خیبرپختونخوا میں ایڈز کے سب سے زیادہ کیسز استعمال شدہ سرنج کے ذریعے منشیات استعمال کرنے والوں میں پائے گئے جو 12 فیصد ہیں جبکہ خواجہ سرا طبقہ 1.5 فیصد متاثر ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سال ایڈز کے علاج کے مراکز کی تعداد چھ سے بڑھا کر 13 کر دی گئی ہے جہاں مریضوں کو مفت ادویات، تشخیص اور مشاورت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ڈاکٹر طارق نے مزید بتایا کہ قبائلی اضلاع میں 1256 مریض رجسٹرڈ ہیں جبکہ بندوبستی اضلاع میں پشاور 1515 مریضوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے، بنوں میں 979، سوات میں 384، مردان میں 366 اور چارسدہ میں 345 کیسز رجسٹرڈ ہیں۔