Chitral Times

مقدس جنگل سے مقدس جبلت تک …..ڈاکٹر اسماعیل ولی

Posted on

بعض خواتین و حضرات “مہذب معاشرہ” کی اصطلاح مغرب اور امریکہ کے حوالے سے کرتے ہیں- اور ہمارے ذہن میں یہ نقشہ ابھرتا ہے- کہ وہاں لوگ کتنے اچھے ہیں- کتنے بااخلاق ہیں- خصوصا عورتوں کے معاملے میں تو ہمارے ذہنوں میں “فرشتہ صفت” مردوں کی تصویر ڈال دی گیی ہے- لیکن حقیقت کچھ اور ہی بتاتی ہے- ان دنوں “مقدس جنگل” (ہولی وو ڈ) کے ایک مشہور ہدایت کار پر عورتوں کو ہراسان کرنے کے الزامات کا ایک لمبا سلسلہ پردہ نرمیں پر نظر ارہا ہے- میرے خیال میں ابھی تک چوبیس عورتوں نے اپنے دعوں میں یہ اعلان کیا ہے- ان دعوں کی کہانی تیس سالوں پر محیط ہے- کتنی عورتیں اس قطار میں مزید شامل ہوں گی- وہ وقت بتاے گا- اور کتنی عورتیں اپنے ساتھ ہونے والے واقعات کو چھپایں گی 150 وہ ایک الگ قصہ ہے- سوچنے کی بات یہ ہے- کہ کیا ہراسانی کی یہ کہانی صرف ان عورتوں تک محدود ہے- یا اس ماحول تک محدود ہے- جس میں حسین لڑکیوں کو “کردار” دینے کا کاروبار ہوتا ہے- اور یہ “کردار” حاصل کرنے کے لیے ان کو کیا کیا قربانیاں دینی پڑتی ہیں- موجودہ الزامات سے ان “قربانیوں” سے پردہ ہٹ رہاہے- اور یہ حقیقت بھی کھل کر سامنے ارہی ہے- کہ جنسی ازادی سے جنسی بربادی پھیل رہی ہے- ان الزامات سے پہاڑ کی صرف چوٹی نظر انے لگی ہے- پہاڑ کا زیادہ حصہ اس معاشرے کے “تجارتی” حس میں چھپا ہو ا ہے-
معاملے کے حجم کو جانچنے کے لیے ٹویٹر پر “می ٹو” (مجھے بھی ستایا گیا) کا سلسلہ بھی شروع ہے- اور ابھی تک ان عورتوں کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ چکی ہے- اور پاکستانیوں نے بھی اس “کار خیر” میں اپنا حصہ ڈالا ہے- میرا اندازہ یہ ہے- کہ یہ پانچ لاکھ بھی وہ تعداد ہے- جو پہاڑ کی چوٹی تک محدود ہے- خاموش اکثریت سامنے نہیں ارہی ہے- اور نہ انے میں بھی بہت سی مصلحتیں پوشیدہ ہیں- اگر چہ میڈیا والے چاہتے ہیں 150 کہ ایسے واقعات سامنے اہیں- برٹش ایر لاینز کی ایک ہوسٹس نے کمپنی میں ہونے وا لے ہراسانی کے واقعات کی کچھ تفصیلات سامنے لایی ہیں- ہول ووڈ کے بعد بولی ووڈ والیاں بھی کھلنے لگی ہیں- لولی ووڈ کا حال بھی قابل تصور ہے-
مسلہ کی بنیاد کہاں ہے- مسلے کی بنیاد انسانی نفسیات میں ہے- اور نفسیات پر تحقیق ابھی اپنے ابتدایی مراحل میں ہے- ابھی تک فرایڈ کی نفسیات کا غلبہ ہے- فرایڈ کا ایک بنیادی مفروضہ یہ ہے- کہ جنسی جذبے کو دبانے کی وجہ سے ذہنی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں- مغرب میں ابھی جنسی ازادی ہے- اور ہولی ووڈ میں تو اور بھی ازادی ہے- پھر بھی یہ لوگ ” بیمار” کیوں ہوتے ہیں-
دوسرا غالب مفروضہ مردانہ اور زنانہ نفسیات کی یگانگت کا ہے- حالانکہ مردوں اور عورتوں کی نفسیات میں زمین و اسمان کا فرق ہے- اگر کویی عورت یہ سمجھتی ہے- کہ مرد عورت کی طرح سوچتا ہے- تو یہ اس کی غلط فہمی ہے- ہمارے پاس ابھی تک ایسی ٹکنالوجی نہیں 150 جس کے ذریعے ہم ان مردوں کی ذہنی کیفیات کی تصویر کمپیوٹر کے پردے پر دیکھ سکیں- جس کو ایک عورت “اچھا” تصور کر تی ہے- یا اس کو یقین ہے کہ وہ ایک “اچھا” مرد ہے- یا کہوار میں اس کو “بزر گ ” کہتے ہیں – اگر ہمارے پاس ایسی ٹکنالوجی ہو- جس کے ذریعے ہم کسی کمرے میں بیٹھے ہوے مردوں کے تصوراتی خاکوں کو پردے پر دیکھ سکھیں جب ان کی نظر ایک حسین عورت پر پڑتی ہے- پھر شاید عورتوں کو یقین ہو جاے- کہ اس کے ساتھ والے ڈیسک پر بیٹھے ہوے “خاموش” مرد کے ذہن میں کیا ڈرامہ کھیلا جا رہاے- یہ رہا مسلے کا ایک رخ- دوسرا رخ یہ ہے- جب بھی موقع ملے گا- وہ “خاموش” مرد مختلف طریقوں سے اپنا مطلب حاصل کرنے کی کوشش کرے گا- تیسرا رخ یہ ہے- کہ اس “ڈرامے” کی وجہ سے اس مرد کے کام اور توجہ پر کیا اثر پڑتا ہے- اس پر ابھی تک تحقیق خاموش ہے-
یہ رہا مسلہ- حل کیا ہے- جب کہ مسلہ مرد کی نفسیات میں ہے- اور یہ اتنی گہری ہے- جس کا اندازہ سارے نفسیات دان بھی مل نہیں لگا سکتے- کیا عورسانی (عورت اور ستانا) کے قوانیں سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہے- میرا جواب ہے بالکل نہیں- کیونکہ عورسانی کے جتنے دعوے کسی ادارے میں ہو رہے ہیں- وہ اصل میں نہ ہونے کے برابر ہیں- خاص کر ہمارے معاشرے میں- اس کا مطلب یہ ہے- ننانوے فیصد معاملات عزت کو بچانے کے لیے چھپاے جاتے ہیں- اور اگر یہ ننانوے فیصد معاملات بھی درج ہو گیے- تو ہر ادارے کے زیادہ وسایل انہی مسایل کو حل کرنے اور سٹاف کو سزاییں دینے اور نیے ملازمیں بھرتی کرنے پر خرچ ہو ں جایں گے- اور دو تین سالوں میں یہ ادارہ ڈوب جاے گا-
مسلے کا ایک ہی بنیادی حل ہے- کہ دونوں کو الگ الگ رکھا جاے- مثال کے طور پر ترکی میں عورتوں کے لیے پنک بس سروس شروع ہویی ہے- امریکہ میں بعض سکول صرف لڑکیوں کے لیے شروع ہو گیے ہیں- اس کا فایدہ یہ ہوگا- کہ عورسانی کا مسلہ کافی حد تک حل ہو جاے گا- عورتیں اپنے ماحول میں خوش رہیں گی- اور مرد اپنے ماحول میں گپ شپ لگاتے رہیں گے- اگر عورتیں یہ چاہتی ہیں- کہ وہ مخلوط ماحول میں کام کرنا چاہتی ہیں- تو “خاموش” ڈرامے ہوتے رہیں گے- وہ ان کا کچھ نہیں کرسکتیں- جب تک ایسی ٹکنالوجی عام نہ ہو- جو انسانی ذہن میں ہونے والے واقعات کو پردے پر نہ لاے- پھر سارے مرد جیلوں میں ہونگے- کیونکہ یہ ان کی جبلت ہے- جب تک اس جبلت کو دبانے کے لیے اس سے بھی زیادہ طاقت ور جبلت فعال نہ ہو-
خدا پر ایمان ایک ارفع و اعلی جبلت کے نتیجے میں وجود میں اتا ہے- خدا ے بزرگ و برتر کی ذات و صفات پر ایمان ایک دفعہ اگر انسانی شعور کا حصہ بن جاے- تو دوسری جبلتوں کو قابو میں رکھنا اسان ہوتا ہے- لیکن اگر ایک دفعہ
ایمان کی دولت ہاتھ سے نکل جاے- تو سب کچھ حلال ہوجا تا ہے- کسی بیالوجی کی کتاب میں یہ نہیں لکھا ہے- کہ “ماں کون ہے- بہن کیا ہے- یا رشتوں کا تعین کیسے ہوتا ہے” یہ سب کچھ اخلاقیات کا حصہ ہے- اور اخلاقیات کی اہمیت ختم ہوتی جا رہی ہے- اس کی جگہ عملیت پسندی کا رجحان بڑھ رہا ہے- عملیت پسندی کا مطلب یہ ہے- کہ ہر وہ کام اچھا ہے- جس میں کچھ فایدہ ہو- ہر وہ کام جس کا کویی فایدہ نہ ہو- ایک واہمہ ہے-
چونکہ “جنس” تجارت اور اشتہار بازی کا بنیادی عنصر ہے- اسلیے اس کی عملی اہمیت ہے- اور تفریح کے نام پر اس کی تشہیر ہو رہی ہے- معاشیات دانوں کا سرو کار اخلاقیات سے نہیں ہوتا- اس کا نام سن کر وہ ہنسیں گے- اس کا مطلب یہ ہے- کہ “اخلاق” کب کا مر چکا ہے- ان حالات کا فطری نتیجہ یہ نکلتا ہے- کہ انسان کے ذہن میں “جنس” ایک “تفریح” ہی کی صورت میں جا گزین ہو جاتی ہے- پھر عورسانی کی شکایتیں بھی “تفریح” لگیں گی 150
جنسی معاملات پر سنجیدگی سے غور کرنے کے لیے ضروری ہے- کہ مذا ہب عالم کا مطالعہ کیا جاے- اور تاریخ کا مطالعہ کیا جاے- جو یہ ثابت کرتی ہے- کہ دنیا میں وہی اقوام غالب رہی ہیں- جن کے اخلاق بلند ہوں- اور اخلاق کا تعلق بنیادی طور پر جنس سے ہوتا ہے- پھر تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے- کہ دنیا میں قوموں کو زوال اس لیے ایا- کہ اخلاقی گرفت کمزور پڑتی گیی-
انسان کو سمجھنا چاہیے- کہ عورت “کھلونا” نہیں ہے- اور عورت کو بھی اس بات پر غور کرنا چاہیے- کہ وہ کب تک “کھلونا” بلکہ “کھلونی” بنتی رہے گی- اگر وہ شادی نہیں کرنا چاہتی- یہ اس کا بنیادی حق ہے- اگر وہ شادی کرکے انسانی زندگی میں اپنا حصہ ڈالنا چا ہتی ہے- یہ بھی اس کی مرضی ہے- لیکن “تفریح” کا جومیدان مرد نے اس کے لیے کھولا ہے- یہ مرد کی اس جبلت کا نتیجہ ہے- جو اس کو ہمیشہ جنسی تعلق پر ابھارتی ہے- اور یہ ان قانون سازوں کی حماقت ہے- کہ وہ “نا خواستہ پیش رفت” کے نام پر یہ قانون سازی کی ہے- یہ بھی انسانی جبلت کے ساتھ ایک مذاق ہے- مثال کے طور پر ایک ادار ے میں پچاس مرد اور پچاس عورتیں کام کر رہے ہیں- اگر سب “خواستہ پیش رفت” کے اصول پر عمل کرنا شروع کریں گے- پھر ادارے کے کام کا کیا ہوگا-
جب تک عورت کو اس انفرادی “خواستہ تفریح ” کے دایرے سے نکال کر اجتماعی مفاد اور بہبود کے راستے پر ڈالنے کے لیے سنجیدہ کوشش نہیں کی جاے – حالات بد سے بد تر ہوتے جاییں گے- انسان کی اجتماعی مفاد فرد کی جسمانی، ذہنی، اور معاشرتی صحت سے وابسطہ ہے- لہذا انسان کی اجتماعی مفاد کا تقا ضا ہے- کہ کچھ انفرادی “خوشیوں” کو قربان کیا جاے- بہت ممکن ہے کہ ایک فرد یا چند افراد کی خوشی کسی عوامی مقام پر “گندگی” کرنے میں ہو- لیکن اجتماعی مفاد خوشی کی اس خو اہش کو حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیتا-
خلاصہ کلام یہ ہے- جب تک جنسی معاملات پر سنجیدگی سے غور نہ کیا جاے- اور اس کو “تفریح” کی صنعت سے نکال کر انسان کی بنیادی صحت کا مسلہ قرار نہ دیا جاے- جس میں 1)جسمانی صحت 2) ذہنی صحت، اور 3) معاشرتی صحت کے پہلو وں کو واضح الفاظ میں اجا گر نہ کیا جاے- “مقدس جنگل” کے واقعات ہر ملک اور ہر معاشرے میں وایرل ہو جاییں گے 150 نہ ادارے اس پر قابو پایں گے- اور نہ قانوں نافذ کرنے والوں کی کویی تدبیر کارگر ہوگی- البتہ میڈیا والوں کو “مرچ مصالحہ” والی کہانیاں دیکھانے اور پیر بھاییوں کو خوش کرنے میں کامیابی ضرور ہوگی-

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
546

اگے کیا ہونے والا ہے………. ڈاکٹر اسماعیل ولی

Posted on

سب سے اہم اور انقلاب افرین ٹکنالوجی جو انسان نے اپنے ماحول میں دریافت کی وہ اگ تھی- اگ کی وجہ سے انسانی بود و باش میں زبردست انقلاب ایا- اور انسان کو ایک طاقت ور اور مضبوط الہ بھی مل گیا-معاشرتی ارتقا کے ماہرین کہتے ہیں- کہ پہلا بنیادی انقلاب شکاری ماحول سے نکل کر زرعی ماحول کی طرف انا تھا- زرعی ماحول کے لیے ضروری تھا- کہ انسان ایک جگہ مستقل رہایش اختیار کرے- اور مستقل رہایش کے لیے گھر بنانا ، گھر بنانے کے لیے اوزار بنانے اور زراعت کے لیے الات بنانے کا کام اگ کی وجہ سے ممکن ہو گیا- اس تصور کو علامہ اقبال نے خدا اور انسان کے درمیان ایک مکالمے کی صورت میں یوں منظوم کیا ہے
خدا
من از خال پولاد ناب آفریدم- تو شمشیر و تیر و تفنگآفریدی
تبر آفریدی نہال چمن را- قفس ساختی طایر نغمہ زن را
(میں نے فولاد پیدا کیا اور تو نے فولاد سے تلوار، تیر، اور بندوق بنا یا اور باغ کے درختوں کے لیے کلہاڑی اور پرندوں کے لیے پنجرہ بنا یا)
اگ کے بغیر لوہا اور فولاد پھر ان سے ہتھیار بنانا نا ممکن تھا- اگ کی وجہ سے یہ سب کچھ ممکن ہوگیا-
انسان
تو شب آفریدی چراغ آفریدم- سفال آفریدی ایاغ آفریدم
من آنم که از سنگ آئینه سازم- من آنم که از زہر نوشینہ سازم
( تو نے رات بنایی- میں نے روشنی کا بندوبست کیا- تو نے مٹی پیدا کیا میں نے پیالہ بنایا- میں پتھر سے شیشہ ا ور زہر سے مشروب بناتا ہوں)
مختصر یہ کہ اگ کی صورت میں ایک ایسی ٹکنالوجی انسان کے ہاتھ ایی- جس نے بہت سے نا ممکنات کو انسان کے لیے ممکن بنایی- ا ور انسان کی زندگی یکسر بدل گیی- جو لوگ اگ کی دریافت کے وقت بوڑھے تھے- ان کے لیے اگ کی ٹکنالوجی ایسی تھی جیسے تیس چالیس پہلے ٹی وی ہمارے بوڑھوں کے لیے- پہلی دفعہ جب انسان نے اگ میں پکایا ہوا گوشت کھایا 150 تو اپنی خوشی کا اظہار کیسے کیا ہوگا- یہ بھی تصور کے لیے ایک زبردست تماشے کی بات ہے-
ایک جگہ مستقل رہایش اپنانے کی وجہ سے گاوں اور شہر اور ملک اباد ہوتے گیے- اور زراعت ترقی کرتے گیی- مختلف فصلیں کاشت ہونےلگیں- باغات کا رواج ہوا- شی براے شی کی تجارت شروع ہویی- جہاں جہاں انسانوں نے رہایش اختیار کی- شناخت کے لیے ضروری ہوا 150 کہ ان کے مختلف نام ہوں- یقینی بات ہے- کہ جن لوگوں نے اگ کا صحیح استعمال کیا- وہ دوسروں پر غالب رہے- کیونکہ ان کے پاس ایک طاقت ور ٹکنالوجی تھی-
انسانی زندگی اس وقت بدلنا شروع ہویی- جب مغرب والوں نے پہلی مشین ایجاد کی- یہ مشین بھاپ کی تھی- پہلے کویلے کو ایک جگے سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے استعمال ہویی- اہستہ اہستہ بھاپ کی جگہ پٹرول اور ڈیزل کو بطور ایندھن استعمال کرنا شرو ع کیا گیا- اور ایک اور انقلاب ایا 150 جس کو صنعتی انقلاب کا نام دیا جاتا ہے- اس کی وجہ سے انسان کی معاشرتی زندگی یکسر بدل گیی- کارخانے بننا شروع ہوے- کارخانوں کے لیے کاریگروں اور مزدوروں کی ضرورت پڑ گیی- اسی انقلاب کی وجہ سے جہاز بنانا ممکن ہوا- خوفناک ہتھیار بنانے کا رواج پڑ گیا- اور اسی بنا پر مغرب کو دوسری اقوام پر بالا دستی حاصل ہو گیی- خصوصا انگریزوں نے اپنی مشینی طاقت کا بھر پور استعمال کیا- جو ابھی تک جاری ہے-
کہتے ہیں 150 تیسرا انقلاب آی ٹی کا ہے- میں اسکو انقلاب نرمیہ کا نام دیتا ہوں- جس کی وجہ سے انسان ایک نیا “زمان و مکان” بنانے میں کا میاب ہو گیا- جو پردہ نرمیں پر “سماعی اور بصری” صورت میں شب و روز دستیاب ہے- اس کے ذریعے انسان نے ایک طرح زمان و مکان کو مسخر کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے- جو مصنوعی شعور اور یاد داشت کی شکل میں سب کے سامنے موجود ہے-
اگے کا دور مشینی انسانوں کا انے والا ہے- جن کو روبوٹ کہتے ہیں- اگر سارے کام روبوٹ کرینگے 150 تو انسانوں کے عضا یکے بعد دیگرے بیکار ہوتے جایینگے- چونکہ دماغ بھی ایک عضو ہے- اور ہر عضو کا انحصار اس کے استعمال پر ہے- اگر ایک مہینوں تک، مثال کے طور پر، کویی انسان اپنے ہاتھوں کو حرکت نہیں دے گا- تو یہ اہستہ اہستہ بیکار ہوتے جایینگے- اور ایک دن ایسا اے گا- کہ یہ بلکل حرکت نہیں کریں گے- اگر دماغ سے کا م نہیں لیا جاے گا- تو ایک دن یہ کام کرنا چھوڑ دے گا- جس طرح اج کے بچے ریاضی کے معمولی سوال بھی حل نہیں کر سکتے- کیونکہ یہ کام ان کے لیے برقی مشین کرتی ہے-
ان دنوں یہ بات بھی میڈیا میں زیر گردش ہے- کہ چین نے “ازدواجی ضروریات” کو پورا کرنے کے ایک گڑیا بنایی ہے- اج نہیں تو کل یہ چیز مارکٹ میں دستیاب ہوگی- ویسے بھی ہم سمگلینگ کے ماہر ہیں- اور ایسے “علما” کی بھی کمی نہیں- جو پہلے اس کو “اضطرار” کے تحت مباح قرار دیں گے- پھر قانون سازی کی بات ہوگی- اور ازاد خیال یہ کہینگے- کہ زمانہ بدل گیا ہے- اور ہمیں زمانے کا ساتھ چلنا ہے- پھر نسا پرست یہ مطالبہ کرینگے- کہ یہ تو مردوں کی تسکین کے لیے ہے- عورتوں کا کیا ہوگا- اگے کیا ہونے والا ہے؟ وللہ اعلم ابالصواب

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
484

انتہا پسندی ایک سوچ کا نام ہے……..ڈاکٹر محمد اسماعیل ولی

Posted on

موجودہ میڈیا شاہی کے زیر اثر انتہا پسندی کو اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ منسوب کرنے کی کوشش زوروں پر ہے- اس وجہ سے دوسرے انتہا پسند گروہ پس منظر میں چلے جاتے ہیں- اور عام لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات بیٹھ گیی ہے- کہ انتہا پسند رویے مسلمانوں میں پاے جاتے ہیں- انتہا پسندی ایک سوچ کا نام ہے- ضروری نہیں کہ یہ سوچ مذہب سے وابستہ عوامل سے ہو-

اسلام چودہ سو سالوں سے یہاں کے معاشروں میں موجود ہے- عرب سے نکل کر ایران، انڈیا، وسط ایشیا، انڈونیشیا،اور افریقہ اور یوروپ میں پھیل رہا ہے اور سات سو سالوں تک اندلس پر غالب رہا- اگر مسلمان چاہتے تو عرب علاقوں میں ایک یھودی یا ایک عیسایی کابھی زندہ بچنا محال تھا- لیکن تاریخ اس بات پہ گواہ ہے- کہ مدینے میں مسلمان ور یہودی مل جل کر رہتے تھے- اور کاروباری معاملات میں ایک دوسرے کی مدد بھی کرتے تھے- اسی طرح ہندوستان پرتقریبا چھ سو سالوں تک مسلمانوں کی حکومت رہی- اگر وہ چاھتے تو ایک ھندو یا بدھ برصغیر میں زندہ نہ رہتا- لیکن حقیقت یہ ہے- کہ وہ مل جل کر رہے-

یہ بات بھی مخفی نہیں- کہ مسلمانوں نے علم و ادب اور تحقیق کی سر پرستی کی- مسلمانوں کی سرپرستی میں ہر ایک علمی میدان میں کام ہوا- علم قران و حدیث و تفسیر، اور فقہ کے علاوہ ساینس، فلسفہ، منطق، طبیعت، کمیا، ، تاریخ ،عمرانیات، یہاں تک موسیقی پر اتنا کام ہوا ہے- کہ انسان کو حیرانگی ہوتی ہے- کہ کیا علمی ذوق تھا-

عمر خیام کی شاعری سے لیکر ابو بکر رازی کی ازاد خیالی تک راے زنی کی ایک کھلی کتاب ہمارے سامنے ہے- اایسی داستانیں لکھیں گییں- جن میں پیغمبروں اور صحابیوں کو بطور کردار پیش کیا گیا- لیکن کسی کو مارنے یا قتل کرنے کی مثال نہیں ملتی- کیی صدیوں سے مسلمان مغلوب ہیں- شکست خوردہ ہیں- اور اسلام ایک مخصوص طبقہ فکر کی گرفت میں ہے- یہ “اسلام” شکست خوردگی کی پیداوار ہے- اور اس “اسلام” کے پیروکار یہ چاہتے ہیں- کہ جس اسلام کی تعریف وہ کرتے ہیں- وہی اصل “اسلام” ہے- اور یہاں سے طاقت کے استعمال کا تصور شروع ہوتا ہے- اور انتہا پسندی کا رویہ فروغ پاتا ہے-

قران میں مسلمانوں کو امت “وسط” کھا گیا ہے- یعنی یہ افراط و تفریط سے بچنے والی امت ہے- دین و دینا میں توازن، جسم و روح میں توازن، رویوں میں توازن، علم و عمل میں توازن اور امدن و خرچ میں توازن قرانی نظام حیات کے بنیادی تصورات ہیں- اور عقل والوں نے بھی اس طرز زند گی کی تایید کی ہے- ارسطو جس کو باباے فلسفہ تصور کیا جا تا ہے- جب زندگی کی غایت پر غور کرتے ہیں- تو ان کو “خوشی” نظر اتی ہے- پھر خوشی کیا ہے- اس سوال کے جواب میں کہتے ہیں- کہ خوشی اس وقت حاصل ہوتی ہے- جب عقل کو صحیح استعمال کیا جاے- پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے- کہ عقل کا صحیح استعمال کیا ہے- تو جواب یہ ملتا ہے- کہ زندگی میں توازن کی تلاشں عقل کا صحیح استعمال ہے- اس کو زرین وسط کا اصول کہا جا تا ہے-

اگر ہمارے ہاں بعض مذہبی عناصر انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں- تو وہ نہ صرف اسلام اور قران کے بنیادی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں- بلکہ عقل والوں کی بھی خلاف ورزی کرتے ہیں- جس کو قران کی زبان میں حکمت کہا گیا ہے- اسکو ہم مذھبی انتہا پسندی کہیں گے-
جسطرح مذہبی انتہا پسندی ایک حقیقت ہے- جو نہ صرف مسلمانوں بلکہ ھندوں، یہودیوں، عیسایوں اور بدھ مذھب والوں میں پایی جاتی ہے- بلکہ جس رویے کی پیروی یک طرفہ طور پر کیا جاے- وہ انتہا پسندی کی صورت میں ظہور پذیر ہوتا ہے- اگر کویی طبیعات کا ماہر یہ کہے- کہ صرف طبیعات ہی ساینس ہے- باقی سب افسانے ہیں- تو یہ بھی انتہا پسندی ہے- اگر کویی سیکولر ادمی یہ کہے- کہ غیر مذہبیت ہی حقیقت ہے- باقی سارے افسانے ہیں- تو یہ بھی انتہا پسندی ہے- اگر کویی مارکٹنگ والا یہ سوچتا ہے کہ عورت کے بغیر کویی اشتہا ر نا مکمل ہے تو یہ بھی انتہا پسندی ہے- اگر کویی ماہر تعمیرات یہ سوچتا ہے یا سوچتی ہے- کہ انسان کی ترقی تعمیر ہی سے وابسطہ ہے- باقی گوشوں کی کویی حقیقت نہیں ہے- یہ بھی انتہا پسندی ہے-اگر کویی مرد یہ سوچتا ہے- کہ زندگی کا دارو مدار مرد پر ہی ہے- تو یہ اس کی انتہا پسندی ہے- اگر کویی عورت یہ سوچتی ہے- کہ مرد ہی ساری برایوں کا ذمہ دار ہے تو یہ اس کی انتہا پسندی ہے- اگر سفید فام قوم یہ سوچتی ہے- کہ باقی اقوام انسان کہنے کا لایق نہیں- تو اس کی انتہا پسندی ہے-اور اگر کویی ملک یہ سوچتا ہے- کہ ایٹم بم صر ف اس کے پاس ہو- باقی کسی ریاست کو یہ اختیا ر یا حق حاصل نہیں- تو یہ بھی انتہا پسندی ہے- اور اگر کویی قوم یہ سوچتی ہے- کہ صرف وہی مھذب ہے- باقی حیوان ہیں- یہ بھی انتہا پسندی ہے-اگر امریکہ کو یہ حق حاصل ہے- کہ وہ عسکری برتری اور نت نیے عسکری ہتھیاروں کی وجہ سے دنیا کے وسایل پر قبضہ کرنے کا سوچے- اور “علمگیریت” کے راستے پر گامزن ہو- تو ہر ایک قوم کو یہ حق حاصل ہے- کہ وہ بھی اپنی ماضی کی روشنی میں اپنے مستقبل کا راستہ تعین کرے- اگر امریکہ قومی مفاد کا بھانہ بناکر عراق، لیبیا، افغانستان کو تباہ کرسکتا ہے- تو چین، روس، اور دوسری ریاستوں کو بھی اپنے مفاد میں حکمت عملیاں بنانے کا حق حاصل ہے-

اس بحث کا خلاصہ یہ ہے- جب تواز ن کا خیال نہ رکھا جاے- اچھے سے اچھا کام بھی نقصان دہ ہوتا ہے- – بہت زیادہ کھانا بھی نقصان دہ ہے- اور نہ کھانا بھی نقصان دہ ہے- حد سے زیادہ خرچ کرنا فضول خرچی ہے- اور بالکل نہ کرنا بخل ہے- اور افراط و تفریط سے بچنا حکم خداوندی کی فرمانبرداری بھی ہے عقلمندی بھی- یہ اصول فرد اور ریاست دونوں کے لیے یکسان طور پر مفید ہے- واللہ اعلم با ا لصواب

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
418