یوم تکبیر- تحریر: اقبال حیات آف برغوزی
.
قوموں کی تاریخ میں بعض ایام اپنی نوغیت اور اہمیت کے اعتبار سے نا قابل فراموش ہوتے ہیں اور قومی سلامتی اور بقا کی علامت تصور کئے جاتے ہیں۔ملت کی اجتماعی زندگی میں خود اعتمادی، حوصلہ مندی اور خود داری کیساتھ سر اونچا کر کے جینے کی امنگ ان ایام کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں۔ یہ ایام ایک طرح سے جسدملت میں تازہ خون، ولولہ اور جوش و جذبے میں تلاطم پیدا کرنے کے باعث بنتے ہیں۔ تو دوسری طرف ان ایام کی صبح طلوع ہونے والے سورج کی کرنیں قوم کی مستقبل کی تابناکیوں کی نویدبن کر نمودار ہو تی ہیں اور ملت کے افراد کے چہروں پر امید کی روشنی (جھلکتی نظر آئی ہے) بکھیر دیتی ہے۔
یہ ایام اپنی نوغیت اور ہر قوم کی اپنی ضرورت اور تقاضوں کے آئنہ دار ہوتی ہیں۔
ہماری قومی تاریخ کے صفحات کو منور کرنے والے ایام کا جہاں تک تعلق ہے ان میں چودہ اگست کا مبارک دن اگر قیام پاکستان کی تابناکی سے ضوفشان ہے تو 28مئی استحکام پاکستان کو آغوش لینے کی سعادت سے بہرہ مند ہے۔ یہ وہ دن ہے کہ جس دن ہم میلی آنکھوں سے دیکھنے والوں کی آنکھوں کو حسرتوں کی آنسوؤں سے بھر دئے۔ یہ وہ دن ہے کہ جس دن ہم نے دشمن کے اپنے دیس سے متعلق چراغ صبح کے تصور کو شمع فیروزان میں بدل دیا۔ یہ وہ دن ہے کہ جس دن ہم نے اپنے وجود کے منکروں کو بھی اپنی حیثیت منوانے کیلئے حقیقت کے آستانے پر سر جھکانے پر مجبور کئے۔ یہ وہ دن ہے کہ جس دن اپنی ذیست کے اظہار پر جہاں پوری عالم اسلام کی جسد خوابیدہ میں ارتقاش اور بیداری کا ولولہ پیدا ہوا وہاں باطل قوتوں کے ناپاک عزائم اور خواب چکنا چور ہوئے 28مئی کے مبارک دن ہم نے دشمن کے مقابلے کیلئے تیاری کے اسلامی ترغیت کے مناسبت سے حکم ربانی کی تعمیل ہوئی اور دشمن پر خوف وحشت کے ایسے اثر چھوڑے جس کے تصور سے اس کی آئندہ نسلیں بھی کپکپی محسوس کریں گے۔
یہ دن ہمیں عظیم لیڈر کی طرف سے گھاس کھا کر مقابلے میں ایٹم بنانے کے اعلان سے حاصل ہوا اور اس دن کے فیوض وبرکات سے ہم کیسے مستفید ہوئے یہ ایک طویل دستان ہے۔ اس دن کو پانے میں ہمیں من حیثت الوقم جس قسم کی سازشوں کی دھمکیوں، مصائیب اور رکاوٹوں سے گذرنے پرے وہ جہاں ہماری قومی بقاء اور سلامتی کیلئے سنگ میل ہیں وہاں ہماری تابناک مستقبل کیلئے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔
قومی بقا کی اس جنگ میں ہم نے سرکٹوائے، پھانسی کے پھندے کو چومے، فاقے سہے، معاشی پابندیوں کی اذیتیں برداشت کیں، سلامتی کے خطرات سے دوچار رہے مگر اپنی امنگوں، آرزوں اور تمناؤں کی منزل کی طرف بڑھنے والے قدم ڈھگمگانے نہ دئے۔ استقامت، عزم صمیم اور منزل تک رسائی کی امیدوں کوزاد راہ بنا کر یہ طویل اور صبر آزما منزل مراد سے ہمکنار کئے اورآخیر کار دنیا پر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان نام ہی نہیں بلکہ چودہ کروڑ مسلمانوں کیلئے بالخصوص اور پورے عالم اسلام کیلئے بالعموم ایک سرمائیہ حیات ہے جس کی حفاظت اور عظمت کے لئے پوری قوم ھمہ وقت مستعد اور وقت کے تقاضوں کے مطابق کاروئی کی صلاحیت سے سرفراز ہے۔
آخر میں اس دن کی مناسبت سے انتہائی وثوق کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اگر دیانتدار، مخلص، ایماندار اور محب وطن قیادت کا تاج اس مملکت کے سر پر سجایا جائے تو اس کی ثمارت اس دیس کی طرف اٹھے والی ہر ناپاک نظروں کی نینائی معدوم کر نے کا باعث ہو گا اور آج کے دن کی طرح ہر دن علامہ اقبال کے مسلمان قوم کے بارے میں اس تصور کا آئینہ دار ہو گا۔
خدائے یزل کا دست قدرت تو بازن تو ہے
یقین پیدا کر ائے عافل کہ مغلوب گمان تو ہے
پرے ہے چرخ نیلی فام سے منزل مسلمان کی
ستارے جسکی گرد راہ ھوں وہ کاروان تو ہے
