Chitral Times

گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول بانگ میں سولہ ٹیچنگ اسٹاف کی کمی، طلباو طالبات کی پڑہائی بری طرح متاثر، فوری اسٹاف مہیا کیا جائے، منتخب بلدیاتی نمایندگان

Posted on

گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول بانگ میں سولہ ٹیچنگ اسٹاف کی کمی، طلباو طالبات کی پڑہائی بری طرح متاثر، فوری اسٹاف مہیا کیا جائے، منتخب بلدیاتی نمایندگان

مستوج ( نمایندہ چترال ٹایمز ) ویلج کونسل بانگ اور وی سی میراگرام نمبر۲ کے عمایدین کا ایک ہنگامی اجلاس وی سی آفس بانگ میں چیرمین شیر نواز خان کی زیر صدارت منعقد ہوا ۔ جس میں وی سی چیئرمین میراگرام نمبر ۲، کونسلرز اور علاقے کے عمائدین کثیر تعداد میں شرکت کی۔اجلاس یک نکاتی ایجنڈا گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول بانگ اپر چترال  میں اسٹاف کی کمی کے حوالے سے منعقد کیا گیا تھا ۔ اجلاس کے شرکا نے اس بات پر انتہائی تشویش اور افسوس کا اظہار کیا کہ علاقے کی واحد سیکنڈری سکول میں کئی عرصے سے اسٹاف کی کمی کا سامنا ہے ، جبکہ محکمہ رہی سہی کثر باقی ماندہ اسٹاف کو امتحانی ڈیوٹی لگاکر پوری کرتا ہے ۔ اجلاس میں ایک متفقہ قرار داد کے زریعے محکمہ تعلیم سے اسٹاف کی تعیناتی کا مطالبہ کیا گیاکہ ہائیرسیکنڈری سکول بانگ میں 16ٹیچنگ اسٹاف کی کمی ہے جبکہ غیر مقامی اسٹاف سکول میں تبادلے کے کچھ عرصے بعد اپنا اثررسوخ استعمال کرکے ٹینیور مکمل کیے بے غیر یہاں سے اپنا تبادلہ کراتے ہیں ۔ جس کا فوری نوٹس لیاجائیے۔ قرار داد میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ کسی بھی سکول میں ایک سے زیادہ اساتذہ کی امتحانی ڈیوٹی لگانے پر پابندی لگائی جایے۔ جبکہ بعض سکولوں میں بہ یک وقت چار سے پانچ اساتذہ کی امتحانی ڈیوٹی لگائی جاتی ہے۔ جس کی وجہ سے طلبا وطالبا ت کی پڑھائی متاثرہوتی ہے۔ علاقے کے عمایدین قرار داد کے زریعے سیکریٹری و ڈائیریکٹر محکمہ سیکنڈری اینڈ ایلمنٹری ایجوکیشن خیبرپختونخوا سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر گورنمنٹ ہائیرسیکنڈری سکول بانگ میں اسٹاف کی کمی کو پوراکرکے پسماندہ علاقے کے بچوں اور بچیوں کی تعلیمی سال کو بچایا جایے۔

chitraltimes resolution for ghss bang staff

 

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
74783

گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول بانگ یارخون کی ایس ایس کی خالی آسامیاں بلا تاخیر پُر کی جائیں۔شیر ولی خان اسیر

Posted on

گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول بانگ یارخون کی ایس ایس کی خالی آسامیاں بلا تاخیر پُر کی جائیں۔شیر ولی خان اسیر

جب بانگ یارخون میں ہائیر سیکنڈری اسکول قائم ہوا تو عوام خوش تھے کہ ان کے بچوں کو انٹر تک مفت تعلیم حاصل ہوگی۔ علاقے کی پسماندگی اور دور افتادگی یہاں کے بچوں کی تعلیم کی راہ میں رکاوٹ رہی تھی۔ ان کی اس مشکل کو حل کرنے کے لیے راقم نے 2009 میں یہاں انٹر میڈیٹ کالج قائم کیا تھا۔ بعد میں اسے ڈگری کالج کا درجہ دیا گیا تھا۔ بہت ہی معمولی فیس بچوں سے لی جاتی تھی وہ بھی ان کے والدین ادا کرنے سے قاصر تھے۔

گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول بانگ کو جب ترقی دی گئی تو ہمیں لگا کہ عوام کا بڑا مسلہ حل ہوگیا۔ لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔
سال روان کے دوران مجھے دو مرتبہ اسکول کی تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ پچھلی دفعہ یوم والدین کی تقریب تھی۔ اس کی روداد میں نے لکھی تھی۔ اس وقت تدریسی عملے کی کل منظور شدہ اسامیوں میں سے صرف 13 آسامیاں پر تھیں۔ 17 آسامیاں خالی تھیں۔ میرا خیال تھا کہ تعلیمی سال کے شروع ہونے کے ساتھ خالی آسامیاں پر کی جائیں گی۔ آج پتہ چلا کہ مزید دو پوسٹیں اور خالی کر دی گئی ہیں۔ ایک مقامی سبجیکٹ اسپیشلسٹ نے یہاں سے اپنا تبادلہ کرایا ہے جب کہ ایک غیر مقامی ایس ایس ٹی کو بھی یہاں سے تبدیل کر دیا گیا ہے۔ اس وقت صرف ایک ایس ایس موجود ہے جسے تدریسی کام کے ساتھ اسکول کا نظم و نسق بھی سنبھالنا پڑ رہا ہے۔ محکمہ تعلیم ایلمنٹری اور سیکنڈری ایجوکیشن کے پی کا یہاں کے طلبہ کے ساتھ یہ بھونڈا مذاق ہے۔ بچوں کی تعلیمی زندگی برباد کی جا رہی ہے۔ اسکول میں موجود پست کلاسوں کا تدریسی عملہ انٹر کلاسوں کی پڑھائی جاری رکھنے کی اپنی سی کوششیں کر رہا ہے تاہم درست معنوں میں بچوں کی تعلیم و تربیت ان کے بس کی بات نہیں ہے۔ اسکول ہذا میں طلبہ کی تعداد 600 ہے۔ گیارہ اساتذہ محض ان کے نظم و ضبط کی نگرانی مشکل سے کر سکتے ہیں۔

اس مختصر رپورٹ کے ذریعے سیکرٹری تعلیم ، ڈائریکٹر تعلیم(ای اینڈ سی) پختونخوا اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر اپر چترال سے گزارش ہے کہ خدا را جی ایچ ایس ایس بانگ یارخون میں ایس ایس کی خالی آسامیاں بلا تاخیر پُر کی جائیں۔ طلبہ مزید تعلیمی خسارہ برداشت نہیں کر سکتے۔ عوام اور طلبہ کے سڑکوں پر آنے سے پہلے اسکول میں اسٹاف کی کمی دور کی جائے۔

شیرولی خان اسیر
پرنسپل (ر) یارخون ضلع اپر چترال

Posted in تازہ ترین, خطوط, مضامینTagged
64322