Chitral Times

بھارتی عقوبت خانوں میں سسکتی انسانیت کی دلسوز داستانیں اور عظیم اقداراسلامی کی حامل نسوانیت…. ڈاکٹر ساجد

تبصرہ کتاب’’قیدی نمبر100‘‘
مصنفہ:انجم زمرد حبیب(مقبوضہ کشمیر)
بھارتی عقوبت خانوں میں سسکتی انسانیت کی دلسوز داستانیں
اور
عظیم اقداراسلامی کی حامل نسوانیت
ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com

قیدوبند کی صعوبتیں دراصل راہ وفا کے لازمی سنگ ہائے میل ہیں۔سونے کو جب تک بھٹی میں سینکانہ جائے اس کا کھوٹ اس سے جدا نہیں ہو پاتا۔اخلاص کا سکہ اس کرہ ارض پر سب سے زیادہ چلت کاحامل سکہ ہے،اور یہ سکہ آزمائشوں کے بعد اپنی قیمت ومالیت میں اضافہ کرتا چلا جاتاہے۔پس قیدوبند اور قربانیوں کی داستانوں سے خلوص کی منزل کاحصول انسانی تاریخ کا خاصہ ہے۔وقت کی عدالت میں کرسی اختیارپرموجودسامراج نے کبھی بھی کوئی تاریخ ساز کردار ادانہیں کیا ،اس اہم تر کرسی کی بجائے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے آہنی زیورسے آراستہ عظمت کے میناروں نے انسانیت کے بھٹکے ہوئے قافلوں کو درست راستوں کی طرف صحیح راہنمائی کی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ قانون کی گرفت نے ہی ہمیشہ قانون کے ساتھ سنگین مذاق کیاہے،یہ گرفت جن پر مضبوط ہونی چاہیے تھی انہیں کادست اقتداراس گرفت پر مضبوط رہااور قانون کے شکنجے قانون شکنوں کے لیے نرم و گدازاورحاملین عظمت انسانیت کے لیے یہ شکنجے سخت سے سخت تر ہوتے رہے۔یہ سب حقائق دراصل تفسیر ہیں کلام الہی کی اس آیت کی زمانے کی قسم انسان نقصان میں ہے۔

تاریخ کا مسافر مشرق سے مغرب تک چلے یا آدم تا ایں دم ،کہیں کسی عدالت پر نمرود بیٹھاہے توکٹہرے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کھڑے ہیں،کہیں کرسی اقتدارپرفرعون براجمان ہیں تو فرد جرم حضرت موسی علیہ السلام پر لگائی جا رہی ہے اورتاریخ کا مسافرکبھی نہیں بھولے گاکہ جب شباب یوسف علیہ السلام نذردیوارزنداں ہوگیا۔اور پھرسورج نے ان ایام کا بھی تو مشاہدہ کیا جب عالمی جہالت نے شعب ابی طالب میں آفاقی نورانیت کوپابندسلاسل کیاہواتھا۔اوریزیدجیسے کے لیے تخت اقتدارتھاجبکہ فرزنداہل بیت کے لیے تختہ دار۔کیاقصور تھا ان سورج چاندستاروں کا؟؟؟اورکیااستحقاق تھاان طاغوتی طاقتوں کاجنہوں نے عظمت وبزرگی اورطہارت و نفاست کے ان آفاقی سلسلوں کواپنی آلودگیوں وگندگیوں سے گہناناچاہاتھا۔تاریخ کادھاراپھربھی اپنی رفتارسے چلتارہتاہے اورپہاڑجیسے کردارتواس کا رخ موڑ سکتے ہیں اورموڑ دیتے ہیں،اگرچہ ان کی گردنوں پر چھریاں چلائی جائیں یاوہ آگ کے گڑہوں میں ہی ڈال دیے جائیں تاہم خش و خاشاک کے طوفان ہوں یا سمندر کی جھاگ جیسے پوپلے وکھوکھلے لوگ،بڑے بڑے سابقوں ولاحقوں اورالقابات و خطابات اورجبوں قبوں ودستاروں وخلعتوں کے باوجود تاریخ کے گندے نالے میں سے ہوتے ہوئے اس گڑھے میں جاگرتے ہیں جوزمانے بھرکے فضلوں سے عنوان ہوتاہے۔

’’قیدی نمبر100‘‘تاریخ کی کوئی نئی کتاب نہیں ہے اورنہ ہی کسی نئی روایت کی تاسیس ہے،ہاں البتہ انجم زمرد حبیب قافلہ سخت جاں میں ایک حسین اضافہ ضرور ہیں۔خاتون ہوتے ہوئے بھی پہاڑ جیسی استقامت اور عزم و ہمت میں قرون اولی کی زندہ مثال اگرکسی نے دیکھنی ہوتواس کتاب کے مندرجات میں بآسانی مشاہدہ کی جاسکتی ہے۔بظاہر سادہ سی کتاب اپنے اندرپس دیوارزنداں کی خونچگاں داستاں لیے ہوئے ایک طوفان بلاخیز رکھتی ہے،ایک ایک جملہ آتش فشاں سے کم نہیں خاص طور واقعات کے بعدجونقدوتبصرے کیے گئے ہیں وہ بہت قابل غور ہیں۔کہیں کہیں تو محسوس ہوتاہے کہ صرف ظالم کی تلوار ہی خون آلود نہیں ہے بلکہ مصنفہ بھی اپنا قلم روشنائی کی بجائے خون میں ڈبوکے تاریخ کے اوراق میں خون آلود تحریر رقم کرتی چلی جارہی ہے،بس فرق صرف اتنا ہے کہ ظالم کی تلوار کسی دوسرے کی رگ جاں سے رنگین ہوئی ہے جب کہ مصنفہ،انجم زمرد حبیب،نے اپنے ہی لہو سے کشمیر کی داستان کورنگین کیاہے۔رات کتنی ہی طویل ہو،نورسحرکاآنا بحرحال ایک یقینی امر ہے۔

کتاب کے مندرجات سے صاف طورپر محسوس کیاجاسکتاہے کہ تیسری نسل پر ننگ انسانیت جبرمسلسل کی بھارتی مساعی کے باوجود مایوسیت نام کو نہیں ہے۔اﷲتعالی کی رسی کوپکڑنے والے یاسیت کو گناہ کبیرہ گردانتے ہیں۔یہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام،حضرت یوسف علیہ السلام،حضرت موسی اور حضرت عیسی علیھماالسلام اور ختمی مرتبت ﷺکے ماننے والے یاسیت کاشکارہوجائیں۔اﷲاکبرکی صداؤں کے ساتھ بدروحنین کی وادیوں کو زندہ کرنے والے رسم شبیری کے وارث کل انسانیت کے لیے امید کی کرن نہیں بلکہ یوم امید کا طلوع ہوتاہوا سورج ہیں۔بھارتی افواج اوردیگر بدنام زمانہ بھارتی سامراجی اداروں نے جو کچھ بھی ظلم کے پہاڑ توڑنے تھے اس زیرنظرکتاب کے مطابق وہ اپنی انتہاکی آخری حدتک توڑ لیے گئے ہیں لیکن کشمیری مجاہدین کا لاالہ الاﷲکے ناطے پاکستان سے جڑنے والا رشتہ یک موئے کے برابربھی سست نہیں پڑ سکا۔بلکہ کتاب کے آخری صفحات سے یہ بات مترشح ہے کہ ہر گزرتاہوا لمحہ اور بھارتی زیادتیوں میں ہونے والا ہر ضافہ کشمیریوں کی پاکستان اور پاکستانیوں کے قریب تر لانے میں بہت اہم کردار اداکرتاچلا جارہاہے۔’’قیدی نمبر100‘‘کی مصنفہ تیسری نسل کی نمائندہ ادیبہ ہیں اور اگرچہ تحریک آزادی کشمیر اپنے آغازسے پاکستان کے ساتھ جذباتی وابستگی رکھتی ہے لیکن نسل در نسل اس لگاؤ میں اضافہ اس کتاب سے چھلک چھلک کر امڈتاچلا آرہاہے۔

اس کتاب کاقاری عمومی طورپر سیکولرازم کی حقیقت سے اور خصوصی طور پر بھارت کے سیکولرازم سے آشنائی حاصل کرسکتاہے۔بھارت نے سیکولرازم کی حقیقت کو دنیاکے سامنے طشت ازبام کیاہے۔اہل مغرب کی بعض خوبی نماجھوٹی صفات نے سیکولرازم کے کذب و نفاق کی پردو پوشی کی تھی لیکن آفرین ہے برہمن راج کو جس نے اس مکروہ نظریے کی حقیقت سے پردہ فاش کردیاہے۔انسانی حقوق،آزادی نسواں،بااختیارعدلیہ،غیرجانبدارانتظامیہ،بے لاگ قانون سازی اور سب سے بڑافریب عالمی ’’جمہوری تماشا‘‘،سیکولرازم کے ان نعروں کی قلعی بھارت کی حکومت نے خوب خوب کھول دی ہے۔آج کے ہندوستان میں مشرق تا مغرب ایک بے چیبی کی لہرہے جسے دنیاکے دوسرے کونوں تک میں محسوس کیاجارہاہے اور سب سے زیادہ مشق ستم کشمیریوں پرجاری ہے کہ ان کا گناہ دوآتشہ ہے،فرزندان توحیدہونا اور اسلامی ریاست پاکستان سے عقیدت و محبت اور الحاق کی خواہش۔

’’قیدی نمبر100‘‘انجم زمرد حبیب،ماضی سے حال اور حال سے مستقبل کاایک مسلسل سفرہے۔احدکے میدانوں سے تجدیدسفرکرنے والاتاریخ کایہ نسوانی کردار ماضی کی طرح آج کے فراعین مصرکی دھرتی پر بھی زندہ ہے،اس کردارکوانسانیت کے سیکولرٹھیکیدار امریکہ کے عقوبت خانوں میں بھی دیکھاجاسکتاہے،گزشتہ صدی کے نصف آخرسے فلسطین کی سرزمین سرخ پر بھی اس کردارنے اپنی عزم و ہمت کی کتنی ہی داستانیں رقم کرچھوڑیں ہیں اورسلام ہواس پیکرعفت وحریم پرکہ شہداکوجنم دینے والے اس کردارنے امت کی کوکھ کوکبھی بنجرنہیں ہونے دیا۔جنت کی حواسے زمانے کی ہواتک اورتاقیامت ،جب تک قافلہ حجازمیں فاطمہ بنت عبداﷲکاکردارزندہ ہے ،یہ امت زندہ پائندہ رہے گی،انشاء اﷲتعالی۔اور سلام ہے دخترکشمیرانجم حبیب زمردکو کہ جنہوں نے اس کتاب کی بابت دنیاکویہ باورکرایاکہ نسوانیت کے پیمانے سیکولزازم کے بازارمیں بکنے والے لبرل ازم کے شاخصانے نہیں ہیں اور نہ ہی نسائیت کی پیمائش کو پردہ سکرین پرجنبش کرتے ہوئے مجموعہ ہائے عکس سے ناپاجاسکتاہے بلکہ اصل میں تو انسانی جذبات کی بہترین عکاس عورت کے جذبات ہیں جنہیں زیرنظرکتاب میں ایک خاتون کے مقدس قلم سے کس خوبصورتی وذہانت سے سپرد قرطاس کیاگیاہے۔کتنافرق ہے سیکولرازم اوراسلام کے نسوانی کردارمیں ۔

وہ قومیں بہت خوش قسمت ہیں جن کی ماؤں کی گودمیں پرورش پانے والی نسل ان کی اپنی میراث کی حامل ہو۔اور بہت بدقسمت ہے وہ قوم جو اپنے تعلیمی اداروں میں غلامی کے شعائراور بدیسی زبان کی تعلیم پر فخور ہو۔مقبوضہ وادی کی ماں نے اپنے بطن میں شہداکی نسل کو پرورش کیاہے اور اپنے دودھ میں انہیں جہاد کی لوریاں پلائی ہیں،پس جس قوم کے نوجوان اک ہاتھ میں الکتاب اور دوسرے ہاتھ میں تلوار تھامے ہوں اسے دنیاکی کوئی قوت نابود نہیں کرسکتی ۔بلکہ تاریخ نے کتنے ہی ایسی اقوام کامشاہدہ کیااور آسمان گواہ ہے ایسے لوگوں سے ٹکرانے والی بڑی بڑی قوتیں پاش پاش ہو کر ماضی کا عبرت انگیز باب بن گئیں۔اورتاریخ نے کتنی ہی ایسی کئی اقوام کو کتابوں میں دفن کررکھاہے جنہوں نے اہل حق سے ٹکرانے کی ناکام کوشش کی۔کشمیرکامستقبل بلآخر لاالہ الااﷲسے وابسطہ ہے اور یہی پاکستان کا مطلب ہے،پاکستان اور کشمیر لازم و ملزوم ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور شہ رگ ہی رگ حیات ہوتی ہے۔پاکستان کشمیر کے بغیر نامکمل ہے اور کشمیر پاکستان کے بغیرنامکمل ہے۔اﷲتعالی نے چاہاتو’’قیدی نمر100‘‘بھارتی قیدخانوں کاآخری قیدی ہوگا اور پھر نوید صبح ہے،انشااﷲ تعالی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
5914

پروفیسر غفوراحمدؒ ؛………..ڈاکٹر ساجد خاکوانی

پاکستانی سیاست کاایک عہدساز باب
(26دسمبریوم وفات کے موقع پر خصوصی تحریر)
ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com
ان کااصل نام ’’عبدالغفوراحمد‘‘ تھا،لیکن پاکستان کی سیاسی تاریخ میں وہ ’’پروفیسرغفوراحمد‘‘کے نام سے مشہور رہے۔26جون کو ہندوستانی ریاست اترپردیش(یوپی) کے مشہورشہر’’بریلی‘‘میں پیداہوئے۔آپ کے والد تاجرتھے اور ایک دکان کرتے تھے۔یہ دورغلامی تھا،اور امت مسلمہ کی کوکھ اس بدقسمت دورمیں بھی بیدارمغزقیادت سے سرسبزوشاداب رہی۔ننھے پروفیسرغفوراحمدنے ابتدائی تعلیم اپنے علاقائی مقامی تعلیمی اداروں میں ہی حاصل کی۔ایک انٹرویومیں آپ نے خود بتایاکہ آپ کی تعلیم کاآغاز مسجد سے ہواتھا۔اسلامیہ ہائی سکول بریلی سے 1942ء میں دسویں کاامتحان پاس کیا۔بی کام کی تعلیم کے لیے آگرہ تشریف لے گئے اوروہاں کی ’’آگرہ یونیورسٹی‘‘سے مذکورہ تعلیم مکمل کی۔1948ء میں لکھنؤیونیورسٹی سے تجاریات( کامرس) میں ماسٹرزکی سند حاصل کی،’’لکھنؤیونیورسٹی‘‘اس وقت کے متحدہ ہندوستان کے چندبہترین اعلی تعلیمی اداروں میں سے ایک تھی۔صنعتی حسابات(انڈسٹریل اکاؤنٹس )کی تعلیم اس پر اضافی تھی۔اسی سال اسلامیہ کالج لکھنؤمیں شعبہ تجاریات قائم ہوا تو پروفیسرغفوراحمدنے یہاں سے تدریسی خدمات کاآغازکیا۔آزادی کے بعد آپ نے اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کی اور کراچی جیسے زرخیزشہر میں مستقل سکونت اختیارکی۔اپنی تعلیمی استعداد کی بنیاد پر آپ نے متعدد تجارتی و کاروباری اداروں میں خدمات سرانجام دیں اوران اداروں میں اچھے مناصب پر تعینات بھی رہے۔لیکن فطری طورپرآپ کارجحان تعلیم و تدریس کی طرف تھا،چنانچہ اپنی کاروباری متعلقہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ آپ نے تدریس کی طرف بھی توجہ دینا شروع کی اور پھر ایک وقت آیا کہ پروفیسر غفوراحمدکلی طورپرتعلیم کے شیوہ سے ہی وابسطہ ہوکررہ گئے۔آپ نے انسیٹیوٹ آف چارٹرڈاکاؤنٹس پاکستان اوراردوکالج کراچی سے اپنی تدریسی سرگرمیوں کاباقائدہ آغاز کیا۔تعلیم سے فطری شغف بہت جلدآپ کو جامعہ جیسی بلندترین مادرعلمی کے مقام تک لے گیااورآپ پہلے سندھ یونیورسٹی اور پھر کراچی یونیورسٹی سے ایک طویل عرصہ تک وابسطہ رہے۔ان دونوں جامعات کے نصاب سازادارے بھی آپ کی تخلیقی وتحقیقی صلاحیتوں سے فیض یاب ہوئے۔

وطن عزیزمیںآپ کاتعارف میدان سیاست میں دیانتداراوربااصول سیاستدان کی حیثیت سے جاناجاتاہے۔پروفیسرغفوراحمدنے اگرچہ تئیس سال کی عمرمیں اپنے سیاسی مستقبل کاسفرباقائدہ سے شروع کیالیکن زمانہ طالب علمی میں بھی آپ بہترین مقرراور اپنے کالج میں طلبہ یونین میں بھرپور حصہ لینے والے طالب علم راہنمارہے تھے۔اسی زمانہ طالب علمی میں آپ نے مولانا مودودی کی تحریروں سے تعارف حاصل کیا۔آپ نے سب سے پہلے مولانا مودودی کی کتاب ’’خطبات‘‘پڑھی پھرخود بتاتے ہیں کہ اس کے بعد مولانا کتابیں ڈھونڈ ڈھونڈ کرپڑھاکرتاتھا ۔1941ء میں جماعت اسلامی قائم ہوئی اور 1944ء تک آپ اس جماعت سے مکمل تعارف حاصل کرچکے تھے۔آپ نے 1950ء میں جماعت اسلامی کراچی میں رکن کی حیثیت سے شمولیت اختیارکی۔یہ جماعت اسلامی کا شعبہ نوجوانان تھا۔اپنی خداداصلاحیتوں کی بدولت آپ نے جماعت اسلامی میں بہت جلد اعلی مقام حاصل کرلیا۔جماعت اسلامی کے بانی امیرمولاناموددیؒ کے آپ کے ساتھ بہت برادرانہ ودوستانہ تعلقات رہے،ان سے پہلی ملاقات لاہورمیں ہوئی۔کراچی میں مولانا مودودی ؒ کا قیام آپ ہی گھرمیں ہواکرتاتھا۔تنظیمی و سیاسی معاملات میں پروفیسرغفوراحمد کا مشورہ جماعت اسلامی اسلامی کے لیے قندیل راہبانی کی حیثیت رکھاکرتاتھا۔کراچی سمیت کل ملکی منصوبہ بندی میں جماعت اسلامی کی راہنمائی فرمایاکرتے تھے۔کراچی سے باہر جب دوسرے شہروں کادورہ کرتے تو جماعت اسلامی کے کارکنان سمیت عوام کاایک جم غفیر آپ کے دائیں بائیں متحرک ہواکرتاتھا۔ایک طویل عرصے تک سندھ کی مجلس عاملہ اور پاکستان کی مرکزی مجلس شوری کے رکن رہے۔تین سال تک جماعت اسلامی کراچی کے امیر بھی رہے بعد میں انہیں کل پاکستان کانائب امیر بنالیاگیا۔

1958ء میںآپ کراچی کے مقامی بلدیاتی انتخابات میں عوام کی تائید سے رکن بلدیہ منتخب ہوئے۔بہترین کارکردگی کی بنیادوں پر کراچی کی باشعورعوام نے آپ کو 1970اور 1977کے عام انتخابات میں پاکستان کی قومی اسمبلی کارکن بھی منتخب کیا۔1973ء کے پاکستانی آئین کی منظوری پر آپ کے ہاتھوں سے کیے ہوئے دستخط بھی موجود ہیں۔پاکستان کے دولخت ہونے پرپارلیمان کے اندراور پارلیمان کے باہر بھی آپ کاکردار سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہے۔اس وقت پوری پاکستانی قوم ایک بہت بڑے سانحے سے دوچارہوچکی تھی اور پروفیسرغفوراحمدان چند راہنماؤں میں سے تھے جنہوں نے اس کڑے وقت میں قوم کو حوصلہ دیا۔اس وقت تک آپ صرف جماعت اسلامی کے راہنماؤں میں شمارہوتے تھے لیکن 28جنوری1973کو انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن پر ایک مایہ ناز انٹرویودیا،اس کے بعد سے پاکستان کے سیاسی حلقوں میں ان کی پزیرائی میں بے حد اضافہ ہوگیااور عوام کی عدالت میں ان کو بے پناہ قدرومنزلت اورقبول عام حاصل ہوا جس کے نتیجے میں انہیں پورے ملک میں ایک سیاسی جماعت کی بجائے قومی راہنماکامقام حاصل ہوگیا۔

دوسری بار یعنی1977ء کے انتخابات میں آپ نے ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘کے مشترکہ اتحادسے کامیابی حاصل کی تھی۔اس سیاسی اتحاد نے جب تحریک چلائی تو 1977ء تا1978ء تک اس اتحاد کے سیکریڑی جنرل بھی رہے،اور اس وقت کی تحریک نظام مصطفی کے روح رواں رہے۔بعد میں جب اس اتحادنے وقت کے حکمرانوں سے مزاکرات کافیصلہ کیاتو مزاکراتی ٹیم کااہم حصہ ہونے کے ناطے پوری قوم کی نظریں آپ پر جمی رہتی تھیں۔1978تا1979 وفاقی وزارت صنعت وپیداوارکاقلمدان بھی آپ کے پاس رہا۔’’اسلامی جمہوری اتحاد‘‘کاسیکریٹری جنرل رہناآپ کی اتحادی سیاست کاآخری سنگ میل ثابت ہوا ۔جب آپ کی سیاسی جماعت اس اتحاد سے الگ ہوئی تواس وقت آپ اپنی سیاسی جماعت،جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر تھے۔یہی منصب تاحیات آپ کے پاس رہا۔2002تا2005پاکستان کے ایوان بالا کے رکن بھی رہے۔آخری عمر میں کراچی کے حالات پر سخت پریشان رہتے تھے۔کراچی کاغم ہی آپ کی وفات کاباعث بنااور کم و بیش پچاسی برس کی عمر میں دس دن ہسپتا ل میں گزارنے کے بعد 26دسمبر2012ء کو خالق حقیقی سے جاملے۔

پروفیسرغفوراحمد نے بانی جماعت اسلامی مولانا مودودی ؒ کے شانہ بشانہ کام کیا۔پھر میاں طفیل محمدکی قیادت آئی تو بھی جماعت اسلامی کی مرکزی قیادت میں آپ کاشمارہوتاتھا۔قاضی حسین احمد آپ سے چھوٹے تھے لیکن جب وہ امیر جماعت اسلامی منتخب ہوئے توپروفیسرغفوراحمدان کے ساتھ بھی بطورنائب امیر کے کام کرتے رہے۔جب ان کاانتقال ہواتو سید منور حسن امیرجماعت اسلامی پاکستان تھے۔پاکستان کی دیگرسیاسی جماعتوں میں ایسانہیں ہواکرتا،یہ پروفیسرغفوراحمدکی سادگی اور اطاعت نظم کی عمدہ مثال ہے کہ انہوں نے چھوٹوں کی قیادت کوتسلیم کیااور کوئی الگ سے گروہ بندی نہیں کی۔گزشتہ صدی میں اسی(۸۰) کی دہائی کے اواخر میں ملتان تشریف لائے تو راقم الحروف نے بھی ان سے شرف ملاقات حاصل کیا،لیکن یہ زمانہ طالب علمی تھااور ملاقات صرف علیک سلیک اور ان کے خطاب کی سماعت تک محدود رہی ۔البتہ ایک نماز کی ادائگی کے لیے ان کی معیت میں مسجد جانایادہے،جب گنتی کے چندافرادہی ہمراہ تھے۔ جماعت اسلامی ملتان کے بزرگوں سے ان کی تفصیلی ملاقات کے مناظر اب بھی اس یادداشت میں محفوظ ہیں۔

انتہائی سادہ طبیعت،پروقار شخصیت اور بااصول کردارپروفیسرغفوراحمدکی زندگی کاخاصہ رہاہے۔انہیں اسمبلی سے اٹھاکر باہر سڑک پر پھینکاگیا،قیدوبندکی صعوبتیں ان کے راستے میں آئیں،انتخابات میں ناکامیوں کاایک تسلسل جوان کی جماعت کامقدربنارہااورعمربھرکی سیاست سے صرف نیک نامی کی کمائی ،ان سب کے باوجود ثابت قدمی سے اقامت دین کی جدوجہدمیں جتے رہنااور اپنی تمام کاوشوں کا بدلہ صرف اپنے رب سے ہی چاہناوہ خواص ہیں جو ایک دینی جماعت کی نسبت سے پروفیسرغفوراحمدکو میسر آئے۔پاکستان کی کون سی سیاسی جماعت ہے جس کے راہنماکے اجدادیااولادسے قوم واقف نہیں ہے؟؟؟لیکن پروفیسرغفوراحمدکی شخصیت کے علاوہ سب کچھ پردہ اخفامیں ہی ہے۔یہ ایک حقیقی راہنماکی نشانی ہے کہ اس کاسب کچھ اس کی قوم کے لیے ہی ہوتاہے ،حتی کہ اس کے مناصب ومقامات بھی اس کے بعد اہل تر لوگوں کے حصے میں آتے ہیں بجائے اقرباوخواص کے۔یہ لوگ ہیں جن کے لیے ان کے رب کے سچے وعدے موجود ہیں وہ لوگوں سے اپنے کیے کابدلہ نہیں مانگتے اور نہ ہی اپنی خدمات کاکوئی صلہ چاہتے ہیں بلکہ ان کا بدلہ ان کے رب کے ہاں محفوظ ہوتاہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
3698

تعلیمات مسیح ابن مریم علیہماالسلام…….. ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on

(25دسمبر،کرسمس کے موقع پر مسیحی برادری کے لیے خصوصی تحریر )

ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com
’’مسلمان ہوں،یہودی ہوں،مسیحی ہوں یاصابی ہوں جوکوئی بھی اﷲ تعالی پر اور قیامت کے دن پر ایمان لائے اورنیک عمل کرے ان کے اجر انکے رب کے پاس محفوظ ہیں اور ان پر نہ تو کوئی خوف ہے اور نہ ہی کوئی اداسی وغم‘‘۔قرآن مجیدکی سورہ بقرہ کی اس باسٹھ نمبر آیت میں اﷲ تعالی نے یہ واضع کیا ہے کہ اﷲ تعالی کی رحمت پر کسی مذہب والوں کی ٹھیکیداری نہیں ،کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والااگر اپنا عقیدہ و عمل درست کر لے تو اس کے لیے اﷲ تعالی کی رحمت کے دروازے کھلے ہیں۔اورظاہرہے کہ عقیدہ و عمل کی درستگی صرف انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات سے ہی ممکن ہے۔
حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں اﷲ تعالی کے آخری نبی تھے۔انکی نانی اماں حضرت حنہ بنت فاقود جوحضرت عمران کی زوجہ محترمہ تھیں قرآن مجید نے سورۃ آل عمران میں انکا تفصیلی ذکر کیا ہے۔انکے ہاں اولاد نہیں تھی،اس بزرگ خاتون نے منت مانی کی اگر ان کے ہاں بچہ ہوا تو وہ اسے ساری عمر کے لیے بیت المقدس میں اعتکاف بٹھا دیں گی۔بنی اسرائیل کی شریعت میں یہ عمل جائز تھا جبکہ شریعت محمدی ﷺ میں اسکی اجازت نہیں اور یہ عمل منسوخ ہوگیاہے۔عموماََاس طرح کی منت کے بعد بیٹا پیدا ہوا کرتا تھا لیکن حضرت عمران کے ہاں بیٹی پیداہوگئی۔انہوں نے اسکا نام مریم رکھا اور بڑی ہونے پر بیت المقدس کے ایک کونے میں اعتکاف کے لیے بٹھادیا۔بیت المقدس میں مرد لوگ ہی اعتکاف کیا کرتے تھے اور جب ایک خاتون بھی وہاں اسی مقصد کے لیے داخل ہوگئیں تو متولیوں کے درمیان کرہ اندازی ہوئی کہ کون اس نوواردخاتون کی سرپرستی کرے گا۔کرہ فال حضرت زکریاعلیہ السلام کے نام نکلا جواﷲ تعالی کے برگزیدہ نبی ہونے کے علاوہ حضرت مریم علیہا السلام کے رشتہ میں خالو بھی لگتے تھے۔یہ صبح شام بی بی پاک مریم علیہا السلام کے پاس آتے اور انکی جملہ ضروریات پوری کرتے اور دیکھتے کہ انکے پاس بے موسمے پھل دھرے ہیں۔استفسارپروہ بتاتیں کہ اﷲ تعالی انہیں کھلاتا پلاتا ہے ۔حضرت زکریاعلیہ السلام کے ہاں اولاد نہیں تھی،انہوں نے دعا کی کہ اگر اس بیٹی کو بے موسمے پھل مل سکتے ہیں تو مجھے بھی تو اس پیرانہ سالی میں بے موسمی اولاد مل سکتی ہے۔چنانچہ اﷲ تعالی نے انہیں حضرت زکریا علیہ السلام جیسا بیٹا عطا کیا۔
حضرت مریم علیہا السلام کوحضرت جبریل مریم علیہ السلام نے خوشخبری دی کہ انکے ہاں ایک بیٹا ہوگا،بی بی پاک مریم علیہا السلام نے پوچھا ایسا کیونکر ہو سکتا ہے جبکہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا بھی نہیں،حضرت جبریل علیہ السلام نے جواب دیا کہ اﷲ تعالی جیسا چاہتا ہے ویسا ہی کرتا ہے۔بچے کی پیدائش کے لیے بی بی پاک مریم ساتھ کے گاؤں سدھارگئیں۔اس گاؤں کانام ’’ناصرہ‘‘تھاجہاں حضرت عیسی علیہ اسلام پیدا ہوئے۔بائبل مقدس نے اسی گاؤں کی نسبت سے حضرت عیسی کو یسوع ناصری کہا ہے اور قرآن مجید نے بھی اسی گاؤں کی نسبت سے مسیحیوں کونصاری کہاہے۔حضرت عیسی علیہ السلام کی پیدائش کے وقت بھی حضرت جبریل علیہ السلام تشریف لائے اور بی بی کے سر کی طرف زمین پراپناپر مارا جس سے صحت بخش پانی کا ایک چشمہ پھوٹ نکلاجسے بی بی پاک نے نوش جان فرمایا اور ساتھ ہی حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ اس درخت کو ہلائیے،کھجور کے درخت سے کھجوریں ٹپکیں تو زچگی وقت بی بی پاک نے وہ کھجوریں بھی تناول فرمائیں۔بی بی پاک مریم علیہا السلام نے پوچھا کہ کہ میں اپنی قوم کو کیا جواب دوں گی کہ یہ کس کا بچہ ہے؟حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ اشارے سے کہنا کہ میں چپ کے روزے سے ہوں اور یہ بچہ جواب دے گا۔بی بی نے پوچھایہ بچہ کیا بولے گا؟حضرت جبریل علیہ السلام نے پھر پہلے والا جواب دیا کہ اﷲ تعالی جیسا چاہتا ویسا ہی کرتا ہے۔
بی بی پاک مریم علیہا السلام جب بچہ اٹھائے بیت المقدس پہنچیں تولوگوں نے کہا بی بی آپ تو نبیوں کے خاندان سے ہویہ کیاپاپ کر آئی ہو؟انہوں نے اشارے سے کہا کہ میں چپ کے روزے سے ہوں اور یہ بچہ جواب دے گا۔لوگ جیسے ہی بچے کی طرف متوجہ ہوئے تو پنگھوڑے میں موجود حضرت عیسی علیہ السلام بول اٹھے’’میں اﷲ کا بندہ ہوں،اس نے مجھے کتاب عطا فرمائی اور مجھے اپنا پیغمبر بنایاہے،اور اس نے مجھے بابرکت کیا ہے جہاں بھی میں ہوں،اور اس نے مجھے نماز اور زکوۃ کا حکم دیا ہے جب تک بھی میں زندہ رہوں ،اور اس نے مجھے اپنی والدہ کا خدمت گاربنایا ہے اورمجھے سرکش و بدبخت نہیں کیااور مجھ پر میری پیدائش کے دن اور میری موت کے دن اور جس دن کہ میں دوبارہ زندہ کیا جاؤں ،سلام ہی سلام ہے’’۔قرآن مجید نے ان کا یہ قول سورۃ مریم کی آیا ت30تا 33میں بیان کیا ہے۔توحید کا درس حضرت عیسی علیہ السلام سمیت سب انبیاء کا اولین درس ہے۔سب آسمانی کتب کابھی سب سے پہلا سبق توحید کا ہی سبق ہے۔قرآن نے بھی اہل کتاب سے یہی کہا کہ آؤ ایک ایسی بات کی طرف جوہمارے اور تمہارے درمیان مشترک ہے کہ ہم اﷲ تعالی کے سوا کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔کسی کو اﷲ تعالی کا ساجھی قرار دینا،اسکا ہم سرقراردینا،اس جیسا قرار دینا یا اسکی ذات کا حصہ یا اسکے اختیارات میں برابر کاقرار دینا،یا کسی کے بارے میں سمجھنا کہ وہ اﷲ تعالی پر کوئی دباؤ یا زبردستی استعمال کر سکتا ہے سب توحید کے برخلاف ہے اور شرک میں داخل ہے۔اﷲ تعالی نے کسی کواپنا بیٹا قرار نہیں دیا کیونکہ بیٹا کمزوری ہوتا ہے اور اﷲ تعالی ہر کمزوری سے پاک ہے۔اور یہی عقیدہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کابھی تھا۔
انجیل مقدس آج بھی شرک سے پاک ہے۔ انجیل کے علاوہ بائبل میں جو انسانی کلام ہے اس میں لوگوں کی طرف سے حضرت عیسی علیہ السلام کے بارے میں وہ کچھ کہا گیا ہے جو تعلیمات انبیاء علیھم السلام کے بالکل خلاف ہے۔پوری بائبل میں حضرت عیسی علیہ السلام نے کہیں بھی خود کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں کہا۔ہر نبی نے توحید کی تعلیم دی،ایک وقت تھا جب لوگ سونے چاندی اور پتھروں کے بنے ہوئے بتوں کی پوجا کرتے تھے وقت کے ساتھ ساتھ انسان نے نئے نئے خدا تراش لیے ہیں دولت،دنیا،اولاد،شہرت،مذہب،اقتدار،پیٹ کی خواہش اور پیٹ سے نیچے کی خواہش،رنگ،نسل،علاقہ اور نہ جانے کتنے کتنے خدا ہیں جو ایک ایک انسان کے سینے میں براجمان ہیں اور دن رات وہ انکی پوجا میں مصروف ہے،حضرت عیسی علیہ السلام سمیت سب انبیا کی یہ تعلیمات ہیں کہ صرف ایک خدا کا پجاری ہی نجات کا مستحق قرار پائے گا۔پچیس سال کی عمر میں حضرت عیسی علیہ السلام پرنزول وحی کا آغاز ہوا اور انجیل جیسی شاندار کتاب ان پر نازل کی گئی۔آپ علیہ السلام کو بہت سے معجزے بھی عطا کیے گئے۔آپ مردے کو اﷲ تعالی کے حکم سے زندہ کر دیتے تھے۔روایات میں لکھا ہے کہ آپ علیہ السلام کے معجزے کے نتیجے میں حضرت نوح علیہ السلام کابیٹا بھی زندہ ہوا،اسے فوت ہوئے اگرچہ ہزاروں سال بیت چکے تھے لیکن اس نے کہا کہ موت کی کڑواہٹ ابھی بھی میرے حلق میں موجود ہے۔آپ علیہ السلام کوڑھ کے مریض پر ہاتھ پھیرتے جاتے ،جہاں جہاں سے یہ مقدس ہاتھ گزرتا وہاں وہاں سے مریض کی جلد ایسے ہوجاتی کہ جیسے کوڑھ جیسا موذی مرض کبھی تھا ہی نہیں ۔پیدائشی اندھے کی آنکھوں پر اپنا دست مبارک پھیرتے تو اﷲ تعالی کے حکم سے اسے بینائی جیسی نعمت مل جاتی۔حضرت عیسی علیہ السلام مٹی سے پرندے بناتے اور ان میں پھونک مارتے تو وہ اﷲ تعالی کے حکم سے زندہ ہوکر اڑنے لگتے۔لوگوں کے اسرارپر ’’مائدہ‘‘نامی دسترخوان بھی آپ علیہ السلام کے معجزے کے نتیجے میں شروع ہواجس پر بعض اوقات ہزاروں لوگ ایک وقت میں کھانا کھاتے لیکن وہ کھانا کبھی بھی ختم نہ ہوتا،جب لوگ بچابچاکر گھرلے جانے لگے تواﷲ تعالی نے ’’مائدہ‘‘ختم کردیا۔آپ علیہ السلام لوگوں کو بتادیتے کہ کیا کھاکر آئے ہیں اور گھرمیں کیاکیا غلہ رکھادھراہے۔ان سب معجزات کے ساتھ آپ علیہ السلام لوگوں کو باور کراتے کہ یہ سب کچھ اﷲ تعالی کے حکم سے ہی ہے اور اس کائنات کا اول و آخر حکمران اﷲ تعالی ہی ہے جو ہر طرح کے شرک سے پاک ہے۔
علمائے بنی اسرائیل نے اس نوجوان نبی کے خلاف اعلان بغاوت کیاکیونکہ حضرت عیسی علیہ السلام انکے گمراہ عقائد اور سیاہ اعمال پرانہیں سرزنش کرتے تھے اور اصلاح احوال کے لیے انہیں تبلیغ کرتے تھے۔قرآن مجید نے یہودیوں پر جو الزامات لگائے ہیں ان میں سرفہرست انبیاء علیھم السلام کاقتل ہے۔چنانچہ یہودیوں کے ان علماء نے حسب سابق حضرت عیسی علیہ السلام کے قتل پر اجماع کیا اور بادشاہ سے کہا ایک ڈاکوکوآزاد کردواورحضرت عیسی علیہ السلام کو پھانسی دے دی جائے۔اس وقت حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر مبارک چالیس سال تھی جب آپ کے ایک مقدس ساتھی نے آپ کی جگہ پھانسی پر چڑھنا قبول کر لیااور آپ علیہ السلام کو آسمانوں پر زندہ اٹھا لیا گیا۔لوگوں نے اس مقدس ساتھی کو حضرت عیسی سمجھ کرپھانسی دے دی۔آسمانی کتب نے خبر دی ہے کہ قیامت کے نزدیک ایک بار پھر حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں امتی کی حیثیت سے تشریف لائیں گے لیکن ان کی ذہنی عقلی اور روحانی سطح تو بہرحال ایک نبی کی ہی ہوگی،اس وقت جب زمین ظلم سے بھر چکی ہوگی۔روایات میں موجود ہے کہ وہ شریعت محمدی ﷺ نافذ کریں گے اور کم و بیش چالیس سالوں تک پوری دنیا میں حکومت کریں گے اور مدینہ منورہ میں حجرہ عائشہ رضی ﷲ عنھا کے اندر جہاں ایک قبر کی جگہ ہنوز خالی ہے اس انسان عظیم الشان کو دفنادیا جائے گاکیونکہ ہر انسان نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے اور صرف خداوندخدا ہے جوہمیشہ زندہ رہے گا اور اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
3620

افغان لڑکیوں کی بھارت میں فوجی تربیت ……….. ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on

drsajidkhakwani@gmail.com
افغانستان اور بھارت کے درمیان کوئی جغرافیائی اشتراک نہیں ہے۔افغانستان اور بھارت کے درمیان کوئی مذہبی یکسانیت بھی نہیں ہے۔افغانستان اور بھارت کی معاشرتی،لسانی ،سماجی اور سیاسی روایات میں بھی بعد الشرقین ہے۔تاریخی طورپرتوبھارت اور افغانستان کے درمیان ہمیشہ شدیدقسم کی کشمکش رہی ہے اور افغانستان سے آنے والے فاتحین نے ہندوستان کے باسیوں پر صدیوں حکومت کی ہے۔ذرامزید گہرائی میں دیکھاجائے توبت پرست ہندو مذہب کوافغانستان سے بت شکن فاتحین ہی تاراج کرتے رہے ہیں۔ماضی قریب سے ماضی بعید تک افغانستان اور ہندوستان کے درمیان کبھی ثمرآور سفارتی تعلقات بھی نہیں رہے اورافغان تہذیب اور ہندوستانی تمدن کے درمیان قدرت نے پہاڑوں کے ایسے بلندوبالا سلسلہ ہائے کوہ و دمن حائل کررکھے ہیں کہ ایک ہی خطے میں ہونے کے باوجود کبھی ان کے درمیان اشتراک حب نہیں رہا۔اس کے مقابلے میں پاکستان اور افغانستان جغرافیہ،تاریخ،تہذیب و تمدن،زبان،سماج اور مذہب سمیت نامعلوم کتنے مضبوط ترین رشتوں میں ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوئے ہیں۔لیکن حیرت ہے کہ نیٹوکی چھتری کے نیچے تاریخ میں پہلی باربھارت اور افغانستان کی حکومتوں میں گاڑھی چھننے لگی ہے۔اس قرب کی حقیقت سمجھنے میں کوئی بہت زیادہ غوروفکرکرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔اسلام دشمن افواج نے جب سے افغانستان میں پڑاؤ ڈالا ہے تب سے اسلام دشمنی کی قدر مشترک نے ہندوستانی اور افغان حکومت کو مصنوعی طورپر باہم جمع کررکھاہے۔افغانستان میں غیرملکی افواج سے خطے میں جو عدم استحکام آیاسو آیالیکن اس کے دوسرے اثرات بدجو مرتب ہوئے ان میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف بھارتی عزائم کاکھل کر سامنے آجانا بھی شامل ہے۔بھارتی عسکری اداروں نے پاکستان کامحاصرہ تنگ کرنے کے لیے افغانستان کی سرزمین کو کھل کر استعمال کرنا شروع کررکھاہے جس کی تازہ مثال افغانستان میں خواتین فوجی افسرات کودفاعی تربیت کی فراہمی ہے۔

افغانستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایسا ہو رہاہے بھارتی فوجی افسران کے ذریعے افغان فوج کی خواتین افسرات کو تربیت دلائی جارہی ہے۔ان خواتین فوجی افسرات کو بھارتی ریاست تامل ناڈوکے مرکزی شہر ’’چینائی‘‘جس کاپرانانام ’’مدراس‘‘ہے وہاں پرایک فوجی تربیتی ادارے (Officers Training Academy Chennai)میں تربیت دی جائے گی۔ افغانستان کے تمام علاقوں سے ان فوجی افسرات کاچناؤ عمل میں لایا گیاہے جس کے باعث پورے ملک کی نمائندگی ان میں موجود ہے۔ان بیس افغان فوج کی افسرات میں سے ،تین خواتین افغان فضائیہ میں سے لی گئی ہیں،کچھ خصوصی دفاعی دستوں سے تعلق رکھنے والی خواتین ہیں اورباقی خواتین افسرات کاتعلق افغان خفیہ اداروں،نیم عسکری شعبوں اور فوج کے اندر کام کرنے والے تعلیمی،طبی،قانونی اورمالیات کے صیغوں سے ہے۔ان خواتین کو جسمانی تربیت ،دفاعی داؤپیچ،مواصلاتی نظام اورقائدانہ صلاحیتوں کی تعلیم کے لیے افغانستان سے بھارت بھیجاگیاہے۔کابل میں بھارتی سفیرنے ان خواتین فوجی افسرات کودسمبر2017کے پہلے عشرے میں بھارت کے لیے روانہ کیا۔بھارت میں اب تک کم و بیش چارہزار فوجی و پولیس افسران تربیت حاصل کر چکے ہیں لیکن خواتین افسرات کی تربیت کایہ پہلاموقع ہے۔اکتوبر2017ء میں افغان صدراشرف غنی نے جب بھارت کادورہ کیاتھا تواس دوران طے ہونے والے دفاعی تعلقات کے تحت خواتین فوجی افسرات کی اس تربیت کاانتظام کیاگیاہے۔اس سے قبل طالبان کے سقوط کابل کے بعد سے دوبلین امریکی ڈالر کی خطیر رقم افغان حکومت کو دے چکاہے جس سے جنگ سے تباہ حال ڈھانچے کی تعمیر نواور دیگرترقیات کی جانی مقصودتھیں۔بھارت نے چارعدد MI-25فوجی ہیلی کاپٹربھی افغان فوج کو دیے ہیں۔

سب سے پہلا سوال تو یہ پیداہوتاہے کہ کیاافغانستان کی مقامی روایات اس کی اجازت دیتی ہیں کہ ان کی خواتین بھارتی فوجیوں کے ہاتھوں عسکری تربیت حاصل کریں؟؟؟افغانستان کی معاشرتی زندگی مکمل طورپر قبائلی نظام سے تعلق رکھتی ہے اور اس قبائلی معاشرتی نظام کا پس منظر صریحاََمذہبی بنیادوں پر قائم ہے۔کیا بھارتی فوجی افسران ان افغان خواتین فوجی افسرات کوصرف عسکری تربیت ہی فراہم کریں گے؟؟؟کیااس تعلق میں اخلاقیات کاجنازہ نہیں نکالا جائے گا؟؟؟ اس مقام پر ملکی و قومی و ملی شرم و حیاوغیرت ا وردینی حمیت کہاں چلی جائے گی۔کیاکوئی قیادت اس حد تک بھی

گرسکتی ہے کہ چند سکوں کے مفادات کی خاطر اپنی قدیم روایات کو ہی پائمال کردے؟؟؟افغان حکمرانوں کو ممکن ہے اپنے ملک میں بھی اس طرح کے دباؤ سامناہو لیکن چونکہ یہ سب کچھ نیٹوکے محافظت میں ہورہاہے اس لیے کسی بہت بڑے ردعمل کی توقع نہیں کی جاسکتی کیونکہ اس طرح کے کسی بھی رویے کودہشت گردی کانام دے کر کچل دیاجانا معمولی بات ہوگی۔اورافغانستان جیسے ملک سے آنے والی خبروں کو دنیاکا کوئی خبررساں ادارہ اپنی تحقیق و جستجو کی نوک پر نہیں لیتاکہ یہاں سب کچھ امریکہ بہادر کی نگرانی میں ہوتاہے ۔یہ تو جب تاریخ کاورق الٹاجائے گااور دبی ہوئی کہانیاں برسرعام آئیں گی تب معلوم ہوگا کہ پس پردہ کیاعزائم تھے جن کے حصول کے لیے اتنے بڑے پیمانے پر خواہرفروشی کاکھیل کھیلاگیا۔

افغانستان کے بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے فوجی روابط میں کس ملک کی دشمنی پوشیدہ ہے۔افغانستان کی سرحدیں ایران،ترکمانستان ،تاجکستان اور پاکستان سے ملتی ہیں۔ان ممالک میں سے صرف پاکستان واحد ملک ہے جس کے بارے میں افغانستان کے موجودہ حکمران شکوک و شبہات کاشکاررہتے ہیں۔دوسری جانب بھارت کے جوار میں سوائے چین کے تمام ممالک اس کے ہم نواہیں صرف پاکستان ہی ایسا ملک ہے جو بھارت کو ناکوں چنے چبواتاہے۔اس پس منظر میں یہ بات اظہرمن الشمس ہے کہ بھارت اپنی پاکستان دشمنی میں افغانستان کوشریک بنارہاہے۔پہلے مرد فوجی افسران کی تربیت اور اب خواتین افسرات کی تربیت بھارت میں کرانے سے یہی مقصد ہی کشید کیاجاسکتاہے کہ پاکستان کے خلاف زہر اگل کر ان افغانوں کو پاکستان کادشمن بنایاجاسکے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ ان افسران و افسرات کو صرف فنی تربیت ہی نہیں دی جائے گی بلکہ بھارتی فوج پاکستان کے خلاف نفرت کاٖغبار بھی ان زیرتربیت افسرات میں انڈیلے گی۔اس طرح ان افغان خواتین کو پاکستان کے خلاف ذہنی طورپر تیارکیاجائے گا۔دنیاکاکوئی اخلاق اور قانون بھارت اس بات کی اجازت نہیں دیتاکہ اس طرح اپنے بغض،کینے اور حسد کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے خلاف استعمال کرے۔اور کسی طرح کا بین الاقوامی قانون بھی بھارت اور افغانستان کو یہ حق نہیں دیتے کہ وہ باہمی دوستی کے نام پر پاکستان کے ساتھ دشمنی کی پینگیں بڑھاتے رہیں۔اگر محض عسکری تربیت ہی دینا مقصود تھی تو پاکستان کا حق شفعہ تھا کہ یہاں سے تربیت حاصل کی جاتی۔پاکستان کی فوج یقینی طورپر نہ صرف بھارتی فوج سے بلکہ دنیاکی کسی بھی فوج سے زیادہ بہتر انداز سے پیشہ ورانہ تربیت فراہم کرسکتی ہے۔بھارت کے ساتھ بڑھتے ہوئے تعلقات افغانستان کواسلامی دنیامیں تنہاکرنے کاباعث بن سکتے ہیں،اس کے مقابلے میں پاکستان سے اچھے تعلقات کے باعث افغانستان کومسلمانوں کی عالمی اسلامی برادری میں ایک باوقار مقام میسر آسکتاہے جس کے معاشی و معاشرتی فوائد سمیٹے نہیں سمٹ پائیں گے۔

بھارت اور افغانستان کے یہ تعلقات ریت کی دیوار ثابت ہوں گے کیونکہ یہ تعلقات صرف حکمرانوں کی حد تک محدودہیں اور صرف نیٹوکی حد قیام تک ہی یہ تعلقات رہ سکیں گے۔پاکستان،افغانستان اور ہندوستان کے مسلمان عوام کے درمیان اسلامی برادرانہ تعلقات پیار اور محبت کے استعاروں کے ساتھ ہمیشہ سے موجودرہے ہیں ،موجود ہیں اور موجود رہیں گے۔ان تینوں ممالک کی سرزمین سے تاج برطانیہ رسواہوکر نکلا اور جس طرح USSRیہاں آگر دنیاکی نقشوں میں گم ہوگیااور تاریخ کی کتب میں دفن ہوچکااسی طرح نیٹو سمیت امریکہ بہادربھی یہاں سے د ف ع ہوجانے والے ہیں۔پاکستان،افغانستان اور ہندوستان نے یہیں رہناہے۔اس لیے تینوں ملکوں کے لیے بہتر ہے کہ غیروں کے اشاروں پر لڑنے کی بجائے آپس میں پیارومحبت کو پروان چڑھائیں۔دنیاکی قومیں دو بڑی بڑی عالمی جنگیں لڑچکنے کے بعد بھی اپنے عوام کی فلاح و بہبود کی خاطر آج پھر شیروشکر ہیں۔یہ تینوں ممالک تو اپنے شاندار ماضی کی بدولت ایک دوسرے کی الفتوں کی مقروض ریاستیں ہیں۔بھارت اپنے وجود میں جتنابڑاہے اپنے ظرف میں اس سے بھی کہیں چھوٹاثابت ہوا ہے۔مسلمانوں نے یہاں ایک ہزاربرس کامیاب حکومت کی ہے ،مسلمانوں کی حکومت کے گن آج بھی ہندو کے لب پر جاری ہیں۔پاکستان اسی مسلمان دور اقتدارکی وارث مملکت ہے۔افغانستان اور بھارت کو چاہیے کہ پاکستان کی بالادستی کو قبول کرلیں اور یہ پاکستان کا حق ماضی کے ساتھ ساتھ حق جغرافیہ بھی ہے کہ پاکستان ان دونوں ملکوں کے عین درمیان میں واقع ہے۔آج اگر یہ دونوں ممالک بخوشی پاکستان کے حق حکمرانی کو قبول نہیں کریں گے تو بعد میں بامر مجبوری انہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا پڑے گا۔اس لیے کہ پاکستان دنیاکی واحد نظریاتی مملکت ہے جو عالمی نظریہ حیات کے جواز کے ساتھ وجود میں آئی ہے۔اسرائیل بھی اگرچہ نظریاتی مملکت ہے لیکن اس کے نظریے میں اس کاعلاقہ بھی شامل ہے۔پاکستان کا نظریہ عالمی و آفاقی نظریہ ہے اور پاکستان کو کل انسانوں کی عالمی قیادت کا فریضہ سرانجام دیناہے اور تاریخ کاطالب عالم اگراپنی بصیرت سے دیکھے توقدرت پاکستان کو بڑی تیزی سے اس بین الانسانی مقام قیادت و سیادت کی طرف لارہی ہے،انشااﷲ تعالی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
3125

بیت المقدس(یروشلم) کواسرائیلی دارالحکومت ماننے کاامریکی اقدام ….ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on

drsajidkhakwani@gmail.com
یہودیوں کاایک عرصے سے یہ خواب ہے کہ بیت المقدس کواسرائیل جیسی ناپاک ریاست کادارالحکومت بنادیاجائے۔لیکن فلسطینی مسلمانوں کا جذبہ جہاداس خواب کی تعبیر میں ہمیشہ کوہ گراں ثابت ہوا۔ پہلی جنگ عظیم دسمبر2017کے بعد انگریزوں نے فلسطین پر قبضہ کرکے یہودیوں کویہاں آبادکاری کی اجازت عام دے دی تھی۔گزشتہ دوہزارسالوں سے پوری دنیامیں بکھرے ہوئے جلاوطن یہودیوں نے اس موقع کو غنیمت سمجھااور جوق درجوق فلسطین میں وارد ہونے لگے۔دوسری جنگ عظیم کے بعدجب گورے سامراج کے اعصاب شل ہوگئے اوردنیاسنبھالنااس کے لیے ممکن نہ رہاتواس نے مشرق کی طرف سے اسلامی نشاۃ ثانیہ کے یقینی انقلاب کارواستہ روکنے کے لیے عین قلب اسلام میں صہیونیت کی آکاس بیل پیوست کردی اورنومبر1947میں فلسطین جیسی مقدس سرزمین انبیاء علیھم السلام کو دولخت کرکے بندربانٹ کے ذریعے مسلمانوں اور یہودیوں میں تقسیم کردیا۔یہودیوں نے آؤدیکھانہ تاؤ14مئی 1948کوبلامزیدتاخیرکے اسرائیلی ریاست کے قیام کااعلان کردیا۔مسلمانوں کے جذبہ جہادنے انگڑائی لی اور پہلی عرب اسرائیل جنگ چھڑ گئی۔مسلمانوں نے اگرچہ میدان مارنے کی جان توڑ کوشش کی لیکن غلامی زدہ عرب شیوخ کی قیادت نے مات کھائی اور78%فلسطینی علاقہ اسرائیل کے قبضے میں چلاگیالیکن پھربھی بیت المقدس جیسامحترم شہراردن کے قبضے میں ہی رہا۔جون1967ء کی اگلی عرب اسرائیل جنگ میں یہ مقدس شہر بھی سیکولرعرب حکمرانوں کے نیشنل ازم اور کی بھینٹ چڑھ گیا۔

 

اس وقت بیت المقدس کامسئلہ عرب اسرائیل مسائل میں سرفہرست ہے۔تمام عالمی قوانین،قراردادیں اوربین الاقوامی برادری کامتفقہ فیصلہ ہے کہ بیت المقدس کاشہر فلسطین کی ریاست کا ہی لازمی حصہ ہے اور اسرائیل کوکوئی حق نہیں کہ اس شہر کواپنی ریاست میں ضم کردے۔اسرائیل نے انتہائی بے شرمی اور ہٹ دھرمی کاثبوت دیتے ہوئے 1980ء میں ’’اسرائیلی قانون یروشم‘‘کے نام سے ایک قانون مرتب کیاجس کے تحت بیت المقدس کوبلاشرکت غیرے مملکت اسرائیل کادارالحکومت مقررکردیاگیا ۔اورتمام عالمی قوانین کے عین برخلاف اوربزورقوت اسرائیل نے اپنے تمام وفاقی دفاتر تل ابیب سے بیت المقدس میں منتقل کردینے کافیصلہ کرلیا ۔چنانچہ اسرائیل نے تمام عالمی و بین الاقوامی دباؤ کو پاؤں کی ٹھوکرپررکھتے ہوئے اسرائیلی پارلیمان،ایوان وزیراظم،ایوان صدر اور عدالت عظمی کے دفاتر دھونس اوردھاندلی سے بیت المقدس میں منتقل کردیے ہوئے ہیں۔اسرائیل نے صرف اسی پرہی بس نہیں کیابلکہ قومی نوعیت کے انتہائی اہم غیرسرکاری ادارے بھی بیت المقدس میں بھیج دیے گئے ہیں جن میں ’’عبرانی یونیورسٹی‘‘،’’اسرائیلی عجائب گھر‘‘اور ’’قومی کتب خانہ‘‘جیسے ادارے بھی شامل ہیں۔لیکن پوری دنیاکے کسی ملک نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم نہیں کیا،یہی وجہ ہے کہ بیت المقدس میں کسی ملک کاسفارت خانہ نہیں ہے اور تمام سفارت خانے ہنوز تل ابیب میں ہی قائم ہیں۔پوری دنیامیں اس بات پراتفاق پایاجاتاہے کہ اسرائیل نے بیت المقدس پر ناجائز قبضہ جمارکھاہے حالانکہ اسرائیل نے پورے فلسطین پر ہی ناجائز قبضہ کررکھاہے۔گھرکاایک حصہ کرائے پراٹھادیاجائے اور کچھ عرصہ بعد کرایہ دار مالک بن بیٹھے اور مالک مکان کو جوتے لگاکرباہرنکالناچاہے تودنیاکاکوئی قانون اس کی اجازت نہیں دیتا۔لیکن بہرحال بیت المقدس کی حد تک توتمام عالم یک زبان ہے کہ یہ شہر بالاتفاق ریاست فلسطین کاحصہ ہے اور اسرائیل کی حکومت کے کہنے کے باوجود کسی ملک نے اپناسفارت خانہ بیت المقدس منتقل نہیں کیا۔

 

بدھ 6دسمبر2017کوامریکی حکومت کے اعلی عہدیداروں نے کہاہے کہ امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرلینے کافیصلہ کرلیاہے۔جس کے بعد تل ابیب میں امریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں منتقل کردیاجائے گا۔ اس کے چندگھنٹوں بعد ہی امریکی صدر نے اپنے اس فیصلے کااعلان بھی کردیا۔اس طرح دنیاکی واحدسپرپاورکی طرف سے بیت المقدس کے اسرائیلی وفاقی دارالحکومت ہونے کی حیثیت مصدقہ ہوجائے گی۔امریکی اعلی عہدیداروں نے یہ بھی کہاکہ امریکی صدر بیت المقدس پر اسرئیلی قبضہ کواوراس شہرکواسرائیلی داراحکومت کے طورپرتسلیم کرتے ہیں۔ان عہدیداروں کے مطابق جلدیابدیرجیسے ہی امریکی وزارت خزانہ نے رقومات فراہم کیں اوربیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کی تعمیرمکمل ہوئی توتمام دفاتر منتقل کردیے جائیں گے۔ان میں سے ایک عہدیدارنے کہاکہ امریکی صدر کے مطابق اگرچہ یہ ایک حساس مسئلہ ہے لیکن پھربھی بیت المقدس کے اسرائیلی دارالحکومت ہونے کی حیثیت سے انکارکر کے مسائل حل نہیں کیے جاسکتے ۔1995ء میں بھی امریکی کانگریس نے ملکی سفارت خانہ تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے کی منظوری دے دی تھی لیکن اس وقت کے امریکی صدر نے قومی سلامتی کے پیش نظر اس منصوبے کو چھ ماہ تک موخر کرنے کاحکم صادر کردیاتھا۔اگرامریکی سفارت خانہ بیت المقدس میں قائم ہواتوامریکہ دنیاکاپہلا ملک ہوگا،کیونکہ اب تک کسی ایک ملک کابھی سفارت خانہ یہاں قائم نہیں کیاگیا۔امریکی حکومت کے ان ارادوں سے امریکہ کہ اسلام دشمنی اظہرمن الشمس ہوگئی ہے،اگرچہ امریکی حکمرانوں کامسلمان دشمن رویہ پہلے بھی کوئی ڈھکاچھپانہیں تھالیکن اب توکم از کم ان حکمرانوں کو بھی دوست اوردشمن کی تمیزسمجھ آجانی چاہیے جو ہرآن امریکہ پر صدقے واری جاتے ہیں۔امریکی صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہاہے کہ اس طرح وہ اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان امن قائم کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔اس سادگی پہ کون نہ مرجائے اے خدا،مسلمانوں کی کمر میں چھراگھونپ کر امریکہ بہادر فریقین کو راضی کر کے امن قائم کرنے کادعوی کرتاہے۔ایک عام دیکھنے والا بھی بخوبی اندازہ لگاسکتاہے کہ بیت المقدس کو دارالحکومت تسلیم کرنے کااقدام خود امریکہ کے ان تمام منصوبوں اور اقدامات پر پانی پھیردے گاجواب تک اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان ہو چکے ہیں یازورزبردستی سے کرائے جاچکے ہیں۔دوسرے لفظوں میں امریکہ نے اسرائیل کے ساتھ نادان دوستی کاکرداراداکیاہے اوراس طرح اسرائیل دنیابھرمیں مزید تنہائی کاشکار ہوکررہ جائے گا۔اسرائیل فلسطین امن معاہدوں کے بعد اسرائیل کے خلاف نفرتوں پر اگر کچھ گرد بیٹھ چکی تھی تو بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت مان لینے سے وہ نفرتیں پھرتازہ ہوجائیں گی اورساری دنیاکی طرف سے اسرائیل پرایک بار پھر تندوتیز تنقید کے نشتر چلنے لگیں گے۔

 

امریکی حکومت کے اس اعلان پرفلسطینی مسلمانوں کافوری ردعمل سامنے آیااورالجزیرہ ٹی وی کے مطابق غزہ کی پٹی میں ہزاروں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے اورانہوں نے اس متوقع امریکی فیصلے کے خلاف شدیدنعرے بازی کی۔فلسطینی قیادت نے اس بارے میں تین روزہ احتجاج کااعلان بھی کر دیاہے۔فلسطینی قائد جناب اسمئیل ہانیہ نے امریکی فیصلے کومسترد کردیاہے اور اسے کھلا تضاد قراردیاہے،انہوں نے آئیندہ جمعۃ المبارک کو یوم مذمت منانے کابھی اعلان کیاہے۔اردن کے شاہ عبداﷲنے کہاہے اس امریکی فیصلے سے خطے کے امن کو شدید نقصان کااندیشہ ہے۔شاہ عبداﷲنے یہ بھی کہاکہ اس فیصلے سے عرب اسرائیل امن منصوبے کوبھی نقصان پہنچے گا۔اردن کے شاہ عبداﷲنے فلسطینی صدرمحمودعباس سے بھی ٹیلی فون پر بات کی ہے اور مل کر اس معاملے سے نبردآزماہونے کاکہاہے۔سعودی عرب جیساملک بھی اس معاملے میں امریکہ کے خلاف ہے اور سعودی حکومت نے کہاہے کہ یہ فیصلہ غیرمنصفانہ اور غیرذمہ دارانہ ہے۔ایران،چین اور ترکی نے بھی اس اقدام کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ترکی کے وزیراعظم طیب اردغان نے کہاہے امریکہ نے خطے کوایک بار پھر جنگ کی بھٹی میں دھکیل دیاہے۔برطانوی وزیراعظم نے بھی اس امریکی اقدام سے اتفاق نہیں کیااورفرانس کے صدراور جرمن چانسلرنے بھی کہاہے ان کے ممالک اس امریکی اقدام کی حمایت نہیں کرتے۔اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے اس فیصلے کو عظیم سانحہ قراردے دیاہے۔امریکہ کے اس فیصلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کااجلاس جمعہ کو متوقع ہے جب کہ عرب یونین ہفتہ کو اپنی بیٹھک کرنے کاسوچ رہی ہے۔

 

شایدامریکہ کو اسرائیل کے تاریخی مدت زوال میں تاخیر برداشت نہیں ہے۔اسی لیے امریکی قیادت نے بہت دیرسے اسرائیلی انجام دیکھنے کی بجائے اسے وقت میں جلدی کے پیمانوں سے دیکھناچاہاہے۔بیت المقدس کے ساتھ مسلمانوں سمیت مسیحیوں کی مذہبی وابستگی اظہرمن الشمس ہے۔اس مقدس سرزمین کے بارے میں یہودیوں کے عزائم کھل کرسامنے آچکے ہیں۔ہیکل سلیمانی کی تعمیرجدیدکے بہانے یہودی بیت المقدس کی اینٹ سے اینٹ بجانے پر تلے ہوئے ہیں۔ان کابس نہیں چلتاکہ حضرت عیسی علیہ السلام اور دوراسلامی کی تمام باقیات کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں۔یہودی جس طرح امت مسلمہ کے دشمن ہیں اسی طرح کل انسانیت بھی ان کے شراورفسادسے محفوظ نہیں ہے۔اسرائیل کے قیام کے لیے دوناگزیرعالمی جنگیں کرانے والی تحریک صہیونیت نے اس زمین کوظلم سے بھردیاہواہے۔چنانچہ امریکہ نے بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کر کے عالمی مذہنی وسیاسی تناؤکی سیٹی بجادی ہے۔ابھی تک بھی اسرائیل کو خس و خاشاک کی طرح بہالے جانے والے طوفان کو بہت زیادہ مصنوعی سہاروں نے روک رکھاتھا۔اب کی بارجو آندھی چلے گی تویقینی طورپروہ ان مصنوعی سہاروں کو ساتھ بہالے جائے گی ۔اوراسرائیل کے بعد کامشرق وسطی بلاشبہ اسلامی قرون اولی کی تاریخ تازہ کردینے والا ایمان افروزاجالاہوگاجس کے سایہ عاطفت میں کل انسانیت امن و سکون کاسانس لے گی،انشااﷲتعالی۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
2888

انسانی تہذیب و تمدن میں عورتوں کا کردار …………….. ڈاکٹر ساجدخاکوانی

Posted on

(25نومبر،خواتین پرزیادتی کے خلاف عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)

drsajidkhakwani@gmail.com
مرد جب مردانیت میں اپنی حدود پھلانگتاچلاجائے اور عورت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاکراسے ظلم و تعدی کا شکار بنادے،اسے اس کے حقوق سے محروم کرتے ہوئے اس کے ساتھ ناجائزرویہ روارکھے،اسکے ساتھ وہ سلوک کرے کہ جس کی اجازت اسے کسی نے نہ دی ہو،مذہب،معاشرت،قانون اور اخلاقیات سب کی دھجیاں بکھیر دی جائیں اورعورت کو اپنی دست درازیوں کا نشانہ بنایاجانے لگے،اور پھر کوئی اس مرد کا ہاتھ روکنے والا بھی نہ ہو اور نہ ہی کوئی چوکھٹ عورت کی آہ و بکا کی شنوائی کے لیے مہیاہوتو ایسے میں عورت کی حیثیت اور جانور کی حیثیت کی بھلا کیا فرق رہ جائے گا؟؟؟وقت کے ساتھ ساتھ عورت پر تشدد کے طریقوں نے بھی نت نئے روپ تلاش کرلیے ہیں۔گھرمیں عورتوں سے عورتوں کاکام لینااور بازارمیں عورتوں سے مردوں کاکام لینا،گھرمیں عورتوں سے بچوں کی پرورش کروانا اور دفتروں میں دولت کی پرورش کے لیے عورتوں کااستحصال کرنااورگھرمیں سسرال اورمیکے کی سیاست میں عورتوں کومرکزومحوربنانااور اقتدارکے ایوانوں کے لیے گلی محلے کی سیاست میں عورتوں کی نسوانیت کوبالوں سے پکڑکرمٹی پرگھسیٹنااوران کی عزت و عصمت کو میڈیاکے بازاربے وقارکے اندر تبصروں کے غلظ جوہڑمیںآلودگیوں سے لت پت کردینادراصل عورت پرتشدداورزیادتی کی بڑی ہی بے ہودہ تصاویرہیں۔

قدرت نے مرداورعورت دونوں کے درمیان خوبصورت توازن برقرار رکھا ہے،طاقت ایک کو دی ہے توحسن وکشش دوسرے کو دے دی ہے،ایک کی گود میں اولاد رکھی ہے تو دوسرے کے ہاتھ میں رزق کی باگ دوڑ تھادی ہے،ایک کوچاہنے کی خواہش دی ہے تودوسرے کوچاہت کی مرکزیت عطا کر دی ہے اوردونوں کے درمیان ایسی کشش رکھی ہے کہ جدا ہوتے ہوئے بھی باہم ایک ہی ہوتے ہیں اگرچہ ان کے درمیان کوسوں دورکے فاصلے ہی کیوں نہ حائل ہو جائیں۔قدرت کا یہ عطا کردہ توازن جب تک معاشرے میں حقوق و فرائض کی ادائیگی صور ت میں موجود رہتا ہے انسانی معاشرہ بگاڑ سے محفوظ رہتا ہے مگر جہاں جہاں اس توازن کو چھیڑ دیا جائے وہاں انسانی معاشرہ بھی عدم استحکام کا شکار ہو جاتا ہے۔دنیا کے کتنے ہی معاشرے ہیں جہاں عورت کو اسکے اصل مقام سے ہی نہیں بلکہ اسے مقام انسانیت سے بھی نیچے گرا دیا جاتا ہے۔اسکے مقابلے میں جانور کی زیادہ قدر کی جاتی ہے بلکہ بعض مذاہب میں تو جانوروں کی پوجا تک کی جاتی ہے جبکہ عورت کو جنس بازار سے بھی کم تر اہمیت دی جاتی ہے۔ہندومعاشرہ اسکی سب سے بدترین مثال ہے جہاں عورت کو جہیز کے پیمانے میں تولا جاتا ہے ۔کتنے دکھ کی بات ہے کہ سیرت و صورت ،تعلیم و تربیت،سلیقہ و طریقہ اور اخلاق و برباری جونسوانیت کے تاریخی وحقیقی جوہر ہیں جن کاوزن عورت کی نسوانیت میں بڑھوتری کا باعث ہوتا ہے ان سب کی بجائے ہندومت میں عورت کو اس کے لائے ہوئے جہیزمیں تولا جاتا ہے ،اگرجہیز زیادہ ہو تو عورت قیمتی ہے بصورت دیگرعورت کی قبولیت کے امکانات کم سے کم تر ہیں۔ہندؤں کے ساتھ صدیوں تک رہتے ہوئے مسلمانوں کے ہاں بھی ہندؤں کے رسوم و رواج جاری رہنے لگے۔اگرچہ دوقومی نظریہ اسی تاثر سے ارتقاء پزیر ہوا کہ ہندواورمسلمان دو الگ الگ اقوام ہیں لیکن آزادی کے بعد بھی بہت سی ہندوانہ رسمیں مسلمانوں کے معاشروں میں جگہ پاتی گئیں اور اب رہی سہی کسرہندوستان سے درآمد کی گئی اس ثقافت نے پوری کردی ہے جوفلموں کے ذریعے آئی۔چنانچہ مسلمانوں کے ہاں بھی جہیز ضروری سمجھاجانے لگااور شادی کی بے پناہ رسومات اور کثرت سے تحائف کے لین دین نے شادی کو جہاں مشکل تر بنا دیاوہاں لڑکیوں کو بوجھ سمجھا جانے لگا جو یقیناََ ہندومت کے رسوم کا منطقی نتیجہ تھا۔

ان بے جا رسومات کے بہت برے اثرات معاشرے پر پڑتے گئے اوربیٹی کو بوجھ سمجھنے والوں نے بیٹی کی پیدائش پر کھل کر ناپسندیدگی کا اظہار شروع کیااور آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے لڑکی کی چھوٹی عمر سے ہی اسکا جہیز بنانا شروع کر دیاتاکہ اسے عزت کے ساتھ رخصت کیا جا سکے گویاپہلے دن سے ہی بیٹی والدین کے بجٹ پر ایک اضافی ذمہ داری بن گئی۔اس ذمہ داری کو نارواسمجھنے والے باپ اور بھائی کا رویہ بھی بیٹی اور بہن کے لیے ناقابل برداشت ہوتا گیااور جیسے جیسے شادی کا وقت قریب آتا گیاذمہ داران کے ذہنی تناؤ میں اضافہ ہوتا گیااور ایسا رشتہ تلاش کیا جانے لگا جہاں کم سے کم جہیز دینا پڑے اور ظاہر ہے ان پڑھ،جاہل،معذور،رنڈوا،پسماندہ یااسی قبیل کا ہی کوئی مرد کم جہیزپرراضی ہو سکتا ہے جس کے ساتھ عورت کو ساری عمر کے لیے باندھ کراسے جیتے جی یوں دوزخ میں ڈال دیا کہ وہ ذہنی اور نفسیاتی طور پر بھی ہمیشہ غیرمطمعن رہے،اسکے خواب چکنا چور ہوجائیں اور شوہر بھی ساری عمر اسے کم جہیزلانے کی پاداش میں جوتے کی نوک پر رکھے۔کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اسکی اولاد جسے وہ اپنے سینے کے چشموں سے سیراب کرتی ہے،اسکی گیلی کی ہوئی جگہ پر خود سوتی ہے اور اور اپنے گرم بستر پر اسے سلاتی ہے،اسکی خاطر اپنی جوانی تج دیتی ہے ۔وہی اولاد بڑی ہوکر اسے جوئے میں ہار دیتی ہے اور گھر بیٹھی ماں کسی دوسری کی ملک ہوجاتی ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو توشادی کے بعد ساس بہو کے جھگڑوں میں کتنے فیصدنوجوان ماں کی مامتا کو اسکی حقیقی روپ میں دیکھتے ہیں اور کتنے ہی ہیں جواپنی جورو کو لیے کسی نئے گھروندے میں حوا کی بیٹی پر ظلم و ستم کی ایک نئی داستان رقم کرنے کے لیے چل نکلتے ہیں۔شوہر فوت ہوجائے تو عورت کا حق زندگی ہی باقی نہیں رہتا اور’’ ہندومذہب‘‘کہتا ے کہ اسے شوہر کی چتا کے ساتھ نذرآتش کردو۔باپ فوت ہوجائے یا بیٹاہمیشہ کے لیے داغ مفارقت دے جائے یا شوہر جیسا جیون ساتھی چل بسے عورت کو کسی کے ترکے میں سے کچھ نہیں ملنے والا وہ ہمیشہ سے محروم رہی اور اب بھی محروم ہی رہے گی۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ نسوانیت کے بغیر انسانیت کی تکمیل ممکن ہی نہیں۔انسان ایک عورت کے پیٹ میں ہی اپنے آغازکی ابتدا کرتا ہے اس کی گود میں پرورش پاتاہے اس کے سینے سے سیراب ہوتا ہے اوراسی ماں کی لوریاں اسکی تعلیم کا پہلا سبق ہوتی ہیں وہی اسکی پہلی استاد ہوتی ہے اور نہ جانے قدرت والے نے اور کتنے ہی کردار اس ماں کی ذات میں جمع کر رکھے ہیں۔نسوانیت سے مستعار ماں کا یہ مقام اتنا بڑا منصب ہے کہ جنت جیسی جگہ بھی اسکے قدموں کے تلے آن ٹہرتی ہے۔اﷲ تعالی نے اپنے اقتدار کے لیے،اپنے خزانوں کے لیے،اپنی طاقت کے لیے یا اپنے غضب کے لیے کوئی مثال پیش نہیں کی ہے سوائے اس کے کہ اﷲ تعالی نے اپنی رحمت کے لیے ماں کی محبت کو مستعار لیا کہ ماں سے ستر گنا زیادہ محبت کرنے والا۔جنت سے بڑھ کر کوئی خوبصورت اور دلنشین مقام اس کائنات میں نہیں ہے۔اﷲ تعالی نے جب حضرت باباآدم علیہ السلام کو اس مقام پر جگہ عطا کی توانہوں نے بارالہ میں تنہائی کی شکایت کی جس کے بعد انہیں ایک خاتون،اماں حوا کی معیت عطا کی گئی،گویا جنت جیسی جگہ پر بھی بغیر عورت کے انسان کا دل نہ لگا۔یہ نظام قدرت ہے کہ مرد عورت کے بغیر اور عورت مرد کے بغیر نامکمل ہے،دونوں کے اختلاط سے ہی جہاں نسل انسانی کی بقا ممکن ہے وہاں تہذیب و تمدن کے ارتقاء کے کیے بھی دونوں کا اشتراک کار بے حد ضروری ہے گویا کہ مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔

عورت کی محرومیاں ہمیشہ سے سنجیدہ انسانوں کا موضوع رہی ہے اور ہر مفکروفلسفی اور موسس اخلاق نے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔قدیم یونان میں صدیوں یہ بحث چلتی رہی کہ عورت انسان بھی ہے کہ نہیں اور اس دور کی کتنی ہی کتب آج بھی اس بحث کو پیش کرتی ہیں،قدیم عرب معاشرے میں عورت کی حیثیت کسی سے ڈھکی ثھپی نہیں ہے اور ماضی قریب تک میں عورت کے دو ہی روپ سامنے آتے ہیں یا تو وہ ظلم کی چکی میں پستا ہواایک بے حقیقت دانہ ہے یا پھر اس بازار کی زینت ہے جہا ں صبح و شام گاہگ اسکی طلب میں آسودگی حوس نفس کے لیے آتے ہیں اور وہ انہیں ناچ کر دکھاتی ہے اور گا کر سناتی ہے یاپھر راتوں کو روزانہ ایک نئے مرد کا بستر گرم کر کے تو اپنے پیٹ کے لیے دو وقت کے ایندھن کا انتظام کرتی ہے۔لکھنو کے نواب ہوں یا دہلی کا دربارکلیسا و دیر ہوںیااسمبلی و پارلیمان یا دنیا بھر کے مشرق و مغرب کے مہذب و غیرمہذب معاشرے ہوں عورت کی کہانی ہر جگہ یکساں ہی رہی ہے۔

ہمیشہ کی طرح آج کی پورپی تہذیب کے انسانی عالی دماغوں نے بھی عورت کے مسانئل کا حل تلاش کیا اور پیش بھی کیا۔کم و بیش تین سو سالوں سے یورپی تہذیب نے عورت کو حقوق نسواں کے نام سے ایک آزادی دے رکھی ہے تاکہ اسکے مسائل حل ہو جائیں،لیکن یہ آزادی بھی چونکہ ’’مردوں‘‘نے ہی دی ہے اس لیے اسکی حقیقت بھی اس سے زیادہ نہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو ایک بار پھر دہرا رہی ہے۔عورت کو سرمیدان لا کر اسکی ذمہ داریوں میں کمی تو نہیں کی گئی لیکن معاش کا ایک اور بوجھ بھی اسکے کندھوں پر ضرور ڈال دیا گیا ہے۔پہلے وہ صرف شوہر کی دست نگر تھی تو اب اسے شوہر کے ساتھ ساتھ اپنے باس اور اپنے رفقائے کار کا بھی’’دل لبھانا‘‘پڑتا ہے۔اس نام نہاد جدید لیکن غیرفطری تہذیب نے عورت کی فطری ذمہ داریاں جو اسکی گود ،اسکی اولاد،اسکا خاندان اور اسکے گھر سے عبارت تھیں انکی بجائے عورت کو سیاست،دفاع،معاش اورانتظامی امور کی طرف دھکیلنے کی بھونڈی کوشش کی ہے،جس کے نتیجے میں خاندانی نظام اور اخلاقی معیارات اپنے تنزل کی انتہا کو چھو رہے ہیں۔

اس غیر فطری سلوک کا نتیجہ ہے کہ عورت سے اسکانسوانی حسن چھن گیا ہے،لفظ’’عورت ‘‘جس کا مطلب ہی چھپی ہوئی چیز ہے اسکو عریاں سے عریاں تر کیا جا رہاہے۔عورت کی اس غیرفطری آزادی سے نسلیں مشکوک ہوتی چلی جا رہی ہیں اور یورپ کے مفکرین اس بات پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں کہ انکے معاشرے سے آہستہ آہستہ باپ آشنا بچے اور باپ ناآشنا بچوں کا فرق مٹتاچلا رہا ہے۔عورت کی آزادی کا منطقی نتیجہ معاشرے کی وہ آشنائیاں ہیں جو صدیوں کے قائم کیے ہوئے تاریخی انسانی اخلاقی اقدار کو داغدار کرتی چلی جا رہی ہیں اور پھر کیا یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی ہے کہ اس غیرفطری آزادی نے جو یورپ نے عورت کو تھوک کے حساب سے فراہم کر دی ہے تقدیس کا دامن بھی کس کس طرح تار تار کر دیا ہے؟اور مقدس رشتوں کے درمیان بھی حوس نفس کس طرح در آئی ہے۔اور پھر کیا اس طرح اس معاشرے کو آسودگی حاصل ہو گئی ہے؟اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ہم جنسیت اور جانوروں تک سے تعلقات استوار کرنے والے اب اس دلدل میں اندر سے اندر دھنستے چلے جا رہے ہیں۔

عورت کی اس آزادی کے خلاف اگر چہ ہمیشہ سے ایک دبی دبی آوازاٹھتی رہی ہے لیکن اب تو عورتوں ہی کی کتنی نجی تنظیمیں خود یورپ کے اندر قائم ہو چکیں ہیں جن کے مطالبات میں سے سرفہرست یہی ہے انہیں انکی فطری ذمہ داریاں لوٹا دی جائیں اور دنیا کے کاروبارمعیشیت وسیاست وغیرہ سے انہیں سبکدوش کر دیا جائے،حال ہی میں جاپان میں عالمی مقابلہ حسن کے موقع پر جن خواتین نے اپنے فطری حقوق کی بازیابی کے لیے مظاہرہ کیا اسکی قیادت کرنے والی ہالی وڈ جیسے عالمی شہرت یافتہ فلمی ادارے کی سابق ہیروئن تھی۔
اﷲ تعالی خالق نسوانیت ہے اور خاتم النبیینﷺ محسن نسوانیت ہیں اور اﷲ تعالی کے بھیجے ہوے دین سے بڑھ کر کوئی نظام انسانوں کا خیر خواہ نہیں ہو سکتا۔اسلام نے فرائض کے مقام پرمعاشرے کے سب طبقوں کو جمع کیا ،سیکولریورپی تہذیب نے حقوق کے نام پر سب طبقوں کو باہم لڑا دیا ہے۔ایشیا کے پرامن مشرقی روایات کے حامل معاشرے میں عورتوں کے حقوق کے نام پر جنس متضاد کے درمیان ایک غیراعلانیہ جنگ اس معاشرے کو تباہ کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے۔عورتوں کے مسائل سمیت کل انسانوں کے کل مسائل کاحل صرف دین اخروی کے اندر ہی پنہاں ہے اور خطبہ حجۃ الوداع سے بڑھ کر اور کوئی دستاویزانسانوں کے حقوق کی علمبردار نہیں ہو سکتی۔عالم انسانیت کوآسودگی ،راحت ،امن و آشتی،پیارومحبت اورحقوق وفرائض کے درمیان توازن کے لیے بالآخر اسی چشمہ فیض کی طرف ہی پلٹنا ہوگاجوانبیاء کی دعوت کا خلاصہ اور اﷲ تعالی کااس دنیا میں آخری پیغام ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
2297

بچے ؛جنت کے پھول …………از:ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on

بچے ؛جنت کے پھول
(20نومبر،بچوں کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)
از:ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com

بچے جنت کا پھول ہوتے ہیں،انسانیت کا مستقبل بچوں سے وابسطہ ہے،انسانوں کاوہ طبقہ جو فطرت سے قریب تر ہے وہ بچے ہی ہیں اور بچے ہی ہیں جنہیں دیکھنا بڑوں کی آنکھوں کی ٹھنڈک کاباعث بنتاہے۔بچے،قبیلہ بنی نوع انسان کا وہ پہلو ہیں جو بہت نازک اور بہت کمزور ہونے کے ساتھ ساتھ بہت مضبوط اور بہت طاقتوربھی ہے۔بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی گھرمیں خوشیوں کاایک سماں سا بندھ جاتاہے،جہاں پہلے کوئی بچہ نہ ہواس گھرمیں بچے کی آمد گویازندگی کی آمدکاپیش خیمہ ثابت ہوتی ہے اور جہاں پہلے بھی بچے موجود ہوں وہاں کے غنچہ بہارمیں ایک اورتروتازہ پھول کااضافہ ہوجاتاہے۔میاں اور بیوی جن کی زندگی جب ایک خاص مدت کے بعد یکسانیت کاشکارہونے لگتی ہے تو خالق کائنات اپنی بے پناہ محبت و بے کنار رحمت کے باعث ان کے درمیان ایک اور ذی روح کااضافہ کردیتاہے جو ان کی حیات نواور ان کی باہمی محبتوں اورچاہتوں کی تاسیس جدیدکاباعث بن جاتاہے۔کاروان حیات آگے بڑھتاہے توایک نسل کے بالیدگی کے بعدجب اس سے اگلی نسل کی آمد کاسلسلہ شروع ہوتاہے تو دادا دادی اور نانانانی اپنے ہی لگائے ہوئے پودوں میں پھل پھول لگتے دیکھ کر پھولے نہیں سماتے ہیں اور اب جب کہ عملی زندگی کی تندوتیزلہروں نے انہیں کنارے کی طرف دھکیلناشروع کردیاہے تو اس آنے والی نسل نوکی مرکزیت انہیں زندگی کاسہارااورنوبہاردلچسپیاں مستعاردینے لگتی ہے اور اوران کے پسماندہ و جہاں رسیدہ چہرے اپنی پوتوں اور نواسوں کو گودوں میں اٹھاکرچمکنے اور دمکنے لگتے ہیں اور انہیں عمررفتہ کی شادمانیاں ایک بار پھر یاددلانے لگتے ہیں۔

بچے فطرت پر پیدا ہوتے ہیں اور فطرت انسانی کے بہترین امین ثابت ہوتے ہیں،اس لیے کہ محسن انسانیت ﷺ نے فرمایاکہ ہر بچہ دین فطرت پرپیداہوتاہے۔حق پیدائش ،بچے کے حقوق میں سے سب سے اولین حق ہے۔اس آسمان نے وہ نام نہاد ’’مفکرین‘‘بھی دیکھے جن کے فلسفوں نے بچے کو اس کے اس بنیادی ،اولین اور فطری حق،حق پیدائش ،تک سے بھی محروم کیا۔اس کے بعد بچے کاحق ہے کہ اس کا بہترین نام تجویزکیاجائے۔نام کا حسن شخصیت پر براہ راست اثر انداز ہوتاہے اور نام ہی انسان کا سب سے پہلاتعارف ہے خواہ وہ انسان خود موجود ہو یانہ ہو۔نام کی حقیقت ’’نسبت‘‘سے وابسطہ ہے ،پس بہترین نام وہی ہیں جن میں بہترین نسبت پائی جاتی ہو۔محسن انسانیت ﷺنے ’’عبداﷲ‘‘نام کو پسند فرمایاہے کیونکہ اس میں سب سے اعلی نسبت پائی جاتی ہے کہ ’’اﷲ تعالی کابندہ‘‘۔لا معنی اور بے مقصدنام رکھنے سے احترازکرنا چاہیے،اسی طرح ایسے نام جن سے بد شگونی پیداہوان سے بھی منع کیاگیاہے مثلاََ’’ایمان‘‘یا’’حیا‘‘یا’’برہ(نیکی)‘‘نام رکھنا صحیح نہیں کیونکہ اگران ناموں کے افراد گھر میں نہ ہوں تو جواب دیاجائے گا کہ ایمان نہیں ہے یا حیا نہیں ہے وغیرہ ۔عقیقہ،سرکے بالوں کے برابرچاندی کا صدقہ اور وسعت کے مطابق بہترین طعام و قیام اور تعلیم و تربیت وسیروتفریح بچوں کے کچھ مزیدحقوق ہیں ۔

محسن انسانیت ﷺ بچوں سے بے حد پیارکرتے تھے،خاص طور پر یتیم بچے ان کی توجہ کا مرکزہواکرتے تھے۔حضرت زید،جوغلام بن کرآئے تھے آپ ﷺ نے انہیں اتنی محبت دی کہ انہوں نے اپنے سگے ماں باپ کے پاس جانے سے انکارکردیا۔آپﷺ کو اپنے بچوں سے بھی بہت پیارتھا،آپ کے بڑے بیٹے کانام قاسم تھااسی نسبت سے آپ ﷺ کو ’’ابوقاسم‘‘کہاجاتاتھا۔جب حضرت قاسم فوت ہوئے توآپ ﷺ اشک بارہوگئے۔چاروں بیٹیوں سے اورخاص طور پرخاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہراسے آپ ﷺ کو از حد محبت تھی ،ان کے دونوں فرزند حسنین کریمین شفیقین آپ ﷺ کے کندھوں پر سواری کیاکرتے تھے اور جب کبھی حالت سجدہ میں یہ نواسے آپ ﷺ کی کمر مبارک پر سوار ہوجاتے تواس وقت سر نہیں اٹھاتے تھے جب تک کہ وہ دونوں خود نہ اترتے۔قرآن مجید نے حکم دیاہے ’’اپنے بچوں کو بھوک کے خوف سے قتل نہ کرو،ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور انہیں بھی دیں گے‘‘ اس کے علاوہ قرآن نے یہ بھی کہا کہ ’’اپنے آپ کو اور اپنے گھروالوں کو دوزخ کی آگ سے بچاؤ‘‘۔چنانچہ بچوں کا یہ بھی حق ہے کہ دوزخ کی جس آگ سے ایک مومن خود بچنے کااہتمام کرتاہے وہاں اپنے بچوں کو بھی اس آگ سے دور رکھنے کابالالتزام انتظام کرے اور اپنے مرنے کے بعد بچوں کی فکر کے ساتھ ساتھ بچوں کے مرنے کے بعد ان کی فکر بھی دامن گیر رہنی چاہیے۔آپﷺجب فجرکی نمازکے لیے اپنے گھرسے باہر تشریف لاتے تو حضرت علی کے حجرے کادروازہ بجاکر انہیں فجرکی نمازکے لیے بیدارکرتے اورفرماتے اے اہل بیت نماز کے لیے چلو۔

اپنے بچوں سے جانور بھی پیارکرتاہے،جنگلی درندہ بھی اپنی نسل کی بڑھوتری چاہتاہے اورعلوم معارف سے ناآشناانسانی آبادیوں سے دورزمین کی تہوں سے نیچے اور پانی کے اندھیروں میں چھپی ہوئی مخلوقات بھی اپنی نسلوں کے لیے کیسی کیسی قربانیاں دیتی ہے یہاں تک کہ بعض حشرات الارض تو ایک خول میں انڈے دے کر مرجاتے ہیں تب ان انڈوں سے نکلنے والے بچے اسی جسم مادرکوکھاکراپنے دورہ حیات کا آغاز کرتے ہیں۔لیکن حیرانی ہے اس سیکولر مغربی تہذیب پر جس نے اپنی نسل کے بچوں کو ہی اپنے اوپر بوجھ سمجھ لیا،اتنا ظالم اور اس قدر کرب ناک تجربہ تو اس سے پہلے بھی شاید کسی انسانی تہذیب نے نہیں کیاتھاکہ خود انسان پر اس کی اپنی نسل بوجھ بن کر رہ گئی ہو۔اس سیکولرمغربی تہذیب نے انسانیت کو اس درس معکوس سے آشناکیاکہ بچے انسانی وسائل پر بوجھ ہیں اور انہیں اس دنیامیں آنے سے روک دیاجائے۔ہوس نفس کی ماری اس سیکولرتہذیب نے اپنی ہی نسل کولذت نفسانی کی بھینٹ چڑھایا۔انقلاب فرانس سے شروع ہونے والا یہ تنزلی کاسفرآج تک جاری ہے اوراب تو یہ صورت حال ہے کہ یورپ کے بعض علاقے بچوں کے وجود سے بالکل خالی نظر آتے ہیں،اور ہردوچارسال یا پانچ سالوں کے بعد اکادکااسکول بند ہوجانے کی اطلاعات آتی ہیں کہ اتنے بچے ہی نہیں ہیں کہ سکول کوجاری رکھا جاسکے۔سیکنڈے نیویاکے بعض علاقوں میں بچوں کی پیدائش کی شرح اس قدر کم ترین ہے کہ کل آبادی میں چودہ فیصدسالانہ تک کی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے اور شہر کے شہر خالی ہونے لگے ہیں جبکہ دوسری طرف اوسط عمر میں مسلسل اضافے کے باعث یہ غیرفطری طرزمعاشرت کے ثمرات بد ہیں کہ ایک طرف بچوں کی پیدائش کی شرح ہوشرباحد تک کم ہے تو دوسری طرف دن بدن ریٹائرہونے والے افراد کی ایک لمبی قطاراور طویل فہرست ہے اور وہ ممالک مجبور ہیں کہ درمیان کے خلاکو پر کرنے کے لیے ایشیائی ممالک سے اپنی شہریت کے دروازے کھولیں۔ان یورپی ممالک سے جب کبھی کوئی سیاح ایشیائی ممالک کا سفر کرتے ہیں تو پھول جیسے بچوں سے بھری ہوئی گلدستے جیسی گلیوں کو دیکھ کر وہ پکاراٹھتے ہیں کہ یہ کتنی امیراقوام ہیں ۔

سیکولرمغربی تہذیب کی حامل اقوام کس منہ سے بچوں کاعالمی دن مناتی ہیں جب کہ بچوں کی سب سے بڑی استحصالی قوتیں وہ خود ہیں کہ انہوں نے اپنی گود میں لذت نفسانی سے سرشارسیکولرازم کی پرورش کرکے بچوں کو ان کی مامتاتک سے محروم کیاہے۔بڑے تو پھر بھی اپنے حقوق کی خاطر مظاہرے کرتے ہیں لیکن مامتاسے محروم ڈے کئر سنٹرزمیں نرسوں کے ہاتھوں نیندکی دوائی ملادودھ پی کر ساراسارادن سوتے رہنے والے بچے تواس قابل نہیں ہوتے کہ وہ اپنی ماؤں کے حصول کے لیے سیکولرمغربی جمہوری حقوق کے تحت کوئی مظاہرہ کرسکیں۔اس سیکولرمغربی تہذیب نے بچوں کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی اور ظلم یہ کیاہے کہ عورت کو بھی مزدوروں اورپیشہ وروں کی صف میں کھڑاکرکے خاندانی نظام کو اجاڑ پھینکاہے ۔اس خاندانی نظام کی بقامیں ہی بچوں کاتحفظ پوشیدہ تھااور اب انسانیت کے دعوے داراور انسانی حقوق کے ٹھیکیداریورپ اور امریکہ کے کارپردازگان ایشیائی و اسلامی ممالک کے بچوں کو بھی اسی استحصال کا شکار کرنا چاہتے ہیں جس کی تفصیلات آئے دن اخبارات کی زینت ہیں۔اگروہ واقعی انسانیت کے خیرخواہ ہیں تو بچوں کے عالمی دن کا تقاضا ہے کہ اپنے ملکوں میں خاندانی نظام کو ازسرنو تازہ کریں جس کاواحد اور بالکل ایک ہی راستہ ہے کہ عورت کو اس کی فطری ذمہ داریاں سونپی جائیں کیونکہ نسوانیت اور مامتا لازم و ملزوم ہیں۔

انسانی عقل کتنی ہی ترقی کرجائے وہ وحی کی تعلیمات سے آگے نہیں نکل سکتی،وحی کی تعلیمات میں ہی بچوں سمیت کل انسانیت کی فلاح پوشیدہ ہے۔نکاح وہ ادارہ ہے جس کے ثمرات صحیح النسب بچوں کی صورت میں انسانیت کو میسر آتے ہیں اور انسانی نسل آگے کو بڑھتی ہے۔ نکاح جیسے مقدس ادارے کاتحفظ خاندانی نظام سے ممکن ہے جبکہ بدکاری اور زناجیسے قبیح اعمال براہ راست نکاح جیسے محترم ادارے کو مجروح کرتے ہیں۔خاندانی نظام کی مضبوطی اور زناو بدکاری کی روک تھام کے لیے قرآن مجید نے جہاں بہت سے عائلی قوانین جاری کیے ہیں وہاں غص بصر،استیزان،حجاب اورعورت کو معاشی ذمہ داریوں سے مبراقراردے کردراصل انسان کی آنے والی نسل یعنی بچوں کے روشن مستقبل کی ضمانت دی ہے۔سال بھر میں ایک دفعہ بچوں کاعالمی دن منالینے سے بچوں کے حقوق ادانہیں ہو سکیں گے ۔بچوں کے حقوق اداکرنے کے لیے ضروری ہے کہ فطرت نے ان حقوق کی ادائگی کوجس (ماں) کے فرائض میں شامل کیاہے اسے دنیاکی تمام ذمہ داریوں سے فراغت عطاکی جائے تاکہ وہ ’’بچوں کے حقوق‘‘کوبحسن وخوبی اداکرسکے۔جب ماں واقعی ماں تھی اور اسوۃ رسول ﷺ کی پیروکار تھی تو اس کی گود سے حسنین کریمین جیسے بچے عالم انسانیت کو میسر آئے ،اﷲ کرے کہ ہماری آنے والی نسلوں کوبھی ایسی مائیں مرحمت ہوں کہ وہ بچے اپنے حقوق کے لیے کسی عالمی دن کے محتاج نہ رہیں،آمین۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
2080

’’ڈاک‘‘ انسانی رابطوں کا ذریعہ (World Post Day) (9اکتوبر: ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on
(9اکتوبر: ڈاک کے عالمی دن کے موقع پر خصوصی تحریر)
ڈاکٹر ساجد خاکوانی
drsajidkhakwani@gmail.com
خطوط کی ترسیل ایک زمانے سے انسان کا مسئلہ رہاہے،جس کی وجہ انسانوں کے درمیان پائی جانے والی دوریاں ہیں۔بہت محبت کرنے والے انسان اکٹھے رہتے ہیں ،خاص طور پر اکٹھے پلتے بڑھتے ہیں ،ایک ہی چولھے کے گرد بیٹھ کر پیٹ بھرتے ہیں،مٹی کے گھروندے بناتے ہیں،گلیوں اور محلوں کے درمیان آنکھ مچولیاں کھیلتے ہیں،پانی کے کھالوں میں ایک دوسرے کے ساتھ نہاتے ہیں،ہاتھوں پاؤں پر مہندی لگاتے ہیں،پہروں کے حساب سے شب و روز اکٹھے گزارتے ہیں،کبھی نہ ختم ہونے والی باتیں اور کبھی نہ ختم ہونے والے کھیل تماشے اور کسی مطلب و مقصد اور حرص و طمع سے ماورا یہ تعلقات اپنی محبت و الفت اورچاہت و پیارسے انسانوں کوماضی کی یادوں میں اس طرح باندھ دیتے ہیں پھر وہ انسان چاہے بھی تو کبھی ان سے نجات حاصل نہیں کرپاتا بلکہ عمر میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان یادوں کی لذت سوزن میں اضافہ ہی ہوتا چلا جاتا ہے اور یاد ماضی انسان کا بہت قیمتی اثاثہ بن جاتی ہے۔وقت اپنی رفتار سے بڑھتارہتاہے اور بہت جلد حسین یادوں کا یہ دور ختم ہوکر تو انسانوں کے درمیان جدائیاں ڈال دیتاہے،کسی کو قسمت ،کسی کو رزق،کسی کو مجبوریاں اور کسی کو پیا گھراپنے بچپن سے بہت دور بہت دور لے جاتے ہیں۔اب دوستوں کی یادیں اور خاص طور اس وقت کے دوستوں کی یادیں جب دوستی کا تعلق صرف خلوص و محبت پر ہی مبنی ہوتاتھابہت ستاتی ہیں پس یہیں سے انسانی جذبات شروع ہوتے ہیں اور پھر خطوط کی ترسیل کاکام کیاجاتا ہے تاکہ اپنے چاہنے والوں کی خیریت وعافیت سے آگاہی حاصل کی جاسکے۔
خطوط کے اجراکا دوسرا مقصداحکامات کی بروقت ترسیل بھی ہے،ریاستیں بڑھتے بڑھتے بہت زیادہ رقبہ گھیر لیتی ہیں اورایک اعلان کے ذریعے سب لوگوں تک اطلاعات پہنچانا ممکن نہیں رہتااور پھر ایسی اطلاعات بھی تو ہوتی ہیں جنہیں ہر کس و ناکس تک پہنچانا مقصود بھی نہیں ہوتاتب کسی مخصوص فرد تک اس سے متعلق اطلاع ایک بند لفافے میں لکھی ہوئی چٹھی ہی پہنچاسکتی ہے جہاں سے ڈاک کا عمل شروع ہوتا ہے۔کسی کی تعیناتی،کسی کی برخواستگی اور کسی کی ترقی اور کسی کی تنزلی ان سب امورکی اطلاع کسی چٹھی کے ذریعے ہی پہنچائی جاتی ہے تاکہ اسناد کا باقی رہنا ممکن ہو سکے اور یہاں پھرڈاک کی ضرورت پڑتی ہے ایک جگہ کے خطوط دوسرے جگہ متعلقہ فرد تک پہنچانے کاکام یہی محکمہ کرتاہے۔بعض اوقات ایک ادارہ دوسرے ادارے سے دفتری تعلقات استوارکرتاہے اور دو ادارے یا دو دفاتریادومحکمے اپنی جملہ خط و کتابت کے لیے اگرچہ اپنے ہرکارے بھی تعینات کرتے ہیں لیکن جب کام اس قدر بڑھ جائے کہ ہرکاروں کے بس سے باہر ہوجائے تو پھر محکمہ ڈاک کی ضرورت پڑتی ہے جو اس طرح کے امور کی نگرانی کرتاہے اور پوری ذمہ داری اور تندہی سے ایک جگہ کی تحریری اطلاعات دوسری جگہ پہنچاتاہے اور اس کے بدلے ایک مناسب عوضانہ بھی وصول کرتا ہے جسے بخوشی اداکر دیاجاتاہے۔
ہم کہ سکتے ہیں پیغام رسانی کے لیے سب سے پہلے اﷲ تعالی نے جبریل کا انتخاب کیا جو آسمان سے اطلاعات زبانی اور تحریری دونوں صورتوں میں اﷲ تعالی کے برگزیدہ بندوں تک پہنچایاکرتاتھا۔گویا محکمہ ڈاک کی تاسیس وحی کے مقدس فریضے سے ہوئی ۔حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے وقت تو اﷲ تعالی نے براہ راست وحی کی اور حضرت آدم علیہ السلام کوچیزوں کے نام سکھائے لیکن بعد کے آنے والے دنوں میں اﷲ تعالی اپنا پیغام جبریل کے ذریعے سے اپنے انبیاء علیھم السلام تک پہنچاتا تھا۔بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کام میں جبریل اکیلا نہیں تھا بلکہ فرشتوں کی ایک بہت بڑی تعداد تھی جو ان فرائض کی بجاآوری میں جبریل کا ساتھ دیتی تھی گویا آسمان پر اﷲ تعالی نے ایک محکمہ بنایا تھا جس کے نگران جبریل علیہ السلام تھے اور ان کی سربراہی میں دیگر بہت سے فرشتے تھے جو اس کام میں ان کا ہاتھ بٹایا کرتے تھے۔کبھی یہ پیغام رسانی زبانی ہوتی تھی اور جبریل اﷲ تعالی کا پیغام انبیاء کے قلب مبارک میں ڈال دیتاتھا اور کبھی کبھی تحریری پیغام رسانی بھی ہوا کرتی تھی جیسے حضرت موسی علیہ السلام پر توریت کے تحریری نسخے نازل کیے گئے تھے۔
پیغام رسانی کا سلسلہ ابنیاء علیھم نے بھی جاری رکھااور حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کے ذریعے اپنے والد بزرگوارحضرت یعقوب علیہ السلام کواپنی قمیص بھجوائی،حضرت ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسمائیل علیہ السلام کے درمیان بھی پیغام رسانی کی اطلاعات ملتی ہیں۔آخری نبی ﷺنے بھی خطوط رسانی کے سلسلے کو جاری رکھا،ریاست مدینہ کی تاسیس کے بعد پورے عرب سے عام طور پر اور مکہ مکرمہ سے خاص طور پرخفیہ اطلاعات کی ترسیل کے لیے پورا ایک نظام وضع کیاگیاتھا،اس نظام کے تحت پل پل کی خبریں تحریری اور زبانی طور پر آپ ﷺ کے گوشگزار کی جاتی تھیں ۔دوسرے ممالک سے رابطے کے لیے آپﷺ نے ایک صحابی کومنتخب فرمایا،حضرت دحیہ کلبی رضی اﷲ تعالی عنہ سفیر رسول ﷺ تھے اور بادشاہوں کے دربار میں محسن انسانیت ﷺ کے پیغامات و خطوط لے کر جاتے تھے۔خاتم الانبیاﷺ نے خفیہ خطوط کے طریقے کو بھی رائج کیااور اصحاب رسول کے بعض گروہوں کو ایک بند لفافے میں احکامات دیے جاتے اور انہیں کہاجاتا کہ اتنی دور فلاں سمت میں پہنچ جانے کے بعد اسے کھول کر پڑھنا اور لکھی ہوئی ہدایات پر عمل کرنا۔فتح مکہ کے لیے روانگی کے بعد ایک عورت سے غداری کاخط بھی حضرت علی اور انکے ساتھیوں نے پکڑا تھا۔اسی طرح جب فتح مکہ کے بعد حضرت ابوبکر کو امیر الحج بناکر بھیجا تو بعد میں حضرت علی کرم اﷲ وجہ کے ہاتھوں ایک پیغام ارسال فرمایا جس میں مسجد حرام سے متعلق نازل ہونے والے چند احکامات کا اعلان مقصود تھا۔خطوط نبویﷺ کے نام سے ایک مجموعہ شائع بھی ہوچکاہے۔
بعد کے ادوار میں محکمہ برید کے نام سے باقائدہ ایک سرکاری محکمہ بنایا گیاجو لوگوں کے خطوط اورسرکاری چٹھیاں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچانے کاکام کرتا تھا،امیرالمومنین حضرت عمر نے اس کام پر خصوصی توجہ دی اور بعد کی دنیاکے ایک ہزار سالہ اسلامی دور حکومت میں ڈاک کی ترسیل کا تیزترین نظام کام کرتا رہا تیزرفتار ہرکارے اپنے گھوڑوں پر تیاررہتے تھے ،خاص خاص فاصلوں پر چوکیاں بنائی گئی تھیں جہاں گزشتہ چوکی کا ہرکارہ پہنچتاتو اگلا ہرکارہ تازہ دم گھوڑالیے تیار باش ہوتا اور ڈاک کا تھیلا بہت سبک رفتاری سے اس طرح اپنی منزل کی طرف بغیر کسی توقف کے اور بغیر کسی تاخیر کے تیزگام رہتااور بہت لمبے لمبے فاصلے دنوں دنوں میں طے کر لیے جاتے،کم و بیش اسی طرح کا نظام سمندروں اور دریائی علاقوں کے اندر بھی اپنا کام بہت تیزرفتاری سے سرانجام دیتاتھا۔بعض لوگ انفرادی طور پر سدھائے ہوئے کبوتروں س بھی یہ کام لیتے تھے لیکن اس طرح پیغام ضائع ہونے کا اندیشہ بھی رہتاتھا چنانچہ لکھاہوا پیغام کبوتر کی ٹانگ پر باندھ دیاجاتا اور اسے منزل مقصود کی طرف اڑا دیا جاتا،شکاری پرندوں اور موسموں کی شدت سے بچ جانے کی صورت میں یہ پرندہ اپنے مقام پر بہت جلد پہنچ جاتا تھا اور یوں پیغام رسانی مکمل ہو جاتی۔
وقت کے ساتھ ساتھ ڈاک کا نظام انسانی معاشر کا جزو لازم بن گیا اور ماضی قریب میں خطوط کا بہت زیادہ رواج ہو گیا حتی کی طالب علموں کو ان کی نصابات میں باقائدہ سے سکھایا جاتا تھا کہ خط کس طرح لکھتے ہیں اور خط میں مخاطبت کے کیاکیا آداب ہیں ۔کسی بڑے کو خط لکھنے میں کس آغاز کرنا ہے،چھوٹے کو لکھتے ہوئے کس طرح مخاطب کرنا ہے،خط کے شروع میں کیا لکھنا ہے اور خط کے آخر میں کیا لکھنا ہے اور خط کااختتام کن کن الفاظ پر کرنا ہے وغیرہ اور بے تکلف دوستوں کو کس طرح خط لکھنااور پرتکلف دوستوں کو کیاکیا لکھنا ہے وغیرہ۔اردو معلی کی تاریخ میں تو خط باقائدہ سے ایک صنف ادب کی صورت میں سامنے آیا اور اردو کے مشاہیرنے جو خطوط لکھے انہیں کتابی شکل میں جمع کیاگیا،شائع کیاگیااور ایک دنیا نے انہیں پڑھا اور انکے اسلوب کو اپنے خطوط میں اختیار کیا۔یہ وہ دور تھا جب خط اپنی سرکاری حیثیت سے نجی حیثیت کی طرف گامزن تھااور اشرافیہ سے عوام الناس میں بھی قبولیت اختیار کررہاتھا۔
ماضی قریب میں رابطوں کے تیزرفتار سلسلوں نے خط کی اہمیت کو ماند کر دیا ہے،اب خط لکھناایک تکلف سمجھاجاتاہے اور گفتگوکرنا ظاہر ہے کہ آسان ہو گیاہے اورعوام الناس آسانی کی طرف زیادہ مائل ہو گئے ہیں لیکن اس ک باوجود بھی ڈاک کی اہمیت میں کوئی کمی نہیں ہوئی ڈاکیاآج بھی ہماری ثقافت کا حصہ ہے ،دروازے پر ڈاکیے کا انتظار آج بھی افسانوں اور ناولوں اور حتی کہ بعض نظموں اور غزلوں کا بھی عنوان بن جاتا ہے ۔وقت کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ ڈاک کی اہمیت ایک بار پھر دوبالا ہوگی اور یہ خدمت نت نئے رنگوں سے انسانی زندگی کے خالی خانوں کو قوس قزع کی مانند حسن و زیبائش سے آشنا کر دے گی۔
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
78