Chitral Times

یونیورسٹی آف چترال کے یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر اور جدید ترین سمارٹ کلاس روم کا بدست چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد افتتاح

یونیورسٹی آف چترال کے یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر اور جدید ترین سمارٹ کلاس روم کا بدست چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختاراحمد افتتاح

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) گورنر خیبرپختونخوا کے دورہ چترال کے موقع پر چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد نے یونیورسٹی آف چترال کے یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر اور جدید ترین سمارٹ کلاس روم کا بھی افتتاح کیا،گورنر اور چیئرمین ایچ ای سی نے یونیورسٹی کے سبزہ زار میں دیودار کا پودا بھی بطور یادگار لگایا۔

 

گورنر خیبرپختونخوا اور چانسلر یونیورسٹی آف چترال حاجی غلام علی نے یونیورسٹی آف چترال کے مرکزی کیمپس کا سنگ بنیاد رکھا. اس موقع چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار احمد اور ایس ڈی جی مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن ایچ ای سی سید نوید حسین شاہ بھی گورنر خیبرپختونخوا کے ہمراہ موجود تھے۔

یونیورسٹی آف چترال کے پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ضیاء اللہ نے نئے کیمپس کا ماسٹر پلان  مہمان خصوصی کے سامنے پیش کیا۔ گورنر نے وائس چانسلر اور پروجیکٹ ڈائریکٹر کی کاوشوں کو سراہا اور مبارکباد پیش کی ۔

اس موقع پر چیئرمین ایچ ای سی نے ایچ ای سی کی جانب سے مالی تعاون سے قائم کردہ نئے یوتھ ڈویلپمنٹ سنٹر اور جدید ترین سمارٹ کلاس روم کا بھی افتتاح کیا، یہ کلاس روم جدید طریقہ تدریس کے لئے تکنیکی طور پر جدید تعلیمی ماحول فراہم کرتا ہے۔

 

یونیورسٹی آف چترال کے مرکزی ہال میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد بھی کیا گیا۔تقریب کا باقاعدہ آغاز قومی ترانے سے کیا گیا جس کے بعد وائس چانسلر یونیورسٹی آف چترال پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ اور ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن ڈاکٹر ندیم حسن نے معزز مہمانوں کو روایتی چغہ پہنایا۔

پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے مہمانان گرامی کی تشریف آوری پر بھرپور انداز میں شکریہ ادا کیا۔اپنے خطاب میں انہوں نے یونیورسٹی آف چترال کی کامیابیوں اور درپیش چیلنجز و مسائل کے بارے میں جامع انداز میں معلومات فراہم کیں ۔ اور چیئرمین ایچ ای سی سے درخواست کی کہ وہ چترال یونیورسٹی کو HEC بجٹ میں شامل کرنے کے لئے ہر ممکن مدد فراہم کریں ۔

 

اپنے خطاب میں چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر مختار نے دور حاضر میں تعلیم اور تحقیق کے تعلق کی بنیادی اہمیت کو اجاگر کیا نیز معاشرتی ترقی اور نوجوانوں میں جدید طریقہ تعلیم کو مقبول کرنے کے لیے فیکلٹی ممبران کی جانب سے تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کاوشوں کی حوصلہ افزائی کی۔ انہوں نے صوبائی حکومت پر زور دیا کہ وہ پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کو درپیش مسائل بالخصوص مالیاتی چیلنجز کے حل کو اولین ترجیحات میں شامل کریں۔ چیئر مین ایچ ای سی نے یونیورسٹی آف چترال کے لیے غیر متزلزل حمایت اور ان تھک کوشش کا یقین دلایا۔

 

گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں میں معیار تعلیم کو بلند کرنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے کی اہمیت پر اپنا موقف واضح کیا ۔ انہوں نے اس امر پر تشویش کا اظہار کیا کہ تعلیمی میدان میں کثیر سرمایہ فراہم کرنے کے باوجود بنیادی تعلیمی اہداف کا حصول تا حال ممکن نہیں ہو پا رہا ، اس ضمن میں انہوں نے تعلیمی میدان میں تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور نئے اہداف کے حصول کئے بھرپور کاوشوں کا عزم ظاہر کیا ۔

 

پروگرام کے اختتام پر گورنر خیبرپختونخوا، چیئرمین ایچ ای سی، اور یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر کی جانب سے یونیورسٹی کی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے علاقے کے قابل قدر شراکت داروں کو اعزازی شیلڈز سے نوازا گیا۔

 

یونی ورسٹی آف چترال میں منعقدہ ” سنگ بنیاد ” کی یہ پروقار تقریب ، مستقبل کے لئے خطے میں تعلیم اور شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ ترقی کے نئے در وا کرنے کا ایک ایسا وسیلہ بھی ثابت ہو گی جو حکومتی عہدیداران، سیاسی رہنماؤں اور مقامی افراد و معاشرے کے اجتماعی عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 15

chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 3 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 4

chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 13 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 6 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 7 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 8 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 9 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 10 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 11 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 14 chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 1

chitraltimes governor kp haji ghulam ali and chairman HEC visit chitral univeristy 2

 

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
82308

یونیورسٹی آف چترال، یونیورسٹی آف صوابی اور وومن یونیورسٹی صوابی کے مابین ریسرچ اور اکیڈمک تعاون کے فروغ  کے لیے مفاہمتی یاداشت پر دستخط 

Posted on

یونیورسٹی آف چترال، یونیورسٹی آف صوابی اور وومن یونیورسٹی صوابی کے مابین ریسرچ اور اکیڈمک تعاون کے فروغ  کے لیے مفاہمتی یاداشت پر دستخط

 

چترال (نمائندہ  چترال ٹایمز) یونیورسٹی آف چترال، یونیورسٹی آف صوابی اور وومن یونیورسٹی صوابی کے درمیان ریسرچ اور اکیڈمک تعاون کو فروغ دینے کے لیے مفاہمت نامے طے پاگئے کا مقصد تحقیق اور ماہرین تعلیم کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا اور مضبوط کرنا ہے۔

اس سلسلے میں منعقدہ ایک تقریب میں یونیورسٹی آف چترال کے ڈائریکٹوریٹ آف ORIC اور یونیورسٹی آف صوابی کے ڈائریکٹوریٹ آف ORIC کے درمیان مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے۔

مفاہمت کی یادداشت پر چترال یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ اور ان کے ہم منصب صوابی یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ناصر جمال خٹک نے دستخط کیے جو ویمن یونیورسٹی صوابی کے وائس چانسلر بھی وی سی ہیں۔ ۔
اس تعاون کا مقصد تحقیقی کوششوں اور علمی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے کے لیے دونوں اداروں کی اجتماعی مہارت، وسائل اور فکری سرمائے سے فائدہ اٹھانا ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر صاحب خان اے پی، ڈاکٹر ناظم رحیم (رجسٹرار)، ڈاکٹر محمد رومان (ڈائریکٹر ORIC)، ڈاکٹر یاسر عرفات (ڈائریکٹر QEC)، ڈاکٹر ندیم حسن (ڈائریکٹر ایڈمن)، ڈاکٹر کفایت اللہ ایچ او ڈی انگلش، ڈاکٹر سیفول مجاہد اے پی، ڈاکٹر رضوان اللہ اے پی، اور مسٹر شکیل (پی آر او)۔بھی موجود تھے۔

chitraltimes university of chitral mou with uo swabi

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
79582

 یونیورسٹی آف چترال کے لیے حاصل کی گئی زمین باضابطہ طور پر یونیورسٹی کے حوالے کر دی گئی

Posted on

 یونیورسٹی آف چترال کے لیے حاصل کی گئی زمین باضابطہ طور پر یونیورسٹی کے حوالے کر دی گئی

چترال(چترال ٹایمزرپورٹ ) یونیورسٹی آف چترال نے زمین کے حصول کے ساتھ اہم سنگ میل عبور کر لیا .آج یونیورسٹی کے لیے حاصل کی گئی زمین باضابطہ طور پر چترال یونیورسٹی کے حوالے کر دی گئی ہے۔

جمعرات کے دن ایک تقریب میں، اسسٹنٹ کمشنر/اسسٹنٹ کلکٹر محمد عاطف جالب نے یونیورسٹی آف چترال کے پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ضیاء اللہ کے ہمراہ یونیورسٹی کی حاصل شدہ زمین کا دورہ کیا۔ اس دورے کے دوران انہوں نے حد بندی کا عمل مکمل کیا اور زمین کی ملکیت یونیورسٹی آف چترال کو باضابطہ طور پر منتقل کر دی۔ یونیورسٹی آف چترال کو منتقل کی گئی کل اراضی 178 کنال اور 12 مرلہ ہے۔

وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے اس اہم کوشش میں غیر متزلزل تعاون اور عزم پر ضلعی انتظامیہ اور ڈاکٹر عاطف جالب، اسسٹنٹ کمشنر/اسسٹنٹ کلکٹر اور ان کی ٹیم کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔ وائس چانسلر نے امید ظاہر کی کہ دریا کے پار بقیہ 22 کنال اراضی بھی ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے جلد حاصل کر لی جائے گی۔ وائس چانسلر نے اس مقصد کے حصول میں پروجیکٹ ڈائریکٹر انجینئر ضیاء اللہ اور ڈپٹی ڈائریکٹر پی اینڈ ڈی ناجی اللہ کی کاوشوں کو سراہا۔

انھوں نے مذید کہا ہے کہ چونکہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اب باضابطہ طور پر زمین کی ملکیت لے لی ہے، ہم کمیونٹی سے تعاون اور افہام و تفہیم کی درخواست کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کی مستقبل کی ترقی اور ترقی کے مفاد میں، ہم کمیونٹی سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ یونیورسٹی کی زمین پر کسی بھی قسم کی فصل بونے سے گریز کریں۔

chitraltimes university of chitral land handed over to university officials 1 chitraltimes university of chitral land handed over to university officials 7 chitraltimes university of chitral land handed over to university officials 8 chitraltimes university of chitral land handed over to university officials 5

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
79175

پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے یونیورسٹی آف چترال میں فیکلٹی پوزیشنوں کے سلیکشن کے عمل کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا

Posted on

پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے یونیورسٹی آف چترال میں فیکلٹی پوزیشنوں کے سلیکشن کے عمل کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا

چترال (نمائندہ چترال ٹایمز ) پشاور ہائی کورٹ کے ڈویژن بینچ نے یونیورسٹی آف چترال میں فیکلٹی پوزیشنوں کے لئے پیر کے روز ہونے والے اسپیشل سلیکشن بورڈ کے سامنے انٹرویوز اور اس کے نتیجے میں سلیکشن کے عمل کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا اور ساتھ ہی پیٹیشنرز کے خلاف کوئی قدم نہ اٹھانے سے بھی روک دیا۔ ڈویژن بنیچ نے مدعاعلیہمان نمبر 1اور 2 (وائس چانسلر اور رجسٹرار) سے توہین عدالت کے سلسلے میں جواب طلب کردی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ یونیورسٹی آف چترال کے قیام کے وقت سے شہید بے نظیر بھٹو یونیورسٹی کے فیکلٹی ممبرز کی مستقلی کے سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ تنازعہ چلا آرہا ہے۔ متاثرہ فیکلٹی ممبرز کے مطابق انہوں نے ہائی کورٹ، سپریم کورٹ جیت چکے تھے جبکہ گورنر کے سامن اپیل بھی منظور ہوئی تھی جس کے باوجود ان کو مستقل کرنے کی بجائے اسپیشل سلیکشن بورڈ تشکیل دینے پر وہ دوبارہ پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

chitraltimes chitral university phc order

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
78115

یونیورسٹی آف چترال کے زیر اہتمام یوم تکریم شہدا کے موقع پر ریلی ، بہادر ہیروز کو دلی خراج تحسین پیش کیا گیا 

Posted on

یونیورسٹی آف چترال کے زیر اہتمام یوم تکریم شہدا کے موقع پر ریلی ، بہادر ہیروز کو دلی خراج تحسین پیش کیا گیا

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) یونیورسٹی آف چترال نے یوم تکریم شہدا کے موقع پر قوم کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے بہادر ہیروز کو دلی خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ ایک پرامن واک کا اہتمام کیا گیا، جو مین آڈیٹوریم سے شروع ہو کر یونیورسٹی کے مین گیٹ پر اختتام پذیر ہوا، جہاں طلباء، فیکلٹی ممبران اور معزز مہمانوں نے یکجہتی کے ساتھ مارچ کیا، اور شہداء کی قربانیوں کو یاد رکھنے کے لیے اپنے غیر متزلزل عزم کا اعادہ کیا۔

 

یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے  واک کی قیادت کی۔ ان کی موجودگی ان بہادر مردو خواتین کے لیے اتحاد اور احترام کی علامت تھی جنہوں نے ملک کی حفاظت اور خوشحالی کے لیے اپنی جانیں قربان کیں۔

 

واک کے دوران پرجوش نعرے فضا میں گونجتے رہے جو پاک فوج اور شہداء کی غیر متزلزل حمایت اور تعریف سے گونجتے رہے۔ حب الوطنی کے جذبے سے لبریز شرکاء نے نعرے لگائے جس میں ان بہادر جانوں کی قربانیوں کے لیے گہرے شکرگزار اور تعریف کا اظہار کیا گیا۔

 

اس تقریب نے یونیورسٹی آف چترال کے جذبہ حب الوطنی کو پروان چڑھانے اور اپنے طلباء میں مسلح افواج اور شہداء کی قربانیوں کے لیے گہرا احترام پیدا کرنے کے عزم کو اجاگر کیا۔ ایسی کوششیں ایک مضبوط قومی تشخص اور قوم کے تئیں فرض شناسی کے گہرے احساس کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

 

پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے شہداء کے بے مثال جذبے کو سراہتے ہوئے ان کی قربانیوں کو یاد کرنے اور ان کی قدر کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے طلباء میں حب الوطنی کا مضبوط جذبہ پیدا کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرنے کے لیے یونیورسٹی کے عزم کا اعادہ کیا اور ان کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ ان بہادر افراد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے قوم کی ترقی اور خوشحالی میں اپنا کردار ادا کریں۔

 

یونیورسٹی آف چترال تمام شرکاء، فیکلٹی ممبران اور مہمانوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہے جنہوں نے اس تقریب میں شرکت کی اور اسے شاندار کامیابی سے ہمکنار کیا۔ یونیورسٹی ایسے اقدامات کے انعقاد کے لیے پرعزم ہے جو نہ صرف شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں بلکہ ہمارے پیارے وطن کی حفاظت کے لیے ہماری مسلح افواج کی جانب سے دی گئی قربانیوں کی یاد دہانی کا کام بھی کرتے ہیں۔

chitraltimes chitral university observed yome takreem shuhada 3

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
74905

یونیورسٹی آف چترال میں آفس منیجمنٹ اور کمپوٹر سکلز میں دو ہفتوں کی تربیتی پروگرام کا آغاز

Posted on

یونیورسٹی آف چترال میں آفس منیجمنٹ اور کمپوٹر سکلز میں دو ہفتوں کی تربیتی پروگرام کا آغاز

چترال ( چترال ٹایمز رپورٹ ) یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ نے یونیورسٹی کے انتظامی اور معاون ملازمین کے لئے ہائیر ایجوکیشن کمیشن کے ہدایات کے مطابق دو ہفتوں پر محیط تربیتی پروگرام کا افتتاح کر دیا ہے اس موقع پر وائس چانسلر نے اپنے افتتاحی خطاب میں جدید اور ابھرتے ہوئے ٹیکنالوجیز میں ملازمین کی استعداد اور مہارت بڑھانے کے لئے تربیتی پروگرام کی اہمیت پر زور دیا انہوں نے مذید کہا کہ تربیتی پروگرام کا مقصد ملازمین کی پیداواری اور تخلیقی صلاحیتوں میں مذید نکھار پیدا کرنا ہے انہوں نے یونیورسٹی ملازمین پر زور دیا ہے کہ وہ اس تربیتی پروگرام سے فائدہ اٹھا کر اپنے آ پ کو دور حاضر کے جدید علوم اور تکنیک سے مزین کریں تاکہ یونیورسٹی آف چترال کو ترقی کے نئی بلندیوں تک پہنچایا جا سکے .

chitraltimes computer training for university employes of uoch2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
69735

یونیورسٹی آف چترال کے لیے سین لشٹ میں اراضی کے حصول کے لیے زمین مالکان کو معاوضہ کی ادائیگی شروع کردی گئی

یونیورسٹی آف چترال کے لیے سین لشٹ میں اراضی کے حصول کے لیے زمین مالکان کو معاوضہ کی ادائیگی شروع کردی گئی

چترال چترال ٹایمز رپورٹ ) وائس چانسلر یونیورسٹی آف چترال پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ کی انتھک کوشش اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی معاونت سے یونیورسٹی آف چترال نے ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا۔ یونیورسٹی آف چترال کے لیے سین لشٹ چترال میں 200 کنال اراضی کے حصول کے لیے زمین کے مالکان کو معاوضہ کی ادائیگی ڈی سی آفس لوئر چترال کی جانب سے شروغ کر دیا گیا۔ گزشتہ دن ڈپٹی کمشنر انوار الحق نے زمین مالکان میں چیک تقسیم کی۔ یونیورسٹی کی طرف سے جاری پریس ریلیز کے مطابق زمین کی حصول کا مرحلہ آئیندہ 2، 3 روز میں مکمل کر لیا جائے گا۔ اس کے بعد کنسلٹنٹ جو کہ پہلے ہی ہائر کیا جا چکا ہے۔ سائٹ پر عملی کام جلدی شروع کریگا۔ وائس چانسلر یونورسٹی آف چترال پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ کی زیر قیادت یونیورسٹی کی ترقی کا سفر جاری ہے ۔

اس موقع پر یونیورسٹی انتظامیہ نے وزیراعلیٰ محمود خان، معاون خصوصی وزیر زادہ، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش،سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن داوود خان، اور ڈپٹی کمشنر انوارالحق کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے زمین کی حصول کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی بھر پور مدد کی۔ اور وائس چانسلر نے امید ظاہر کی کہ آئیندہ بھی ان سب کا تعاون اس طرح جاری رہے گا۔

chitraltimes dc lower chitral anwarulhaq distributes cheques university compansation 2 chitraltimes dc lower chitral anwarulhaq distributes cheques university compansation 1

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
69483

یونیورسٹی آف چترال اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی سینٹ کے الگ الگ اجلاس

Posted on

یونیورسٹی آف چترال اور اسلامیہ کالج یونیورسٹی کی سینٹ کے الگ الگ اجلاس

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) صوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش (پروچانسلر) کی زیرصدارت بدھ کے روز گورنرہاؤس پشاور میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور اور یونیورسٹی آف چترال کی سینٹ کے الگ الگ خصوصی اجلاس منعقد ہوئے۔یونیورسٹی آف چترال کی سینٹ اجلاس میں یونیورسٹی کے سٹیٹیوٹس میں ترامیم پیش کئے گئے جس کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔یونیورسٹی کو صوبائی حکومت کی طرف سے منظورشدہ فنڈ کی ریلیز کے حوالے سے صوبائی وزیر کامران بنگش کاکہناتھاکہ وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ سینٹ نے ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندہ کوبھی درخواست کی کہ یونیورسٹی کے بقایافنڈ کو جلد ازجلد ریلیز کیاجائے۔

 

دریں اثناء اسلامیہ کالج یونیورسٹی کے سینٹ اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹی کے مالی سال 2022-23 کے سالانہ بجٹ کو ریشنلائز کرنے کیلئے قائم کی گئی کمیٹی کے سفارشات کو پیش کیاگیا جس کی متفقہ طور پر منظوری دی گئی۔ واضح رہے کہ گذشتہ سینٹ اجلاس میں اسلامیہ کالج یونیورسٹی کا سالانہ بجٹ 2022-23 میں صرف ملازمین کی تنخواہوں اورپنشن پر مشتمل حصہ منظور کیاگیاتھا جبکہ بجٹ کے اعداد و شمار کو دوبارہ دیکھنے اوراسے ریشنلائز کرنے کیلئے اسے ایک خصوصی کمیٹی کے حوالے کیاگیاتھا۔ اجلاس میں اسلامیہ کالج کی ملکیتی جائیدادکے حوالے سینٹ کی ایک خصوصی کمیٹی بھی قائم کی گئی جو کہ یونیورسٹی ملکی جائیداد کے معاملات پر نظررکھے گی۔

 

اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے صوبائی وزیرکامران بنگش نے بڑھتی ہوئی فیس کے معاملے پر یونیورسٹی انتظامیہ کوہدایت کی کہ موجودہ سیلاب اور کورونا جیسی آفات کو مدنظر رکھتے ہوئے فیس میں اضافے کا معاملہ پر سینڈیکٹ میں نظرثانی کیلئے پیش کیاجائے اور طلباء کے والدین کو فیس میں ریلیف دی جائے۔ اجلاس میں سیکرٹری اعلٰی تعلیم محمدداؤدخان،سپیشل سیکرٹری اعلٰی تعلیم راشد پائندہ خیل،ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ، ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت اسلامیہ کالج یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلرز کے علاوہ سینٹ کے دیگر اراکین موجود تھے۔

chitraltimes senate meeting university of chitral pesh

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
67591

یونیورسٹی آف چترال میں یوم آزادی کے حوالے سے تقریب اور جیب ریلی کا اہتمام کیا گیا

Posted on

یونیورسٹی آف چترال میں یوم آزادی کے حوالے سے تقریب اور جیب ریلی کا اہتمام کیا گیا

چترال(نمایندہ چترال ٹایمز)یونیورسٹی آف چترال نے ملک کا 75واں یوم آزادی روایتی جوش و جذبے کے ساتھ منایا۔ اس سلسلے میں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی آف چترال کے لان میں ایک پروگرام کا انعقاد کیا گیا۔ تقریبات کا آغاز قومی ترانے سے ہوا۔ یونیورسٹی آف چترال کے مین کیمپس میں پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ مہمان خصوصی تھے۔ انہوں نے قوم کو آزادی کے 75 شاندار سال مکمل ہونے پر مبارکباد دی۔ وائس چانسلر نے سرسید احمد خان، علامہ اقبال اور قائداعظم محمد علی جناح سمیت قوم کے عظیم رہنماؤں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ آزادی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بہت بڑی نعمت ہے۔ پروگرام میں طلباء، فیکلٹی ممبران اور انتظامی عملہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کے اختتام پر سپورٹس ویک کی ونر اور رنر اپ ٹیموں میں ٹرافیاں اور سرٹیفیکیٹس تقسیم کئے گئے۔ یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے یونیورسٹی کیمپس سے جغور پل تک ایک جیپ ریلی بھی نکالی گئی۔ ریلی میں طلباء اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ ریلی کے اختتام پر وائس چانسلر نے ریلی کے شرکاء کا شرکت کرنے پر شکریہ ادا کیا۔

chitraltimes chitral university independence day program3 chitraltimes chitral university independence day program2 chitraltimes chitral university independence day program

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
64581

یونیورسٹی آف چترال  کو مالی بحران سے نکالنے کیلیے فورا فنڈز ریلیز کیے جاییں۔۔ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چترال

Posted on

یونیورسٹی آف چترال  کو مالی بحران سے نکالنے کیلیے فورا فنڈز ریلیز کیے جاییں۔۔ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چترال

چترال ( چترال ٹایمز رپورٹ ) ناظم اسلامی جمعیت طلبہ چترال مستظہر باللہ داور نے کہا کہ گزشتہ دنوں سے یونیورسٹی آف چترال کے حوالے سے مایوس کن خبریں گردش کر رہی ہیں۔ سننے میں آیا ہے کہ نیورسٹی آف چترال بحران کا شکار ہو چکی ہے۔

یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق یونیورسٹی آف چترال کو مالی سال 2022-2023 کے ہائر ایجوکیشن کمیشن میں چلنے والے فنڈنگ اسکیم میں شامل نہیں کیا گیا ہے اور نہ ہی وزیر اعلی کی جانب سے منظور شدہ 200 ملین فنڈز جاری کیے گئے ہیں بتایا جا رہا ہے کہ تدریسی عملہ اور انتظامی عملہ کو گزشتہ دو مہینوں سے تنخواہیں نہیں ملی ہیں اور یونیورسٹی ماہ جولائی کی تنخواہیں بھی ادا کرنے سے قاصر ہے۔

متعلقہ اداروں اور صوبائی حکومت کا چترال کے ساتھ یہ برتاؤ نہایت ہی قابل مذمت ہے۔ چترال ہمیشہ سے ایک پسماندہ علاقہ رہا ہے ترقیاتی امور کے لحاظ سے بھی اور تعلیم کے لحاظ سے بھی۔ چترال کے باشندوں میں حصول علم کے شوق کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ چترال کا شرح خواندگی 75 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور پورے صوبے میں شرح خواندگی کے لحاظ سے چترال دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ چترال کے طالب علم، علم حاصل کرنے کے لیے شہروں کا رخ کرتے ہیں یہاں کے بڑے یونیورسٹیز کے فیس اور رہنے اور کھانے پینے کے اخراجات جو بہت کم ہی کوئی اٹھا سکتا ہے۔ چترال کا اکثریتی آبادی اوسط طبقے کے لوگوں پر مشتمل ہے جو بمشکل اپنے آمدنی سے گھر کے معاملات چلاتے ہیں۔ یونیورسٹی آف چترال کا قیام ایک بہت ہی اہم پیش رفت تھا مگر دکھ کی بات یہ ہے کہ ابھی تک یونیورسٹی کے لیے اپنی بلڈنگ کا بندوبست نہ کوئی ڈھنگ کی پیش رفت گئی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ چترال صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ خدارا چترالی قوم کے ساتھ مذید ظلم اور زیادتی نہ کرے۔ وہ نوبت نہ آئے کہ ہم طالب علم سراپا احتجاج اور سڑکوں پر نکل آئے اور ہمیں اپنے حقوق چھیننا پڑے۔
یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ حصول علم کے معاملات کو شہریوں کے لیے آسان بنائے۔

تعلیمی معاملات کرونا وبا کی وجہ سے پہلے ہی بہت متاثر ہو چکی ہیں اب حکومت اپنے ناقص فیصلوں کی وجہ سے طالب علموں کو مزید مشکل میں نہ ڈالے۔ اسلامی جمعیت طلبہ چترال صوبائی حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس معاملے کو جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ اساتذہ کرام اور طالب علم بغیر کسی پریشانی کے درس و تدریس کا کام جاری رکھیں اور اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر ملک و ملت کی خدمت کر سکیں۔

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
64097

یونیورسٹی آف چترال کیلئے زرعی زمینات لے کرہمیں بے گھر نہ کیا جائے۔ اہالیان سین

یونیورسٹی آف چترال کیلئے ہماری زرعی زمینات لے کرہمیں بے گھر نہ کیا جائے۔ اہالیان سین  کاایم این اے چترالی کے ہمراہ پریس کانفرنس

چترال (نمایندہ چترال ٹایمز) چترال ٹاؤن کے نواحی گاؤں سین کے رہائشی شمس الرحمن، حاجی محمد اکبر خان، محمد ظفر خان، وزیر خان، جمال الدین، دردانہ شاہ، ادینہ شاہ، حجیب الرحمن، اعجاز احمد اور دوسروں نے ایم این اے چترال مولانا عبدالاکبر چترالی کی معیت میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ یونیورسٹی آف چترال کے لئے ان کی زرعی زمینات لے کر انہیں بے گھر نہ کیا جائے جبکہ اس مقصد کے لئے اسپاغ لشٹ کے مقام پر پہلے ہی 166کنال زمین لیا جاچکا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مجوزہ زمین 350گھرانوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس زمین کو ریاستی طاقت اور زور زبردستی سے یونیورسٹی کے لئے حاصل کرنے کا مطلب انہیں بے گھر کرکے نقل مکانی پر مجبور کرنا ہے جسے وہ کبھی بھی قبول نہیں کریں گے۔

انہوں نے کہاکہ چترال میں پہلے ہی زرعی زمین کی قلت ہے اور بارے میں عدالتی فیصلہ بھی موجود ہے کہ زرعی اراضی پر سرکاری بلڈنگ نہیں بنائے جاسکتے جس کی روشنی میں سین میں یونیورسٹی کے لئے زمین کا لینڈ ایکوزیشن ایکٹ کے تحت جبری حصول عدالت کی حکم عدولی کے زمرے میں بھی آتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ان تین سو پچاس گھرانوں کا ذیادہ تر بسر اوقات ان زرعی زمینات پر ہے جہاں یہ آناج اور سبزی اور حیوانات کے لئے چارہ کاشت کرتے ہیں اور ان سے محرومی کی صورت میں ان گھرانوں کے ڈھائی ہزار سے ذیادہ افراد غذائی قلت کا بھی شکار ہوں گے اور انہیں زندگی بھر فاقوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ سین کے عوام نے پہلے ہی سرکار کو زرعی تحقیقی اسٹیشن، ٹیکنیکل کالج اور گرم چشمہ روڈ کے لئے زمین دے چکے ہیں جس کی وجہ سے ان کے پاس زرعی زمین کی مقدار پہلے ہی کم رہ گئی ہے اور اب یونیورسٹی کے لئے زمین دینے کے متحمل ہرگز نہیں ہوسکتے۔مولانا عبدالاکبرچترالی نے اہالیان سین کے موقف کی مکمل حمایت اور تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ ان کو بے گھر کرکے یونیورسٹی قائم کرنا کسی بھی طرح انصاف نہیں ہے جبکہ اس مقصد کے لئے زمین پہلے ہی لی جاچکی ہے جوکہ ایک آئیڈیل مقام پر واقع ہرقسم کی قدرتی آفات سے بھی محفوظ ہے۔ انہوں نے ہر فورم پر اہالیان سین کا ساتھ دینا کا اعلان کیا۔

chitraltimes mna chitrali press confrence for chitral university2

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
63543

یونیورسٹی آف چترال اور پشاور کی سینٹ کے الگ الگ اجلاس، چترال یونیورسٹی کا بجٹ بعض تکینکی وجوہات کی بنا پر منظور نہ ہوسکا

یونیورسٹی آف چترال اور پشاور کی سینٹ کے الگ الگ اجلاس، چترال یونیورسٹی کا بجٹ بعض تکینکی وجوہات کی بنا پر منظورنہ ہوسکا

پشاور ( نمایندہ چترال ٹایمز ) صوبائی وزیربرائے اعلٰی تعلیم کامران بنگش (پروچانسلر) کی زیرصدارت یونیورسٹی آف پشاور اور یونیورسٹی آف چترال کی سینٹ کے گورنر ہاؤس پشاور میں منگل کے روز الگ الگ اجلاس منعقد ہوئے۔ پشاور یونیورسٹی کا آئندہ مالی سال 2022-23 کا بجٹ مذکورہ یونیورسٹی کے سینڈیکیٹ اجلاس میں پیش نہیں کیا جا سکا تھا اس لئے سینٹ نے پشاور یونیورسٹی کو مالی سال 2022-23 کا بجٹ سینڈیکیٹ اجلاس میں پیش کر کے دوبارہ آئندہ سینٹ اجلاس میں منظوری کیلئے لانیکی ہدایت کی۔ سینٹ اجلاس میں یونیورسٹی ملازمین کیجانب سے گزشتہ سینڈیکیٹ اجلاس کے سائز اور فیصلوں سے متعلق پشاور ہائیکورٹ میں دائر رٹ پٹیشن پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جس میں عدالت کیجانب سے چانسلر آفس کو معاملہ دیکھنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ سینٹ اجلاس میں اس حوالے سے رکن صوبائی اسمبلی پیر فدا کی سربراہی میں سینٹ کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔ محکمہ اعلٰی تعلیم،محکمہ خزانہ، اسٹیبلشمنٹ، محکمہ قانون کے نمائندوں پر مشتمل کمیٹی یونیورسٹی ملازمین کے گزشتہ سینڈیکیٹ کا کورم مکمل نہ ہونے اور فیصلوں سے متعلق اعتراضات پر اپنی رپورٹ 7 روز میں آئندہ سینٹ اجلاس میں پیش کرے گی۔ سینٹ نے ہائر ایجوکیشن کمیشن کو مختلف الاؤنسز بشمول اردلی الاؤنس سے متعلق اپنی سفارشات ایک ماہ کے اندر چانسلر دفتر کو بجھوانے کی ہدایت بھی کی۔

یونیورسٹی آف چترال کے سینٹ اجلاس میں مذکورہ یونیورسٹی کا آئندہ مالی سال2022-23 کا بجٹ غیر معمولی خسارے اور بعض تکنیکی وجوہات کی بنیاد پر منظور نہیں کیا گیا۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن، محکمہ اعلٰی تعلیم، محکمہ خزانہ، محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور چانسلر آفس، یونیورسٹی آف چترال کے مالی سال 2022-23 کے بجٹ کا دوبارہ مشترکہ جائزہ لیں گے۔ سینٹ اجلاس میں چترال یونیورسٹی کو تعیناتیوں سے متعلق طے شدہ سائز یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی۔ سینٹ اجلاس کا ہائیر ایجوکیشن کمیشن کیجانب سے نئی یونیورسٹیوں کو فنڈز نہ ملنے پر بھی مایوسی کا اظہار کیا گیا۔ اس موقع پر کامران بنگش کا کہنا تھا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن کی منظوری سے نئی یونیورسٹیوں کا قیام عمل میں لایا جاتا ہے لیکن منظوری کے باوجود ایچ ای سی سے نئی یونیورسٹیوں کو مطلوبہ فنڈز نہ ملنا قابل افسوس ہے۔اگر ایچ ای سی مطلوبہ فنڈز نہیں دے گا تو صوبہ کی نئی یونیورسٹیاں بیٹھ جائیں گی۔ سینٹ کے الگ الگ اجلاسوں میں پشاور سے رکن صوبائی اسمبلی پیر فدا، چترال سے رکن صوبائی اسمبلی وزیر زادہ، مذکورہ یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز پروفیسر ڈاکٹر محمد ادریس، پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ، سیکرٹری محکمہ اعلٰی تعلیم داؤد خان، ایڈیشنل سیکرٹری برائے گورنر سیف الاسلام،محکمہ خزانہ،محکمہ اسٹیبلشمنٹ اور ہائرایجوکیشن کمیشن کے نمائندوں سمیت سینٹ کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔#

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
62376

جامعہ چترال کے سینڈیکیٹ کا اجلاس، کم از کم تنخواہ ایکس ہزار روپے کی منظوری سمیت متعدد فیصلے

جامعہ چترال کے سینڈیکیٹ اجلاس، کم از کم تنخواہ ایکس ہزار روپے کی منظوری سمیت متعدد فیصلے

چترال ( چترال ٹایمز رپورٹ ) یونیورسٹی آف چترال کے سینڈیکیٹ کے دوسرا اجلاس کاکامیابی سےانعقاد کیا گیا۔ ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ، کم ازکم تنخواہ ایکس ہزار روپے سمیت متعدد فیصلےکئےگئے۔اورچارنئے شعبہ جات کھولنے کی سفارش کی گئی۔


جامعہ چترال کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری شدہ پریس ریلیز کے مطابق جامعہ کے دوسرے سینڈیکیٹ کا اجلاس مورخہ دس اور گیارہ فروی کو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظاہر شاہ کی زیر صدارت منعقد کیا گیا جس میں دستیاب تمام اراکین نے شرکت کیا۔ اجلاس میں متعدد فیصلے کئےگئے۔ تفصیلات کے مطابق پہلے سینڈیکیٹ کے منٹس اورفیصلوں پرعملدرآمد کی توثیق کی گئی، مزید برآں جامعہ کے فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کی سفارشات کی منظوری دیتے ہوئے ملازمین کو دس فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کی منظوری دی گئی،اور ہاؤس رینٹ الاؤنس میں اضافہ کیاگیا۔ اس کے علاوہ بیس فیصد ٹیچنگ الاؤنس، پےسکیل17 اور اوپر کے ملازمین کیلئے بیس فیصد اسپیشل الاؤنس، بی پی ایس ایک سات سے 16 کیلئے مبلغ 3500 روپے ماہانہڈیسپیرٹیریڈکشن الاؤنس جبکہ بنیادی اسکیل ایک تا چھ تک کے ملازمین کیلئےانٹیگریٹڈ الاؤنس، واشنگ الاؤنس، ڈریس الاؤنس میں اضافے اور کم از کم تنخواہ مبلغ 21000 روپے ماہانہ اور وزینٹنگ فیکلٹی کے مشاہرے میں بھی خاطر خواہ اضافے کی منظوری دی گئی، تاہم تنخواہوں اور مشاہرے میں اضافے کو حکومت کی طرف سے منظورشدہفنڈ کی فراہمی سے مشروط کیاگیاہے۔

پریس ریلیز میں وضاحت کی گئی ہے کہ حکومت کی جانب سے یونیورسٹی کے بجٹ برائے مالی سال 22-2021 کی منظوری پچھلے سال جون میں دی گئی تھی تاہم منظور شدہ بجٹ کی مد میں ابھی تک حکومت کی جانب سے جامعہ کو کوئی فنڈ مہیانہیں کئےگئے ہیں۔
اجلاس میں جامعہ کےمستقل ملازمتوں کے لئے آسامیوں کےتخلیق کی سفارش کی گئی،اور مستقل ملازمتوں پر تعیناتی کیلئے جامعہ کے سیلیکشن کمیٹی اور سلیکشن بورڈ کی تشکیل کی گئی، اور ملازمتوں میں مروجہ حکومتیکوٹہ پالیسی کی روشنی میں جامعہ کے لئے کوٹہ پالیسی کی بھی منظوری دے دی گئی۔ جامعہ میں چار نئے شعبوں بشمول شعبہ اسلامیات و مذہی تعلیمات، شعبہکیمسٹری، شعبہ فزکس اور شعبہ ایگریکلچر کھولنے کی بھی سفارش کی گئی۔ سینڈیکیٹ نے جامعہ کے دو اساتذہ کو مطالعاتی رخصت (اسٹڈی لیو) دینے کیلئےوائس چانسلر کو اخیتار دے دیا۔ اور جامعہ کے متعدد ملازمین کے سروس کی مستقلی کی کیسزکیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی۔


سینڈیکیٹ نے ایکڈیمک کونسل کے متعدد سفارشات کی منظور دی جن میں شعبہ جات کے بورڈز آف سٹڈیزبرائے بی ایس اور ایم اے ایم ایس سی پروگرام، ڈگری کی مجوزہ فارمیٹ، طلبہ کیلئےضابطہء اخلاق اور ہیراسمنٹ پالیسی شامل ہیں۔

chitraltimes university of chitral indicate meeting 2nd 1
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
58395