بونی تورکہوروڈ کی تعمیر میں غیرمعمولی تاخیراور مبینہ بدعنوانی کے خلاف مظاہرہ کرنے والے تورکہو تریچ کے عمائدین کے خلاف ایف آئی آر درج، ڈپٹی کمشنر اپرچترال نے ۴۵دنوں کےلئے دفعہ ۱۴۴کانفاذ بھی کردیا
اپرچترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بونی بزند تورکہو روڈ کی تعمیر میں غیر معمولی تاخیر اور مبینہ بدعنوانی کے خلاف گزشتہ دنوں منعقدہ احتجاجی ریلی ، لانگ مارچ اور دھرنا کے قائدین کے خلاف تورکہو شاگرام تھانے میں ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے، پولیس زرائع کے مطابق ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر اپر چترال کی مدعیت میں احتجاجی مظاہرین کو لیڈ کرنے والے عمائدین عمیر خلیل ، وقاص احمد ایڈوکیٹ،پیر مختار نبی، حافظ الرحمن، شعیب میر، عبدالوہاب ودیگر کے خلاف دفعہ 504, 506, 147,186, 187, 189, 228, 3/4اور 16MPO ودیگر شامل ہیں کے تحت پرچہ چاک کیا گیا ہے۔
اسی اثنا ڈپٹی کشمنر اپرچترال نے علاقے میں امن و آمان کو برقرار رکھنے کے لئیے دفعہ ۱۴۴کا نفاذ کردیا ہےجس کے تحت پانچ سے زیادہ افراد کا اکھٹنے ہونے پر پابندی ہوگی، یہ پینتالیس دنوں کےلئے نافذ العمل رہیگا۔
دریں اثنا چترال کے مختلف سیاسی عمائدین نے اس فعل کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے،
امیر جماعت اسلامی چترال لوئر وجیہ الدین نے کہا ہے کہ تورکہو روڈ تحریک کے ذمہ داراں ایڈوکیٹ وقاص ، عمیر خلیل اللہ ، حفیظ الرحمن شعیب میر ، پیر مختار و دیگر کے خلاف 16 ایم پی او کے تحت کارروائی کرنا قابل افسوس ہے۔ اپنے حقوق کے لیے پر امن جدوجہد کرنا ہر شہری کا دستوری و قانونی حق ہے۔ اپر چترال کی ضلعی انتظامیہ کے اس غیر قانونی اقدام کی ہم بھر پور مذمت کرتے ہیں۔
وجیہ الدین نے کہا کہ تورکہو کے عوام عرصہ دراز سے تعطل کا شکار سڑک کی تعمیر و تکمیل کے لیے آواز بلند کرنے کے ساتھ اس ضمن میں ہونے والی بے قاعدگیوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے، جو کہ عوام الناس کا ایک حقیقی آئینی و قانونی حق ہے۔ اور پر امن جدوجہد کرنے والوں کے خلاف حکومتی کارروائی ایک غیر قانونی اقدام ہے۔ حکومت اس عمل کے ذریعے حقوق کے لیے اٹھنے والی آواز کو دبانا اور لوگوں کی زبانیں بند کرنا چاہتی ہے، جو کہ ہر گز جمہوری اور قانونی طریقہ کار نہیں ہے۔
اسی طرح تورکھو تریچ روڈ فورم (ٹی ٹی أر ایف) نے ٹی ٹی أر ایف کے بانی اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن لوئر چترال کے نائب صدر وقاص ایڈوکیٹ سمیت ٹی ٹی أر ایف کے چھ رہنماؤں اور دیگر ارکان کے خلاف ایف أئی ار کے اندراج کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔۔
ٹی ٹی أر ایف کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایک طرف ڈپٹی سپیکر صاحبہ نے ٹی ٹی أر ایف کے ارکان سے معاہدہ کیا اور دوسری جانب انہی ارکان سمیت ٹی ٹی أر ایف کے رہنماؤن پر بے بنیاد، جھوٹا اور بوگس ایف أئی ار روڈ جیسے اپنے بنیادی حق مانگنے پر درج کروایا۔۔
ٹی ٹی أر ایف کا کہنا تھا کہ علاقے سے منتخب ایم این اے عبدالطیف نے ٹی ٹی ار ایف کے جلسے میں اعلان کیا تھا کہ کسی کے خلاف تھری ایم پی او یا دیگر قوانین کو استعمال نہیں کیا جائے گا لیکن ایم این اے کے اس اعلان کے تین دن بعد انہی کی حکومت اور پولیس نے نہ صرف تھری ایم پے او بلکہ دیگر قوانین کے تحت ٹی ٹی أر یف کی لیڈرشپ کے خلاف جعلی اور جھوٹے مقدمات درج کرائے۔۔
شواہد اور قرائن بتا رہے ہیں کہ ٹی ٹی أر ایف کی لیڈرشپ کے خلاف مقدمہ علاقے سے منتخب ایم پی اے ڈپٹی سپیکر صاحبہ، ایم این اے عبدالطیف، پی ٹی أئی اپر چترال کے صدر سکندر الملک اور تحصیل چئیرمین میر جمشید کی مشاورت بلکہ بعض رپورٹ کے مطابق حکم کے تحت یہ مقدمہ درج کیا گیا۔۔
یہ مقدمہ پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت اور پارٹی کے منہ پر بھی ایک طمانچہ ہے کیونکہ وہ ایک طرف ملک أئین و قانون، شہری أزادیوں جمہوریت اور احتجاج کے حق کے لیے تحریک چلا رہے ہیں اور ہر چند مہینے بعد دارلحکومت کی جانب مارچ کرتے ہیں اور مرکزی حکومت پر جمہوری أزادیوں اور احتجاج کے حق پر قدغن لگانے پر انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں جب کہ دوسری جانب ایک مکمل پرامن اور قانون اور أئین کے اندر رہتے ہوئے جدوجہد کرنے پر لوگوں پر مقدمے قائم کرتے ہین۔۔
اس ایف أئی أر کے اندراج اور علاقے میں پرامن احتجاج پر قدغن لگانے کے لیے دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ یہ سب کچھ بونی بزند روڈ پر عضب کرپشن کی عجب کہانی پر مٹی ڈالنے کی کوشش ہے اور یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ شاید اس میں منتخب نمائندے بھی ملوث ہیں اس لیے وہ اس طرح کے ہتھکنڈوں پر اتر أئے ہیں۔ ایک طرف سرکاری انکوائری کرکے کرپشن چھپانے کی کوشش ہورہی ہے اور دوسری جانب اس کرپشن کے خلاف بولنے والوں کے خلاف کالونیل دور کے قوانین کا استعمال ہو رہا ہے۔
ٹی ٹی أر ایف کی تحریک گذشتہ ڈیڑھ سال سے چل رہی ہے اور اس تحریک کے دوران ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا مگر اس کے باوجود شہریوں کے حق احتجاج کو چیمپئن کرنے والی جماعت اس تحریک سے رہنماؤں کے خلاف جھوٹے اور بوگس مقدمے کر رہی ہے ۔۔
ٹی ٹی أر ایف اس موقع پر اعلان کرتی ہے کہ ہم أئین اور قانون پسند لوگ ہیں اور أئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اس جعلی مقدمات کا مقابلہ کریں گے۔۔ ٹی ٹی أر ایف اس بات کا بھی اعلان کرتی ہے کہ ہم پرامن طریقے سے قانون کے اندر رہتے ہوئے گرفتاری دیں گے، جیل اور کال کوٹھڑیوں سے ڈریں گے نہیں بلکہ ان کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے۔۔
ٹی ٹی أر ایف کے جن ارکان کے خلاف مقدمات بنائے گئے ہیں یہ مقدمات ان کے لیے اور ٹی ٹی أر ایف کے لیے میڈل اور اعزاز کا درجہ رکھتے ہیں کیونکہ یہ کرپشن، کمیشن اور چوری یا اخلاقی جرائم میں جیل نہیں جارہے ہیں بلکہ یہ اپنے علاقے کے غریب عوام کے حق کے لیے لڑتے ہوئے جیل جا رہے ہیں۔۔
چونکہ یہ لوگ تورکھو تریچ یوسی کی نمائندگی کر رہے ہیں اور ان کے حقوق کے لیے أواز اٹھا رہے ہیں اس لیے ان کو نشانہ بنایا گیا اب تورکھو تریچ یوسی کے عوام تھانہ شاگرام میں جمع ہو کر اجتماعی گرفتاری دیں گے۔۔
ہم اس اوچھے ہتھکنڈے کی بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ساتھ پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ مظاہرین پر لگائے جانے والے دفعات واپس لیے جائیں۔
حکومت کو چاہیے کہ عوامی مطالبات پر سنجیدگی سے غور کرکے ان مسائل کے حل کی طرف پیش قدمی کرے، اس کے بجائے مسائل کے لیے آواز اٹھانے والوں کو پابند سلاسل کرنا کسی جمہوری حکومت کا شیوہ نہیں ہوتا۔


