اقلیتی نوجوان ہماری قومی شناخت کا فخر ہیں: بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف، مائنارٹی یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کی رنگا رنگ اختتامی تقریب، اردو مضمون نویسی میں ساجد اقبال (کیلاش) نے پہلی پوزیشن حاصل کی
پشاور (نمائندہ چترال ٹائمز) محکمہ اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور خیبرپختونخوا کے زیر اہتمام ”مائنارٹی یوتھ ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام 2025” کی رنگا رنگ اختتامی تقریب پشاور میں منعقد ہوئی۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات وتعلقات عامہ بیرسٹر ڈاکٹر محمد علی سیف تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے۔دو روزہ پروگرام میں صوبہ بھر کے 600 سے زائد اقلیتی نوجوانوں (مرد و خواتین) نے شرکت کی، جن کے درمیان اردو و پشتو گائیکی، مضمون نویسی، تقریری مقابلے، پینٹنگ اور آرٹ سمیت دس مختلف شعبوں میں مقابلے کرائے گئے۔مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ”اقلیت” اور ”اکثریت” جیسے الفاظ ہمیں تقسیم کرتے ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم سب انسان اور پاکستانی ہیں۔ ہماری اصل پہچان کردار، اخلاق اور انسانیت سے ہونی چاہیے، نہ کہ مذہب، نسل،رنگ یا زبان سے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام مذاہب، بشمول اسلام، ہندو مذہب، مسیحیت اور سکھ مذہب، انسان دوستی، عدل، محبت اور اخلاقیات کی تعلیم دیتے ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کو صرف نوکری یا ڈگری کے لیے نہیں بلکہ شعور، آگہی اور خدمتِ انسانیت کے لیے حاصل کریں۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے زور دیا کہ اقلیتوں کو برابر کے حقوق دینا نہ صرف آئینی ذمہ داری بلکہ سنتِ نبویؐ اور حکمِ الٰہی بھی ہے۔ ہماری حکومت ہر ممکن کوشش کرے گی کہ اقلیتی نوجوانوں کو بااختیار بنایا جائے اور ان کے خوابوں کو عملی تعبیر دی جا سکے۔ ان کا کہنا تھاکہ دولت اور ملازمتیں انسان کے لیے ہیں، انسان ان کے لیے نہیں۔ تقریب میں اردو مضمون نویسی میں ساجد اقبال (کیلاش) نے پہلی اور سوریندر سنگھ (بونیر) نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ انگلش مضمون نویسی، پینٹنگ، تھیمیٹک آرٹ، اردو، انگلش تقریری مقابلوں اور گائیکی میں بھی نمایاں پوزیشنز حاصل کرنے والے نوجوانوں کو انعامات دیے گئے۔
پشتو گائیکی میں کرن ذوالفقار (پشاور) اور اشبام تنویر (پشاور) نمایاں رہیں۔ ریپ کیٹیگری میں جنید کیلاش کو خصوصی انعام دیا گیا جبکہ کم عمر گلوکار آئیزک جاوید المعروف ”چھوٹا استاد” اور مہک جاوید کو 20، 20 ہزار روپے کے انعامات سے نوازا گیا۔ تقریب کے ججز معروف گلوکارہ ستارہ یونس، اداکار سید رحمان شینو، پروفیسرز، نیشنل اسمبلی کے افسران اور دیگر شامل تھے۔ بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے اس موقع پر اعلان کیا کہ محکمہ اطلاعات کے تحت ریڈیو پختونخوا اور دیگر پلیٹ فارمز پر اقلیتی نوجوانوں کی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے خصوصی سلاٹس دیے جائیں گے۔ انہوں نے خواہش ظاہر کی کہ یہ نوجوان صرف مقامی سطح تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کی آواز پورے پاکستان میں سنی جائے۔تقریب کے اختتام پر محکمہ اقلیتی امور کے ڈپٹی سیکریٹری حبیب خان آفریدی نے مہمان خصوصی بیرسٹر ڈاکٹر سیف کو یادگاری شیلڈ پیش کی جبکہ مشہور فوٹوگرافر و مصور انکل ٹونی نے اپنی پینٹنگز تحفے میں دیں۔
کوہستان کرپشن اسکینڈل نگران دور کا ہے جس کا مولانا فضل الرحمان کی جماعت حصہ تھی، بیرسٹر سیف
ملک میں غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلے کیے جارہے ہیں چترال سے پی ٹی آئی کے ایم این اے اور معاون خصوصی وزیرداہ کو سزائیں دی گئیں، ان اقدامات سے ہمیں ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا،
پشاور(سی ایم لنکس)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر اطلاعات بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ کوہستان کرپشن اسکینڈل نگران دور حکومت کا ہے جس کا مولانا فضل الرحمان کی جماعت حصہ تھی۔جے یو آئی اور پیپلزپارٹی کے ساتھ ٹانگہ پارٹیاں عوامی رابطہ مہم ضرور چلائیں لیکن عوام کو بھی ساتھ نکالیں آج ان جماعتوں کے ساتھ عوام ہوتی تو ان کی ایسی سیاسی حالت نہ ہوتی، وہ گزشتہ روز پشاور میں اقلیتی برداری کے نوجوانوں کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ تقریب سے خطاب اور میڈیا سے بات چیت کررہے تھے۔
مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف کا کہنا تھا مولانا فضل الرحمن جس کوہستان سکینڈل کی بات کررہے تھے وہ نگران دور حکومت کا تھا اور مولانا فضل الرحمان کی جماعت اسی دور حکومت کا حصہ تھی موجودہ حکومت نے تو اس اسکینڈل کا سراغ لگایا اور 20 ارب روپے برآمد کیے ہم ان سے مزید 20 ارب روپے برآمد کریں گے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں غیر آئینی اور غیر قانونی فیصلے کیے جارہے ہیں چترال سے پی ٹی آئی کے ایم این اے اور معاون خصوصی وزیرداہ کو سزائیں دی گئیں، ان اقدامات سے ہمیں ڈرایا دھمکایا نہیں جاسکتا، اور نہ ہماری مقبولیت ختم کی جاسکتی ہے، قانون کے ساتھ کھلواڑ کیا جارہا ہے، ہم عوامی طاقت سے ان کی حکومت بھی گرائیں گے اور ان ہی عدالتوں سے سزا بھی دلوائیں گے، بانی چیرمین ہمیشہ سے تحریک انصاف اور اس عوام کی قیادت کررہے ہیں۔
مشیر طلاعات نے مزید کہا کہ ہماری تحریک جاری ہے یہ الزامات غلط ہیں کہ پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک ہے یا پی ٹی آئی کی قیادت بانی چیئرمین کو رہا کرانے میں ناکام ہوگئی ہے، عوام کو شعور دینے کے لیے مہم جاری ہے، ہماری اگلی تحریک کا جلد آغاز ہوگا، خیبرپختونخوا کا بجٹ 13 جون کو پیش ہوگا جس میں عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔پنجاب بار بھی پاکستان کا حصہ ہے، وکلاء نے جمہوریت کے لیے قربانیاں دیں اور دے رہے پیں اگر صوبائی حکومت نے کابینہ سے منظوری کے بعد پنجاب بار کو فنڈز دیے ہیں تو اس پر کیوں تکلیف ہورہی ہے، ہم نے وسائل سے پنجاب بار کو فنڈز دیے ہیں اوروں نے تو صوبوں کے فنڈز جیبوں اور تجوریوں میں ڈالے ہیں۔

