چترال کے بعض این جی اوز کالاش ویلی میں علاقے کے عمائدین کے مشورے اور اعتماد میں لیئے بیغیرٹھیکہ داری سسٹم میں کام کرکے پیسہ ضائع کررہے ہیں، نوٹس لیا جائے۔ پریس کانفرنس
چترال کے بعض این جی اوز کالاش ویلی میں علاقے کے عمائدین کے مشورے اور اعتماد میں لیئے بیغیرٹھیکہ داری سسٹم میں کام کرکے پیسہ ضائع کررہے ہیں، نوٹس لیا جائے۔ پریس کانفرنس
چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) کالاش ویلیز رمبور اور بمبوریت کے عمائیدین نے آغا خان ایجنسی فار ہبیٹاٹ(اکاہ)، آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (اے کے آر ایس پی) اور ایون ویلیز ڈیویلپمنٹ پروگرام(اے وی ڈی پی) کی جانب سے ان وادیوں میں تعمیراتی کاموں کے طریقہ کار پر اپنی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ادارے ڈونرز کی طرف سے دئیے گئے فنڈزکو غلط طریقے سے خرچ کررہے ہیں جس سے علاقے کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا۔ منگل کے روز چترال پریس کلب میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اقلیتی کونسلر نور شالی، ثراوت شاہ، حبیب نور، بزرگ احمد اور دوسروں نے کہاکہ یہ ادارے کوئی بھی تعمیراتی کام شروع کرتے وقت عوام کو اعتماد میں لینے اور ان پر مشتمل نگران اور اڈٹ کمیٹی بنانے کی بجائے ٹینڈرکے ذریعے ٹھیکہ داروں کے حوالے کرتے ہیں جس سے کسی منصوبے کا مختص رقم کا بڑا حصہ ضائع ہوتا ہے۔
انہوں نے کہاکہ کالاش ویلیز میں غربت کے نام پر ڈونرز سے فنڈز لینے کے بعد اس رقم کو ان کی ضروریات کے مطابق ہی خرچ کرنی چاہئے اور سرکاری محکمہ جات کی طرح اس رقم کو بھی ٹھیکہ داروں کے ذریعے خرچ کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے جوکہ فنڈز کا بڑا حصہ منافع کے طور پر کماکر لے جاتے ہیں۔ وادی کے عمائیدین نے پراجیکٹ کی ٹارگٹ کمیونٹی کو یکسر نظرانداز کرنے کے سلسلہ کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہاکہ اپنی وادیوں کے نام پر مزید یہ کھیل تماشا برداشت نہیں کریں گے جبکہ ناقص کام کی نشاندہی پر ادارے کے انجینئرز کمیونٹی کے ساتھ بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔ انہوں نے گزشتہ کئی سالوں کے دوران ٹھیکہ داروں کے ذریعے کئے گئے کاموں کی مکمل اڈٹ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہوا تو وادی بمبوریت اور رمبور کے عوام ان اداروں کو وادیوں سے اپنے بورے بستر گول کرنے پر مجبور کریں گے۔




