The Voice of Chitral since 2004
Monday, 22 June 2026
Chitraltimes — The Voice of Chitral

عطا تارڑ کا دورہ ترکیہ، پی ٹی وی اور ٹی آر ٹی کی مشترکہ نشریات کی تجویز، پی ٹی وی ورلڈ کے ساتھ مل کر شندور پولو فیسٹول پر دستاویزی فلم پوری دنیا کو دکھائی جا سکتی ہے۔ وزیراطلاعات

عطا تارڑ کا دورہ ترکیہ، پی ٹی وی اور ٹی آر ٹی کی مشترکہ نشریات کی تجویز، پی ٹی وی ورلڈ کے ساتھ مل کر شندور پولو فیسٹول پر دستاویزی فلم پوری دنیا کو دکھائی جا سکتی ہے۔ وزیراطلاعات

استنبول( چترال ٹائمزرپورٹ)وفاقی وزیر اطلاعات، نشریات، قومی ورثہ و ثقافت عطاء اللہ تارڑ نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دستاویزی فلموں کی تیاری اور مشترکہ نشریات کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے، پاکستان میں ترکیہ کے ڈرامے اور دستاویزی فلمیں بہت پسند کی جاتی ہیں۔ یہ بات انہوں نے ترکیہ کے قومی ٹی وی چینل ”ٹی آر ٹی ورلڈ“ ہیڈ کوارٹرز کے دورہ کے موقع پر ڈائریکٹر جنرل انٹرنیشنل براڈ کاسٹ عمر فاروق تنیویردی سے ملاقات کے دوران کہی۔ ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان میڈیا تعاون، مشترکہ دستاویزی فلموں کی تیاری اور سیاحت کے فروغ سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان ترکیہ کے ساتھ برادرانہ تعلقات کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے، دونوں ممالک کے درمیان یہ تعلقات تاریخی اور مشترکہ مذہبی و ثقافتی اقدار پر مبنی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ کی حکومت کے ساتھ ڈراموں، دستاویزی فلموں کی مشترکہ پروڈکشن کے حوالے سے معاہدے ہمارے سٹریٹجک فریم ورک کا حصہ ہیں۔

وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔ گرمائی اولمپکس میں 92.97 میٹر کا جیولین تھرو کا ریکارڈ قائم کرنے والے پاکستانی نوجوان ارشد ندیم کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ ارشد ندیم کی ایک بہت ہی متاثر کن کہانی ہے۔ ہم ایسے نوجوانوں پر دستاویزی فلمیں تیار کر سکتے ہیں۔ پاکستان میں شندور پولو فیسٹول کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ شندور پولو فیسٹول نہ صرف سیاحت اور ثقافت بلکہ کھیلوں کے فروغ کا بھی باعث ہے۔ انہوں نے کہا کہ شندور پولو فیسٹول دنیا کے بلند ترین مقام پر کھیلے جانے والا پولو میچ ہے۔ پی ٹی وی ورلڈ کے ساتھ مل کر شندور پولو فیسٹول پر دستاویزی فلم پوری دنیا کو دکھائی جا سکتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے ٹی آر ٹی ورلڈ اور پاکستان ٹیلی ویڑن کی مشترکہ نشریات کی بھی تجویز پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ ثقافت اور مذہبی اقدار موجود ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ترکیہ کے ڈرامے اور دستاویزی فلمیں بہت پسند کی جاتی ہیں۔ ملاقات میں بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں و کشمیر کے معاملے کو اجاگر کرنے کے حوالے سے وزیر اطلاعات نے کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم پر ڈیجیٹل دستاویزی فلموں کی تیاری کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے ٹی آر ٹی ورلڈ کے مختلف شعبوں کا بھی دورہ کیا۔

اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی ممبران کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال2023-24 کے جمع کروانے کی حتمی تاریخ 31 دسمبر 2024ہے۔ الکیشن کمیشن

اسلام آباد(سی ایم لنکس)اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی ممبران کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال2023-24 کے جمع کروانے کی حتمی تاریخ 31 دسمبر 2024ہے۔ 2۔الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 137 کے تحت تمام اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلی کے ممبران کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے بشمول شریک حیات و زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے برائے مالی سال2023-24مجوزہ فارم۔بی کی صورت میں مقررہ تاریخ سے پہلے یا 31دسمبر 2024 تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروا دیں۔ سیکشن 137 کے مندرجات ذیل میں بھی دیے جاتے ہیں۔ سیکشن 137- اثاثہ جات اور واجبات کے گوشواروں کی فراہمی۔1۔ہر ممبر اسمبلی و سینٹ سابقہ 30 جون تک کے اپنے بشمول شریک حیات و زیر کفالت بچوں کے اثاثوں اور واجبات کے گوشوارے بصورت مجوزہ فارم۔بی ہر سال 31دسمبر سے پہلے یا 31 دسمبر تک الیکشن کمیشن کے پاس جمع کروائے گا۔ 2۔ سیکشن137 کی ذیلی شق(2)کے تحت کمیشن ایک پریس ریلیز کے ذریعے ہر سال یکم جنوری کو مقررہ تاریخ تک مطلوبہ گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کے نام شائع کرے گا۔ 3

۔16جنوری کو ایک حکم کے تحت کمیشن 15 جنوری تک مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے والے اراکین پارلیمنٹ و صوبائی اسمبلیوں کے ممبران کی رکنیت معطل کردے گا اور مذکورہ گوشوارے جمع نہ کروانے تک وہ پارلیمنٹ و اسمبلی کی کسی بھی کاروائی میں حصہ نہیں لے سکیں گے۔ 4۔ اگرکوئی ممبر اپنے پیش کردہ گوشواروں میں کسی قسم کی غلط معلومات فراہم کرنے کا مرتکب پایا گیا تو کمیشن سیکشن 137 کے تحت گوشوارے جمع کروانے کی تاریخ سے 120 دن کے اندر اس بد عنوانی کے جرم کے ارتکاب کی پاداش میں کاروائی کرے گا۔ اس حوالے سے تیار کردہ ہدایات / راہنمائی کے ساتھ مقررہ فارم۔بی الیکشن کمیشن سیکرٹریٹ اسلام آباد، متعلقہ صوبائی الیکشن کمشنر کے دفاتر، سینٹ سیکرٹریٹ، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے سیکرٹریٹ سے مفت حاصل کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، فارم۔بی الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ سے بھی ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
96694

شندور پولو فیسٹول اور اس سے وابستہ توقعات -اشتیاق چترالی

شندور پولو فیسٹول اور اس سے وابستہ توقعات -اشتیاق چترالی

ٹوارزم اور اس کا فروغ کسی بھی علاقے کی تعمیر و ترقی میں بنیادی اکائی اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ضلع چترال کو قدرت نے قدرتی حسن،بلندوبالا پہاڑوں،لہلہاتے فصلوں سے مالامال کیا ہے وہیں ایسے ایسے علاقے بھی عطا کئے ہیں جو دوسروں کی نظریں خیرہ کرنے کیلئے کافی ہوتے ہیں۔مداک لشٹ ہو یا کیلاش ویلیز،گرم چشمہ ہو یا علاقہ موڑکہو،بونی ہو یا اس سے ملحق اور دوسرے حسین علاقے،یارخون ویلی ہو یا علاقہ لاسپور اور شندور غرض ہر علاقے کو اللّٰہ پاک نے وہ حسن عطا کئے ہیں جو سیاحوں کو اپنی طرف کھینچ لاتے ہیں اور ان علاقوں کے مخصوص کھیل تو مزید ان کے حسن کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

یہ فیسٹیولز جہاں سیاحوں کی آمد کا باعث ہوتے ہیں وہیں یہ علاقے کے عوام کیلئے خوشحالی کی نوید لے کے آتے ہیں۔ٹرانسپورٹ سے جڑے ہمارے بھائی ہوں یا ہوٹلز مالکان،ٹوارزم سے متعلقہ آفراد ہوں یا دوسرے کاروبار سے متعلقہ افراد (ڈرائی فروٹس،جنرل سٹورز،چترالی مصنوعات ،ٹک شاپس،پٹرول پمپس،) غرض کسی کا بھی کہیں پہ بھی کاروبار سے وابستگی ہو وہ ان فیسٹولز سے اپنے کاروبار سے مطابق فوائد ضرور حاصل کرتے ہیں اور یہ فیسٹولز مزید سیاحوں کو اس جانب لانے میں آکسیر کا کام دیتے ہیں۔چترالی عوام کا اجتماعی رویہ،حسن سلوک،روایتی مہمانداری،سادگی،خلوص اور اخلاق سے مزین ہونا ہی ان لوگوں کو اس جانب رخ کرنے اور اس حوالے سے لکھنے،سوشل،پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں کوریج پہ مجبور کر رہے ہوتے ہیں یوں ہمارا علاقے اور ملک کا سافٹ آمیج باقی ملکوں اور افراد کے سامنے مثبت انداز میں پیش ہو رہا ہوتا ہے۔

ان فیسٹولز سے جہاں مقامی افراد فوائد حاصل کرتے ہیں وہیں پہ ملک کو بھی ٹوارزم کے فروغ کی مد میں خاطر خواہ رقم بھی مل رہی ہوتی ہے کہ جس سے زرمبادلہ کے ذخائر میں بھی اضافہ ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے کہ یہاں کے عوام اور ان علاقوں میں بسنے والے عوام کے بنیادی مسائل،صحت،پانی،رابطہ سڑکیں،بجلی،مختلف نیٹ ورک کے موبائل سروسز اور دوسری ضروریات کو ترجیحی بنیادوں پہ حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ یہاں کے عوام کیلئے بھی سہولیات قدرے بہتر ہوں وہیں پہ ان علاقوں میں سیاحوں کو بھی مشکلات درپیش نہ ہوں خاص کر رابطہ سڑکوں کی خستہ حالی کو ترجیحی بنیادوں پہ حل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ضرورت اس آمر کی ہے کہ ان فیسٹولز کے انعقاد کو بہتر انداز میں پیش کرنے اور پھر میڈیا میں اس کو مزید ہائی لائٹ کرکے ہی ہم اس سے بھر ہور فوائد حاصل کر سکتے ہیں اور پھر حکومت وقت اور حکام بالا سے یہاں کے عوام کے مندرجہ بالا مسائل کے حل کی جانب ان کی توجہ مبذول کرا سکیں یوں ہمارا علاقہ اور یہاں کے لوگ خوشحال ہوں،بنیادی مسائل حل ہوں اور زیادہ سے زیادہ سیاح ملکی و غیر ملکی اس جانب رخت سفر کریں اور مزید ہمارا علاقہ یہاں کی خوبصورتی کو مزید ایکسپلور کیا جا سکے اور یہ انٹر نیشنل لیول کے کھیلوں کی انعقاد سے جہاں ملک کے پر آمن ہونے اور سافٹ امیج میں مزید اضافہ کرے وہیں پہ اس کے فوائد یہاں کے مقامی افراد کو بھی میسر ہونے چاہئے اور وہ خوشحال ہونگے تو اور بہتر انداز سے آگے بڑھنے میں مدد اور آسانی ملے گی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
62962

شندور پولو فیسٹول ۔ تحریر صوفی محمد اسلم

شندور پولو فیسٹول ۔ تحریر صوفی محمد اسلم

شندور ایک پہاڑی مگر وسیع علاقہ ہے جو خیبر پختونخواہ، پاکستان کے ضلع اپر چترال کے تحصیل مستوج میں بونی ضلعی ہیڈکواٹر سے 75کلومیٹر اور 4 گھٹنے کی مسافت پر اور سطح سمندر سے 3700میٹر کے بلندی پر  واقع ہے۔ ۔جسے Roof of the world بھی کہا جاتا ہے۔ جو اپر چترال کے علاقہ سور لاسپور “اپر لاسپور”  کو گلگت بلتستان کے ضلع غزر سے ایک Pass کے ذریعے سے ملاتا ہے جسے شندور پاس کہا جاتا ہے۔ شندور وہ ایریا ہے جہاں ہندوکوش ،پامیر اور قراقورم کے پہاڑی سلسلے اپس میں ملتے ہیں۔ اس علاقے کو پاکستان کا سب سے پرسکوں خطہ بھی قرار دیا گیا  ہے۔
 1936کو پولیٹیکل ایجنٹ کے حکم پر چترال اور گلگت کے مقامی لوگوں کی تعاون سے یہاں پولو گروئونڈ بنایا گیا جسے مس جونالی یعنی Field of Noon کا نام دیا گیا۔ کہتے کہ رات کو چاند کی روشنی میں پولو کھیلا جاتا  تھا اس وجہ سے اسے مسن جنالی کا نام دیاگیا، بعض مقامی لوگ یہ بھی کہتے ہیں یہ گراونڈ بلندی میں واقع ہونے کی وجہ سے اس کا نام مس جنالی پڑگیا ہے۔  جس کے چاروں اطراف ڈھلوان ہیں جو اسٹیڈیم کا منظر پیش کرتا ہیں۔
شندور نیشنل پولو فسٹیول ضلع چترال اور   گلگت بلتستان  کے قبائل کی طرف سے منایے جانے والا ایک حیرت انگیز تہوار ہے۔  چترال اور گلگت بلتستان کے علاقوں کے قبائل ہرسال جولائی کے پہلے ہفتے میں شندور درہ پر تین دن کیلئے ملتے ہیں۔ شندور پولو گراؤنڈ جو دنیا کا بلند ترین پولو گراؤنڈ سمجھا جاتا ہے۔ پولو گراؤنڈ شندور جھیل سے ملحق ہے جو بہت خوبصورت نظارہ پیش کرتی ہے۔ یہ تہوار ہندوکش پہاڑی سلسلوں میں ایک حیرت انگیز ثقافتی تجربہ فراہم کرتا ہے۔اس تین روزہ فسٹیول میں پولو کے علاوہ موسیقی کی مخفلیں، رقص، پیرہ فلائینگ اور نشانہ بازی کا کھیل بھی کھیلا جاتا ہے۔
کھیلوں کا بادشاہ اور باشاہوں کا کھیل  فری اسٹائل چوگان اپنی خالص ترین شکل میں موجود ہے۔ دنیا کے سب سے منفرد کھیلوں کے مقابلوں میں سے ایک کا شاندار منظر  کشی کی جاتی ہے۔ شندور ٹاپ پر کھیلا جانے والا یہ کھیل افسانوی حیثیت حاصل کر لیا ہے اور یہ بین الاقوامی اور ملکی ایڈونچر سیاحوں کے لیے یکساں دلچسپی کا باعث ہے۔ کوئی امپائر نہیں ہے اور نہ ہی کوئی ہولڈز ممنوع ہے۔چونکہ چھ کھلاڑی ایک طرف ہوتی ہیں، میدان میں کافی ہجوم ہو تا ہے۔ گھوڑے کا رفتار قدرے کم کر کے تمام چیزوں پر غور کیا جاتا ہے جس سے شاید کسی حد تک حفاظت میں اضافہ ہوتا ہے۔ کھلاڑی شاذ و نادر ہی ہیلمٹ پہنتے ہیں، گھوڑوں کی ٹانگوں پر اکثر پٹیاں نہیں ہوتیں۔فائنل میچ گلگت اے ٹیم اور چترال اے ٹیم کے درمیان کھیلا جاکر اختتام پذیر ہو تا ہے۔

اس سال بھی جولائی کے 1سے 3 تاریخ کو شندور پولو فسٹیول منقعد ہوگا، تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں ۔  یہ جشن وفاقی اور صوبائی حکومت کے سربراہی میں اپر چترال کےضلعی انتظامیہ  کی نگرانی میں منقعد ہوتی ہے۔ اس میں کل 14 ٹیمیں حصہ لیتے ہیں ۔ 7 چترال اور 7 گلگت کی طرف سے جو ایک دوسرے کے مد مقابل ہوتے ہیں۔رات کو بھی چترال اور گلگت کے پر رونق ثقافتی پروگرام سجایے جاتے ہیں۔اگرچہ یہ نیشنل فسٹیول ہے مگر اس کی بین الاقوامی حیثیت اسلئے دی جاتی ہے کیونکہ اس جشن کو کور کرنے کیلئے غیر ملکی ایجنسیان،ٹی وی جینلز اور سیاحوں کی بڑی تعداد یہاں ہوتے ہیں ۔ انتہائی پرکشش فیسٹیول ہونے کی وجہ سے یورپ، امریکہ، آسٹریلیا،  خلیجی ریاستوں،  چائنہ، روس،جاپان  سے ہزاروں تعداد میں سیاحت میں دلچسپی رکھنے والے لوگ سالانہ اس میلہ میں شرکت کرتے ہیں.
جشن شندور  میں خاص بات یہ ہے کہ یہ گراونڈ دنیا کے بلند ترین گراونڈ ہے۔ دوسرا یہ ہے کہ یہ فری اسٹائل پولو ہے جو جنگ کی منظر پیش کرتی ہے۔ تیسرا یہ ہے کہ یہ انتہائی پر امن ہے اور اس میں نظم ضبط کا خیال رکھا جاتا ہے۔ ضیاءالحق،بینظیر بھٹو، پرویز مشرف وفاقی وزرا، صوبائی وزراء  فوجی قائدین مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کرچکے ہیں ۔ اس سال بھی بڑی دھوم دھام سے منایا جائے گا۔ اپ بھی چترال تشریف لائے اور چترال میں سکندر اعظم قوم اور اس  کے دور کا قدیم ترین کالاش ثقافت اپنے آنکھوں سے دیکھے۔ جشن شندور میں فری پولو،کھو ثقافت اور کھوار موسیقی سے لطف اندوز ہو جائیے ۔
chitraltimes shandur festival polo chitral 3
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
62940