باشعور عوام کا دور ۔ تحریر: شاہ ولی اللہ
پاکستان ایک ایسے دور سے گزر رہا ہے جہاں عوام کی آنکھیں کھل چکی ہیں۔ ماضی میں وہ وقت بھی تھا جب عوام کو صرف ووٹ ڈالنے کا حق دیا جاتا تھا، لیکن آج کا شہری صرف ووٹر نہیں، وہ ایک باخبر، باشعور اور متحرک فرد ہے جو نہ صرف حالات کو سمجھتا ہے بلکہ ان پر سوال بھی کرتا ہے۔
پاکستانی عوام اب اس مقام پر کھڑے ہیں جہاں وہ عدلیہ سے صرف فیصلے نہیں بلکہ انصاف مانگتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ عدل صرف طاقتور کے لیے نہیں، بلکہ ہر شہری کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ وہ ماضی کے فیصلے بھی یاد رکھتے ہیں اور حال کی خاموشیاں بھی محسوس کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ اگر عدلیہ آزاد نہ ہو، تو کوئی بھی جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکتی۔ عوام یہ چاہتے ہیں کہ عدالتیں صرف آئین کی پاسداری کریں، کسی دباؤ یا مفاد کے تابع نہ ہوں۔
اسی طرح، حکومت وقت سے عوام کا تقاضا بہت واضح ہے: حکمرانی عوامی خدمت کا نام ہے، بادشاہت کا نہیں۔ آج کا پاکستانی صرف نعرے نہیں سنتا، وہ ان نعروں کا تجزیہ کرتا ہے۔ وہ دیکھتا ہے کہ کتنے وعدے وفا ہوئے، اور کتنے صرف جلسوں کی زینت بن کر رہ گئے۔ باشعور عوام اب یہ سوال کرتے ہیں کہ قومی خزانے کا حساب کون دے گا؟ منصوبے کیوں ادھورے رہ جاتے ہیں؟ عوام کی حالت کیوں نہیں بدلتی؟ مہنگائی، بیروزگاری اور بدانتظامی کا ذمہ دار کون ہے؟
قانون نافذ کرنے والے ادارے، جن کا کام عوام کے جان و مال کا تحفظ ہے، ان سے بھی آج کی عوام یہ سوال کرتی ہے کہ کیا ان کا رویہ واقعی غیر جانبدار ہے؟ جب طاقتور افراد قانون سے بچ نکلتے ہیں اور عام آدمی معمولی جرم پر جیل میں سڑتا ہے، تو اعتماد کیسے قائم ہو؟ باشعور شہری اب یہ سمجھتے ہیں کہ اگر ادارے خود قانون کے تابع نہ ہوں، تو انصاف صرف ایک فریب بن کر رہ جاتا ہے۔
اب وہ دور آ چکا ہے جب عوام کو صرف “خاموش تماشائی” سمجھا جاتا تھا۔ اب عوام بول رہے ہیں، لکھ رہے ہیں، سڑکوں پر نکل رہے ہیں، اور سب سے بڑھ کر، سوچ رہے ہیں۔ یہ سوچ ہی سب سے بڑی طاقت ہے، جو نظاموں کو بدل سکتی ہے، جو مصلحتوں کو چیلنج کر سکتی ہے، اور جو مستقبل کا رخ موڑ سکتی ہے۔
پاکستان کے عوام اب کسی فریب، کسی پردہ پوشی اور کسی “قومی مفاد” کی آڑ میں ہونے والے ظلم کو قبول نہیں کریں گے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہر ادارہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کرے، اور جواب دہ ہو — صرف خدا کو نہیں، عوام کو بھی۔
یہ عوام اب خاموش نہیں رہیں گے۔ یہ وہ عوام ہیں جو جانتے ہیں کہ تبدیلی صرف نعروں سے نہیں، شعور سے آتی ہے۔ اور الحمدللہ، پاکستان کا شہری اب جاگ چکا ہے۔

