Chitral Times

گورنر حاجی غلام علی کا مدت ملازمت مکمل کرنیوالے وائس چانسلرز کے اعزاز میں ظہرانہ

گورنر حاجی غلام علی کا حالیہ مدت ملازمت مکمل کرنیوالے پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کے اعزاز میں ظہرانہ

گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی سے مولانا طاہر اشرفی کی ملاقات،ملاقات میں صوبہ میں امن و امان،مذہبی ہم آہنگی سے متعلق تبادلہ خیال
ظہرانہ میں نگران صوبائی وزیر برائے اعلٰی تعلیم پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان، وائس چانسلر کوہاٹ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر سردار خان، وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق، وائس چانسلر یو ای ٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین، وائس چانسلر باچا خان یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد خان، وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خیر الزمان نے شرکت کی

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ )گورنرحاجی غلام علی نے حالیہ مدت ملازمت مکمل کرنیوالے 7 پبلک سیکٹرز یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرز کو پیر کے روز گورنر ہاوس مدعو کیا اور ان کے اعزاز میں پروقار ظہرانہ دیا جس میں نگران صوبائی وزیر برائے اعلٰی تعلیم پروفیسر ڈاکٹر قاسم جان بھی شریک تھے۔ گورنر کیجانب سے دئے گئے ظہرانہ میں وائس چانسلر کوہاٹ یونیورسٹی آف سائنس اینڈٹیکنالوجی پروفیسر ڈاکٹر سردار خان، وائس چانسلر عبدالولی خان یونیورسٹی مردان پروفیسر ڈاکٹر ظہور الحق، وائس چانسلر یو ای ٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر افتخار حسین، وائس چانسلر باچا خان یونیورسٹی چارسدہ پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد خان، وائس چانسلر بنوں یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر خیر الزمان نے شرکت کی۔ پروقار ظہرانہ کی تقریب میں گورنر نے مدت ملازمت مکمل کرنیوالے وائس چانسلرز کو انکی خدمات کے اعزاز میں تعارفی شیلڈز بھی پیش کیں۔ ریٹائرڈ ہونیوالے وائس چانسلرز نے اپنے اعزاز میں پروقار ظہرانہ اور عزت افزائی پر گورنر خیبرپختونخوا کا دلی شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاوس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ریٹائرڈ ہونیوالے وائس چانسلرز کو اتنی عزت افزائی بخشی گئی جس پر ہم چانسلر حاجی غلام علی کی محبتوں اور مہمان نوازی کا شکریہ ادا کرتے ہیں. انہوں نے کہا کہ چانسلر آفس کی ہدایات اور صوبائی حکومت کی تعلیمی پالیسی کے مطابق انہوں نے اپنی پوری محنت و دیانتداری سے فرائض کی انجام دہی کو یقینی بنایا۔مالی نامساعد حالات کے باعث جامعات میں مسائل اور یونیورسٹی ملازمین کیجانب سے احتجاج و ناراضگی کی صورتحال سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ اپنے عرصہ تعیناتی کے دوران کوشش رہی کہ مالی و تعلیمی نظم و ضبط برقرار رکھیں۔ گورنرنے اس موقع پر ریٹائرڈ ہونیوالے وائس چانسلرز کو انکی تعلیمی خدمات پر خراج تحسین پیش کیااورکہاکہ وائس چانسلرز صرف یونیورسٹی نہیں بلکہ معاشرے میں ایک باوقار مقام رکھتے ہیں،وائس چانسلرز سمیت تمام اساتذہ کا میرے نزدیک انتہائی عزت و احترام کا رشتہ ہے، معاشرہ میں پرائمری سکول کے استاد کو بھی انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے جبکہ وائس چانسلر تو نوجوان مستقبل کے معمار ہوتے ہیں، وائس چانسلر کا بطور ٹیم لیڈر یونیورسٹی میں انتہائی اہمیت کا کردار ہوتا ہے،سبکدوش ہونیوالے تمام وائس چانسلرز کو اپنی کامیابیوں و ناکامیوں پر نظر دوڑانا ہو گی۔ گورنرنے کہاکہ چانسلر آفس اور صوبائی حکومت کیجانب سے ہمیشہ یونیورسٹی کی بہتری کیلئے وائس چانسلرز کی مکمل معاونت کی جاتی ہے، وائس چانسلر کو تعلیمی شعبہ کی بہتری کیلئے طلباء وطالبات، یونیورسٹی ملازمین کو ساتھ لیکر چلنا پڑتا ہے۔گورنرنے اس موقع پر تمام سبکدوش ہونیوالے وائس چانسلرز کیلئے مستقبل کیلئے نیک تمناؤں کا بھی اظہارکیا۔

chitraltimes governor meeting with ps vcs 2

 

نگران وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی و مشرق وسطٰی مولانا طاہر اشرفی پیرکے گورنر ہاؤس پشاور پہنچے اورگورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی سے ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبہ میں امن و امان،مذہبی ہم آہنگی سے متعلق تبادلہ خیال کیاگیا۔ملاقات میں غزہ میں صیہونی فوج کے مظالم اور فلسطینی عوام کی نسل کشی کی مذمت کی گئی۔مولانا طاہر اشرفی نے گورنر کو بین المذاہب ہم آہنگی اور مشرق وسطٰی و اسلامی ممالک میں مقیم پاکستانیوں کے فلاح سے متعلق امور سے بھی آگاہ کیا۔اس موقع پر گورنرنے کہاکہ غزہ میں نہتے فلسطینیوں کے قتل عام کو رکوانے میں عالمی قوتوں اور اسلامی ممالک کو موثر کردار ادا کرنا چاہئے۔اکیسویں صدی امن، تجارت، ترقی و خوشحالی کی صدی ہے، مغربی ممالک کو چاہئیے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں امن واستحکام کیلئے کردار ادا کریں۔

chitraltimes governor kp meeting with fm religious affair

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
83155

صوبے میں 18 انڈسٹریل اسٹیٹ بنائے گئے، کاروباری و معیشت کی ترقی کے لیے تجارت کا فروغ ضروری ہے، گورنر حاجی غلام علی

Posted on

صوبے میں 18 انڈسٹریل اسٹیٹ بنائے گئے، کاروباری و معیشت کی ترقی کے لیے تجارت کا فروغ ضروری ہے، گورنر حاجی غلام علی

بزنس کمیونٹی کو مضبوط رکھنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے، مسائل کو حل کرنے میری جدوجہد جاری رہے گی، پیش گوئی یاد رکھ لیں، صوبے کے پسماندہ علاقے بہت جلد کامیاب ترین اضلاع ہونگے، دیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں عشائیہ سے خطاب

گورنر کو شاندار خدمات پر دیرچیمبر کی جانب سے گولڈمیڈل دیا گیا،بزنس کمیونٹی کیلئے مثالی خدمات پر گورنر کوخراج تحسین پیش کرتے ہیں، بزنس کمیونٹی

صوبے کی بزنس کمیونٹی بالخصوص ملاکنڈ ڈویڑن کو سنٹرل ایشیاء سے ملانے قابل عمل منصوبے پر کام کررہے ہیں، ریجنل کوآرڈینیٹر فیڈریشن آف پاکستان سرتاج احمد خان

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ بدقسمتی سے ہم وقتی فائدہ دیکھتے ہیں حالانکہ بیرون دنیا لانگ ٹرم پالیسیز مرتب کرکے عمل کرتی ہے، بزنس کمیونٹی کو ساتھ لے کر صوبے میں 18 انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کئے جاچکے ہیں،خیبرپختونخوا میں جامعات کا معیار بین الاقوامی طرز پر کرنے کی جدوجہد جاری ہے، چترال یونیورسٹی کو 1 ارب 70 کروڑ لاگت سے تعمیرکرنے کاسنگ بنیاد رکھ دیاہے، واڑی کیمپس کی بھی منظوری دی ہے، فیڈریشن آف پاکستان کے ریجنل کوآرڈینیٹر سرتاج احمد خان اور دیر چیمبر کے صدر نور عالم خان اور تمام بزنس کمیونٹی نے گورنر کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔ ان خیالات کا اظہار گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے گزشتہ روز لوئر دیر میں دیر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے دیے گئے عشائیہ سے خطاب کے دوران کیا۔ عشائیہ کی میزبانی دیر چیمبر کے صدر نور عالم خان، کابینہ، ایگزیکٹو ممبران نے کی۔ عشائیہ میں سابق صوبائی نگران وزیر حاجی فضل الہی، فیڈریشن آف پاکستان کے صوبائی چیئرمین قیصر خان داودزئی، ملاکنڈ چیمبر آف کامرس کے صدر شعیب خان، ہری پور چیمبر کے صدر طیب سواتی، ملاکنڈچیمبر،باجوڑ چیمبر،صوابی چیمبر، چترال چیمبر اور دیر سمیت ایف پی سی سی آئی کے ایگزیکٹیو اور جنرل باڈی کے اراکین فضل رحیم، صاحب زادہ، اسرار خان، نور عالم، محمد اقبال خان، حسبان اللہ، محمد عدنان خان، انعام اللہ، چترال سے معراج حسین، حاجی فضل محمد سمیت مختلف چیمبرز کی صدور اور بزنس کمیونٹی شریک تھی۔ عشائیہ کے دوران باجوڑ کے گروپ لیڈر اور ای سی ممبر لالی شاہ نے بزنس مین پینل کی حمایت کا اعلان بھی کیا۔

 

تقریب سے سرتاج احمد خان اور نور عالم خان نے خطاب کرتے ہوئے جہاں گورنر حاجی غلام علی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا وہاں بی ایم پی کی دو سالہ کارکردگی اور دیر کی بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حوالے سے بھی گذارشات پیش کیں۔ گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ صدی ہم سے تقاضہ کرتی ہے کہ ہم اپنی نوجوان نسل کو عملی میدان کے لیے تیار کریں اور انہیں وٹس ایپ سے نکال کر ریسرچ اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں داخل کریں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں دیر پا منصوبہ بندی کرتے ہوئے کامیابی کی منازل کو طے کیا جاتا ہے جبکہ ہمارے ہاں زرخیز زمینوں اور قدرتی وسائل سے مالا مال ملک ہونے کے باوجود وقتی اور عارضی فائدے پر جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے قدرتی وسائل کا 60 فیصد ہر سال ضائع کرتے ہیں۔ حالانکہ حال ہی میں لکی مروت اور وزیرستان میں گیس کے ذخائر دریافت ہوئے، ہمارے پاس پانی ہے، موسم ہیں، معدنیات ہیں، بجلی ہے، کوئلہ ہے، لیکن پالیسیز اور ویژن کی کمی ہے۔ ہم نے اس پر کام کرنا ہے اور خاص کر یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل طلبہ کو ریسرچ کرکے اپنے اپنے علاقوں کے قدرتی وسائل کو سامنے لاناہوگا۔ ہر بات میں ریاست اور ملک کے خلاف ہرزہ سرائی کی بجائے ریاست اور ریاستی اداروں کاساتھ دیناہوگا، محنت کریں اور اللہ سے کامیابی کی امید رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ اس صوبے میں 18 انڈسٹریل اسٹیٹ قائم کئے گئے ہیں، سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہمیشہ کام کیا، بیرون دنیا سے تجارت کے مواقع بڑھانے کے ہر موقع کو حاصل کرنے کی پوری لگن سے جدوجہد کی، کامیابی بھی ملی، لیکن ابھی رستہ باقی ہے، منزل تک پہنچنا ہے۔

 

گورنر کا کہنا تھا کہ چترال یونیورسٹی کی ایک ارب 70 کروڑ کی لاگت سے تعمیرشروع کردی گئی ہے، واڑی میں بھی یونیورسٹی کیمپس کی منظوری دی ہے اور یاد رکھ لیں آنے والے مستقبل قریب میں پسماندہ علاقے کامیابی کی جانب بڑی تیزی سے گامزن نظر آئینگے کیونکہ میں نے طلبا و طالبات میں وہ جزبہ دیکھا ہے کہ کچھ کر دکھانا ہے۔ ہم نے اپنے نسلوں کا سوچنا ہے، نفرتوں کو ختم کرنا ہے۔ تقریب میں کاروبار اور روزگار کو بڑھاوا دینے والے کامیاب بزنس مینز کو یادگاری شیلڈز اور میڈلز بھی دیے گئے۔دیرچیمبر نے شاندار خدمات پر گورنر کو گولڈمیڈل دیا۔

chitraltimes kp governor visit upper dir bussiness community 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
82352

 دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے ملکی تعلیمی اداروں کوتعلیمی معیار میں صف اول میں لانا ہوگا،گورنر حاجی غلام علی

Posted on

 دنیا کا مقابلہ کرنے کیلئے ملکی تعلیمی اداروں کوتعلیمی معیار میں صف اول میں لانا ہوگا،گورنر حاجی غلام علی

گورنر کی شہید بینظیر بھٹووویمن یونیورسٹی کی جانب سے 5 روزہ دوستی پشاور وویمن لٹریچرفیسٹول کے منتظمین اورفیکلٹی اراکین سے ملاقات، فیسٹیول کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد

گورنرسے جنوبی وزیرستان سے میئر مولانامحمدصالح، باجو ڑسے سینیٹرمولاناعبدالرشید اور نجیب اللہ،اطلس خان، محمدسجاد لاکھانی، رانا محمد طارق کی قیادت میں بھی نمائندہ وفود کی الگ الگ ملاقاتیں، مختلف اموپر تبادلہ خیال

 

پشاور ( چترال ٹائمزرپورٹ ) گورنرخیبرپختونخواحاجی غلام علی نے کہاہے کہ خواتین کی تعلیم و تربیت کے حوالے سے شہید بینطیر بھٹو وویمن یونیورسٹی پر بھاری ذمہ داری عائد ہے،بچیوں کو جدید ٹیکنالوجی اور انڈسٹری کی ضروریات کے مطابق ریسرچ کیلئے تیار کیا جائے،مسائل و مشکلات سے گھبرانا نہیں بلکہ مقابلہ کر کے آگے بڑھنا ہے،ماضی سے نکل کر مستقبل کیلئے خود کو تیار کرنا ہے،دنیا سے مقابلہ کرنا ہے جس کیلئے پاکستان کو تعلیمی معیار میں صف اول میں لانا گا،بجٹ کی درست تیاری اور ضرورت کے مطابق اخراجات سے مالی مسائل سے نکلا جا سکتاہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعہ کے روز گورنرہاوس پشاور میں شہید بینظیر بھٹووویمن یونیورسٹی کی جانب سے 5 روزہ دوستی پشاور وویمن لٹریچرفیسٹول کے منتظمین اورفیکلٹی اراکین سے ملاقات کے دوران کیا اور لٹریچر فیسٹیول کے انعقاد پر روستی آرگنائزیشن اورشہید بھٹووویمن یونیورسٹی کوسراہا۔ ملاقات میں شہید بینظیر بھٹو وویمن یونیورسٹی کی وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر صفیہ احمد، وویمن لٹریچر فیسٹول کی ارگنائز رپروفیسر ڈاکٹر حامدہ، ڈپٹی رجسٹرار تشفین، کوآرڈینیٹر ایف پی سی سی آئی سرتاج خان، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر ارشاد مظہر سمیت لٹریچرفیسٹول کے دیگر منتظمین اور فیکلٹی اراکین بھی شریک تھے۔ وائس چانسلر ڈاکٹر صفیہ احمد نے فیسٹیول کے کامیاب انعقاد میں گورنر حاجی غلام علی کی تعاون کا شکریہ ادا کیا اور5 روزہ فیسٹیول کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ انہوں نے کہاکہ یونیورسٹی کی طالبات اور فیکلٹی اراکین گورنرکے شکرگزار ہیں انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں جن کے تعاون صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ کسی یونیورسٹی میں صرف خواتین کیلئے مخصوص لٹریچر فیسٹول کا انعقاد کیا گیاجس میں صوبہ بھر سے طالبات نے حصہ لیا  اور اس عزم کا اظہارکیا کہ آئندہ بھی ایسے فیسٹیول کا انعقاد کیا جائیگا۔

 

وائس چانسلر نے فیسٹیول میں نگران صوبائی وزیر صنعت عامرعبداللہ اورمیئرپشاور حاجی زبیر علی کے تعاون اور حوصلہ افزائی کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے یونیورسٹی انتظامیہ اور فیکلٹی اراکین کو کامیاب فیسٹیول کے انعقاد پر مبارکباد دی اور کہاکہ اُن کی خواہش ہے کہ یونیورسٹیوں سمیت تمام تعلیمی اداروں میں طلباء وطالبات کو نصابی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں کیلئے بھی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے اور اُن کو جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ماحول بھی مہیاکیاجائے۔گورنرنے کہاکہ وہ عملی زندگی پر یقین رکھتے ہیں،ماضی کی بجائے مستقبل پر نظر رکھی جائے تو نہ صرف منزل کی جانب راستے کھلیں گے بلکہ کامیابی بھی نصیب ہوگی۔ گورنرنے کہاکہکامیابی کے حصول کے لئے عزم، لگن، جنون، مسلسل جد و جہد اور اللہ پر پختہ یقین اس مشکل کو آسان بناتا ہے۔گورنرنے کہا کہ معاشرے میں امیر وغریب کے فرق کاخاتمہ صرف اعلی اور معیاری تعلیم کی فراہمی سے ہی ممکن ہے۔ اپنے مقصد میں کامیابی اور ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے مشکلات اور درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنے کیلئے نوجوانوں کی ذہن سازی کی اشد ضرورت ہے اور اس قسم کی ادبی سرگرمیاں اس ضمن میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی انتظامیہ کو اپنی جانب سے مستقبل میں بھی صحت مندانہ سرگرمیوں کے انعقاد کے حوالے سے اپنے تعاون کا یقین دلایا۔  دریں اثناء گورنرسے جنوبی وزیرستان لوئر کے تحصیل میئر مولانامحمدصالح کی قیادت یمں 6 رکنی وفد نے بھی ملاقات کی۔ وفد میں سابق ایم این اے مولاناعبدالمالک، مولاناشاکراللہ، عصام وزیر اوردیگرشامل تھے۔ وفد کے شرکاء نے گورنر کو علاقے کے عوام کودرپیش مسائل سے آگاہ کیا جس پر گورنر نے مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ علاوہ ازیں گورنر سے سینیٹر مولاناعبدالرشید کی سربراہی میں 10 رکنی وفد  اور سابق گورنرکے برخوردار نجیب اللہ کی قیادت میں 6 رکنی وفد نے بھی گورنر سے الگ الگ ملاقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ اس کے علاوہ گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی سے گورنر ہاؤس پشاور میں ورلڈ سکواش چیمپئن اطلس خان اور ایشین چیمپئن سکواش دانش اطلس،ڈائریکٹر نیوز ریڈیو پاکستان اسلام آباد محمد سجاد لاکھانی کی قیادت میں 4 رکنی وفد،راشداللہ خان ڈپٹی ڈائریکٹر پاکستان پوسٹ، سعد سکندر چیئرمین گورنر انسپکشن ٹیم،انڈسٹریلسٹس ایسوسی ایشن کے بانی صدر رانامحمدطارق کی قیادت میں نمائندہ وفد اور سابق نگران صوبائی وزیر عدنان جلیل نے بھی الگ الگ ملاقاتیں کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

chitraltimes governor kp haji ghulam ali meeting with delegation of benazir women university chitraltimes governor kp haji ghulam ali meeting with delegation 1 scaled
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
81813

گورنر حاجی غلام علی سے ڈپٹی آڈیٹرجنرل(نارتھ) ساجد خان کی ملاقات، کویڈ 19 کے دوران صوبائی حکومت کے اخراجات پر مشتمل اسپیشل آڈٹ رپورٹ پیش کی

Posted on

گورنر حاجی غلام علی سے ڈپٹی آڈیٹرجنرل(نارتھ) ساجد خان کی ملاقات، کویڈ 19 کے دوران صوبائی حکومت کے اخراجات پر مشتمل اسپیشل آڈٹ رپورٹ پیش کی

مالی امور میں شفافیت کیلئے آڈٹ لازمی جزو ہے، رپورٹ کی تجاویز و سفارشات پرعملدرآمد بھی ہوناچاہئیے، گورنر

 

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی سے ڈپٹی آڈیٹرجنرل(نارتھ) ساجد علی ندیم نے گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اور ادارہ کیجانب سے کویڈ 19 کے دوران خیبر پختونخوا حکومت کے اخراجات پر مشتمل اسپیشل آڈٹ رپورٹ پیش کی۔ آڈٹ رپورٹ میں خیبرپختونخوا حکومت کے کورونا وائرس وبا کے دوران مالی سال 2020-21 میں اخراجات کا تفصیلی آڈٹ کیا گیا جس کی مفصل رپورٹ گورنر کو پیش کی گئی، اس موقع پر گورنر نے خصوصی آڈٹ رپورٹ کی تیاری کو مالی امور میں شفافیت سے متعلق خوش ائند قرار دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی ادارے میں مالی امور میں شفافیت کیلئے آڈٹ لازمی جزو ہے، ضرورت اس امر کی ہے کہ آڈٹ رپورٹ کی سفارشات پر من و عن عملدرآمد بھی یقینی بنانا چاہئے کیونکہ اس سے نہ صرف مستقبل میں مالی مسائل سے دوچار نہیں ہونا پڑے گا بلکہ رپورٹ کی تجاویز و سفارشات سے مالی امور میں مزید شفافیت بھی لائی جا سکتی ہے۔

علاوہ ازیں گورنر سے ضم اضلاع باجوڑ، مہمند، کرم اورخیبر کے45 رکنی نمائندہ وفد نے بھی گورنرہاؤس میں ملاقات کی۔وفدمیں حاجی شمس الدین آفریدی،مولانامحمدعارف حقانی، محمدانور، مفتی عباد الرحمن، مختیار احمد، عمران ماہر، مولانامجیب، سمیع اللہ سواتی اوردیگرشامل تھے۔ وفد کے شرکاء نے اپنے اپنے علاقے کے عوام کے کو درپیش مسائل سے گورنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے گورنر کو علاقے کے عوام کو بجلی لوڈشیڈنگ، تعلیمی سہولیات کے فقدان، تجارت سے متعلق مسائل سمیت انفراسٹرکچر اوردیگر بنیادی سہولیات سے متعلق تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔وفد کے شرکاء نے گورنر کو ضم اضلاع کے ساتھ کئے جانیوالی ناانصافیوں سے آگاہ کیا اور کہاکہ حکومت کی جانب سے سالانہ 100 ارب روپے ترقیاتی فنڈز دینے کا وعدہ کیاگیاتھا اور قبائلی علاقوں کو صوبے کے دیگر ترقیافتہ علاقوں کے برابر لاناتھا ایسا تو کچھ نہیں ہواالبتہ ضم ہونے کے بعد 8 سینیٹرز سے قبائلی عوام کو محروم کردیاگیا اور نئی حلقہ بندیوں میں مزید 6 این اے بھی کم کردیے گئے جسے کسی بھی طور تسلیم نہیں کیاجاسکتا۔ انہوں نے کہاکہ گورنر کے پاس ایک جرگہ کی صورت میں آئے ہیں تاکہ قبائلی عوام کے احساسات و جذبات کو اعلی حکام تک پہنچایاجاسکے۔

 

انہوں نے گورنر کا شکریہ بھی ادا کیا کہ جب سے گورنر بنے ہیں تمام ضم اضلاع کے عوام سے بلا تفریق ملے اور ان کے مسائل حل کئے اور آج ہمارا یہ مطالبہ بھی متفقہ ہے۔ گورنرنے وفد کے معروضات غورسے سنیں اور موقع پر ہی متعلقہ حکام کو بعض مسائل کے حل کیلئے احکامات جاری کئے جبکہ دیگر مسائل کے حل کیلئے بھی اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔گورنرنے کہاکہ اس وقت ملک اور خاص طور پر خیبرپختونخوا بشمول ضم اضلاع مشکل دور سے گزررہاہے۔ صوبہ اورخاص طور پر ضم اضلاع کے عوام، مشران، نوجوان، بلدیاتی نمائندوں کو جذبات سے ہٹ کر موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کردار ادا کرناہوگا۔ گورنرنے کہا جہاں تک حلقوں کی کمی کا تعلق ہے، چونکہ یہ مردم شماری کی بنیاد پر کئے جاتے ہیں اور اگر اس حوالے سے اعتراضات ہوں تو ایک طریقہ کار تحت الیکشن کمیشن کے پاس اپیل جمع کروائی جاتی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ بلدیاتی نظام مقامی سطح پر ترقیاتی کاموں اور دیگر مسائل کے حل کیلئے انتہائی اہم ہے۔

 

صوبائی حکومت، وزیراعلی، چیف سیکرٹری، لوکل گورنمنٹ اوردیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز جاری کرنے کے حوالے سے کئی اجلاس منعقد کئے گئے ہیں اور اس ایک آرڈیننس تیارکردیاگیا ہے اور الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد صوبے کی تمام بلدیاتی نمائندوں کوفنڈز ریلیز کردیے جائیں گے۔ حکومت ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی پر خاص توجہ دے رہی ہے۔ قبائلی اضلاع میں معیاری تعلیمی اداروں کے قیام، جدید سہولیات سے مزین ہسپتالوں، سڑکوں کی تعمیر، ڈیمز کی تعمیراور مواصلاتی نظام میں بہتری لانے کیلئے ریاستی ادارے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہے ہیں جس سے نہ صرف قبائلی عوام کا معیار زندگی بہتر ہوگابلکہ ضم شدہ قبائلی اضلاع میں ترقی و خوشحالی کادورشروع ہوگا اوروہ وقت دور نہیں جب ضم شدہ قبائلی اضلاع کا شمار ملک کے ترقی یافتہ علاقوں میں ہوگا۔ ہمیں قبائلی اضلاع اورقبائلی عوام کے مسائل کا اندازہ ہیں، ہمیں احساس ہے کہ جن مشکلات کا سامنا قبائلی عوام کررہے ہیں ان مشکلات کاازالہ کیاجائے اور اس کیلئے وفاقی اورصوبائی حکومت کی کاوشیں جاری ہیں۔ دریں اثناء گورنرسے اسلامیہ کالج پشاور سے ڈاکٹرنثار اور ڈاکٹر عنایت علی شاہ، پشاور کے علاقہ دین بہار کالونی سے قاری محمد عبداللہ، خلیل الرحمن، سعید الرحمن، قاسم عبداللہ اور صدیق خان نے بھی گورنر سے ملاقات کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
79898

آئین و قانون کی پاسداری کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں،گورنر حاجی غلام علی

Posted on

آئین و قانون کی پاسداری کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، گورنر حاجی غلام علی

نوجوانوں کو محنت، لگن اور جہد مسلسل کی تعلیم دینی ہوگی تاکہ شائستگی،روایات اور اقدار کے ساتھ ہماری نسلیں آگے بڑھیں،گورنر

گورنر سے سابق رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین کی قیادت میں ضم اضلاع سے نمائندہ وفد کی ملاقات، قبائلی عوام کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا

گورنر سے ضلع کوہاٹ، ضم اضلاع سے طلباء اور پاک چائنہ فرینڈشپ ایسوسی ایشن کے نمائندہ وفودکی بھی الگ الگ ملاقاتیں، مختلف امور پر تبادلہ خیال

پشاور ( چترال ٹایمزرپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ آئین و قانون کی پاسداری کرنے والی قومیں ہی ترقی کرتی ہیں، ہم سب کو بھی آئین کی پاسداری یقینی بنانے،معاشرے سے منفی رویوں اور عادات کے خاتمے کے لیے پورے اخلاص سے جدوجہد کرنی چاہئیے۔ نوجوانوں کو محنت، لگن اور جہد مسلسل کی تعلیم دینی ہوگی تاکہ شائستگی،روایات اور اقدار کے ساتھ ہماری نسلیں آگے بڑھیں۔ قبائلی عوام نے ہمیشہ ریاست اور ریاستی اداروں کا ساتھ دیا ہے اورملک کے دفاع، امن واستحکام کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ موجودہ حالات کاتقاضا ہے کہ ریاست اورریاستی اداروں کے خلاف منفی سوچ کے خلاف متحد ہوکر کردار ادا کیاجائے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے جمعہ کے روز گورنرہاؤس پشاور میں سابق رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین کی قیادت میں ضم اضلاع کے نمائندہ 20 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔وفد میں شمس الدین، سید کبیر، مختیار خان، شفیق، شاہد علی، عبدالباقی اوردیگرشامل تھے۔ ملاقات میں ضم اضلاع کے عوام کو درپیش مسائل بالخصوص صحت، تعلیم، انفراسٹرکچر اور دیگربنیادی سہولیات سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کیاگیااور گورنر سے قبائلی عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کیلئے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔

 

گورنرنے اس موقع پر وفد کو مسائل کے حل میں تعاون کی یقین دہانی کرائی۔وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ پسماندہ علاقوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی اورعوام کی خدمت کو اپنااولین فرض اورعبادت سمجھتاہوں، ضم اضلاع میں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچرکی بہتری، بجلی سمیت دیگرسہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔غیور قبائلی عوام میرے بھائی ہیں، وفاقی حکومت اورصوبائی حکومت کو ضم اضلاع کی ترقی وخوشحالی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیاہے۔ ضم اضلاع کے عوام کے احساس محرومیوں کاخاتمہ،صحت، تعلیم اورانفراسٹرکچر کی سہولیات فراہم کرنا وفاقی اور صوبائی حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ بہت جلد منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز بھی جاری کردیے جائیں گے جس سے نچلی سطح پرنہ صرف ترقیاتی کام شروع ہوسکیں گے بلکہ مقامی سطح پر عوامی مسائل کاحل بھی یقینی ہوجائیگا۔

 

دریں گورنر سے ضم اضلاع سے طلباء کے ایک نمائندہ وفد نے محمدعمربیٹنی کی قیادت میں بھی گورنرہاوس میں ملاقات کی۔ وفد میں انعام اللہ خان، محمدحسین، عاشق اللہ اوردیگر شامل تھے۔وفد نے گورنر سے ضم اضلاع میں مساجد کی سولرائزیشن کا مطالبہ کیا، اس کے علاوہ ضم اضلاع کے طلباء کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں درپیش مسائل سے بھی گورنر کو آگاہ کیا اور ان مسائل کے حل کیلئے گورنر سے درخواست کی۔ جس پر گورنرنے وفد کو یقین دلایا کہ نہ صرف مساجد کی سولرئزیشن کا مسئلہ حل کیاجائیگا بلکہ ضم اضلاع کے طلباء کو درپیش مسائل بھی ترجیحی بنیادوں پر حل کئے جائیں گے۔گورنرنے کہاکہ ضم اضلاع کے طلباء کیلئے سکالرشپس دیے جارہے ہیں تاکہ وہ بھی معیاری تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم حاصل کرسکیں اور اپنے ہی علاقوں کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں سمیت دیگر اداروں میں عوام کی خدمت کرسکیں۔وفد کے شرکاء نے مسائل کے حل میں دلچسپی لینے اور مکمل تعاون کی یقین دہانی پر گورنر کا شکریہ ادا کیا اوربلاتفریق تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے بہ آسانی دستیاب ہونے اور ان کے مسائل حل کرنے پر گورنر کو خراج تحسین پیش کیااورکہاکہ گورنر نے ان بے مثال اقدامات پر خود کو عوامی گورنرثابت کیاہے۔ بعدازاں گورنرسے چیئرمین ایگزیکٹیوکمیٹی پاک چائنہ فرینڈشپ ایسوسی ایشن سیدظفرعلی شاہ اور سید علی نواز گیلانی نے بھی ملاقات کی۔ملاقات میں دونوں ممالک کے عوام کے مابین دوستانہ تعلقات کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔ گھمکول شریف کوہاٹ سے بھی پیرسید جنیدشاہ کی قیادت میں ایک نمائندہ وفد نے گورنر سے ملاقات کی۔ وفد میں سردار زاہدمنان، مولاناابوبکر، نعمان خان، لیاقت خٹک اور محمدتنزیل شامل تھے۔ وفد نے علاقے کے عوام کودرپیش مسائل سے گورنر کو آگاہ کیا۔ #

 

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged ,
79427

ملکی موجودہ صورتحال میں اتحاد واتفاق سے ہی کامیابی وترقی ممکن ہے، گورنر حاجی غلام علی

Posted on

ملکی موجودہ صورتحال میں اتحاد واتفاق سے ہی کامیابی وترقی ممکن ہے، گورنر حاجی غلام علی
ریاست کی مضبوطی، استحکام اور ملک کو موجودہ مشکل حالات سے نکالنے کیلئے مشترکہ کردار کی ضرورت ہے،گورنر
گورنر سے ضلع پشاورسے 40 رکنی، لکی مروت سے8 رکنی اور اسلام آباد سے 5 رکنی نمائندہ وفود کی الگ الگ ملاقات، عوامی مسائل پرتبادلہ خیال
گورنرسے یونائیٹڈ پی ڈی اے ورکرز اور پی ڈی اے ایمپلائز یونین کے نمائندہ وفدکی بھی ملاقات،وفدکاگورنر کی یقین دہانی پر ملازمین کی جانب سے جاری احتجاج ختم کرنے کا اعلان

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنر خیبرپختونخواحاجی غلام علی نے کہاہے کہ عوام کی خدمت کو اپنا فرض وعبادت سمجھتاہوں، نیت اللہ کی رضا وخوشنودی ہوں تو کامیابی ضرور ملتی ہے۔ اپنی زندگی کو انسانیت کی بھلائی میں کسی نہ کسی جہت سے مصروف رکھنی چاہئے۔ ریاست کی مضبوطی، استحکام اور ملک کو موجودہ مشکل حالات سے نکالنے کیلئے مشترکہ کردار کی ضرورت ہے کیونکہ ملکی موجودہ صورتحال میں اتحاد واتفاق سے ہی کامیابی وترقی ممکن ہے۔

ان خیالا ت کااظہار انہوں نے گذشتہ روزپشاور سے قاری عبدالوسع اور مولاناعبدالمالک کی سربراہی میں 40 رکنی وفد سے گورنرہاؤس میں ملاقات کے دوران کیا۔سابق نگران صوبائی وزیر حامدشاہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد میں مولاناعبدالمتین، ملک نوشاد، مفتی کامران، مولانافضل وہاب، عبدالوہاب، محمد ایاز، قاری شکیل، اسامہ، حاجی نورالامین، محمدسلیم اور سیدسجادباچاچمکنی سمیت دیگر شامل تھے۔ وفد نے گورنر کو اپنے اپنے علاقوں میں بجلی، گیس، تعلیم اور صحت سمیت دیگر مشکلات سے گورنرآگاہ کیا اور ان مسائل کے حل کیلئے گورنر سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔وفد کے شرکاء نے گورنر کو خراج تحسین بھی پیش کیا صوبے کی تاریخ میں پہلی دفعہ ایک گورنربلاامتیاز صوبے کے عوام کی خدمت میں مصروف عمل ہے اور سب کیلئے گورنرہاؤس کے دروازے کھول رکھے ہیں۔ گورنرنے اس موقع پر مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

وفد سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ نوجوانوں کوشائستگی، روایات اوراقدار کو اپنی زندگی کاحصہ بناناہوگا اور ملکی ترقی و خوشحالی کی سوچ اپنانی ہوگی کیونکہ منفی رویوں سے باہر نکل کر مثبت انداز سے آگے بڑھنے سے ہی مجموعی ترقی ممکن ہے۔انہوں نے کہاکہ مشران اور نوجوانوں کو ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے 9 مئی جیسے واقعات کی نفی کرنی ہوگی۔ 9 مئی نے ملک کی بنیادیں ہلا کررکھ دی، ہمارا فرض بنتاہے کہ ریاست اور ریاستی اداروں کے ساتھ کھڑے رہیں اوراس ملک کومضبوط تربنائے۔ ریاست کوکمزورکرنے اور انتشار پھیلانے کی سوچ رکھنے والے ملک کے خیرخواہ نہیں ہوسکتے، بالخصوص نوجوانوں کو متحد ہوکرملک میں منفی سوچ کی بیخ کنی کرنی ہوگی اورشائستگی، روایات اوراقدار کوفروغ دیناہوگا۔انہوں نے کہاکہ  عوام کی احساس محرومیوں کاخاتمہ،صحت، تعلیم اورانفراسٹرکچر کی سہولیات فراہم کرناصوبائی  حکومت کی ترجیحات میں شامل ہیں۔ خیبرپختونخوا سمیت ملک کو اس وقت امن وامان کی صورتحال اور معاشی بدحالی جیسے چیلنجز کا سامناہے اور ان چیلنجز پرقابو پانے کیلئے ہرمکتبہ فکر اور بالخصوص علماء کرام کو اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ علاوہ ازیں گورنر سے یونائیٹڈ پی ڈی اے ورکرز اور پی ڈی اے ایمپلائز یونین کے صدور مسعود صدیقی اور ضیاء الحق کی سربراہی میں 10 رکنی وفد نے بھی گورنرہاوس میں ملاقات کی۔

 

وفد کے شرکاء نے گورنر کو بتایاکہ وہ چندروز سے اپنے محکمانہ مسائل کے حل کیلئے احتجاج پر  ہیں لیکن شنوائی نہیں ہو رہی ہے،جس پر گورنرنے پی ڈی اے ملازمین کو فوری احتجاج ختم کرنے کا کہتے ہوئے کہاکہ احتجاج اور ہڑتالوں سے مسائل حل نہیں ہوتے،مسائل کے حل کیلئے مذاکرات ہی واحد راستہ ہے۔ انہوں نے وفدکو محکمانہ اوردیگرمسائل کے حل کیلئے صوبائی وزیربلدیات سے بات کرنے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ آپ اپنی ساری توجہ فرائض کی انجام دہی پررکھیں۔وفد کے شرکاء نے گورنر کی پیشکش پر احتجاج ختم کرنے کا اعلان کیا اور مسائل کے حل کی یقین دہانی پر گورنر کا شکریہ ادا کیا۔ علاوہ ازیں گورنر سے لکی مروت سے مولانا اشرف علی کی سربراہی میں 8 رکنی وفد نے بھی ملاقات کی۔ وفد میں قاری محمد عمر اشرفی، قاری اصغر علی،قاری محمد ادریس، امیر محمد اور انعام اللہ شامل تھے۔وفد نے علاقے کے عوام کو درپیش مسائل سمیت لکی مروت یونیورسٹی سے متعلق امور پرتبادلہ خیال کیا۔ دریں اثناء گورنر سے اسلام آباد سے عامر سلیمان اخونزادہ کی سربراہی میں بھی 5 رکنی وفدنے ملاقات کی۔ وفد میں سید افتخار شاہ،آفتاب اللہ خان بابوزئی،عادل سالار شامل تھے۔ ملاقات میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
79154

کسی بھی علاقے کی ترقی وخوشحالی کیلئے امن بنیادی شرط ہے، گورنر حاجی غلام علی

Posted on

کسی بھی علاقے کی ترقی وخوشحالی کیلئے امن بنیادی شرط ہے، گورنر حاجی غلام علی

قبائلی عوام نے ملک کے دفاع، امن واستحکام کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہے، گورنر

گورنر سے ضم ضلع جنوبی وزیرستان کی شکئی تحصیل سے 35 رکنی جرگہ کی ملاقات، بنیادی مسائل سے گورنر کو آگاہ کیا

گورنر کی زیرصدارت زرعی یونیورسٹی پشاور اور یوای ٹی مردان کے مابین اراضی کی تقسیم سے متعلق دوسرا علیٰ سطحی اجلاس

زرعی یونیورسٹی مردان کیمپس کے ماسٹر پلان میں نشاندہی کی جانیوالی اراضی یو ای ٹی مردان کو حوالے کی جائیگی، اجلاس میں فیصلہ

پشاور(چترال ٹایمزرپورٹ ) گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ کسی بھی علاقے کی ترقی وخوشحالی کیلئے امن بنیادی شرط ہے۔ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے، قبائل کی اپنی شاندار تاریخ،روایات واقدارہیں،جنہوں نے ہرمشکل وقت میں ملک کا ساتھ دیا اورملک کے دفاع، امن واستحکام کیلئے بے مثال قربانیاں دی ہے، ضم اضلاع کے عوام کی احساس محرومیوں کاخاتمہ،صحت، تعلیم اورانفراسٹرکچر کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے بدھ کے روز گورنرہاؤس پشاور میں ضم ضلع جنوبی وزیرستان شکئی تحصیل کے 45 رکنی جرگہ سے ملاقات کے دوران کیا۔ جرگہ کی قیادت سابق رکن صوبائی اسمبلی عدنان وزیر اور چیئرمین واناتحصیل مولاناصالح کررہے تھے جبکہ مولاناقمرزمان، مولانامحمدکمال، مولاناشفیع اللہ، مولانانیازمحمد، مولاناسعیداحمد، مولانارحمت اللہ، ملک مستوج خان، ملک کلام الدین،حاجی نیک محمدخان، ڈاکٹرمحمداقبال اوردیگر قبائلی ملکان ومشران بھی جرگہ میں شامل تھے۔جرگہ اراکین نے گورنر کو علاقے کے عوام کو درپیش مسائل بالخصوص صحت، تعلیم، بجلی،مواصلات، انفراسٹرکچر سے تفصیلی آگاہ کیا۔

 

وفدنے بتایاکہ2012 میں شکئی تحصیل کی منظوری دی گئی تھی اوراس پر تقریباً 90 فیصد کام بھی مکمل ہوگیاہے لیکن باقاعدہ نوٹی فیکیشن جاری نہیں ہواجس کیلئے گورنر سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی تاکہ شکئی کے عوام کی بے چینی دور ہوسکے۔ شرکاء نے گورنر سے شکئی میں نادرا آفس کے قیام، سمال ڈیم پر کام دوبارہ شروع کرنے، رابطہ سڑکوں کی بحالی، ہائیرسیکنڈری سکول پر کام دوبارہ شروع کرنے، منتوئی وسنتوئی میں سڑکوں پربلیک ٹاپ، شکئی تحصیل کیلئے ہسپتال کی منظوری سمیت مواصلات، آبپاشی،کمیونٹی سنٹرکی فعالی اوردیگر مطالبات پیش کئے۔ گورنرنے جرگہ کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات اورعلاقے کے مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کایقین دلایا۔ جرگہ اراکین نے باجوڑ بم دھماکے فوراً بعد زخمیوں کو علاج معالجے کے لئے ہسپتالوں کو منتقل کرنے،زخمیوں کو طبی سہولیات کیلئے ہنگامی اقدامات اٹھانے، متاثرین کی بروقت مالی مدد کرنے، بٹگرام میں چیئرلفٹ میں پھنسے افراد کونکالنے کیلئے کردار ادا کرنے، مسلسل نگرانی کرنے اور علاقے کے مشران اور عوام سے رابطہ میں رہنے پر گورنر کوخراج تحسین پیش کیا۔

 

جرگہ نے اس موقع پر گورنر کو جنوبی وزیرستان کی تحصیل شکئی کادورہ کرنے کی دعوت بھی دی۔ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے کہاکہ ضم اضلاع کی ترقی و خوشحالی کیلئے اقدامات حکومت کی اولین ترجیح ہے اور بہت جلدصوبہ بھر سمیت ضم اضلاع کے منتخب بلدیاتی نمائندوں کو فنڈز جاری کردیے جائیں گے جس سے نچلی سطح پر ترقیاتی کام شروع ہوجائیں گے۔ پسماندہ علاقوں کو بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی اپنااولین فرض سمجھتاہوں، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچرکی بہتری، بجلی سمیت دیگرسہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائیگی۔قبائلی عوام میرے بھائی ہیں، خود کوضم اضلاع کے عوام کاوکیل سمجھتاہوں، وفاقی حکومت اورصوبائی حکومت کو ضم اضلاع کی ترقی وخوشحالی اور عوام کو سہولیات کی فراہمی سے متعلق آگاہ کیاہے۔ جرگہ کی جانب سے پیش کئے گئے مطالبات کے حوالے سے گورنرکاکہناتھاکہ نادرا حکام سے شکئی تحصیل کے لئے فی الحال نادراموبائل وین کیلئے بات کی جائیگی تاکہ جب تک باقاعدہ طور پرنادرا آفس کاقیام عمل میں نہیں لایاجاتاشناختی کارڈ سے متعلق مسائل حل بہ آسانی حل ہوسکے۔ سمال ڈیم اورہائرسیکنڈری سکول پرکام شروع کرنے،کمیونٹی سنٹر کی فعالی، شکئی تحصیل کی باقاعدہ نوٹیفیکیشن،نادرا آفس کے قیام اورتوانائی سمیت دیگر مسائل کے حل کی بھی یقین دہانی کرائی اورکہاکہ نگران وزیراعلیٰ محمد اعظم خان سے آپ کے مسائل کے حل کے بارے بات کی جائیگی تاکہ آپ کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل ہوسکے۔ تعلیم سے متعلق مسائل پر گورنر نے کہاکہ ضم اضلاع کے طلباء کیلئے سکالرشپس دیے جارہے ہیں تاکہ وہ بھی معیاری تعلیمی اداروں میں اعلی تعلیم حاصل کرسکیں اور اپنے ہی علاقوں کے تعلیمی اداروں، ہسپتالوں سمیت دیگر اداروں میں عوام کی خدمت کرسکیں۔

 

انہوں نے جرگہ اراکین پرزوردیا کہ بچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کی تعلیم پربھی خصوصی توجہ مرکوزرکھیں۔علاوہ ازیں گورنرحاجی غلام علی کی زیرصدارت زرعی یونیورسٹی پشاور اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی مردان کے مابین اراضی کی تقسیم سے متعلق دوسرا علیٰ سطحی اجلاس گورنر ہاوس میں منعقد ہوا جس میں وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پشاور پروفیسر ڈاکٹر جہان بخت،یو ای ٹی مردان پروفیسر ڈاکٹر عمران خان، پرنسپل سیکرٹری برائے گورنر مظہر ارشاد و دیگر متعلقہ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس شروع ہوتے ہی گورنرنے دونوں یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرزسے کہاکہ دونوں یونیورسٹیاں حکومت کی ملکیت ہے اور اس صوبے کے بچے ان یونیورسٹیوں میں اعلی تعلیم حاصل کریں گے یہ روایت دونوں یونیورسٹیوں کیلئے اچھی نہیں کہ تقسیم اوراس کے طریقہ کار میں ہی الجھے رہیں،گورنرنے کہاکہ تقسیم ایسی کی جائے کہ ایک طرف مردان یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کو400 کنال اراضی دی جائے اور دوسری طرف زرعی یونیورسٹی کا پلان بھی ڈسٹرب نہ ہو۔طویل بحث کے بعد دونوں وائس چانسلرز نے گورنر کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے زرعی یونیورسٹی مردان کیپپس کے ماسٹرپلان کے نقشہ اور فیصلے پر دستخط کئے، یو ای ٹی مردان کیجانب سے بنام وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی اراضی کی رقم کا چیک بھی ایک ہفتہ کے اندردے دیاجائیگا۔

 

اس موقع پر گورنر کا کہنا تھا کہ اراضی کی تقسیم کا معاملہ صوبہ کی دو پبلک سیکٹر یونیورسٹیوں کے مابین ہے اور دونوں تعلیمی ادارے ہمارے لئے معتبر ہیں،انہوں نے شائستگی اور منظور شدہ نقشہ کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں یونیورسٹیوں کیجانب سے اتفاق رائے کرنے کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں تعلیمی اداروں سے صوبہ کے بچوں کا مستقبل جڑا ہے، ہماری خواہش ہے کہ تمام تعلیمی اداروں کیلئے آسانیاں پیداکریں، انہوں نے کہاکہ تمام وائس چانسلرز کافرض ہے کہ اپنی اپنی یونیورسٹیوں میں تعلیمی معیار کو بہتربنانے، طلباء کو سہولیات دینے اورجدید ٹیکنالوجی سے طلباء کو مستفید کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
78198

گورنرغلام علی اور نگران وزیراعلیِ کا باجوڑ دھماکہ کی شدید مذمت، بیگناہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

گورنر حاجی غلام علی اور نگران وزیراعلیِ کا باجوڑ دھماکہ کی شدید مذمت، بیگناہ قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر اظہار افسوس

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے قبائلی ضلع باجوڑ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور پولیس حکام کو واقعہ کی مختلف پہلوو ں سے تحقیق کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اتوار کے روز یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں نگران وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان نے دھماکہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دھماکہ میں جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ غمزدہ خاندانوں کو یہ دکھ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وزیر اعلیٰ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی۔

درایں اثناءانہوں نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور سیکرٹری صحت کوباجوڑ دھماکے کے زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے خصوصی انتظامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان زخمیوں کا بہترین علاج معالجہ یقینی بنانے کے لئے پشاور کے تدریسی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جائے، وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں باجوڑ دھماکے کے زخمیوں کے لئے خصوصی وارڈز مختص کئے جائیں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، اعظم خان نے واضح کیا کہ وہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے عمل کی خود نگرانی کریں گے۔دھماکے کے زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لئے صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر فراہم کر دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے سی ایم ایچ پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے باجوڑ دھماکہ کے زخمیوں کی عیادت کی۔صوبائی وزیر حامد شاہ ، چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے وزیر اعلیٰ نے زخمی افراد سے فرداً فرداً ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہداءکے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

 

chitraltimes caretaker cm kp visit lrh

نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان کا قبائلی ضلع باجوڑ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) نگران وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد اعظم خان نے قبائلی ضلع باجوڑ میں دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور پولیس حکام کو واقعہ کی مختلف پہلووں سے تحقیق کر کے تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اتوار کے روز یہاں سے جاری اپنے ایک بیان میں نگران وزیر اعلیٰ محمد اعظم خان نے دھماکہ میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ و رنج کا اظہار کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ وزیر اعلیٰ نے دھماکہ میں جاں بحق افراد کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے اور کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ غمزدہ خاندانوں کو یہ دکھ صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ وزیر اعلیٰ نے زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا کی ہے اور کہا ہے کہ صوبائی حکومت زخمیوں کے علاج معالجے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی۔
درایں اثناءانہوں نے چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور سیکرٹری صحت کوباجوڑ دھماکے کے زخمیوں کو بروقت اور بہترین طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کے لئے خصوصی انتظامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ان زخمیوں کا بہترین علاج معالجہ یقینی بنانے کے لئے پشاور کے تدریسی ہسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کی جائے، وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی کہ پشاور کے بڑے ہسپتالوں میں باجوڑ دھماکے کے زخمیوں کے لئے خصوصی وارڈز مختص کئے جائیں، زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات کی فراہمی کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، اعظم خان نے واضح کیا کہ وہ زخمیوں کو طبی امداد کی فراہمی کے عمل کی خود نگرانی کریں گے۔دھماکے کے زخمیوں کو پشاور کے ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لئے صوبائی حکومت کا ہیلی کاپٹر فراہم کر دیا گیا ہے۔وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا ریسکیو آپریشن کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔بعد ازاں وزیر اعلیٰ نے سی ایم ایچ  پشاور کا دورہ کیا جہاں انہوں نے باجوڑ دھماکہ کے زخمیوں کی عیادت کی۔صوبائی وزیر حامد شاہ ، چیف سیکرٹری اور انسپکٹر جنرل پولیس بھی وزیر اعلیٰ کے ہمراہ تھے وزیر اعلیٰ نے زخمی افراد سے فرداً فرداً ملاقات کر کے ان کی خیریت دریافت کی۔ وزیر اعلیٰ نے اس موقع پر لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ شہداءکے درجات کی بلندی اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کے لیے دعا گو ہیں۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
77341

میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنیوالے طالبعلم غریب افراد کے علاج معالجہ، دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں، گورنر حاجی غلام علی

Posted on

میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنیوالے طالبعلم غریب افراد کے علاج معالجہ، دکھی انسانیت کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں، گورنر حاجی غلام علی
گورنر کا باچا خان میڈیکل کالج مردان کے دوسرے کانووکیشن میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت، ایم بی بی ایس اور ڈینٹل کی تعلیم مکمل کرنیوالے 170 طلباء وطالبات میں ڈگریاں اور 25 طلباء وطالبات میں گولڈ میڈلز تقسیم کیں
گورنر کا کالج انتظامیہ کے مطالبہ پر بی ڈی ایس سیکشن کو ڈینٹل کالج کا درجہ دینے کا اعلان، خیبر میڈیکل یونیورسٹی کو کیس تیار کرنیکی ہدایت
تقریب سے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور، وی سی خیبر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق کا بھی خطاب، تقریب میں مئیر تحصیل مردان حمایت اللہ مایار سمیت کالج کے ڈین، فیکلٹی اراکین، بزنس کمیونٹی اور طلباء وطالبات اور والدین کی شرکت

 

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ میڈیکل کی تعلیم مکمل کرنیوالے طلباء وطالبات پر عملی زندگی میں بھاری ذمہ داریاں ہیں، بطور ڈاکٹر اپنے پیشہ سے مخلص رہیں اور دوسروں کے درد کو جب تک اپنا درد نہیں سمجھیں گے کامیاب نہیں ہو سکیں گے کیونکہ دکھی انسانیت کا دل میں درد رکھنا اور خدمت کا جذبہ رکھنا ہی کامیابی کی علامت ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے دورہ مردان کے موقع پر باچا خان میڈیکل کالج مردان کے دوسرے کانووکیشن سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کیا.تقریب سے نگران وزیراعلٰی کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ریاض انور، وی سی خیبر میڈیکل یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ضیاء الحق نے بھی خطاب کیا اور صوبے میں تعلیم اورخاص کر میڈیکل کی تعلیم کے فروغ کیلئے گورنر اورصوبائی حکومت کوخراج تحسین پیش کیا۔ تقریب میں ڈین باچا خان میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر امجد علی، میڈیکل ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر عماد حمید، ہاسپٹل ڈائریکٹر ڈاکٹر طارق محمود اور چیرمین بورڈ آف گورنر عطاء اللہ خان طورو سمیت تحصیل میئر مردان حمایت اللہ مایار، صدر مردان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ظاہر شاہ،سابق صوبائی اراکین اسمبلی امانت شاہ،تاج الامین جبل، بزنس کمیونٹی، طلباء و طالبات، والدین اور فیکلٹی اراکین موجود تھے۔

گورنر نے 2017 سے 2021 سیشن کے ایم بی بی ایس اور ڈینٹل کی تعلیم مکمل کرنیوالے 170 طلباء وطالبات میں ڈگریاں تقسیم کیں اور 25 طلباء وطالبات کو گولڈ میڈلز پہنائے۔ڈاکٹر نبیلا بی بی نے 19،ڈاکٹر ایمن منان نے 18، ڈاکٹر مدرار اللہ نے 18،ڈاکٹر رخشندہ نے 17، ڈاکٹر وگمہ نے 14،ڈاکٹر سپنا بیگم نے 12 اور ڈاکٹر آسمہ فاروق نے 11 گولڈ میڈل وصول کیے۔ ڈین با چاخان میڈیکل کالج نے گورنر اور دیگر مہمانوں کا خیر مقدم کیا اور کالج کی کارکردگی پر تفصیلی روشنی ڈالی اور بی ڈی ایس سیکشن کو ڈینٹل کالج کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا جس پر گورنر نے بی ڈی ایس سیکشن کو ڈینٹل کالج کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی اس حوالے سے کیس تیار کر کے جلد از جلد بھجوائے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے ادارے کی کارکردگی کو سراہا اورکامیاب طلباء وطالبات، والدین اور فیکلٹی اراکین کو مبارکباد دی۔ گورنرنے کہاکہ وفاقی اورصوبائی حکومتیں ملک اور صوبے میں تعلیم کے فروغ کیلئے کوشاں ہیں اور یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز، ہسپتالوں کے مسائل ومشکلات کے خاتمے میں خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔ انہوں نے فارغ التحصیل طلباء طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ عملی زندگی میں داخل ہوگئے ہیں،اب آپ لوگوں نے مریضوں کے علاج معالجہ کے ساتھ ہسپتالوں کی بہتری کیلئے بھی کام کرنا ہے، انہوں نے کہا کہ باچا خان کے نام سے منسوب ادارے سے تعلیم حاصل کرنا قابل فخر ہے، اپنی عملی زندگی میں باچا خان کے عدم تشدد اور شائستگی کے فلسفے کو آگے لیکر اس کالج کیلئے فخر کا باعث بننا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عزت و احترام اور شائستگی کو اپنے زندگیوں اور رویوں میں یقینی بنائیں۔ غریب عوام کے علاج معالجہ کو اپنی زندگی کا شعار بنائیں اس سے آپکو دنیا و آخرت میں کامیابی ملے گی اور دلی سکون بھی ملے گا۔ انہوں نے انتہائی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے معاشرے میں خواتین بھی مردوں کے شانہ بشانہ ہرشعبہ زندگی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں اور اس امر پر زور دیا کہ ہم سب نے ملکر اس ملک کی ترقی و خوشحالی کیلئے کردار کرنا ہوگا۔گورنر کا کہنا تھا کہ مختلف یونیورسٹیوں کے کانووکیشن میں شرکت کے دوران معذور طالبعلموں کو ڈگریاں دی ہیں اور معذور افراد کے جذبہ حصول تعلیم کو دیکھ کر معذور طالبعلموں کی فیسیں ختم کر کے مفت تعلیم فراہمی کے احکامات صادر کئے اور مجھے خوشی ہے کہ خیبرمیڈیکل یونیورسٹی نے میرے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے صوبہ کے تمام میڈیکل کالجز کو معذور افراد کی فیسیں ختم کرنیکا اعلامیہ جاری کر دیا جو کہ قابل تحسین ہے۔انہوں نے کہا کہ اسکول، کالج، یونیورسٹیاں ہمارے تابناک مستقبل کے ضامن ہیں اور ان اداروں کی بہتری، مسائل و مشکلات کے خاتمہ اپنا فرض سمجھتے ہیں۔#

chitraltimes governor kp haji ghulam ali addresing mardan medical college and medal distribution 1

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
75516

چارٹر آف اکانومی پر مل بیٹھنا موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے، گورنر حاجی غلام علی،

Posted on

چارٹر آف اکانومی پر مل بیٹھنا موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے، گورنر حاجی غلام علی،فیڈریشن آف پاکستان کو چیک حوالہ کرنے کی تقریب اور میڈیا سے بات چیت

گورنر حاجی غلام علی کی قیادت میں صوبے اور پورے ملک کی بزنس کمیونٹی متحد ہے اور چارٹر آف اکانمی کے نفاذ کے لیے پر عزم ہے، سرتاج احمد خان

 

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنر خیبر پختونخوا حاجی غلام علی نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کے حالات اور عوامی توقعات کو دیکھتے ہوئے ہمارا فرض بنتا ہے کہ اپنی بساط سے بڑھ کر مثبت فیصلے اور اقدامات کریں کیونکہ اگر آج ہم ایک نہ ہوئے تو آنے والا وقت ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گا، فیڈریشن آف پاکستان اور پورے ملک کی بزنس کمیونٹی کا ایک ہی نعرہ ہے کہ چارٹر آف اکانمی کو اتفاق رائے سے نافذ کیا جائے، پوری امید ہے کہ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین اور بزنس کمیونٹی مل کر ملک کو معاشی عدم استحکام کی صورتحال سے نکال باہر کر لینگے، صوبائی نگران کابینہ اور صوبے کی بزنس کمیونٹی نے یکجا ہو کر پہل کر دی ہے اب ان شااللہ ملکی سطح پر بھی ایسا ہی اتفاق و اتحاد قائم ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے گورنرہاؤس میں منعقدہ ایک پروقار تقریب میں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرزآف کامرس اینڈانڈسٹری ریجنل آفس پشاور کے قیام کیلئے صوبائی حکومت کی جانب سے 10 کروڑروپے کا چیک ایف پی سی سی آئی خیبرپختونخواکے کوارڈینیٹر سرتاج احمد خان کو حوالے کرنے کے بعد اپنے خطاب اور میڈیا سے بات چیت میں کیا۔

 

تقریب میں نگران صوبائی کابینہ کے اراکین سمیت پی ایس سی آئی کے صدر سلمان الہٰی ملک، چارسدہ چیمبر کے سکندرخان، ملاکنڈ چیمبر کے صدر شعیب خان، دیرچیمبر کے صدر نورعالم باچا، باجوڑ چیمبر کے سابق صدر لعلی شاہ، کرم چیمبر کے صدر ظاہر شاہ، صوابی چیمبرکے صدر بابرہمایون، چترال چیمبرکے صدر صدر قذافی، کوہاٹ چیمبر کے صدر ارشد حیات، چیئرمین اے پی سی ای اے سیدمنہاج الدین باچا، ایبٹ آباد چیمبر کے صدر عبدالرشید، ہری پور چیمبرکے صدر طیب سواتی، مہمند چیمبرکے صدر خواجہ عبدالقدوس، سابق صدر سجاد علی، ایف پی سی سی آئی کے سابق صدور سمیت صوبے کے تمام چیمبرز کے موجودہ وسابق صدور اوردیگرعہدیداران سمیت مختلف چھوٹے بڑے کاروبار سے وابستہ بزنس کمیونٹی کے نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریب میں میئرپشاور حاجی زبیر علی بھی موجود تھے۔اس موقع پر کیک بھی کاٹاگیا۔

chitraltimes governor giving away cheque to fpcci 3

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنرحاجی غلام علی نے کہاکہ ملک کی معاشی ترقی میں بزنس کمیونٹی کے کردار اور اہمیت کو کسی طور بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، یہ لوگ اس ملک کے وجود میں ریڑھ کی ہڈی سے بھی زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور اسکے ساتھ ساتھ پورے ملک کے چیمبرز اور کاروباری طبقے کا اس وقت صرف ایک ہی مطالبہ ہے کہ ملک کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دلانے اور اسے حقیقی معنوں میں اپنے پاوں پر کھڑے کرنے کے لیے ہم سب کو چارٹر آف اکانومی کے قابل عمل نفاذ کے لیے ایک ہونا ہوگا، اور یہ مطالبہ موجودہ حالات اور عوامی توقعات کو مدنظر رکھتے ہوئے سو فیصد درست سمجھتا ہوں۔ انکا کہنا تھا کہ لاہور کے حالیہ دورے میں جہاں بزنس کمیونٹی سے ملاقاتیں ہوئیں وہاں پاکستان پیپلز پارٹی کے کو چیئرمین اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری سے بھی اس حوالے سے ملاقات میں تفصیلی بات چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ پوری امید اور پورا یقین ہے کہ سیاسی جماعتیں اور بزنس کمیونٹی چارٹر آف اکانومی کے لیے اتفاق رائے قائم کر لینگی اور پھر پاکستان کی عوام دن دگنی و رات چگنی ترقی کے خواب کو حقیقی معنوں میں شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھینگے۔

 

گورنر کا کہنا تھا کہ ملک کی بزنس کمیونٹی نے بالعموم اور خیبر پختونخوا کی بزنس کمیونٹی نے بالخصوص گزشتہ بیس سالوں میں جو مالی و جانی قربانیاں دیں ہیں ان کو الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنا ناممکن ہے کیونکہ یہ ڈٹے رہے اور حالات کا مقابلہ کرتے رہے۔ گورنر نے واضح کیا کہ اگر حکومتیں اور کاروباری طبقہ ایک پیج پر ہوگیا تو ملک کی تقدیر بدل جائیگی۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک میں سب سے زیادہ ٹیکس کاروباری طبقہ ادا کرتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ انہی ٹیکس کے پیسوں سے ملکی معیشت کا پہیہ رواں دواں ہے،صوبہ میں کاروبار کے فروغ اور کاروبار طبقہ کے مسائل کے خاتمہ کے ساتھ انکے لئے آسانیاں پیدا کرنا میرا مشن ہے۔ انہوں نے اس موقع پر بزنس کمیونٹی کے مطالبہ پر تقریب میں موجود وزیراعلٰی کے مشیر برائے محکمہ مال سے درخواست کی کہ صوبہ کے تمام اضلاع میں چیمبرز کے قیام کیلئے اراضی کی فراہمی کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اور تمام اضلاع میں چیمبرز کو اپنے دفاتر کی تعمیر کیلئے محکمہ مال نہ صرف بھرپور تعاون کرے بلکہ اراضی کی نشاندہی کر کے متعلقہ امور کو جلد نمٹا کر کاروباری طبقہ کو ریلیف فراہم کرے۔اس موقع پر فیڈریش کے کوآرڈینیٹر سرتاج احمد خان نے گورنر اور صوبائی کابینہ سمیت نگران وزیر اعلیٰ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ گورنر حاجی غلام علی کی قیادت میں صوبے کی بزنس کمیونٹی کے مسائل کے حل سمیت تجارت کے فروغ کے لیے اسی طرح کامیابی سے قدم آگے بڑھاتے رہینگے۔ تقریب کے اختتام پر گورنر حاجی غلام علی کو انکی خدمات کے لیے فیڈریشن اور چیمبرز کی جانب سے سوینیئر بھی پیش کیا گیا۔

chitraltimes governor giving away cheque to fpcci 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
75319

مادہ پرستی کے دور میں دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کو اپنا شعار سمجھنے والے افراد وادارے معاشرے میں باوقار مقام رکھتے ہیں، گورنر حاجی غلام علی

Posted on

مادہ پرستی کے دور میں دکھی انسانیت کی بے لوث خدمت کو اپنا شعار سمجھنے والے افراد وادارے معاشرے میں باوقار مقام رکھتے ہیں، گورنر حاجی غلام علی

گورنر کا یونیورسٹی روڈ پر خیراتی ادارے عمرذیابیطس فاؤنڈیشن پشاور برانچ کا افتتاح،شوگرمریضوں کے مفت علاج کیلئے ادارے کوخراج تحسین، ادویات کی فراہمی سمیت مکمل تعاون کی یقین دہانی

گورنر کا نگران صوبائی وزراء عدنان جلیل،ملک مہرالہٰی کے ہمراہ پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کا بھی دورہ،بزنس کمیونٹی کی جانب سے شاندار استقبال،کاروباری طبقہ کیلئے آسانیاں پیدا کرنے، مسائل ومشکلات کے حل پرگورنرکوخراج تحسین

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ معاشرے کوایسے افراد کی ضرورت ہے جو بغیر کسی لالچ کے دکھی انسانیت کی خدمت کو اپناشعار سمجھتے ہیں،مادہ پرستی کے دور میں ایسی خدمات عبادت ہیں اور اس سے وابستہ افراد نہ صرف قابل عزت ہیں بلکہ انکا نام بھی ہمیشہ زندہ رہتا ہے، اس ضمن میں عمرذیابیطس فاؤنڈیشن صحت مندمعاشرے کی تکمیل اور شوگر کے مکمل خاتمے کے لئے بے لوث مفت علاج معالجہ کی خدمات فراہم کررہاہے جوکہ نہ صرف قابل تحسین ہے بلکہ شوگر کے خاتمے کیلئے ایک عملی جدوجہد بھی ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی روڈپشاور پر قائم ہونیوالے خیراتی ادارے عمرذیابیطس فاؤنڈیشن پشاور زیر اہتمام منعقدہ پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ گورنرنے اس موقع پر نگران وزیر صنعت وتجارت عدنان جلیل، فاؤنڈیشن کے چیئرمین جسٹس (ر) میاں محمدجمیل، فاؤنڈیشن ایگزیکٹیوڈاکٹر محمد عمر وہاب کے ہمراہ عمر ذیابیطس فاؤنڈیشن کا قیام کا باقاعدہ افتتاح کیااور شوگر کے مریضوں کو مفت ادویات کی فراہمی، مفت شوگر ٹیسٹ سمیت دیگر طبی سہولیات کا بھی جائزہ لیا۔اس موقع پر گورنر کا بھی ادارہ کیجانب سے مفت شوگر ٹیسٹ بھی کیا گیا۔ افتتاحی تقریب میں شعبہ طب سے وابستہ افراد اور مختلف طبقہ فکر کی بڑی تعداد بھی شریک تھیں۔ افتتاحی تقریب سے خطاب میں عمر ذیابیطس فاونڈیشن کے سربراہ ڈاکٹر عمر نے بتایا کہ فاونڈیشن کا بنیادی مقصد شوگر کے مرض کا مکمل خاتمہ ہے اور اس نیک مقصد کیلئے شوگر کے مریضوں کا مکمل مفت علاج معالجہ کیا جاتا ہے، انہوں نے بتایا کہ 10 ہزار سے زائد شوگر کے مریض رجسٹرڈ کئے جا چکے ہیں جن کا بالکل مفت علاج کیا جا رہا ہے جبکہ شوگر سے آگاہی سے متعلق 100 سے زیادہ آگاہی کیمپس بھی لگائے گئے ہیں، انہوں نے کار خیر میں شرکت کرنے پر گورنر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

chitraltimes governor kp haji ghulam ali addressing 1

تقریب سے بحثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے گورنر نے پشاور میں فاؤنڈیشن کے قیام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شوگر کے مریضوں میں پاکستان تیسرے نمبر پر ہے جس کی اہم وجہ اس بیماری کے متعلق آگاہی کی کمی اور وسائل کا نہ ہوناہے۔ شوگر ایک ایسا مرض ہے جو تیزی سے جسمانی اعضاء کوناقابل تلافی نقصان پہنچاتاہے۔ انہوں نے کہاکہ ہر بیماری تکلیف دہ ہوتی ہے، جسم کے تمام اعضاایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں اور ہربیماری سے پورا وجود متاثرہوتاہے۔ انہوں نے کہا کہ شوگر مریض کے علاج اور آگاہی کیلئے اس ادارے کی خدمات کوملک بھر میں متعارف کرائیں گے اور اس کی مکمل سرپرستی کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ دن میں 5 دفعہ وضو کرنا بھی مختلف بیماریوں سے نجات کا باعث ہے، ہمیں اپنے بچوں کو بھی نماز کی عادت ڈالنی چاہئے کیونکہ صحت منداورتوانا جسم کے برقراررکھنے کیلئے آج جتنی بھی ریسرچ ہورہی ہیں وہ سب کچھ پہلے سے وضو اور نماز میں موجود ہے۔انہو ں نے کہاکہ ہمیں صحت مند رہنے کیلئے خود کو اور اپنے بچوں کوبسیارخوری سے پرہیزکرنے کے ساتھ معیاری خوراک پر توجہ دینی ہوگی کیونکہ احتیاط علاج سے زیادہ بہترہے۔انہوں نے کہا کہ اس شوگر مریضوں کے مکمل مفت علاج معالجہ کیلئے اس ادارے کا قیام طبی شعبہ میں نہ صرف حکومت کی مدد کا باعث ہے بلکہ اس شوگر کے مرض میں مبتلا غریب و نادار افراد کی بحالی کیلئے بھی مددگار ہے،

 

علاوہ ازیں گورنرنے نگران صوبائی کابینہ کے اراکین عدنان جلیل اورملک مہرالٰہی کے ہمراہ پشاور چیمبر آف سمال ٹریڈرز اینڈ سمال انڈسٹری کا بھی دورہ کیا۔ چیمبر پہنچنے پر صدر ملک سلمان الٰہی، سابقہ صدر شکیل احمد صراف، حاجی لعل جان اور بزنس کمیونٹی کے دیگرنمائندوں نے گورنر کا پرتپاک استقبال کیا۔مختلف بازاروں کے صدور، اراکین تنظیم تاجران، عمائدین،بلدیاتی چیئرمینوں، کونسلرز و دیگر سیاسی و غیر سیاسی شخصیات کی بڑی تعداد موجودتھی۔چیمبر کے صدر، سینئر نائب صدر و دیگر تجارتی عہدیداروں نے صوبہ سمیت ملک بھر میں کاروباری طبقہ اور بالخصوص سمال چیمبرز کی ترقی و مسائل کے خاتمہ کیلئے گورنر کی عملی جدوجہد کو سراہتے ہوئے کہا کہ گورنر اپنے آئینی فرائض کے ساتھ صوبہ اور ملک کے کاروباری طبقہ کو ساتھ لیکر چل رہے ہیں اور کاروباری طبقہ کے مسائل و مشکلات کے حل سے نہ صرف مکمل واقفیت رکھتے ہیں بلکہ کاروباری طبقہ کیلئے آسانیاں پیدا کرنے میں بھی عملی اقدامات اٹھا رہے ہیں جو کہ لائین تحسین ہیں،

 

اس موقع پر گورنرنے بزنس کمیونٹی کی جانب سے شاندار استقبال پر ان کاشکریہ ادا کیا اور کہاکہ سمال چیمبرز صرف خیبرپختونخوا نہیں بلکہ ملک بھر میں کی ترقی میں بہترین کردار ادا کر رہے ہیں، کسی بھی ملک کی معیشت کی ترقی کا راز ملکی صنعت و تجارت سے وابستہ ہے،کاروباری طبقہ کو سہولیات کی فراہمی اور انکے کاروبار میں آسانیاں پیدا کئے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا، انہوں نے کہاکہ پشاورشہر، یہاں کے عوام اور یہاں کاروباری افراد ان کے اپنے ہیں، پشاور کی ترقی، یہاں کے عوام کی خوشحالی اور کاروبارسے وابستہ لوگوں کی خدمت پرپہلے بھی کبھی سمجھوتہ نہیں کیا اور اب بھی آئینی فرائض سرانجام دیتارہوں گا۔انہوں نے واضح کیاکہ میں سستی شہرت کا قائل نہیں مسائل حل کرنا اپنافرض سمجھتاہوں، یہ عہدے کچھ نہیں اصل کام پشاور شہرسمیت صوبے اوراس ملک کی ترقی اورعوام کی خدمت ہے۔

chitraltimes governor kp haji ghulam ali addressing 2

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
75192

ورنر سے ضلع بونیر، چترال،کرم، دیر بالا اور اورکزئی کے نمائندہ عوامی وفود کی بھی الگ الگ ملاقاتیں

گورنر حاجی غلام علی سے اکاونٹنٹ جنرل خیبرپختونخوامرتضی خان، چیف ایگزیکٹیو پیسکو عارف سدوزئی اور سیکرٹری پی اینڈ ڈی خیام حسن خان کی گورنرہاؤس میں الگ الگ ملاقات
گورنرسے ہری پورچیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری، آل ٹریڈرز فیڈریشن ہری پور اور ڈسٹرکٹ بارہری پور کے عہدیداروں پر مشتمل مشترکہ وفدکی بھی ملاقات،بزنس کمیونٹی کو درپیش مسائل پرتبادلہ خیال
گورنر سے ضلع بونیر،ضلع چترال،ضلع کرم،ضلع دیر بالا اورضلع اورکزئی کے نمائندہ عوامی وفود کی بھی الگ الگ ملاقاتیں، عوامی مسائل پر تبادلہ خیال

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی سے اکاونٹنٹ جنرل خیبرپختونخوامرتضی خان، چیف ایگزیکٹیو پیسکو عارف سدوزئی اور سیکرٹری پی اینڈ ڈی خیام حسن خان نے بدھ کے روزگورنر ہاؤس میں الگ الگ ملاقات کی اور گورنر کو متعلقہ محکموں کی کارکردگی سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔اس موقع پر نگران صوبائی کابینہ کے اراکین حامدشاہ،عبدالحلیم قصوریہ، جسٹس (ر) ارشاد قیصر، ریاض انور اورشیراز اکرم باچابھی موجود تھے۔ چیف ایگزیکٹیو پیسکو نے گورنر کو صوبہ میں بجلی کی طلب ورسد اور لوڈشیڈنگ کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔انہوں نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات سے بھی گورنر کو تفصیلی بریفنگ دی۔گورنرنے کہاکہ لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں اورگرمیوں سے قبل جہاں ٹرانسفارمرزاوربجلی کی ٹرانسمینش لائنز میں خرابیاں ہیں عوام کی سہولت کیلئے وہ جلد ازجلد دورکی جائیں۔نگران صوبائی حکومت بھی اس سلسلے میں کردار اداکررہی ہے۔سیکرٹری پی اینڈڈی سے گفتگوکرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ صوبہ بھر میں ترقیاتی کاموں کی نگرانی عوام کوخود کریں گے کیونکہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے بننے والے روڈز، گلیاں، سکولز، ہسپتال کی غیرمعیاری کام کی نشاندہی عوام کی ذمہ داری ہے تاکہ تعمیراتی کاموں میں معیارکو یقینی بنایاجاسکے۔

علاوہ ازیں گورنرسے ہری پورچیمبرآف کامرس اینڈانڈسٹری، آل ٹریڈرز فیڈریشن ہری پور اور ڈسٹرکٹ بارہری پور کے مشترکہ صدور، چیئرمینز اوردیگرعہدیداروں پر مشتمل 25 رکنی وفد نے بدھ کے روزگورنرہاؤس میں ملاقات کی۔ وفد کے شرکاء نے گورنر کو ضلعی انتظامیہ کی جانب سے تاجروں کے ساتھ نارواسلوک، چھوٹے تاجروں اوردوکانداروں کوبے جا تنگ کرنے اور ضلع میں گاڑیوں کی چوریوں سمیت امن وامان کی صورتحال سے متعلق آگاہ کیا۔ وفد کے شرکاء نے گورنرکو ہری پور بار ایسوسی ایشن اور آل ٹریڈرز فیڈریشن ہری پور کی حلف برداری تقریب میں شرکت کی دعوت بھی دی۔
اس موقع پر گورنر نے کہاکہ صوبے سمیت ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کی محبتوں کے شکرگزار ہوں جنہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ صوبہ سمیت ملک کے کونے کونے سے گورنرہاؤس کادورہ کیا اور اپنی محبت کا اظہارکیا۔ انہوں نے کہاکہ بزنس کمیونٹی ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک پر جب بھی مشکل وقت آیا مقابلے کے لیے ہماری بزنس کمیونٹی اور تاجر برادری سب سے آگے رہی اور انشاء اللہ بہت جلد ملک موجودہ مشکل معاشی صورتحال پر بھی تاجربرادری کی تعاون سے کامیابی کیساتھ قابو پالے گی۔ گورنر کی جانب سے مسائل کے حل کیلئے مکمل تعاون کی یقین دہانی پروفد کے شرکاء نے شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح موجودہ گورنر نے ان کے ساتھ اپنا تعلق بحال رکھا ہے اسی طرح نہ صرف صوبے بلکہ ملک بھر کی بزنس کمیونٹی اور تاجر برادری بھی ان کا ساتھ دیگی۔

علاوہ ازیں گورنرحاجی غلام علی سے بونیر سے سابق رکن صوبائی اسمبلی مفتی فضل غفور کی قیادت میں کبل بارایسوسی ایشن سوات اورماربل ایسوسی ایشن بونیر کے مشترکہ 16 رکنی نمائندہ وفد، ضلع اورکزئی سے مولاناعین الدین شاکر کی قیادت میں 8 رکنی نمائندہ عوامی وفد،چترال سے سابق رکن صوبائی اسمبلی مولاناہدایت الرحمن اور حبیب الدین ضلعی ترجمان جے یوآئی اپر چترال کی سربراہی میں نمائندہ وفد، ضلع کرم سے ملک بدیع الزمان کی سربراہی میں نمائندہ عوامی وفد اوردیربالا بارایسوسی ایشن کے نمائندہ وفد نے الگ الگ ملاقاتیں کی اور اپنے اپنے متعلقہ علاقوں کے عوام کودرپیش مسائل اور بارکونسلوں کودرپیش مشکلات سے گورنر کو آگاہ کیا اور ان مسائل ومشکلات کے حل کیلئے گورنر سے کردار ادا کرنے کی درخواست کی۔
وفود سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرحاجی غلام علی نے کہاکہ عوامی مسائل کو حل کرنااور اُن کی خدمت وہ اپنا فرض سمجھتے ہیں اور اس مقصد کیلئے تمام ممکنہ وسائل کو بروئے کارلایاجائیگا۔ انہوں نے کہاکہ نگران صوبائی حکومت کے ساتھ ملکر عوام کو سہولیات کی فراہمی اور عوامی مسائل کے حل کیلئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں اورعلاقائی مسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومت آئندہ بجٹ میں خطیر رقم مختص کرے گی۔

chitraltimes mpa hidayat meeting with governor kp2 chitraltimes mpa hidayat meeting with governor kp

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
74030

حکومت سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کررہی ہے، گورنر حاجی غلام علی

Posted on

حکومت سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کررہی ہے، گورنر حاجی غلام علی

ہائی رائز بلڈنگز اورھاؤسنگ سوسائٹیز کے ساتھ ملک کی 50 فیصد انڈسٹری وابستہ ہے جو معاشی بحالی میں اہم کردار ادا کررہی ہے، گورنرحاجی غلام علی

گوررنرکاپشاورمیں دوسرے انٹرنیشنل پراپرٹی ایکسپو اینڈ کنونشن کی افتتاحی تقریب سے خطاب،مختلف سٹالز کامعائنہ کیا

گورنر سے اقلیتی نیشنل الائنس اور ینگ نرسزکے وفود کی بھی ملاقات، گورنر کااقلیتی برادری اور ینگ نرسز کودرپیش مسائل کے حل کی یقین دہانی

 

پشاور ( چترال ٹایمز رپورٹ ) گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے کہاہے کہ موجودہ وفاقی اورصوبائی حکومت سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات فراہم کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔ ہائی رائز بلڈنگز اورھاؤسنگ سوسائٹیز کے ساتھ ملک کی 50 فیصد انڈسٹری وابستہ ہے۔ صوبائی حکومت صوبے میں بزنس کمیونٹی کے تمام مشکلات کے خاتمے کیلئے جامع منصوبہ بندی کے تحت اقدامات اٹھارہی ہے۔ یہ بات انہوں نے پشاور میں دوسرے انٹرنیشنل پراپرٹی ایکسپو اینڈ کنونشن کی افتتاحی تقریب سے بحیثیت مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کی۔ گورنر نے اپنے دورہ کے دوران انٹرنیشنل پراپرٹی ایکسپو اینڈ کنونشن کا باقاعدہ افتتاح کیا اور ایکسپو میں لگائے گئے مختلف سٹالز کامعائنہ بھی کیا۔ گورنرنے اس موقع پربھرپور انتظامات پر انتظامیہ کو سراہا۔ ایکسپو سنٹر پہنچنے پر پاکستان ایسوسی ایشن آف ایگزیبیشن انڈسٹری کے بانی چیئرمین خورشید برلاس اور ایکسپو انتظامیہ نے گورنر حاجی غلام علی کا پرتپاک استقبال کیا اور افتتاحی تقریب میں شرکت کرنے پر گورنر کا شکریہ بھی ادا کیا۔

 

اس موقع پر بزنس کمیونٹی نے گورنر کو ٹی ایم ایز اور انوائرمنٹل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے NOC کے اجراء میں مسائل اور مشکلات پیدا کرنے کے حوالے سے شکایت کیں اور بزنس کمیونٹی کو درپیش دیگر مسائل سے بھی گورنر کو آگاہ کیا۔ انہوں نے گورنر کو بتایاکہ ٹی ایم ایز اور انوائرمنٹل ڈیپارٹمنٹ سرمایہ کاروں کو این او سی کے نام پر 2، 2 سال سے تنگ کررہے ہیں حالانکہ قواعد وضوابط کے لحاظ سے تمام نقشہ جات بھی درست ہوتے ہیں تاہم مختلف حیلو بھانوں سے سرمایہ کاروں کو تنگ کیاجاتاہے۔ گورنرنے صوبے میں سرمایہ کاروں کیجانب سے ایکسپو منعقد کرنے کے اقدام کو سراہا اوراسے سنگ میل قراردیتے ہوئے کہاکہ صوبے میں جدید طرزتعمیر اوریہاں کے عوام کوجدید سہولیات سے آراستہ رہائشی اور کمرشل سہولیات کی فراہمی صوبے کی تعمیروترقی میں مزیداضافہ کرے گی۔ گورنر حاجی غلام علی نے بزنس کمیونٹی کو درپیش تمام مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے تعاون کا یقین دلایا اور کہاکہ متعلقہ حکام کو ہائی رائز بلڈنگز اورہاؤسنگ سوسائٹیزکو ٹی ایم ایز اور انوائرمنٹل ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے درپیش مشکلات سے آگاہ کیاجائے گا تاکہ ان شکایات کو فوری طور پر دور کیاجاسکے۔

Governor KP visits international property expo convention

گورنر حاجی غلام علی کاکہناتھاکہ سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے اور موجودہ صوبائی اور وفاقی حکومت کی بھی یہ خواہش ہے کہ بزنس کمیونٹی اور سرمایہ کاروں کو تمام سہولیات مہیاں کئے جائیں اور اس ضمن میں تمام وسائل بروئے کار لائے جارہے ہیں۔ گورنرنے کہاکہ اس وقت ملک معاشی طور پر مشکلات سے دوچارہیں، بزنس کمیونٹی پہلے کی طرح موجودہ مشکلات کے خاتمے کیلئے بھی اپنا کردار ادا کریں اور وہ وقت دور نہیں جب حکومت بھی ان کی سوچ سے زیادہ انہیں مزید مراعات اور سہولیات دیں گی۔ علاوہ ازیں گورنرخیبرپختونخوا حاجی غلام علی سے اقلیتی نیشنل الائنس کے20 رکنی وفدنے بھی گورنرہاؤس میں ملاقات کی۔ وفدکی سربراہی صوبائی صدر نیشنل کمیشن آف پاکستان فار ہیومن رائٹس پرویز اقبال کررہے تھے۔ وفد نے گورنر کو آئینی منصب سنھبالنے پر مبارکباد دی۔ انہوں نے اقلیتی برادری کیلئے بڑھتی ہوئی آبادی کے لحاظ سے قبر ستان کی ضرورت، اقلیتی عبادت گاہوں کی سولرائزیشن، مرمت اور سیکیورٹی سمیت دیگر مشکلات پر کے حوالے سے گورنرکو آگاہ کیا۔ گورنرنے وفد کو تمام مسائل کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کا یقین دلایا اور بعض مسائل کے حل کیلئے موقع پر ہی احکامات جاری کئے۔

 

گورنرحاجی غلام علی سولرائزیشن کے حوالے سے کہاکہ سولرائزیشن کا عمل سینٹ جانز سے شروع ہوجائیگا اور بتدریج سولرائزیشن کاعمل تمام اقلیتی عبادت گاہوں میں مکمل کیاجائیگا جس سے بجلی کے حوالے سے مسائل حل ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ عبادت گاہوں کی مرمت کے حوالے سے بھی صوبائی حکومت سے ملکر وفاق سے بات کی جائیگی تاکہ تمام اقلیتی عبادت گاہوں کی مرمت اور بحالی کو کوممکن بنایاجاسکے۔ دریں اثناء گورنر حاجی غلام علی سے ینگ نرسز ایسوسی ایشن کے17 رکنی وفد نے بھی گورنر ہاؤس میں ملاقات کی اور نرسز کو درپیش مسائل کے حوالے سے گورنر کو آگاہ کیا۔ گورنرنے وفد کی معروضات غور سے سنیں اور ان کے حل کیلئے اپنی جانب سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے مسائل کے حل میں دلچسپی لینے اور تعاون کی یقین دہانی پر گورنر کاشکریہ ادا کیا۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
71619