جدید پالیسیوں، خاطر خواہ سرمایہ کاری، اور ضروری اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی، اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔ سرداراویس احمدلغاری
وفاقی وزیر برائے توانائی، سردار اویس احمد خان لغاری کی جانب سے توانائی کے شعبے میں گزشتہ
9 ماہ کی اہم کامیابیوں کا جائزہ
اسلام آباد( چترال ٹائمزرپورٹ)وزیر برائے توانائی، سردار اویس احمد خان لغاری نے سال 2024 کے اختتام پر پاکستان کے توانائی کے شعبے میں ہونے والی اہم کامیابیوں اور جاری اقدامات کا جائزہ پیش کیا، جو ملک کے توانائی کے شعبے کی بہتری کے لیے کیے گئے ہیں۔ جدید پالیسیوں، خاطر خواہ سرمایہ کاری، اور ضروری اصلاحات کے ذریعے بجلی کی قیمتوں میں کمی، اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے نمایاں پیش رفت ہوئی ہے وزیر نے کہا، ”پچھلے اٹھ مہینوں میں بجلی کی قیمتوں میں واضح بہتری آئی ہے۔ بجلی کی اوسط قیمت جون 2024 میں 48.70 روپے فی یونٹ سے کم ہو کر 44.04روپے فی یونٹ ہو گئی ہے، جس میں 4.66روپے کی کمی آئی ہے۔بالکل اسی طرح صنعتی بجلی کی قیمت 11.33 روپے کی کمی کے ساتھ جون 2024 میں 58.50 روپیفی یونٹ سے آج 47.17 روپے فی یونٹ پر آگئی ہے”وزیر نے گزشتہ نو ماہ میں کی جانے والی اصلاحات کا تفصیل سے جائزہ پیش کیا۔ ”ہم نے صنعتی شعبے سے 150 ارب روپے کے کراس سبسڈیوں کا خاتمہ کیا ہے، جس سے پاکستان میں صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا، ”حکومت ترسیل کے شعبے کو جدید بنانے کے لیے کوشاں یے۔ ہم نے ترسیلی نظام کو بہتر بنانے کے لیے این ٹی ڈی سی کو تین اداروں میں تقسیم کر دیا ہے جس میں نیشنل گرڈ کمپنی آف پاکستان, انرجی انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ اینڈ مینجمنٹ کمپنی، اور انڈپینڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر شامل ہیں ”۔ تقسیم کے شعبے میں اصلاحات پر بات کرتے ہوئے وزیر نے کہا،”حکومت پاکستان بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری اور کنسیشن ماڈل کے لیے تمام ضروری اقدامات کر رہی ہے۔
اس سے پہلے ان کمپنیوں میں غیر جانبدار بورڈ اف ڈائریکٹرز کا تقرر کیا گیا تاکہ لائن لاسز میں کمی ہو، چوری کا خاتمہ ہو، اور ریکوریز بہتر ہوں ”۔ ”اس کے علاوہ گردشی قرضوں کی لاگت کو بجلی کے بلوں سے قومی قرضے کی طرف منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ صارفین پر بوجھ کم ہو۔”وزیر نے بلوچستان میں زرعی ٹیوب ویلوں کی شمسی توانائی پر منتقلی کے بارے میں بھی بات کی۔ ”ہم 27,000 ٹیوب ویلوں کو شمسی توانائی سے آراستہ کر رہے ہیں جن پر 55 ارب روپے کی لاگت آئے گی،اس میں 70 فیصد اخراجات وفاقی حکومت کے ذمے ہوں گی۔ یہ اقدام سبز توانائی کو فروغ دے گا اور بلوچستان کے زرعی شعبے میں انقلاب لائے گا”۔ انڈیپینڈنٹ پاور پروڈیوسرز (ائی پی پیز) کے بارے میں وزیر نے بتایا کہ، ”پہلے مرحلے میں پانچ ائی بی پیز کے ساتھ معاہدے ختم کر دیے گئے ہیں، جس سے قومی سطح پر 411 ارب کی بچت ہوئی اور سالانہ 70 ارب روپے کی بچت ہوئی۔ دوسرے مرحلے میں آٹھ بیگاسے پر مبنی آئی پی پیز کے ساتھ معاہدے طے پا گئے ہیں، جس سے سالانہ 8.826 ارب روپے اور ملکی خزانے کو 238 ارب روپے کی بچت ہوگی۔مزید 16 ائی پی پیز کے ساتھ ہماری بات چیت جاری ہے معاہدے طے ہونے کے نتیجے میں ملکی خزانے کو 481 ارب روپے کا فائدہ ہوگا۔”وزیر نے بجلی سہولت پیکج کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا، ”اس پیکج میں گھریلو اور صنعتی صارفین کے لیے 26.07 روپے فی یونٹ کی خصوصی شرح متعارف کرائی گئی ہے۔
اس پیکج کے تحت گھریلو صارفین کو 11.42 سے 26.00 روپے فی یونٹ تک کی بچت ہو گی، جبکہ تجارتی صارفین کو 13.46 سے 22.71روپے فی یونٹ تک کی بچت ملے گی۔ صنعتی صارفین کو 5.72 سے 15.05 روپے فی یونٹ تک کی بچت حاصل ہوگی۔ یہ اقدام بجلی کی قیمتوں کو کم کرنے اور اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے ہمارے عزم کی علامت ہیں۔مستقبل کے لائحہ عمل کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اعلان کیا، ”ہم ایک نئی پالیسی کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کے لیے بجلی کیخصوصی نرخ متعارف کرانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ پالیسی درآمدی ایندھن پر انحصار کم کرے گی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کرے گی اور فضائی معیار کو بہتر بنائے گی۔
یہ مقامی مینوفیکچرنگ میں روزگار کے مواقع پیدا کرے گی اور چارجنگ انفراسٹرکچر کی ترقی کو فروغ دے گی، جس سے پاکستان کے ٹرانسپورٹ کے شعبے میں انقلاب آئے گا۔”وزیر نے توانائی کے شعبے کو درپیش چیلنجز کا اعتراف کرتے ہوئے کہا، پاور سیکٹر میں ترسیلی مسائل کے ساتھ ساتھ ریکوریز کا مطلب بھی چل رہا ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی غیر مؤثر کارکردگی 250 ارب روپے کے نقصانات کا باعث بنتی ہیں۔ ”ہم 2.2 ٹریلین روپے کے گردشی قرضے کے بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جس سے صارفین کے لیے بجلی کی قیمتوں میں نمایاں کمی ائے گی۔ ہم پیسے کی قدر میں کمی کی وجہ سے پیدا ہونے والے اثرات کو بھی حل کر رہے ہیں۔وزیر نے اپنے بیان کا اختتام کرتے ہوئے کہا، ”ہم پاور ڈویڑن کے ذریعے عوام کو سستی، پائیدار، اور قابل اعتماد بجلی فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ یہ اصلاحات اور کامیابیاں توانائی کے شعبے میں طویل عرصے سے موجود چیلنجز کو حل کرنے کے لیے ہماری جدوجہد کی عکاسی کرتی ہیں۔ پاکستان کے روشن اور خوشحال مستقبل کے لیے ہم ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں تاکہ بجلی کے بلوں میں کمی کی وجہ سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معیشت تیزی سے آگے بڑھے”۔
بانیء پی ٹی آئی نے آئی پی پیز کو فرانزک آڈٹ سے بچایا: وزیرِ توانائی اویس لغاری
اسلام آباد(سی ایم لنکس)وفاقی وزیرِ توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ بانء پی ٹی آئی نے آئی پی پیز کو فرانزک آڈٹ سے بچایا اور انہیں چھوٹ دی گئی۔اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا ہے کہ ٹاسک فورس میں آرمی چیف نے قابل افسر دیے، ان کے شکر گزار ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہم نے عوام کے 1 ہزار ارب روپے سے زیادہ بچائے، اضافی بجلی پر ہم نے 26 روپے فی یونٹ کے ساتھ ریلیف دیا، بلوچستان میں 80 سے 85 ارب روپے کا ٹیوب ویل کی مد میں نقصان ہوتا تھا، وہ ٹیوب ویلز شمسی توانائی پر منتقل ہو رہے ہیں۔وفاقی وزیر کا کہنا ہے کہ 5 آئی پی پیز پلانٹ کے ساتھ معاہدے ختم کر دیے ہیں،
ان سے معاہدے ختم ہونے سے 411 ارب روپے کی بچت ہو گی، بگاس کے 8 پلانٹس کے ساتھ معاہدوں میں 238 ارب روپے بچت ہو گی۔اویس لغاری نے کہا کہ 5 سے 6 ماہ میں بجلی کی فی یونٹ قیمت میں کمی لے کر آئے، بجلی کے ترسیلی نظام میں خامیاں دور کی گئیں، اگلے 4 سال میں عوام کو بجلی سیکٹر کی مشکلات سے نکالنا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ بجلی کی خرید و فروخت حکومت کی نہیں نجی کمپنی کی ذمے داری ہو گی، بجلی کی قیمت کو 48 روپے 70 پیسے سے کم کر کے 44 روپے 4 پیسے پر لائے، صنعتی شعبے کے لیے بجلی 58 روپے 17 پیسے سے کم کر کے47 روپے پر لائے۔وزیرِ توانائی نے مزید کہا کہ ہم نے 150 ارب روپے کی بجلی کے شعبے میں کراس سبسڈی ختم کی، بجلی کے ترسیلی نظام میں جدت لا رہے ہیں، این ٹی ڈی سی کو ذیلی کمپنیوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کے فارمولوں پر چلتے تو اگلے 10 سال عوام بجلی کی اضافی قیمت ادا کرتے، کمپنیوں میں کوئی سفارشی بورڈ نہیں، بجلی کی کمپنیوں کے نقصانات کو زیرو پر لائیں گے، کیپیسٹی پیمنٹ کم کر کے بجلی سستی کریں گے۔