Chitral Times

انسانی معاشرے میں خواتین کامقام – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسانی معاشرے میں خواتین کامقام

(8مارچ:اقوام متحدہ کے عالمی یوم نسواں کے موقع پر خصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی (اسلام آباد،پاکستان)

خواتین انسانی معاشرے کا ایک لازمی اور قابل احترام کردار ہیں۔کاروبار معاشرت میں مرد اور عورت ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔کتنے آسان پیرائے میں یہ بات سمجھا دی گئی کہ جس سے نہ کسی کی اہمیت کم ہوئی اور نہ ہی ضرورت سے زائد بڑھ گئی۔قرآن مجید نے اکثر انبیاء علیھم السلام کے ساتھ انکے رشتوں کا بھی ذکر کیا ہے اور ان میں سے کچھ مردانہ رشتوں کے بارے میں تو بتایا گیا کہ وہ اپنے غلط عقائد  کے باعث ان پراللہ تعالی کی ناراضگی نازل ہوئی لیکن نبیوں سے منسوب کوئی نسوانی رشتہ ایسا نہیں ملتا جواللہ تعالی کے غضب کا شکار ہوا ہو،بلکہ ایک برگزیدہ نبی کو گود لینے کے عوض فرعون جیسے دشمن خدا کی بیوی بھی دولت ایمان سے مالا مال کر دی گئی۔اسی طرح حج جیسی عالی شان عبادت جو زندگی بھر میں صرف ایک دفعہ فرض کی گئی ہے،صرف خواتین کے لیے اسکے مناسک مسجد حرام جیسی عبادت گاہ کی بجائے میدانوں میں رکھے گئے تاکہ اگر ایک طویل سفر کے بعد خواتین حجاز مقدس پہنچیں اور انکے ایام مخصوصہ شروع ہو جائیں تو وہ حج سے محروم نہ رہیں۔اگر یہی مناسک حج مسجد میں رکھے جاتے تو ظاہر میں ان ایام میں خواتین مسجد میں داخل نہ ہوسکتیں اور طویل سفر اور خطیر اخراجات کے باوجود حج سے محروم رہ جاتیں۔میری والدہ محترمہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ جب حجۃ الوداع کے لیے محسن نسوانیت ﷺ کے ہمراہ آئیں تو انہیں مسائل کا شکار ہو گئیں،

 

چنانچہ انہوں نے اسی حالت میں حج تو اداکرلیاکیونکہ اسکی ادائگی میدانوں میں ہونا تھی تاہم غسل کرنے کے بعد عمرہ کے مناسک بھی اداکیے کیونکہ مناسک عمرہ مسجد حرام میں اداہوتے ہیں۔اللہ تعالی کاعورتوں پر یہ خاص احسان ہے کہ انہیں کی خاطر حج جیسی عبادت میدانوں میں اداکرنے کا حکم دیا۔عمرہ ساراسال جاری رہتا ہے اور کم و بیش ساڑھے چار ہزار سالوں سے جاری ہے۔اس زمین کے سینے پر اور اس نیلی چھت کے نیچے اپنی نوعیت کی واحد عبادت ہے جو اتنے طویل عرصے سے جاری ہے۔اس عمرہ کی عبادت میں دو ہی بڑے بڑے مناسک ہیں،طواف اورسعی بین الصفاوالمروہ،ان میں سے سعی بین الصفا والمرہ  یعنی کم و بیش 50%عبادت ایک خاتون کی یاد میں کی جاتی ہے۔اللہ تعالی کو اس مامتاکااپنے بیٹے کے لیے پانی کی تلاش میں یوں بے قرار ہوجانا اور دوپہاڑوں کے درمیان دوڑ پڑنا اس قدر پسند آیا کہ تاقیامت اسی طرح ہی لوگ بھاگیں گے تو اانکاعمرہ قبول ہوگا۔صفا مروہ کے درمیان ایک مقام نشیب کا تھا جہاں سے حضرت اسمئیل نظر نہ آتے تھے،وہاں بی بی پاک زیادہ تیز دوڑیں اور پھر جب بیٹا نظر آنے لگتا تو آہستہ ہوجاتیں،صدیوں سے اس نشیبی مقام کو نشان زد کر دیاگیاہے جہاں حجاج اس مامتاکی یاد میں تیز دوڑتے ہیں اور پھر نسبتاََ اسی طرح آہستہ ہوجاتے ہیں جس طرح وہ مقدس خاتون آہستہ ہو گئی تھیں۔

جنت جیسامقام اس کائنات میں نہیں ہے جسے اللہ تعالی نے تمام نعمتوں کا مرکز بنایاہے،حضرت آدم علیہ السلام کو جب تخلیق کے بعد جنت میں رہائش عطا کی گئی تو عورت کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ جنت جیسے مقام پر بھی حضرت آدم تنہائی کا شکار ہوئے اور بغیر عورت کے ان کا دل نہ لگا۔بائبل نے واضع طور پر بیان کیا کہ عورت کے باعث جنت سے آدم و حوا کااخراج ہوا لیکن قرآن مجیدنے جو صیغہ استعمال کیا ہے اس میں دونوں کاذکر ہے کہ شیطان نے دونوں کو بہکایا۔سورۃ بقرہ میں اس واقعے کی تفصیلات موجود ہیں جہاں قرآن نے عورت کا دفاع کیااور حضرت آدم کو بھی اس سہو و نسیان میں برابر کا شریک کیا۔ایک انسانی معاشرے میں کسی فرد کے کتنے ہی رشتے ہوتے ہیں جو نسباََ اور سہراََاس سے وابسطہ ہوتے ہیں،ان رشتوں میں اتنی مٹھاس پوشیدہ ہوتی ہے کہ جب کسی کو کسی غیر کے ہاں اسی طرح کی آسودگی حاصل ہو تو وہ اسے بھی انہیں رشتوں میں سے کسی کانام دے دیتاہے۔کوئی بزرگ بہت اچھا لگے تو اسے چچا کہ دیتا ہے کوئی خاتون بہت محبت کرے تو اسے خالہ کہ کر پکارنے لگتاہے وغیرہ۔مذاہب میں بھی یہ سلسلہ یو ں موجود ہے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسی کو اللہ تعالی کابیٹا بنا لیا،اوراپنے مذہبی پروہتوں کو ”فادریعنی باپ“اورجوخواتین اپنے آپ کومذہب کے نام پر وقف کردیں انکو ”سسٹریعنی بہن“کہ کر پکارنے لگے۔اس پس منظر میں خاتم النبیین ﷺ کے ہاں سے جو رشتہ امت کو میسر آیا وہ بھی عالم نسوانیت سے ہی تعلق رکھتا ہے یعنی آپﷺ نے اپنی بیویوں کو امت کی ماؤں کا درجہ دیا۔اس سے خواتین کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے کیونکہ اور کوئی رشتہ نبی نے اپنے ہاں سے امت کو نہیں دیا۔

پورے اسلامی لٹریچر میں اللہ تعالی کے لیے کوئی مثال موجود نہیں ہے،کہیں نہیں کہاگیا کہ اللہ تعالی فلاں پہلوان سے زیادہ طاقتور ہے یافلاں بادشاہ سے بڑا بادشاہ ہے یا فلاں دولت مند سے زیادہ بڑے خزانوں کامالک ہے۔بس ایک مقام پر اللہ تعالی کی رحمت کوایک انسانی رشتے سے بڑھا کر بیان کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی ”ماں“سے زیادہ پیار کرتا ہے۔گویا اللہ تعالی نے جو کسی کامحتاج نہیں ہے پھر بھی اپنی محبت انسانوں کے ذہنوں میں بٹھانے کے لیے ماں کا استعارہ استعمال کیا۔ماں کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ حکم ملنے پر باپ،حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بیٹے کی گردن پر چھری چلا دی لیکن ماں نے جبریل سے کہا کہ جاؤ پہلے اللہ تعالی پوچھ آؤکہ میرے بیٹے،حضرت موسی علیہ السلام کو کچھ ہوگا تو نہیں؟؟جبریل آسمانوں سے ہوکر واپس آیا اور کہا کہ اللہ تعالی فرماتا ہے آپ اپنے بیٹے کو پانی میں بہا دیں اسے کچھ نہیں ہوگا۔اگرچہ دونوں بیٹوں کو کچھ نہیں ہوا لیکن مامتاکا فرق تو سامنے آگیا کہ اللہ تعالی کی تسلی کے باوجود پھر بھی بیٹی سے کہا کہ اس صندوق کے ساتھ ساتھ جاؤ اور میرے بیٹے کاخیال رکھو۔اس ماں کے سینے میں دل بھی تو اسی اللہ تعالی کاہی رکھاہواتھا۔قرآن مجید سے اس بات کے واضع ثبوت ملتے ہیں کہ اللہ تعالی نے خواتین کی طرف وحی کی جب جبریل نے حضرت ام موسی سے کہا کہ اپنے بیٹے کو پانی میں بہادیں اور جبریل نے ہی بی بی پاک مریم کو بیٹے کی خوشخبری دی۔قرآن مجید نے سورۃ نور میں ”مومنات الغافلات“کا لفظ استعمال کیا ہے یعنی بھولی بھالی عورتیں لیکن اس طرح کے پیاربھرے الفاظ مردوں کے لیے کہیں استعمال نہیں کیے۔آپ ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں ماں کے لیے تین درجے اور باپ کے لیے حقوق کا ایک درجہ ارشاد فرمایا۔ایک بار جب ماں کے نافرمان کے لیے دعاکی خاطرآپﷺ نے ہاتھ بلند کیے تو جبریل نے فوراََ آکر کہا کہ اللہ تعالی کہتا ہے اپنے ہاتھ نیچے کرلیں جب تک اسکی ماں اسے معاف نہیں کرے گی میں اسے معاف نہیں کروں گا۔

اسلامی احکامات شریعت میں مردوں پر سے فرض کسی صورت ساقط نہیں ہوتے لیکن ایام مخصوصہ میں عورت کے لیے یہ رعایت موجود ہے۔اسلام نے عورت پر احسان خاص کیا کہ معاش،جہاد،عدالت،سیاست،کچہری،تھانہ اور دنیاکے وہ تمام جھنبیلے جن سے نسوانیت کا وقار مجروح ہوتا ہے ان سے اسے بری الذمہ قراردے دیا ہے۔اور طب،تعلیم،ولادت و رضاعت،خانہ داری،خاندان،اور مرد کی غیرموجودگی میں نگہداشت سمیت وہ تمام فرائض عورت کو سونپ دیے ہیں جو عورت کی فطرت کا حصہ ہیں یا اسکی فطرت کے قریب تر ہیں۔عورت کو اتنا کچھ نوازنے کے بعد حجاب،نقاب،اختلاط مردوزن سے پرہیز،چادرچاردیواری اور شرم و حیا جیسی پابندیاں بھی اس پر لاگو کیں تاکہ عورت معاشرے کی آلودگیوں سے محفوظ و مامون ہو اپنے فرائض فطری اداکر سکے۔عورت کی عظمت کااندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ سب سے پہلے اسلام لانے والی بھی خاتون حضرت خدیجہ،سب سے پہلے شہید ہونے والی بھی خاتون حضرت سمیہ،آپ ﷺ نے جس انسان کی گود میں سر رکھ کر داعی اجل کو لبیک کہا وہ بھی خاتون حضرت عائشہ،آپ ﷺ کی سب سے پہلی تجارتی حصہ دار بھی ایک خاتون حضرت خدیجہ اورآپ ﷺ کو سب سے زیادہ عزیز اور پیاری بھی ایک خاتون حضرت فاطمہ۔آپ ﷺ نے بیٹیوں کی پیدائش پر نہ صرف یہ کہ جنت کی بشارت دی بلکہ اچھی طرح پرورش کرنے والے کو جنت میں اپناپڑوسی ہونے کا مژدہ سنایا۔محسن نسوانیت ﷺنے بیٹی کو اللہ تعالی رحمت قراردیا،جس مسلمان کے ہاں بیٹی جنم لیتی اس کے ہاں مبارک باد کے خود تشریف لے جاتے تھے،اور بیٹیاں ہی تھیں جنہیں سب سے پہلے اسلام نے زندہ درگور ہونے سے بچایا۔روزمحشر بھی اللہ تعالی لڑکی سے ہی پوچھے گا کہ آخر تجھے کس جرم میں زندہ درگورکیاگیا۔

عورت کو جہیز کے پیمانے میں تولنایا اسے شوہر کی چتاکے ساتھ ستی کردینا،عورت کو کمانے کی مشین بنالینایا اسے حوس نفس کی تسکین کا ذریعہ سمجھنا،اسکی مسکراہٹوں کوکاروباری مقاصد کے لیے استعمال کرنایا اسے مذہب کے نام پر بنیادی انسانی حقوق سے ہی محروم کردینایا اسے گھر سے نکال کر محفل کی زینت بنانایااسے پازیپ پہنا کراپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کا اہتمام کرنایا اسے پردہ سکرین پرلاکر اسکی نسوانیت کی توہین کرنایا اسے سڑکوں پر اور سیاست میں گھسیٹ کرایوان ہائے اقتدارسمیت اسکی صلاحیتوں کو اسکی فطرت کے خلاف استعمال کرناگویاعورتوں کا،خواتین کا،صنف نازک کااور نوخیزوناتواں بچیوں کا بدترین استحصال کرنے کے مترادف ہے۔ایسے سیکولرلوگ قانون کے نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے اور آنے والی نسلوں کے بدترین دشمن اور اپنے مناصب کے بدترین خائن اور عالم نسوانیت کے حقیقی مجرم ہیں جو حقوق نسواں کے نام پر استحصال نسواں کرتے چلے جارہے ہیں۔لیکن اب بہت جلد استحصال نسوانیت کی تاریک رات ختم ہونے کوہے اور محسن نسوانیت کی تعلیمات کا خاورعالم انسانیت پرطلوع ہواچاہتاہے،ان شااللہ تعالی۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
72277

انسان اور انسانی حقوق – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انسان اور انسانی حقوق

Human Rights Day

10)دسمبر:اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پرخصوصی تحریر)

ڈاکٹر ساجد خاکوانی (اسلام آباد،پاکستان)

انسان کا جوہر اصلی انسانیت ہے،انسانیت اگر موجود ہے تو وہ انسان اصل میں انسان ہی ہے لیکن اگر کسی میں انسانیت ہی سرے سے موجود نہیں یااس کاگلاگھونٹ رکھاہے تو اس نے گویاانسان کا محض لبادہ اوڑھ رکھاہے اندر سے وہ کیاہے؟؟یہ اس کی فطرت ہی بتاسکتی ہے۔یہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے سورج میں تپش،حدت اور شعاع باقی نہ رہے تو اپنے جوہر اصلی سے محروم ہو جائے گااور اسے کوئی سورج ماننے پر تیار نہیں ہوگااورجنگلی جانوروں کے اندر سے حیوانیت نکال دی جائے تو وہ حیوان کہلانے کے حق دار نہیں رہیں گے۔شیر ایک خونخوار درندہ ہے لیکن اسکے پنجوں اور دانتوں سے اسے محروم کر دیا جائے تو اسدیت اسکے ہاں سے رخصت ہو جائے گی اور وہ ان تمام خصوصیات سے محروم ہو جائے گا جو اسے شیر بنانے پر قدرت رکھتی تھیں اگرچہ اسکی شکل و شباہت اور ہیئت و جسامت شیر جیسی ہی ہو گی۔اطباء حضرات جڑی بوٹیوں سے عرق نکال لیتے ہیں،اس عمل سے پہلے وہ بوٹیاں بہت قیمتی تصور کی جاتی ہیں،ان کے دام وصول کیے جاتے ہیں اور انہیں پوری حزم و احتیاط سے ایک جگہ سے ووسری جگہ منتقل کیاجاتاہے اور پورے مراحل سے گزار کر ان کا جوہر اصلی ان سے کشید کر لیاجاتاہے لیکن جب وہ بہت قیمتی بوٹیاں اپنے اثاثہ اصلی سے محروم کر دی جاتی ہیں تو تھوڑی ہی دیر بعدکوڑے کاڈھیرانکامقدر بن جاتاہے اوروہ فاضل مادہ تصور کیاجاتاہے۔

 

انسانیت کیا ہے؟؟اس کے متعددجواب دیے جاچکے ہیں اورسب جواب ہی قابل اعتماد ہیں لیکن ان سب کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرے انسان کو اپنی مانندسمجھنااور اس سے بھی ایسا سلوک کرنا جیساسلوک اپنے ساتھ کیے جانے کی انسان توقع رکھتاہے محض چند مستسنیات کے ساتھ اس جذبے کو انسانیت کہاجاسکتاہے۔محسن انسانیت ﷺ نے بہت خوبصورت الفاظ میں انسانیت کے اس خاصے کوچنیدہ الفاظ میں بیان فرمایا ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو وہی اپنے بھائی کے لیے بھی پسند کرو۔دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونا،ان کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھنا،ان کی خوشی کو اپنی خوشی تصور کرنا،اپنی حاجات کی تکمیل سے پہلے دوسروں کی خبر گیری کرنا،دوسروں کی تقدیس و تحریم کواپنے سے کم تر نہ سمجھنا،اچھے اخلاق کا مرقع ہونااوربرے اخلاق سے اپنی طرح دوسروں کو بھی محفوظ رکھناوغیرہ یہ سب انسانیت کے اعلی درجات ہیں۔انسان بننے کے لیے صرف انسانوں کے ہاں پیداہوجانا ہی کافی نہیں ہے بلکہ اس کے اندر انسانیت کا جوہر ہونا بھی ضروری ہے۔ماہرین لغات کہتے ہیں کہ لفظ”انسان“کااصل مادہ یا مصدر”انس“ہے جس کا مطلب محبت،پیار،الفت اور چاہت سے مستعارہے۔پس جس کے اندر ”انس“ہوگاوہ انسان کہلانے کا حق دار بھی ہوگااور جس کااندرون ”انس“سے خالی ہوگا اسے کوئی حق نہیں کہ وہ اپنے آپ کو انسان کہلوائے۔

 

انسانیت و حیوانیت دو متضادالفاظ کے طورپر کثرت سے استعمال ہوتے ہیں۔حیوان اپنے آپ کو دوسرے پر فوقیت دیتاہے،اپنا پیٹ بھرنے کے لیے دوسرے کو شکارکرتاہے اورحلال و حرام کی تمیز کے بغیراپناآتش دوزخ بھرتاہے اوراپنی ہوس نفس مٹانے کے لیے دوسرے کواستعمال کرتاہے۔جانور کو ضبط نفس کا ملکہ میسر نہیں ہوتااسی لیے اس کے اندر برداشت کا مادہ بھی نہیں ہوتااور نہ ہی وہ اپنی فطرت کے خلاف حالات سے سمجھوتاکر پاتا ہے۔گھرمیں پالاہوا پالتوجانورہویاجنگل میں بڑھاپلاہوا جنگلی جانورصدیوں سے ان کے ہاں کوئی ارتقاء نہیں،وہ ہزاروں سال پہلے جس طرح رہتے تھے آج بھی اسی بودوباش اورخوردونوشت کے مالک ہیں۔ جانوروں کی ایک اور صفت یہ ہے کہ ان میں شرم و حیا اس طرح نہیں ہوتی جس طرح انسانوں کے اعلی اخلاق میں پائی جاتی ہے،قدرت نے ان کے ننگ ڈھانکنے کا انتظام خود سے کر دیاہے اور باہمی تعلقات میں چونکہ رشتہ داری کے حرم و احترامیات سے جنگل کاقانون خالی ہے اس لیے جانوروں کے تعلقات سے یہ صنف بھی عنقاہے۔جانور وں کا طبقہ طہارت کے بھی اس جامع تصور سے خالی ہے جوانسانی معاشروں کا جزولاینفک سمجھاجاتاہے۔بعض مفکرین کا خیال ہے پیدائشی طورپر انسان حیوانیت کے جذبے سے ہی بھراہوتاہے بعد میں تعلیم،ماحول اور عقل و خرد اسے انسانیت کی طرف لے آتے ہیں۔

 

قبیلہ بنی آدم میں انسانیت کاآغاز کرنے والے اور اولین معلمین انسانیت وہ منتخب لوگ تھے جنہیں اللہ تعالی نے اس دنیامیں مبعوث فرمایااور انہیں انبیاء علیھم السلام کے نام سے موسوم فرمایا،اگر انبیاء علیھم السلام انسانوں کے درمیان وارد نہ ہوتے تو جنگل کا خونخوار درندہ شیر، چیتااور بھیڑیا نہ ہوتے بلکہ حضرت انسان ہی اس روح فرسا کام کو انجام دے رہا ہوتابلکہ کچھ بعید نہیں کہ ان درندوں نے اپنی نسل کو تو باقی رکھا جبکہ انسانوں کے ہاتھوں تو ان کی اپنی نسل ہی اس صفحہ ہستی سے مٹ چکی ہوتی۔آج بھی چکاچوند روشنیوں کے اس عہد میں وہ قومیں جو علم و حکمت اور تہذیب و تمدن میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں اور جن کی راتیں ان کے دنوں سے زیادہ روشن ہیں لیکن انبیاء علیھم السلام کی تعلیمات سے دوری کے باعث انہوں نے افغانستان،عراق،بوسنیا،چیچنیااورکشمیر سمیت پوری دنیامیں اور انسانی تاریخ میں ظلم و بربریت کی وہ داستانیں رقم کی ہیں کہ جنگل کے درندے بھی ان پر شرم سے پانی پانی ہو جائیں۔علمی دنیاکی ایک خوبصورت ریت ہے کہ کسی عمل کے آغاکرنے والے سے اس عمل کی تدریس کا آغاز کیاجاتاہے،جیسے بوہر نے سب سے پہلے ”ایٹم“کاتصور دیااور کہاکہ مادے کا سب سے چھوٹا ذرہ ایٹم ہے اب اگرچہ اسکایہ نظریہ غلط ثابت ہوچکاہے اور ایٹم کے متعددمزید چھوٹے ذرات دریافت ہو چکے ہیں لیکن پھر بھی ایٹم کا سبق بوہر کے ذکرکے بغیر ہمیشہ نامکمل رہے گا۔تب کتنے دکھ کی بات ہے کہ آج انسانیت کاتصور دینے والے ان اولین مدرسین انسانیت کو فراموش کر دیتے ہیں اور ان کا نام ہی نہیں لیتے۔کیایہ ایک علمی و عملی بددیانتی نہیں ہے کہ دوسرے کے تصورات کو اپنے نام سے پیش کر دیا جائے؟؟۔

 

انبیاء علیھم السلام نے انسانیت کو سب سے پہلے توحیدکادرس دیاجس کے بغیرانسانیت تو کیاخود حضرت انسان کاوجودہی نامکمل ہے،انبیاء علیھم السلام نے نکاح کاعمل اس قبیلہ بنی آدم میں شروع کیاحقیقت یہ ہے کہ نکاح کے عمل سے خاندان کا ادارہ وجود میں آیاجودراصل انسانیت کابنیادی تاسیسی ادارہ ہے۔اس خاندان کے ادارے سے بچے کو اپنی تہذیبی شناخت میسرآتی ہے،یہی ادارہ انسان کوانسانیت کی معرفت عطاکرتاہے،اسی ادارے کے سبب انسان کے دل و دماغ میں اسکی رشتہ داریوں سے متعلق پیارومحبت پروان چڑھتاہے،یہی ادارہ انسان کے بچپن کاامین،اسکے حسن شباب کاضامن اوراسکے بڑھاپے کا محافظ ہوتاہے اور اس سے بڑھ کر اورکیابات ہوسکتی ہے انسانی نسل کاتسلسل اسی خاندانی ادارے کے استحکام سے ہی وابستہ ہے۔انبیاء علیھم السلام انسانیت کے موجد ہی نہیں بلکہ انسانیت کے محسن بھی ہیں کہ انہوں نے خاندان جیسی ٹھنڈی چھاؤں انسانوں کو عطاکی جہاں سے انسانیت کی فکر اس کرہ ارض کی مخلوقات کو میسر آئی۔اس کے متضاد کے طور پر عمل زناہے جس سے خاندان کا نظام بری طرح تباہ و برباد ہو کر رہ جاتاہے۔لمحہ فکریہ ہے کہ ایک جوڑااس نیت سے ملتاہے کہ اس نے کل زندگی اکٹھے گزارنی ہے،ایک نسل اور پھرخاندان کی پرورش کرنی ہے،ایک دوسرے کے دکھ دردمیں سانجھی ہوناہے اور موت کے بعد بھی باہم وارث بنناہے اور اس کے نتیجے میں ایک بچہ پیداہوتاہے جسے ”حلالی“کہاجاتاہے جبکہ ایک جوڑامحض چند لمحوں کے لیے ملتاہے ہوس نفس،جنسیت،خودغرضی اورحیوانی تسکین کی خاطر ایک دوسرے کو وہ جھنجھوڑتے ہیں،بھنبھوڑتے ہیں اورآتش نفس مٹانے کے لیے ایک دوسرے کا جنسی استحصال کرتے ہیں اوراسکے نتیجے میں بھی ایک بچہ پیداہوتاہے کیا یہ دونوں بچے اپنی فطرت،اپنی نفسیات اور اپنی فکروعمل کی پہنچ میں برابرہوسکتے ہیں؟؟لازمی طور پر ایک بچہ جونکاح کا نتیجہ ہوگااور ایک خاندان میں پرورش پائے گاوہ انسانیت کا مرقع ومنبہ ہوگا اور دوسراسکے بالکل برعکس انسانیت سے عاری اور حیوانیت سے بھراہوگا۔

 

سیکولر مغربی تہذیب نے ”آزادیوں“کے نام پر جس ثقافت کو پروان چڑھایاہے ان آزادیوں نے انسانوں سے انکاخاندان چھین سالیاہے،پوری دنیا کثرت زناکے نتیجے میں انسانیت کے مقدس جذبے سے محروم ہوتی چلا جارہی ہے۔آج انسانیت کا راگ الاپنے والے انسانیت سے عاری ہوچکے ہیں،نسلی،علاقائی،لسانی اور مذہبی تعصب نے دوسرے انسانوں کو انسان ہی تصور کرنے سے انکار کر چھوڑاہے،ہوس دولت اور سودی نظام نے انسانوں کے اندر سے ہمدردی،پیارمحبت اورانسان شناسی کے عمل کو گہنادیاہے،مضبوط حکومتوں اور بڑی قوموں کی وسعت پسندی کی خاطر دریاؤں میں پانی کی بجائے انسانی خون بہہ رہاہے اور عالمی امن کے ادرے بھی انہیں کے ہاتھوں کھلونا بن چکے ہیں اورگویاایک آگ ہے جس میں مشرق سے مغرب تک کی انسانیت جھلستی چلی جارہی ہے۔کم و بیش اسی طرح کے حالات ہواکرتے تھے جب اللہ تعالی انسانوں کے درمیان انبیاء علیھم السلام کومبعوث فرماتاتھاآج بھی آخری نبی ﷺکی تعلیمات ہی انسانوں کوانسانیت سے آشناکرسکتی ہیں اور جینوااکارڈکی ناکامی آج سرچڑھ کر بول رہی ہے اور انسانیت کا سبق آج بھی محض خطبہ حجۃ الوداع میں ہی پوشیدہ ہے جو اس دنیامیں نافذہوگاتب ہی انسانیت عود کر آئے گی انشاء اللہ تعالی۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
69328

یہودی مذہب میں روزہ – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on

بسم اللہ الرحمن الرحیم

یہودی مذہب میں روزہ

ڈاکٹر ساجد خاکوانی) اسلام آباد،پاکستان)

قرآن مجید نے کہاکہ”یٰٓأَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ(۲:۳۸۱)“ترجمہ:”اے لوگوجوایمان لائے ہو، تم پر روزے فرض کردیے گئے جس طرح تم سے پہلے انبیاء کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے اس سے توقع ہے کہ تم میں تقوی کی صفت پیداہوگی“۔ترتیب کے اعتبارسے امت مسلمہ آخری ملت ہے جبکہ اس سے قبل متعدد اقوام و ملل گزرچکیں۔جن اقوام نے انبیاء علیھم السلام کی تکذیب کی،ان کااستہزاکیا اوران کی تعلیمات ماننے سے انکار کر دیا اللہ تعالی نے ان اقوام کونیست و نابود کر دیااور قہرالہی نے انہیں اس دنیاسے حرف غلط کی طرح مٹادیا۔ان میں سے کچھ اقوام کی باقیات موجودہیں اور باقی ماندہ صدیوں کی گردکے نیچے درگورہوگئیں یا ریگستانی ٹیلوں نے انہیں اپنی آغوش حدت میں لے کر اس دنیاکی آنکھوں سے اوجھل کردیایاپھر سمندرکی بے رحم موجیں ان پرچڑھ دوڑیں اور وہ ہمیشہ کے لیے نشان عبرت بن گئیں۔ان کے برعکس جن اقوام نے وحی الہی کی حقانیت کو تسلیم کر لیااور انبیاء علیھم السلام کے پیچھے صف بستہ ہوچکے ان کے لیے اللہ تعالی نے آسمان سے سامان ہدایت کے طورپر شریعتیں نازل کیں۔یہ شریعتیں احکامات کامجموعہ ہوتی ہیں۔ان شریعتوں میں ناسخ و منسوخ جاری رہتاہے یعنی ایک زمانے کاحکم بعد کے زمانے میں کلی یاجزوی طورپر منسوخ کردیا جاتاہے اور اس کی جگہ دوسرا حکم نازل کر دیاجاتاہے۔احکامات کے ان مجموعوں میں عبادات کو مرکزی مقام حاصل ہوتاتھا۔عبادات میں جسمانی و مالی عبادات شامل ہوتی تھیں،جسمانی عبادات میں پوجاپاٹ جبکہ مالی عبادات میں اپنے مال و اسباب کواللہ تعالی کے راستے میں خرچ کرناہوتاتھا۔مالی و بدنی،دونوں طرح کی عبادات کامقصد قرب الہی کاحصول ہوتاتھا۔روزہ کی عبادت ایک طرح کی بدنی و جسمانی مشقت سے عبارت تھی۔اس عبادت میں پیٹ کی خواہش اور پیٹ سے نیچے کی خواہش سے بچے رہنا مقصودتھا۔ان خواہشات سے بچ کر دنیاکوصرف نظر کرتے ہوئے اللہ تعالی کاقرب اورتقوی حاصل کرنا منتہائے مقصودتھا۔

یہودیوں کے ہان روزہ کو”تعنیت“کہاجاتاہے۔یہود کی موجودہ شریعت میں احکامات کا اطلاق لڑکے کی عمر 13سال اور لڑکی کی عمر 12سال سے ہوتا ہے۔روزہ مغرب سے مغرب تک پوراکیاجاتاہے۔روزہ رکھنے سے پہلے سحری بھی کی جاتی ہے اگرچہ ایک لقمہ ہی کھالیاجائے۔یوم سبت یعنی ہفتہ کے دن،کسی تہوارکے دن،چھٹی کے دن اور موسم بہارکے مہینے”نسان“میں بھی روزہ رکھناممنوع ہے۔صرف ”یوم غفران“ایک ایساتہوارہے جب تمام یہودی روزہ رکھتے ہیں۔ایسے مریض جو روزہ رکھنے کے قابل نہ ہوں انہیں روزہ رکھنامعاف ہوتاہے۔ان کے علاوہ ضعیف کو،حاملہ کواور رضاعت کے دوران بھی روزہ کی چھوٹ ہے۔یہودیت کے عصری تصورات میں اجتہاداََ ایسے لوگوں کو بھی روزے سے استثناء حاصل ہے جن کے ساتھ دیگرافرادمعاشرہ کا کوئی مفادوابستہ ہو،جیسے ربی(عالم دین)،مدرس یا پہرے پر موجودلوگ تاکہ یہ لوگ اپنی ذمہ داریاں بحسن وخوبی اداکرسکیں۔یہودیوں میں انفرادی روزے کی اصطلاح بھی مروج ہے یہ ایک طرح کا نفلی روزہ بھی سمجھاجاسکتاہے۔یہودی عصری شریعت کے مطابق انفرادی روزے کا سب سے چھپاناضروری ہوتاہے کیونکہ یہ صرف گناہوں کی معافی اوررضائے الہی کے لیے رکھاجاتاہے کیونکہ یہودی علماء کے نزدیک توبہ کے لیے صرف زبانی کلامی اقرارکافی نہیں اس کے لیے روزہ بھی ضروری ہے۔یہودیوں کے ہاں روزے کے دوران کھانا پینا،جنسی افعال،چمڑے کی جوتی پہننا،خوشبویاخوشبودار تیل لگانااورغسل کرنا ممنوعات میں داخل ہیں۔یہودی علماء جنہیں ”ربی“کہاجاتاہے روزے کے دوران عبادت گاہیں جنہیں ”صومعہ“کہاجاتاہے ان میں روزہ داروں کوصبح و شام کی دعائیں پڑھاتے ہیں جو کہ ان کی مقدس کتاب”توریت“میں سے لی گئی ہوتی ہیں۔

یہودی تقویم کے مطابق سال بھرمیں متعدد مواقع پر روزے رکھے جاتے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کسی خاص بڑے واقعے کی یادمیں منایاجانے والے ایام ہیں۔اگرروزوں کی تواریخ یوم سبت(ہفتہ)کوواردہوجائیں تو ان کادن تبدیل کردیاجاتاہے:

3تیشیری: ”تیشیری“یہودی تقویمی سال  کاساتواں مہینہ ہے اوراسی نسبت سے اس کوساتویں مہینے کاروزہ بھی کہتے ہیں۔اس دن چھٹی صدی قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ نے یہودیوں کی بستیاں تاراج کی تھیں اور بڑے پیمانے پر قتل و غارت گری کی تھی۔

10تشری: یہ یہودیوں کایوم غفران (یم کپور)ہے۔اس سے پہلے دس دن ”عشرہ توبہ“کے نام سے منائے جاتے ہیں۔اس عشرے میں اپنے گزشتہ گناہوں کی معافی اور آئندہ گناہوں سے بچنے کاارادہ کیاجاتاہے۔”عشرہ توبہ“کے اختتام پر ”یوم غفران“کے نام سے اس مہینے کی دس تاریخ کو روزہ رکھاجاتاہے جوکم و بیش 25گھنٹوں پر محیط ہوتاہے اوریہ سارادن معبدمیں گزاراجاتاہے۔فی الوقت یہ واحد روزہ ہے جس کاحکم توریت میں بھی موجود ہے کہ جو یہ روزہ نہیں رکھے گا وہ اپنی قوم سے الگ ہو جائے گا۔

10تویط:”تویط“ یہودی تقویمی سال کادسواں مہینہ ہے،اس مہینے کی دس تاریخ،425قبل مسیح میں یروشلم کوتباہ کیاگیاتھا۔یہ چھوٹاروزہ ہے جو طلوع فجر سے دن کے اختتام تک رکھاجاتاہے۔

13عدار:”عدار“یہودی تقویمی سال کادوسرامہینہ ہے۔یہودیوں کاخیال ہے کہ اس تاریخ کو انبیاء روزہ رکھاکرتے تھے۔اس تاریخ کو یہودیوں نے ایک جنگ بھی لڑی تھی۔”کتاب آستر“میں لکھاہے کہ ایرانی ملکہ آستر(486ق م)جس کاشوہر ایرانی بادشاہ یہودیوں کاقتل عام کرناچاہتاتھا،اس ملکہ نے تین دن روزے رکھ کر بادشاہ سے قتل عام روکنے کاکہا جس کے باعث یہ قوم بہت بڑے سانحے سے بچ گئی۔یہ روزہ صبح صادق سے شروع ہو کر آغاز شب تک رہتاہے اور بہت زیادہ مذہبی طبقہ ہی اس روزے کااہتمام کرتاہے،عام عوام کے ہاں اس کا رواج نہیں ہے۔

17تموذ:”تموذ“یہودی تقویمی سال کا چوتھامہینہ ہے۔تموزکی اس تاریخ کو رومی بادشاہ نے یہودیوں کی مقدس عبادت گاہ تباہ کی تھی۔یہودی علماء کے نزدیک اس روزہ کا ذکر”کتاب زکریاہ“میں موجود ہے۔اس کتاب کی تالیف کازمانہ وہی ہے جو ہیکل سلیمانی کی تعمیر ثانی کی تکمیل کازمانہ 480قبل مسیح ہے۔لیکن اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی کہ یہ ”زکریاہ“وہی ہیں جن کو قرآن مجیدنے نبی کہاہے یا کوئی اور ان کاہم نام مولف ہے۔کیونکہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر ثانی بہت طویل عرصے تک جاری رہی اور اس کتاب میں اس تعمیر کے احوال بیان کیے گئے ہیں۔

9بایو:یہ تاریخ بنی اسرائیل کا سب سے مغموم دن گناجاتاہے۔اس دن کو ”تیشہ باو“کہاجاتاہے۔اس دن دوسری صدی عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں بیت المقدس اور یروشلم کی بہت بڑی تباہی ہوئی تھی۔”بایو“یہودیوں کے ایک مہینے کانام ہے جس کی نویں تاریخ کو یہ ”یوم سوگ“منایاجاتاہے۔روایات کے مطابق اس تاریخ کو کچھ اوربھی افسوسناک واقعات ہوئے جنہوں نے تاریخ یہودپراپنے یادگاراثرات چھوڑے۔چنانچہ اس تاریخ کو کل ملت یہود روزہ رکھتی ہے اور اپنے تاریخی سانحات کو آنے والی نسلوں کے سامنے تازہ کیاجاتاہے۔

بہرحال،یہودیوں کے ہاں تین طرح کے روزے ہیں،ماضی کے یادگار ایام کے روزے، ربیوں (علمائے یہود)کے بتائے ہوئے روزے اور انفرادی(نفلی)روزے۔ان تمام روزوں کی تواریخ مقرر ہیں،کچھ روزے کل یہودی ملت کے لیے ہیں اور کچھ صرف مخصوص طبقات یاافراد کے لیے۔ان کے علاوہ آسمانی آفات و بلیات سے بچنے کے لیے اوربارش نہ ہونے کی صورت میں بھی روزے رکھے جاتے ہیں اور بزرگوں کے یوم وفات کو بھی روزہ رکھ کر یاد کیے جانے اورشادی کے دن کاروزہ کے تصورات یہاں موجود ہیں۔اللہ تعالی کی نازل کی ہوئی شریعت کبھی بھی طبقاتی انتشارکاشکارنہیں رہی۔اللہ تعالی نے اپنے نبیوں کے ذریعے بلاتخصیص کل مخلوق کے لیے راہ ہدایت نازل کی ہے۔یہودیوں نے تحریفات کے ذریعے اللہ تعالی کی کتب واحکامات کو تبدیل کر ڈالا اور جس پورے مہینے کے دوران روزے رکھنے کا حکم تھااس کی جگہ بہانے بہانے سے کچھ واقعات اور کچھ افراد کو اللہ تعالی کے حکم سے بڑھ کر اہم گردانااوران کے نام کے روزے رکھنا شروع کر دیے اورکتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا۔اسی طرح اللہ تعالی نے تمام افراد قوم کے لیے تمام روزوں کاایک ہی نظام الاوقات دیاتھا۔لیکن یہودیوں نے تحریفات کے ذریعے خود سے کچھ روزوں کو زیادہ اہم قرار دے دیا اور ان کا دورانیہ بڑھادیا اور بقیہ کو کم اہم قراردے کر ان کے دورانیے کو کم کر دیااوران کی دیگرشرائط میں بھی نرمی کردی۔قرآن مجید نے کہا ہے کہ فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِاللّٰہَِ(۲:۹۷)  ترجمہ:”پس ہلاکت و تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جواپنے ہاتھوں سے شرع کانوشتہ لکھتے ہیں اورکہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالی کے ہاں سے آیاہواہے“۔یہ قوم بنی اسرائیل مامور من اللہ تھی اور دنیاکی امامت و قیادت کے منصب پر فائز تھی لیکن ان کی تحریفات اور ناشکریوں سمیت متعدد بداعمالیوں کے باعث انہیں اس اعلی ترین منصب سے معزول کر کے تو اب امت مسلمہ کو یہ مقام و مرتبہ تفویض کردیاگیاہے اوریہودیوں کے لیے اسلام قبول کرکے اس امت مسلمہ میں داخلے کے دروازے اب بھی کھلے رکھے گئے ہیں۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
60599

ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنھا – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on

بسم اللہ الرحمن الرحیم

ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبری رضی اللہ تعالی عنھا

(11رمضان المبارک،یوم رحلت کے موقع پر خصوصی تحریر(

ڈاکٹر ساجد خاکوانی(اسلام آباد،پاکستان)

 

حضرت خدیجۃ الکبری، وہ بلندمرتبہ خاتون ہیں جنہیں محسن انسانیتﷺ کی اولین زوجہ محترمہ کا شرف حاصل ہوا۔اس منصب کے باعث وہ ”ام المومنین“ کہلائیں اور وہ سب سے پہلی انسان تھیں جنہوں نے آخری نبی کی تصدیق کی اور ان پر ایمان لائیں۔آپ کے دادا ”اسد بن عبدالعزی“عرب کے سب سے محترم قبیلہ قریش کے نامور سرداروں میں سے تھے،آپ کے والد ”خویلدبن اسد“معروف تاجر تھے اوران کی بہن ”ام حبیب بنت اسد“آپ ﷺ کی ننھیالی بزگ خواتین میں سے تھیں اورحضرت خدیجۃ الکبری کی والدہ محترمہ کانام ”فاطمہ“تھااور ان کا شجرہ نسب تیسری پشت میں حضرت آمنہ سے مل جاتاہے۔آپ ﷺسے قبل حضرت خدیجۃ الکبری دو شوہروں،ابوہالہ مالک التمیمی اورعتیق المخذومی سے بیوہ تھیں۔ان دونوں شوہروں سے آپ کی اولادیں بھی تھیں۔قریش میں حضرت خدیجہ کا ایک جداگانہ مقام تھا،انہیں امیرۃ القریش،طاہرہ اورخدیجۃ الکبری کے اسماء سے یاد کیاجاتاتھا۔والدین کی وفات کے بعد حضرت خدیجہ الکبری نے خاندانی کاروبار تجارت کو سنبھالااور اسے وسعت دی۔اپنے وسیع و عریض کاروبار سے حاصل ہونے والے منافع سے آپ سرزمین مکہ کے غرباء و مساکین،یتیم اور بے سہارااور مریض و مفلوک الحال لوگوں کی مدد کیاکرتی تھیں۔آپ کے حالات زندگی میں آپ کے ایک چچازاد کا تذکرہ کثرت سے ملتاہے،یہ ورقہ بن نوفل تھے جو قبائل عرب کے چند پڑھے لکھے لوگوں میں شمار ہوتے تھے اوران دونوں بزرگوں یعنی ورقہ بن نوفل اور حضرت خدیجہ کی مشترکہ صفت یہ بھی ہے کہ دونوں موحد تھے یعنی اپنی پوری زندگی میں انہوں نے کبھی بھی بتوں کی پوجا نہیں کی تھی۔حضرت خدیجہ اپنی تجارتی قافلوں کے ساتھ خود نہیں جاتی تھیں بلکہ اجرت پر رکھے گئے افراد کو بھیجاکرتی تھیں۔اب کی بار انہیں شام کی طرف جانے والے اپنے قافلے کے لیے کسی بھروسہ مند انسان کی تلاش تھی۔ابوطالب کی سفارش پرحضرت خدیجہ نے یہ قافلہ آپ ﷺ کے سپرد کیااور اپنا غلام میسرہ بھی ہمراہ کردیا۔واپسی پر میسرہ نے آپ ﷺ کے حسن معاملات کی بے حد تعریف کی اورحضرت خدیجہ کو جتنے منافع کی توقع تھی اس سے دوچند نفع حاصل ہوا۔یہ پہلاباہمی تعارف تھاجو دائمی تعلق کا مقد مہ ثابت ہوا۔

حضرت خدیجۃ نے اپنی ایک سہیلی ”نفیسہ“کے ذریعے آپﷺکونکاح کی پیشکش کی،آپﷺ نے اپنی غربت کااظہار کرتے ہوئے فرمایاکہ ان کے محدود،وسائل شادی کی اجازت نہیں دیتے۔نفیسہ نے جواب دیاکہ میں جس خاتون کا پیغام لائی ہوں وہ بہت مالدار ہیں،استفسارپر نفیسہ نے خدیجۃ الکبری کا نام لیا۔آپﷺنے اپنے چچاحضرت ابوطالب سے بات کی تووہ مان گئے۔مقررہ تاریخ پر آپﷺ اپنے چچاؤں،خواتین خانہ  اورقریش کے دیگرقابل ذکر افراد کے ساتھ حضرت خدیجہ کے گھر تشریف لائے،یہاں شادی کا سماں تھا بھیڑیں ذبح کرکے توکھانا تیارکیاگیاتھا۔کھانے کے بعد قریش کی عرب رسومات کے مطابق شادی کا عمل شروع کیاگیا۔حضرت خدیجہ کے والد چونکہ انتقال فرماچکے تھے اس لیے ان کے چچا عمربن اسدنے دلہن کے ولی کاکردار اداکیا۔عرب روایات کے مطابق حضرت ابوطالب کھڑے ہوئے اور شکرانے کے روایتی الفاظ کے بعد بیس اونٹوں کے حق مہر کے عوض اپنے بھتیجے محمدﷺبن عبداللہ کے لیے حضرت خدیجہ کاہاتھ مانگا۔ورقہ بن نوفل نے جواب میں روایتی الفاظ میں اللہ تعالی کا شکر اداکیااور اس نکاح کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔حضرت ابوطالب نے حضرت خدیجۃ الکبری کے چچا کی طرف دیکھاتو انہوں نے بھی کھڑے ہوکراس نکاح کی قبولیت کا اعلان کردیااور اس طرح تاریخ انسانی کا یہ خوش قسمت ترین جوڑانکاح کے بندھن میں بندھ گیا۔اس وقت آپﷺ کی عمر مبارک پچیس برس کی تھی اور حضرت خدیجہ اپنی عمرگزشتہ کی چالیس بہاریں دیکھ چکی تھیں۔دولھااور دلہن دونوں کو حضرت ابوطالب کے ہاں لے جایاگیا۔وہاں حضرت ابوطالب نے دواونٹ ذبح کیے ہوئے تھے اور کل قریش کے لیے دعوت طعام تیارتھی۔شادی اورمہمانوں سے فراغت کے بعدحضرت ابوطالب نے دولہااوردلہن کو بلایا انہیں پیار کیااور اللہ تعالی کاشکر ادکیاجس کی توفیق سے انہوں نے اپنے یتیم بھتیجے کی سرپرستی کا حق اداکردیاتھااور اپنی جملہ ذمہ داریوں سے باحسن سبکدوش ہو چکے تھے۔کچھ دن یہ خوش قسمت جوڑاحضرت ابوطالب کے ہاں قیام پزیر رہااور پھر حضرت خدیجہ کے گھر میں منتقل ہو گئے۔

حضرت خدیجۃ الکبری سے آپﷺ کے چھ بچے ہوئے،بڑے بیٹے کا نام قاسم تھا جس کے باعث آپﷺ کی کنیت”ابو قاسم“تھی۔ایک موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاتھا کہ میرے نام پر نام رکھو لیکن میری کنیت پر کنیت مت رکھاکرو۔”قاسم“بہت چھوٹی عمر میں اللہ تعالی کو پیارے ہو گئے تھے۔حضرت قاسم کی وفات پر آپﷺ بہت رنجیدہ وآبدیدہ ہوئے۔اس موقع پر ابوجہل نے زبان درازی کی اور کہاکہ آپﷺ ”ابتر“ہو گئے۔”ابتر“ کامطلب ایسا درخت ہے جس کی جڑ کٹ گئی ہو اوراس کاپھلناپھولنا اب ممکن نہ ہو۔چنانچہ اللہ تعالی نے آپﷺ کی تالیف قلب فرمائی اور کہا کہ ”اِنَّ شَانِءَکَ ہُوَ الْاَبْتَرُ(۸۰۱:۳)“ترجمہ: بے شک آپ کا دشمن ہی ابتررہے گا۔حضرات زینب،رقیہ،ام کلثوم اور فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھن آپ کی بیٹیاں اور جنت کی شہزادیاں ہیں جب کہ ایک اور بیٹا عبداللہ بھی اعلان نبوت کے بعدپیدا ہوا۔بی بی پاک فاطمہ کے سوا ساری اولادیں آپﷺ کی حیات طیبہ کے دوران ہی اس جہان فانی سے کوچ کرگئی تھیں۔حضرت خدیجہ کے گھر میں دواور بچے بھی پرورش پارہے تھے،ایک حضرت علی بن ابی طالب،کیونکہ حضرت ابوطالب کے ہاں کثیرالعیالی کی وجہ سے غربت نے ڈیرے ڈال رکھے تھے تو ان کے چھوٹے بیٹے کی پرورش آپﷺ نے اپنے ذمہ لے لی تھی۔جبکہ دوسرابچہ حضرت زید بن حارث تھے جو پہلے تو غلام تھے لیکن بعد میں آپﷺ نے انہیں اپنا منہ بولا بیٹابنالیاتھا۔اس سارے گھرانے پر حضرت خدیجہ کا دست شفقت و سایہ عاطفت تھا۔

محسن انسانیتﷺکی عادت مبارکہ تھی کہ ہرسال کا ماہ رمضان گزارنے کے لیے مکہ سے باہرایک پہاڑ پر غار حرامیں تشریف لے جاتے تھے۔آپﷺ کی خواہش ہوتی تھی کہ انہیں اس دوران تنہائی میسر رہے۔حضرت خدیجۃ الکبری اپنے محبوب شوہر کی کشش میں پہاڑی پر چڑھ آتی تھیں لیکن غار سے چند قدم نیچے ہی بیٹھ جاتیں تاکہ تنہائی میں خلل نہ ہو۔اس دوران وہ آپﷺ کے خوردونوشت کا بھی اہتمام کرتی تھیں۔ایک بار رمضان کی آخری راتوں میں آپﷺ نصف شب اچانک گھرمیں وارد ہوئے،آپﷺ بے حد گھبرائے ہوئے تھے اور کہ رہے تھے کہ مجھے کمبل اوڑھاؤ،مجھے کمبل اوڑھاؤ۔حضرت خدیجۃ الکبری یہ دیکھ کر بہت پریشان ہوئیں،آپﷺ کے کندھوں پر چادراوڑھائی،جب طبیعت اقدس سنبھلی تو عرض کی کہ احوال بتائیے۔دراصل یہ پہلی وحی کے نزول کا موقع تھا۔آپﷺ اس کے لیے ذہنی طورپر تیار نہ تھے اور اس واقعے کے بعد بڑی سرعت سے پہاڑ سے اترتے ہوئے اپنے گھر کی طرف پلٹے۔آپﷺ نے جبریل علیہ السلام سے ملاقات کی تفصیل بتائی تو حضرت خدیجہ نے سب سے پہلے آپﷺ کی نبوت کی تصدیق کی اور پھر ان الفاظ میں آپﷺ کی تسلی فرمائی کہ”اللہ تعالی آپﷺ کی حفاظت فرمائے گااور آپﷺ کو ہر طرح کے خطرات سے محفوظ رکھے گا کیونکہ آپ رشتہ داروں کے حقوق اداکرتے ہیں،غریبوں کی مدد کرتے ہیں،انجانوں کے ساتھ بھلا کرتے ہیں، پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے ہیں اور ہمیشہ حق کا ساتھ دیتے ہیں“اس واقعے کے بعد ورقہ بن نوفل نے بھی آپ کی نبوت کی تصدیق کردی۔آنے والے دن اپنے ساتھ عزیمت و مصائب کا ایک طوفان ساتھ لائے جب کل قریش آپﷺ کے سامنے خم ٹھونک کھڑے ہو گئے تھے۔لیکن حضرت خدیجہ نے ہر مشکل میں آپﷺکا ساتھ دیا،اپنی دولت بے دریغ خرچ کر ڈالی۔حضرت خدیجۃ الکبری غریب نومسلموں پراپنے وسائل خرچ کرتی تھیں،نومسلم غلاموں کی آزادی پر بڑی بھاری رقوم خرچ کردیتی تھیں اور جیسے جیسے مسلمانوں کی تعداد میں اضافہ ہوتاجاتا تھا حضرت خدیجۃ الکبری کے انفاق فی سبیل اللہ میں بھی اضافہ ہوتاجاتا۔یہاں تک کہ مقاطعہ قریش کے دوران جب مسلمانوں کو تین سالوں کے لیے شعب ابی طالب میں قید کردیا گیاتھا،ان سخت ترین ایام میں بھی حضرت خدیجۃ الکبری کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کی مدد کے راستے تلاش کرتی رہتیں اور کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتیں تھیں۔نبوت کے دسویں سال خانہ نبوت کہ یہ ماہتاب ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔آپ کومکہ مکرمہ کے قبرستان ”جنت المالی“میں دفن کیاگیا۔راقم الحروف جتنی بار بھی مکہ گیا روزانہ باقائدگی سے ام المومنین کی مرقد انور پر حاضری دیتارہا۔

ایک بار حضرت جبریل علیہ السلام حاضر خدمت اقدس ﷺہوئے،جب حضرت خدیجۃ الکبری زندہ تھیں اور فرمایا کہ اللہ تعالی نے حضرت خدیجہ کو سلام بھیجاہے اور میں بھی انہیں سلام کہتاہوں،اس کے بعد جبریل نے کہا کہ انہیں بشارت دے دیجئے کہ اللہ تعالی نے جنت میں ان کے لیے ایک شاندار،خوشنمااورپرسکون محل موتیوں سے تیار کیا ہے اوراس میں کوئی بھی پتھرکا ستون نہیں ہے“۔یہ حضرت خدیجہ نبت خویلدہیں،سب سے اولین ام المومنین ہیں یعنی محسن نسوانیت ﷺنے سب سے پہلے انہیں سے نکاح کیااور ان کے ہوتے ہوئے کوئی عقد ثانی نہیں کیا۔ایک بار آپ ﷺنے حضرت عائشہ سے فرمایا کہ ”حضرت خدیجہ سے بہتر بیوی مجھے نہیں ملی،وہ اس وقت مجھ پر ایمان لائیں جب اور کوئی مسلمان نہیں ہواتھا،انہوں نے اس وقت میری مالی مدد کی جب باقی لوگوں نے ہاتھ کھینچ لیاتھا اوران سے اللہ تعالی نے مجھے اولاد دی جو کسی اور بیوی سے نہیں ملی۔“جس سال حضرت خدیجہ کی وفات ہوئی اس سال کو ”عام الحزن“یعنی غم کا سال،کہاجاتا ہے کیونکہ یہ سانحہ نبی علیہ السلام کے لیے بہت بڑے غم کا باعث بناتھا،اسی سال آپﷺکے عزیزترین چچاحضرت ابوطالب بھی اپنے خالق حقیقی سے جا ملے تھے۔خدارحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
60296

 عشق بلاخیزکاقافلہ سخت جاں-(پاکستان:قصہ صدی گزشت)–”رولٹ ایکٹ“کاخاتمہ21مارچ1922-ڈاکٹر ساجد خاکوانی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشق بلاخیزکاقافلہ سخت جاں

(پاکستان:قصہ صدی گزشت)

”رولٹ ایکٹ“کاخاتمہ21مارچ1922

تاج برطانیہ کاگندمی رنگت کے انسانوں کے لیےٍ ظالمانہ کالاقانون

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

 

بھیڑیا ندی سے پانی پی رہاتھا،اس نے میمنے سے کہااوئے پانی جھوٹاکیوں کررہاہے۔میمنے نے جواب دیا حضوروالا پانی اوپرسے آرہاہے اوراوپر توآپ پانی پی رہے ہیں اورمیں تو نیچے ہوں۔بھیڑیاجب لاجواب ہواتواس نے کہااچھاتو، چھ ماہ پہلے تونے مجھے گالی کیوں دی تھی۔میمنے نے کہاکہ جناب کااقبال بلندہو،میری توعمرہی تین مہینے کل ہے۔بھیڑیے نے کہا کہ چھوٹاہوکر بڑوں کے سامنے زبان درازی کرتاہے اور یہ کہ کر بھیڑیے نے ہڑپ کرکے میمنے کو اپنے پیٹ میں انڈیل لیا۔یہ بھیڑیا ”رولٹ ایکٹ“کابانی تھا۔انسانیت اور حقوق انسانی اور جمہوری مساوات کے عالمی دعوے آج تک یورپی جغرافیائی حدودسے عملاََباہرنہیں کل سکے۔پوری دنیامیں بسنے والے انسانوں کے سیکولرٹھیکیدار گوری رنگت کی برتری کو پوری قوت اور شدومد کے ساتھ تعصباََوجبراََعالم انسانیت پرمسلط کیے ہوئے ہیں اورکسی قیمت پراس جذبہ معکوس سے دستبردارہونے کوتیارنہیں۔نسل درنسل یہ تفاوت گوروں کو اس خمارمیں مبتلاکیے ہوئے ہے کہ ہم بقیہ کل انسانوں سے افضل وبرترہیں۔اوراس غیرانسانی فکرکی بنیادپر پر وہ اپنے برابربھی کسی کو کوئی حق دینے کے لیے راضی نہیں ہیں۔وہ پوری دنیامیں اپنی تہذیب،اپناتمدن،اپنی زبان،اپنی تعلیمی ترجیحات اور اپنی دفاعی تنصیبات کوہی دیکھناچاہتے ہیں۔جو قوم گوروں کی اس بدمعاشی کوقبول نہ کرے اسے شدت پسند،،دہشت گرد،انتہاپسند،سہولت کار اور امن عالم کادشمن قراردے کرصفحہ ہستی سے مٹانے تک سے گریزنہیں کیاجاتا۔اپنے ہی ملک میں،اپنے وطن میں اور اپنے نظریے اوراپنے عقیدہ کادفاع کرنے والے گندمی رنگت کے لوگ دہشت گرداورامن دشمن ہیں اور ہزاروں میل دورسے آنے والی افواج باراتیوں پر،جنازوں پر،مدارس پر اورآبادیوں پر بدترین و تباہ کن بم برساکر قتل و غارت گری اور خون کی ندیاں بہانے والے گوری رنگت کے حامل امن پسند اور صلح جوہیں۔اس رویے پر قرآن مجید نے صدیوں پہلے تبصرہ کردیاتھا کہ ”وَ اِذَا قِیْلَ لَہُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ قَالُوْٓا اِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُوْنَ(۲:۱۱) اَلآَ اِنَّہُمْ ہُمُ الْمُفْسِدُوْنَ وَ لٰکِنْ لَّا یَشْعُرُوْنَ(۲:۲۱)“ترجمہ:”اورجب انہیں کہاجاتاہے کہ زمین میں فسادبرپانہ کروتووہ کہتے ہیں کہ ہم تواصلاح (امن)والے ہیں،خوب سن لو کہ حقیقتاََیہی لوگ فساد(فی الارض) والے ہیں مگروہ سمجھتے نہیں“۔آج سے کم و بیش سوسال پہلے بھی تاج برطانیہ نے ”رولٹ ایکٹ1919“کاکالاقانون صرف ہندوستانی لوگوں،گندمی رنگت کے انسانوں کے لیے بدنام زمانہ ”رولٹ کمیٹی“نے 18مارچ1919کو منطورکرکے تونافذ کیاتھا۔

برطانوی حکومت ہندوستان کی یہ ”رولٹ کمیٹی“دراصل جسٹس سڈنی رولٹ(1862-1945) کی سربراہی میں 1917سے کام کررہی تھی۔جسٹس سڈنی رولٹ پہلے سے ہی ایک متنازعہ شخصیت چلے آرہے تھے۔یہ کمیٹی ایک خودساختہ مفروضے پرتحقیقات کررہی تھی کہ ہندوستانیوں کے جرمنی اور روس سے خفیہ تعلقات ہیں۔خاص طورپر تحریک خلافت میں جب ہندوستانیوں کے ردعمل میں شدت آئی تو برطانوی استعمارکو اس معاملے میں اپنی وعدہ خلافیاں یادآنے کی بجائے پنجاب اور بنگال میں حالات کی خرابی کے پیچھے بیرونی دنیاکے فرضی ہاتھ نظرآنے لگے۔یہ رویہ پہلی جنگ عظیم کے بعد سے پیداہوچلاتھاکہ برطانوی حکومت کو شک تھاکہ ہندوستان میں حالات کی خرابی میں مقامی لوگوں کی پشت پر بیرونی قوتیں موجودہیں جن کامقصد برطانوی حکومت کوختم کرناہے یاکم ازکم غیرمستحکم کرنا۔چنانچہ یہ مذکورہ کمیٹی بنائی گئی تاکہ ان مفروضوں کی چھان بین کے بہانے اس زندہ قوم کی گردنوں کوشکنجہ غلامی میں مضبوطی سے کس لیاجائے۔دراصل امیرافغانستان نے اپنی حکومت کے محکمہ خارجہ کو بیرونی دنیاسے روابط کے احکامات جاری کیے تھے جس سے تاج برطانیہ کو یہ خوف لاحق ہوگیاتھاکہ ہندوستانی بھی اس ”جمہوری جرم“میں برابرکے شریک ہیں۔طویل غوروحوض اور خفیہ اداروں کی معلومات پر مبنی اورافواہوں کی چھان بین کے بعد بھی یہ کمیٹی کسی طرح کے ٹھوس ثبوت کے حصول میں بری طرح ناکام رہی اورہندوستانی مکمل طورپر امن پسند اور صلح جو ثابت ہوئے۔اب ہوناتویہ چاہیے تھا یہ کمیٹی ختم کردی جاتی اور ہندوستانیوں کوسرخروہونے پر انعامات و رعایات دیے جاتے لیکن یہ برطانوی گوراسامراج ہندوستان میں چونکہ لوٹ مارکرنے اور مال وزرسمیٹنے آیاتھااس لیے اس نے یہ ذیلی قانون منظورکیااور اپنے زوراستبدادسے 21مارچ1919کو نافذ بھی کردیا۔

اس ایکٹ کی بناپر حکومت وقت کسی بھی شہری کو دہشت گردی کے الزام میں گرفتارکرسکتی تھی اور عدالتی احکامات کے بغیر اسے دوسال تک قیدوبندمیں رکھاجاسکتاتھا۔اس ایکٹ کے تحت ان معاملات کاکل اختیار ہندوستانی استعماری حکومت کو بلااشتراک حاصل ہوگیاتھا۔سادہ لفظوں میں اس ذیلی قانون کی آڑ لے کر بغیرکسی مقدمے کے،وجہ بتائے بغیراور کسی طرح کے عدالتی حقوق سے بھی محرومی کے باعث ایک فردکو دوسال تک انتظامی حراست میں رکھاجاسکتاتھا۔ملزم کو یہ حق بھی حاصل نہیں تھا کہ وہ گرفتاری کی وجہ جان سکے یا گرفتاری کی بابت کسی نوعیت کے کاغذات بھی طلب کرسکے۔اس ذیلی قانون کے تحت جب گرفتارلوگوں کو رہاکیاجائے گاتوانہیں سیکورٹی کے نام پرایک خطیررقم حکومتی خزانے میں مجع کرانی پڑے گی اور پھروہ تاحیات اس بات کے پابندہوں گے کہ کسی طرح کی سیاسی،تعلیمی اور مذہبی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیں گے۔اس طرح برطانوی پولیس کے ہندوستانی محکمے کوبے پناہ اختیارات میسر آگئے۔پولیس کہیں بھی کسی بھی گھرمیں،دفترمیں،ادارے میں یا مذہبی عبادت خانے میں اپنے بوٹوں سمیت گھس جاتی اور بغیرکسی پیشگی اطلاع یا متعلقہ کاغذات دکھائے بغیروہاں کی تلاشی لیتی پھرجس کوچاہتی ہتھکڑیاں لگاکر ساتھ لے جاتی۔اس قیدی کو برطانوی قانون کی اس ذیلی شق میں یہ حقوق حاصل نہ تھے کہ کسی عدالت کادروازہ بجاسکتا،اورنہ ہی اسے کہیں کوئی وکیل،اپیل یادلیل سے کام لینے کی اجازت تھی۔خاص طورپر یہ ذیلی قانون اخبارات کے معاملے میں بہت ظالمانہ ثابت ہوا اور آج سے ایک صدی قبل جب صرف اخبارات ہی اطلاعات کاواحد معتبرذریعہ تھے،ان پر بے پناہ دباؤ پڑ گیااور آزادی صحافت اور آزادی اظہارصرف سیکولرازم کے بلندبانگ اورزبانی کلامی دعوے ہی بن کررہ گئے۔حد یہ کہ اس کالے قانون کے بارے میں کسی اعلی عدلیہ یامقننہ یا کسی انتظامی و حکومتی جمہوری ادارے میں بھی دروازہ بجانے یاشکایت کرنے یاآہ و بکاکرنے تک کی اجازت نہیں دی گئی۔یہ ہے یورپ کی وہ سیکولرجمہوریت جس کوعلامہ اقبال نے شدیدنقد سے طشت ازبام کیاہے۔

اس ذیلی قانون کے نفاذ پر سب سے پہلے مسلمانوں کی طرف سے ردعمل آیا۔ہندوستانی حکومت برطانیہ کی ”مرکزی قانونی مشاورتی کونسل“کے آٹھ منتخب ارکان میں سے مسلم لیگ کے نمائندہ جناب محمدعلی جناح نے اس قانون سے سخت اختلاف کیااوراسے ایک کالاقانون قراردیا۔انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہاکہ اس طرح کے قوانین جوحکومت نافذ کرے گی وہ کسی درجے میں بھی مہذب کہلانے کی حق دارنہیں ہوگی۔ہندؤں کے راہنما موہن داس گاندھی بھی اس قانون کے نفاذپر سخت برہم تھے اورانہوں نے بھی اپنے بیانات اورتقاریر میں کھل کر اس قانون کی مخالفت کی۔راہنماؤں کے تتبع میں عوام الناس میں بھی اس قانون کے نفاذپر سراسیمیگی پھیل گئی۔تاج برطانیہ کاخیال تھاکہ ہندوستانی خوف سے دب جائیں گے لیکن ان کایہ خیال خام ثابت ہوا اورپوری قوم اٹھ کھڑی ہوئی اور اس قانون کے خلاف صف آراہوگئی۔چنانچہ6اپریل 1919کو کل ہنداحتجاج کیاگیا،سب ہندوستانی اپنے کاج چھوڑ کر ان مظاہروں میں شریک ہوئے،پورے ہندوستان میں جگہ جگہ بھوک ہڑتالی کیمپ لگائے گئے،جوق درجوق لوگوں کے جم غفیران کیمپوں میں شریک احتجاج ہوئے،جلسے جلوسوں کی توکوئی حدہی نہ تھی۔پنجاب اور بنگال کے کچھ علاقوں میں پرتشددواقعات بھی رونماہوگئے اور عوام الناس میں یہ ردعمل ”تحریک عدم تعاون“کے نام سے مشہور ہوگیا۔10اپریل کو ہندوستانیوں کے دواہم راہنما ڈاکٹرسیف الدین کچلواور ڈاکٹرستیہ پال کو اس قانون کے تحت خفیہ طریقے سے خاموشی کے ساتھ گرفتارکرکے دھرم شالہ بھیج دیاگیااورکسی کوکانوں کان خبر بھی نہ ہونے دی۔حکومت نے حالات سے نبردآزماہونے کے لیے دانشمندی کاراستہ اپنانے کی بجائے دہشت کردی کاراستہ اپنایا اور فوج کوطلب کرکے شورش زدہ علاقے اس طاقتورادارے کے حوالے کردیے جہاں برطانوی فوج کے سپاہیوں نے بندوقوں کے دہانے ہندوستانی شہریوں پرکھول دیے اور شہریوں پر ظلم و ستم اور ان کے قتل عام کی ماضی شکن مثالیں قائم کیں۔جب یہ خبریں ہندوتان کی سرحدوں سے نکل کر دنیائے عالم تک پہنچیں اور ہر جگہ نہ صرف یہ شرمندگی بلکہ لعن طعن کی ڈھیروں کالک گورے سامراج ماتھے پر تھونپی گئی توکھسیانی بلی کھنبے نوچے کے مصداق برطانوی ہندوستانی حکومت نے مارچ1922میں یہ ایکٹ واپس لے لیا،ہائے اس زودپشیماں کاپشیماں ہونا۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
59565

 عشق بلاخیزکاقافلہ سخت جاں-(پاکستان:قصہ صدی گزشت) – ڈاکٹر ساجد خاکوانی

Posted on

بسم اللہ الرحمن الرحیم

عشق بلاخیزکاقافلہ سخت جاں

(پاکستان:قصہ صدی گزشت)

10مارچ 1922

تحریک خلافت ثبوتاژ کرنے والے مہاتماگاندھی کی گرفتاری،مقدمہ اورسزا

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

 

تحریک خلافت کے دوران عدم تعاون کی تحریک سے ہندوستان میں بدیسی راج کو بہت نقصان پہنچاتھا۔ان کے وہم و گمان کے کسی گوشے میں بھی نہ تھاکہ اتنا سخت ردعمل بھی آسکتاہے۔دراصل اب تک پورپی اقوام نے افریقہ سمیت دنیاکے پسماندہ ترین علاقوں پرناجائزقبضہ کرکے اوراپنی انسانیت دشمن ظالم فوجوں کے ذریعے اپناظالمانہ استبدادقائم کیے رکھاتھا۔قدرت نے کرہ ارض کے ہرخطے کی تہ میں خزانے دفن کیے رکھے ہیں اورایک حدیث مبارکہ کے مطابق قیامت کے نزدیک زمین اپنے خزانے اگل دے گی۔چنانچہ یورپی قبضہ مافیانے ہر جگہ سے قیمتی ذخائر،نایاب دفینے،دریاؤں میں بہتے ہوئے سنہرے موتی اورپہاڑوں میں پوشیدہ انمول معدنیات کواپنی زنبیل میں چھپایااوراسی مقصدکے لیے بنائی گئی ریلوے لائن کے ذریعے اپنی واردات کو بندرگاہ تک پہنچاکربحری جہازوں کے ذریعے سمندرپاراپنے کمین گاہ تک پہنچادیا۔پوری دنیامیں گورے سامراج کو ان چوریوں، ڈکیتیوں اورچیرہ دستیوں کے خلاف کسی قابل ذکر ردعمل کاسامنانہیں کرناپڑاتھا۔جب کہ ہندوستان کی صورتحال کلیۃ مختلف تھی کیونکہ یہاں ایک ہزارسالہ مسلمانوں کے اقتدارکے نتیجے میں شرح خواندگی سوفیصدکوچھورہی تھی،عوام الناس کا عمومی شعوربیدارتھا،مردوخواتین کو مقاصدزندگی سے آگہی حاصل تھی اور مسلمانوں سمیت کل اہل مذاہب بہترین تہذیبی وثقافتی وادبی ورثے کے حامل تھے اورباہمی یگانگت کامظاہرہ بھی تحریک خلافت کے دوران انگریزنے بنظرغائردیکھ لیاتھا۔خاص طورپر افریقی ممالک میں تو یورپی نواب بدمعاشوں نے وہاں کے حبشی افرادکو شکارکر کے ان کے ریوڑ کے ریوڑ اپنے ممالک میں درآمدکیے اور ان کو بیچ بیچ کر مال جمع کیا۔صدیوں تک افریقی ممالک کی بندرگاہیں حبشی انسانوں کی خریدوفروخت کی بہت بڑی منڈی بنی رہیں تھیں۔افریقہ میں یورپی حکومتیں انسانوں کے شکار کے اجازت نامے(لائسنس)جاری کرتی تھیں،انسانی حقوق کے ٹھیکیدارانسانوں کے گورے شکاری حبشی بستیوں سے قتل غارت گری،لوٹ مار،زورزبردستی،چھیناجھبٹی اوررسہ گیری کے ذریعے کالے رنگ کے مرد،عورتیں بچے اورجوانوں کو رسیوں میں باندھ کر ان کے گلے میں غلامی کاطوق ڈالے اپنوں سے ہمیشہ کے لیے جداکر کے اورملک بدرکرکے ساحلی اڈوں تک لاتے تھے اورپھریہاں سے انگریزبیوپاری ان حبشی نسل کے انسانوں کاسوداکرکے انہیں بحری جہازوں میں ہانکتے لادتے اپنے ملکوں میں لے جاتے اورآج جہاں یورپ کے عالمی اداروں میں قوموں کی بولیاں لگتی ہیں اوراقوام عالم کی خریدوفروخت ہوتی ہوتی ہے اور دنیابھرسے جمع ہوئے غداران ملت سے اپنی اپنی اقوام کی کم سے کم قیمت لگوائی جاتی ہے اسی طرح اس زمانے میں یہاں کالے انسانوں کی منڈیاں لگتی تھیں اور انسانیت کے دعوے دارآزادپیداہونے والوں کوسربازارفروخت کر کے شکم سیری اورزیرشکم تسکین کاایندھن فراہم کرتے تھے۔

انگریزحکومت ہرحال میں گاندھی جی کے خلاف کوئی اقدام اٹھاناچاہتی تھی اور انہیں گزشتہ تجربات کے باعث عوامی ردعمل کا بدترین خوف لاحق تھا۔صرف ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ انگلستان میں بھی قلیل سہی لیکن کچھ لوگ تحریک خلافت کے بارے میں اپنی ہمدردانہ رائے رکھتے تھے کیونکہ تحریک کاموقف براہ راست لندن کی طرف سے کیے گئے وعدوں کے ایفاپر مشتمل تھا۔چنانچہ دہلی دوطرفہ دباؤ کی زدمیں تھا،ایک طرف اقدام کے نتیجے میں عوامی احتجاج کاخوف تھاتودوسری طرف لندن کی طرف سے گرفتاری کے سخت احکامات تھے بلکہ عدم گرفتاری کے نتیجے میں کچھ باثرشخصیات نے مستعفی ہونے کی دھمکی بھی دے رکھی تھی۔اورشایداس کی وجہ یہ بھی تھی کہ اقدام یاعدم اقدام کے اثرات کل دنیاپرمرتب ہوتے کیونکہ تاج برطانیہ کی قلمرومیں سورج توغروب ہی نہیں ہوتاتھا۔اس سلسلے میں اس وقت کے اخبار”ہندو“نے 8فروری1922کو برطانوی پارلیمان ہاؤس آف لارڈزمیں تحریک خلافت کے بارے میں ہونے والی تقاریر کو اپنی 9فروری1922کی اشاعت میں نقل کیاتھااوراس میں اس وقت کے پرنس آف ویلزکی تقریرکے اقتباسات اورجان ڈکسن آئی لنگٹن(1866-1936)جو برطانوی سیاستدان اور نیوزی لینڈ کے گورنربھی رہے تھے ان کی تقاریر بھی شامل کی تھیں۔جب کہ دوسری طرف 14فروری1922کو انڈین ہاؤس آف کامرس دہلی، یورپین ایسوسی ایشن کلکتہ اور 28فروری1922کو بنگال چیمبرآف کامرس کلکتہ کے جلسوں میں بھی بہت دھواں دھار تقاریرہوئیں جنہیں اس وقت کے اخبار ”روزنامہ انگلش مین کلکتہ“نے اپنی 15فروری اوریکم مارچ1922کی اشاعت میں تفصیلی طورپر نقل کیاتھا۔بہرحال یہ حالات طوالت پکڑسکتے تھے اور گاندھی جی کو مزید مہلت مل سکتی تھی اگر تحریک کے اندر اتحادویگانگت موجودرہتی اورہندومسلم اتحادبرقراررہتا۔بدقسمتی سے مسلمان راہنماؤں کی اکثریت توپہلے ہی پابندسلاسل تھی اوران نامساعد حالات میں تھوڑادیکھواورانتظارکروکی منصوبہ بندی سے گرفتارراہنماؤں کی آزادی تک چاروناچاروقت کو کھینچ لیاجاتاتو آج ہندوستان کانقشہ مختلف ہوتا۔لیکن ہندوقیادت نے مسلمان قیادت کی غیرموجودگی سے ناجائزفائدہ اٹھاکرجب تحریک کو کمزورکرنے کی سازشیں کیں تواس کابراہ راست اثربھی انہیں پر پڑگیااور 10مارچ 1922کو گاندھی جی پر بلآخرحکومت نے ہاتھ ڈال ہی دیااوراحمدآبادسے وہ دھرلیے گئے۔

حالات کی جس نبض کو ہندؤں نے شایدنہیں سمجھاتھا،انگریزبہت جلد سمجھ گیاتھا۔حکومت نے مزیدکچھ وقت دیے بغیر ٹھیک ایک ہفتے بعد مقدمے کاآغازکردیا۔یہ مقدمہ دوملزمان موہن داس کرم چندگاندھی اورشری شنکریال گھل بھائی بنکرکے خلاف انڈین پینل کوڈ کے سیکشن124Aکے تحت برطانوی حکومت کے خلاف بغاوت کی فردجرم کے ذیل میں قائم کیاگیاتھا۔یہ مقدمہ دوحصوں میں مکمل ہوا،پہلے حصہ میں لگائے ریاست کے خلاف بغاوت کے الزام کی پیروائی تھی جب کہ دوسرے حصے میں گاندھی جی کے عدالت میں دیے گئے اقبالی بیان پر جرح تھی۔دوسرے ملزم شری شنکریال گھل بھائی بنکرجو ”روزنامہ ینگ انڈیا“کے مدیراورناشرتھے ان کے خلاف گاندھی جی کے لکھے تین خلاف ریاست مضامین کی اپنے اخبار میں اشاعت کاالزام تھا۔یہ مقدمہ احمدآباد کے ڈسٹرک اینڈ سیشن جج مسٹر سی این بروم فیلڈ کے روبروہفتہ مورخہ 18مارچ 1922ء پیش کیاگیا۔قومی نوعیت کے اس مقدمہ کی اہمیت کے باعث ایڈوکیٹ جنرل ہندوستان جے ٹی اسٹرانگ مان،پبلک پراسیکیوٹر احمدآباد راؤ بہادرگردھرتال اورشاہی نمائندہ مسٹراے سی وائلڈبھی عدالت کے روبرو اپنی سرکاری حیثیتوں میں پیش ہوئے۔ان کے علاوہ عوامی و سیاسی نمائندوں کی فوج ظفرموج عدالت کے سامنے موجود تھی۔طویل انتظار کے بعد خلاف معمول دن 12بجے جج صاحب اپنی نشست خاص پر براجمان ہوئے اور تاخیرکی وجہ الزامات میں کچھ سقم کی موجودگی کوقراردیا جن کی اصلاح میں وقت لگا۔رجسٹرارنے الزامات پڑھ کر عدالت کو سنائے،الزامات کے مطابق موہن داس گاندھی نے“روزنامہ ینگ انڈیا“میں تین مضامین لکھے تھے جن میں قارئین کوبرٹش انڈیاگورنمنٹ کے خلاف بغاوت پر اکسایاگیاتھا،پہلامضمون 29ستمبر1921کو”Tampering with Loyalty“کے عنوان سے،دوسرامضمون 15دسمبر1921کو ”The Puzzle and its Solution“کے موضوع پراور تیسرامضمون23فروری1922کو ”Shaking the Manes“کے نام سے شائع ہواتھا۔رجسٹرارنے یہ تینوں مضامین پورے متن کے ساتھ عدالت میں پڑھ کر بھی سنائے۔جج نے حسب روایت فرد جرم عائد کرتے ہوئے ملزمان سے پوچھاکہ آیاوہ ان الزامات کو تسلیم کرتے ہیں یا بحث وجرح میں جاناچاہتے ہیں؟؟؟بہرحال ریاست کی طرف سے آنے والے ماہرین قانون نے تحریک خلافت کے دوران ہونے والے پرتشددواقعات کوبھی ان الزامات کے حق میں قانونی نظیربناکر پیش کردیاگیا۔ جب عدالت نے ملزمان کو دفاع کاحق دیاتو پہلے گاندھی جی نے ایک زبردست تقریرکی جس میں تمام الزامات کو یہ کہ کرقبول کیاکہ وہ اپنی قوم کے راہنماہیں اوریہ سب کچھ ان کی سربراہی میں ہواہے۔پھرانہوں نے اپناتحریری بیان پڑھ کر سنایا جس کے مطابق انہوں نے اپنی عوامی زندگی کاآغاز1893مین جنوبی افریقہ سے کیاتھااور تب سے انہیں شدت سے یہ احساس تھاکہ برطانوی حکومت داری میں انہیں کچھ بھی انسانی حقوق حاصل نہیں ہیں صرف اس لیے کہ وہ ہندوستانی ہیں،اس پر انہیں کوئی حیرانی نہیں ہوئی اورانہوں نے حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھا،لیکن جب رولٹ ایکٹ1919منظورہواتوانہیں یقین کامل ہوگیاکہ برطانوی حکومت ڈاکوؤں کااقتدارہے جو یہاں لوٹ مارکرنے آئے ہیں اورلوگوں کی آزادیاں سلب کررہے ہیں،تب میں نے اپنی قوم کو حکومت کے خلاف بغاوت پرآمادہ کیا۔گاندھی جی کے اس بیان کے بعد انہیں چھ سال قیدبلامشقت سزاسنادی گئی۔لیکن بہت جلد ہندوانگریزگٹھ جوڑ کایہ پول بھی کھل گیااوردوسال کے مختصرعرصے کے بعد جب تحریک خلافت دم توڑ چکی توگاندھی جی کوعدالتی فیصلے کے علی الرغم گردے کی بیماری کابہانہ تراش کررہاکردیاگیااورتحریک پاکستان میں ان سمیت تمام ہندوراہنماؤں سے مسلمانوں کے خلاف خوب خوب فائدہ اٹھایاگیا۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged ,
59228

استحکام امت مسلمہ…ترکی میں بحری کروزمیزائل کا کامیاب تجربہ..ڈاکٹر ساجد خاکوانی اسلام آباد

بسم اللہ الرحمن الرحیم

                عساکرترکی نے جمعۃ المبارک18جون2021ء کو سمندسے سمندرمیں مار کرنے والے پہلے بحری کروزمیزائل کاکامیاب تجربہ کیاہے۔ترکی کے صدارتی دفاعی صنعت کے صدرنشین جناب اسمئیل دیمر نے کہاہے کہ اس میزائل نے دوسوکلومیٹر کے فاصلے پر اپنے ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایاہے،انہوں نے مزید بتایا کہ یہ ایک جدید ترین ہتھیارہے اور اپنے دشمن کو بہت سبک رفتاری سے ٹھیک مقام پر نشانہ بناسکتاہے اورہرموسم میں کارگرہے۔انہوں نے اس بحری میزائلی نظام کی خصوصیات گنواتے ہوئے بتایا کہ یہ انسداداقدامات،تجدیدہدف(target update)،دوبارہ حملہ(re-attack)،بعیداز نظراہداف(targets far outside visual range.) اورتنسیخ کار(task cancelation) کی صلاحیتوں کے علاوہ ڈی ٹھری روٹنگ سسٹم کی مزاحمت کی بدولت طے شدہ اور متحرک اہداف اورتنسیخ ہدف بذریعہ جدیدمربوط مواد(mission abort capability via modern data link.) کے خلاف نہایت موثر ہتھیارہے۔اس کی ایک اورخاص بات یہ بھی ہے کہ ایک دفعہ ہدف پر چھوڑے جانے کے بعد بھی اس کا ہدف تبدیل کیاجاسکتاہے۔یہ عمودی و متوازی وسطحی تینوں اطراف سے اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتاہے اوراسے برقیاتی لہروں سے جام بھی نہیں کیاسکتا۔اس میزائل کا نام ”اتماجا“ رکھاگیاہے،اس لفظ کا مطلب ”شاہین“یا ”باز“ نامی پرندہ ہے اور یہ تجربہ ترکی کے ضلع سنوپ کے مقام پر کیاگیاہے۔کامیاب تجربے کے اس موقع پر ترکی امیرالبحر عدنان اوزبال بھی موجودتھے۔مزید کچھ ضروری کاروائیوں کے بعد اس میزائلی نظام کو افواج اسلامیہ ترکیہ کے حوالے کردیاجائے گا۔یہ ہتھیار زمین سے زمین اور زمین سے سمندمیں مارکرنے کی صلاحیت رکھتاہے اور چھوٹی کشتیوں سے بھی دشمن پر چلایاجاسکتاہے۔یہ میزائل ترک دفاعی کمپنی ”میٹکسان“نے مکمل طورپر مقامی کارخانوں میں تیارکیاہے اوراس میں مکمل صلاحیتوں کاحامل طاقتورKTJ-3200انجن استعمال کیاگیاہے جس سے اس کی حربی استعداددوچندہو گئی ہے۔اس ہتھیارکی تنصیب  کا نظام(The launch control systems for the missile)”اصلصان“ نامی دفاعی ٹھیکیدارکمپنی نے تیارکیاجب کہ دشمن پر چلانے کا نظام ترکی بحریہ کے تحقیقاتی ادارے(Turkish Naval Research Center Command)نے تیارکیا۔اس کامیاب تجربے کے بعد ترکی کے صدر نے قوم کو مبارک بادکا پیغام ارسال کیاہے۔”راکسٹان“نامی کارخانے،جس میں یہ میزائل تیارکیاگیا،اس کارخانے کے سربراہ نے کہاہے کہ آج سے ترکی بحری جہاز شکن میزائل بنانے والے ملکوں میں شامل ہو گیاہے۔اس موقع کی 58سیکنڈ کی ایک بصری رپوتاژبھی پیش کی گئی ہے۔

                ”اتماجا“ نامی میزائل کے آغاز کاسفر 2007ء میں شروع ہوا جب ترکی کی وزارت دفاع نے مقامی ”روکستان“نامی دفاعی ہتھیارساز صنعت سے ایک معاہدے پر باقائدہ دستخط کیے۔ابتداََ یہ معاہدہ ترکیب بحریہ کے لیے زمین سے زمین پر مار کرنے والا کروزمیزائل تیارکرنے کاتھا۔کروزمیزائل کاتعلق میزائل کی جدیدترین عصری تکنالوجی سے ہے،کروزمیزائل انتہائی تیزرفتار،آوازکی رفتارسے بھی تیزتر،ہرموسم میں موثر،ہدف کونشانہ بنانے کی انہائی صلاحیت کے حامل،انتہائی کم بلندی پر پروازکرسکنے والے تاکہ برقی شعاعوں (ریڈار)سے بچ سکے اوراپنے ساتھ دشمن کو نیست و نابود کرنے کا بھاری بھرکم تباہ کن موادہمراہ لے جانے کی استعدادکے حامل ہوتے ہیں۔ستمبر2012ء تک ”روکستان“نے اپنا ابتدائی تجربہ گاہی ذمیہ کام مکمل کرلیااور اس قابل ہوگیاکہ ترک بحریہ کے تحقیقاتی ادارے کے ساتھ مل کر بیرونی تجربات کاآغازکر دیاجائے۔اس تحقیقی وتجرباتی سفرمیں میزائل کی ساخت میں جملہ ارتقائی تبدیلیاں کی جاتی رہیں اور اسے زمین سے زمین کے ساتھ ساتھ سمندرسے بھی چلائے جانے کی صلاحیت عطاکر دی گئی۔نیز اس تجرباتی مرحلے تک آتے آتے اب اس کی جسامت ایسی بنادی گئی کہ یہ بحری جہاز کے ساتھ ساتھ آبدوز سے،چھوٹی کشتیوں سے،چھوٹے ہوائی جہاز سے حتی کی ساحل سمندرپرپڑی بیٹریوں سے چلائے جانے کے قابل بھی بنادیاگیا۔اس میزائل کی پہلی آزمائش مارچ2017ء میں عمل میں لائی گئی۔اس کامیاب تجربے کے بعد 29اکتوبر2018کو ایک قانون سازاجازت نامے کے تحت ”روکستان“کو وسیع پیمانے پر ”اتماجا“کی پیداوارکامنصوبہ عطاکردیاگیااوراب بہت جلد یہ بحریہ کے حوالے کیاجائے گا جہاں امت مسلمہ کے دشمن اورمسلمانوں پر ظلم ڈھانے والے طاغوت واستعماری شیطانی طاقتیں براہ راست اس کے نشانے پر ہوں گی،ان شاللہ تعالی۔

                جغرافیائی طورپر ترکی ایک ایسا ملک ہے جو براعظم ایشیااور براعظم ترکی کے عین درمیان میں واقع ہے۔اس کے ساتھ تین اطراف شمالی،مغربی اورجنوبی میں سمند کی وسعتیں موجزن ہیں۔ان وسیع و عریض بحری سرحدوں کے باعث ایک مضبوط اور مستعد بحری قوت کاہوناترکی کے وسیع ترین معاشی،تجارتی اور دفاعی مفادکے لیے ازحد ضروری ہے۔مزیدبراں جب سے ترکی میں اسلام پسندحکمران برسراقتدارآئے ہیں جس کے باعث ترکی کی ریاست اقتصادی قوت بن کر ابھری ہے تب سے سیکولرقوتیں اپنے دانت اور پنجے تیزکر کے ترکی کے درپے ہیں۔اسی لیے لگتاہے کہ ترکی نے اپنے بحری دفاعاعی قوت پر توجہ مرکوز کررکھی ہے اور ترکی کے اسلام پسندحکمران چاہتے ہیں کہ اس محاذپر ترکی خودانحصاری کی منزل حاصل کرلے اور دیگر اقوام کادست نگر نہ رہے۔اس مقصد کے لیے حکومت ترکی نے اپنے ملک کی صنعتی پیداواری و تحقیقاتی اٹھان کو بڑھوتری دی ہے اور مذکورہ بالا ہتھیار جو وقت کے تقاضوں سے کہیں بڑھ کرفوجی ضروریات کو پوراکرنے کی صلاحیت رکھتاہے اس کو مکمل طورپر اپنے ہی ملک میں تیارکیاہے۔ترکی کے اسلام پسند حکمران کی یہ روش دیگراسلامی ممالک کے لیے بھی قابل تقلید ہے۔سلام ہے ترکی عوام کو جنہوں نے انتخابات میں اکثریت کے ذریعے سیکولرحکمرانوں کو مسترد کیا اور اپنے روشن مستقبل پر مہر تصدیق ثبت کرکے اپنے آنے والی نسلوں کوعصری فتنوں سے بچالیا۔ترکی نے دفاعی خود انحصاری کا سفر 2007ء میں شروع کیاتھا،جو آہستہ آہستہ پہلے سے زیادہ کامیابیوں کے ساتھ دن دگنی اور رات چگنی ترقی کرتاچلاجارہاہے۔ترکی پر اسلام پسند قیادت اگرآئندہ بھی برقرار رہی جس کاکہ قوی یقین ہے تو چندہی سالوں میں ترکی کاشمارسیکولرقوتوں کے مدمقابل بہت بڑی طاقتور اسلامی ریاست کی حیثیت اختیارکرجائے گا،ان شااللہ تعالی۔

                ترکی کے اسلام پسندحکمران طیب اردگان نے 2022ء میں اپنی آبدوز بھی لانے کااعلان کیاہے اور دعوی کیاہے کہ بہت جلد وہ دفاعی پیداواری تعارف میں پر دنیاکے اولین ممالک میں شمار ہونے لگیں گے۔انہوں نے اپنے ایک خطاب کے دوران بتایا کہ وہ اپنی فضائیہ پر بھی بھرپور توجہ دے رہے ہیں اورآنے والے سالوں میں وہ طیارہ بردار بحری جہازبھی سمند میں اتاردیں گے،ان شااللہ تعالی۔دفاعی تجزیہ نگار جریدوں کے مطابق ترکی میں قائم سات دفاعی پیداروای کارخانے دنیاکے اعلی ترین ایک سوکارخانوں میں شامل ہیں۔ان سات کارخانوں میں سے دو کارخانے ماضی قریب میں قائم کیے گئے ہیں اور وہ اپنی تکنالوجی اور قابل اعتماد ٹھوس پیداوار کے باعث بہت جلد دنیاکے بڑے بڑے کارخانوں کی صف میں شامل ہو گئے ہیں۔گزشتہ سال دنیاکے ایک سو اولین کارخانوں میں ترکی کے پانچ کارخانے شامل تھے اورایک سال کے اندران کی تعداد سات ہوگئی ہے۔یہ سب اسلام پسند حکمرانوں کی برکت ہے جو بددیانتی اورخیانت سے اپنی ہی قوم کو لوٹ کر اوراپنے ہی ملک کے خزانے خالی کرکے دوسرے ملکوں میں رقوم نہیں بھیجتے اور یہ اسلام پسند حکمران ہی ہیں جن کے اثاثے،جن کی اولادیں،جن کی جائدادیں اور جن کے مفادات و جذبات صرف اپنے ملک میں ہی ہیں اور کتنے ہی مشکل حالات کیوں نہ ہوں وہ اپنے ملک سے فرارہو کر یہودونصاری کی گود میں نہیں جابیٹھتے۔ترکی کے اسلام پسندحکمران وطن عزیزسمیت کل اسلامی دنیا کے عوام کے لیے بہت بڑاسبق ہیں۔امت مسلمہ کواپنے اور اپنی آمدہ نسلوں کی بہتری اورتحفظ کے لیے سیکولر،بددیانت،خائن،نااہل،بدعقیدہ اورغداران ملت حکمرانوں کوایوان ہائے حکومت سے بے دخل کر کے تو اسلام پسند قیادت کو زمام اقتداردینی ہو گی۔

                ایک قول رسولﷺکامفہوم ہے کہ آپﷺ نے فرمایا”میری امت کارزق نیزے کی انی کے نیچے رکھ دیاگیاہے“۔تاریخی شہرت کے حامل عثمانی امیرالبحر خیرالدین باربروسہ کا کہناہے کہ جس کاسمندروں پر قبضہ ہوگا دنیا پر اس کی حکومت ہوگی۔چنانچہ آج سیکولر ابلیسی طاقتوں نے کل سمندروں کی ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور انسانیت کو ناک تک اپنے مفادات کی قبر میں دفن کررکھاہے۔خلافت عثمانی کے ناطے ترکی  پر امت مسلمہ کا یہ حسین قرض ہے کہ وہ مسلمانوں کی شیرازہ بندی کرے اور کل فرزندان توحیدکے لیے ایک مشترکہ سیاسی قیادت کی داغ بیل ڈالے۔سیکولرجمہوریت نے انسانوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ظالم سرمایادارنہ نظام کے سامنے نوچنے،چیرنے،پھاڑنے اور کھانے کے لیے ڈال رکھاہے۔خلافت اسلامیہ کی تاسیس نو کل انسانیت کے لیے بادبہاری کی پیغام کنندہ ہوگی۔جینوااکارڈکازمانہ بیت چکااورخلافت علی منہاج نبوت عالم انسانیت کے دروازے پر دستک دیاچاہتی ہے اور خاورامن عالم طلوع ہونے کو ہے،ان شااللہ تعالی۔

[email protected]

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
49567