رواں ماہ کے پہلے ہفتے چترال ٹاؤن سے گرم چشمہ جاتے ہوئے پرانی لینڈ کروزر کی سیٹ پکڑ لی جس میں دس لوگوں کی گنجائش تھی۔ نشستیں اُدھڑی ہوئی، فرش پہ بچھی کارپٹ کا بُراحال، دروازے دھڑام سے کھل اور بند ہوتے دیکھ کر ڈرائیور کی بے پرواہی کو کوستا رہا، کہ مسافروں کی سہولت کا کوئی خیال نہیں رکھتا۔ آٹھ سوار موجود تھے لیکن مزید دو سواریوں کا انتظار لمبا ہوا تو ساتھ ہی بیٹھے ہوئے مسافروں کے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہوا۔ ڈرائیور نے آخر کار مسافروں کی منتیں مانتے ہوئے گاڑی چلانی شروع کی اور راستے میں ایک اور نوجوان مل گیا جو قریبی گاؤں “بوہتیلی” جارہا تھا، اب نو مسافروں کو لیکر گاڑی روڈ کو روندنے لگی۔ سین لشٹ میں فلنگ سٹیشن سے ایک ہزار کا فیول ڈلوایا۔ گرم چشمہ کیلئے آٹھ مسافروں کا کرایہ 1600 روپے بنتے تھے اُس کے ساتھ بوہتیلی کے مسافر کا کرایہ مبلغ 100 روپے جمع کرلئے جائیں تو 1700 روپے مجموعی ملنے تھے، میں نے حساب لگایا کہ فی پہرہ 700 روپے بچ جائیں اور روزانہ تین پہرے لگائے جائیں تو اچھی خاصی آمدن ہوتی ہوگی۔ اب اس حساب کتاب کی تصدیق ڈرائیور سے کرانا بھی تھی۔ شکر ہے ڈرائیور جو ساٹھ کے پیٹے میں تھا اور مستوج ۔بونی روڈ پر کافی وقت گزارا تھا، نے خود مجھ سے متعارف ہوا اور صوبیدار دبور(مرحوم)، شمسیار میکی اور شہزادہ سکندر الملک کے ساتھ اپنے بیتے ہوئے خوشگوار ایام کی روداد سنائی اور باتوں باتوں میں مجھے اپنے حساب کتاب کی تصدیق کی باری نصیب ہوئی۔
آپ نے بتایا کہ انہوں نے ایک ہزار کا ڈیزل اسلئے نہیں ڈلوایا کہ چترال سے گرم چشمہ تک یہ فیول کافی ہے بلکہ گاڑی کی ٹینکی میں ڈیزل پہلے سے کچھ موجود تھا لہٰذا پہنچنے کی امید کے ساتھ حفظ ماتقدم کے طورپر ایک ہزار کا فیول مزید ڈلوادیا، اسی روڈ پر 1400 روپے یعنی 12 لیٹر ڈیزل کا خرچہ آتاہے۔ گاڑیاں زیادہ ہونے کی وجہ سے زیادہ سے زیادہ دو پھیرے ہر گاڑی کے حصے میں آتے ہیں، کبھی کبھی اُن کو چترال ٹاؤن میں رات گزارنا بھی پڑتی ہے۔ میرا سارا حساب کتاب غارت ہوگیا۔ اب سوچ میں پڑگیا کہ فی پھیرہ اگر 300 روپے بھی نہ بچ پائیں تو یہ ڈرائیور کیسے گزارہ کرلیتے ہیں۔ ہم اُن سے ٹوٹی پھوٹی سیٹوں کی مرمت نہ ہونے کی شکایت کرتے ہیں، دروازے ٹھیک نہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں، ڈرائیوروں کو گندہ اوربے پرواہ اور بدتمیز قرار دیتے ہیں۔ اِن حالات میں کون تمیز کا دامن کب تک اور کیسے تھامے رکھے گا یہ نہیں سوچتے۔ ایسے لوگ مسافروں کو جھڑک نا دیں تو کیا کریں۔
میں نے گریجوایشن تک اکنامکس پڑھی تھی جو کہ ظاہر ہے ادھوری ہے ، مہربانی کرکے اس عرضنامہ کو کسی چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ یا اے سی ایم اے کوالیفائیڈ شخص کو بجھوائیں اور اُس سے اس ڈرائیور کیلئے بجٹ بنواکر ارسال کریں میں اس ڈرائیور تک پہنچاؤں گا کہ وہ اس کمائی میں کیسے اپنے روز وشب گزارے۔ فرض یہ کریں کہ مذکورہ ڈرائیور صاحب کی ایک بیوی اور دو ہی بچے ہوں، وہ بچے بھی ابھی سکول جانا شروع نہ کئے ہوں(حالانکہ ڈرائیور کی عمر کے حساب سے اُن کے بچے یونیورسٹی میں پڑھ رہے ہوں گے)، ماں باپ بھی زندہ نہ رہے ہوں، اس صاحب کے گھر کوئی مہمان وغیرہ بھی نہ آتے ہوں یعنی نان سوشل آدمی ہے ۔ فی پھیرہ 300 روپے بچت لگائیں، ہفتے میں کوئی رخصت نہ رکھیں، روزانہ دو پھیرے کے حساب سے کل رقم 600روپے کا میزان یعنی ماہ کے آخر میں مبلغ 18 ہزار کی رقم کا بجٹ بنائیں، بجٹ میں ادویات وغیرہ کیلئے کوئی پیسہ نہ رکھیں اور یہ فرض کریں کہ اس کے گھر میں کوئی بیمار نہیں ہوتا۔پنکچر، موبل آئیل، اڈہ فیس وغیرہ بھی منہا کریں کیونکہ یہ اس کاروبار کا لازمی حصہ ہوتے ہیں، البتہ موبائل فون کے اخراجات اپنی مرضی سے طے کرکے روزانہ چار لوگوں کے کھانے پینے کا حساب تیار کریں۔ کپڑے، صابن، ٹوتھ برش اور پیسٹ بنیادی ضروریات میں شمار ہوتے ہیں یا نہیں اِن کا فیصلہ بھی سی اے صاحب پر چھوڑیں، البتہ کیچن کیلئے سوختنی لکڑی کو فہرست میں ضرور ڈالیں۔ بجلی کا بل بھی اوسطاً رکھیں کیونکہ شکل و صورت سے یہ ڈرائیور کوئی اے سی والے گھر کا نہیں لگ رہا تھا۔
یقین کریں یہ آنکھوں دیکھا حال ہے۔ آج کی خبر کے مطابق پٹرولیئم مصنوعات چار سے دس روپے مزید مہنگی ہونے والی ہیں۔اگر پانچ روپے کا بھی اضافہ ہوا تو ایسی صورت میں 1400 روپے میں گرم چشمہ پہنچنے والی یہ گاڑی ساڑھے 1600 روپے میں پہنچ جائے گی جس پر گزارہ کرنا مذکورہ ڈرائیور کیلئے ممکن نہیں ہے۔ اگلے دن ڈرائیوروں کی جانب سے کرائے بڑھانے کے مطالبے ہوں گے اور فی الوقت کا 200 روپے فی کس کرایہ 250 روپے کردیا جائے گا۔ یہ 50 روپے عام مسافروں کی جیب سے خرچ ہوں گے۔ عام مسافروں کی حالت کا منظر کیا ہوگا جبکہ دس لاکھ کی گاڑی کے مالک اس ڈرائیور کیلئے بجٹ بنانا ہمارے لئے محال ہوگیا ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ دیگر اشیاء کی قیمتوں کو پَر لگادے گا کیونکہ ٹرانسپورٹ کا خرچ بڑھ جائے گا۔ عام لوگوں کاگزارہ بہت مشکل ہو جائے گا۔ لوگ سہولیات سے ہاتھ اٹھالیں گے، ضروریات پوری کرنے میں جُت جائیں گے، اس سے مقامی انڈسٹری پر فرق پڑے گا۔
کیسے؟ اپنے بچوں کیلئے تین جوڑے یونیفارم کی بجائے لوگ دو یا بعض لوگ ایک ہی یونیفارم خرید سکیں گے۔ روزانہ تین بار آئس کریم کھانے والے بچے شائد دو دنوں میں وہ عیاشی حاصل کرسکیں گے کیونکہ والدین اُن کی ضروریات کو ترجیح دینگے، سہولیات کو نظر انداز کریں گے۔ کھیل کود کا سامان نظرانداز کردیا جائے گا، ملبوسات کیلئے استعمال شدہ اشیاء کی مارکیٹ کا رُخ کیا جائے گا تو اس کا براہ راست مقامی صنعت پر اثر ہوگا، جن کے پاس ایک ہی حل ہے یعنی ڈاؤن سائزنگ ۔مصنوعات نہیں بکیں گی تو مزدوروں کی تعداد کم کردی جائے گی، بیروزگاری میں ہوش رُبا اضافہ ہوگا۔ غربت بڑھے گی بلکہ بہت بڑھے گی۔ کیونکہ آئس کریم، سکول یونیفارم، بسکٹ، چاکلیٹ، سٹیشنری، کھیل تفریح کے سامان، جیسی اشیاء ہماری مقامی صنعت سے آتی ہیں، لوگوں کی جیبوں پر دباؤ ہوگا تو پہلے اِن اشیاء کی خرید پر کٹ لگادی جائے گی، پھر دکاندار سے لیکر صنعت کار تک اور سب سے زیادہ مزدور طبقہ پر اثر پڑے گا۔
یہ ایک معاشی زنجیر ہے، اچھے معاشی منیجرز اس زنجیر کو زیادہ کَسنے نہیں دیتے، وہ مارکیٹ میں ڈالر چھوڑکر کرنسی کی ترسیل کا سفر رواں رکھتے ہیں، سخت حالات میں مختلف علاقوں کو مختلف اشیاء پر سبسڈی دیتے ہیں، مختلف قسم کے بانڈر جاری کرکے، نجکاری کا شوشہ چھوڑکر اور عالمی جرائد میں اپنی معیشت کی ترقی کے حوالے سے ڈھنڈورا پیٹھ کر بیرون ملک سے سرمایہ لانے کی تگ و دو کرتے ہیں، شرح سود میں مسلسل ردو بدل کرکے ملکی سرمایہ کاروں کو اپنا پیسہ باہر سے لانے کے لالچ دیتے ہیں۔وہ خزانہ خالی ہونے کا رونا اُردو میں روتے ہیں اور ترقی کے دعوے انگریزی میں کرتے ہیں تاکہ باہر کا سرمایہ کار لبھایا جاسکے اور سیاست بھی ساتھ ساتھ ہو۔موجودہ حکومت نے عوام سے صبرکرنے کی اپیل کرتے ہوئے کم از کم دو سال کی مہلت مانگی ہے۔ ترقیاتی فنڈ سے 400 ارب نکال لئے گئے ہیں، چترال میں سڑکوں کے ٹینڈر شدہ منصوبے بند کردیئے گئے ہیں۔ کہا یہ جارہاہے کہ موجودہ حکومت اپنی صوبائی حکومت کی سابقہ پالیسیوں پر عمل پیرا ہے جس کے تحت ابتدائی تین برسوں میں ترقیاتی فنڈ روک لئیے جائیں گے اور آخری دو سالوں کے دوران تمام مجموعی رقوم خرچ کردیئے جائیں گے۔ اگر یہ افواہ نہیں حقیقت ہے تو سخت بھوک بڑھے گی، مہنگائی ماردے گی۔ کسی بھی قسم کی پالیسی بنانا کسی بھی حکومت کے اختیار میں ہے لیکن عرض یہ ہے کہ لوگوں کو کم ازکم زندہ رہنے کے مواقع فراہم کئے جائیں، طویل مدتی پالیسیوں کی تشکیل کے ساتھ ساتھ قلیل مدتی یعنی روز مرہ کی زندگی کو بھی رواں رکھنے کے اقدامات کرنا حکومت کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔
بات یہ ہے کہ کسی نے آپ کو زبردستی اقتدار پہ نہیں بٹھایا ہے، آپ نے دوسروں کو نااہل، چور اور ملک دشمن قرار دیکر پاکستانی ووٹرز سے اقتدار کی منتیں کیں ، آپ نے اپنی اہلیت کا دعویٰ کیا، آپ نے خود کو مسیحا بناکر پیش کیا۔ اب آپ کی سانسیں نہیں پھولنی چاہئیں۔ پاکستانی عوام کو مزید امتحان میں نہ ڈالیں، حالات نہ 2013 والے ہیں جب ملک میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو سکیورٹی کی سنگین صورتحال کا سامنا تھا، اور نہ حالات 2018 والے ہیں جب نون لیگ کی حکومت کو بجلی کے 18 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنا تھی۔ آج امن بھی ہے اور بجلی بھی۔ کوئی بہانہ نہیں۔ پھر بھی صنعتیں نہیں چلیں اور مہنگائی کا جِن بے قابو ہوگیا تو یہ آپ کی نااہلی ہے۔
اب کی مہنگائی آپ کی نااہلی ہو گی ………اعجاز احمد