Chitral Times

داد بیداد ۔ افسر کے مشاہدات۔ ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

بڑے افیسروں کے مشاہدات بہت دلچسپ ہوتے ہیں ان میں سماجی زندگی کے چھوٹے چھوٹے لطیفے بھی ہوتے ہیں قومی زندگی کے بڑے بڑے راز بھی ہوتے ہیں انتظامی اُمور کے تجربات بھی ہوتے ہیں بین الاقوامی تعلقات کے پوشیدہ گوشے بھی آتے ہیں پاکستان میں قدرت اللہ شہاب کی اردو سوانح عمری”شہاب نامہ“ اس حوالے سے مشہور ہے روئیداد خان کی انگریزی کتاب”پاکستان اے ڈریم گان ساور“ بھی مقبول کتابوں میں شمار ہوتی ہے مگر ان دونوں کتابوں میں پاکستانی سماج کے دومشہور کردار عبدالستارایدھی اور عمران خان نظر نہیں آتے۔


بیسویں صدی کی آخری دہائی اور اکیسویں صدی کی ابتدائی دہائیوں کے واقعات نہیں ملتے اگرآپ کو لیڈی ڈیانا کے دورہ پاکستان سے دلچسپی ہے اگر آپ ارباب غلام رحیم اور میاں شہباز شریف کا موازنہ کرنا چاہتے ہیں تو آپ کوخیبر پختونخوا کے دبنگ افیسر شکیل درانی کی انگریزی کتاب ”فرنٹیر سٹیشنز“ کھولنی پڑے گی کتاب کھولنے کے بعد آپ بھی کہینگے ایسی چنگاری بھی یا رب اپنی خاکستر میں تھی بڑے افیسر کی اہم کتاب کی بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ ماں کے ذکر سے شروع ہوتی ہے اور دوستوں کے ذکر پر ختم ہوتی ہے درمیان میں دنیاجہاں سماگئی ہے آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ ضلع خیبر میں وادی تیراہ سے تعلق رکھنے والے دوبھائی میرمست اور میردست جنگ عظیم میں برطانیہ کی فوج کے ساتھ منسلک تھے،

جنگ کے دوران ایک بھائی جرمنوں سے جاملا،دوسرا بھائی برطانوی فوج میں رہا جنگ کے اختتام پر ایک بھائی کو جرمنی کا سب سے بڑا اعزاز ملادوسرے بھائی کو برطانیہ کا سب سے بڑا اعزاز وکٹوریہ کراس دیا گیا دونوں کے پوتے اور پڑپوتے آج بھی وادی تیراہ میں رہتے ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ ایک ضلع کا ڈپٹی کمشنر دوسرے ضلع کے نجی دورے پرتھا زلزلہ برپا ہوا پہاڑوں سے پتھر برسنے لگے تو گاڑی سے اُترا فوجی چوکی میں گھسے سپاہیوں کے ساتھ چھت پر چڑھ گئے جب زلزلہ بند ہوا دھول بیٹھ گئی تو ایک سپاہی نے پوچھا آپ کیا کام کرتے ہیں اُس نے کہا فلاں ضلع کا ڈپٹی کمشنر ہوں سپاہی نے کہا میں بھی اُس ضلع کا ہوں مجھے اسلحہ لائسنس چاہیئے سیڑھیوں سے اُترتے ہوئے ایسے چھ سپاہی اورملے۔

ڈپٹی کمشنر کو ان کی حاضر دماغی اور مطلب براری پر تعجب ہوا ہمیں جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں ان کو اسلحہ لائسنس کی فکر ہے۔آپ یہ جان کر حیراں ہونگے گلگت سے سیسنا جہاز کی پرواز کے 20منٹ بعد بادل آگئے جہاز ہچکولے کھانے لگا پائیلٹ نے ہنگامی حالت کا اعلان کیا جہاز کے تین مسافروں نے کہاچلو لنچ باکس کھولتے ہیں مرنے سے پہلے آخری لنچ کرتے ہیں۔تینوں مسافر لنچ میں مصروف تھے کہ بادل ہٹ گئے ہوا رُک گئی جہاز خطرے سے باہر نکل آیا پرواز ہموار ہوگئی پائلٹ نے خدا کا شکر ادا کیا کہ”جان بچ گئی میرے مولا نے خیر کی“ورنہ لنچ کے متوالوں کو لیکر کس کھائی میں گرجاتا۔یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ1981کی رات ایک پہاڑی مقام پر2بجے ڈپٹی کمشنر کو صدر مملکت کافون آتا ہے مگر بات ہونے سے پہلے لائن کٹ جاتی ہے ڈپٹی کمشنر سوچتا ہے دشمن نے حملہ کیاہوگا

اللہ خیر کرے اگلے لمحے لائن لگ جاتی ہے بات شروع کرکے صدر مملکت کہتا ہے میرا مہمان آرہاہے اس کی خوب مہمان نوازی کرو اگلے روز مقامی فوجی کمانڈر بھی ساتھ ہوتا ہے انجینئرز کور کا بریگیڈئیر بھی آجاتا ہے ائیرپورٹ پر صدر کا پوماہیلی کاپٹر اُترتا ہے تو ہیلی کاپٹر سے امریکی اخبار نویس گلے میں کیمرہ لٹکائے باہر آجاتا ہے۔جب اس کی رپورٹ چھپتی ہے تو اس میں جنرل ضیاء الحق سے زیادہ ڈپٹی کمشنر کا ذکر ہوتا ہے آپ کو یہ بات بھی دلچسپ لگے گی کہ1991ء میں لیڈ ی ڈیانا نے چترال کا دورہ کیا تو کمشنر نے صوبائی وزیراعلیٰ کو بتایا کہ ان کی آنکھوں میں مایوسی نظر آتی تھی اور ان کی باتوں سے کسی انجان احساس محرومی کی جھلک ملتی تھی۔آپ یہ جان کر حیران ہونگے کہ1973میں ذولفقار علی بھٹو اور بیگم نصرت بھٹو ایبٹ آباد کے گورنمنٹ ہاؤس میں ٹھہرے تو وی وی آئی پی لاونج کی اندورنی چھت پر دو پرندوں نے گھونسلے بنائے ہوئے تھے ایسے دلچسپ واقعات کے ساتھ ملک میں قدرتی وسائل کے استعمال،جنگلات اور جنگلی حیات کے حفاظت،نظم ونسق کی بہتری کے لئے جامع اور قابل عمل تجاویز آپ کوملینگی مصنف کو اس بات پر افسوس ہے کہ1973ء میں والٹن اکیڈیمی سے نکلنے کے بعد44سالہ سروس میں ملکی قیادت کا رویہ درست نہیں ہوا۔معین قریشی اور شوکت عزیز کے سوا کوئی ڈھپ کا لیڈر نہیں ملا۔شکیل درانی کے مشاہدات کو شہاب نامہ کا انگریزی ایڈیشن کہا جائے تو بے جا نہیں ہوگا۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
52998

دادبیداد – نقل یا چوری – ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

دادبیداد ۔۔۔۔۔نقل یا چوری۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی


وزیراعلیٰ محمود خان نے چکدرہ لوئر دیر کے امتحانی سنٹر میں ایک بااثر افیسر کے بیٹے کو الگ کمرے میں بٹھا کر نقل کی سہولت دینے کا نوٹس لیا اور ذمہ دار افیسروں کے خلاف رپورٹ درج کرکے ان کو جیل بھیجدیا گیا گویا اعلیٰ سطح پر اس بات کو تسلیم کیا گیا کہ امتحان میں نقل قابل دست اندازی پولیس جرم ہے اس جرم پر گرفتاری ہوسکتی ہے قید وبند کی سزابھی ہوسکتی ہے اس واقعے کی محکمانہ انکوائری کا حکم دے دیا گیا ہے محکمانہ انکوائری کے بعد پتہ لگیگا کہ محکمہ کیاکرتا ہے؟اگر کسی افیسر کو تبدیل کیا گیا تو اس کو سزا کی جگہ انعام تصور کیاجائے گاانکوائری کی رپورٹ آنے سے پہلے دوباتیں سامنے آگئی ہیں پہلی بات یہ ہے کہ پہلی بار اخباری نمائیندوں نے امتحانی ہال میں ہونے والی بے ضابطگی کوکیمروں کی مدد سے ویڈیو بناکر بے نقاب کیا ہے اخباری نمائیندوں کو اس جرء ت اوربہادری پر داد ملنی چاہیئے بلکہ انعام اور ایوارڈ ملنا چاہیئے دوسری بات یہ ہے کہ نقل کو چوری قرار دے کر چوروں کو گرفتار کیا گیا ہے اور یہ ملاکنڈ کی تاریخ میں دوسری بار ہوا ہے۔


61سال پہلے کا واقعہ محکمہ تعلیم سے وابستہ بزرگوں کو آج بھی یاد ہے1960ء میں پروفیسر پریشان خٹک نوجوان لیکچرر تھے جہانزیب کالج سوات میں امتحان پران کی ڈیوٹی لگائی گئی اس وقت سوات میں شرعی قوانین نافذ تھے۔قاضی القضاۃ میزان شریعت میں بیٹھ کر فیصلے سناتا تھا قتل کے مجرم کوقصاص کی سزا دی جاتی تھی۔چوری کے مجرم کو ہاتھ کاٹنے کی سزا سنائی جاتی تھی اُس زمانے میں آج کی طرح باجماعت نقل مارنے کا رواج نہیں تھا ایک آدھ بندہ نقل میں پکڑا جاتا تو اس کا پرچہ منسوخ ہوتا جرم کی نوعیت کے لحاظ سے ایک سال،دوسال یا تین سال تک امتحان دینے پر پابندی بھی ہوتی تھی۔اس سے زیادہ سزا نہیں تھی امتحان کے دوسرے روز پریشان خٹک نے ایک طالب علم کو نقل کرتے ہوئے پکڑلیا۔نقل کے ساتھ رنگے ہاتھوں گرفتار کرکے پولیس کے حوالے کیا اور اپنی طرف سے وقوعہ کی رپورٹ لکھ کر قاضی القضاۃ(چیف جسٹس) کو بھیجدیا۔

رپورٹ میں اُنہوں نے موقف اختیار کیا کہ ریاست سوات میں شریعت نافذ ہے شرعی سزائیں مقرر ہیں اور شریعت کے احکامات پرعمل بھی ہوتا ہے میں نے سوات کے امتحانی ہال میں طالب علم کو نقل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑلیا ہے گواہ بھی موجود ہیں چونکہ محکمہ تعلیم کے قواعد وضوابط اور امتحانی ہال کے لئے وضع کردہ قوانین میں نقل کو چوری تصور کیا گیا ہے نقل کرنے والے کی وہی سزا ہوتی ہے جو سزا چور کی ہے اس لئے طالب علم ایکس وائی زی پر چوری کا مقدمہ چلاکر گواہوں کو طلب کیا جائے اور جرم ثابت ہونے پر مجرم کا ہاتھ کاٹ دینے کے لئے حکم جاری کیا جائے۔امتحانی ہال میں پرچہ ختم ہونے سے پہلے اس واقعے کی رپورٹ والی سوات میاں عبدالحق جہانزیب کو دی گئی۔ان کے سامنے اپنی نوعیت کا یہ پہلا واقعہ تھا

والی صاحب کو تعجب بھی ہوا حیرت بھی ہوئی اُنہوں نے ہال کے سپرنٹنڈنٹ کو بلانے کا حکم دیا۔ہرکارہ آیاتو پریشان خٹک نے والی صاحب کو خط لکھ کرامتحان کے ہال کوچھوڑ کرشاہی دربار میں حاضر ہونے سے معذرت کا اظہار کیا۔اس خط نے والی صاحب کے دل میں پروفیسر صاحب سے ملنے کا اشتیاق پیدا کیا والی صاحب نے خط کے جواب میں پروفیسر صاحب سے درخواست کی کہ آج شام کے لئے میری دعوت قبول کریں اور ”نان شیراز‘ میں شریک ہوکر میری عزت افزائی کریں پریشان صاحب نے لکھا کہ میں اکیلا نہیں ہوں میرے ہمراہ امتحانی ہال کا پورا عملہ ہے۔والی صاحب مزیدمتاثر ہوئے اور لکھا کہ میری دعوت آپ کے عملے کے لئے بھی ہے رات کھانے پرجو گفتگو ہوئی اس میں پریشان خٹک نے والی صاحب کو قائل کیا کہ نقل بدترین چوری ہے جو ایک نسل کو تباہ کرنے کا سبب بنتی ہے والی صاحب کے مشیر سیف الملوک صدیقی خودبھی دانشور تھے شاعر تھے”زہ انتظار کوم ستادسترگو،ولے پنہ شوے تہ زمادسترگو“ انہی کی غزل ہے۔مشیر صاحب نے1973ء میں چنداخورہ کبل میں اساتذہ کے ایک گروپ کو یہ واقعہ سناکرآخیر میں کہا کہ والی صاحب پریشان خٹک کی صداقت،دیانت،جرء ت اور کردار کی بلندی کے گرویدہ ہوگئے۔


2021کا چکدرہ سوات سے زیادہ دور نہیں بلکہ سوات کے دروازے پر واقع ہے1960ء میں پریشان خٹک نے والی صاحب کو قائل کیا تھا کہ نقل بھی چوری ہے61سال بعد اخباری نمائیندے فیصل نے خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمودخان کو قائل کیا ہے کہ نقل چوری ہے قابل دست اندازی پولیس ہے اور اس جرم پر بھی ڈکیتی والی ایف آئی آر ہونی چاہیئے بقول اقبال۔۔۔
وہی نامحکمی وہی دیرینہ بیماری دل کی
علاج اس کاوہی آب نشاط انگیز ہے ساقی

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
50548