Chitral Times

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ – (بارھویں اور آخری قسط) – پروفیسر اسرار الدین

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ – (بارھویں اور آخری قسط) – پروفیسر اسرار الدین

(موڑکھو جاری)
شاہ نوے سے تعلق رکھنے والے دو علماء
(1) میرزا محمد غفران

آپ کا تعلق شاہ نوے قبیلے سے تھا۔ان کا جدامجد خواجہ علی بابا ایوب کے پوتوں میں سے تھا۔یعنی خواجہ علی بن فضل بیگ بن محمد شاہ بن شاہ نو بن باباایوب۔اس طرح چوتھی پشت میں شاہ نوے شاخ کے سلسلے میں بابا ایوب سے ان کی نسبت بنتی ہے۔خواجہ علی کو خاص طور پرشہرت اس وقت ملی۔جب محترم شاہ اول اورخوشوقت کی معیت میں اس نے رئیسہ خاندان کی حکومت کے خلاف خدمات انجام دیئے۔ان کی پدری زمین کوشٹ اورشوگرام میں تھی اس کے بعد وہاں سے کاری منتقل ہوئے۔
میرزا محمد غفران کے والد غلام رسول خود علم سے بہرہ مند شخصیت تھے۔پہلے انہوں نے خود بیٹے کی تربیت کی۔ بعد میں تحصیل علم کے لئے ان کو پشاور بھیج دیا۔ان کو خاص طور پر نصیحت کی ”بیٹے“ قلم پکڑنا سیکھو پھر عمر بھر قلم سے رشتہ جوڑ لو!واقعی ایسا ہی ہوا۔اور عمربھر اس نے لکھنا پڑھنا اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا“آپ جب پشاور میں سات برس تحصیل علم میں گذار کے واپس آئے تو تمام چترال میں چند ہی علم وفضل والے لوگ تھے۔ان میں سے محمد غفران نے اپنی خدا داد لیاقت سے اپنے آپ کو بہت جلد نمایان کرلیا۔اور میرزا محمد غفران بن گئے۔میرزا لفظ فارسی میں ایک عالم فاضل اور مہذب انسان کو کہتے ہیں۔اس حوالے سے میرزا محمد غفران کی بڑی قدر ہوئی۔ان کا تقرر مہتر امان الملک کے دربار میں بطور ”میرزا“ہوا۔یہ نام بعد میں ان پرایسا چسپان ہوا کہ وہ اسی نام سے پہچانے جانے لگے۔

 

آپ 1882ء سے اپنی وفات(1926ء)تک یعنی امان الملک اور ہز ہائی نس محمد شجاع الملک کے دور تک کئی بادشاہوں کی حضوری میں کئی ممتاز عہدوں پر متعین رہے۔جن میں تجارت،جنگلات،نظام عشر سے متعلق امور کی تنظیم وغیرہ خاص طور پر شامل ہیں۔بعد میں امور داخلہ مشیر اور عدلیہ کونسل کے صدر بھی رہے۔شجاع الملک کم عمری کے زمانے میں جب بادشاہ بنے توآپ ان کے ٹیوٹر رہے۔اور دبیرکبیر کا لقب پایا۔بعد میں ہزہائی نس کے بچوں کی تعلیم و تربیت کی نگرانی بھی آپ کے زمے رہی۔1921ء میں شہزادہ محمد ناصر الملک نے ان کی معیت میں کھوار قاعدہ تالیف کی اور اسکو چھاپ کے عام کیا۔یہی قاعدہ کی کتاب جب بعد کے زمانوں میں کھوار لکھنے کا رواج ہوا۔کھوار لکھنے کی بنیاد بنی۔(حوالہ غلام مرتضی348-347)۔میرزا محمد غفران امور مملکت کے ساتھ جن میں برطانوی حکومت کے اہم حکام کے ساتھ خط وکتابت،معاہدوں اور دوسرے اہم دستاویز کی تحریر وترتیب وتر سیل کی اہم زمہ داریاں شامل تھیں کے علاوہ آپ نے تصنیف وتالیف کا بھی قیمتی کام انجام دیا۔جو ہمیشہ کے لئے آپ کو زندہ رکھیں گے۔اور خاص طور پر تاریخ چترال کی ابتدائی مسودہ آپ نے تیارکیا تھا۔یہ چترال پر تاریخ نویسی کی بنیاد بنی۔(یاد رکھے خیبر پختونخواہ کی دوسری ریاستوں پر تاریخیں میرزا محمد غفران کی تاریخ کے تقریباً ایک سو سال بعد میں تالیف کی گئیں)۔ان کے علاوہ مختلف دینی موضوعات پران کی تصنیفات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کتنے بڑے پایے کے عالم و فاضل انسان تھے۔ان کے تصانیف کی فہرست مندجہ ذیل ہے۔

(1) تشریح الاقاویل۔اس میں ذی القرنین کےحالات اور اس موضوع سے متعلق کئی اہم امور پر بحث ہے۔سابق صوبہ سرحد کے بعض علماء نے اس کتاب کو گوہر بے بہا تسلیم کیا ہے۔
(2) درج اللالی فی شرح الامالی؛اسلام کی بنیادی عقائد کے دفاع میں خلافت عباسیہ کے دور میں تحریر شدہ امام سراج الدین فرغانی کے عربی زبان میں ایک قصیدہ کی شرح ہے۔
(3) تاریخ خلفائے راشدین۔
(4) سفرنامہ ہندوستان
(5)تاریخ چترال(تین مختلف نسخے)
(6)حواشی فقہ اکبر
(7)توضیح مولائیہ۔فرقہ اسماعیلہ پرتحقیقی کام جواس زمانے میں چند اولیں تصنیفات میں سے ایک تھا۔
(8) کتاب الحجاب۔

علامہ شاعری کابھی ذوق رکھتے تھے۔اور فارسی زبان میں مختلف اصناف مثلاً غزلیات،قصیدہ نگاری،مرثیہ
نگار ی رزمیہ شاعری وغیرہ پران کے اعلیٰ پایے کاکام ہے۔
آپ1926میں وفات پاگئے۔آپ کے تین بیٹے تھے۔غلام مصطفے،غلام مرتضیٰ اور غلام جعفر۔غلام مصطفے بیسویں صدی کے شروع میں علی گڑھ کے گریجویٹ تھے۔آپ اپنی وفات 1924ء تک ہز ہائی نس شجاع الملک کے چیف سیکرٹری رہے۔

غلام مرتضیٰ شاہی باڈی گارڈ کے کوارٹر ماسٹر بعد میں جوڈیشل کونسل کے ممبر رہے لیکن انکی اصل شہرت بحیثیت مصنف نئی تاریخ چترال کے ہے۔غلام جعفر نے اسلامیہ کا لجیٹ سکول پشاور سے پڑھا اور ہزہائی نس شجاع الملک سے سیف الرحمان کے دور تک شاہی سیکرٹری رہے اور بعد میں تحصیلدار کے طورپر ریٹائر ہوئے۔
(2)مولانا عبدالحنان (کاری)۔آپ بھی شاہ نوے قبیلے سے تھے اور میرزا غفران کے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔آپ شجاع الملک کے دور سے چترال کے چوٹی کے علماء میں شمار ہوئے تھے۔دارالعلوم امینہ دہلی سے فارغ التحصیل تھے۔چونکہ آپ مسلکی طو رپر کئی مسائل میں پرانے علماء سے اختلاف رکھتے تھے۔اس لئے ان کو غیرمقلد اور وھابی کے القابات سے نوازاگیا اور بادشاہ کو بھی ان سے بدظن کرکے ان کو خانہ نشینی پرمجبور کیا گیا۔لیکن آپ بھی دھن کے پکے تھے۔اور اپنی پُرخلوص کوششوں سے ان بدعات کو ہمیشہ کے لئے ختم کرکے دم لیا۔ہز ہائی نس محمد ناصرالملک کے زمانے میں ان کی بڑی قدر افزائی ہوئی۔اور ان کوقضاۃ کوہ کے منصب پر مامور کیا گیا۔بتایا جاتا ہے۔کہ آپ علم حدیث میں بڑی دسترس رکھتے تھے۔آپ کے بڑے فرزند مولانا عبدالوود دارالعلوم سرحد سے فارغ التحصیل تھے اور دوسرے دو بیٹے عبدالقدوس اور عبدالروف بھی علم سے بہرمند ہیں۔آپ کا بھتجا مولانا عبدالحمید (المروف بلبل چترال) بعد کے دونوں میں پشاور سے تحصیل علم کرکے چترال آئے اور ایک خوش الحان اور فصیح و بلیغ خطیب کے طور پر مشہورومقبول ہوئے۔آپ سیاسی طور پر بھی اہم شخصیت کے مالک رہے اور دارالعلوم اسلامیہ دروش کا مدرس اور مہتمم رہے۔(حوالہ جات نئی تاریخ چترال۔از غلام مرتضیٰ اور علامہ محمد غفران از ڈاکٹر عنایت فیضی اور انوار مستجاب از پروفیسر اسرارالدین)

سومالکے ( زوندرے):
شاہ حسین گہتکی کے مطابق (بحوالہ ان کی کتاب اوراق چترال اورگلگت ۔ صفحہ 147)
شاہ سلطان جو سومالک کی نسل سے ایک بڑے زمیندار دوک کی اولاد میں سے تھا۔ آپ بونی میں دوکان دہ کا باشندہ تھا۔ خاندان جنالی کی جنگ میں وہاں سے پناہ گیر ہوکے گہکیر میں آکے آباد ہوے۔ سلطان شاہ کی نسل علاقہ کوشٹ اور گہکیر میں بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ ان کی نسل سے شاہ میر اور بنگولہ مشہور اشخاص گذرے ہیں۔ بنگولہ شاہ مردان قلی بیگ ابن سنگ علی ثانی کے مشیروں میں سے تھے۔ ان کی عسکری خدمات کے اعتراف میں بادشاہ کی طرف سے جاری کردہ سند اب بھی ان کے خاندان میں موجود ہے۔

اس سومالکے ( زوندرے) میں سے پھوکٹ یساول مشہور شمشیر زن گزرا ہے۔ وہ 1895ء کے محاصرے میں محصورین میں شامل تھا۔ اس قبیلے سے سابق چیئرمین یونین کونسل کوشٹ خیر نظار مرحوم اہم سیاسی و سماجی شخصیت کے طور پریاد رکھے جاتے ہیں۔
گہتکی صاحب نے سومالک کی اولاد کا شجرہ بھی دیا ہے اس کے مطابق آزر کا بیٹا سومالک اول۔ اس کا بیٹا بیر گوش۔ اسکو بیٹا بیر گوٹ۔ اسکے تین بیٹے سومالک ثانی، بھاگوٹ، اور دوک۔ سومالک ثانی کے چھ بیٹے یعنی شاہ مالک، میر مالک دوم، دنیک مالک،زون، رون اور ہنزایو۔ (۔ صفحہ53)

10۔علاقہ اویر:
پہاڑوں میں گھرا ہوا ایک علیحدہ منطقہ اویر ایک مردم خیز علاقہ رہا ہے۔اور چترال کی تاریخ میں مختلف وجوہات کی بنا پر نمایاں حیثیت کا مالک رہا ہے۔اس علاقے کو برم نالہ(یا اویر گول/ندی) اپنے معاون نالوں کے ساتھ سیراب کرتا ہے۔برم نالہ برم گلیشئیر(شاہ یوز) سے نکلتاہے جو براہ راست تریچمیر کلان تک پہنچتا ہے۔اس گلیشئیر کے شمال مغرب میں تریچ میر کلان کے سمیت گیارہ خوبصورت چوٹیاں ہیں جن کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
(1)تریچ میر کلان(7708میٹر252881/فٹ)اس چوٹی کو 1950ء میں پہلی دفعہ ناروے کی ٹیم نے سرکیا۔
(2)تریچ میر (مشرقی)۔(7692میٹر252361/فٹ)پہلی دفعہ ناروے کی ٹیم نے1964میں اس کو سرکیا۔
(3)تریچمیر کی شمالی چوٹی۔(2056میٹر231491/فٹ)
(4)تریچمیر جنوبی(7100میٹر232941/فٹ)
(5)تریچمیر خورد(6550میٹر214891/فٹ)
(6)جنوبی برم گلشیئر چوٹی(6700میٹر218911فٹ)

 

ان کے علاوہ بندو گول نمبر1۔بندو گول نمبر2۔دیر گول خورد،بے نام چوٹی،لونو زوم چوٹی،دیگرچوٹیاں ہیں جو20ہزار اور تقریباً22ہزارفٹ کے درمیان ہیں۔ان تمام چوٹیوں کے لیے برم نالے کے ساتھ راستہ نزدیک ترین پڑتا ہے۔البتہ ماحولیاتی موافقت (acclimatization)کے حصول کے خاطر بعض اوقات مہم جو ٹیموں کوتریچ وادی سے دوسرالمباراستہ اختیار کرنا پڑتا ہے۔

برم ندی پرپش مقام پرجو اویر علاقے کا زیرین ترین مقام ہے اور اس کا پہلا گاوں ہے۔دریائے چترال سے مل جاتا ہے۔اسکی اونچائی6400فٹ ہے۔یہاں سے آگے اوپر یا برم ندی اسکے معاون ندیوں کے کناروں پرکئی چھوٹے بڑے دیہات آباد ہیں جن میں سب سے اونچے دیہات میں سے شونگوش مشہور ہے جسکی اونچائی 9611فٹ ہے۔اویر وادی کا سب سے بڑا گاؤں برم ہے جو 7896فٹ بلند ہے جسے اس علاقے میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔

اویر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان محقق کلیم اللہ بیگ نے یہاں کے بارے میں کافی اہم معلومات مجھے بھیجا ہے جن کا یہاں ذکر کیاجاتا ہے۔
وہ لکھتے ہیں ”برم گول گلیشئیر تریچ میر کے دامن میں ایک وسیع جگے تک پھیلی ہوئی ہے۔اسکے قریب صنوبر کابڑا جنگل ہے۔جہاں پہاڑ پرچڑھنے والے مہم جو اپنا بیس کیمپ (Base Camp)قائم کرتے ہیں۔وہاں سے ترییچمیر کلان کی چوٹی کا سفرتقریباً ادھ گھنٹے ہے۔وہ مزید لکھتے ہیں۔

”اویر جغرافیائی لحاظ سے بھی نہ صرف وسیع ہے بلکہ یہاں زمانہ قدیم سے چترال کے مختلف حصوں کو راستے گذرتے تھے۔وہ یوں کہ مشرق کی طرف راستہ جو کہ لون گہکیر سے ہوتے ہوئے کوشٹ،موڑکھو اور اپر چترال کو جاتا ہے۔،مغرب کی طرف راستہ اوژیر آن سے ہوتے ہوئے لوٹ کوہ اور بدخشان کی طرف نکلتا ہے۔ایک راستہ پریت آن سے ہوکر زیرین چترال کی طرف نکلتا ہے۔اسی طرح ایک راستہ برم سے ہوتے ہوئے تریچ وادی کی طرف نکلتا ہے۔یہ راستے دور قدیم میں استعمال ہوتے تھے۔اس زمانے میں دریائے چترال پرزیادہ جگوں پر پلوں کی تعمیر کا تصور نہیں تھا۔اس لئے ان پہاڑی راستوں سے گھوڑوں پریا پیدل لوگ سفر کرتے تھے۔آج کل بھی ضرورت پڑنے پر یہ راستے استعمال ہوتے ہیں۔”اویر اپنے قدیمی پولو گراونڈ وں کے لئے بھی مشہور ہے یہ پولوگراونڈ برم، شونگوش اور جیلان جولانیوں کے ناموں سے مشہور رہے ہیں اور یہاں سے اہم پولو کے کھلاڑی چترال میں مشہور رہے ہیں جن میں امیر مراد خان براموش،احمد چرویلو،گھشارے،شیخ ایوب ثانی،بودیکے لال،اتالیق مراد قابل ذکر ہیں۔امیرمرادخان براموش کاچترال پولو گراونڈ میں سے اونچا تھمپوق مارنے کا ریکارڈ اب تک قایم ہے“

مندرجہ بالا بیان سے ایک خاص بات یہ واضح ہوجاتی ہے کہ قدیم الایام چترال کے راستوں میں سے ایک اہم راستہ لٹکوہ،اویر موڑکھو کاتھا۔جو تورکھو اور بذریعہ شاہ جنالی شمالی یارخون تک جاتا تھا۔اسی طرح اویر سے بذریعہ پریت کوہ زیرین چترال کی طرف بھی ایک شاخ نکلتی تھی پریت شاچار سے لون کی طرف بھی شاخ جاتی تھی جو موڑکھو والے راستے سے ملتا تھا۔لٹکوہ اوژیراور اویر والے راستے کی ایک شاخ شوغور سے بذریعہ شاشا لوئرچترال کوجاتی تھی۔جوآگے بذریعہ ارسون بشگال اور افغانستان کی طرف نکلتی تھی۔ارندو کی طرف دریاکے مشرقی کنارے کے ساتھ راستہ بیلم یااسمار اور وہاں سے نواپاس سے باجوڑ کی طرف نکلتی تھی۔دروش کے قریب راستے میں ایک اہم گاؤں کیسو آتا ہے۔شہزادہ محمد حسام الملک مرحوم کے مطابق کیسو اصل میں یسوع ہے۔جو مرور ایام سے بدل کر کیسو بن گیا ہے۔کیسو میں کسی عیسائی کی قبر ہے جو بجائے شمالاً جنوباً ہونے کے شرقاً غرباً ہے۔شہزادہ موصوف کے مطابق اس قبر کا رخ بیت المقدس کی مناسبت سے ہے“۔اس عیسائی سیاح یا مشنری کے حوالے اس گاؤں کانام یسوع (یا اب کیسو) پڑگیا تھا۔

تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ قرون وسطیٰ میں یورپ سے بے شمار عیسائی مشنری وسطی ایشیائی ممالک میں عیسائیت کی تبلیغ کے لئے آتے رہے تھے۔ایسا لگتا ہے کہ ان میں سے بعض لوور چترال کے راستے سے آتے ہوں گے۔اور آگے بذریعہ شاشا لٹکوہ بدخشان داخل ہوتے ہونگے۔یاد رہے کاربیٹڑی کا راستہ اگرچہ کوہ اوربالائی چترال کیلیے رابطے کا ذریعہ تھا لیکن یہ بہت زیادہ دشوار گذار تھا۔1895ء میں جب انگریزوں نے شمال سے یلغار کیا تھا تو اپنے سفر مینا(Saper Minors)کے انجینئروں کے ذریعے یہاں سے توپوں کے لئے ٹریک بنائے تھے اور1937ء میں ہزہائی نس محمد ناصر الملک نے یہاں سے کوغوذی تک موٹر کار چلنے کے قابل سڑک تعمیر کرائی تھی۔بالائی چترال میں راستے دوراہ دارکھوت یاسین کے ذریعے یاسین کی طرف،دوراہ،یارخون،لاسپور(بذریعہ شاندور) غذروادی،دوراستے تھے جوکشمیر اور برصغیر کو جاتے تھے۔مستوج سے اسکی شاخ جنوبی چترال کی طرف جاتی تھی۔اسکی ایک ذیلی شاخ پرواک سے بذریعہ استروان تورکھو موڑکھو شاہراہ کی طرف نکلتی تھی۔(ان قدیم راستوں پراہل علم مزید روشنی ڈال سکتے ہیں کیونکہ ملکوں کی تاریخوں میں شاہراہوں کا اہم حصہ رہا ہے۔اور ثقافتی نفوذCultural Diffcisionمیں ان راستوں کا اہم کردار رہا ہے)برسبیل تذکرہ مندرجہ بالا بحث درمیان میں آگیا۔اویرانتظامی لحاظ سے چترال کے مرکزی حکومت کے تحت ایک بااختیار حکیم کے ماتحت ہوتا تھا۔(1953ء میں نئی تنظیم کے تحت اسکو موڑکھو تحصیل میں شامل کرلیا گیا۔اب یہ اسی تحصیل کے اندر ایک یونین کونسل ہے)۔پرپش گاؤں کے قریب جب اس وادی میں داخل ہوجاتے ہیں توسب سے پہلے ایک تنگ گھاٹی میں سے گزر نا پڑتا ہے۔بعد میں جوں جوں آگے بڑھتے ہیں تووادی کھلتی جاتی ہے اور پہاڑوں کے ڈھلوانوں کے ساتھ ندی نالوں کے کناروں پر خوبصورت دیہات کا سلسلہ سامنے آجاتا ہے۔جن کو ان کے محل وقوع اور اونچائی کی مناسبت سے اویر پائین اویر مرکزی اور اویربالا کے ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ان مختلف حصوں میں واقع دیہات کی تفصیل ڈاکٹر فضل الہیٰ مرحوم نے یوں بتائی تجی۔

(1) زیریں اویر یا اویر پائیں) کوےاہم گاؤں،ریری ما یُست،بوزدوں،چھلیاندور،دسشمناندور،بیاں،چھتر،ڈوک،رام لشٹ،راموڑ،شوقیاندور،کوٹو،
گھراموں،خرچم،پرپش،
(2)مرکزی اویریابرم کے گاؤں،نچھاغ،شوک،لشٹووارز،
کھوروسن،کوڑاخ، ڑومڑی۔انددختی،ایوغون،دشمنان دور اوسان
(3)اویربالا کے گاؤن؛موشین،پچتوری،شونگوش،اوی،شابرونز،نچھاغ۔
چترال گزیٹئر(1904ء)میں مندرجہ بالا کے علاوہ ان دیہات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔برونز،دیرڑانگہ،گہرتو(ان دودیہات کوملاکے
مہک کانام بھی دیاگیا ہے)ژیلان یا جیلان،لشٹ،ڑوماڑی موڑی،موڑی نوغور،ڈوک،نوغور،سیداندور،شاڈوک،سومیاندور،توری نوغورڈوک،ژین پھاش۔
2017کی مردم شماری کے مطابق یہاں کی ابادی10084بتائی گئی ہے۔اور گھرانوں کی تعداد1354درج ہے۔یہ گھرانے کئی قبیلوں پرمشتمل ہیں۔جوپچھلے کئی سوسالوں کے دوران مختلف علاقوں سے یہاں آکر آباد ہوتے رہے۔

قبائل: ڈاختر فضل الہیٰ مرحوم کے مطابق قبیلوں کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
خوشال بیگے،مقصونے،بہیے،شاہ غوٹئیے(موجودہ حسن بیگے)۔کچوئے،شکے،عاشقے،شاہ نویے،کٹورے،اخونزادگان،خوشیے،گنڈڑوکے،گھسے یاگاسے(موجودہ نام قریشی)،محمد بیگے،زوندرے۔

آبادی کے ماہرین کے مطابق تمام چترال میں پہلے پہلے دریائے چترال کی وادی کلان اور اسکے بڑے معاون دریاؤں کی کناروں پرتین چارہزار سالوں یازیادہ)سے ابادی وجود میں آئی ہوں گی اس کے بعد مختلف ادوار میں مختلف حالات کے تحت لوگ ذیلی وادیوں میں آکر آباد ہوئے ہوں گے۔اس سلسلے میں کئی ذیلی وادیوں میں سے گذرنے والی تاریخی راستے بھی اہم رہے ہیں۔اویر چونکہ لٹکوہ اور اپرچترال کے درمیان اہم راستے پرواقع تھا۔اسلئے باہر سے آمدہ قبائل کایہاں پرانے زمانوں میں آباد ہونا سمجھ میں آسکتا ہے۔

راقم نے یہاں کے بعض قبائل کی تاریخ وار آمد کی کیفیات معلوم کرنے کی کوشش کی تھی جو حسب ذیل ہے۔
(1)مقصوتے: یہاں کے قدیم باشندے بتائے جاتے ہیں۔ یہ پُرانے زمانے میں یہاں کے میرہوتے تھے۔خاص طورپر رئیس دور میں ان کو خاص اقتدار حاصل تھا۔کٹور دور میں بھی اسکے بعض مشاہیر مثلاًفخرنایاب اور شیرنایاب شہرت کے مالک تھے۔
(2)بہے: یہ بھی قدیمی باشندے تصور ہوتے ہیں۔اس قبیلے کے جد آمجد کانام میربہے بتایا جاتا ہے۔اس قوم سے تعلق رکھنے والا حاجی عبدالمتین نے بیسویں صدی کے شروع کے ایام میں پیدل حج کیا تھا۔

 

(3)گھسے یاگاسے(نیانام قریشی)۔روایت کے مطابق یہ دراصل بشگال سے تعلق رکھتے ہیں۔وہاں سے رئیس کے دورمیں یہاں آکرآباد ہوئے تھے۔اسی مناسبت سے اب انہوں اپنا نام قریشی رکھاہے۔کیونکہ بشگال (موجودہ کافرستان کے لوگ قریشی ہونے کا دعویٰ رکھتے ہیں (۔اسکی ایک شاخ سوات سے ہوتی ہوئی درگئی (پختونخواہ) میں آباد ہیں۔جہاں اس خاندان سے تعلق رکھنے والے افراد پاکستان فوج اور سول سروس میں اہم عہدوں پرمتعین رہے اور اس علاقے میں نمایاں حیثیت کے مالک رہے۔موجودہ دور میں اس قبیلے سے تعلق رکھنے والی شخصیت قاری بزرگ شاہ الازہری بین الاقوامی شہرت کے مالک ہیں۔بے شمار اعزازات کے علاوہ حال ہی میں ان کو گورنمنٹ پاکستان کی طرف سے نشان امتیاز کا تمغہ عطاکیا گیا ہے۔
(5) خوشئیے: یہ تورکھو والے خوشیے قبیلے سے علیحدہ قبیلہ ہے۔شمس الدین ولی نام کے ایک بزرگ کے خانقاہ کے مجاور رہے ہیں۔ان کی آمد رئیس دور میں بتائی جاتی ہے۔

(6)اخونزادگان: روایات کے مطابق یہ رئیس دور میں کابل سے آئے تھے اور ریری گاؤں میں آباد ہیں۔اس خاندان سے تعلق والے کئی مشاہیر علم وفضل اور زہدوتقویٰ کی وجہ سے مشہور ومعروف رہے ہیں۔جن میں سے ملامحمد کبیر،مولانا عبدالکریم،مولانا فضل کریم اور ڈاکٹر فضل الہیٰ کے نام قابل ذکر ہیں۔
(7) عاشقے:بتایا جاتا ہے کہ شمس الدین ولی رئیس دور میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ یہاں وارد ہوئے تھے۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے(جسکاپچھلی قسط میں تفصیل سے ذکرہواہے)یہ بزرگ ایک شیعہ مبلغ تھے۔اور شاہ ھرات کے سفیر کے طورپر کشمیر کے سفر پرمامورتھے ان کے ساتھ کچھ اور ساتھی بھی تھے اور زمانہ 1584ء تا1520ء تھا۔انہوں نے اپنے ساتھیوں کو یہاں اور لون میں چھوڑا تھا اور کشمیرمیں تبلیغ کے بعد کئی سال کے بعد واپس آئے تھے۔اور خودواپس خراسان چلے گئے تھے۔وہاں کئی سال کے بعد دوبارہ عازم کشمیر ہوکے آئے تھے اور کشمیر میں ہزاروں ہندووں کو اسلام سے مشرف کرکے وہیں پروفات پاگئے۔اور وہیں پر ان کی زیارت گاہ ہے جو اب بھی موجود ہے۔

کلیم اللہ بیگ شمس بزرگ کے بارے جو لکھتے ہیں اگر ان کی بعض باتوں کے ساتھ میں اتفاق نہیں کرتا۔پھر بھی لوک روایات کے مطابق ان کا نکتہ نظر پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔جیسا کہ میں نے پہلے تاریخی حوالوں سے ذکر کیا تھاکہ موصوف ملتانی بزرگ دراصل شمس الدین سبزواری تھے۔جواسماعیلی تھے۔ان کا زمانہ 1165ء تا1276تھا۔وہ ملتان میں دفن ہیں۔جہاں ان کا مزار آج بھی مرجع خاص وعام ہے۔بہرحال کلیم اللہ بیگ صاحب کی روایت حسب ذیل ہے۔

”شمس بزرگ کے ساتھ میرزا ایوب اور ان کا چھوٹا بھائی شیخ ایوب اویر آئے۔اویر موژین میں قیام کی ہیں۔اور یہاں کچھ عرصہ رہنے کے بعد شمس واپس ملتان چلے گئے۔روانہ ہونے سے پہلے دوبھائیوں کویوں نصیحت کی۔میرزا ایوب کو لون میں رہنے کا کہا اور شیخ ایوب نے اس کے خانقا کے قریب سکونت اختیار کی۔دورقدیم میں اس خانقاہ میں لوگوں کی قطاریں لگ جاتی تھیں۔چترال کے مختلف علاقوں سے لوگ اس خانقاہ کی زیارت کے لئے آتے تھے۔ان میں زیادہ تراسماعیلی فرقے سے تعلق رکھنے والے لوگ ہوتے تھے۔وہ خانقاہ ایک دربار کی حیثیت رکھتا تھا۔بعد میں علماء نے اس خانقاہ کو گرادیا۔کیونکہ لوگ وہاں جاکے بدعت کرتے تھے۔اس خاندان کاایریا ابھی بھی شیخ ایوب کی جائیداد میں شامل ہے۔اس جگہ کی نشانی اب بھی تاریخی طورپر موجود ہے۔

”قبیلہ عاشقے شیخ ایوب کے بیٹے عاشق ایوب سے منسوب ہے اور انہی کی مناسبت سے یہ نام پڑگیا ہے۔زیادہ تر وہ شیخ نام سے جانے جاتے ہیں۔عاشق ایوب کی اولادوں میں کئی شخصیات ریاست میں اہم عہدوں پر متعین رہے ہیں۔جن میں سے لعلی ایوب براموش،امیر مراد براموش،اتالیق مراد قابل ذکر ہیں“
(8) شاہ نوے: شاہ نوے کی اولاد کٹور دور میں یہاں آکر آباد ہوئیں۔

(9)خوشحال بیگے:یہ قبیلہ اس علاقے کا نہایت اہم قبیلہ تصور ہوتا ہے اور رئیس دور سے کٹور دور تک حاکمی اور چارویلی جیسے اہم عہدے اس قبیلے کے پاس رہنے کی وجہ سے یہ لوگ صاحب اعزاز چلے آرہے ہیں۔(نئی تاریخ چترال صفحے322)۔اخونزادہ کے مطابق اصلیت کے لحاظ سے اس قبیلے کا تعلق وسطی ایشیاء ممالک سے ہوگا۔کیونکہ اس کے جد امجد خوشحال بیگ کے نام کے ساتھ بیگ کا لاحقہ وسطی ایشیائی رئیسوں کی نشانی ہے(صفحہ509)۔یہ مفروضہ کسی حد تک درست بھی ہوسکتا ہے۔کیونکہ رئیس حکمرانوں کااپناتعلق بھی وسطی ایشیائی علاقوں سے تھا۔وہ اپنے ساتھ وہاں کے نامور شخصیات کو چترال لاتے رہے ہوں گے اور یہاں ان کو اہم ذمہ داریاں سونپ کے ان کو آباد کئے ہوں گے۔

ایک روایت کے مطابق اویر آنے سے پہلے یہ لوگ سوروخت میں آباد تھے۔اور وہاں بھی یہ اہم حیثیت کے مالک تھے۔نئی تاریخ چترال کے مطابق خوشحال بیگ اول کاپوتا خوشحال بیگ ثانی شاہ کٹور کے ساتھ جلاوطنی گذاراتھا۔واپسی پر انکی بادشاہت پربحالی کے بعد شاہ کٹور کے دربار میں اسکی قدرومنزلت بہت بڑھ گئی۔اور ان کو علاقہ اویر کی حاکیمی اور چارویلی تفویض کی۔جوبعد میں ان کی اولاد کو بھی ملتی رہی تاآنکہ بعد کے زمانوں میں اس علاقے میں شاہ غوٹیہ کے اقتدار میں آنے کے بعد ان کا اثرورسوخ پراثرپڑا ہوگا۔

نئی تاریخ چترال کے مطابق یہ لوگ اپنے زمانے میں علاقہ اویر کے حاکم مختاررہے۔وسیع جائیداد کے مالک رہے اور جاہ و منزلت کے سارے اسباب انہیں میسر رہے۔رئیس دور سے کٹور دور تک اس قبیلے میں کئی مشاہیر گذرے ہیں جن میں سے خوشحال بیگ اول،شیرافگن،فیض،خوشحال بیگ ثانی،عندلیب،قناعت شاہ،مشتکی خان،عبدالکریم،سلطان مراد خان وغیرہ قابل ذکر ہیں۔

(10) زوندرے:اس قوم کے حالات پہلے تفصیلاًگذرچکے ہیں اویر والے زوندرے کٹورے دور میں بونی سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔
(11)شاہ غوٹئے(موجودہ نام حسن بیگے) یہ خاندان عرصہ دراز سے اس علاقے میں اہم حیثیت کامالک رہا ہے۔مولانا عبدالرحیم مدظلہ کی روایت کے مطابق یہ قبیلہ کسی

زمانے میں افغانستان کے غزنی کے علاقے سے ہجرت کرکے یہاں آیا تھا۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ اسلامی تاریخ کے مشہور غازی اور مجاہدسلطان محمود غزنوی نے دسویں صدی میں اپنے گردونواح میں کفار کے خلاف جہاد شروع کیا تھا۔بعد میں برصغیر کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔اورپاک وہندمیں فتوحات کا سلسلہ شروع کیا تھا۔ان کے جلومیں اسلام کیلئے مرمٹنے والے مجاہدین کے علاوہ علماء اور فضلا اوردانشوروں کی ایک کھیپ ہوتی تھی۔جو کفرستان کے ان علاقوں میں دین اسلام کی اشاعت اور لوگوں کودین کی تربیت دے سکیں،اسلئے کہاجاتا ہے کہ برصغیر ہندوپاک میں شاہ ولی اللہ دہلوی کے خاندان کے بعد غزنوی خاندان ممتازترین خاندان ہے۔جس نے یہاں دین اسلام کی روشنی پھلانے کے لئے جدوجہد کی۔اب پاکستان کے جن علاقوں میں غزنوی خاندان آبادہیں یہ اس وقت (یا اس کے بعد مختلف ادوار میں)وہاں سے یہاں آکرآباد ہونے والے خاندانوں کی اولاد ہیں۔غزنی اور افغانستان کے مختلف علاقوں سے برصغیر اور شمال میں وسطی ایشیاء اوردیگرعلاقوں میں بزرگان دین اورعلماء وفضلا اور دیگر مبلغین کی آمد کا سلسلہ قرون وسطی کے تمام ادوار میں جاری رہا۔ان میں سے بیشتر حضرات بدخشان کے راستے شمالی راستوں کے ذریعے چترال میں داخل ہوتے رہے ہیں۔مختصراًاندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اس خاندان کے افرادمحمودغزنوی رحمتہ اللہ علیہ کے زمانے کے بعد رئیس دور میں ان کے تبلیغی پروگراموں کے سلسلے میں یہاں آئے ہوں گے۔مولانا موصوف کی روایت کے مطابق شاہ غوٹ جن سے اس خاندان کی نسبت ہے۔اصل میں شاہ غوث تھے۔وہ اللہ والے بزرگ تھے اوردین اسلام کی تبلیغ کے سلسلے میں یہاں آئے تھے۔ان کی اولاد شاہ غوثیہ کہلاتی تھی۔جس کوبعد میں مخالفین نے بگاڑ کے شاہ غوٹیہ بنایا۔اخوانزاہ(صفحہ226)اس قوم کے بارے بالکل مختلف روایت بیان کرتے ہیں۔ان کے مطابق ”یہ ایک معززقوم ہے اس قوم کا اصل نا م حسن بیگے ہے۔کیونکہ ان کے جداعلےٰ کانام حسن بیگ تھا۔وہ ترکی النسل تھے۔ایران کے مغربی اورجنوبی علاقے پرنویں صدی ہجری (15ویں صدی عیسوی)کے دوران ان کی حکومت تھی۔خانہ جنگی کے نتیجے میں حسن بیگ کی حکومت ختم ہوگئی۔ان کی اولاد میں سے کچھ لوگ فرار ہوکر بدخشان جاکے آباد ہوئے۔انہی لوگوں میں سے بعد میں ایک بچہ پیدا ہوااور بہت نامور ہوا اور اپنے قبیلے کا سردار بن گیا۔اس کا نام عطا محمد گورزاد رکھا گیا تھا۔اسکے نام کو لوگوں نے غلط استعمال کرکے اسکی اولاد کو شاہ غوٹئے کے نام سے مشہور کردیا۔اس شخص کی اولاد کے کچھ لوگ بدخشان کے علاقے زاروبومیں آباد ہوئے اور کچھ چترال آئے اور علاقہ موژگول،چرن اویر،مستوج،اویر،ارسون اور ارندو میں آباد ہیں“۔

اخوانزادہ کے مطابق قوم ہذا نے عہدکٹور میں کافی عزت حاصل کی۔کٹور مہتر شاہ افضل کے عہدمیں جمک اقسقال نے بڑا اعتبار حاصل کیا۔اس نے شاہ افضل کے بیٹے شادمان بیگ کی تربیت کااعزاز حاصل کیا۔اور اس کا بیٹا گشارے اقسقال نے شہزادہ عبدالرحمان خان کی رضاعت کرکے مزیدطاقت حاصل کی اور علاقہ اویر کے چارویلی کامنصب بھی قوم حسن بیگے کے ہاتھ آیا“۔

 

ایران کی تاریخ ان چندملکوں کی تاریخ میں شامل ہے۔جوتین ہزار سالوں سے زیادہ عرصہ پرمحیط ہے۔میرے سامنے ایران کے بادشاہوں کی ایک تفصیلی فہرست ہے۔جوتاریخ واردرج ہیں۔اس فہرست میں خاکم بدہن مجھے اس مذکورہ حسن بیگ کاکہیں ذکرسامنے نہیں آیا۔۔بہرحال اس قبیلے کا اوریجن(Origin)جوبھی ہو۔ان کاعروج چترال کی ریاست میں کٹور دور میں جمک نامی شخصیت سے اور ان کی وجہ سے ہوا۔بتاتے ہیں وہ ایک بہادر شخص تھے اور اس وجہ سے بادشاہ کی نظرمیں آئے اور مہترشاہ افضل ثانی کے عہد میں نام پیدا کرلیا اور اعتبار حاصل کیا۔شاہ امان الملک کے زمانہ میں اس کا لڑکا شاہ بمبر باپ سے دس گنازیادہ ترقی یافتہ ہوا۔اعلٰحضرت محمدشجاع الملک کے دور میں چارویلی کامنصب خوشحال بیگ قبیلے سے گشرہ کے ہاتھ منتقل ہوا۔ان کی وفات کے بعد ان کابیٹا شاہ بمبربادشاہ کامنظور نظرہوا۔ریاست کے اہل کاروں میں ترقی کرکے باڈی گارڈ کے میجرکاعہدہ حاصل کیا۔جنگ بریکوٹ میں نمایاں خدمات کے صلے میں انگریز حکومت سے ایم بی اے کا خطاب حاصل کیا۔اس قبیلے کے مشاہیر میں مولانا محمد مستجابؒ (المعروف اویرو مولوی)سرزمین چترال کے عظیم داعی،مصلح اور مردحق آگاہ کے طورپر مشہور ہوئے۔جن کا مختصراً کاذکرکیا جاتا ہے۔
مولانا محمد مستجاب رحمتہ الہ علیہ)

آپ شاہ غوثیہ قبیلے کے شاہ بمبر کے رشتہ دار تھے۔آپ نے ہندوستان کے جامعہ ملیہ دہلی میں مفتی کفایت اللہ رحمتہ اللہ علیہ کی زیرسرپرستی تحصیل علم کیا اور واپسی پر اویون میں سکونت پذیررہے۔آپ نے سلسلہ نقشبندیہ کے ایک مشہور ولی حضرت فضل علی قریشی سے بیعت کی تھی اور ان کے خلیفہ مجاز تھے۔گوشہ نیشنی کی زندگی گذاری۔شاہی درباروں سے مکمل طورپر دوررہے۔علم وعمل زہدوتقویٰ اخلاص اور محبت ان کے اعلےٰ صفات تھے،زندگی بھرامرباالمعروف اورنہی عنی المنکرمیں مصروف رہے۔چترال کے دوردراز علاقوں تک سالانہ دورے کرتے اور وعظ ونصیحت فرماتے۔ان کے وعظ سننے کے لئے بلاتفریق مسلک یافرقہ ہزاروں لوگ جمع ہوجاتے اور ان کے گرویدہ ہوتے۔ان کی وعظ و نصیحت کی بدولت ہزاروں لوگوں کی زندگیاں بدل گئیں۔پیرانہ سالی تک یہ مشغلہ جاری رکھا۔ان کے مرید چترال کے علاوہ پاکستان کے لاہور،کراچی اور پشاورتک پھیلے ہوئے تھے۔نیزافغانستان میں بھی کئی نیک لوگ ان کے مریدیں میں شامل ہوگئے تھے۔چترال کے بادشاہاں محمد شجاع الملک سے لیکر ان کے بیٹوں تک ان کی بہت قدرکرتے تھے اور محمدمظفرالملک نے شاہی کتب خانے سے صحاح ستہ کی تمام مجلات ان کوبخش دئیے تھے تاکہ درس وتدریس کے لئے ان کے کام آئیں۔(آپ کی وفات کے بعد آپ کی وصیت کے مطابق یہ کتابیں دارالعلوم اسلامیہ عربیہ(شاہی مسجد چترال)کی لایبریری کووقف کی گئیں)۔آپ نے ننانوے برس کی عمرمیں 1985ء میں وفات پائی اور اویون میں دفن ہوئے۔آپ نے ساتھ دفعہ حج کئے تھے۔آپ کی کرامات کے کئی واقعات لوگوں کو یاد ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ آپ کرامات والے ولی تھے آپ کے نیک اخلاق کااثر کلاش قبیلے تک پھیل گیا تھا اورکئی کلاش لوگ ان کے ہاتھوں دین اسلام سے مشرف ہوگئے تھے۔چنانچہ حکومت کی طرف سے ایک عامل ایک دفعہ ان کے پاس گیا اور حکومت کی طرف سے ان کو حکم سنایا کہ کلاش کوتبلیغ نہ کریں۔مولانا نے جواب دیا۔”برخوردار!جواللہ کومنظور ہے وہی ہوگا۔مجھے ڈرہے کہ ان لوگوں کوکوئی ہم سے چھین نہ لے“(حوالہ۔راقم کی کتاب انوار مستجاب)۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تتمہ
یہ قسط ضلع اپرچترال کے حوالے سے مختلف مقامات کی لوک تاریخ کے سلسلے کی آخری کڑی تھی اسکے بعد وقتی طورپر یہ سلسلہ ختم کیا جاتا ہے کیونکہ راقم کسی دوسرے اہم موضوع پرلکھنے کاارادہ رکھتا ہے۔اگرزندگی نے مہلت دی لوورضلع چترال پربعد میں لکھنے کی کوشش کروں گا ورنہ مواد کسی کے حوالے کروں گاتاکہ وہ اس پرلکھے۔

اس سلسلے کی تحریر سے چند باتیں میں نے محسوس کی جو آپ سے شیرکروں گا۔
1۔چترال کے دیہات تاریخ،ثقافت اور کئی دیگرامور میں معلومات کاخزانہ ہیں۔جن پرتفصیل سے کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
2۔چترال کے مختلف علاقوں میں کئی شخصیات موجودہیں،جن کو اپنے علاقوں کے بارے میں بے پناہ معلومات حاصل ہیں۔نیز کئی شخصیات اب بھی ایسے ہیں۔جوچترال کے مختلف ثقافتی تاریخی اورروایاتی پہلوؤں پرقیمتی معلومات کے وارث ہیں۔ضروری معلوم ہوتاہے کہ اس سے پہلے کہ یہ معلومات ان لوگوں کے ساتھ ختم ہوتے جائیں کس طرح ان کو محفوظ کیا جائے۔

3۔میں نے یہ بھی محسوس کیا کہ اس وقت بھی ہمارے ان علاقوں میں کئی ایسے تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں جن کواپنی تاریخ اورثقافتی اقدار سے محبت ہے اور وہ ان کونہ صرف زندہ رکھنا چاہتے ہیں بلکہ ان کو دوسروں تک پہنچانے کے خواہشمند ہیں۔ایسے حضرات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اُٹھانے کی ضرورت ہے۔چترال باوجود پہاڑوں میں بندایک مختصر خطہ ہونے کے جغرافیائی،جیالوجیائی،تاریخی،ثقافتی،لسانی،نسلیاتی،انتھرویولجی(علم الانسانی)وغیرہ پہلوؤں پرمعلومات کاخزانہ ہے۔اس طرح ان موضوعات پرتحقیق کرنے کی ایک زبردست قدرتی لیبارٹری ہے۔اس امر کے پیش نظر راقم نے ایک میٹنگ میں یونیورسٹی آف چترال کے وائس چانسلر سے درخواست کی تھی کہ اپنے ادارے میں ایک چترال سٹڈی سنٹر کھول دیں تاکہ نہ صرف چترال کے اپنے محققین بلکہ دنیا کے مختلف ملکوں سے محققین یہاں آکر تحقیق کرسکیں۔انہوں نے اصولی طورپر راقم کے اس موقف سے اتفاق کرلیا ہے۔بہرحال یونیورسٹی میں جب بھی یہ سنٹر قائم ہوگا،فبہا لیکن کیا چترال ریسرچ فورم کے نام سے ہم خود ایک ادارہ تشکیل نہیں دے سکتے جس میں مندرجہ بالا مختلف مضامین میں مہارت حاصل کردہ(specialized)محققین کاایک کھیپ جمع کرکے نیز مقامی کئی روایتی دانش کے مالک بزرگوں کوشاملکرکے ایک ادارہ تشکیل دے سکیں۔توانشاء اللہ انجمن ترقی کھوار کی مانند آگے چل کریہ ادارہ اہم ادارہ ثابت ہوسکیگا۔اس ادارے کے تحت تحقیقی کام کے علاوہ سیمنارکانفرنسیں اور اشاعت کاکام بھی انجام دئیے جاسکینگے۔ہمت مردان مددخدا۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

ضمیمہ
ڈاکٹر ظہیر احمد صاحب نےکچھ غلطیوں کی نشان دہی کی ہے ۔ جو یہاں درج کیے جاتے ہیں۔
اس کے مطابق بوشے کا جد امجد ماہ باق تھا جو ماہ چاق یا مچھوک کا بیٹا تھا۔ وہ کشم میں آباد ہوا تھا۔ اس کا بیٹا بوٹ شاہ تھا اس سے بوشے قبیلے کا نام پر گیا یے۔
گا چھترک، ڈولے، ڑافے، بیگانے، بالیے ، بوہچونتک، بحیثیت علیحدہ قبیلے اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ وہ بوشے کی شاخیں نہیں ہیں ۔ واللہ اعلم۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ختم شد

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
81919

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط -11) – پروفیسر اسرارالدین

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط -11) – پروفیسر اسرارالدین

(موڑکھو جاری)

(نوٹ) اِس قسط میں خاص طور پر میرزہ ایوب کے مرشد شیخ شمس الدین کے بارے میں تحقیق ضرور ملاحظہ فرمائیے)
کوشٹ کی آب پاشی کا نظام:

کوشٹ کی آب پاشی کے نظام کے بارے میں یہ امر یاد ر ہے ۔ کہ بعض قبیلے مثلاً رضاخیل، طرقولے، محمد بیگے وغیرہ تاریخی اور روایتی طور پر مراعات یافتہ طبقہ ہیں۔ اس لئے پانی میں زیادہ حصّہ اُن کو حاصل ہے۔
یہ بھی یاد رہے کہ کوشٹ گول (ندی) قریئے کو دو حصّوں میں تقسیم کرتا ہے۔ اُس کے دونوں طرف کُل چودہ نہریں بمع شاخیں نکالی گئی ہیں۔ جن کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے۔

 

chitraltimes saht mulkhow

 

ندی کے دائیں طرف کی نہریں۔
1۔ اونار دیر نہر 3 کلومیٹر 2۔ گول بیار نہر ایک میل سے کم 3۔ رباط نمبر 1 ایک میل سے کم
4۔ رباط نمبر 2 ایک میل سے کم 5۔ شوتاک نہر ایک میل سے کم 6۔ پھار گرام 3 کلومیٹر
7 ۔ سندراغ نمبر 1 ڈھائی کلومیٹر 8۔ سندراغ نمبر ڈھیڑ کلومیٹر

بائیں طرف والی نہریں:
1۔ تورکوشٹ نہر (8 کلومیٹر) اِس کی تین شاخیں ہیں۔
الف۔ چار ویلی ژوئے (7 کلومیٹر) ب۔ موژو ژوئے (4 کلومیٹر) ج۔ پونگو ژوئے (2 کلومیٹر)
2۔ موچیاندور نہر 3۔ گول بیار نہر نمبر 1 (2 کلومیٹر) اِس کی دو شاخیں ہیں ۔
الف۔ نہانگال ژوئے (5 کلومیٹر)، ب۔ ہوشی ژوئے۔
4۔ لوٹ گمبور ژوئے (5 کلومیٹر) 5 ۔ موڑ کوشٹ نہریں ۔ اِس کی دو شاخیں ہیں۔
الف۔ ششدار شاخ (4 کلومیٹر)
ب۔ موڑ کوشٹ شاخ (3 کلومیٹر)

6۔ غیرنان ژوئے (ایک کلومیٹر)

ہُوردور (ہیڈ ورکس): اِن نہروں کے ہیڈ ورکس ایک دوسرے کے اوپر مختلف مقامات پر واقع ہیں۔ اپر کوشٹ یا (تور کوشٹ) نہر چونکہ اولین نہر تھی اُسکا ہیڈورکس سب سے اوپر ہے۔ اُسکے بعد زیرین(موڑ) کوشٹ نہر بنی تھی۔ جو زیرین کوشٹ کے ساتھ ہے۔ باقی ہیڈ ورکس درمیان میں جگہ جگہ پر واقع ہیں۔اُن ہیڈ ورکس کی سالانہ مرمت دیہات کے لوگ مل کر کرتے ہیں اُسی طرح جب سیلاب کی وجہ سے تباہی ہوتی تو ہنگامی طور پر سب مل کردرستگی کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ تمام نہروں میں ہیڈ ورکس سے تقریباً خاص فاصلے پر مدوک (نکاس) نصّب کیا جاتا ہے۔ تاکہ ہنگامی صورت میں نہر بند کرنے یا تہہ نشیں شدہ مواد مٹی وغیرہ کو خارج کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔

نہری تنظیم:
نہروں کی نظامت کی ذمہ داری ’’ میرژویوں‘‘ کے ہاتھ میں ہے۔ دو بڑے ’’میرژوئے‘‘ اور باقی چھوٹے ’’میرژوئے‘‘ ہیں۔
’’میر ژوئے ‘‘ کے لئے ایک با اعتبار شخصیت ہونا ضروری ہے۔ نیز وہ نہروں میں پانی کی تقسیم کے حوالوں سے بھر پور معلومات کے مالک ہونے چاہیں۔

 

تقسیم آب: تقسیم آب کی خصوصی باتیں مندرجہ ذیل ہیں۔
1. پانی کی قلت کے باوجود تقسیمِ آب کا نظام اِس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ہر چھوٹے بڑے گاوں کو کچھ نہ کچھ پانی مل جاتا ہے۔
2. پانی کی تقسیم باقاعدہ ٹائم ٹیبل کے مطابق ترتیب دی گئی ہے۔ اور اُس ٹائم ٹیبل کی پوری طرح پابندی کیجاتی ہے۔
3. روایات کے مطابق جو اصول طے کئے گئے ہیں۔ اُن اصولوں کو اِس طرح لاگو کیا گیا ہے۔ کہ اُن کی خلاف ورزی ناممکن امر ہے۔
تقسیم آب کی قسمیں مندرجہ ذیل ہیں۔

 

1. سوروغ (باری باری آبپاشی کی ترتیب) اصطلاحی طور پر ایک فرد یا کنبے کی باری کا جو پانی ہوتا ہے۔ اُسے سوروغ کہا جاتا ہے۔ عام طور پر کوشٹ میں ایک نہر کا کل پانی سوروغ کی ایک اکائی (Unit) ہوتی ہے۔ جسے ایک یا زیادہ کسان استعمال کرتے ہیں۔ ’’سوروغ‘‘ حالات کے مطابق 24 گھنٹوں کا یا 12 گھنٹوں کا ہوتا ہے۔

ابتدائی ایام میں جب اِن نہروں کا قیام عمل میں آیا تھا۔ تو یہ فیصلہ ہوا۔ کہ لوگوں کی جائداد کے رقبے کے مطابق اُن کو پانی میں حصّہ دیا جائے۔ چونکہ اِن نہروں کی تعمیر میں علاقے کے ریئس لوگ پیش پیش تھے نیز اُن کی جائدادیں بھی بڑی تھیں تو اُن کو پانی کا زیادہ حصّہ الاٹ ہو ا۔ بعد میں ایسے دوسرے لوگ بھی وارد ہوئے جن کو حکمران وقت نے اُن کی خدمات کے صلے میں اُن کو یہاں جائداد عطا کی تھی۔ اور پانی کا حصّہ بھی عطا کیا تھا۔ اِ س طرح یہ مراعات یافتہ طبقہ تھا۔ جنکو پانی کا (Lion Share ) مل گیا۔ لیکن یاد رہے ۔ جو سوروغ شروع کے زمانے میں ایک کنبے کو الاٹ ہوا تھا۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کنبے کے افراد کی تعداد زیادہ ہونے کے باوجود اُن کا سوروغ کی اکائی وہی ہے۔ جس کے نتیجے میں اب یہ حالت ہوگئی ہے۔ کہ بعض کنبوں کو 15 دن میں 3 گھنٹے کا پانی فی کنبہ۔ اور بعض کو دس سے 12 گھنٹے کا پانی اسی عرصے میں۔

کوشٹ قریہ کے تمام مکینوں کو مختلف لوگوں کے سوروغ کی تفصیل کا پتہ ہے۔ اس لئے اُن میں بے قاعدگی کا شائبہ نہیں ہوتا۔
بالائی کوشٹ اور زیرین کوشٹ کے درمیان سوروغ کی تقسیم:

بالائی کوشٹ : 24 گھنٹے بغیر کسی وقفے کے
زیرین کوشٹ: (1) انوسوغ: فجر تا عصّر
(2) چھیوغ: عصر تا فجر

مختلف دیہات میں انوسوغ اور چھیوغ کی تقسیم:

دن کے وقت (انوسوغ)
(1) اوناردیر نہر (2) ھوشی نہر (3) رباط نہر (4) گول بیار نہر (5) موچیاندور نہر

رات کے وقت چھیوغ

(1) گمبار نہر (2) موڑ کوشٹ ژوئے (3) سندراغ
زیرین کوشٹ میں جن میں چشموں سے مستقل طور پر پانی رہتا ہے۔ اُن کے نام یہ ہیں۔
(1) رباط نہر (2) زیرین سندراغ نہر (3) شوتک نہر (4) غیرنان نہر (5) پھار گام نہر
فرائض: سوروغ والوں کے فرائض میں یہ شامل ہے کہ ہر سوروغ دار ( یا سوروغ والا) مرمت کے وقت ایک پھی (Shovel) کا تعاوّن پیش کرے گا۔جو 4 افراد، ایک بیلچہ، ایک ہتھوڑا، اور دو رسی پرمشتمل ہوتاہے۔ جو مرمت کے کام میں استعمال ہونگے۔
تمام نہروں کے پانی کو 102 حصّوں میں تقسیم کیا گیا ہے جن کے حصّہ دار کنبے، خاندان یا گاوّں ہیں۔ اُن حصّوں میں سے 51 حصّے 24 گھنٹوں والے اور باقی 51 حصّے 12 گھنٹوں والے ہیں۔ یہ 12 گھنٹوں والے انوسوغ اور چھیوغ کہلاتے ہیں۔
روزانہ حساب سے ہر حصّے کے مزید 20حصّے بنائے گئے ہیں۔ یعنی 24 x دس اور 12ضرب دس۔ جن کی آب پاشی کرنے والوں کے حساب سے الگ تفصیل ہے۔

یاد رہے کہ کوشٹ میں پانی اور زمین لازم ملزوم ہیں۔ اگر کسی گاوّں کی زمیں کوئی خرید ے تو اُس کے پانی پر بھی اُسکا حق ہوگا۔
سوروغ تقسیم در تقسیم ہو کر بعض لوگوں کے حصّے میں 25 دن یا اُس سے بھی زیادہ عرصے میں باری آجاتی ہے۔
(2) گولوغ: یہ ندی کا پانی ہوتا ہے جو سوروغ کا 1/3 حصّہ ہوتا ہے۔ بعض موسم اُن میں پانی زیادہ ہوتا ہے۔اُس وقت اُس کا استعمال عام ہوتا ہے۔ البتہ پانی کی کمی کے زمانے میں سوروغ کے 1/3 حصّے کے برابراُس کےحصّے بناتے ہیں۔ جس کے لئے لکڑی میں مقررہ پیمانے کے مطابق سوراخ بنایا جاتا ہے۔ جسمیں مقررہ پانی چھوڑا جاتا ہے۔ گولوغ میں 24 گھنٹے کے حساب سے اور بعض 12 گھنٹوں کے رات دن کے حساب سے چلتے ہیں۔ کل 24 گلوغ ہیں۔ جن میں سے 7 گلوغ 24 گھنٹے والے ہیں۔ گلوغ بعض کنبوں کی ذاتی جائداد میں شامل ہیں۔ جو وہ اپس میں تقسیم کرتے ہیں۔
(3) غوسپانوغ: پانی کی تقسیم کا تیسری اکائی غوسپانوغ ہے۔ جو گولوغ کے 1/3 کے برابر ہے۔ غوسپانوغ بعض سوروغ کے ساتھ ملحق ہیں۔ جو بعض سوروغ والوں نے کسی کو دئیے ہوئے ہوتے ہیں۔ کل غوسپانوغ کی تعداد پانچ ہیں۔ جو خاص طور پر بڑی نہروں مثلاً چارویلو نہر اور پھارگرام نہر کے ساتھ ملحق ہیں۔

 

نتیجہ: (1) کوشٹ کی آب پاشی کی تنظیم اِ س امر کی ایک اعلیٰ مثال ہے کہ محدود پانی کے وسیلے کو کس طرح یہاں کے لوگوں نے ایک ایسے انداز میں استعمال کرنے کا طریقہ وضع کیا کہ ایک بڑے قریہ کی ایک بڑی آبادی اِس سے استفادہ کرنے کے قابل ہو گئی ہے۔ اگرچہ بعض طبقوں کا حصّہ مقدار میں زیادہ ہے لیکن اُس کے باوجودچھوٹے سے چھوٹے خاندان کا حصّہ بھی محفوظ ہے۔

(2)۔ یہ مختلف خاندانوں میں ہم اہنگی، ایک دوسرے سے تعاوّن اور بھائی چارے کی بہتریں مثال ہے۔ جو اُن لوگوں نے صدیوں سے ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گذارنے کا ڈھنگ سیکھا۔ ایک دوسرے کے حقوق کی پاسبانی کا حق آدا کیا۔

(3)۔ یہ نظام کافی قدیمی ہے۔ اور یہاں کے باسی اس نظام سے متعلق تمام تفصیلات سے باخبر ہیں۔ اور اُن کو درست انداز میں چلانے کے بارے میں اور اُس کو کامیاب رکھنے کے لئے پوری طرح سنجیدہ ہیں۔

 

(4)۔ کوشٹ کے لوگوں کی یہ خصوصیت بھی قابل تحسین ہے۔ کہ اپنے اِس مسلے کو حل کرنے کے لئے وہ وقتاً فوقتاً مختلف منصوبے عمل میں لاتے رہتے ہیں۔ اور اس میں وہ بالااخر کامیابی حاصل کرتے رہیں گے۔
(بحوالہ راقم کی رپورٹ Irrigation and Society in Chitral District (PCRWR – Islamabad 1986))۔

 

کوشٹ کے قبائل:
کوشٹ کے قبائل رضاخیل، محمد بیگے (طرقولے، نعمت اللہ، بدالے)، شاہ نوے، زرگارے، جماڑے، کوراکے، راماسانے، گوشیکے، ژارے، سنگالے، ڈوقے وغیرہ مشتمل ہیں۔ شاہ نوے بابا ایوب کی اولاد ہیں۔ لون گہکیر سے یہاں آئے۔ اُن کا تذکرہ آگے کیا جائے گا۔
رضاخیل اور سنگالے کا ذکر پہلے بھی گذرا ہے۔ زرگارے بشگال سے کٹور اوّل کے زمانے میں فراری ہوکر آئے تھے اور یہاں آباد ہوئے تھے۔ ریئسے ریئس خاندان کی اولاد میں سے ہیں۔ یہاں چند کنّبے آباد ہیں۔ جماڑے کٹور اوّل کے دور میں غذر سے آکر آباد ہوئے تھے۔ راما سا نے بھی غذر (چھاش)سے چماڑے سے کچھ بعد یہاں آکر سکونت اختیار کی۔ گوشیکے، ژارے، اوکیلے اور مگاسارے یہاں کے قدیمی باشندے ہیں۔
ڈوقے ورشگوم سے کسی زمانے میں آئے تھے۔

 

kosht chitral

 

محمد بیگے۔ شہزادہ تنویر الملک محمد بیگے کے بارے میں یوں رقمطراز ہیں۔ (موڑکھو صفحات 67-166)۔
محمد بیگ سنگین علی اوّل کا بیٹا اور رئیس حکمران شاہ ناصر کا نواسہ تھا۔ چونکہ سنگین علی اوّل رئیس حکمران شاہ ناصر کے وزیر اور سالار بھی تھے۔ اس وجہ سے کم عمری ہی میں محمد بیگ کو جہانیانی اور فوجی تربیت حاصل کرنے کا موقع ہاتھ ائے۔ 1570 ء میں سنگین علی اوّل کی وفات پر رئیس حکمرانوں نے اُن کے بڑے بیٹے محمد رضا کو عہدہ وزرات پر مامور کیا۔ اور محمد بیگ کو اپنی فوج میں سپہ سالار مقرر کیا۔ رئیس شاہ ناصر کے حکم پر محمد بیگ کی سرکردگی میں چترال کی فوج نے باشگال ( موجودہ نورستان) پر لشکر کشی کرکے اُس کے کچھ حصّوں پر فتح حاصل کیا۔

رئیس حکمران شاہ ناصر کی وفات کے بعد جب اُن کا بیٹا شاہ محمود تخت نشین ہوا تو اُنہوں نے نا اہل مشیروں کے کہنے پر محمد رضا اور محمد بیگ کو اُن کے عہدوں سے ہٹا دیا۔ جس پر محمد رضا اور محمد بیگ کاروبار مملکت سے دورموڑ کھو کے سنگلان دور، وریجون اور زاینی نوغور میں مقیم ہو گئے۔ تاہم خاموش بیٹھنے کی بجائے تخت چترال پر قبضّہ کرنے کیلئے خفیہ طور پر عوامی تائید و حمایت حاصل کرنے کیلئے سرگرم ہوگئے۔ اُس دوران اندرونی اختلافات پر وہ اپس میں الجھ پڑے اور اس فسادمیں محمد بیگ اور اُس کے بیٹوں کے ہاتھوں محمد رضا اور اُن کے بیٹے قتل ہو گئے۔ اُس کشمکش میں خود محمد بیگ بھی راہی ملک عدم ہوگئے۔

 

محمد بیگ کے چھ بیٹے محترم شاہ، خوش وقت، خوش احمد، نعمت اللہ، طارق اللہ، عبید اللہ (پودلہ) تھے۔ جن میں سے محترم شاہ کٹور کی نسل سے قبیلہ کٹور اور قبیلہ سنگالے کی بُنیاد پڑی ، جو چترال کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی ہے۔ محمد رضا کی اولاد سے رضاخیل قبیلے کی بُنیاد پڑگئی۔ جو مختلف جگہوں میں آباد ہیں۔ خوش وقت کی نسل سے قبیلہ خوش وقتے اور خوش احمد کی نسل سے قبیلہ خوش آحمدے کی بنیاد پڑی۔ جبکہ محمد بیگ کے دیگر تیں بیٹوں کی نسل کے لوگوں کو خود محمد بیگ کی نسبت سے محمد بیگے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جو کوشٹ، گوہکیر، شوگرام، موردیر اور موڑ گول میں آباد ہیں۔ خوش وقت کی نسل کے زیادہ تر لوگ شمالی عاقہ جات میں بستے ہیں۔ البتہ اُن کی ایک ذیلی شاخ بروشے کے چند گھرانے ریشن میں بھی آباد ہیں۔ محمد بیگ کے لڑکے خوش احمد سے قبیلہ خوش احمدے کی بُنیاد پڑی۔ یہ قبیلہ مستوج کے چرُن، چرُن اویر، جُنالی کوچ اور پرواک میں آباد ہیں۔

 

محمد بیگے قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی اہم مشاہیر گذرے ۔ جن میں سے یہاں طوالت سے بچنے کے لئے صرف محمد سیر کا ذکر کیا جاتا ہے۔ بُنیادی طور پر اُن کے خاندان والے کوشٹ میں سکونت رکھتے تھے۔ لیکن یہ شو گرام میں اقامت پذیر ہوئے تھے۔

میرزا محمد سیر: آپ چترال کے ایک عظیم شاعر گذرے ہیں۔ اُن کا زمانہ انیسویں صدی کے ابتدائی عشروں کے درمیاں بتایا جاتا ہے۔ آپ کا تعلق شاہی خاندان سے تھا۔ اُن کے والد دوست محمد لال اپنے علاقے (کوشٹ) کے اہم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ اور خود بھی علم و فضل کی دولت سے مالامال تھے۔ اور صوفی منش بزرگ تھے۔

سیؔر نے ابتدائی تعلیم اُن سے حاصل کی ۔ بعد میں چترال کے دوسرے علمائے کرام کی شاگردی کا شرف حاصل کرنے کے بعد ملک سے باہر وسطی ایشاء کے سمر قند بخارا سے بغداد تک ممالک کا سفر کیا۔ اور وہاں جگہ جگہ کئی سال تک قیام کرکے اُس زمانے کے اہم علمائے کرام کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ کرکے علم کی پیاس بُجھانے کی کوشش کرتے رہے۔ اُسی زمانے میں ہندوستاں میں مشہور بزرگ شاعر ناصر علی سرہندی کی خدمت میں بھی حاضری دیتے رہے۔ اس طرح اپنے وقت کے اہم مذہبی اور روحانی شخصیات سے مستفیذ ہونے کے نتیجے میں اُن کی زندگی میں صوفیانہ اوصاف نمایان ہونے شروع ہوئےجن کا اثر اُن کی شاعری پر ہونا لازمی امر تھا۔

 

میرزہ سیؔر کی شاعری کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ پہلا اُن کی زندگی کا ابتدائی زمانہ تھا۔ یہ اُن کی ’’جوانی دیوانی‘‘ کا زمانہ تھا۔ دوسرے دل پھینک جوانوں کی طرح سیؔر بھی ایک حسینہ کے عشق میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ جسکی یاد میں کھوار زبان میں گیتیں ترکیب دیتے رہتے ہیں۔ اور ستار پر مخصوص دھن میں گاکر اپنے دل کو تسکین پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ جس طرح مشک چھپانے سے نہیں چھپتی ۔ اُسی طرح سیؔر جو اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے جانی پہچانی شخصیت تھیں۔ کا عشق کیسے چھپ سکتا تھا۔ چُنانچہ سیؔر کا پیار بھی اُن کی گیتوں کی طرح جگہ جگہ مشہور ہوا۔ سیؔر کے یہ گیت ’’یورمن ہمیں‘‘ کے نام سے مشہور و معروف ہیں۔

اُن کی وفات کے بعد بھی دو سو سالوں سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود اب تک کھوار بولنے والے علاقوں میں دور دور تک مقبول ہیں۔ اور اُن علاقوں میں بہت کم لو گ ایسے ہونگےجو سیاؔر کے نام سے واقف نہ ہوں۔

 

سیؔر کا یہ رومان جسکی ابتدا عشق مجازی سے ہوئی۔ بعد میں عشق حقیقی میں تبدیل ہوا۔ سیؔرجس نے اپنے عشق میں ناکامی کے غم کو بھولنے کی خاطر دور داراز علاقوں میں صحرا نوردی کو اپنا شعار بنایا تھا۔ جب کئی سالوں کے بعد واپس اپنے وطن آجاتے ہیں تو اُن کی زندگی میں انقلاب آچکا تھا۔ مختلف مشائخ، صوفیاء اور اولیاء کی صحبت میں گذارے ہوئے ایام نے اُن کی زندگی کی کایہ پلٹ دی تھی۔ وہ اب عشق مجازی کے سحر سے چھٹکارا حاصل کر چکےتھے اور عشق ِ حقیقی کی لذت اور حلاوت کی سرشاری میں مست ہو چکے تھے۔ اب اُس کی زبان پر اپنی محبوبہ کی خوبصورت لبوں اور چمکتے دانتوں کی تعریف کی جگہ اِس قسم کے الفاظ صادر ہونے لگے تھے۔ “ارزوٗں کی تسکین کی جگہ ارمانوں اور تمناوٗں کی تُشنگی میں ہی زندگی کا اصل مزہ ہے”۔ اب سیؔر ایک عارف ، فلسفی، عالم فاضل شخصیت اور ایک پائے کے صوفی شاعر کے طور پر ہمارے سامنے آجاتے ہیں ۔ اُن کے عشقِ مجازی کے عشقی حقیقی میں تبدیل ہونے کی توجیہ یہی ہے کہ صوفیاء کے اصطلاح میں جب تک غیرسے قلبی انقطاع محبت نہ ہو جائے، وصالَ الہی ممکن نہیں۔”

میرزا محمد سیؔر کی چترال کے عوام و خواص میں شہرت یار من ہمیں کی وجہ سے رہی ہے۔ لیکن اُن کا زیادہ تر کام فارسی شاعری میں ہے۔ اُن کا دیوان سیؔر225 غزل، پانچ مخمس، گیارہ رباعیات اور ایک فرد پر مشتمل ہے۔ اُن کی تکمیل کی تاریخ 1227 ہجری ہے جو عیسوی حساب سے 1813 ء بنتی ہے۔ کچھ سال ہوئے چترال کے مشہور ادیب اور کھوار شاعر مولانگاہ مرحوم نے اُس دیوان کا اُردو میں ترجمہ کیا ہے۔ جسےمقتدرہ قومی زبان کا ادارہ (اسلام آباد) نے شائع کیا ہے۔ اسکے علاوہ اُنہوں نے چترال کی تاریخ کی واقعات کو منظوم کیا ہے۔ جسے شاہ نامہ چترال کا نام دیا ہے۔

 

المختصر فارسی شاعری میں میرزا محمد سیؔر کا نہایت اونچا مقام ہے۔ لیکن یہ دُرنایاب ہندوکش پہاڑوں کی تنگ وادیوں میں بند دنیا کی نظروں سے پوشیدہ رہا۔ ورنہ کوئی وجہ نہیں تھی کہ اُن کا نام بھی اہم فارسی شعراء کی فہرست میں جگمگا رہا ہوتا۔

 

(حوالہ جات
1. مولانگاہ نگاؔہ، دیوان سیؔر (2006) مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد)
2. ڈاکٹر عنایت اللہ فیؔضی ۔ یار من ہمیں (2005) تحقیقی مجلہ ای س شاہ عبد الطیف یونیورسٹی، خیرپور سندھ)
3. اسرارالدین: میرزا محمد سیؔر کی شاعری (2008) دیوان سیؔر کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا مقالہ
4. ایضاً ۔ چترال کے صوفی شعراء (2009ء) سرحد صوفی شعراء پر کانفرنس۔ ادارہ ثقافت و آدب پشاور
5. ایضاً۔ محمد سیؔر (کھوار ڈرامہ )جمہور اسلام جنوری تا مارچ 1971 ء
6. ایضاً ۔ محمد سیؔر (مشمولہ) کھوار زبان و ادب أ تاریخ ادبیات مسلمانان پاک وہ ہند۔ پنچاب یونیورسٹی لاہور 1971 ء)

 

8۔ لون گُہکیر:
یہ متصل دو دیہات ہیں جن کو ایک درہ ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ گہکیر گاوں بندوگول ندی کے ساتھ آباد ہے۔ جو بندوگول کی چوٹی سے ایک گلیشر سے نکلتی ہے۔ اس میں وافر مقدار میں پانی سار ا سال بہتا رہتا ہے۔ اور مشرق کی طرف دریائے مستوج میں گرتا ہے۔ گہکیر کی بلندی سطح سمندر سے 8250 فٹ ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گہکیر قدیم زمانے سے آباد تھا۔ کالاش دور کے کچھ نشانات کی موجودگی کا بھی لوگ ذکر کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً مینار، نل (چیبی) وغیر۔
یہاں پانی کی بہتات ہے زمیں زرخیز ہے اس لئے مختلف فصّل اور میووٗں کی بھی بہتات ہے۔ یہاں کے قبائل سنگالے، محمد بیگے، شاہ نوے، مگاسارے، کشاڑھے، ڑوقے (زوندرے)، رضاخیل اور جوار بیگے پر مشتمل ہیں۔ شاہ نوے بابا ایوب کے بیٹے کی اولاد ہیں۔ جو لون سے یہاں ائے اُن کی تفصیل لون کے تذکرے میں کیا جائے گا۔
مشاڑے بھی قدیم سے یہاں آباد ہیں۔ یہ اپنے کو خوشحال بیگے کی شاخ بتاتے ہیں۔ رضاخیل، مگاسارے، ڑوقے (زوندرے) اور جوار بیگے مختلف زمانوں میں یہاں آکر آباد ہوئے ہیں۔

لون گاوں گہکیر کے جنوب کی طرف پہاڑی سے پرے اور سطح سمندر سے 8600 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ یہاں زمینات زیادہ ہیں لیکن پانی کی کمی ہے۔ پھر بھی غالباً چشموں کی وجہ سے یا بارانی آبپاشی کی وجہ سے یہاں غلہ گہکیر کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔ اسلئے یہ کہاوت مشہور ہے کہ ’’ژو لونی خورا گہکیری‘‘ (یعنی غلہ لون کے علاقے میں وافر مقدار میں اور پن چکیاں گہکیر میں)۔

لون بھی موڑ کھو کے قدیمی دیہات میں سے ایک ہے۔ قدیم زمانے میں اویر لون، گہکیر اور موڑ کھو کے ساتھ شمال کی طرف اور اوژورو علاقہ لٹکوہ اور لوئر چترال کی طرف جنوب میں راستہ یہاں سے گذرتا تھا۔ اس لئے چترال کے وادی کلان کے طعلاوہ اُن دورافتادہ مقامات پر بھی ابادیاں وجود میں ائی تھیں۔

 

قبائل: یہاں شاہ نوئے اور مشارے قبیلے قیام پذیر ہیں مشارے اپنے کو خوشال بیگے کی ایک شاخ بتاتے ہیں۔ جو اویر کا اہم قبیلہ ہے اور رئیس کے دور میں سور وہت سے یہاں آئے تھے۔ مشاڑھے اویر سے یہاں آکے آباد ہوئے۔ اُن کے علاوہ محمد بیگے اور بزرے بھی یہاں قیام رکھتے ہیں۔ بزرےبھی رئیس کے دور سے یہاں آباد ہیں۔ بعض روایات میں اُن کو شاہ نوئے کی شاخ بتائی جاتی ہے اور محمد بیگے غالباً کٹور دور میں یہاں ائے ہونگے۔

 

شاہ نوئے: یہاں کا اہم اور اکثریت والا قبیلہ شاہ نوئے ہے۔ جو بابا ایوب کی اولاد میں سے ہے۔ بابا ایوب اپنے ابتدائی ایام میں یہاں قیام پزیر ہوئے تھے۔ اور اُن کی قبر لون سے ملحق گاوں گہکیر میں موجود ہے۔ اس لئے اُن کے بارے میں ذرا تفصیل یہاں بحث کی جاتی ہے۔
نئی تاریخ چترال (غلام مرتضیٰ صفحہ 47 )کے مطابق شاہ اکبر رئیس کے زمانے میں ہرات (افغانستان) میں سلطاں حسین کی حکومت ترکمانوں کے ہاتھوں ختم ہو گئی تو اُس کی اولاد ادھر اُدھر منتشر ہوگئی اور سلطان حسین کا پوتا میرزا یوب بن شہزادہ فرید الدین حسین ایک درویش کی حیثیت سے 1520 ء میں بمطابق 920 ہجری میں چترال ایا ۔ مشہور ہے کہ وہ اُن کے کچھ ہمراہی ایک ولی کامل شاہ شمس الدین کی معیت میں واردِ چترال ہوئے۔ ولی موصوف اُن کو ایک مقام پر چھوڑ کر کہیں چلے گئے اور اُن کو ہدایت دی کہ اُن کے پاس آنے تک وہان پر مقیم رہیں۔ اور اُن کا انتظار کریں۔ جب کافی مدت کے بعد ولی مذکورہ واپس آئے۔ میرزا ایوب کے علاوہ باقی سب وہاں سے چلے گئے تھے۔ آپ اُن کے استقلال دیکھ کر خوش ہوئے اور دعا دی کہ اُس ملک کی بادشاہت اسکی اولاد کو مل جائے۔

 

بابا ایوب کے دو بیٹے تھے۔ ماہ طاق اور شاہ نو۔ شاہ نو کی اولاد شاہ نوے کہلاتی ہے۔ اخونزادہ کے مطابق شاہ نوے کے چار بیٹے ہوئے۔ تومیک، بوشیک، بوژ اور شریف۔ اُن چاروں بیٹوں کو شاہ نوے کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ اُن میں سے تومیکے، بشیکے، اور شریفے (المعروف سیٹھے) لون میں آباد ہیں۔ اور بوژ گہکیر اور کوشٹ میں قیام پذیر ہیں۔
(بحوالہ اقوام چترال صفحہ 138 تا 144 )

 

شاہ نوے قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی شخصیات اہم رہے ہیں اُن میں سے مولانا حضرت الدین اور مولانا محمد وزیر کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے۔ اب آگے میرزا غفران اور مولانا عبدالحنان (آف کاری) کا ذکر کیا جائے گا۔
لیکن اِس سے پہلے ولی شمس الدین کے بارے میں لوک روایات کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ کہ اُن کے بارے میں لوگوں کے کیا تصورات تھے۔ اسکے بعد تاریخی حوالوں سے اصل حقیقت کی نشاندہی کی کوشش کرونگا۔

 

بعض لوگوں نے ولی شمس الدین کو شمس الدین تبریزی سے منسوب کیا ہے۔ جیساکہ مندرجہ ذیل روایت سے پتہ چلتا ہے۔ (یہ روایت اکرم علی خان ولد نادر علی خان، بروم اویر نے مجھے کسی کے حوالے سے بھیجا ہے) وہ کہتے ہیں۔
’’ویسے تو کئی شمس تبریز نکلے ہیں مگر اں میں سے یہی شمس تبریز اصلی صوفی بزرگ تھے۔ جو چترال اویر آئے تھے یہ شمس الدین محمد ایک کشف والا بزرگ تھا۔ یہاں سے آپ ملتان، پھر قونیہ ترکی ہوتے ہوئے دمشق اور آخر کار طوئے ایران میں دفن ہوئے۔ اویر سے کریم آباد اور برشگرام بھی ہو جایا کرتا تھا۔ یہاں یہ بات مشہور ہے کہ شمس الدین کے ساتھ دو اُن کے مرید بھی تھے۔ ایک میرزہ محمد ایوب دوسرا شیخ ایوب۔ جو کہ میرزہ ایوب کا چھوٹا بھائی تھا۔ روایات کے مطابق اُن کے ساتھ تھا۔ اویر کے عاشقے قبیلے کا جد امجد شیخ ایوب کے اولاد شمس تبریز کے درگاہ زیارت کے متولی ہیں۔ (نوٹ : یہ اس نے واضح نہیں کی آیا شمس الدین کی زیارت اویر میں ہے یا خانقاہ ؟ جبکہ اُن کی وفات ایران میں ہوئی تھی)
اخونزادہ نے اقوام چترال (صفحہ 138 ) میں اس بزرگ کا نام شمس الدین سبزواری بتاتے ہیں۔

 

اب اتے ہیں تاریخی حقائق کی طرف۔۔ یاد رہے۔۔ بابا ایوب کے اپنے ولی کے ہمراہ یہاں انے کا زمانہ 1520 بتایا جاتا ہے (اگرچہ یہ تاریخ بھی مصدقہ نہیں لگتا۔ بحرحال زمانہ یہی تھا ) لیکن شمس الدین تبریز اور شمس الدین سبزواری کا زمانہ مندرجہ ذیل تھا۔
(1)۔ شمس الدیں تبریزی جو مولانا رومی کے روحانی استادتھے۔ اُن کا زمانہ 1185 ء تا 1248ء ہے اُن کی قبر کونیہ (ترکی) میں ہے۔ یہی اصلی شمس الدین تبریزی ہیں۔ اور حال ہی میں یونیسکو نے اُن کے مقبرے کو عالمی ثقافتی ورثہ کے لئے نامزد کیا ہے نہ صرف اُن کا زمانہ بہت پہلے کا ہے بلکہ وہ بدخشان وغیرہ کے گردو نواح کے علاقوں کی طرف کبھی ائے ہی نہیں۔

 

(2) شمس الدین سبزواری: آپ کا تعلق غزنی (افغانستان ) سے تھا اور غزنی کے نواح میں ایک قصبہ سبزوار سے تھے۔ اُسی حوالے سے سبزواری کہلاتے تھے۔ اُس کا زمانہ 1165 ء تا 1276 ء تھے۔ آپ اسماعیلی مذہب کے مبلغوں میں سے تھے۔ اُن کی عمر 19 سال کی تھی۔ جبکہ اُن کے والد سید صلاح الدیں اُن کو لے کر 1183ء میں تبلیغ کے لئے بدخشان، بلتستان (تبت کوچک) اور کشمیر لے گئے۔ اور 1190ء میں واپس سبزوار چلے گئے کچھ عرصہ سبزوار میں ہی گزارا۔ اُس کے بعد اُن کے والد کو قتل کیا گیا۔ اور وہ خود بغداد وہاں سے عرصہ بعد ملتان آئے۔ اور وہیں پر 111 سال کی عمر میں 1276 ء میں وفات پائی۔ اور ملتان میں اُن کا مقبرہ موجود ہے۔
شمس الدین سبزواری کا ایک بیٹا اُنہی کے نام سے تھا جن کا مزار الہ آباد (انڈیا) میں ہے۔ اُن کو بھی بعض لوگ شمس الدین تبریزی ہی کہ کر پُکارتے ہیں۔

 

یاد رہے مستند تاریخی حوالے دستیاب ہوں تو وہاں لوک روایات کی حد ختم ہوجاتی ہے، اُن تاریخی حوالوں سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ دونوں بزرگ تقریباً تین سو سال پہلے گذر چکے تھے۔ اور یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اصل شمس تبریزی بھی کوئی اورتھا۔ تاریخ میں وقت کے اُس دھارے میں ایک تیسرے شمس الدین عراقی کا ذکرآتا ہےاُن کو بھی لوگ شمس الدین تبریزی تصور کرتے تھے۔ اُن کا زمانہ 1484 تا 1520 ہے۔ چونکہ اُن کا زمانہ میرزہ ایوب کے زمانے سے مطابقت رکھتا ہے۔ اِس لئے اُس کے بارے میں تاریخی معلومات کی تحقیق کی تو ذیل حقائق سامنے ائے۔

شمس الدین عراقی کا اصلی نام میر سید محمد اصفہانی تھا۔ آپ موسیٰ کاظم رحمتہ اللہ علیہ کی نسل سے تھا۔ اور ساتویں پُشت میں اُن کا سلسلہ اُن تک پہنچتاہے۔ اُن کو کشمیر میں شیعیت کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ آپ کے والد کا نام سید ابراہیم تھا۔ آپ نے ایک روایت کے مطابق میرزا حسین والی خراسان کی ملازمت اختیار کی۔ جس نے 888ھ(بمطابق 1483 ء) میں آپ کو بطور سفیر کشمیر بھجا۔ اور آپ کے ہاتھ کچھ تحائف اور ایک مراسلہ والی کشمیر کو بھیجا۔ آپ کےساتھ کچھ درویش بھی تھے بارہ سال کے بعد آپ دوبارہ تشریف لے گئے اور شاہ قاسم کے اصرار پر دوبارہ 902 ھ (1497 ء) میں کشمیر ائے۔ امرا میں ملک موسی ارینہ نے آپ کی بیعت کی اور آ پ کو ایک علاقے جڑیبل میں جاگیر عطا کی۔ اور میر نے یہاں خانقاہ قائم کی اس ک نام خانقاہ نوربخشیہ رکھا۔ اسکی تعمیر 910 ھ (1504ء) میں مکمل ہوئی۔

 

ایک دوسری روایت کے مطابق پیر شمس الدین خراسان کے تیموری نسل کے حاکم /سلطان حسین بایقرا (875-911ھ) کے سفیر کے طور پر کشمیر گئے۔ وہاں8 سال کے قیام کے بعد واپس خراسان گئے۔
922 ھ (1584ء) میں شاہ قاسم نوربخشی کی درخواست پر دوبارہ کشمیر گئے۔ اور تبلیغ شروع کی۔ اُن کی کوششوں سےاور کشمیر کے وزیر موسیٰ ارینہ کے تعاون سے 24 ہزار ہندو گھرانوں کو ہدایت نصیب ہوئی۔ لداخ کے بعض بدھ مت مذہب کے پیروکاروں نے شیعہ مذہب اختیار کی۔ آپ 932 ھ(1526ء) کو وفات پا گئے۔ اور چاڈرہ بڈگام میں دفن ہوئے۔ اُن کا مزار مرجع خاص وعام بتایا جاتا ہے۔
حوالہ جات ۔ سری رام بخشی۔ Kasmir Valley and its Culture (1997), P. 231, مزید
Wikipedia of Wikishia
مندرجہ بالا بیانیہ سے مندرجہ ذیل نتائج اخذ کرسکتے ہیں۔

 

1۔ موصوف ولی کا نام شمس الدین تھا۔ اس لئے لوگوں نے اُن کو شمس تبریز تصور کیا۔ نہ صرف چترال میں بلکہ اور علاقوں میں یہ اُن ناموں میں سے ہے۔ جن کولوگوں نے شمس تبریز تصور کیا تھا۔ گو کہ یہ اصل شمس تبریز نہیں تھے۔
2۔ اُن کا اپنا مقام بھی کافی اونچا تھا۔ کیونکہ اُن کو تبلیغ کے لئے کشمیر بھیجا گیا تھا اور وھاں انہوں نے دین کی اشاعت میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
3۔ اُن کا راستہ چترال کا راستہ ہی لگتا ہے وہ یہاں سے ہو کر کشمیر گئے ہونگے۔
4۔ وہ خراسان سے تقریباً اُسی زمانے میں آئے تھے۔ جب بابا ایوب اور اُن کے ساتھیوں کے بارے میں روایت کی جاتی ہے۔
5۔ میرشمس الدین کے ساتھ معلوم ہوا کچھ درویش بھی تھے۔ جو بابا ایوب اور اُس کے ساتھی ہی ہوسکتے ہیں ۔
6۔ جسطرح ہمارے مقامی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ بابا ایوب کا پیر کافی عرصہ کیلئے کہیں چلا گیا تھا۔ اور پھر واپس اگیا تھا۔ اسی دوران یہ کشمیر چلا گیا ہوگا۔ اور بارہ سال کے بعد واپس آئے تھے۔
7۔ اس بیانیے سے پتہ چلتا ہے کہ اُن کی قبر کشمیر میں ہے نہ کہ ملتان میں ۔ جیسا کہ زبانی روایت میں آیا ہے۔
8۔ چونکہ اُن کے حوالے سے دی گئی تاریخیں مستند ہیں اِس لئے میرزا ایوب کے حوالے سے تاریخوں کو اس کے متعلق ایدجسٹ کرنا ہوگا۔ اس لئے اِس پر تھوڑی سی عرق ریزی کی ضرورت پڑے گی۔

 

مسئلہ یہ ہے کہ روایات میں بابا ایوب کی چترال آمد کی تاریخ 1520 ء بتائی جاتی ہے۔ جسکا کوی تاریخ سند موجود نہیں۔ لگتا ہے کہ یہ شائداندازہ ہی ہوگا سلطان بایقرا کی حکومت خراسان میں 1506 ء تک ختم ہو چکی تھی۔ اور شیخ شمس الدین کی کشمیر کی طرف بطور سفیر مراجعت 1483 ء یا 1485 ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ بایقراء نے میرزا ایوب کو شیخ کے ہمراہ کشمیر کے بادشاہ کے پاس بطور گڈ ول (good will)بھیجا ہوگا۔ لیکن چترال کے کسی مقام پر پہنچ کر شیخ کو اندازہ ہو ہوگا کہ یہ شہزادہ اُن دشوار گذار علاقوں کے مشکل سفر کا متحمل نہیں ہو سکے گا۔ تو اُنہوں نے اُن کو دوسرے ساتھی (یا ساتھیوں) کے ساتھ یہاں چھوڑ کر جانے میں عافیت تصور کیا ہوگا۔ شیخ موصوف کئی سال کشمیر میں گذار کے جب واپس ائے۔ اور میزا ایوب کے استقلال دیکھ کر خوشی سے اُن کی اولاد کے لئے ایک روشن مستقبل کے لئے دعا دے کر واپس خراسان روانہ ہو جاتے ہیں۔ تو اُن کی دوربین نگاہوں میں خراسان کے مستقبل کے سیاسی حالات کا اندازہ بھی ہوگا۔ اس لیئے میرزہ ایوب کو یہیں چھوڑ کر واپس ہوئے ہیں۔ ( اللہ اعلم)

(باقی ائیندہ)
نوٹ: ضروری نہیں آپ مجھ سے اتفاق کریں۔ بہر حال کوئی بہتر حل آپ اس مسلے کا پیش کریں تو فبہا۔ لیکن شیخ شمس الدین کے حوالے سے جو تاریخیں ہیں۔ وہ تاریخی طور پر تصدیق شدہ ہیں۔ اس لئے اُن میں کوئی ردوبدل کی گنجائش نہیں ۔۔۔۔۔

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
80038

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط10) – پروفیسر اسرار الدین

Posted on

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط10) – پروفیسر اسرار الدین

(موڑکھو کا سلسلہ جاری)
سنگلے:سہرت کے اہم قبیلوں میں سنگالے بھی شامل ہیں یہ ایوبیہ خاندان کی ایک شاخ ہے۔ان کا کچھ تذکرہ کشم کے قریہ کے سلسلے میں ہوا تھا۔جہاں چغتائی خاندان سے ان کے تعلق کا تذکرہ ہوا تھا۔اخوانزادہ کے مطابق یہ قوم سنگین علی ثانی ابن شاہ کٹور اول کی جانب منسوب ہے۔جن کے لڑکے شاہ فرمان علی بیگ،ناصر علی،جہانگیر عنیمت وغیرہ ہیں۔اس طرح شاہ کٹور اول کی اولاد میں محمد غلام اور عبدالغنی کی اولاد بھی سنگلے کہلاتی ہے۔مہترمحمد شفیع کے لڑکوں میں خان بہادر،خان دوران اور سنگین علی ثالث کی اولاد بھی سنگلے کہلاتی ہے(اخوانزادہ،اقوام چترال صفحہ نمبر307)۔

یہ بھی بتایا جاتا ہے۔پہلے کٹورے اور سنگلے سنگلان دور(وریجون) میں آباد تھے۔وہاں سے بعد میں سہرت کے گنبد میں آکر آباد ہوئے۔ اور بعض دوسرے مختلف علاقوں میں پھیلے۔شہزادہ تنویر کے مطابق گنبد گاؤں ایک تاریخٰی مقام ہے۔یہاں چترال کے ایک رئیس مسلم حکمران کے قلعے کے کھنڈرات موجود ہیں۔یہاں پررئیس دور کا ایک تاریخی قبرستان بھی ہے۔اس قبرستان میں کچھ قبریں ایک زمین دوز تہہ خانے میں واقع تھیں۔اب ناپید ہیں (حوالہ کتاب موڑکھو صفحہ46)۔

رضاخیل:رضاخیل کاتعلق شاہی خاندان سے رہا ہے۔ان کی تاریخی پس منظر پرمعلومات سے کتابیں بھری ہیں۔یہاں صرف تاریخی تسلسل برقراررکھنے کی خاطرمختصراًان کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔اس خاندان کے جدامجدباباایوب (جن کا پہلے ذکر ہوچکا ہے)کے دوبیٹے محمد رضا اور شاہ محمد بیگ موڑکھو میں آباد تھے۔محمد بیگ نے اپنے چھ بیٹوں کی مدد سے محمد رضا اور اسکے دو بیٹوں کوقتل کردیا۔اور اس کشمکش میں خود بھی مارا گیا۔قدرت کا کرنا محمد رضا کا ایک بچہ قزل بیگ جوموڑکھوسے باہراپنے رضاعی والد کے گھر میں تھا۔وہ کسی طرح بچ گیا اور جان بچانے کے لئے بدخشان چلاگیا۔جب بڑا ہوا تووہاں سے کمک لے کرچترال پرحملہ آورہوا۔دودفعہ ناکام ہوکے واپس چلا گیا۔تیسری دفعہ حملہ کرتے ہوئے گرفتار ہوا۔اور سنوغرمیں محصور ہوا۔بالاخرمحترم شاہ کٹور (جومحمد بیگ کی اولاد میں سے تھا اور چترال کا حکمران بن بیٹھا تھا)سے صلح کرلی اور اسکی پدری جائیداد مع اضافوں کے ان کوواپس کردیا۔اور ان کوجگہ جگہ آباد کرلیا۔موجودہ رضاخیل اسی قزل بیگ کی اولاد ہیں۔جوملک کے طول وعرض میں وسیع جائیداوں کے مالک ہیں (حوالہ غلام مرتضیٰ صفحہ 49)

قزل بیگ کے چارفرزند ہوئے۔موجودہ رضاخیل ان کے حوالے سے چار گروہ میں تقسیم ہیں۔یعنی محمد صفا،محمدنور،محمددوست اور سکندر اول۔
محمدصفا کی اولاد محمد اعظم،ابوالخیر اور محمد صابر پرمشتمل تھے جن سے ان کی نسل آگے چلی۔محمد نور کی اولاد محمد یونس،طاہر ،شہزاراور دیوانہ شاہ تھے اور محمد دوست کی اولاد میں میر مردان ،روشن علی خان شاہین دان اور اب قلی خان تھے۔سکندر کے بیٹے تیموشی ،منہ اور متولی تھے(بحوالہ غلام مرتضیٰ312تا316)موڑکھو کے رضا خیلوں میں روشن علی خان اور ان کابھائی داڈوک امان الملک محترم کے زمانے میں اپنی شمشیرزنی اور بہادری کی وجہ سے شہرت کے مالک رہے،روشن علی خان کوبالائی تورکہو کی حاکمی کامنصب بھی عطا ہواتھا اور ان کی اولاد میں حاکم

فریدون لال (ریچ) مشہور ہے جن کے فرزند لفٹننٹ شیرعرب نے اسکردو کی لڑائی میں 1948ء شہزادہ مطاع الملک کی سرکردگی میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ہزہائی نس شجاع الملک اور ہزہائی نس محمد ناصر الملک کے دور حکومت میں اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے حاکم فیروز اہم شخصیت رہے جن کے فرزندان مصنف خان،محمد شریف خان اور مشرف خان اہم عہدوں پرسرفراز رہے اور محمد شریف خان نے بریکوٹ (افغانستان) کی جنگ میں اعلےٰ کارکردگی کے باعث MBEکاخطاب انگریزوں سے حاصل کیا(حوالہ غلام مرتضیٰ صفحہ312)۔

روشتے:مقامی روایات کے مطابق یہ یارکند سے کٹورثانی کے زمانے میں چترال آئے تھے۔کٹورثانی نے یارقند کے میر کی بیٹی سے شادی کی تھی۔ان کے ہمراہ ان کا جد امجد اس وقت چترال آیا تھا اور یہاں ان کو پال ماٹی نامی زمین دی گئی تھی۔بعد میں ڈومو خرچوم (گہت) میں بھی ان کو کچھ زمین دی گئی۔شہزدہ تنویر کے مطابق(بہ حوالہ ان کی کتاب موڑکھو صفحات108تا111)ان کے مورث اعلےٰ کانام باپی تھا وہ کشمیردوری میں آبادہوئے تھے بعد میں محترم شاہ کٹور ثانی کے مصاحب بنے اور ان کی جلاوطنی کے زمانے میں چکیاتن(دیر) میں ان کے ہمراہ بھی رہے۔ان کے چھ بیٹے تھے جن کو خیراللہ مہتر کے حکم سے شاہ کٹور کی حمایت کرنے کی بنا پرقتل کرایا گیا تھا۔اس واقعے کے کچھ عرصے کے بعدباپی کے ایک بیٹے کی بیوہ نے ایک بچے کوجنم دیا جس سے ان کی نسل آگے چلی۔ان کی اس قربانی کے صلے میں کٹورے خاندان کے بادشاہوں نے آنے والے زمانوں میں ان کی ہرطرح کی پذیرائی کی اور گذشتہ صدی تک اس قوم سے تعلق رکھنے والے کئی شخصیات اہم عہدوں پرفائز رہے۔جن میں سے نوشیروان،اسقال فتح علی شاہ،اتالیق بہادر شاہ،اتالیق سرفراز شاہ اور اتالیق جعفر علی شاہ خاص طورپرقابل ذکر ہیں۔اس قوم کی ترقی میں بعض لوگوں کی دعاوں کا بھی بڑا اثربتایا جاتا ہے۔بتایا جاتا ہے کہ ان کا مورث اعلےٰ باپی نے ایک اللہ والے کی خدمت کی تھی جس نے دعاکی کہ چھ پشتوں تک انہیں حکمران وقت کے تخت کے قریب بیٹھنا نصیب ہوجائے۔یعنی مصاحب اور وزارت ملے اور ساتویں پشت میں تخت پرچڑھنانصیب ہو۔شہزادہ تنویر کے مطابق اس اجنبی بزرگ کی دعا کے اثر سے یہ قبیلہ اقتدار کے ایوانوں میں اثررسوخ حاصل کرتاگیا۔یعنی چترال کی ریاست میں اسقال،اتالیق،حاکم،مالیہ افسر،گورنر مستوج اور شاہی فوج کے بریگیڈئیر کا عہد ہ اس قبیلے کے افراد حصے میں آیا۔اور آخرکار وہ وقت بھی آیا جب 1970ء میں قومی انتخابات میں اتالیق جعفر علی شاہ نے چترال سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوکے پاکستان کی سطح پرپورے چترال کی نمائندگی کی۔“

دعا کی تاثیر کے سلسلے میں اتالیق سرفراز شاہ مرحوم نے راقم کے والد کو اپناایک واقعہ بتایا تھا کہ ایک دفعہ وہ اعلٰحضرت محمد شجاع الملک کے دور حکومت کے ابتدائی ایام میں شاہی فوج کے ایک چھتے کوکمان کرتے ہوئے زرق برق وردی میں گھوڑے پرسوار کہیں جارہا تھا کہ سڑک کے کنارے ایک نہایت ضعیف شخص کوگھاس کاایک بھاری بوجھ اُٹھائے مشکل حال میں چلتا ہوا دیکھا۔تو مجھے اس پرترس آیا اور میں نے گھوڑے سے اُترکر گھوڑا نوکر کے حوالے کیا اور اس بابا کا بوجھ اپنے اوپر اُٹھایااور اسکے گھرتک پہنچایا اس بابا نے مجھے جودعا دی میں سمجھتاہوں کہ آگے جوترقیات مجھے ملیں اس کی دعاوں کا نتیجہ تھا۔“

اس قوم کی اصلیت کے بارے نئی تاریخ چترال(1963)میں یہ تذکرہ ہے کہ یہ ایران کے رشت سے تعلق رکھتے تھے۔اس لئے ان کانام رشتے پڑگیا ہوگا۔ہوسکتا ہے کہ رشت ایران سے ان کے آباو اجداد سنٹرل ایشیاء سے ہوتے یارقند جاکے آباد ہوئے ہوں۔وہاں سے شاید چترال آئے ہوں اور موڑکھو میں آباد ہوئے ہوں گے یہاں سے دوسرے علاقوں میں وقتاً فوقتاً پھیلتے رہے ہوں ۔یہاں ان کے دومشاہیر کاذکر بے جانہ ہوگا۔

اتالیق سرفراز شاہ : آپ بہادر اتالیق کے فرزند ارجمند تھے۔جو خود بھی امان الملک اور شجاع الملک کے دوران حکمرانی میں اہم حیثیت کے مالک رہے تھے۔ اور مختلف اہم عہدوں پر براجمان رہے تھے ۔ یہاں تک بڑھاپے کی عمر میں جنگ بریکوٹ (1919) میں بھی شریک ہوے تھے۔ اسی جنگ میں ان کا ایک جوان سال بیٹا صوبیدار گل حسین نےبہادری سے دشمن کی گولہ باری کی پرواہ نہ کرتے ہوے آگے بڑھتے ہوےشہادت حاصل کی تھی۔اور سرفراز شاہ نےخود بھی اس جنگ میں دشمن سے برسر پیکار رہ کے بہادری دکھای تھی۔ (غلام مرتضی صفحات 197-198 اور 344-347)۔ اگرشاہی خاندان سے باہر کسی شخصیت کے حالات زندگی کاجائزہ لیاجائے توکسی بھی مورخ کو اس بات سے انکار کی گنجائش نہیں ہوسکتی کہ بیسویں صدی کی پہلی نصف صدی اتالیق سرفراز شاہ کا عہد تھا۔باڈی گارڈ کی صوبیداری سے میجر اور آخری زمانے میں بریگیڈئیر۔سرکار انگریز کی طرف سے جنگ بریکوٹ (افغانستان 1919ء) میں بہترین کارکردگی پرMBEکے خطاب کا حصول،بطور حاکم لٹکوہ ایک اعلےٰ منتظم،سیاسی وملکی اُمور میں زبردست بصیرت چند ایسے صفات ہیں جنکی وجہ سے وہ اپنے زمانے کے مشاہیر میں ممتاز نظرآتے ہیں۔ (حوالہ راقم کی کتاب سر محمد ناصر الملک ص 331).

اتالیق جعفر علی شاہ(بحوالہ کتاب ایضاً صفحہ336): آپ اتالیق سرفراز شاہ کے بڑے فرزند تھے۔اسلامیہ کالج پشاور سے پڑھا اور بعد میں ہزہائی نس محمد ناصرالملک اور ایچ ایچ مظفر الملک کے سیکرٹری مقرر ہوئے۔باڈی گارڈ میں ان کو لفٹننٹ کا منصب بھی دیا گیا۔چترال میں نئی تنظیم کے بعد آپ ایڈوایزری کونسل کے سیکرٹری جنرل مقرر ہوئے1955ء میں جب پہلی مرتبہ چترال کو مغربی پاکستان اسمبلی میں ممبری مل گئی توآپ کو ممبر منتخب کرلیا گیا۔1990میں آپ قومی اسمبلی کے ممبر منتخب ہوگئے۔دونوں حیثیتوں سے آپ نے چترال کی بھرپور نمائندگی کی اور آپ کی دیانتداری،خلوص،قوم پرستی اور قابلیت کے لئے آپ یادرکھے جاتے ہیں اپنی ممبری کے زمانے میں چترال کے لئے راشن کے کوٹے میں تیس ہزارٹن گندم منظورکرانے اور حکومتی خرچ پرچترال پہنچانے نیز پیٹرول کوسرکاری خرچ پرچترال پہنچانے کے سلسلے میں ان کی کامیابی کے ثمرات سے اب تک لوگ بہرہ ور ہورہے ہیں اور آئیندہ بھی ہوتے رہنگے۔اس طرح لواری ٹنل کے بارے حکومتی ایوانوں میں پہلی دفعہ آواز اُٹھانے والا بھی یہی تھے اور اس کے بارے میں باربار مطالبے کرنے کی وجہ سے ان کا نام”لواری ٹنل والا ممبر“ پڑگیا تھا،جسکا نتیجہ آخرکار 30سال کے بعد ٹنل کی تکمیل کے بعد سامنے آگیا۔ پی آئ اے جہاز کی چترال کے لئے سروس بھی آپکی کوششوں کا نتیجہ تھی۔

زوندرے:زوندرے قبیلے کی تاریخ وغیرہ پس منظر کا پر پہلے تذکرہ پیش کیا جاتا رہاہے۔یہاں مقامی طورپر جوروایت سامنے آئی ہے۔اس کا مختصرذکر پیش کیا جاتا ہے۔زوندرے قبیلے کی ایک قدیم شاخ یہاں شیراندور(سہرت) میں آباد ہے۔کہا جاتا ہے اس قبلیے کا پہلا فرد رئیس دور میں یارقند سے ایک پیر بہ اسم اخوند کے ساتھ آیا تھا۔وہ ایک پالتو شیر بھی اپنے ساتھ لے آئے تھے اوریہاں جس جگہ آباد ہوئے اسی مناسبت سے اس کا نام شیران دور پڑگیا۔یہ بات بھی مشہور ہے کہ خاندان جنالی اُنہوں نے اس زمانے میں بنایا تھا۔

اتم بیگے:اتم بیگے یا حاتم بیگے کا پہلے ذکرہوا ہے۔روایت کے مطابق رئیس دور میں یہ لوگ داریل سے آئے تھے۔پہلے استابون(زاینی) آئے وہاں سے یہاں اسکے بعد دوسرے مختلف مقامات میں پھیلے۔

داشمنے: یہ نہ صرف موڑکھو بلکہ تعداد کے لحاظ سے تمام چترال میں اہم قبیلہ ہے۔سہرت کے دیہات گنبد،استاری،جمیلی وغیرہ کے علاوہ نہ صرف موڑکھو بلکہ دوسرے علاقوں کے کئی دیہات میں بھی یہ لوگ پائے جاتے ہیں۔مثلاًجنجریت،چترال خاص،کوغذی،استنبول،برے نس،بگشٹ،اوژور،اویر،موردیر،کوشٹ،کشم،نشکو،سوروہت اور تریچ وغیرہ۔

نئی تاریخ چترال(غلام مرتضیٰ) کے مطابق داشمنے نام دانشمندے کی بگڑی شکل ہے۔ اس قبیلے کا جد امجد جو باب ایوب کے ساتھ آ یا تھا عالم فاضل آدمی تھا اس وجہ سے دانشمند کہلاتا تھے۔ اسکی وجہ سے قبیلے کانام دانشمندے پڑ گیا۔ ۔لیکن مقامی طورپر اس نام کوبگاڑ کے داشمنے بنایا اب بھی کھوار زبان میں عالم کودشمان کہتے ہیں۔اسی مناسبت سے اس قبیلے کانام داشمنے پڑگیا(بر سبیل تذکرہ اس حوالے سے ایک لطیفہ بھی ہے۔ایک دفعہ چترالی ایک داشمان(عالم) اور ایک ہندو برہمن میں جھگڑا ہوگیا۔داشمان نے اسکو کہا جانتے ہو میں داشمان ہوں۔اس نے برجستہ جواب دیا اگر تم دس من ہو تومیں بارہ من ہوں)۔اس قوم کی اصلیت کے بارے اخوانزادہ نے(تاریخ اقوام صفحہ173تا184)کافی تفصیل سے بحث کی ہے۔جس کا خلاصہ ذیل میں دیاجاتا ہے۔دشمنے عارف جلال الدین فریدون کی اولاد ہیں جو مولانا رومی ؒ کاپوتا تھا۔جو تبلیغی مشن میں وسطی ایشیاء سے چترال میں وارد ہوئے اور یہاں کے اسوقت کے حکمران نے ان کو استاری گاوں (سہرت)میں رہنے کو جگہ دی۔وہ عالم فاضل شخصیت تھے۔اور لوگوں کو دینی تعلیم دینا شروع کی۔اور لوگوں میں دانشمند مشہور ہوئے۔

بعد میں یہ نام بگڑ دشمن بن گیا اور اسکی قوم دشمنے کہلائی اس قوم کے افراد تاحال چترال کی تاریخ میں اہم حیثیت کے مالک رہے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ ایک زمانے میں قضاۃ کا منصب بھی اس خاندان کے اصحاب کے پاس رہاتھا۔اور رئیس حکمران کے دور میں بھی ان کے مشاہیر کا تذکرہ آیا ہے۔اور کٹورے دور میں بھی ان کے کئی مشاہیر نے ان کے ساتھ مشکل حالات میں وفاداری نبھائی جسکی وجہ سے اہم مناصب کے حقدا ررہے۔“
نئی تاریخ چترال (صفحہ333-332) میں گذشتہ صدی کےآخیری عشروں میں اس قوم سے تعلق رکھنے والے لفٹننٹ سردار امان شاہ اور ظفر احمد خان کا ذکر یوں ہوا ہے۔لفٹننٹ سردار امان شاہ بن حضرت جی(جی صوبیدار) نے سکردو کے محاذ پراپنی اعلےٰ کارکردگی کی وجہ سے فوج کے کمانڈر شہزادہ محمد مطاع الملک سے سند حسن کارکردگی حاصل کی تھی۔اور اس وقت ان کو لفٹننٹ کا عہدہ بھی تفویض کیا گیا تھا۔

ظفر احمد خان بن حاجی اقبال خان چترال مسلم لیگ کے اولین قائدین میں شامل تھااور پارٹی کاجنرل سیکرٹری مقرر ہوا تھا۔اور اس پارٹی کی اعلےٰ تنظیم میں اعلےٰ کارکردگی کامظاہرہ کیا۔مزید چترال کے لوگوں میں آزادی کا شعور پیدا کرنے کے سلسلے میں اہم کردار کیا تھا۔1958ء میں ریاست کی نئی تنظیم میں مشاورتی کونسل کا موڑکھوحلقے سے رکن منتخب ہوئے۔بعد میں ضلع مستوج کے ڈپٹی کمشنر اور مالیات سیکرٹری وغیرہ عہدوں پررہے اورآخری ایام میں گلگت میں ٹریڈ کمشنر رہے۔ایک لائق اور دیانتدار افیسر کی حیثیت سے تادیر یاد رکھے جاتے رہے ہیں۔راقم کوان کے سکول کا ایک واقعہ یوں بتایا گیا تھا۔۔”وہ چترال سکول کے اولین طلبہ میں سے تھے۔ایک دفعہ سکول کی سالانہ تقریب میں جس میں ہزہائی نس محمد ناصرالملک موجود تھے۔اس نے تقریرکی جسے بہت سراہا گیا۔ہزہائی نس کے مصاحب میں سے کسی نے طنزاًکہا کہ ہمیں توقع نہیں تھی کہ کھدرپوش کا لڑکا اتنی اچھی تقریر کرے گا“۔ہزہائی نس بہت ناراض ہوئے اور کہا تمہیں کیا پتہ کل جاکے یہ کھدر پوش کا لڑکا کتنا بڑا آدمی ہوگا۔(بحوالہ راقم کی کتاب ناصرالملک صفحہ 348)۔

صوفی صاحب سنگور: ان کا اسم گرامی میرزا محمد تھا۔آپ کا تعلق دشمنے قوم سے تھا۔ان کے آباواجداد موڑکھو سے سنگور جاکے آباد ہوئے تھے۔اُنہوں نے پشاور سے تحصیل علم کیا۔اور حج بیت اللہ کی سعادت اور روضہ پاک ﷺ کی زیارت سے بھی شرفیاب ہوئے۔بتایا جاتا ہے کہ ان کازیادہ ترسفر پیدل تھا واپسی پرہندوستان کا ان کا سفر بھی پیدل تھا۔اس دوران بادشاہ صاحب لغمان کے سلک ارادت سے وابستہ ہوئے۔زہد تقویٰ توان کی طبیعت میں بچپن سے ہی تھا۔اب اس میں مزید ترقی ہوئی۔اعلیٰحضرت شجاع الملک ان سے بڑی عقیدت رکھتے تھے۔آپ نے1926ء میں وفات پائی۔ان کا مرقد سنگور میں واقع ہے اور مرجع خاص وعام ہے(حوالہ غلام مرتضیٰ۔صفحات 405-406).

مندرجہ بالا کے علاوہ سہرت میں خوشے بھی آباد ہیں جو تورکھو سے یہاں آئے اور بہریئے اور کشمے نہایت قدیم باشندے ہیں جوکسی زمانے میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔
5۔قریہ زائینی: زائینی موڑکھو کے قدیمی دیہات میں سے ایک ہے۔یہاں قدیم زمانے کے چنار موجود ہیں جویہاں کی قدامت کے ثبوت ہیں۔یہا ں کے دوقبیلے شان ٹوٹے اور تاواڑے روایت کے مطابق رئیس دور سے یہاں آباد ہیں۔یہ پہاڑوں کے درمیان طاس کی مانند ایک خوبصورت قریہ ہے چشموں سے سیراب ہوتا ہے۔نہایت زرخیز ہے لیکن پانی کی کمی کا شکار ہے۔اس میں ذیلی دیہات زائینی نوغور،پشال دور،سرماری،کوٹھالان دور،شکاران دور اوراستابون پرمشتمل ہیں۔یہاں کے اہم قبیلے کٹورے،سنگالے،رضا خیل،وزیربیگے،تاواڑے،دربہ اولے اور شان ٹوٹے وغیرہ ہیں۔
دربہ اولے قدیمی قبیلہ لگتا ہے۔باقی قبیلوں کادوسری جگہوں میں ذکر ہوچکا ہے۔

6۔گہت: دراسن نوغور کے قریب پہاڑی کے ڈھلوان پرگہت کا قریہ آباد ہیں۔اسکے ذیلی دیہات کے نام یہ ہیں۔مہتری ڈوک،بھیلی،گہت توری،گہت موڑی،دودو ، مارینی اور ڈوک ژیلی ۔ یہاں سے تریچ آن کے ذریعے تریچ کو پگڈنڈی بھی جاتی ہے۔جو12820فٹ اونچائی سے ہوکے وریمون(تریچ) میں نکلتی ہے۔یہاں بسنے والے قبیلوں میں حاتم بیگے،روشتے،سنگالے،بیگالے شغنے،رونو اور زون وغیرہ شامل ہیں۔زون قبیلے کے بارے میں زوندران گرام(تریچ) میں کچھ تذکرہ ہوا تھا۔یہاں شاہ حسین گہتو(اوراق گلگت،چترال صفحہ184تا187) کے حوالے ذیل اضافہ پیش کیا جاتا ہے۔جیسا پہلے ذکر ہوا تھا۔اس قبیلے کے مورث اعلےٰ زون کے بیٹے ظاہربیگ اور اسکے بیٹے کا نام شاموش تھا۔جس کے تین بیٹے علی مالک،شاہ ولی اور قحتہ عاشور تھے۔علی مالک اور شاہ ولی زوندران گرام میں ہی مقیم رہے۔قحتہ عاشور گہت(وریجون) کے اپنے قبیلے کے ایک سردار شنگ رائے کے خاندان میں شادی کرکے خانہ داماد بنا۔چونکہ ان کے سسر کاکوئی نرینہ اولاد نہیں تھا۔اسلئے وہ اپنے سسرکے جائیداد کا وارث بنا۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی مشاہیر حال تک کٹور حکمرانوں کے درباروں میں اہم حیثیت کے مالک رہے۔عہد قدیم میں اس قبیلے سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت شنگ رائے اہم حیثیت کامالک رہاتھا۔موڑکھو اور زون دران گرام میں سینکڑوں چکورم ارضیات کامالک بھی تھا۔راویوں کے مطابق یہ صاحب قلعہ شخص تھاترکوں /رئیسوں کے دور میں یہ خاندان زیرعتاب آیا۔گہتوی کے مطابق ترکوں کے حملوں (1540-1640)یعنی ایک سوسالوں کے دوران یارقندیوں نے چترال پرجو حملے کئے تھے ان حملوں کی زد میں زون قبیلے کاسردار شنگ رائے اوران کا خاندان بھی آیا تھا۔اس وقت شنگ رائے کے بیٹوں کوقتل کرایاگیا تھا۔اور اس بوڑھے سردار کی جان بخشی کی گئی تھی۔اس واقعے کاذکر پیٹر پارکس نے بھی کیا ہے اور لکھتا ہے۔”چترال کے طول وعرض میں کالاش اور کھو سرداروں کوچینی ترکستان کے یارقند یوں نے قتل کردئیے تھے۔چترال کے نئے مسلمان ترکستانی حکمرانوں نے قدیم چترالی حکمرانوں پر ٹیکس بھی لگائے تھے۔

جان بڈلف نے بھی اس واقعے کا ذکر یوں کیا ہے”راجہ شری بدت کے حکومت کے احتتام پرآذر کے خاندان کی حکومت گلگت اور چترال پرقایم ہوئی تھی۔اس کی حکومت کے دور میں عبداللہ خان ازبک کی وفات(1598) کے بعد ترکوں نے چترال پرقبضہ کرلیا تھا۔اس مذکورہ ترک سردار کی عورت کے ساتھ بڈلف کے بیان کے مطابق زیادتی کا واقعہ پیش آیا تھا۔جس کے نتیجے میں ترکوں نے قتل عام کا حکم دیا تھا۔“مقامی روایات کے مطابق ترک عورت مورد الزام ٹھہری تھی۔وہ اس طرح کہ اس زمانے میں ایک دفعہ علاقہ کھو کا ترک/رئیس حکمران اپنے مستورات کے ہمراہ سیروتفریح کے لئے علاقہ تریچ کے زوندران گرام آئے۔اس وقت شنگ رائے اپنے بیٹوں کے ساتھ زوندران گرام میں مقیم تھا۔ان کے بیٹوں میں سے ایک بہت حسین تھا اور ترک شہزادی کادل اس پر آگیا۔اور اس سے اپنی مطلب براری کی کوشش کی۔اسکے انکار پرشہزادی نے الٹا اسکو الزام دیا کہ وہ مجھ سے زیادتی کرنا چاہتا تھا۔اس پرترکوں نے ان کے سب بیٹوں کوقتل کرکے رکھدیا۔“

اس کے بعد شنگ رائے واپس گہت اپنے جائیداد پرچلاگیا جہاں انہوں نے غیرآباد زمینات کو نہرروغونڈوک کی تعمیر کرکے سیراب کردیا۔جسکی طوالت 5میل ہے۔شنگ رائے کی نوآبادی ورثے میں زونے کو ملی۔جسکا نصف حصہ کٹوردور میں روشتے قبیلے کو منتقل ہوئی۔دونوں قبیلے تاحال اس جائیداد پرآباد ہیں۔
7۔کوشٹ:دریائے تورکھو اور دریائے مستوج کے سنگم پردریائے تورکھو کے مغربی کنارے پرتریچ آن کے ڈھلوان پر6400فٹ اور تقریباً8ہزار فٹ کی بلند یہ موڑکھو کا اہم قریہ آباد ہے۔بدھ مت کے زمانے کے آثار اور دوسرے آثار قدیمہ کی وجہ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تمام چترال کے نہایت قدیمی دیہات میں سے ہے۔بعض نشانیاں کلاش دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ مثلاً بشالینی مقام۔ پرانے زمانے میں یہاں سے کسی حملہ آور لشکر کے گزرنے کا وقعہ کا بھی ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں بت نام کا ایک مقام بھی تھا جہاں پرانے زمانے میں بت نصب ہوگا۔

اس قریہ کے پیچھے کوشٹ زوم کی چوٹی ہے جو 4731میٹر(15518)فٹ بلند ہے۔اس چوٹی کے نواح سے کوشٹ گول (ندی) نکلتا ہے۔جواس قریے کو سیراب کرتا ہے اور اس کے درمیان میں بہتا ہے اور قریہ کو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔یہ ندی گرمیوں کے مہینو ں میں بالائی حصے میں برف کے پگھلنے سے اور باقی مہینوں میں چشموں سے سیراب ہوتا ہے۔چشموں کی تعداد آٹھ ہے جن میں سے چھ کے نام لئے اوچھوغ،چھیر اوچھوغ،دیرشالوغ،غال وختوغ،غوچھاروغ،میرغیزوغ وغیرہ ہیں۔یہ چشمے ندی کے مختلف حصوں میں نکلتے ہیں۔اندازہ لگایا جاتا ہے کہ ان چشموں کا منبع ایک گلیشیائی جھیل ہے جوکوشٹ کے پیچھے پہاڑ کی اگلی طرف واقع ہے۔گرمیوں میں برف پگھلنے کے دوران ندی میں کافی پانی ہوتا ہے۔باقی مہینوں میں چشموں کاپانی یہاں کی ضروریات کے لئے ناکافی رہتا ہے۔چنانچہ اس مسئلے کوحل کرنے لئے مصنوعی گلیشئر لگانے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اور حال کے زمانے میں حکومت کی مد د سے پہاڑ کے اوپر سے تریچ وادی سے نہر لانے کی سکیم زیرعمل ہے۔

جغرافیائی طورپرکوشٹ کوبالائی کوشٹ اور زیریں کوشٹ میں تقسیم کرتے ہیں۔جن میں مندرجہ ذیل دیہات آباد ہیں۔
بالائی کوشٹ:جماران دہ،دراسن،غاری گرام۔
زیرین کوشٹ: اوناردیر،سندراغ،ڑوماڑی،نوروڑی،موڑکوشٹ،تورگمبار،بوت،لشٹ اور موڑی سندراغ کوشٹ میں مندرجہ ذیل قبیلے قیام پذیر ہیں۔رضاخیل،طرقولے،نعمت اللہ،بدالے،محمد بیگے،شاہ نوے،زرگرے،رئیسے،جمارے،
کوراکے،راماسارے،گوشاکے،طہرے،اوکیلے،مگاسرے،ڈوقے۔
کوشٹ قریے کا ابپاشی کا نظام کافی دلچسپ ہے۔اسلئے قبائل کے تذکرے سے پہلے یہاں کے اب پاشی نظام کا مختصر جایزہ لیا جاےگا۔ ۔۔(باقی آیندہ)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
79227

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط -9) – پروفیسر اسرارالدین

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط -9) – پروفیسر اسرارالدین

موڑ کھو میں درِییانو  (Mass Movement) کا مسئلہ:۔

موڑکھو  علاقے کی ایک خصوصیت درییانو یا ماس موومنٹ کا مسئلہ ہے۔ یہ مسئلہ یہاں کے کئی جگہوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن کشم میں اِسکی صورتحال شیدید ترین ہے۔ بعض صورتوں میں اس کو لینڈ سلائڈینگ بھی کہا جاتا ہے۔

درییانو یا ماس موومنٹ کا اردو ترجمہ متحرک زمینی مواد کرسکتے ہیں۔ یہ کیوں ہوتا ہے؟ اِس کے کتنے اقسام ہیں؟ اور اِس کے اثرات کیا ہوتے یہ ایک لمبی بحث ہے۔ یہاں طوالت سے بچنے کے لئے اِس مسئلے کے صرف ضروری نُکات کی طرف اِشارہ کیا جاتا ہے۔

ماس موومنٹ کی تعریف یوں ہے، زمین کی کشش ثقل کی وجہ سے چٹانیں اور دوسری مواد متحرک ہو کے پہاڑ کے ڈھلوان کے ساتھ نیچے کی طرف منتقل ہوجاتے ہیں۔ جسے ماس موومنٹ کہا جاتا ہے۔۔ اور کہوار میں اُسے درییانو کہا جاتا ہے۔ عام طور پریہ مسئلہ ایسے علاقوں میں وقوع پذیر ہو جاتا ہے جہاں کی زمین کی ساخت غیر مستحکم (Unconsolidated) ہو۔ اور ڈھلوان زمین پر واقع ہو۔ اور کشش ثقل کی وجہ سے پہاڑ کی ڈھلوان کے ساتھ نیچے کی طرف متحرک یا منتقل ہونے کا باعث ہو۔اس طرح غیر مستحکم زمین

 

کی منتقلی کو مہمیز لگانے کے لئے بارش کی زیادتی، نباتات کی کمی، قدرتی طور پر جذب شدہ پانی کی مقدار میں زیادتی، زلزلوں کی آمد وغیرہ اسباب اہم کردار کرتے ہیں۔ اِن کے علاوہ ارضیاتی اصطلاح میں فالٹ لائین (Fault Line) پر یا اُس کے نواح میں کوئی علاقہ واقع ہو۔ تو وہاں بھی یہ عمل واقع ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔  ڈاکٹر ظہیر احمد کے مطابق موڑکھو اور کشم کے علاقے میں ماس موومنٹ کی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔

1. موڑکھو کا علاقہ تریچ میر فالٹ لائن کے نواح میں ہے۔
2. ارضیاتی طور پر کشم کی سرزمین کی ساخت غیر مستحکم  ہے۔ اِس کی وجہ سے یہاں پر یہ مسئلہ خاص طور پر شدید تر ہے۔
3. چمور مال پہاڑ کی چوٹی کا اِس نواح میں واقع ہونا:۔ کہتے ہیں کہ یہ پہاڑ مختلف معدنیات مثلاً انٹی منی وغیر ہ سے پُر ہے۔ شاید اِسوجہ سے بھی اِ س زمین کی ساخت غیر مستحکم ہو۔
4. کہتے ہیں کہاِس زمین کے اندر  پانی کی مقدار خاصی زیادہ ہے جو تریچ آن سے جذب ہوکر نیچے آتا ہے۔ اس  سے اِس زمین کی ساخت غیر مستحکم ہے۔
5. کالی مٹی  (Black Soil): کشم کی مٹی کالی مٹی پر مشتمل ہے۔ اِس قسم کی مٹی کے اندرپانی جذب کرنے کی خاص خصوصیت ہوتی ہے۔ جو ماس موومنٹ کا سبب بن جاتا ہے۔

 

کشم میں قدیمی آثار:۔

شاہ حسین گہتلوی نے اپنی کتاب ’’اوراقِ گلگت و چترال‘‘ میں (صفحہ نمبر 4،3) میں قلعہ خراسان (قوراسان) علاقہ ہن دروئی (Hundroi) کا ذکر کیا ہے۔ لکھتے ہیں یہ قلعہ کشم اور زیزدی کے درمیاں ایک پہاڑی ہن دروئی کے مقام پر واقع ہے۔ اِس قلعے کے مکین مقامی روایت کے مطابق لنڈا ہور تاجدار نامی ایک کافر سردار تھا۔ جو بکریوں کے بالوں سے بنا لباس استعمال کیا کرتا تھا۔ کیونکہ اُس وقت اِس علاقے میں سوتی کپڑے نایاب تھے۔ قلعہ خُراسان کے نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ قلعہ کسی خُراسانی سردار کا تعمیر کردہ تھا جس نے اپنے اصلی وطن کے نام سے اپنے قلعے کا نام رکھا تھا۔

 

 

کشم کے قبائل:

بوشے: اِس قریے کا بڑا اور اہم قبیلہ بوشے ہے، کشم میں مقیم کئی دوسرے قبیلے مثلاً مانایئے، بیگانے، ڈولے (گاچھتریک) وغیرہ بھی اِسی قبیلے کی شاخیں بتائی جاتی ہیں۔

بوشے کشم باکے کی اولاد بتائی جاتی ہے جو ایک اندازے کے مطابق چودھویں صدی میں یہاں آکے آباد ہوا تھا (ڈاکٹر فیضی)      روایات کے مطابق اِس قوم کے اباو اجداد کا تعلق اصلیت میں چلاس سے بتا یا جاتا ہے پہلے وہاں سے یہ لوگ لاسپور بعد میں یہاں آکے آباد ہوئے تھے۔۔ یہ بھی بتا یا جاتا ہے کہ دراصل (بمطابق محمد ولی اور نورزمان) یہ لوگ عرب نژاد تھے کسی زمانے میں امیر خُسرو کے ہمراہ شمال مغربی برصغیرآئے تھے اور مانسہرہ میں آباد ہوئے تھے۔

اُن کے اولین جد امجد کا نام لنداہور (بمطابق محمد ولی سابق کلکٹر) بتا یا جاتا ہے۔ وہاں سے چلاس آئے تھے۔
پروفیسر کارل یتمار اور بڈلف کے مطابق وادی سندھ، کوھستان اور کشمیر میں اکثر لوگ اپنے آپ کو قریشی الاصل یا عرب بتاتے ہیں۔ لیکن کسی کے پاس ٹھوس ثبوت نہیں۔ (بڈلف صفحہ 35)

حقیقت کچھ بھی ہواپنی حیثیت سے اُ ن لوگوں نے فائدہ ضرور اُٹھایاہو گا۔ اس وقت چیلاس کے آس پاس بدھ مت کا پیرو بادشاہ حکومت کرتا تھا (بمطابق ڈاکٹر فیضی)۔لا ولد مرا۔ لندا ہور کے بیٹے بوٹ شاہ اور شاہ بوڈک جو اُس وقت یہاں آباد تھے۔ اُنہوں نے ملکی افراتفری سے فائدہ اُٹھا کر حکومت پر قبضہ کرلیا۔ بوٹ بادشاہ بنا۔ لیکن اپنے بھائی اور اُس کے بیٹوں کے ساتھ بُرا سلوک کرنے لگے۔

اُس سے تنگ آکر شاہ بوڈک کو اپنے دونوں بیٹوں چھوک مچھوک (باچاق ماچاق) اور خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ چلاس سے کُوچ کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔ چھوک عشریت میں جا کے بسا۔۔ اور اُس کی اولاد میں ایک فرد گُل سنگ کے نام سے مشہور ہوا۔ جس کی وجہ سے یہ لوگ گُل سنگے کہلاتے ہیں۔ اُن کا ذکرعشریت کے تذکرے میں کیا جائے گا۔

مچھوک یا ماہ چاق سور لاسپور جاکے آباد ہوا۔ ڈاکٹر فیضی کے مطابق اُن وادیوں میں اِن لوگوں کی آمد چودھویں صدی کا وسط اور ریئس حکمرانوں کا دور تھا۔ حال ہی میں عبد الرزاق (گلگتی) نے اپنی کتاب ’’دردستان کا ایک قدیم نامور قبیلہ‘‘ میں اِن لوگوں کی منتقلی کا زمانہ گیارھویں صدی کا وسط بتا یا ہے  (صفحہ 296)۔

بحرحال مچھوک یا ماہ چاق کے دو بیٹے تھے۔ جن کے نام شاہ باق (شاہ عبدالقادر) المعروف کشم با کے اور بوڈک تھے۔ بوڈک کی اولاد سورلاسپور میں آباد ہوئی۔ اور بوژوکے کہلائی۔ (اُن کا پہلے ذکر ہو چکا ہے)

کشم با کے کی اولاد بوٹ شاہ (بوشا) اور مردسنگ (یاموسنگ) شاخوں پر مشتمل ہے۔ اور کشم میں آباد ہوئی۔

بوٹ شاہ (بوشا، المعروف شاموش) کے پسماندگان کی اکثریت کشم میں  بشاندور (دستون)، اتروپی، گرام ژوئی، سوراغ، کھونیزاور ہوشی میں آباد ہیں۔  اِن میں سے کچھ مستوج، چترال اور اِسکے نواح اور اویون وغیرہ میں بھی پھیلے ہوئے ہیں، اِس شاخ کو خصوصی شہرت اُنیسویں اور بیسویں صدی میں اُس وقت ملی، جب اُس سے تعلق رکھنے والی ایک شخصیت قربان محمدکو اُس وقت کے حکمران سر محمد شجاع الملک کے بڑے بیٹے محمد ناصر الملک کی رضاعت اور تربیت کا اہم فریضہ انجام دینے کا موقع ملا۔ جو آگے چل کر چترال کے ہونہار ترین اور بیدار مغز حکمرانوں میں شمار ہوا۔
مرد سنگ کی اولاد کی اکثریت کشم میں گاچھتر، گوم اور چھرانی میں آباد ہے۔ گاچھتر میں رہنے والیخیراللہ کی اولادمیں سے ہیں۔اور مرد سنگے (موسنگے) کہلاتے ہیں۔ جبکہ سیف اللہ کی اولاد گوم اور چھرانی میں آباد ہیں۔۔ اور سیف اللہ کے بیٹے ببگان کی نسبت سے اپنے آپ کو بیگانے کہتے ہیں۔ بیگانے قبیلے کے لوگ چترال میں کافی جگہ پھیلے ہوئے ہیں۔ مثلاً یارخون، لوٹکوہ، دروش، بروز، کوغوزی اور چترال خاص وغیرہ۔

روایت کے مطابق بیگانے شاخ کے جد امجد سیف اللہ اپنے زمانے میں اپنی بہادری، شمشیرزنی اور شہسواری کیلئے بہت مشہور تھے اُس نے کٹور دور کے شروع میں موڑکھو، تورکھو اور برینس میں اہم قلعے فتح کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ جس کی وجہ سے شاہ محترم اول کے منظور نظر ٹھہرے تھے۔
سیف اللہ کا ایک بیٹازیرک نے بھی چقانسرائے کے قلعے فتح کرنے کے سلسلے میں خصوصی ناموری حاصل کی تھی کشم گول نام کا ایک چراگاہ  رینی گاڑو اپر لاسپور میں واقع ہے۔ جس سے اِس قو م کی وہاں سکونت کا ثبوت ملتا ہے۔ پُرانے زمانے میں ان کے مشاہیرمیں سے ایک خیراللہ کا پتہ چلتا ہے جو مہتر خیراللہ کا ہم عصر تھا۔ اور بہادری میں مشہور تھا  اُس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ۔’’شور خیرُالان سورا ای خیراللہ‘‘۔۔ ایک دفعہ ایک مقامی بادشاہ نے اُن کو غزر کے چُڑیلوں (گورواوں) کی سرکوبی کرنے بھیجا تھا، جب یہ اپنی لشکر کو لے کر وہاں پہنچا تو چُڑیلوں نے ایک چال کے طور پر اُن کو اپنا دودھ پینے کا کہا۔ اُنہوں نے جواب دیا کہ ’’اِسپہ خیر اللہو بول، پسہ نو مری پسہ چھیرو پسیانہ‘‘، (ہم خیر اللہ کے لشکر والے ہیں بجائے تمہیں ختم کریں تمہارا دودھ کیوں پیئں۔ (بحوالہ محمد ولی، ہیڈ ماسٹر گل یوسف، ہیڈ ماسٹر عبدالمجید، ژان خان، حاجی عبداللہ، محترم خان، دل محمد وغیرہ)

حاتم بیگے (یا اتم بیگے): یہ قبیلہ کشم کے بورچون گاوٗں میں آباد ہیں۔ نئی تاریخ چترال (از غلم مرتضیٰ صفحہ 323) کے مطابق یہ قوم حاتم بیگ اؤل ابن گُرگ علی کی جانب منسوب ہے۔ رئیس حکمرانوں کے عہد سے معزز چلا آرہا ہے گُرگ علی رئیس عہد میں اتالیق کا منصب رکھتا تھا۔ شاہ کٹور آؤل نے جب مہم ملک گیری کا آغاز کیا اُس نے سب سے پہلے گُرگ علی اتالیق کو جو خاندانِ ریئسہ کا وفادار تھا اراروغ (موڑکھو) کے مقام پر قتل کرایا۔۔ او اُس کے لڑکے حاتم بیگ کو دلاسا دے کراپنے ساتھ ملا یا اور اپنی بہن کی شادی اُس کے ساتھ کردی۔ جن کی اولاد سے محمد شکور اور سلطان شاہ نامور لوگ گذرے ہیں۔

اخوانزادہ کے مطابق (اقوام چترال صفحہ 297) ’’اِس قوم کے جد اعلیٰ گلگت کے علاقہ داریل سے ہجرت کرکے چترال آیا۔ اور موڑکھو میں اقامت اختیار کرلی۔ اُس کا ایک بیٹا ہاشم کشم، دوسرا لڑکااویون اور تیسرا لاسپور میں آباد ہوا‘‘۔

نورزمان (مشہور شجرہ خوان) کے مطابق یہ قبیلہ اُس زمانے میں چترال آیا تھا جب کشم باکے کے آباواجداد چلاس سے آئے تھے یعنی ریئس کے دور میں۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ اپنے علاقے کے معزز افراد تھے اس لئے ریئس بادشاہ کے دربار میں شروع سے ہی اہم حیثیت کے حقدار رہے۔ اِس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی افراد آنے والے زمانوں میں معزز حیثیت کے مالک  رہے۔ جن میں اتالیق محمد شکور خاص طور پر ممتاز رہیں۔

 

اتالیق محمد شکور غریب:

بتایا جاتا ہے (راوی گُل نواز خاؔکی) محمد شکور سنگین علی بادشاہ کے دربار میں اتالیق (یعنی وزیر اعظم)کے منصب پر قائم رہے۔ وہ ہندوستان کے سفر کے دوران سنگین علی کے ہم رکاب رہے یہ اُس زمانے کی بات ہے جب چترال پر کٹور خاندان کے تسلط کے ابتدائی دور میں کچھ عرصے کے لئے اُن سے حکومت چھیں لی گئی تھی۔ چنانچہ سنگین علی اپنے چند معاحبوں  کے ہمراہ (جن میں محمد شکور بھی تھے) ہندوستان چلا گیا۔  اور شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کی خدمت میں حاضر ہوکراُن سے اپنی حکومت دوبارہ حاصل کرنے کے سلسلے میں مدد مانگی۔ اور اُن کی مدد سے دوبارہ چترال پر قبضہ کرنے اور کٹور خاندان کی حکومت  کو مستحکم کرنے میں کامیاب ہوا۔

تاریخ چترال سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے (ص 323) کہ محمد شکور صاحب سیف و قلم بھی تھے۔ اُن کے سلک ازدواج میں سنگین علی کی دو بیٹیاں بادشاہ بیگم اور نزاکت بیگم یکے بعد دیگرے آئی تھیں۔ البتہ روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اُ ن کی ازدواجی زندگی میں ذہنی ہم اہنگی کا فقدان رہا، پہلی بیوئ ذہنی طور پر کمزور تھی اس لئے اُس کے ساتھ نباہ ایک مشکل معاملہ تھا۔ دوسری بیوئ اگرچہ تیز طرارتھی، لیکن اپنے خاندان کی برتری کے گھمنڈ میں محمد شکور کو پرکاہ کے برابر بھی سمجھنے کو تیار نہ تھی۔ چنانچہ زندگی بھر غاؔلب کی طرح محمد شکور بھی ازدواجی طور پر محرومیت اور پریشانی کا شکار رہے، ممکن ہے اُن کے کئی اشعار اِسی محرومیت کا  پرتو ہوں۔

شہزادہ تنویر نے اُن کے اخری لمحات کا اِس طرح نقشہ کھینچا ہے ’’جب میدانِ جنگ سے اُنہیں زخمی اور قریب المرگ حالت میں گھر پہنچایا۔ تو بیوئ اُنہیں اِس حال میں دیکھ کر اُن کے سرہانے بیٹھ کر شدتِ غم سے رونے لگی۔ محمد شکور غریب نے انکھیں کھول کر بیوئ  کو روتے اور آہ وزری کرتے ہوئے دیکھا تو اُن سے مخاطب کرتے ہوئے شکوہ کنان ہو کر فی البدیہہ یہ فارسی اشعار کہہ دیا
رُفیقا! در زندگانی قدرِ ما نہ شُناختی.

بعد مردن در پائے تابوت نالیدن چہ سود
(موڑکھو صفحہ 174)

چترال کے حکمرانوں میں  اتالیق یا وزیر اعظم بہت گذر چُکے ہیں لیکن محمد شکور غریب سب سے ممتاز اس لئے ہیں کہ وہ چترال کے ایک قدیم ترین عظیم فارسی شاعرا ور کھوار زبان کے پہلے ادیب شمار ہوتے ہیں۔ اُن کا دیوان ’’گنجینہء غریب‘‘ یا ’’دیوانِ غریب‘‘ اُن کو ہمیشہ کے لئے  ادب کی دنیا میں زندہ رکھے گا۔  اُن کی شاعری کے بار ے میں نئی تاریخ چترال (از غلام مرتضیٰ صفحہ 410) کے مصنف یوں رقم طراز ہیں۔ محمد شکور غریب شعرو شاعری میں بڑا بلند  مرتبہ رکھتا تھا۔ اُس کی مثنویاں رموزواسلوب کی کلید اور یقین کی دلاویز شاخیں تھیں۔ اُس کی غزلیں بڑی ہی دلکش اور رنگین ہیں۔
راقم (اسرار)کے نزدیک محمد شکور غریب کی شاعری کا ایک پہلو جس سے خاص طور پر  انسان متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا وہ یہ ہے کہ اگرچہ وہ زندگی بھر حکومت کے اہم عہدوں پر فائز رہا اور بادشاہ  کا نزدیکی مصاحب رہا اور علاقے کے اشراف (Elite)میں ہمیشہ اُن کا شمار رہا۔ لیکن پھر بھی اُن کے اشعار میں دنیا سے بے زاری، جاہ حشمت سے نفرت اور تنہا پسندی ٹپکتی رہتی ہے، اُن کے افکار زیادہ تر دنیا کی بے ثبائی، لوگوں کی بے وفائی، خود عرضی اور اُن کی دنیا پرستی جیسے موضوعات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔ البت اُن کا اندازِ بیان نہایت دلندیز اور اظہارِخیال کا اُسلوب نہایت ہی دلنشین اور بے حد دلچسپ ہے۔

اُن کی حاضر جوابی اور بُذلہ سنجی کے بھی قصّے مشہور ہیں۔  بتایا جاتا ہے کہ جب وہ بادشاہ کے ساتھ دہلی گیا تھا۔ تو وہاں ایک دن اورنگزیب بادشاہ کے دربار میں کسی درباری نے مزاحیہ انداز میں یہ بتایا کہ میں نے ایک عجیب تماشہ دیکھا  کہ مچھلی درخت پر چڑھا ہوا تھا۔ محمد شکور نے فوراً جواب دیا۔ کہ چھان (غربال) میں پانی بھر کر درخت کے نیچے جاتے تو مچھلی اُس میں آسکتا تھا۔

اسی طرح ایک دفعہ وہ  بادشاہ کے سفیر کی حیثیت سے امیرِ بدخشان کے ہاں مہمان تھا امیر نے کھانے میں شولہ (کھچڑی قسم کا ایک ڈِش جس میں گوشت ڈالتے ہیں) پیش کیا۔ محمد شکور کو امیر کایہ رویہ پسند نہ آیا۔ بحر حال کھانے کے دوران وہ ناگواری کے انداز میں ہڈی چبا رہا تھا۔ امیر نے کہا آپ ہڈی خود چبا رہے ہو کُتے کو کیا کھلاتے ہو شکور نے فورا ً جواب دیا کہ ہم کُتے کو شولہ کھلاتے ہیں۔

سنگالے: یہ لوگ کٹور دور میں کشم آکر آباد ہوئے اور چترال کے دوسرے حصّوں میں بھی جگہ جگہ آباد ہیں تاریخ چترال (غلام مرتضٰی صفحہ 300) کے مطابق یہ قوم مہتر سنگین علی ثانی ابن شاہ کٹور اول کیجانب منسوب ہے۔ اِ س قوم کی تاریخ کا مختصر خاکہ آگے بیان ہوگا۔ یہاں مختصراً یہ بیان کرنا مقصّود ہے کہ یہ قوم اپنا تعلق چغتائی خان سے جوڑتی ہے تاریخ کے مطابق چغتائی مغل چغتائی خان (جو چنگیز خان کا دوسرا بیٹا تھا) کی اولاد ہیں۔ جس نے وسطی ایشیاء میں چغتائی خانات کی بنیاد رکھی تھی۔ وہاں سے یہ لوگ برصغیر میں (بالخصوص پاکستان میں)اُس وقت آئے جب یہاں مغلیہ خاند ان کی حکومت قائم ہوئی۔بتایا جاتا ہے کہ چغتائی خان نے اپنے باپ (چنگیز خان) کی وفات کے بعد وسطی ایشیاء کے پانچ ملکّوں پر تسلط حاصل کیا تھا اور 18 اگست 1227 ء سے اپنی وفات یکم جولائی 1242 ء تک اُ ن پر حکومت کی۔ اُن کے باپ نے اُن کو اپنے بنائے ہوئے قانون ’’یاسا‘‘کی نگہداری کی ذمہ داری بھی سونپ دی تھی۔ (Chaghtai Wikipedia میں) اِس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی شخصیات چترال کی تاریخ میں نامور گذرے ہیں۔ یہاں صرف آغا سعدی چغتائی مرحوم کا مختصر تذکرہ کیا جاتا ہے۔

آغا سعدی خان چغتائی (بہ حوالہ راقم کی کتاب سرناصرالملک  صفحہ 269) آپ ’’آغا‘‘ نام سے مشہور تھے۔ میرزا عبادت خان کے فرزند تھے۔  جو کہ ایک صاحب علم اور معزز شخصیت تھے۔ اور اعلیٰ حضرت محمد شجاع الملک (1936-1895) کے اُستاد رہ چکے تھے کونسل عدلیہ کے اولین ارکان میں سے تھے آغا سعدی خان نے دھلی میں اُردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ واپسی پر 1922 ء میں اعلیٰحضرت محمد شجاع الملک کے پرسنل سکریٹری مقرر ہوئے اور 1952 ء تک اس عہدہ پر رہے۔ اور اس دوران تمام حکمرانوں کے نہایت پرُ اعتماد حکام میں اُ ن کا شمار ہوتا تھا۔ ہز ھائی نس محمد ناصر الملک کی بیماری کے دوران تمام ریاستی احکام پر اُن کی اجازت کے مطابق بحکم ہزھائی نس آپ دستخط کیا کرتے تھے۔ آ پ حج کے سفر میں بھی اُ ن کے ہمراہ رہے۔ آپ کو شاہی علم بردار ہونے کا شرف بھی حاصل تھا۔۔ مظفر الملک کے زمانے میں اُن کے ہمراہ پشاور میں قائد اعظم کے ساتھ ملاقات بھی کی تھی۔ آپ کو ریاستی باڈی گارڈ میں کپتان کا عہدہ حاصل تھا۔ آپ کو چترال کے حاکم کا منصب بھی ملا تھا۔

 

چاپانے یا چپانے:  یہ ایک قدیم قوم ہے پُرانے زمانے  شغنان سے  ان کا جد امجد چترال آیا تھا وہاں سے بدخشان کے علاقے کا مشہور پہناوا چپان چترال کے بادشاہ کی خدمت میں تحفّے کے طور پر لا یا تھا۔ جس سے اُن کا نام چپانے پڑ گیا۔ بادشاہ نے خوش ہوکر اُس کو یہاں اپنے پاس رکھا۔ بعد کے زمانوں میں اُن کی اولاد کشم میں آکر آباد ہوگئی۔

باٹولے: یہ خواجہ خیل قبیلے کی شاخ ہے۔
ٹھولے: یہ موسنگھے کی ایک شاخ جو تورکھو سے کسی زمانے میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔
مانایئے: یہ کشم باکے کی اولاد ہیں۔
بیگانے: یہ بھی کشم باکے کی شاخ ہیں۔
ڈولے:  (گاچھتریک)یہ بھی کشم باکے کی شاخ ہیں۔
ڑافے: یہ بھی بوشے کی شاخ بتائی جاتی ہے۔
باڑیئے: یہ بھی بوشے کی شاخ بتائی جاتی ہے۔
موسنگھے: یہ داریل تانگیر کے علاقے سے رئیس دور میں تور کھو آئے۔ اس کے بعد اسکی شاخیں مختلف جگہوں میں پھیلیں اور کچھ یہاں آباد ہوئے۔

قریہ سہرت

یہ قریہ تریچ آن کے مشرقی ڈھلوان کے ساتھ دریائے تور کھو کے کنارے سے جو سطح سمندر سے 2050 میٹر (تقریباً 9800 فٹ) کی بلندی پر ہے، تقریباً 3 ہزار میٹر (تقریباً دس ہزار فٹ) کی بلندی تک پھیلا ہوا ہے۔ اسلئے یہ کہاوت مشہور ہے کہ اگر سہرت کو اٹھا یا جائے تو یہ آسمان تک پہنچے۔ چنانچہ اِس کی اِس خصوصیت کی وجہ سے اسی ایک قریئے ہیں نیچے سے اوپر تک لوگوں کو ایک ہی وقت میں مختلف موسموں سے واسطہ پڑتا ہے۔ اور مختلف موسموں کے پھل اُن کو میسر آسکتے ہیں۔ اس قریے کے اہم دیہات دراسن، وریجون، جمیلی، نوغوردور، شیران دور، دونو، استاری، خوشاندہ، بہریان دہ (تورگرام)، اوراروغ، گبند وغیرہ ہیں۔ اس قریہ کو تمام موڑکھو میں ہمیشہ مرکزی حیثیت  کا حامل رہا ہے۔ اور یہ قدیم زمانے سے آباد بتایا جاتا ہے۔ شہزادہ تنویر الملک کے مطابق (بحوالہ موڑکھو صفحہ10 اور45) یہاں کئی قلعوں کے کھنڈرات موجود ہیں۔ اسی نواح میں شیر کھن قلعے کے آثار ملے ہیں جو کلاش دور کی یادگار بتائے جاتے ہیں۔ دراسن میں کٹور حکمران کے محترم شاہ کٹور ثانی (1782 ء) کا تعمیر کردہ قلعہ اب تک موجود ہے۔ جو ایک وسیع رقبے میں پھیلا ہوا ہے۔ جو موڑکھو کے اخری کٹور گورنر خدیوالملک کی  اولاد کی جائیداد میں شامل ہے۔ 1953 ء کی نئی تنظیم کے بعدتاحال دراسن سے ملحق وریجون  تحصیل موڑکھو کا ہیڈ کوارٹر ہے۔

موصوف کے مطابق سہرت کے ذیلی گاوّں گبند بھی ایک تاریخی جگہ ہے اِس چھوٹے گاوّں میں سنگلے اور دشمانے قبیلے کے لوگ آباد ہیں۔ یہاں کے ایک مسلم حکمران رئیس شاہ اکبر کے قلعے کے کھنڈرات موجود  ہیں۔ جو رئیس حکمران شاہ ناصر کے داماد اور پہلے کٹور حکمران محترم شاہ اوّل کے دادا تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ اُس قبرستان میں کچھ قبریں ایک زمین دوز تہہ خانے کے اندر واقع ہیں اور تہہ خانے میں اُترنے کے لئے پُختہ اینٹوں سے سیڑھیاں بنائی گئی تھیں۔ جو ماضی قریب تک موجود تھیں۔ تاہم اُن کا کوئی وجود نہیں۔ (صفحہ 46)

قبائل
سہرت کے مختلف دیہات میں ذیل قبایل یا خاندان آباد ہیں۔

کٹُورے، سنگالے، داشمانے، روشتے، زوندرے (شیرے) اتم بیگے، بہریئے، کشمے، خوشے
کٹُورے:   کٹُورے چترال کا ایک قدیم ترین قبیلہ ہے۔ جس نے اِس علاقے پر تین سو سالو ں سے بھی زیادہ  عرصہ حکومت کی۔ اِن کی روایات کے مطابق یہ ہرات کے ایک شہزادے میرزہ  (بابا ایوب) کی اولاد ہیں جو شاہ اکبر رئیس  (1496 ء سے 1520 ء) کے دور ِ حکومت میں چترال ائے۔  بادشاہ نے اُن کی قدر افزائی کی اپنی لڑکی کی شادی اُن سے کی۔ لون، گُہکیر، کوشٹ اور چرون کے مقامات پر اُ ن کو جائیداد عنایت کئے بعد میں اُن کی اولاد موڑ کھو اور چترال کے دوسرے علاقوں تک پھیل گئی۔

بابا ایوب کا ایک پوتا سنگین علی رئیسہ کے خاندان کے اُس وقت  کے بادشاہ کے دربار میں بطور مصاحبِ خاص  عزت و شہرت کا مالک بن گیا تھا۔ اُس کی وفات کے بعد اُ ن کے پوتے محترم شاہ اور خوشوقت نے بادشاہِ وقت کی کمزوری اور ملک میں انتشار سے فائدہ اُٹھا کر علاقے کے اہم قبیلوں کی مدد سے بادشاہ کو ملک بدر کرکے تختِ چترال پر قابض ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ اُس وقت ریاست کی سرحد یں گلگت سے  چقانسرائے تک پھیلی ہوئی تھیں۔  اِس تمام سلطنت کو محترم شاہاول اور خوشوقت نے اپس میں تقسیم  کرلیا۔ زرین حصّے میں موڑ کھو اور تور کھو کیعلاقے شامل کرکے  محترم شاہ اوّل نے اپنی سلطنت قائم کی اور کٹور کا لقب اختیار کر لیا۔ اور کٹورے خاندان کی بُنیاد رکھ دی۔ ریاستِ چترال کا بالائی حصّہ یعنی مستوج تا گلگت خوشوقت کے حصّے میں آیا۔  جہاں اُس نے خوشوقتے خاندان کی بُنیاد رکھ دی۔  (غلامِ مصطفٰی، صفحہ نمبر 36 تا 47 اور صفحہ نمبر 94)کٹور خاندان کی حکومت  کچھ نشیبُ فراز کے با وجود 1969  ء تک چترال پر قائم رہی۔  اصلیت کے لحاظ سے یہ خاندان اپنے آپ کو مغلوں  کی اولاد بتاتا ہے۔  امریکہ میں ایک اسکالر نے اِس  خاندان سے تعلق رکھنے والے فرد کا  DNAٹسٹ کرایا تھا جس سے پتہ چلا کہ اُن کا تعلق چنگیز خان سے بنتا ہے۔ امریکہ میں 2003 ء میں تحقیق سے پتہ چلا ہے DNA ٹسٹ پر مبنی آج کل دنیا میں 16 ملین لوگوں کا سلسلہ منگولوں کے سردار چنگیز خان تک پہنچتا ہے۔ اِس طرح وہ دنیا میں چھ یا سات شخصیت میں سے ایک ہے۔

مغل خاندان کا سلسلہٗ نسب  ماں کی طرف سے چنگیز خان اور باپ کی طرف سے تیمور لنگ تک پہنچتا ہے۔ اِس قوم کی ایک شاخ سنگالے (جس کا پہلے ذکر ہوا ہے)  اپنے آپ کو چغتائی نسل سے منسوب کرتی ہے چغتائی نسل چغتائی خان  (جو چنگیز خان کا دوسرا بیٹا تھا)  کی نسل سے تعلق رکھتا ہے۔
ہندوستان میں مغلیہ خاندان کا بانی ظہیرالدیں بابر  (1483 ء تا 1530 ء) تھا۔ اُن کی والدہ قتلق نگار خانم یونس خا ن کی بیٹی تھی۔ جو چنگیز خان کے دوسرے بیٹے چغتائی خان کی اولاد میں سے تھی۔  بابر کا باپ ابو سعید میرزہ تیمور لنگ کا پڑ پوتا تھا۔ اِس طرح بابر کا سلسلہ نسب تیسری نسل میں تیمور لنگ تک پہنچتا تھا جبکہ ماں کی طرف سے  دسویں  پشت میں  چنگیز خان تک تعلق بنتا تھا۔ تیمور لنگ  (1370ء سے 1405ء)کی سلطنت وسطی ایشاء سے ترکی تک پھیلی ہوئی تھی۔اُس کی موت کے بعد اُس کی سلطنت اُس کے بیٹوں  شاہ رخ، میران شاہ، عمر شیخ میرزا اور پوتوں میں تقسیم ہوئی۔ ظہیرالدین بابر میران شاہ کی نسل سے تھا۔ جس نے بعد میں مغلیہ سلطنت کی بُنیاد رکھی۔  عمر شیخ میرزا کی نسل میں 1470 ء سے 1506 ء کے دوران سلطان حُسین  بایقرا ہرات کا بادشاہ بنا، اُن کے بعد اُن کے دو بیٹوں مظفر حُسین اور بدل الزمان ہرات کے بادشاہ بنے۔ لیکن اُن کی اپس کی چپقلش کی وجہ سے شیبانی خان جس نے 1500 ء میں اُزبک اقوام کو جمع کرکے تیموریوں کے خلاف محاذ کھڑا کرکے اُن کے علاقوں پر قبضّہ کرنا شروع کیا تھا ہرات پر بھی قبضّہ کر لیا اسطرح تیموریوں کو بے دخل کر دیا۔  حوالہ (www.quora.com)

اُس کے بعد سلطان بایقرا کی اولاد اِدھر اُدھر تیتر بتر ہوگئی ہوگی۔ جن میں سے میرزا ایوب بھی ہونگے۔  جو 1507ء کے بعد ہرات سے ہجرت کرکے بالاخر چترال وارد ہوئے۔ چترال میں اُن کا پہلا پڑاو لون کا گاوّں بتایا جاتا ہے۔ جہاں سے اُن کی اولاد دوسرے علاقوں میں پھیل گئی۔

نئی تاریخ چترال (صفحہ 47) کے مطابق میرزا ایوب اور اُن کے کچھ ہمراھی ایک ولّی کامل شمس الدین کی معیّت میں چترال وارد ہوئے تھے۔ ولّی مذکورہ اُن کو ایک مقام پر چھوڑ کرخود کہیں چلے گئے۔ اور ساتھیوں کو ہدایت کی کہ اُن کی واپسی تک اُن کا انتظار کریں۔ جب کچھ عرصیکے بعد ولی مذکورہ واپس آئے تو دیکھا کہ باقی سب چلے گئے تھے۔ ماسوائے بابا ایوب کے، شاہ صاحب اُن کے استقلال  پر بہت خوش ہوئے اور دعا دی کہ اُس ملک کی بادشاہت تمہیں اور تمہاری اولاد کو بخش دی گئی۔

بابا ایوب کے چوتھے پُشت میں (یعنی بابا ایوب ۔۔۔ ماہ طاق۔۔۔خوشحال۔۔۔ اور سنگین علی اوّل) سنگین علی اوّل مشہور ہوئے۔ اُن کے بارے میں وزیر علی شاہ مرحوم نے ایک روایت بیان کی ہے (چترال ایک تعارف صفحہ 45 –  50)۔

سنگین علی بچپن میں ایک دن کسی مقام پر اپنے ساتھی چرواہوں کے ساتھ مل کر بادشاہ وزیر کھیل رہا تھا۔ اُس دوران ریئس حکمران کا وہاں سے گذرہوا۔ بادشاہ نے دلچسپی سے بچوں کا کھیل دیکھا۔ اور سنگین علی کو کامیابی سے بحیثیت بادشاہ اپنا رول آدا کرتے ہوئے بڑا متاثر ہوا، چنانچہ اُس نے اُس کواپنی ملازمت میں لے لیا۔ کسے پتہ تھا کہ اگے چل کراُس خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے ہاتھوں رئیس خاندان کی حکومت ختم ہو جائے گی۔
کٹور خاندان کے قبضے کے بعد 22 بادشاہوں نے 1969 ء تک چترال پر حکومت کی۔ جن کے نام یہ ہیں۔۔۔۔محترم شاہ اوّل، سنگین علی ثانی، محمد غلام، شاہ عالم، محمد شفیع، شاہ فرامرد (خوشوقتے)، شاہ افضل اول، شاہ فاضل، شاہ نواز خان، شاہ خیر اللہ (خوشوقتے)، شاہ محترم شاہ(کٹور ثانی)، شاہ  افضل ثانی، محترم شاہ ثالث، آمان الملک، افضل الملک، شیر افضل خان، امیر الملک، محمد شجاع الملک، محمد ناصرالملک، محمدمظفر الملک، سیف الرّحمان اور سیف الملک ناصر۔ اِن میں سے خاص طور پر آمان الملک، محمد شجاع الملک اور محمد ناصر الملک کا ذکر کیا جاتا ہے۔

آمان الملک:   آپ 1856 ء سے 1862 ء تک چترال کے بادشاہ رہے۔ اُن سے پہلے بادشاہوں کو اندرونی سازشوں اور خطرات کا سامنا رہتا تھا۔ لیکن آمان الملک کے زمانے میں بین الاقوامی صورتحال نے ایسا رُخ اختیار کیا کہ چترال کا بطور ازاد ریاست برقرار رہنا مشکل نظر آرہاتھا۔ اس نے زبردست سفارتکاری اور سیاست کاری، دوراندیشی اور زمانہ شناسی جیسے اعلیٰ صفات کی بدولت نہ صرف چترال کی ریاست کو مستحکم کیا بلکہ اِس کے سرحدات کو ایک طرف گلگت کے پونیال اور دوسری طرف اسمار تک وسعت دینے میں کامیابی حاصل کی۔ غالباً اِ س وجہ سے ہندوستان کے ایک انگریز وائسرائیلارڈ کرزن نے اُن کے بارے میں لکھا تھاکہ ’’وہ ایسی ریاست اور مملک کے لئے موذون شخصیت تھے‘‘۔

 

آمان الملک ایسے زمانے میں بادشاہ بنا جب کشمیر سے افغانستان تک کا علاقہ زبردست بین الاقوامی سیاسی کھیل (جسے مورخیّن The Great Game کا نام دیتے ہیں)کا اکھاڑا بننے والا تھا ایک طرف برطانوی ہند شمال مغربی سرحدوں تک اپنی حکومت کو پھیلانے کی کوشش میں تھی۔ دوسری طرف کوہستان قراقرم کے شمال مشرق میں چین کی سلطنت تھی، تیسری قوت افغانستان کی تھی۔ اُس کی حکومت  شمال میں دریائے امو، شمال مشرق میں بدخشان، واخان اور مغربی پامیر تک وسیع ہو گئی تھی۔ مزید اُن کے توسیع پسندانہ عزائم آگے بڑھنے کے مواقع کی تلاش میں تھے۔ شمال مغرب میں زار روس کی سلطنت تھی۔ جو سنٹرل ایشیاء کی طرف پھیلتی جا رہی تھی اور ایک سامراجی قوت کے طور پر برطانوی ہند کے لئے زبردست خطرہ بنی ہوئی تھی۔ اور برطانوی حلقوں کو روسو فوبیہ میں مبتلا کر دیا تھا۔

آمان الملک کو اُن بین الاقوامی حالات کا پوری طرح ادراک تھا۔ نتیجتاً وہ پہلے (1877ء) کشمیر کے ساتھ بعد میں (1885ء) میں انگریزوں کے ساتھ اُن کی سیادت کوقبول کرنے کا معاہدہ کرتے ہیں۔جو چترال کی تاریخ میں ایک موڑ ثابت ہوتا ہے۔ (تفصیل ملاحظہ ہو راقم کی کتاب سر محمد ناصر الملک صفحات 5 تا 13)۔

سر محمد شجاع الملک: آپ  چترال کے نامور بادشاہ آمان الملک کے فرزند تھے۔ جن کا 1892 ء میں انتقال ہوا تھا اُن کے بعد اُن کے بیٹوں میں خانہ جنگی کی وجہ سے ملک کی حالت درگردگوں رہی۔ 1892 ء سے 1895 ء کے درمیاں تیں سالوں کے دوران چترال میں دو بادشاہ مارے گئے تھے، ایک بادشاہ کو فرار ہو کر افغانستان جانا پڑا، ایک بادشاہ کو دوسرے متوقع بادشاہ  کے ہمراہ انگریزوں کے ہاتھ گرفتار ہوکر جنوبی ہندوستان کے مدراس  شہر میں عمر قید  کی سزا بھگتنی پڑی۔ اُس وقت اگر انگریز مداخلت نہ کرتے تو بہت ممکن تھا کہ چترال کی ہزار سالہ ریاست ہمیشہ کے لئے ختم ہو کر دیر باجوڑ کے ماتحت ضم ہو جاتی۔  اِ س جنگ میں چترال کے لوگ تین حصّوں میں تقسیم ہو گئے تھے۔ ایک گروہ چترال کی ریاست کو بچانے کی خاطر ایک کم عمر بادشاہ (شجاع الملک)کی حمایت میں کمر بستہ ہو گئی۔ انگریز اُن کوسپورٹ کر رہیتھے کیونکہ اُن کو اپنی ایمپائر کی لاج کی فکر تھی دوسرا گروہ شیر افضل کا حمایتی تھا۔ جن کے پیچھے عمرا خان آف جندول کی طاقت تھی اِس گروہ کا مطمح نظر عام طور پر انگریزوں کے خلاف جوش ِ جہاد کا جذبہ تھااِس لئے وہ اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لئے تیار تھے۔ تیسرا گروہ چترال کے مختلف حصوں کے اُ ن لوگوں پر مشتمل تھا جو گومگو کے عالم میں تھیاور حالات کے رخ کا جائزہ لینے میں مصروف تھے۔ انگریزوں نے تہیہ  کرلیا تھا کہ اِس جنگ کو ہر حالت میں اور ہر طرح سے جیت کے یہاں کے لوگوں (بلکہ پورے برصغیر کے لوگوں) پر اپنی دھاک بٹھانی تھی۔ اور یقیناًانہوں نے پوری طاقت سے اِسی جنگ میں حصّہ لیا۔ اور جیت گئے۔ اسطرح شجاع الملک اُن کی پشت پناہی میں بادشاہ بنا۔ اور 1936 ء تک حکومت کرکیوفات پا گئے۔ اُس دوران بے شک اپنی کمی کوتاہیوں کے باوجود عمومی طور پر وہ کامیاب حکمران ثابت ہوئے۔ اور ملک کی معاشی اور معاشرتی ترقی کیلئے کئی کام انجام دئے۔ جن کا تذکرہ تاریخ کی کتابوں میں درج ہے۔

شاہ محمد شجاع الملک کے تخت چترال پر رونق افروز ہوے کا واقعہ ایک انہونی بات تھی۔ اُس وقت کے حالات کے مطابق آمان الملک کے بیٹوں میں تخت کے دعویداروں میں شجاع کا دور دور تک بھی کہیں ذکر نہیں تھا۔

لیکن اللہ تعالےٰ کے نظام  وَتُعِزُ مَن تَشاءُ و تُذِلُ مَن تَشّاء کے مطابق حالات ایسے پیدا ہوئے کہ شاہی تاج اُن کے سر سج گیا۔ اور دیکھنے والے حیران رہ گئے۔ اُس وقت اُن کی عمر 15 سال تھی  کیونکہ لاکہارٹ مشن 1885 میں جب چترال آئی تھی۔ تو برینس میں شہزادہ شجاع الملک نے اپنے رضاعی والد کے ساتھ اُن سے ملاقات کی تھی۔ لاکہارٹ اپنی رپورٹ میں لکھتا ہے کہ ’’برے نس کے قریب 5 سال کا بچہ اپنے ٹٹو پر سوار اپنے رضاعی والد کے ہمراہ ہم سے ملنے آیا۔ جو گاوّں کا رئیس تھا۔ بچے کا تعارف ہم سے یوں کرایا کہ وہ آمان الملک کا بیٹا ہے‘‘۔

’’لاکہارٹ نے اپنی رپورٹ میں یہ پیشن گوئی بھی کی تھی کہ نظام الملک، افضل الملک اور شاہ ملک اپنے والد کی وفات کے بعد شاید اپس میں تخت کے لئے لڑ پڑیں یہ خلاف قیاس نہیں لگتا۔ کہ اس کا نتیجہ ریاست  کے حصّے  نجرے ہونے کی صورت میں نمودار ہو جائے۔  جس کا دوبارہ استحکام کسی بہت ہی قابل اور خوش قسمت بھائی کے ھاتھوں سرانجام پائے گا‘‘

لارڈ کرزن جو بعد میں ہندوستان کے وائسرائے بنے 1895 ء کی جنگ سے تقریباًچھ ماہ پہلے چترال آتے ہوئے برینس میں شہزادہ شجاع الملک سے ملے تھے۔  اور اُن کے بارے میں لکھا تھا ’’اُس لڑکے کا تاثر ہمارے اوپر بہت اچھا تھا۔ وہ اپنے والد کی جوانی کے مشابہہ تھے۔ اگرچہ اُس نے زیادہ باتیں نہیں کی۔ لیکن ہم میں سے کسی کے بھی گمان میں بھی نہیں تھا کہ 8 ماہ سے کم عرصے میں وہ چترال کے تخت پر بیٹھے گا‘‘۔ (بحوالہ راقم کا کلمات ابتدائیہ مشمولہ چترال کے ساتھ انگریزوں کی جنگ، ترجمہ Chitral Campaign  صفحات 13 تا 41)۔

شجاع الملک کے بارے میں ایک روایت بھی قابل ذکر ہیجو اُنہوں نے ایک موقع پر بیان کیا تھا وہ بتا رہے تھے 1895 ء میں جس جگہ نظام الملک کو قتل کیا تھا۔ یہ خود بھی وہاں موجود تھے۔ نظام کی اپنی کوئی اولاد نہیں تھی۔ اُس نے اِن کو اپنا منہ بولا بیٹا بنایا تھا۔ جب نظام کو قتل کیا گیا۔ تو کسی نے اُس کو (شجاع) کو وہاں دیکھا اور آواز دی کہ ’’ژاو گانیرو         (یعنی متبنی یا لے پالک) دی مارور‘‘۔ لیکن خوش قسمتی سے میرے شیر تت نے مجھے گھوڑے پر بیٹھایا اور وہاں سے بچا کر لے گیا۔   گویا ہوتا وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کا فیصلہ ہوتا ہے۔ وہ ایسا بھی کرتے ہیں جو کسی کے گمان میں بھی نہیں ہوتا۔ اس طرح ایک پندرہ سال کا بچہ ریاست کا حکمران بن جاتا ہے۔ اور اگے چل کر ایک مظبوط حکمرا ن کے طور پر سامنے آجاتے ہیں اور برطانوی حکومت  کا بھی اکثر امور میں مکمل تعاون اُن کو حاصل رہتا ہے۔ جس کے بل بوتے پر چیں وا ٓرام سے  ایک لمبے عرصے تک حکومت کرنے کے قابل ہو جاتے ہیں۔
محمد ناصر الملک: شاہ شجاع الملک کی وفات کے بعد اُن کی وصیت کے مطابق شہزادہ محمد ناصر الملک (جواُن کے ولیّ عہد رہے تھے) تخت کے حقدار ٹھہرے۔ اور تمام بھائیوں اور دیگر زعمائے قوم کی متفقہ رائے کے مطابق سریر ارا کے سلطنت ہوئے۔ اس طرح پُر امن طور پر حکومت کی منتقلی چترال کے لوگوں کے لئے ایک خوشگوار  تجربہ تھا۔ آپ ایک  تعلیم یافتہ اور بیدار مغز شخصیت تھے۔ جب تخت پر بیٹھے تو اُن کے سامنے ریاست کو چلانے کے لئے مندرجہ ذیل امور تھے (بحوالہ راقم کی کتاب سر محمد الملک 2012ء)۔

1. لوگوں میں بحیثیت آزاد شہری اعتماد اور بیداری کس طرح پیدا کی جائے۔
2. ریاست کی آمدن کو کس طرح بڑھائی جائے۔
3. ریاست کی ترقی کن خطوط پر استوار کی جائے۔

اُنہوں نے پہلی ہی دربار ِ خطاب میں لوگوں کو ’’زریں دور‘‘ (’’مخمور دور‘‘) کا مژدہ سنایا پہلے  ہی سال انہوں نے شروعات بعض معاشی ترقی کے پروگراموں سے کیا۔ کوغوزی تک موٹر سڑک، کچھ آب پاشی نہروں کی تعمیر، گھریلو مصنو عات مثلاً دست کاری، پٹی کی صنعت کو ترقی دینی، جنگلات، کان کنی اور باغبانی کی ترقی وغیرہ، لیکن کم قسمی سے تخت نشینی کے دوسرے سال ہی اُن کو فالج ہوگیا۔ اگرچہ معجزانہ طور پر اِس بیماری سے آفاقہ ہوگیا۔ لیکن جسمانی قویٰ اور توانائی میں کمزوری آنے سے اُن کی کار کردگی کے ٹیمپو (Tempo) میں ضرور فرق پڑا۔ پھر بھی مملکت کو اُسی جوش و جذبہ سے چلانے کی کوشش میں لگا رہا۔ اُ ن کا پروگرام تھا کہ برطانوی حکومت سے ریاست کے لئے زیادہ سے زیادہ مراعات حاصل کرے۔ تاکہ اس طرح ترقیاتی کاموں کی رفتا ر میں اضافہ کیا جائے۔ لوگوں کو روزگار کے مواقع بھی فراہم ہوں اور ریاست کو خود کفالت بھی حاصل ہو سکے، پن بجلی کی ترقی اور بنجر زمینات کی آبادکاری اُن کی ترجیحات میں تھیں۔ اُس وقت برطانوی حکومت جنگ عظیم دوم کی مصیبت میں گرفتار ہوگئی۔ ایسی حالت میں دوسروں کی کیا مدد کرتی، خود امداد کی محتاج ہو گئی، پھر بھی سات سال کی اپنی مختصر بادشاہت کی مدت میں چترال کے لئے سبسڈی کی رقم کئی گُنا بڑھانے میں کامیاب ہوگئے۔ البتہ معاشی ترقی کا جو خواب اُس نے دیکھا تھا۔ اُن کی جلد وفات سے وہ ادھورا ہی رہا۔ البتہ چترال سکاوٹس کی تنظیم اُن کا اہم کارنامہ تھا جو اُن کی زندگی میں حاصل ہو سکا۔

لوگوں کی سماجی ترقی کامحمد ناصر الملک نے جو پروگرام بنایا تھا وہ خاص طور پر تعلیمی ترقی کا پروگرام تھا۔ اگرچہ چترال کے مختلف حصّوں میں اسلامی مدرسے اور مکتب سکول پہلے سے تھے لیکن عصری ایجوکشن سسٹم کے نصاب کے مطابق سکول کا اجرائپہلی دفعہ اُن کے زمانے میں عمل میں آیا۔ اُس کی ابتدا چترال کے سکول کے قیام سے کی۔ اور پہلی دفعہ 1942 ء میں اِس سکول کے طلباء نے  مڈل  سکول اسٹنڈرد کا امتحان پاس کیا۔ اُن کا ارادہ تھا کہ تمام چترال میں اِس طرح کے سکولوں کا نٹ ورک قائم کرے۔ اور رفتہ رفتہ اُن سکولوں کو اپ گریڈ کرکے ہائی اور بعد میں کالجوں کا سلسلہ متعارف کرائے۔ ساتھ ساتھ قابل طلبا ء کوریاست سے باہر تعلیم دلوا کر انجنیر، ڈاکٹر اور دیگر شعبوں میں تعلیم یافتہ افراد کا ایک کیمپ تیار کرنا چاہتے تھے۔ عموماً وہ کہا کرتے تھے کہ کم از کم اگر سو دوسو تعلیم یافتہ افراد میرے ساتھ ہونگے تو حکومت کرنے کا مزہ آجائے گا۔

ع۔ ائے بسا! آرزو کہ خاک شدہ۔
تعلیم کو آپ لوگوں میں خود اعتمادی اور بیداری پیدا کرنے کا ذریعہ ہی سمجھتے تھے وہ اکثر اوقات اِس بات پر کڑھتے تھے۔ کہ لوگوں کو اپنے حقوق کا شعور ہی نہیں۔ طرح طرح سے اُ ن کو اِس کا احساس دلانے کی کوشش کرتے۔ لیکن عام لوگوں کو ذہنی طور پر اِس قسم کی عیاشیوں کا صحیح ادراک ہی نہیں تھا۔ جس سے اُن کو مایوسی ہو جاتی لیکن یہ ضرور جانتے تھے کہ آنے والے وقتوں میں اِن کے اقدامات کا نتیجہ بہتر ہی ہوگا۔ اس طرح جو تھوڑا بہت وہ کچھ کرنے کے قابل ہوئے وہ ایک ’’پُر امید مستقبل‘‘ کی نوید کے طور پر تھی۔ پاکستان کے قیام پر اُ ن کا یقین بھی اُن کی زبردست وژن کا ثبوت ہے۔ جس پر اُن کو خراج تحسین پیش نہ کرنا زیادتی ہے۔ 1942 ء میں اُنہوں نے شاہی قلعے کے گیٹ کو نئے سرے سے تعمیر کروائی اور اُس کے اوپر چاند تارا نشان لگوایا۔ اور اُس وقت یہ شعر اُن کی زبان پر تھا۔

چو پاکستان شود۔۔ تو نشانِ آن باشی
صد افسوس ہے کہ اب  اُس نشان کو اکھاڑ کے پھینک دیا گیا ہے۔ جو ایک تاریخی ورثہ تھا۔

شاہ ناصر الملک اپے تخلیقی کام کئے جو یاد رکھے جائیں گے۔ وہ فارسی کے ایک بلند پایہ شاعر تھے دوسری طرف قرآن فہمی، عربی دانی، اور بعض سائنسی موضوعات پر وسیع معلومات  کی وجہ سے ممتاز نطر آتے ہیں۔ اُن کی کتابیں صحیفتہ التکوین، تحضتہ الابرار اور مشرق الا نوار اُن کے علمی استعداد کے اہم ثبوت ہیں۔ اُن کے علاوہ 1921 ء میں کھوار حروف تہجی کے نام سے کہوار زبان پر ایک مختصر رسالہ شائع کیا تھا جو بعد میں کھوار زبان کو تحریر میں لانے کی بُنیاد بنی۔ آخری ایام میں کسی اہم موضوع پر کتاب اُن کے زیر تصنیف تھی جس کو ضائع کیا گیا۔ مزید تاریخ و ثقافت پر اُ ن کے کئی مسودّے بھی اُ ن کی موت کے بعد ادھر ہو گئے۔ اقبال ؒ کا شعر ہے۔
سرور رفتہ باز آید کہ ناید۔۔۔ نسیمے از حجاز آید کہ ناید
سرآمد روزگار این فقیرے۔۔ دیگر دانائے راز آید کہ ناید

اُن کے بعد اُن کے بھائی محمد مظفر الملک بادشاہ بنے۔ جنہوں نے پانچ سال تک حکومت کی۔ وہ اِس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ اُن کے زمانے میں پاکستان وجود میں آیا اور اُن کو چترال کی ریاست کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے کا اعزاز نصیب ہوا۔ مزید بحیثیت اسلامیہ کالج پشاور کی ٹرسٹی کے صدر کے 1948 ء میں قائد اعظم محمد علی جناح کے اعزاز میں پشاور میں ایک عصرانے کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔۔۔۔۔
(باقی ائیندہ)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
78935

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط8) – پروفیسر اسرارالدین

Posted on

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط8)۔۔۔پروفیسر اسرارالدین
موڑکہو (جاری)

6 ۔زوندران گرام کے قبیلے
پچھلی قسط میں تریچ وادی میں زوندران گرام کے قبیلہ ماژے کا ذکر ہوا تھا۔اب باقی کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔

زونے یا زوند قبیلہ:

مقامی روایات کے مطابق زونے یہاں کا قدیم ترین قبیلہ ہے۔بلکہ کہا جاتا ہے کہ اس بستی کانام بھی انہی کی نسبت سے رکھا گیا ہے۔شاہ حسین گہتوی زوند نے اس پر تفصیلی بحث کی ہے۔(دیکھئے اوراق گلگت وچترال(2023)۔ صفحات182تا195)۔ یہاں اس کا خلاصہ دیا جاتا ہے۔

”تریچ بالا علاقہ مورکہوکی یہ بستی ایک قدیم قبیلہ زون دران سے منسوب زوندران گرام کہلاتا ہے۔عہد قدیم میں زوندرے قبیلہ کے دومشہور سرداران علاقہ زون دران گرام اور وری مون تریچ کے مقامات پرآباد تھے۔برگوبیگ زون دران گرام کے مقام پرآباد تھا اور ڑوقوتولی وری مون کی بستی واہ کوٹ میں رہاش رکھتا تھا۔

”قدیم روایات کے مطابق زوندرے سردار برگوبیگ گلگت کے بھرگو(برگو) سے آیا تھا۔برگوبیگ کابیٹا زون تھا۔جوتراخانی دور کا ایک بڑا زمیندار تھا۔تراخانی حکمرانوں نے زون کومرکزی موڑکھو کے وریجون کے مقام میں بھی اراضیات دئیے تھے۔زون کی نسل اپنے دادا زون ابن برگوبیگ سے منسوب زونے کہلانے لگے۔جو رونو زوندرے کی ایک ذیلی شاخ ہے۔(اس سلسلے میں گہتوی نے راجہ حسین علی خان مقپون کی کتاب تاریخ اقوام دردستان وبلور ستان کاحوالہ بھی دیا ہے)۔

”زون کے بیٹے کانام زاہر(ظاہر) بیگ اور اسکے بیٹے کانام شاہ موش تھا۔جس سے تین بیٹے علی مالک،شاہ ولی،محتہ عاشور تھے۔علی مالک اور شاہ ولی اپنے قدیم مسکن زون دران گرام میں آباد رہے۔ان کی نسل بھی یہی آباد ہے۔محتہ عاشور موڑکہو کے گہت اور وریجون میں آباد ہوئے“۔

قوبیلے:
یہ یہاں کے قدیمی باشندے بتائے جاتے ہیں۔ان کے داداکانام داشمن قوبیل مشہور ہے۔یہ موژگول اور کھوت میں بھی آباد ہیں اور تورکہو کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلے ہیں۔

شاڑیکے:
یہ کسی زمانے میں بدخشان سے براستہ یارخون آکے یہاں آباد ہوئے۔دوسری جگہوں میں بھی ان کی شاخ آباد ہے۔

باٹے:
یہ بھی قدیمی باشندے ہیں۔کلاش دور سے ان کا تعلق ہے۔

سادات:
زوندران گرام کے ساتھ ایک ذیلی گاؤ ں لشٹ وہت(لش وہت) میں ایک سادات خاندان آباد ہیں بدخشان سے آئے تھے۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والا خلیفہ بلبل جان اہم شخصیت گذرے ہیں۔ان کے بیٹے مولائی جان نے1950کی دہائی میں کوہ پیمائی میں نام پیدا کیا تھا۔وہ تریچمیر چوٹی (1952)اور سراغرار چوٹی(1959)کی مہمات میں شامل تھے اور بیرونی مہم جوؤں کے ہمراہ کافی بلندی تک جانے میں کامیاب ہوئے تھے۔ 1965میں ہوائی حادثے میں وفات پاگئے۔

کٹورے:
یہ موڑکہو سے کٹور دور میں یہاں آکے آباد ہوئے۔

داشمنے:
یہ بھی موڑکہو سے کٹوردور میں یہاں آکے آباد ہوئے۔

زوندرے:
یہ مستوج سے سیرانگے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور غالباً کٹورے دور میں وہاں سے یہاں آباد ہوئے۔

اتم بیگے (یاحاتم بیگے):
نئی تاریخ چترال غلام مرتضیٰ صفحہ 323) کے مطابق یہ قوم حاتم بیگ اول ابن گرک علی کی جانب منسوب ہے۔گرک علی رئیسہ عہد میں اتالیق کامنصب رکھتا تھا۔شاہ کٹور نے بادشاہت پر قبضہ حاصل کیا توان کو قتل کرواڈالا۔لیکن بعد میں ان کے بیٹے حاتم بیگ کو دلاسادیکے اپنے ساتھ ملایا اور اپنی بیٹی کی شادی بھی ان سے کردی۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ اصلیت میں موڑکہو میں سکونت رکھتے تھے۔وہاں سے ان کی بعض شاخیں یہاں اور دوسرے علاقوں میں پھیل گئے ہیں۔

یاغیئے اور بولے:
یہ بھی قدیم اور اہم قبیلے ہیں۔
7 ۔لون کوہ(موڑ تریچ)۔
یہاں کے ذیلی دیہات مندرجہ ذیل ہیں۔

لون گول،لشٹ لون کوہ،لون کوہ،ڈوک،سوروہرت،ویمژد،ورژنو،لولیمی،دہ،ٹھونک،پوھت،پاسنگ، میرغش۔

قبیلے(بہ مطابق دیہات).
لون گول:پنین شوئے۔خواجہ،خبیرے۔

پنین شوئے:
یہ ورشگوم سے رئیس دور میں آئے۔وہاں یہ مہتری کے دعویدارتھے۔چنانچہ لوگوں کی مخالفت سے ان لوگوں کے اباو ہاجداد وہاں سے چھوڑ کریہاں آنے پرمجبور ہوگئے۔یہ چار بھائی تھے جن میں تین یہاں آئے اور ایک تورکہو شاگرام جاکر آباد ہوا۔

خیبرے:
یہ واخان سے کٹور دور میں آکر یہاں آباد ہوئے تھے۔

خواجہ:
ان کا دعویٰ ہے کہ یہ خیبر(عرب) سے آئے تھے اور ہحضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے ہیں۔مقامی روایات کے مطابق شروع سے یہ باٹولان دہ (کشم) میں آئے تھے۔وہاں پر ان کے بڑے نے مہتری کا اعلان کیا تھا۔یہ چترال میں رئیس کا دور تھا۔اور وہ چونکہ اس کو برداشت نہیں کرسکتے تھے اسلئے انہوں نے اس خاندان سے تعلق رکھنے والے تمام افراد کو قتل کرایا۔مگران میں سے ایک عورت جو حاملہ تھی وہ بچ گئی تھی۔اس عورت کاتعلق ماژے قوم سے تھا۔یہ چھپ چھپاکے تریچ اپنے میکے آئی۔جہاں اس کا ایک لڑکا پیدا ہوا۔یہ لڑکا بعد میں بہت بہادر ہوا اور رئیس حکمرانوں کامنظور نظر ٹھہرا۔لہذاتریچ میں ان کو جاگریں عطاکی گئی۔اسکی اولاد اب خواجہ کہلاتی ہے۔جوکہ چترال کے مختلف حصوں مثلاً تریچ،کشم،سوسوم،جنجریت،سویر اور شیشی کوہ میں پھیلے ہوئے ہیں۔کٹور دور میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والا فضل خان شمشیرزنی اوربہادری میں بے نظیر تھا اور ان کی اولاد میں سے بعض اہم افراد شاہی دربار میں معتبر ہوئے۔(غلام مرتضیٰ 334)۔اعلیٰ حضرت محمد شجاع الملک اور ان کے بیٹوں کے دور میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والا میرغیاث الدین ریاست کی وزارت تجارت کے عہدے پر متمکن رہا۔اس حیثیت سے1938ء میں ریاست کی طرف سے ایک تجارتی وفد کے اہم رکن کے طورپر امیرکابل سے ملاقات کے لئے بھی گئے تھے۔1956ء میں ریٹائر ہوئے۔راقم کی ذاتی معلومات کے مطابق آپ نے جنگلات،آب کاری اور دیگر تجارتی امور میں ایسے اصلاحات متعارف کرائے جسکی وجہ سے چترال کی ریاست کی آمدنی کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ان کابڑا لڑکا میر حسام الدین چترال مسلم لیگ کے بانی ارکان میں تھے۔

لون کوہ ڈوک:
شیرکھانے:مقامی روایات کے مطابق یہ قوم کٹور وں کے دور میں ورشگوم سے چمرکن کے میران دہ آئے تھے وہاں سے بعد میں لون کوہ ڈوک آکر آباد ہوئے تھے۔شہزادہ تنویر الملک نے موڑکہو کے سہرت اور گہت کے درمیان ایک وسیع ٹیلے کے نام کا ذکر کیا ہے۔جسے شیر کھن کے ٹیلے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔آپ لکھتے ہیں کہ”روایت مشہور ہے کہ یہاں پر ایک کلاش سردار شیر کھن کا قلعہ تھا۔ان کا بڑا بھائی میر کھن موضع عشریت سے دروش کی جانب ایک پہاڑی پر آباد تھے۔اپنے ناموں کی مناسبت سے موڑکہو کامقام شیرکھن اور عشریت کے نزدیک پہاڑی مقام میرکھنی کے نام سے مشہور ہوئے“۔ اگرچہ قیاس کیاجاسکتا ہے کہ شیرکھنے قبیلے کا اس شیرکھن سردار سے تعلق ہوسکتا ہے۔لیکن حتمی طورپر کچھ کہنا مشکل ہے۔

داشمنے:
یہ موڑکہو سے کٹور دور میں یہاں آکر آباد ہوئے۔

گوژالے:
یہ کٹور دور میں ورشگوم سے آئے تھے۔زیادہ تریہ لوگ مداک میں آباد ہیں۔کچھ لوگ یہاں آکر آباد ہوگئے۔

طاشے:
یہ قدیم سے یہاں آباد ہیں۔صحیح دور کا پتہ نہی۔

لشٹ لون کوہ
رضاخیل:
یہ کٹور دور میں موڑکہو سے یہاں آکرآباد ہوئے۔

خواجہ:
یہ تریچ سے یہاں آکر آباد ہوئے۔

سوروھرت:
داشمنے: یہ کٹور دور میں موڑکہو سے یہاں آئے۔
ماژے: یہ تریچ سے یہاں آئے۔ رضا: یہ موڑکہو سے یہاں منتقل ہوئے۔

ورژنو:
پنین شوئے: یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔
اشوربیگے: یہ شوئے کی قوم ہے جس کاذکر ہوگا۔

لولیمی:
خواجہ: یہ تریچ سے یہاں آئے۔

کلاشان دہ(یادہ)
خواجہ : یہ تریچ سے یہاں آئے۔

شوٗے: یہ خراسان سے کٹور کے دور میں آئے۔پہلے موڑکہو کے کوشٹ(گولدور) میں آئے تھے۔ان کا جدامجد اھہنگر تھا۔اور وہاں سے اسی مناسبت سے ان کو لایا گیا تھا۔اس نے آکر سہرت اور کشم میں سیسہ دریافت کیا اور اسکے پگھلانے اور اس ے چیزیں بنانے کاکام شروع کیا۔بعد میں یہ خود بھی سہرت منتقل ہوا۔پھروہاں سے یہاں آیا۔

کتانے: یہ اپنے کوقدیمی باشندے تصور کرتے ہیں۔
اتم بیگے:(حاتم بیگے): یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔

ٹھونک:
کتانے: یہاں کے قدیم باشندے ہیں۔

پاسنگ:
داشمنے: یہ موڑکہو سے کٹور دور میں آئے۔
شیریکے: ورشگوم سے کٹور دور میں آئے۔

خواجہ: تریچ سے آئے۔
طاشے: یہ قدیمی لوگ ہیں۔

یاغشئے: یہ ماژے کی شاخ ہیں میرغش:
خواجہ: یہ تریچ سے آئے۔

پوھت:
خواجہ: یہ تریچ سے یہاں آئے۔
موسنگھے: یہ تورکہو سے کسی وقت یہاں منتقل ہوئے تھے۔کشم سے تعلق رکھنے والے شکریہ نویسوں کا دعویٰ ہے کہ یہ کشم باکے کی ایک شاخ ہے۔ ان کے جد امجد کا نام مرد سنگ یا موسنگ تھا۔

چغیرے: قدیمی باشندے۔
خیبرے: واخان سے کٹور دور میں یہاں وارد ہوئے۔

 

موڑکہو(از نشکو مداک تابمباغ)

یہ سارا علاقہ دریاے تورکھو کے مغرب میں تریچ آن کے ساتھ تکیہ لگایا ہوا ایک خطہ ہے۔ایسا لگتا ہے تریچ آن نے گویا موڑکہو کے دیہات میں بعض کو اپنی پیٹھ پر،بعض کو اپنے کندھے پراور بعض کو اپنے سینے پراٹھایا ہوا ہے۔تریچ آن کاسلسلہ تریچ میرکی چوٹی سے شمال مشرق کی طرف پھیلاہوا ہے۔بندوگول تک یہ وادی تریچ اور برم کے درمیان فصیل کا کام دیتاہے۔یہاں سے آگے تریچ آن کے نام سے سوروخت تک چلاجاتاہے۔اور چمورسال چوٹی پرختم ہوجاتا ہے۔جسکی اونچائی4248میٹر(13927فٹ)ہے۔ان دوچوٹیوں کے علاوہ تریچمیر مشرقی(6792میٹر)۔تریچمیر شمالی(7056میٹر) اہم چوٹیاں ہیں جنکو بالترتیب ناروے کی ٹیم نے1964میں اور آسٹرین کی ٹیم نے1965میں سرکئے تھے۔باقی چوٹیوں کے نام بندوگول چوٹی نمبر 1 (6500میٹر)۔بندوگول چوٹی نمبر2(6216میٹر). لونوزوم نمبر1(6020میٹر)، بے نام چوٹی نمبر1(5805میٹر)، بے نام چوٹی نمبر2(5300میٹر)،کوشٹ زوم(4731میٹر) نوغور زوم(4518میٹر)اورچمورسال
(4248میٹر)ہیں۔تریچ آن کازیادہ ترحصہ ایک سطح مرتفع جیسا ہے۔اسکے اوپردیہات کی چراگاہیں ہیں۔اس کوشمال مشرق کی طرف تریچ نالے نے اور جنوب کی طرف موڑکہو دریا نے گھیرا ہوا ہے۔اس سلسلے کے شروع میں دونالے برم نالہ اور بندو گول نالہ جنوب کی طرف بہتے ہیں اور سیدھے دریا مستوج میں شامل ہوجاتے ہیں۔اتہرک گلیشئر اوربرم گلیشئر اسکے نواح میں اہم گلیشئر ہیں۔کوشٹ گول بھی اسی سلسلے سے نکلتا ہے اور یہ دریائے تورکہو میں شامل ہوجاتا ہے۔تریچ آن موڑکہو کے دیہات کو اپنے دامن میں جگہ دینے کے ساتھ اس علاقے کے لئے پانی سٹور کرنے کا بھی اہم قدرتی ذریعہ ہے۔یہ علاقہ جوپانی کی کمیابی کے لئے مشہور ہے۔کوچشموں کے ذریعے جوبھی تھوڑا بہت پانی میسر ہے وہ اسکی مرہون منت ہے۔ریاستی دور کے آخری زمانے میں محکمہ تعمیرات کے ایک افسر شیربرار حکیم محمدنے ایک سکیم تیار کی تھی جسکے مطابق شوگرام سے نہر تریچ آن کے گردا گرد تعمیر کرکے کوشٹ تک لانے کی سکیم تھی۔لیکن اس پرعمل نہ ہوسکا۔اب اسکے نیچے سے سرنگ بناکے وہاں سے پانی اس طرف منتقل کرنے کا منصوبہ ہے۔جو اگر مکمل ہوا تو موڑکھو کی معیشت میں انقلابی تبدیلی آسکیگی۔

منتخب دیہات اور قبیلے

(1) مداک:
تما م مداک پہاڑ کےڈھلوان پرواقع ہے۔صرف اس کا ذیلی گاؤں شوت کسی قدر ہموار جگے پرہے۔اسکے باقی ذیلی دیہات کے نام : موڑین،نوغوردور،سوچھال،مداک لشٹ ۔سوچھال اور مداک لشٹ چراگاہ ہیں۔جو پہاڑ کے اوپر واقع ہیں۔گرمیوں میں لوگ مال مویشیوں کے ساتھ یہاں شفٹ ہوجاتے ہیں۔لوگوں کا گذارہ چشموں کے پانی سے ہے۔تاریخی روایات کے مطابق اس علاقے میں سب سے پہلے مداک کے لوگ سنی مسلمان ہوئے تھے۔کہاجاتا ہے کہ پہلے پہلے جب مسلمانوں نے بالائی چترال پر قبضہ کیاتھا۔تو ان میں سے بعض مجاہدین یہاں آئے تھے۔اور یہاں کے لوگوں کو مسلمان بنایا تھا۔کہاجاتا ہے بعد میں ان لوگوں کو مذہب سے برگشتہ کرنے کی بعض لوگوں نے کوشش کی تھی۔لیکن کافی تشدد کے باوجود بھی یہ لوگ دین اسلام پرڈٹے رہے۔

یہ لوگ چترال میں واحد مٹی کے برتن والے لوگ رہے ہیں۔لگتا ہے کہ اس علاقے میں قدیم زمانے کے مٹی کے برتن بنانے والی روایت کے یہ امین رہے ہیں۔
یہاں مندرجہ ذیل قبائل یہاں آباد ہیں۔

اتم بیگے(حاتم بیگے)۔موسنگھے،پتارئیے،گوژالے،شاہ منگے،لولئے،بیگالے،خوشے،بڈونگے،شانگے۔
اتم بیگے(حاتم بیگے)

یہ کشم سے یہاں آکر آباد ہوئے۔قدیمی لوگ ہیں،سہرت میں بھی ہیں۔

موسنگھے:
غالبا”کشم سے کسی زمانے میں یہاں آئے۔
پتارئیے: قدیمی باشندے۔

گوژالے: کسی زمانے میں ورشگوم سے آئے۔تریچ میں بھی ہیں۔

محنت گار: قدیمی قوم۔

لولئے : قدیمی باشندے۔
شاہ منگے :یہ قدیمی باشندے ہیں۔اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے استاد حمید اللہ المعروف مداکچی استاد پچھلی صدی کے وسط کی ایک معروف شخصیت تھے۔آپ بچپن میں پشاور گئے تھے اور وہیں پرکسی سکول میں تعلیم حاصل کی اور پشاور شہر کے تالاب والی مسجد کے علاقے میں ایک سکول میں استاد لگ گئے تھے۔محمدناصر الملک اپنی شہزادگی کے زمانے سے ان کو جانتے تھے۔جب اُنہوں نے چترال میں سکول قائم کیا۔توان کو وہاں ہیڈماسٹر مقرر کیا۔آپ کے زمانے میں سکول کومڈل کادرجہ نصیب ہوا۔ہزہائی نس محمد ناصر الملک ان کی بہت عزت افزائی فرماتے تھے۔ان کو شاہ ڈوک میں اپنی ذاتی جائیداد سے زمین بھی عطا کی تھی۔حمید اللہ مرحوم1944تک چترال سکول کاہیڈماسٹر رہے۔اسکے بعد ان کے شاگرد محمد جناب شاہ مرحوم ہیڈ ماسٹر مقرر ہوئے۔استاد حمید اللہ کوان کے ایک نا خلف بھتیجے نے1953میں ذاتی غرض کے لئے شہید کردیا تھا (بحوالہ راقم کی کتاب سرمحمد ناصر الملک صفحہ378-377)۔مداک سے تعلق رکھنے والے ایک اور شخصیت کاذکر بھی بے محل نہ ہوگا۔
مداک ملا: آپ کا تعلق بھی مداک سے تھا۔اسلئے اسی مناسبت سے معروف تھے۔آپ نے پشاور سے تحصیل علم کیا تھا اور بہادر کلی پشاور کے حضرت عبدالرحمن علیہ رحمتہ سے بیعت تھے۔اور زہدوعلم وعمل سے متصف تھے۔شاہی درباروں سے دور رہتے تھے۔تاریخ چترال (غلام مرتضیٰ) کے مطابق کسی کاجائز کام ہوتا تو سفارشات کا انبار اعلیٰ ٰحضرت شجاع الملک کوپیش کرتے۔اور پندو تصایح سے بھی نوازتے تھے۔آپ بمبوریت میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔آخر میں پشاور میں وفات پائی۔تو ناصرالملک نے جوان کے بڑے عقیدت مند تھے۔ان کا جنازہ چترال پہنچانے کا بندوبست کرایا اور بمبوریت میں دفن ہوئے۔

بیگالے :یہ قوم چترال کی قدیم ترین قوموں میں شمار ہوتی ہے۔نئی تاریخ کے مطابق(صفحہ 330)یہ نام میرزا بیگال نامی ایک معزز شخصیت سے منسوب ہے۔جن کا پردادا جلگاس کافر کی اولاد سے تھا۔اور رئیسہ دور میں چند قلعوں کامالک تھا۔ان میں سے میرزا بیگال کی شاہی خاندان میں رسائی ہوئی اور بحیثیت ایک اہم اہل کار کے اس نے ریاست کے لئے کئی اہم حصہ انجام دئیے۔بتایا جاتا ہے کہ کوچ کے چنار بھی اُنہوں نے لگائے تھے۔جو قلعے کے گرد باغ کا حصہ تھے۔شاہ ڈوک کی نہربھی انہی کی زیر نگرانی میں تعمیر ہوئی تھی۔مداک لشٹ کوبھی اسی نے آباد کیا تھا(بحوالہ
تنویرالملک)اور ان کے گاؤں کی مناسبت اس کانام مداک لشٹ رکھاگیاتھا۔لون گہکیر کی نہر بھی ان کے ہاتھ تعمیر ہوئی تھی۔اور اس کے سلسلے میں جوقواعد اس نے وضع کئے تھے۔ان پراب تک عمل ہوتا ہے۔البتہ اس قوم کی اصلیت کے بارے کنفیوژن ہے۔ریشن میں بتایا گیا تھا۔یہ لوگ ہاشم بیگم کے ساتھ یاسین سے آئے تھے۔اخونزادہ(صفحہ335)ان کوعرب شہزادے کی اولاد بتاتے ہیں اور رئیس دور سے تعلق بتاتے ہیں۔تنویرالملک نے بیگال کوامان الملک کا ایک کارندہ ظاہرکیا ہے۔

خوشے:
یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔
بڈونگے:
یہ قدیم وقت سے تعلق رکھنے والے قبیلہ ہے۔جوکسی زمانے میں یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔

(2) نشکو:
مداک کے قریب نشکو آباد ہے۔یہ بھی پہاڑ کے ڈھلوان کے ساتھ آباد ہے۔اسمیں مندرجہ قبائل آباد ہیں۔
دشمنے : یہ موڑکہو سے یہاں آئے۔
نسکتک :یہ قدیم قوم مڑپ میں بھی ہیں۔
ڈوٹے : قدیم قوم۔
بندالے :قدیم قوم۔
کتانے : قدیمی قوم۔تریچ میں بھی موجود ہیں۔

(3) کشم۔
ایک وسیع قریہ جومندرجہ ذیل دیہات پرمشتمل ہے۔پست خورا،گوشین،سوراغ،چھنی،باٹولاندہ،دستون،بہرچین،تھوسون،گاچھتر،گاڑوسوم،کڑوم دور،کھونیسں،اتروئ،پختوری اور ایک چھوٹا گاؤں کلاشان دہ۔

اسکے دیہات پہاڑ کے ڈھلوان کے ساتھ دریا تورکہو کے کنارے سے جو سطح سمندر سے2050میٹر بلند ہے۔سے3660میٹر کی بلندی تک واقع ہیں۔اسکے درمیان میں ایک نالہ شمال سے جنوب کی طرف بہتا ہے۔جو اسکو دوحصوں میں تقسیم کرتا ہے۔اس نالے کے دائیں طرف یعنی مشرقی حصے کو پختوری اور بائیں طرف نچھاغ یعنی مغربی حصے کو نچھاغ کہتے ہیں۔بلندی کے حساب دونوں حصوں کو مزید دودوحصوں یعنی بالا پختوری اور زیرین پختوری اور بالائی نچھاغ اور زیریں نچھاغ نام دئیے ہیں۔
کشم پر تحقیقی بہت کام ہوا ہے ایک محقق (ڈاکٹر ظہیراحمد)نے اس پرمقالہ برائے ایم فل ڈگری بھی لکھا ہے۔اس نے لکھا ہے کہ ڈاکٹر فیضی صاحب کے مطابق اس قریہ کابانی کشم باکے نام کا ایک شخص تھا جس نے1360ء میں اسکو آباد کیا تھا۔لیکن دوسرے محققین اور مقامی روایات کے حوالے سے بتاتا ہے کہ کشم باکے کے نام پراگرچہ کشم کانام پڑگیا ہے لیکن یہ قریہ پہلے سے آباد تھا۔کیونکہ ساتویں اور اٹھویں صدی کے درمیان جب یہ علاقے چینوں کے ماتحت تھے۔اسوقت اُنہوں نے پانی کے استعمال کے جو قواعد چھوڑے تھے وہ تاحال لاگو ہیں اور مقامی لوگ ان کی پیروی کرتے ہیں اور یہ روایت کرتے ہیں کہ یہ چینی دور کے یادگار ہیں۔
ویسے تو موڑکہو کاتمام زیربحث علاقہ پانی کے حوالے سے پیاسا (تھروشنی) ہے لیکن کشم اس لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے۔پھر بھی اپنے محدود پانی کے وسائل کو استعمال کرنے کا ان لوگوں نے ڈھنگ سیکھ لیا ہے جو صدیوں سے یہاں چل رہا ہے۔علم جغرافیہ میں مطابقت پذیری(Adaptability)ایک اہم موضوع ہے۔اس میں انسان اور اسکے قدرتی اور ثقافتی ماحول کے درمیان تعلق کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔اور یہ دیکھاجاتا ہے کہ کسطرح کس انداز میں انسان نے اپنے ماحول کو استعمال میں لاکے اپنے لئے جینے کا سامان پیدا کرلیا ہے۔اس لحاظ سے مطالعہ کرنے کے لئے تمام چترال ایک اہم لیباریٹری ہے۔اور یہاں کشم کے استعمال آب کے نظام کا مطالعہ بھی دلچسپ رہے گا۔
کشم میں استعمال آب کانظام :(بحوالہ ڈاکٹر ظہیر احمد)

(1) تمام علاقہ دوحصوں میں تقسیم ہے یعنی پختوری اور نچھاغ۔ان دوحصوں کو مزید دودوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں۔یعنی بالائی پختوری اور زیرین پختوری۔بالائی نچھاغ اور زیرین نچھاغ۔
(2)پانی کے ذرائع دونالے اور ایک چشمہ۔
(الف)کیانی بوم نالے کا چشمہ
(ب)تریچ آن نالے کا چشمہ
(ج)گرام ژوئے چشمہ۔

(الف)کیانی بوم نالے کا چشمہ3305میٹر کی بلندی پر پوٹونیو زوم (پہاڑ) سے نکلتا ہے۔جوتریچ آن پر واقع ہے۔اس میں پانی کی مقدار 6کیوسک (2خورا روغ یعنی دوچکی چلانے کے قابل پانی)ہے۔(کیانی بوم)اب کیا کروں)کی وجہ تسمیہ یوں بتاتے ہیں۔کہ اس کاپانی بہت ٹھنڈا ہوتا ہے پُرانے زمانے میں ایک مسافر پیاس کے مارے ایک سانس میں اس کا بہت سارا پانی پی گیا تھا۔پھر ٹھنڈکی وجہ سے مرنے لگا اور بے اختیار چیختارہا۔کیانی بوم،کیانی بوم(یعنی اب کیا کروں)۔آخر کارمرگیا)
(ب) تریچ آن چشمے کانالہ: اس کا منبع(Source) تریچ آن کے اوپر 4190 میٹر کی بلندی پر فاضل اب (Watershed)کی دوسری طرف ہے۔سردی کی وجہ سے یہ کئی مہینے منجمد رہتا ہے۔1930ء میں وہاں سے نہر نکال کر اس چشمے کوکشم کی طرف بہایا تھا۔اسکی مقدار 3کیوسک(یعنی ایک خوراروغ)ہے۔
(ج) گرام ژوے چشمہ۔یہ جشمہ تقریبا”دس ہزار فٹ کی اونچائی پر نکلتاہے۔ اسکی مقدار 1/2 کیوسک ہے۔ یہ مکمل طور پر۔ اشرف بابا نامی ایک خاندان کے تصرف میں ہے۔
اگرچہ انکا حصہ باقی پانی کے سسٹم میں بھی ہے۔

استعمال آب کا نظام۔
ان اول الزکر رواں نالوں کوتمام کشم والے استعمال کرتے ہیں۔استعمال آب میں دوباتوں کاخیال رکھا گیا ہے۔

الف: استعمال کنندگان کا استحقاق۔

ب:موسمی حالات کے مطابق پانی میں کمی بیشی کی وجہ سے استعمال کی ترتیب جوکہ مندرجہ ذیل ہے۔
جنوری تا مارچ: ھاتی سسٹم یعنی کھلا استعمال۔

اپریل جون:نیاتوغ(اوچھیوغ)قبیلوں کے مطابق تقسیم۔
جولائی دسمبر:سوروغ(انفرادی باری کے قواعد کے مطابق پانی کی بہم یابی)
ج:یومیہ حساب سے تقسیم۔

مارچ تاجون: بالائی حصے دن کے وقت
زیرین حصے رات کے وقت۔

وسط جولائی تاوسط ستمبر:رات دن کے تمام اوقات بالائی حصوں کے لئے(البتہ 8دن کے وقفے کے بعد زیرین علاقوں کے لئے48گھنٹوں کے مقررہ وقت کے لئے پانی کی بہم رسانی کی گنجائش رکھی گئی ہے۔

(چ)نروال سسٹم:
تختی میں سوراخ کونروال کہاجاتا ہے۔سب سے پہلے نالے کے پانی کودوحصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ایک حصہ پختوری کااور دوسرا حصہ نچھاغ کاہوتا ہے۔یہ سسٹم چینوں کانافذکردہ ہے۔اور تقریباً14,13سوسالوں سے رائج ہے۔پہلے دونوں حصوں کویکسان مقدار میں پانی فراہم کرنے کے لئے نالے میں دوسوراخ کردہ پتھر لگائے جاتے تھے۔1930ء میں ایک ترکھان نے اس جگے ایک چھوٹا ساحوض بنایا۔اسکے نکاسی کی جگہ ایک تختی میں دوبرابرسائز کے سوراخ بنائے۔جہاں سے پانی دونوں حصوں کوجاتا ہے۔آگے جاکے ہرحصے کے خاندان درخاندان پانی کاتقسیم درتقسیم جاری رہتا ہے۔یہاں تک کہ بعض خاندانوں کے حصے میں چاہتوغ یاجیرانوغ(یعنی چندقطرے)آجاتے ہیں اسطرح ان لوگوں نے نہ صرف اپنے محدود وسائل کو استعمال کرنے کا طریقہ نکالا۔بلکہ ان پر قناعت کرنا بھی سیکھا۔

کشم کے قبائل:
کشم میں مندرجہ ذیل قبائل آباد ہیں:

بوشے،داشمنے،بہرچون تک(اتم بیگے)سنگالے،موسنگھے،باٹویے۔ روشتےٹھولے،مانائیے،بیگانے،ڈولے(یاگاچھتریک)،شیغنئے،چاپانے،
خوشے،ڑاغے وغیرہ(ان پر آئیندہ قسط میں بحث کی جائے گی۔
(باقی آئیندہ)

terich upper chitral

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
76107

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط7) ۔ پروفیسر اسرار الدین

Posted on

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط7) ۔ پروفیسر اسرار الدین

موڑکھو:
دریائے تورکھوکے مغربی کنارے پروادی تریچ سے وادی اویر تک بلند ترین کوہساروں اور گہری وادیوں کی سرزمین موڑکھو تاریخی،جغرافیائی اورثقافتی لحاظ سے اہم خطہ رہا ہے۔جو انتظامی طورپر تحصیل ہے۔اور ضلع بالائی (اپر) چترال کا حصہ ہے۔شہزادہ تنویر الملک موڑکھو خاص کوکشم رشت سے موژگول تک آٹھ میل کے علاقے سے منسوب کرتے ہیں۔البتہ جغرافیائی طورپر ایک دریا کے طاس کے حدود کے اندر جو علاقہ ہوتاہے وہ ایک خطہ کہلاتا ہے۔اس لحاظ سے تریچ وادی سے کوشٹ تک کا علاقہ موڑکھو کہلانے کا مستحق ہوسکتا ہے۔بہرحال ہم انتظامی لحاظ سے جوموڑکھو کاعلاقہ ہے یہاں اس سے بحث کرینگے۔
موڑکھوکے اہم دیہات کے نام یہ ہیں۔

لشٹدہ،شاگروم،نراز،راغ،لاجوردی،زوندرانگرام،سیم تچ،لونکوہ،
اونچ،سوروخت،درولشٹ،نشکو، مداک،کشم،دراسن،سہرت،۔ واریجون،،اوتھول،نوگرام،زاینی،موژگول،موردیر،گہت،کوشٹ،۔ بمباغ،درونگاغ،گوہکیر،لون،شوگرام،برم،ریری،پارپش،شونگوش
(اویر)۔

موڑکھو کے مخصوص دیہات کا ذکر کرنے سے پہلے یہاں کی بعض خصوصیات کا ذکر ضروری ہے۔مثلاً
1۔کوہسار اور توہمات۔(2)روایات:
1 ۔کوہسار اور توہمات:

شومبرگ نامی ایک انگریز سیاح نے1930کے عشرے میں چترال کا سفر کیا تھا۔موڑکھو کے پہاڑوں کے بارے میں وہ لکھتے ہیں!(ترجمہ) ”اس علاقے میں کئی متاثرکن بلند پہاڑو ں کا سلسلہ ہے جو اپنے گلیشروں،برف پوش پہاڑوں اور اونچی چوٹیوں کی وجہ سے تمام ہندوکش کی شان ہیں۔دنیا میں ایسے مقامات بہت کم ہونگے جہاں اتنی مختصر جگے میں اس قدرعالی شان نظارے کسی کو حاصل ہوسکیں“۔۔ یہاں پرچند چوٹیوں کے نام یہ ہیں۔

تریچمیر(7708میٹر)،استورو نعل(نال(7344میٹر)،نوشاق (7497 میٹر)اورسراغرار(7354میٹر)۔ ا ن کے علاوہ کئی اور چوٹیاں ہیں۔5300میٹر سے اوپر اس علاقے میں کل 39چوٹیاں ہیں۔جوذیل گروپ میں منقسم ہیں۔
+5300میٹر والی چوٹیاں: ایک
+5700میٹر والی چوٹیاں: ایک
+6000میٹر والی چوٹیاں: 16(سولہ)
+6500میٹر والی چوٹیاں: 3(تین)
+7000میٹر والی چوٹیاں: 8(آٹھ)
+7400میٹر والی چوٹیاں: 10(دس)
ٹوٹل: 39۔

ان میں سے بلکہ تمام ہندوکش سلسلے میں تریچمیر سب سے اونچی چوٹی ہے۔پہلی دفعہ اس چوٹی کو1952میں پرفیسر نائیس(Neice) کی سرکردگی میں ناروے کی ٹیم نےسرکی تھی۔تریچ میرکو نہ صرف ہندوکش بلکہ تمام چترال کی شان تصور کی جاتی ہے۔وادی چترال کے اکثر حصوں سے اس کا خوب صورت نظارہ دلوں کو راحت پہنچاتی ہے۔پُرانے زمانے میں اس کے ساتھ منسوب پریوں کی کہانیاں چترال کے لوک روایات کااہم حصہ ہیں۔ایک انگریز مہم جو اور سرویئرکپٹن ڈی ایم برن نے1929ء میں ان علاقوں کی سروے کے دوران تریچ میر کے گردونواح میں کام کیا تھا اور مہم جوئی بھی کی تھی۔اس نے مقامی گائیڈ کے حوالے سے ان پہاڑوں خاص طورپر تریچ میر کے بارے لوگوں کی توہمات کاذکر کیا تھا۔جوہمالین جرنل جلد2سال1930میں چھپی ہیں۔ان کاخلاصہ یہاں پیش کیاجاتا ہے۔وہ لکھتے ہیں:

تمام پہاڑوں کے لوگوں کی مانند چترال کے لوگ بھی مختلف قسم کے توہمات میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ان کے خیال میں یہ پہاڑجنوں اورپریوں کے مسکن ہیں۔اور گلیشئر خطرناک قسم کے نہنگوں کی رہائش گاہ ہیں اورتریچ میر خاص طورپرپریوں کامسکن ہے۔تریچ میر میں ایک جگے پرسنگ مرمر سے بناہوا جھیل ہے جسمیں پریاں نہاتی ہیں۔اس جھیل کے قریب کوئی جانے کی جرات نہیں کرسکتا۔ورنہ اسکی موت یقینی ہے۔ ۔۔۔۔۔۔
terichmir lake scratch

یہ بھی لوگوں میں مشہور ہے کہ کسی زمانے میں ایک شہزادی کوجن اُٹھاکے لے گئے تھے۔جو بعد میں بڑی ہوکے بھی ان کے ساتھ تریچ میر میں محل میں رہتی تھی اور لوگوں نے اسکو گھوڑے کی سواری کرتے ہوئے بھی دیکھا۔شاہی خاندان میں خوشی اور غمی کے دوران یہ شہزادی اپنی سہلیوں کے ساتھ ان میں شریک رہتی تھی۔کہاجاتا ہے کہ اس شہزادی کے ماں باپ چارسوسال پہلے وفات پاچکے تھے لیکن یہ خود ابھی تک زندہ ہے۔یہ بھی کہاجاتا ہے کہ پریاں جنگوں کے دوران چترال کے بادشاہوں کی مدد کے لئے آتی ہیں۔ہرقلعے میں ڈھول لگے ہوتے ہیں۔ایسے مواقع پران ڈھولوں کو پٹتے ہیں تاکہ لوگوں کواطلاع ہوجائے اور ژانگ وار ساز بجاتے ہیں۔“

ان لوگوں کے خیال میں مارخور پریوں کی بکریاں ہیں جن کی پری چرواہے حفاظت کرتی ہیں۔کہاجاتا ہے کہ گلیشروں کے اندر بڑے بڑے نہنگ ہوتے ہیں۔جن کے سرگھوڑوں کے اور جن کی لمبائی 20فٹ ہوتی ہے ان کے منہ سے آگ برستی ہے۔گلیشر کے اندر بڑے بڑے مینڈک بھی ہوتے ہیں۔لوگوں میں یہ بھی توہم عام ہے کہ کھنڈر جگے جنوں کے مسکن ہوتے ہیں۔وہ اپنی شکلیں بدلتی رہتی ہیں۔کبھی کتے کی شکل اختیار کرتی ہیں اور کبھی گائے کی اور لوگ ایسی جگوں سے ڈرتے ہیں۔ان کے علاوہ مختلف جن پریوں کے اقسام ہیں جنکے نام یہ ہیں:

خانگی،جشتان،خاپھسی،۔ پھیروٹھس،چومورڈیکی،دیو،برزانگی،نہنگ وغیرہ۔ (2)تاریخی ورثے:شہزادہ تنورالملک نے اپنی کتاب ”موڑکھو“میں کئی قلعوں اور پُرانی کھنڈرات کاذکر کیا ہے۔یہاں صرف ان کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے تاکہ طوالت سے بچا جائے۔

(1) گوران شوغور قلعہ: یہ بہمن کوہستان کاقلعہ بتایا جاتا ہے۔مارخور کے سینگوں کو پائپ بناکے یہاں کے لئے اس زمانے میں پانی لایا گیاتھا۔یہ مژگول کے قریب تھا۔
(2)نوغورزوم قلعہ:جو سومالک کا قلعہ تھا۔
(3)کروئی سونو نوغور سہرت۔
(4)پلمات کھنڈرات۔
(5)لاچین بیگ کے قلعے کے کھنڈرات۔
(6)سان ڈوکو نوغور سہرت۔
(7)رئیس شاہ اکبر کے قلعے کے اثاریات(سہرت استاری)۔
(8)عالم کہن قلعہ کوشٹ۔
(9)شیرکھن قلعہ(سہرت اور گہت کے درمیان)۔کلاشی دورکاقلعہ۔
(10)دراسن قلعہ شاہ کٹور ثانی(1782ء) کی یادگار۔
(11)خراسان قلعہ کشم۔اندازلگایاجاتاہے کہ یہ بہمن کوہستانی کے دور کی یادگار ہے۔یہ اسی زمانے میں ابزرویشن پوسٹ ہوا کرتا تھا۔
(12)کلاش اثاریات،کلاش دورسے تعلق رکھنے والے بے شمار آثاریات موڑکھو کے مختلف دیہات مثلاً تریچ،سہرت،گہت،وریجون،کشم،کوشٹ،لون وغیرہ میں پائے جاتے ہیں۔مثلاًباشالینی،مالوش،بیٹان سڑہ،یپاراوک چشمہ،گاڑاکوشیں (یعنی گاڑاک کا باغ)شینگر پوشال(کسی کلاش رئیس کے مویشیوں کاباڑہ)۔ان آثاریات کے علاوہ کلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی قبیلے بھی موجود ہیں۔شیرکھن کے قلعے کا پہلے ذکر ہوا ہے۔جوکلاش سردار کا قلعہ تھا۔

(13)کوشٹ میں ایک مقام ہے اس کا نام بت تھا(اب یہ نام بدل دیاگیا ہے)لگتا ہے کہ پُرانے زمانے میں یہاں کوئی بت خانہ ہوگا۔
اس کا تعلق کالاش دور سے ہوگایا (راقم (اسرار الدین)کے خیال میں یہ ہندو یا بدھ مت کے زمانے کی کوئی نشانی ہوگی،چاہئیے کہ اس جگے کی کھدائی کی جائے تاکہ مزید معلومات حاصل ہوسکیں)۔بحوالہ کتاب موڑکھو از شہزادہ تنویرالملک۔صفحات8تا14)۔
(3) روایات: موڑکھو کاعلاقہ مختلف قسم کے روایات کاخزانہ ہے کچھ کا قبیلوں کے تذکرے میں حوالہ دیاجائے گا یہاں صرف ”کھوبوخت“کاذکر کیا جاتاہے۔
کھو بوخت ۔شہزادہ تنویرالملک نے(موڑکھو صفحہ2تا3)میں اس کا ذکریوں کیا ہے۔”کھوبوہت سے مراد وہ پتھر جہاں کھوار زبان کی ابتدا ہوئی۔اس پتھر سے کچھ فاصلے پرایک چھوٹا چشمہ بھی موجودہے۔۔۔روایت مشہور ہے کہ موڑکھو میں انسانی آبادی کی ابتداکے وقت ایک فقیر کا گذر اس علاقے سے ہوا توانہوں نے چشمے اور پتھر کودیکھ کراس جگہ اقامت اختیار کی۔فقیر چشمے سے وضو کرتے پتھر کے اوپر نمازپڑھتے اور پتھر کے نیچے (جہاں غار تھا)اقامت اختیار کی۔کچھ عرصے کے بعدمزید چھ فقیر اس علاقے میں واردہوئے۔انہوں نے پہلے والے فقیر کی اقامت میں اس پتھر پرنماز اداکی۔کچھ عرصہ بعد وہ سب شمال کی طرف کہیں چلے گئے۔اس واقعے کے بعد مختلف ملکوں اور علاقوں سے آنے والے افراد اس علاقے میں بودوباش اختیار کرتے گئے جس سے یہاں آبادی کی طرح پڑی مختلف اقوام کی تہذیب وتمدن اور زبان کے اختلاط اور آپسمیں میل جول سے ایک نئی تہذیب اور زبان کھوار نے جنم لیا۔اس زبان کے بولنے والے کھو کہلائے۔تاہم یہ روایت تاریخی طورپر درست نہیں کیونکہ موڑکھو میں انسانی آبادی کے آثار اس علاقے میں اسلام کی آمد سے صدیوں پُرانے ہیں“۔

اخوانزادہ نے کھوبوخت کے بارے میں یوں لکھا ہے۔”رئیس خاندان کادارالحکومت دراسن میں تھا۔شاہ رئیس (اکبررئیس) نے تمام بالائی چترال کی مختلف زبان بولنے والی اقوام کو شاہی قلعہ میں مدعو کیا۔ اور تمام اقوام کی نمایندہ ایک شوریٰ تشکیل دی گئی۔شوریٰ کی پہلی میٹنگ ایک بڑے پتھر پرمنعقد ہوئی۔پھر متفقہ طورپر اہلیان چترال کی مختلف زبانوں کی آمیزش سے ایک نئی زبان وجود میں لائی گئی اور اس علاقے کی نسبت سے زبان کانام کوہ وار (یعنی پہاڑوں کے درمیان رہنے والوں کی زبان)رکھاگیا۔تحصیل موڑکھو علاقہ سہت میں جس پتھر پر یہ میٹنگ منعقد ہوئی تھی۔اسے اب کھوار بوخت کہتے ہیں۔

”چترال میں کوہ وار زبان رائج ہونے سے قبل یہاں کوہ قوم یاکھو قوم کا وجود ہی نہیں تھا۔جب کھوار زبان وجود میں آئی توکھوقوم بھی وجود میں آئی۔“(تاریخ تعارف اقوام چترال۔از اخونزادہ۔صفحات18-17)۔اس روایت سے اسلئے اتفاق کرنامشکل لگتا ہے۔دنیامیں جتنی زبانیں ہیں۔کوئی زبان بھی اس طرح ملک کا دستور یا آئین تشکیل دینے کی مانند کسی مجلس شوریٰ کے ذریعے وجود میں نہیں آئی۔لے دے کے اسپرانٹو نام کی ایک زبان پولینڈ کے شہر وارسا میں ایک شخص نے تشکیل دی تھی۔یہ 1887ء کاسال تھا۔اس کا یہ خیال تھا کہ بہت زیادہ زبانوں کی وجہ سے قوموں کا ایک دوسرے سے رابطہ مشکل ہوجاتا ہے۔اسلئے زبانوں کے اختلاط سے ایک بین الاقوامی زبان تشکیل دی جائے۔چنانچہ اس نے یورپ میں بولنے والی زبانوں کے اختلاط سے اسپرانٹونام کی زبان بنائی۔لیکن اب تقریباًڈیرھ سوسال گذرنے کے بعد اسکی کوئی خاص پزیرائی نہیں ہوئی۔اتنا عرصہ گذرنے کے بعد کہیں جڑنہ پکڑ سکی۔اور کئی ملکوں کو ملاکے بھی اس کے بولنے والے دولاکھ سے کم ہیں۔زبانوں کی ارتقائی تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ کسی بھی زبان کی ارتقاء ایک طویل عمل کے نتیجے میں ممکن ہوجاتا ہے۔اس طرح یقینا کھوار کے ساتھ ہوا ہوگا۔ماہرین لسانیات اسکو قدیمی(Archaic)زبان تصور کرتے ہیں۔سنسکرت،غالچہ زبانیں،فارسی اور برشسکی کے پراثرات واضح ہیں۔حال ہی میں محمدالیاس خواجہ نے اس پرترکی زبان کے اثرات پربحث کی ہے۔جوقابل تعریف ہے(دیکھئے اس کامضمون Influence of Turkish on Khowar)۔وقت کے ساتھ سائنسی انداز میں تحقیق کرنے پر آگے مزید حقائق سامنے آتے رہنگے اور ہمیں ان خود ساختہ روایات سے چھٹکارا مل جائے گا۔بہرحال کھو بوخت کے بارے اتنا کہا جاسکتا ہے کہ یہ کسی زمانے میں کھوریاست اور غیرکھوریاست کے درمیان حد بندی ہوگا۔(اس امر پر کئ دوسرے سکالرز بھی میرے ساتھ متفق ہیں )اسلئے اسکی تاریخی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا

۔بعض حضرات نے کھوہ یعنی غار کی مناسبت سے یہ تھیوری بنائی ہے کہ کھو لوگ قدیم زمانے میں غاروں میں رہتے تھے اسلئے ان کانام کھو پڑگیا ہوگا۔ثبوت کے طورپر یہ بھی کہتے ہیں کہ چینی زبان میں کھو غار کو کہتے ہیں۔حالانکہ کھولفظ چینی زبان میں تین طرح سے لکھا جاتا ہے جنکے معنی اجازت دینا،وعدہ کرنا اورکسی کی تعریف کرنی ہے۔ کھو کے بارے میں ایک نئی تھیوری:
ڈاکٹر سپنسر ویلز(Spencer Wells) نے کئ ملکوں کے لوگونکےDNAsکامطالعہ کرکے ان کے بارے میں اہم انکشافات کئے ہیں۔ان میں چترالی بھی شامل ہیں۔یہ معلومات امریکن محقق اسماعیل سلون(جس نے کھوار انگلش ڈکشنری بھی لکھی ہے)نے میرے ساتھ شئیر کی تھی۔ان کے مطابق ڈاکٹر سپنسر نے ایک نقشہ بنایا ہے جس میں 50ہزار سال پہلے سے افریقہ کے مشرقی ساحل سے تمام لوگوں کا جد امجد (جسکا نام اس نے M168رکھا ہے) چلتا ہے اور بحرقلزم کوپار کرکے یمن پہنچ جاتا ہے اب اس کانام M89 ہو جاتاہے۔یہ جزیرہ نماعرب کوپار کرکے عراق پہنچ جاتا ہے یہاں اس کانام بدل کےM9بن جاتا ہے۔یہ قبیلہM9ایران اور افغانستان کوپارکرکے مختلف اطراف کی طرف شاخیں نکالتا ہے۔ایک شاخ شمال کی طرف کو چترال کی طرف جاتی ہے۔پھریہ شاخ وہاں سےM45قبیلے کی شکل اختیار کرکے تاجکستان چلی جاتی ہے۔اسکے بعد پہلےM173بعدمیں M343بن جن کے انگلستان پہنچ جاتا ہے۔یہ بھی نشاندہی کی ہے۔جنوبی یورپ اور مشرقی یورپ کے باسیM343نہیں ہیں۔یہ لوگ بہت بعدمیں کہیں دوسری جگہ سے آئے ہیں۔اور ترکی سے ہوکے یونان،بلغاریہ،جارجیا اور کوہ قاف کے نواحی علاقوں میں آباد ہوئے۔

اس سلسلے میں ایک قباحت وقت کا تعین کرنا ہے۔کیا یہ لوگ برفانی دور(جو15 ہزار سال پہلے تک رہا ہے)سے پہلے یہاں منتقل ہوئے یابعد میں ۔ یورپ میں M343سے آنے سے پہلے نیندرتھالز نامی لوگ رہتے تھے۔ایسا لگتا ہے یاتو یہ لوگ ختم ہوگئے تھے یاM343والوں نے ان کو ختم کیا“ڈاکٹر سپنسر کی اس تحقیق کی بنیاد پراسماعیل سلون یہ تھیوری پیش کرتا ہے۔

”کہ یورپ کے موجودہ لوگ15ہزار سال پہلے جبکہ برفانی دور ختم ہورہا تھا پہنچ گئے ہوں گے۔یعنی پہلا موجودہ یورپین وہاں پہنچ گیاہوا۔یہ وہ زمانہ تھاجب ان لوگوں کی ایک شاخ چین جاپان سے ہوتے ہوئے ایلاسکا(امریکہ)پہنچ گئی تھی۔اس زمانے میں تمام دنیا میں برفانی دور کا اختتام ہورہاتھا۔اس سے مزید یہ لگتاہے کہ یہ چترالی اورنورستانی لوگ(بشمول کلاش)ان آریاوں سے نہیں تھے۔اور افغانستان کوپارکرکے ہندوستان تک پھیل گئے تھے۔بلکہ چترال کے(قدیمی لوگ)15000سالوں سے یہاں آباد تھے۔یہ اس قبیلے کے پسماندہ لوگ تھے۔جوپامیر کوبروغیل درے سے پارکرکے(M45)کی شکل میں شمال کی طرف چلا گیا تھا۔سلون کے مطابق چترالیوں کو اس زمرے میں فٹ کرنے کے لئے ذیل وجوھات ہیں:

1۔ یہ لوگ شکل وشباہت میں یورپین لوگوں کی طرح ہیں۔
2۔ اسلام آنے سے پہلے ان کے جومذاہب تھے وہ یورپ لوگوں کے پُرانےمذاہب جیسے تھے۔اورکلاش اب تک اسی مذہب پرہیں۔
3۔ چترالیوں کی زبان کھوارکوماہرلسانیات زبانوں کی انڈویورپین زبانوں میں سب سے قدیم زبان تصور کرتے ہیں۔
4۔ بروغیل کا درہ چترال سے وسطی ایشیا ء داخل ہونے کا دروازہ ہے جس سے اس زمانے میں اس کی شاخ وسطی ایشیاء میں داخل ہوئی ہوگی اوروہاں سے آگے تک چلی گئی ہوگی۔(ڈاکٹر سپنرو غر کے نقشے کا حوالہ ویب سائٹhttps//www5_nationalgeographic.com/genographic/atlas.html)
راقم ناچیز کایہ خیال ہے کہ اپرچترال کاعلاقہ تاشاشہ گلشیالوجسٹس (Glaculogists)کے اندازوں کے مطابق تقریباًدس ہزار سال پہلے تک گلیشئر سے بھراہواتھا۔اسلئے اگرM45قبیلہ یہاں سے گذرکے وسطی ایشیاء گیاہوگا۔تووہ جنوبی چترال میں سے ہوکے لنکوہ کے راستے دوراہ درے سے وہاں داخل ہواہوگا اور اسکے جو پسماندہ لوگ ہوں گے وہ جنوبی چترال سے کنڑ کے علاقوں تک آباد ہوئے ہوں گے۔

وادی تریچ:
مقامی روایات کے مطابق رئیس دور میں زوندران گرام اور لون کوہ آباد تھے۔باقی تمام حصہ جنگلات سے بھرا تھا۔اسکے بعد جوں جوں نئے لوگ آتے رہے۔تریچ وادی کے دیگردیہات آباد ہوتے رہے۔اس وقت تریچ وادی کے ذیلی نالے روش گول اور ادرین گول سے درے بدخشان کی طرف کھلتے تھے اور یہاں سے بدخشی لوگ گھوڑوں پر آیاکرتے تھے۔اور یہاں ان سے جھڑپیں بھی ہوتی رہتی تھیں۔اس وقت کے کھنڈرات جگہ جگہ موجودہیں۔یہ درے غالباً سترویں صدی میں بند ہوئے۔وہ اس طرح کہ ان بدخشی لوگوں سے حفاظت کرنیکی خاطر جواکثر گھوڑوں پرآجاتے اور یہاں سے مال مویشیوں کواُٹھاکرلے جاتے تھے۔لوگوں نے مصنوعی گلیشئر پلانٹ (Plant)کرنے کی ترکیب کی۔بتایاجاتا ہے کہ ایک مقامی خاتون نے جسکا نام عاقل جمال تھا نے اس زمانے میں تجویز کی تھی کہ ان دروں میں مصنوعی گلیشئرلگالیں۔اس نے اس کا طریقہ بھی بتایا تھا۔(یہاں آگے اسکا طریقہ بتایا جاتا ہے)چنانچہ اس عمل کوکرنے سے یہ درے بند ہوگئے۔البتہ کہاجاتا ہے کہ پید ل کیلئے اب بھی کھلے ہوتے ہیں۔اس طرف سے واخان میں داخل ہوجاتے ہیں۔البتہ استعمال زیادہ نہیں۔
مصنوعی گلیشئر(شایوز)لگانے کی روایت اور اس کا طریقہ۔

(نوٹ)یہ مضمون ڈکٹر الینہ بشیر نے مرحوم مولا نگاہ کی مددسے لکھا ہے۔اوریہ2008میں جرنل آف ایشین سویلایزیشن میں چھپاتھا)

(ترجمہ)مصنوعی گلیشئر بنانے کاطریقہ چترال میں قدیم زمانے سے رائج ہے۔اس کا طریقہ یوں ہے کہ دومختلف پہاڑوں سے ایک بالکل صاف شفاف منجمد شدہ نیلی برف اور دوسرا سفید مٹی میں آلودہ منجمد برف لائ جاتی ہیں۔ان دوقسم کی برفوں کودوبڑے بڑے مٹی کے برتنوں میں بھردی جاتی ہے۔اور ان کو جہاں گلیشئر لگانا ہے وہاں بڑا خندق کھودکے ایک دوسرے کے آمنے سامنے اس طرح لگاتےہیں کہ ایک برتن خندق کے ایک سرے پراور دوسرا دوسرے سرے پرہوتے ہیں۔،ان دوقسم کے منجمد برفوں تک ہوا پہنچنے کے لئے ایک شگاف بنائی جاتی ہے۔اسطرح ترتیب دینے کے بعد بھوسہ،گھوڑے کی لید اور نمک لاکے برف کے ساتھ ملاکے اور ان دوگھڑوں کے درمیان خالی جگے کوبھردی جاتی ہے اور پھرا س بھوسہ،لید اورنمک ملی برف کوپاؤں سے خوب پامال کردی جاتی ہے۔اسکے بعد کافی ساری برف اسمیں ڈال کے چھوڑدی جاتی ہے۔اور خزان میں جب یہ سارا عمل انجام دیا جاتاہے۔ اسکے بعد موسم سرما میں دونوں مٹی برتنوں والی منجمد برف اُبھرنا شروع ہوجاتی ہیں۔اورایکدوسرے کی طرف بڑھنے لگتی ہیں۔یہاں تک ایک سال گذرنے کے بعد ان کی مقدار دوگنی ہوجاتی ہے۔بلکہ اس مقدار سے بھی بڑھ جاتی ہیں۔اسکے بعد سال گذرنے کے ساتھ اورسردیوں میں برف باری کے ساتھ)وہ بڑھتی جاتی ہیں۔اور ایک سال مزید گذرنے کے بعد اورسردیوں میں برف باری کے بعد برتنوں والی برف مزید دوگنی ہوتی ہے۔اس طرح دوگنی ہوتی ہوئی5سال گذرنے کے بعددوبرتنوں کے درمیان والی برف بھی منجمدہوجاتی ہے اور اسطرح یہ تمام برف ایک ساتھ مل جاتی ہیں۔اپس میں ملنے کے بعد یہ برف زمین کے اندر اپنے لئے جگہ بنانے لگتی ہے۔اوررفتہ رفتہ ایک سوفٹ تک گہری چلی جاتی ہے۔اسکے بعد یہ منجمد برف دوبارہ ابھر کے اوپر آجاتی ہے اور اوپر موجود تمام برف کو اپنے ساتھ منجمد کرلیتی ہے اور رنگ صاف شفاف اور نیلا ہوجاتا ہے۔یہ اسطرح تمام منجمد برف گلشئیرکی شکل اختیار کرلیتی ہے۔
دیہات اورقبیلے (بحوالہ شاہ حسین گہتکی)
تریچ کے دیہات ذیل پرمشتمل ہیں۔

شوچ،وریمون،شاگروم،بولموشے،پارسنگھ،اوچ،زوندران گرام،موڑڈہ،کلاشان دور،لولیمی،لون کوہ،ومثرد،سوروخت۔ وغیرہ۔
سوچ:
قوبیلے،واخان،غوڑولے اور صبورے ماژے کی شاخ۔
شوچ غاڑ،
چرونے کشم سے۔
وریمون:
شاہ بازے،دروازے،فاضلے،یہ ماژے کی شاخیں ہیں۔
شاگروم:
شان ڈوئے،بولے،گوژالے،بول موشے ۔یہ قدیم زمانے سے آباد قبیلے ہیں۔جبکہ کلب حسینے ماژے کی شاخ ہیں۔
پارسنگھ:
خوجہ(سومالکی قبیلہ)تھاشے اور جمیلے ،شیریکے قدیم قبیلہ۔ میرغش:
اوچ اور خبیرے واخان سے،موسنگھے گلگت سے،چیغبرے ہنزہ سے،گوژالے گوجال گلگت سے اور پولادے،شوٹے اور کتانے قدیم قبیلے،باوڑے ورشگوم سے،حقونےورشگوم،ڈاڑلے،سوقلے،کتنے،بندالے نسکتک قدیم قبیلے۔
زوندران گرام۔

زوندران گرام کے وجہ تسمیہ کے بارے شاہ حسین گہتوی زوند نے اپنی حال ہی میں شایع شدہ کتاب اوراق گلگت و چترال صفحہ183میں لکھتے ہیں کہ ” عہد قدیم میں گرام بستیوں کے ناموں کا حصہ بنتے تھے۔ جو سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ جس کا مطلب گاؤں یا بستی ہے۔ زوندران گرام کا مطلب زون کی بستی ہے۔ ضلع اپرچترال کا زون دران گرام اور علاقہ گلگت کا کرایہ گرام ایک قبیلہ سے منسوب نام ہیں۔ علاقہ تریچ بالا کے تین مقامات کے ناموں کے ساتھ لفظ گرام استعمال شدہ ہے۔ یعنی زون دران گرام ،زور گرام اور سری گرام ۔”

راقم کی سروے کے مطابق مقامی روایات سے پتہ چلتا ہے کہ واریمون،زوندران گرام اور لون کوہ رئیس کے دور سے آباد تھے۔یہاں ماژے،داشمنے،اتام بیگے،رضا،قوبیلے،شاڑیکے،زونے،باٹے،بولے،کٹورے اور زوندرے آباد ہیں۔
ماژے ۔
رئیس دور میں یارکند سے آئے تھے۔وہاں سے پہلے ورشگوم،بعد میں لنکوہ اسکے بعد بعض چترال،وہاں سے موڑکھو پھروہاں سے تریچ آکر آباد ہوئے،ان میں بعض اب بھی کوراغ،ریشن اور لنکوہ میں آباد ہیں۔ماژے نام کے بارے یہ روایت ہے کہ ان کے جدامجد کانام ماج تھا۔جس سے ماج قوم بنی۔جوماژے کہلائی۔اخوانزادہ کے مطابق (صفحہ360)ماژے کا جد امجدایک رئیس شہزادی،شہزادی مختوم کابیٹا تھا۔شروع سے شہزادی مختوم کامسکن زوندران گرام تھا۔یہیں سے اسکی کئی شاخیں تریچ وادی کے کئی دیہات میں پھیلیں۔یہاں سے باہرکوراغ،زئیت،ریشن اور لنکو میں یہ قوم آباد ہے۔“

چترال خاص اوچشٹ قرئیے کے ساتھ مختون آباد کاگاؤں واقع ہے۔اسے اس شہزادی سے منسوب کرتے ہیں۔نئی تاریخ چترال کے مطابق (صفحہ 38)۔شاہ نادر رئیس(1320تا 1341)پہلے رئیس حکمران تھے۔جس نے جنوبی چترال میں کلاشوں سے حکومت چھینی تھی۔اور یہاں تک اپنی سلطنت وسیع کی تھی۔اس نے اوچشٹ میں بالاحصار جوکلاشوں کا قلعہ تھا کو مسمار کیا تھا۔ایسا لگتا ہے اسکے بعد ان رئیس حکمرانوں میں سے کسی نے اپنی اس شہزادی مختون کی مناسبت سے اس گاؤں کانام مختون آباد رکھدیاہوگا۔ماژے قوم کا رئیس خاندان کے دورمیں بہت اثررسوخ رہاتھا۔کیونکہ نئی تاریخ چترال(صفحہ38)کے مطابق اسی قوم کے ایک شخص کی مدد سے تورکھوموڑکھو کے علاقے کے حکمران یارخان کوٹھکانے لگایا تھا۔اورتورکھوموڑکھو کے علاقوں کو رئیسوں کی سلطنت میں شامل کیا گیا تھا۔گذشتہ صدی میں اس سے دو شخصیات خاص طورپر ممتاز رہے جن کاذکر یہاں بجاہوگا۔

مولانا فضل الرحمان (المعروف پھگڑے بوتیرو)مرحوم علم وعمل کے حوالے سے آپ نہ صرف اس قوم کے بلکہ تمام چترال کے لئے ایک قابل قدر ہستی تھے۔ان کے آباواجداد چارپشتوں سے تریچ سے دروش منتقل ہوگئے تھے اور اُنہوں نے1924ء میں تحصیل علم سے فارغ ہوکر جب چترال آئے تو ہزہائی نس محمد شجاع الملک نے ان کومیزان شروع کے ساتھ شاہی مسجد میں شاہی مدرسے میں استاد مقررکیا۔بعد میں جب چترال سکاؤٹس قائم ہواتو 1942ء میں ہزہائی نس محمد ناصرالملک نے ان کو بہ حیثیت خطیب اور پیش امام دروش چھاونی میں مقرر کیا۔ساتھ ساتھ وہ دروش ہائی سکول میں بہ حیثیت معلم دنیات بھی خدمات انجام دیتے رہے۔یہاں سے بعد میں دارالعلوم ربانیہ دروش میں مہتمم اور مدرس رہے اور تاوفات(1983ء) یہاں درس وتدریس کے فرائض انجام دیتے رہے۔آج چترال کے اکثر علمائے کرام آپ سے بالواسطہ یا بلاواسطہ علمی استفادہ کردہ ہیں۔(حوالہ غلام فمرتضیٰ صفحہ396اوراخونزادہ362-360)۔

محمد جناب شاہ مرحوم:
چترال کی عصری تعلیم میں ترقی کے حوالے سے اگر مستقبل کامورخ کچھ لکھے گا۔تویقینامحمد جناب شاہ صاحب مرحوم کاذکر زرین الفاظ سے کرے گا۔آج چترال میں جتنے بھی عصری تعلیم سے مستفیض لوگ ہیں۔بالواسطہ یابلاواسطہ طورپر وہ سب آپ کے مرہون منت ہیں۔آپ کا تعلق بھی ماژے خاندان سے تھا۔آپ کے والد محمد عارف شاہ جنگ بریکوٹ میں شہید ہوئے تھے۔یہ اس وقت یہ ایک نومولود بچے تھے۔لیکن بعد میں ان کی والدہ کی ہمت اور بزرگوں کی شفقت سے ان کوپشاور بھیجا گیا۔جہاں وہ اپنی خدا داد لیاقت اور محنت و شفقت سے سکول میں اعلےٰ کردگی کامظاہرہ کرتا رہا۔جسکے نتیجے میں آپ کو اسلامیہ کالج میں داخلہ ملا۔بی اے اعلےٰ ڈویژن میں پاس کرنے کے بعد آپ کی رائل انڈین ایرفورس میں بطورپائلٹ سلیکشن بھی ہوگئی تھی۔لیکن چونکہ ہزہائی نس محمد ناصر الملک چترال کے سکول کوقائم کرکے ان کے انتظار میں تھے کہ وہ اگر سکول کا انتظام چلا دے گا۔اسلئے ان کو پائلٹ بننے کی اجازت نہ دی گئی اور بی ایڈ پاس کرکے چترال آئے۔اس وقت ناصر الملک وفات پاگئے تھے لیکن ان کے بھائی ہزہائی نس محمد مظفر الملک نے ان کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ان کی خوب قدر افزائی کی اس طرح وہ سکول کے سربراہ بنے فاور رات دن اسکی ترقی کی کوشش کرتے۔ان کے زمانے میں ان کے تعاون سے پاکستان بننے کے بعد میراعجم خان اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے1951ء میں مڈل سکول کوہائی کادرجہ دیا۔1953میں جب انتظامی طورپر چترال میں نئی تنظیم ہوئی توآپ کو وزیرتعلیم مقرر کردیا گیا۔اور ریٹائیرمنٹ تک اس عہدے پرفرائض سرانجام دیتے رہے۔اور تمام چترال میں ہائی مڈل اور پرائیمری سکولوں کا جھال پھیلادیا۔اسکے لئے ان کوسالانہ تمام چترال کا پیدل دورہ کرنا پڑتا تھا۔اس طرح انہوں نے چترال کو تعلیمی طورپر ایک محفوظ اور مستحکم تعلیمی بنیاد فراہم کی۔اس کے لئے وہ ہمیشہ یادرکھے جائینگے۔حکومت پاکستان نے ان کی خدمات کی پزیرائی کے طورپر تمغہ خدمت کا میڈل ان کوعطا کیا۔

یقینا ایرفورس کی ملازمت سے ان کو ذاتی طورپر فوائد حاصل ہوسکتے تھے۔لیکن قدرت نے ان سے قومی تعمیر کا جو کام لینا تھا۔اس سے انہوں نے تاریخ میں اپنے لئے جومقام بنایاوہ دوسری طرح حاصل کرنا شاید مشکل تھا(حوالہ راقم کی کتاب محمد ناصر الملک صفحہ776_375)۔(موڑکھو جاری باقی ایندہ)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
75537

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط6) – پروفیسر اسرار الدین

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط6) – پروفیسر اسرار الدین

وادی تورکھو(جاری)

کھوت کے قبائل
قریہ کھوت میں مندرجہ قبائل اہم ہیں۔
خوشے: یہ قبیلہ رئیس خاندان کے اولین دور میں چترال وارد ہوئے تھے۔اس سے پہلے بعض روایات کے مطابق شرق اوسط یعنی عرب علاقوں سے مسلمان فوجوں کے ساتھ وسطی ایشیاء آئے تھے۔اور کاشغرمیں قیام پذیر ہوئے تھے۔اسکے بعد اس خاندان سے تعلق رکھنے والا ایک رئیس جسکا نام توران شاہ تھا۔وہ چترال آئے اور واپس چلے گئے اور بلخ میں وفات پائی۔ان کے تین بیٹے داستان شاہ،بوستان شاہ اور آستان شاہ واپس چترال آکر آباد ہوئے۔چونکہ یہ خاندان وسطی ایشیاء میں اہم مرتبے کے مالک تھے۔اسلئے چترال کے رئیس بادشاہ نے بوستان شاہ کوعلاقہ تورکھو،دستان شاہ کی اولاد کو ڑاسپور تابشقار اور استان شاہ کوموڑکھو میں جاگریں عطاکیں۔اس طرح یہ لوگ چترالکے مختلف حصوں میں بس گئے۔اور ان کی اولادکٹور خاندان کے تمام دور اقتدار میں بھی معتبر رہے۔اسی خاندان کے میر خوش کاپہلے ذکرہوا ہے جسکا نام روایات میں شاہ خوش امد بیگ آیا ہے۔نے بائیکے قبیلے کے بڑوں کے تعاون سے راژوئے(نہر) کی تعمیر کی تھی۔(حوالہ اخونزادہ۔اقوام چترال۔صفحہ 185تا192)۔۔

خوشے کے بارے میں حال ہی میں تاریخ کاشغری کے حوالے سے پروفیسر ممتاز حسین نے یہ معلومات بہم پہنچای ہے۔
“تاریخ کاشغری کے مطابق میر عبد ا للہ خان نے شاہ بابر ریئس کے زمانے میں بولور پر حملہ کیا گیا تھا۔اور میر خوش کو یہاں کا قاضی مقرر کیا گیا تھا۔ یہ 1660ء کاواقعہ تھا۔”

بائیکے: مقامی روایات کے مطابق یہ قبیلہ یارخون سے آکر یہاں آباد ہوا۔یہ رئیس کی بیٹی کی اولاد میں سے ہیں اور رئیس خاندان کے آخری دور میں اس قوم کی دادی یہاں آکر آباد ہوگئی تھی۔یہ قوم ریچ،اوژنو،واسچ،شوت خار میں بھی آباد ہیں اور زیادہ تریہ لوگ کھوت میں ہیں۔اخونزدہ کے مطابق ان لوگوں کا اصلی تعلق آرمینیا سے تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد اس قبیلے کے ایک بزرگ جسکانام سید عیسےٰ تھا۔پہلے بدخشان اسکے بعد چترال وارد ہوئے۔اس بزرگ جس نے راہ طریقت اختیار کی تھی اور اسی حوالے سے رئیس حکمران کے دربار میں رسائی حاصل کی۔بادشاہ نے ان کی صفات سے متاثر ہوکر اپنی بیٹی کی شادی ان سے کرلی۔بزرگ خودتو واپس کہیں چلاگیا البتہ اسکی بیوی جوشہزادی تھی اور حاملہ بھی تھی۔اپنے سوتیلے بیٹے کیساتھ تورکہو آئی۔جہاں اس وقت خوشے قبیلے کا اقتدار تھا۔اور ان کے جد امجد خوش بابا جو رئیس حکمران کی طرف سے اس علاقے میں ان کے نائب تھے نے اس شہزادی کو بہت زیادہ عزت وتکریم کے ساتھ خوش آمدید کہا۔اور ان کویہاں بسالیا بعد میں اس خاتون کاجولڑکا پیدا ہوا۔جسکا نام بائیک رکھا گیا۔آگے چل کر اسکی اولاد بائیکے کہلائی۔اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئی مشاہیر گذرے ہیں جومختلف رئیس اور کٹورحکمرانوں کے ادوار میں مشہور ومعروف رہے اور صاحب اقتدار رے۔ان میں غازی محمد عیسےٰ کاذکر پہلے گذرچکا ہے۔

لالیکے : یہ رئیس دور سے تعلق رکھتے ہیں اور نہایت قدیمی باشندے ہیں اور غالباً بدخشان سے آئے تھے۔داشمنے اور زوندرے بالترتیب کٹور دور میں موڑکھو مستوج سے یہاں آکر آباد ہوئے۔
قوزیئے: یہ بشقار سے کٹور اول کے دور میں آئے تھے۔
ساڑھے: یہ بھی قدیم باشندے ہیں ان کے اصل وطن کاپتہ نہیں۔
ڈنزے: یہ بائیکے قوم کی دادی شہزادی کے ساتھ یارخون سے آئے تھے۔
دارغیر: یہ ورشگوم سے کٹور کے دور میں آئے تھے ۔

جیسا کہ ظاہر ہے خوشے اوربائیکے کے بعد یہ باقی قبائل راژوئے کی تعمیر کے بعد وقتاً فوقتاً آکرآباد ہوتے رہے۔راژوئے سے پہلے صرف چشموں کے ذریعے کچھ تھوڑی بہت آبادیاں تھیں۔لیکن اس نہرکی تعمیر کے بعد کھوت لشٹ آباد ہوا اور پوچونگ تک آبادیاں وجود میں آئیں۔مختلف لوگ آتے رہے اورتمام کھوت قریہ آباد ہوا۔بتایا جاتا ہے کھوت میں رئیس دور کے قطعے کے کھنڈرات اور دیگر کھنڈرات اب تک موجود ہیں۔پروفیسر ممتاز حسین کی تحقیق کے مطابق کھوت لفظ کوٹ سے نکلا ہے جو داردی زبان میں قلعہ بند علاقے کو کہتے ہیں“ چونکہ کھوت گرداگرد پہاڑوں میں گھرا ہوا قلعہ بند علاقہ ہے ۔اس لیے کوٹ یا کھوت نام موزوں لگتاہے۔ البتہ اس نام پر کچھ اور مقامات بھی جگہ جگہ پاے جاتے ہیں۔ مثلا” درکھوت، رباط کھوت وغیرہ۔

4۔مڑپ:
رائین کے پاس مڑپ نالہ دریا ئے تورکھو کے ساتھ شامل ہوجاتا ہے اس نالے کے ساتھ9800فٹ کی بلندی پرکئی چھوٹے موٹے دیہات ہیں۔جومل کے مڑپ کہلاتے ہیں۔دیہات کے نام اودیر،شوت اور مڑپ ہیں۔ان دیہات میں آباد قبائل کے نام مندرجہ ذیل ہیں۔
اودیر میں سمالےشائے پہ ،بولے،ناسکی تک آباد ہیں۔

شوت میں شادیے، موچیے، ساکے،،ماہ والے،خوشے اور ماہ توئے آباد ہیں۔
مڑپ میں شواہ چک، باڑیے، موٹھئیے،راغزک،باشئیے،سنگالے،ناسکی تک،شادئیے آباد ہیں۔
یہ تمام قبائل قدیم زمانے سے اس علاقے میں آباد ہیں۔ناسکی تک اور راغزک کسی زمانے میں سری قل سے آکر یہاں بس گئے تھے۔خوشے رائین(تورکہو) اورسنگالے موڑکھو سے آئے تھے۔باقی خاندانوں کے وطن اصلی کے بارے میں معلوم نہ ہوسکا۔قوم شادیہ اور قوم باشے کے کئی افراد ریاستی حکمرانوں کے دربار میں رسوخ والے رہے ہیں۔

5۔ شاگرام اورشوت خار:
دریائے تورکہو کے دائیں کنارے پر ایک کھلے مقام پر یہ دو قرئیے سات ساتھ واقع ہیں۔شاگرام تمام علاقے میں اہم ترین مقام رہا ہے۔اور تحصیل ہیڈکوارٹر بھی ہے۔ریاست کے زمانے میں صوبہ تورکہو کا صدر مقام تھا۔اسکی اونچائی8520فٹ ہے۔اس میں مندرجہ قبیلے آباد ہیں۔

خوشے،پنین سوئے ، سنگالے ،رضا،بائیکے،کٹورے،خوشوقتے،پٹانی،موسنگھے،شغنیے، اخونزادگان،رئیسے۔ان قبائل میں رضا،کٹورے،سنگالے اور خوشوقتے موڑکھو سے یہاں کٹور دور میں آکر آباد ہوتے رہے۔خوشے اور بائیکے کھوت سے یہاں کسی وقت آئے۔پٹانی مختلف ادوار میں مختلف جگہوں سے یہاں آئے۔رئیسے کا تعلق غالباً رئیس خاندان والوں سے ہوگا۔جورئیس دور سے یہاں آباد ہوئے ہونگے۔پنین شوے بھی قدیمی قوم ہے۔اخونزادہ کے مطابق اس قوم کے جد اعلیٰ کانام پنین شاہ تھا۔اسی سے ان کا یہ نام پڑگیا۔یہ قوم عہد رئیسہ میں چترال میں واردہوئی تھی۔اس قوم کی شاخ گلگت میں بھی آباد ہیں۔جہاں غوڑے باشرے نام سے مشہور ہیں۔مہترامان الملک کی رضاعت اس خاندان میں ہوئی تھی۔“(اخوانزادہ صفحہ273)۔موسنگھے قوم بھی قدیم زمانے سے باعزت قوم طورپر مشہور ہے۔پروفیسر ممتاز حسین کی تحقیق کے مطابق کوہستانیوں میں ایک روایت مشہور ہے۔کہ کسی زمانے میں وہاں کے ایک چیف موسنگوردادا اپنی قوم کے ساتھ وہاں سے چھوڑ کرچترال میں آباد ہوگیا تھا۔غالباً یہی لوگ موسنگھے ہوں گے۔“

شغنیئے چترال کے مختلف حصوں سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں اخونزادگان نام سے چترال کے مختلف علاقوں میں ایک اہم طبقہ مشہور ہے۔یہ لوگ اگرچہ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان سب میں قدرمشترک یہ ہے کہ سب علمی خاندان ہیں اور کسی زمانے میں بدخشان یا وسطی ایشیاء کے ممالک سے تبلیغ اسلام کے سلسلے میں چترال آئے ہوں گے اور مختلف مقامات پر آباد ہوئے ہیں۔تورکہو کے اخونزادگان کابھی تعلق اسی طبقے سے ہوگا۔
شاگرام قریہ لگتا ہے یہ چترال کے قدیمی دیہات سے ایک ہوگا۔جواسکے نام سے ظاہر ہے جوکہ ہندی نام ہے۔مزید اس کے بعض قبیلے بھی قدیم دور سے تعلق رکھتے ہیں۔شوت خار کا وجہ تسمیہ معلوم نہ ہوسکا۔

6۔رائین:
شاگرام سے تقریباً تین میل کے فاصلے پر جنوب کی طرف دریائے تورکھو کے دائیں کنارے پر یہ خوبصورت گاؤں آباد ہے۔جسکو مڑپ(یاراین) نالہ سیراب کرتا ہے۔یہ ایک نہایت قدیم گاؤں ہے اس کانام رائن ہندی نام لگتا۔ھندی میں را ئن چھوٹے شہزادے کو کہتے ہیں ۔ اسکی خوبصورتی کی وجہ سے غالباً اس کایہ نام پڑگیا ہوگا۔یہاں پُرانے زمانے کا بہت بڑے پتھر پر ایک نقش ہے۔اس نقش کی رف سکیچ(Sketech)(جوایک مقامی شخصیت محمد ھاشم نے بنائی ہے) یہاں دی جاتی ہے۔ اس پتھر کومقامی طورپر قلمدار بوتینی بوخت کہتے ہیں۔جسکا مطلب پتھر کے ساتھ باندھاہوا دیو،لوک روایت یہ ہے کہ کسی زمانے میں اس علاقے میں ایک خطرناک دیورہتا تھا۔جس سے لوگوں کو خطرہ رہتا تھا۔اسی دوران ایک بزرگ کایہاں سے گذر ہوا۔تواس نے دعا کے زور سے اس دیوپر قابو پالیا اور اسکو اس پتھر کے ساتھ باندھ لیا۔اس پتھر پرلکیروں کے جو نقوش ہیں لوگ سمجھتے تھےکہ یہ رسیوں کے نشان ہیں جن سے دیو کو باندھا ہوا ہے۔

 

بہرحال اب یہ حقیقت کھل گئی ہے کہ یہ بدھ مت کے زمانے کاآثار قدیمہ ہے جس میں ایک Stupaکی شکل ہے جو گنبد نما تعمیر ہوتی ہے جو بدھوں کے متبرک مقام کی نشانی ہوتی ہے۔اسمیں خروشی حروف میں کوئی پیغام ہے۔جوتقریباً ان پیغامات سے مشابہہ ہے جو چرن اور پختوری دینی کتبوں کے بارے ہم نے ذکر کیا تھا۔ راقم کوپتہ نہیں چل سکا کہ اب تک اس کتبے پرکندہ عبارت کوکسی نے پڑھنے (Decipher) کی کوشش کی ہے کہ نہیں بہرحال یہ اندازہ لگانا آسان ہے کہ گاؤں قدیم سے آباد ہے۔بتایا جاتا ہے کہ رائین میں تین مزید پُرانے قلعوں کے آثار بھی موجود ہیں۔رائین میں خوشے،زوندرے،داشمنے،قمبارے اور وخیکے قبائل آباد ہیں۔مقامی روایات کے مطابق خوشے کھوت کے بچان سے رئیس کے دور میں یہاں آئے۔قمبارے ریچ سے یہاں آئے(رئیس کے دور میں)،داشمنے موڑکھو سے رئیس کے زمانے میں یہاں آئے تھے۔وخیکے وخان سے اسی زمانے میں یہاں واردہوئے تھے۔اور زوندرے،شاہ گوشے اور شیرے مستوج سے قدیم زمانے میں یہاں آئے تھے۔زوندرے (سیرانگے) پروفیسر شفیق احمد کے مطابق پرکوسب مستوج سے آئے تھے۔اس قبیلے کابڑا محمد طیب بیگ اپنی ماں کے ساتھ کمسنی میں ہجرت کرکے رائین میں آکر آباد ہواتھا۔ان کے تین بیٹے امون بیگ،امیربیگ اور حیدری بیگ تھے جنکی اولاد رائین میں آباد ہیں۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی معتبر اشخاص بعد میں مشہور ہوئے جن میں سے قاضی محمد جہاں خان(رائین قاضی) میرزا عافیت خان اور حوالدار میجر جوش خان(غازی جہاد کشمیر)خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔میرزا عافیت خان ان اصحاب میں سے ہیں جو مہترشیر افضل کے ساتھ مدراس میں قید رہے تھے

 

* *** سکچ

chitraltimes torkhow sckech
قلمدار بوتینی بوخت کارف سکچ(وانچائی 18فٹ چوڑائی 9فٹ)(ڈرائینگ از قلم محمد ھاشم ایڈوکیٹ رائین)

7۔ورکھپ:
رائین سے تقریباً تین میل جنوب کی طرف دریائے تورکھوکے دائیں کنارے پر ورکھپ نالہ اور دریاکے اتصال پرواقع ہے۔کافی وسیع اور زرخیز مقام ہے اور یہ بھی قدیم دیہات میں سے ایک ہے اس کے نام کا وجہ تسمیہ معلوم نہیں ہوسکا۔اسمیں ذیل چھوٹے دیہات شامل ہیں۔
ژنڈروڑِ۔ دہ(خاص)۔تورخوشان دہ،موڑخوشاندہ،وارزودہ،موژدہ،قراچھیان دہ،ڑوٹیان دہ،بلایمان دہ،آنیسر۔یہاں کے قبائل خوشے،ڈوٹیے،سرانگے،پیارے،لولے،ملائیمے،بہارے پرمشتمل ہیں۔مقامی روایات کے مطابق خوشے کھوت سے،سرانگے مستوج سے کسی زمانے میں آئے تھے۔باقی کے بارے معلوم نہ ہوسکا،

8۔استارو:
یہ علاقہ تورکھو کےجنوب سے آتے ہوئے پہلاگاؤں اور شمال کی طرف سے آتے ہوئے آخری گاؤں ہے۔دریا کے دائیں طرف واقع ہے۔اسمیں تین چھوٹے دیہات ہیں جن کے نام لشٹ استارو،گول دور اور نودراغ۔
یہاں کے قبیلے بیگالے،زوندرے،خوشے،حاتم بیگے،شاہبازے، شغنیے، شوراے، سیدان ہیں۔
بیگالے ۔قدیمی ورشگوم سے آئے ہیں۔سنا ہے کہ وہاں سے سیدھے یہاں آئے تھے اور اسکا جو میدانی حصہ تھا اس کے لئے نہر نکال کرآباد کیا تھا۔استارو کا جوحصہ غیرآباد تھا اور وہاں بس گئے تھے۔

شاہ نوے۔ ان کا اصل تعلق لون موڑکھو سے ہے وہاں سے کس زمانے یہاں منتقل ہوگئے تھے۔ اس قبیلے سے تعلق رکھنے والے کئ علماء مشہور و معروف رہے ہیں ۔

شغنیے: یہ شغنان بدخشان سے آکے پہلے چترال کے کسی اور حصے میں آباد ہوئے تھے۔بعد میں ان کی ایک شاخ یہاں آکرآباد ہوئی تھی۔
شورائیے: یہ بھی یہاں کے نہایت قدیمی باشندے ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے کوبوم کی کہتے ہیں۔ان کے مطابق اس گاؤں کے بعض حصوں کو انہوں نے پہلے سے آباد کیا تھا۔ اور باقی قبیلے ان کے بعد آتے رہے۔

حاتم بیگے:یہ نام جبورے نام سے بھی مشہورہے مقامی ایک شخصیت انجینئر محمد یونس اس قبیلے کے بارے یوں لکھتے ہیں۔”جبورے پورے قبیلے کانام نہیں بلکہ یہ اس قبیلے کی اور تورکہو کی ایک مشہور شخصیت عبدالجبار(ولد غفار بیگ) کے نام سے منسوب ایک ذیلی شاخ ہے۔اس قبیلے کا جد امجد حسن بیگ جو سلیم بیگ کی اولاد میں سے تھا۔موڑکھو سے استارو آکر آباد ہوئے تھے۔اس نے جو شجرہ بھیجا ہے اسکے مطابق عبدالجبار دسویں پشت پر آتے ہیں اور حسن بیگ 14ویں پشت پر۔اسکے مطابق حسن بیگ موڑکھو سے یہاں آکر نالے کے قریب ایک غیر آباد جگے کو آباد کرکے یہاں بس گئے تھے“ اس شجرہ کے مطابق حسن بیگ کی یہاں آمد تقریباً500سال پہلے لگتا ہے۔

اہم شخصیات۔یہاں اس گاؤں سے تعلق رکھنے والی تین اہم شخصیات کا ذکر بے محل نہ ہوگا کیونکہ یہ ایسی شخصیات ہیں جوگذشتہ صدی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں جب کہ بہت زیادہ مشکل حالات تھے۔ہندوستان میں جاکر تعلیم حاصل کی اور واپس چترال آکے یہاں کے لوگوں کی رہنمائی کی۔یہ شخصیات مولانا حضرت الدین مرحوم،مولانا محمد وزیر مرحوم اوراستاد غلام محمد مرحوم تھے۔
مولانا حضرت الدین مرحوم: آپکا تعلق شاہ نوے قبیلے سے تھا۔

آپ نے انیسویں صدی کے دوسرے اور تیسرے عشرے میں دارالعلوم امینہ دہلی سے تحصیل علم کیا اور واپس چترال آکے اپنے علمی استعداد کی وجہ سے بہت جلد ممتاز علماء میں شامل ہوئے۔ہزہائی نس محمدناصر الملک نے اپنے گورنری کے زمانے میں ان کو مستوج میں آباد کیا اور دینی امور میں ان سے رہبری حاصل کرتے رہے۔اُنہوں نے مستوج کے علاقے میں یہاں لوگوں کی دینی رہنمائی کے سلسلے میں قابل قدر خدمات انجام دئیے۔آپ فصیح و بلیغ خطیب کے طورپر تمام چترال میں مشہور تھے اور پاکستان بننے کے بعد آپ کوکچھ عرصے کےلئے ریاست کا قاضی القضاۃ بھی مقرر کردیا گیا تھا۔

مولانا محمد وزیرمرحوم:
آپ مولانا حضرت الدین مرحوم کے چھوٹے بھائی تھے۔آپ کا تعلق بھی استارو سے تھا۔آپ نے بھی ہندوستان کے ایک اہم دیی ادارے سے تحصیل علم کیا تھا۔اور ہزہائی نس محمد ناصر الملک کے زمانے میں چترال آئے۔ان کو خذاراہ کے علاقے کاقاضی مقررکردیا گیا تھا۔ہزہائی نس محمد مظفر الملک کے زمانے میں ان کی طرف سے نمائیندے کے طورپر دہلی میں قائداعظم محمد علی جناح سے ملاقات کے لئے جووفدگئی تھی۔یہ ان کے سربراہ کے طورپر گئے تھے۔پاکستانی بننے کے بعد جب چترال کو پاکستان میں شامل کرنے کے سلسلے میں معاہدہ کیلئے وفد کراچی گئے تو یہ اس وفد کے بھی اہم رکن تھے۔
استاد غلام محمد مرحوم(المعروف استاریکی استاد)۔
آپ کاتعلق بیگالے قبیلے سے تھا۔

آپ نے1924کے عشرے میں ہندوستان میں بھوپال سے میٹرک پاس کیا تھا۔یہ ایسا زمانہ تھا کہ چترال میں محمد ناصرالملک اور سکتر غلام مصطفیٰ کے علاؤہ کوی اعلی تعلیم یافتہ لوگ نہیں تھے۔وہاں سے جب واپس آے تو اسوقت شہزادہ محمد ناصر الملک مستوج کے گورنر تھے ۔ان کا سب سے چھوٹا بھای محمد خلیل الملک اس زمانے میں اپنے سواری والدین کے ہاں پرورش پارہے تھے۔جس کے لئے ایک قابل ٹیوٹر کی ضرورت تھی۔ شہزادہ موصوف کو غلام محمد مرحوم کا پتہ چلا۔ تو انکو ٹیوٹر مقرر کردیا۔ اسکے بعد جب دروش میں شہزادہ محمد حسام الملک نے سکول قایم کیا ۔تو آپ وہاں پر سکول کے بانی ہیدماسٹر مقرر ہوئے بعد میں چترال ہائی سکول ٹرانسفر ہوئے اوریہاں خدمات انجام دیتے رہے۔غلام محمد مرحوم ان استاتذہ کرام میں شامل تھے۔آج جن کے شاگردوں کے شاگرد تمام چترال میں پھیلے ہوئے ہیں۔
(باقی آئیندہ)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74967

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط 5) ۔ پروفیسر اسرارالدین

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط 5) ۔ پروفیسر اسرارالدین

وادی کھو
تعارف
وادی کھو تورکھو(بالائی کھو)اور موڑکھو(زیرین کھو)کے علاقوں پرمشتمل ہے۔جسکا مطلب ہے کھو باشندوں کا علاقہ۔اگرچہ تمام چترال میں بروغیل سے ارندو تک کھوار آبادی کے لحاظ سے کھو قبیلہ فوقیت رکھتا ہے۔اسلئے ساری چترال کھو وادی ہے۔لیکن اس نام کو مذکورہ علاقوں کے لئے مخصوص کرنے کی وجہ یہ ہے کہ ان علاقوں کوکھو ار زبان کی جنم بومی تصور کیا جاتا ہے۔یایہ کہ کھوار بولنے والے قدیم لوگ سب سے پہلے یہاں آباد ہوئے تھے۔یہاں سے جوں جوں دوسرے علاقوں میں پھیلتے گئے اپنے ساتھ کھوار زبان کو بھی پھیلاتے رہے۔

تاریخ کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کھونام اس علاقے کے ساتھ ڈھائی ہزار سال پہلے سے وابستہ رہا ہے۔سکندر اعظم یونانی کے جغرافیہ دانوں نے دریائے چترال(کنہار)کو جلال آباد تک کھواپس نام سے ظاہر کیا ہے۔بعض ریکارڈ میں کھوس (Khoes)بھی لکھا گیا ہے۔البتہ یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ آیا یہ نام یہاں کے کسی کھونامی قبیلے کی وجہ سے پڑگیا تھا۔یا اس علاقے کانام پہلے سے کھو تھا۔اور اس علاقے کے نام پریہاں رہنے والوں کانام پڑگیا۔اس معمے کاجواب دینا مشکل ہے۔البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ علاقہ قدیم الایام سے کھو علاقہ ہی تصور ہوتا رہا ہوگا۔مشہور ماہر لسانیات پروفیسر جارج مارگنٹیسن نے بھی یہ لکھا ہے کہ پرانی چینی زبان میں کھونام Kiu-weiکے طورپر مستوج یابالائی چترال کے لئے استعمال ہوا ہے۔یہ مفروضۃ اس لئے بھی صحیح معلوم ہوتا ہے کہ سنگلیچی لوگ کھو کو Kiviنام سے پکارتے ہیں۔مشہور ماہر لسانیات گرئیرسن نے کھوار کو اریانی زبانوں کے درد خاندان میں شامل کردیا ہے۔اس خاندان میں ذیل شامل زبانیں شامل ہیں۔

الف۔ کافر گروپ:بشگالی وار ،کلاشہ،گواربتی،باشاے گروپ وغیرہ۔

ب۔کھوار(چترالی یا آرنیہ)

ج۔اصل درد گروپ مثلاًشنا،کشمیری،کوہستانی وغیرہ۔

گرئیرسن کے مطابق اگرچہ کافر گروپ کے ساتھ کھوار کی کچھ قدر مشترک ہے۔مگر دوسری زبانوں کی نسبت یہ ایک آزاد مقام رکھتی ہے۔البتہ دردخاندان میں شامل تمام زبانوں کی بہ نسبت کوہ ہندوکش کے شمال میں مروجہ غالچہ زبانوں کے ساتھ اسی کا گہرا رابطہ ہے۔درد خاندانوں میں شامل زبانوں کا ایک دوسرے سے موازنہ کرنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ درد گروپ کاکافر گروپ کی زبانوں کے ساتھ بہ نسبت کھوار کا زیادہ گہرا رشتہ ہے اور بڈلف کی رائے کے مطابق کسی زمانے میں اس تمام علاقے میں یعنی درستان میں ایک ہی زبان بولی جاتی ہے۔جسے بعد میں کھوار زبان نے درمیان میں حائل ہوکر دوحصوں میں تقسیم کردیا۔گرئیرسن اس کا جواز یوں پیش کرتے ہیں کہ کھوار ان درد حملہ آوروں کی زبان معلوم ہوتی ہے۔جوبعد میں آگئے تھے۔اس لئے اس زبان نے اپنے میں موجود غالچہ اور ایرانی خصوصیات کی وجہ سے اصل درد گروپ اور کافر گروپ کی زبانوں کے درمیان حائل ہوکر اس کو ایک دوسرے سے جدا کردیا۔اس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
کھوار بحیثیت زبان وجود میں آنے کے بعد اس خطے میں داخل ہوگئی تھی۔اور اسکے مزید پنپنے اور پرورش پانے کے حالات یہاں میسر آئے۔یہ بھی قرین قیاس ہے کہ یہ زبان اسی کھو علاقے میں پہلے نمودار ہوئی ۔

پروفیسر مارگنسٹینس(Morgenstiene) جنہوں نے افغانستان اور پاکستان کے شمال مغربی زبانوں پر دقیق ریسرچ کی ہے۔کھوار پرکوہ ہندوکش کے پار والی زبانوں کے اثر کے بارے میں گرئیرسن کو حق بجانب قرار دیتے ہیں۔اور لکھتے ہیں کہ کھوار کے ذخیرہ الفاظ میں زیادہ ترالفاظ ایسے ہیں جو ایرانی زبانوں سے اخذ شدہ ہیں اسکے علاوہ بروشسکی اور شنازبانوں کے الفاظ بھی شامل ہیں لیکن بے شمار ایسے الفاظ ہیں جن کا ماخذ معلوم نہیں“۔

پروفیسر موصوف ایک جگہ کھوار کی اہمیت کے بارے ان خیالات کااظہار کرتے ہیں۔”کھوار نے سنسکرت سے بالکل مختلف رہ کر اپنا ایک نیا تصریفی نظام(Inflactional System)تشکیل دیا ہے لیکن اپنی بناوٹ کے لئے اسی نے علیحدہ محل وقوع مین کسی دوسری ہندی اریائی زبان کے مقابلے میں زیادہ ترایسے مواد کا استعمال کیا ہے۔جوزمانہ قدیم سے تعلق رکھتے ہیں۔لہذا ہندی آریائی زبان کے ارتقاء کو سمجھنے کےلئے یہ زبان نہایت اہمیت کاحامل ہے“
کھوار زبان کے بارے تفصیلی بحث علیحدہ طورپرکی جائے گی۔یہاں اتنا اشارہ شاید کافی رہے گا۔

وادی تورکھو:
یہ50میل لمبی وادی ہے۔اسکودریائے تورکھو سیراب کرتا ہے۔اس کی ایک شاخ دریا ہندوکش کلان میں کچ درہ کے دامن میں ایک گلیشئیر سے نکلتا ہے۔دواور شاخیں مشرق اور مغرب کی طرف آتی ہیں اور مغلنگ میں آپسمیں مل جاتی ہیں۔اسکے بعد یہ کئی ندی نالوں کو اپنے ساتھ جمع کرکے بومباغ (کوشٹ) میں دریائے مستوج کے کاساتھ شامل ہوجاتا ہے۔اس کا سب سے بڑا معاون نالہ تریچ نالہ ہے جو شمال مغربی موڑکھو سے آکر سوروخت کے مقام پر اس کے ساتھ شامل ہوتا ہے۔اس سے آگے اسکے مغربی کنارے پر موڑکہو کاعلاقہ اور اسکے دیہات آجاتے ہیں۔تورکھو میں زیادہ تردیہات دریا کے مشرق کی طرف آباد ہیں۔ان میں سے سورریچ،موڑریچ،اوژنو،ماہ چراغ،کھوت،شوت خار۔ ،شاگرام،شیرجوویلی،میڑپ،رائین،ورکھوپ اور استارو مشہور ہیں۔مغربی کنارے پرواسچ اور کھوت رباط ،تاجیان لشٹ قابل ذکر ہیں۔

شمال سے یارخون کی طرف سے جب شاہ جنالی درے(14100فٹ)سے تورکھو وادی میں داخل ہوتے ہیں۔توشاہ جنالی کاقدرتی پارک آپ کا استقبال کرتا ہے۔یہ ایک نہایت خوبصورت سبزہ زار ہے اور تقریباً5میل تک پھیلاہوا برچ(شیتل)اور بید(Willow) کا وسیع جنگل ہے۔اسکی اونچائی1000فٹ ہے اور یہاں سے15میل کے فاصلے پر تورکہو سے تین درے کوٹ گاز،اوچھیلی اور کچ واخان کی طرف کھلتے ہیں۔اندازہ لگایا جاتا ہے۔کہ پُرانے زمانے میں کئی قبیلے ان دروں سے ہوکے وسطی ایشیائی ملکوں سے اس علاقے میں آتے رہے تھے یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ واخان اور بدخشان کے لوگ یہاں آکے ڈاکہ زنی کرتے تھے۔اسلئے لوگوں نے مصنوعی گلیشئیر لگاکے ان دروں کو بند کردیا تھا۔(مصنوعی گلیشئیر لگانے کے بدیسی فن کا بعد میں ذکر کیا جائے گا)۔لیکن عام طورپر شمال سے یہاں داخلہ شاہ جنالی درے سے بھی ہوا ہے۔چترال گزیٹیر(1928)کے صفحہ 313پر ایک واقعہ لکھا ہے کہ 1846عیسوی میں بدخشان کے میر نوری شاہ نے تین ہزار کے لشکر کے ساتھ براستہ یارخون اور شاہ جنالی درہ اس علاقے پر حملہ کیا تھا یہ حملہ مکمل طورپر بے خبری میں ہوا تھا۔چنانچہ اُنہوں نے نوغور گول تک تمام علاقے کو لوٹا،جہاں ریچ کاحاکم مقیم تھا۔امان الملک مہترکو جب معلوم ہوا تواُنہوں نے مشہور سپہ سالار روشن علی خان کے ہمراہ ان تاجکوں کا تعاقب کیا۔اور رشت کے مقام پر (جو شاہ جنالی کے یارخون کی طرف واقع ہے)ان کو جالیا اور اُن سے جنگ کی لیکن وہ کافی نقصان اُٹھانے کے باوجود اپنے لوٹے ہوئے سامان اور قیدیوں کے سمیت بھاگنے میں کامیاب رہے۔تورکھو کے علاقے کی کئی خصوصیات کے علاوہ ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ چترال کے چار مشہور بادشاہ امان الملک،شیر افضل،نظام الملک اور محمد مظفرالملک کی رضاعت اس علاقے کے مختلف اہم خاندانوں میں ہوئی تھی،نیز چترال کے مشہور ہیرو محمد عیسے غازی کاتعلق بھی یہاں کے اوژنوسے تھا۔مشہور شمشر زن روشن علی خان کا اگرچہ موڑکھو سے تعلق تھا لیکن اُن کو یہاں ریچ میں بھی جائیداد ملی تھ۔اور ان کو یہاں کا حاکم بنایا گیا تھا۔

اہم مقامات:
(1) ریچ:۔
شمال سے آتے ہوئے دریا کے بائیں کناریپر9257فٹ پر ایک خوبصورت گاؤں ہے اسمیں یہ ذیلی دیہات شامل ہیں۔روا،پھرگرام یا پرگرام،بولشٹ،دوکان،سوریچ نیا لشٹ،راغ،سلان دور،مورچ،پتریچ،نیسُر۔
بتایا جاتا ہے کہ ریچ بہت قدیم سے آباد علاقہ ہے۔ڈانگرک دور یاکلاش دور سے آباد بتایا جاتا ہے۔روایات سے بھی یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقے رئیس دور سے پہلے یارکند کے ماتحت تھا۔ان کے بعد یہ خوشوقتے جومستوج کے علاقے کے حکمران رہے تھے۔ان کے ماتحت آگیا۔بدخشان کا اس کے اوپر تسلط کے بارے کوئی خاص روایات معلوم نہیں۔البتہ ان کے ساتھ وقتاًًفوقتاًچپقلیش ضرور رہی تھیں۔اورانکوپسپاکیاجاتارہاتھا۔

یہاں کے اہم قبیلے سید،رضاخیل،خوشے،بائیکے،نظارے،جانسوارے،قاسمے،بکاؤلے،قمبارے،گاڑئیے،موچی(اھنگر)۔

سید:
یہ خاندان اصفہان،خراسان پھر بدخشان سے چترال آیا تھا۔اس خاندان کے اولین بڑے شاہ بوریاولی،شاہ رضائے ولی،محمد رضائے ولی اور شاہ رئیس ولی بدخشان سے چترال آئے۔ان میں سے شاہ رضائے ولی اور شاہ رئیس ولی ریچ مین آباد ہوئے۔باقی شاہ بوریا ولی اورمحمد رضائے ولی سنوغر میں آباد ہوئے۔ریچ والے سادات شاہ رضائے ولی اور شاہ رئیس ولی کی اولاد ہیں۔ان میں بعض اشقامون،کوشٹ،بونی،چرن اور چترال کے دوسرے علاقوں میں بھی پھیلے ہوئے ہیں۔

رضا خیل:
یہ بابا ایوب کی اولاد ہیں (جسکی تفصیل بعد میں آئے گی)۔قزل بیگ کے بعد یہ ریچ میں آکر آباد ہوئے۔محمد اعظم اور سکندر اسی قوم کے اولین اصحاب ہیں جو یہاں آباد ہوئے۔روشن علی خان مشہور شخصیت کا تعلق اس خاندان سے تھا جوکسی وقت اس علاقے کاحاکم رہا تھا۔ان کے جنگی کارنامے تاریخ چترال کی زینت ہیں (ان کا تفصیلی ذکر بعد میں کیا جائے گا)۔

خوشے اور بائیکے:
(جن کا ذکر بعد میں کیا جائے گا)۔تورکھو کے دوسرے دیہات سے یہاں آبادہوئے۔

نظارے اور خذارے:
جوایک ہی نسل کے لوگ ہیں۔لٹکوہ سے کافی پُرانے زمانے میں یہاں آکرآباد ہوئے تھے۔

جان سوارے:
رئیس کے دور میں بدخشان سے آئے۔

قاسمے:
ورشگوم سے کافی عرصہ پہلے یہاں آئے۔

نجارے اور گارائیے:
یہ بھی ورشگوم سے پُرانے زمانے میں یہاں آکر آباد ہوئے۔

(2)اوژنو:
یہ گاؤں دریائے تورکہو کے بائیں طرف دریا اور اوژنو گول کے اتصال پرواقع ہے۔چھوٹا گاؤں ہے لیکن تاریخی طورپر بہت اہم ہے۔یہاں کے اہم قبیلے خوشے،بائیکے،موسنگھے،قوبیلے،پٹانی،داشمنے اور خوجلے ہیں۔

خوشے اور بائیکے تورکھو کے دوسرے دیہات سے یہاں آکر آباد ہوئے ہیں ان کے بارے تفصیل بعد میں دی جائے ی۔البتہ بائیکے کے حوالے سے محمد عیسے خان غازی کا ذکر ضروری ہے جن کاتعلق اس گاؤں تھا۔محمد عیسے غازی اس علاقے اور قبیلے کی مشہور شخصیت حرمت شاہ کے فرزند ارجمند تھے۔تاریخ میں اس خاندان سے تعلق رکھنے والے کئی اہم شخصیات گذرے ہیں۔جن کے نام ہائے گرامی تاریخ میں مذکور ہیں اور جومختلف بادشاہوں کے درباروں میں معتبر رہے ہیں۔راقم نے غازی محمد عیسےٰ کے بارے چترال کے اس لوک ہسٹری کی پہلی قسطوں میں کچھ نہ کچھ تذکرہ کیا ہے۔یہاں پر اخوانزدہ فضل واحد بیگ کی کتاب اقوام چترال سے ان کے بارے ایک اقتباس پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔”غازی محمد عیسےٰ اور غازی مہترشیر افضل باہم رضاعی بھائی تھے۔دونوں نے ایک ماں کادودھ پیا تھا۔دونوں کی تربیت بھی محمد عیسےٰ کے نامور والد چارویلو حرمت شاہ نے کی تھی۔محمد عیسےٰ میں جہاں زوربازو قدرتی طورپر مسلمہ ہے مگر اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اس خطے میں گوریلا جنگ کا تصور محمد عیسےٰ نے دیا۔جنگ نسرگول اور جنگ چکول وخت اور جنگ کڑاک اس عظیم گوریلا سالار جنگ کے ہی منصوبے تھے۔غازی محمد عیسےٰ نے نامساعد حالات کے باوجود چترال کی سرزمین کوانگریزوں کے لئے ترنوالہ نہیں بننے دیا بلکہ ان کو ان کے فوجیوں کو گاجر مولی کی طرح کاٹ کرنیز انگریزافسروں کو قیدی بناکر ان کو یہ سبق سکھایا کہ مسلمان قوم کے لئے ہتھیار کی نہیں بلکہ ایمان اور حب الوطنی کی ضرورت ہے۔غازی محمد عیسےٰ جب تک زندہ رہے۔انگریزوں کوسانس لینے نہیں دیا۔شیرافضل کوجب صلح کے بہانے بلایا گیا تو محمد عیسےٰ نے ان کوواضح طورپر مشورہ دیا کہ ان کو گرفتار کرنے کا منصوبہ ہے۔بہرحال جب شیر افضل انگریزوں کے بلاوے پردھوکاکھاگیا توغازی محمد عیسےٰ نے کسی بھی صلح سے صاف انکار کیا۔اور کوہستان داریل میں جاکے وہاں انگریزوں کے خلاف منظم جدوجہد کرنے کے لئے فوج تیار کرنے لگا۔لیکن وہاں انگریزوں نے سازش کرکے ان کو زہر دلاکر شہیدکردیا“۔

موسنگھے:
یہ یہاں کا ایک باعزت قبیلہ ہے۔قدیم زمانے سے اس گاؤں میں آباد ہیں۔یہ معلوم نہ ہوسکا کہ کب سے یہاں آباد ہیں اور کہاں آئے ہیں۔

داشمنے:
موڑکھو سے یہاں آکر حالیہ زمانوں میں آباد ہوئے ہیں۔
پٹانے:بتایاجاتا ہے کہ مختلف خاندانوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں کاگروہ ہے جو مختلف زمانوں میں آئے اور تورکھو کے مختلف دیہات میں بس گئے۔مقامی لوگوں نے ان کو پٹانے یا نام سے شناخت دی۔

قوبیلے اور خوجلے بھی دواہم قبیلے ہیں جو کسی قدیم زمانے سے یہاں آباد ہیں۔

(3) کھوت:
دریاے تورکھو کے بائیں طرف بوزوند یا کھوت نالہ اسکے ساتھ شامل ہوجاتا ہے۔یہ نالہ تقریباًچالیس میل لمباہے اور اسکے سرے پرچھوٹے موٹے کئی گلیشئیر ہیں جن سے پانی پگھل کر اس نالے کوسیراب کرتا ہے۔گرمیوں میں گلیشئیر پگھلنے کی وجہ سے پانی کی مقدار میں بہت اضافہ ہوجاتا ہے۔ اس نالے کے ساتھ چبوترہ نما زمین کے لمبے چوڑے ٹکڑوں پرکھوت قریہ آباد ہے۔جو تقریباًچودہ میل وسیع ہے اسمیں واقع دیہات کے نام یہ ہیں۔لشٹ کھوت،ترنگہ توری،یخدیز،نچھاغ،رباط،پوچونگ،پھورکھوت۔یہ دیہات نوہزار فٹ اور دس ہزار فٹ اونچائی کے درمیان پھیلے ہوئے ہے۔برف پوش پہاڑوں کے درمیان سفیدہ اور بید(Willow) درختوں کے جھنڈوں کے درمیان یہ علاقہ ایک رومان پرور نظارہ پیش کرتا ہے۔یہ نہایت قدیم زمانے سے آباد علاقہ ہے۔یہاں کا راژوئے نامی نہر تقریباً5سوسال پرانی ہے۔جواُس زمانے میں خوشیے اور بائیکے خاندانوں کے بڑوں کی سرپرستی میں تعمیر ہوئی تھی۔اسی طرح اس تمام ہندوکش کے علاقہ میں یہ قدیم ترین نہروں میں شمار ہوتی ہے قدامت کے علاوہ کئی اور خصوصیات ہیں جو اس نہر کو ممتاز کرتی ہیں۔اس لئے ذرا تفصیل سے اس نہر کا ذکر کیا جائے توبے محل نہ ہوگا۔

راژوئے: ایک مقامی سکالر رحمت عزیز صاب کی روایت کے مطابق “خوشے قبیلے کے جد آمجد (جسکا نام میر خوش تھا) اور بائیکے قبیلے کے جد آمجد نے ملکر مقامی لوگوں کی مد سے اس نہر کی تعمیر کرائی تھی۔شروع میں اس نہر کی لمبائی13میل تھی۔بعد کے زمانوں میں اسکی توسیع چالیس میل تک کردیگئ۔اس زمانے میں جب پہاڑوں اور چٹانوں کوکاٹنے کے لئے لوہے کے سازوسامان نہیں تھے۔تو مارخور کی سینگوں کواوزار بناکر پہاڑوں کو کاٹنے کاکام لیا تھا”۔یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پُرانے زمانے میں سخت چٹانوں کوپھاڑنے کاایک طریقہ یہ ہوتا تھا۔کہ اسکے نیچے آگ چلاکرتاپتے تھے۔پھر اس پرٹھنڈا پانی ڈالتے۔جس سے وہ پھٹ جاتے۔ان پہاڑی علاقوں میں ایک مسئلہ لیولنگ کاہوتا تھا۔اس نہرکی لیولنگ کے بارے یہ روایت ہے کہ جب لوگ اس نہر کونکالنے کے لئے تیار ہوے تو قدرتی طورپر کہیں سے ایک چیل آیا۔وہ اس پہاڑ کے ساتھ اڑتارہا۔اور اس کا سایہ پہاڑ کے ساتھ چلتا رہایہاں تک کہ ایک سرے سے دوسرے سرے تک اس کے سایے کے ساتھ نہر کی نشاندہی ہوئی۔بہرحال یہ روایت ہے”۔ ویسے مقامی طورپر تمام چترال میں لیولنگ کادیسی طریقہ یہ رہا ہے کہ نہر کوہیڈورکس سے تعمیر کرنا شروع کرتے ہیں اور پانی خود اپنا لیول متعین کرتا رہتا ہے اور اسی کی پیروی میں تمام نہر کی تعمیر ہوئی ہے۔راژوئے کافی بڑی نہر ہے۔اس کی چوڑائی تقریباً 6,5فٹ اور گہرائی بھی تقریباً7,6فٹ ہوگی۔اس میں اتنا پانی ہوتا ہے کہ کوئی کمزور آدمی اسکو آسانی سے عبور نہیں کرسکتا۔”

راقم نے اس نہرکی پروفیسر رحمت کریم بیگ اور پروفیسر ہدایت الاسلام کی مدد سے1980 کے عشرے میں تفصیلی مطالعہ کیا تھا۔جس پرمیری را ژوے پر رپورٹ ایک جرمن پروفیسر کی دنیا کی اہم نہروں پر کتاب Sharing Water میں چھپی ہے۔
را ژوے ۔ اس نہر کے بارے کچھ نکات پیش کرتا ہوں تاکہ اسکا تعارف ہوسکے۔
اس نہری نظام کو سمجھنے کےلئے زیل امور پیش نظر رکھنا ہوگا۔

۔۔مقامی طور پر نظام کو بحال رکھنے کا بندوبست ۔
۔۔لوگوں کے فرائض۔
۔۔ لوگوں کے حقوق۔
۔۔۔ متنازعہ امور کے تصفیے کے اصول ۔
راژوے کے تین حصے ہیں
۔۔۔عرفی حصہ ۔اسکی لمبائی 13میل ہے۔یہ نہر کا اولین حصہ ہے۔
۔۔۔زانگ لشٹ ژوے۔ یہ آٹھ میل پہلی توسیع ہے۔
۔۔۔ماہ چراغ حصہ ۔یہ بیس میل لمبی تیسری توسیع ہے

اس تمام سسٹم کا کمانڈ ایریا تقریبا” پچاس مربع میل ہے۔ اور ستر دیہات اس سے سیراب ہوتے ہیں ۔اس قدر بڑی نہر کی بحالی نیز یہاں کے لوگوں کے فرائضِ اور حقوق کی اور دیگر امور کی پاسداری کے خاطر یہاں کے بڑوں نے ایسے اصول وضع کئے جو صدیاں گذرنے کے بعد بھی تسلیم شدہ ہیں ۔ ان کبھی بھی کسی قسم کی تبدیلی نہیں کی گئ۔ اور نہ ہی ان کی خلاف ورزی ہوی۔ اور یہی اس نظام کی کامیابی کاثبوت ہے۔اس نظام کے بعض اہم پہلو ذیل ہیں۔

(1)پھی سسٹم: پھی لکڑی کے بیلچے کوکہتے ہیں۔ تمام سسٹم کو16پھی میں تقسیم کیاگیا ہے۔مثلاًعرفی حصہ۔۔ 4پھی
زانگ لشٹ حصہ۔۔۔ 6پھی
ماہ چراغ حصہ۔۔۔۔6پھی

ہرپھی کی طرف سے16سے 30تک افراد نہرکے مختلف کاموں کے لئے وقتاًفوقتاًدستیاب کئے جائینگے۔

ہرپھی والوں کویومیہ پانی سے دوحصے دئیے جائینگے۔تاکہ8دن میں ہرایک کی باری مکمل ہو۔پھی والے افراد کی تعداد وقت کے ساتھ بڑھتی رہے گی لیکن ان کا حصہ وہی رہے گا۔پھی والوں کے فرائض میں سالانہ مرمت کاکام،ہنگامی مرمت کاکام،شب وروز ہیڈورکس اور نکاسی جگوں پرڈیوٹی،ایسی جگہوں پرڈیوٹی جہاں لینڈ سلائیڈ کاخطرہ رہتا ہے۔کام کاشیڈول ایسا رکھاگیاہے۔کہ تمام پھی والے مکمل طورپر اپنی باری کے کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔صرف ذیل کاذکر کیاجاتا ہے۔

سوروغ اور سوا:
جیسا پہلے ذکر کیا گیا۔16پھی والوں کو2×16=32سوروغ الاٹ کئے گئے ہیں۔لیکن اولین قبیلوں جنہوں نے اس سسٹم کی ابتدا کی ان کو دومزید باری دی جاتی ہے جسے سوا کہاجاتا ہے۔سواہندی لفظ ہے جو زاید کوکہتے ہیں۔شاید اسی مناسبت سے یہ نام رکھا گیا ہوگا۔
ان کی بہت بڑی تفصیل ہے جن کا یہاں موقع نہیں۔

چاختوغ:
چاختوغ پانی کی تقسیم کاایک اور طریقہ ہے یہ37خاندانوں کودیا جاتا ہے۔چاخت کھوار زبان میں ایک تنگ دراڑ یاروزن (opening)کوکہتے ہیں۔یہاں پرتین قسم کے چاخت مقررکئے گئے ہیں۔استورو نعل، ٹٹوو نعل اور گوردوغونعل۔استورو نعل یاگھوڑے کی نعل کاقطر چار انچ،ٹٹوکاایک انچ اور گدھے کی نعل کا1/2ہوتا ہے۔

راژوئے کاانتظام:
انتظام کرنے والے کانام میرژوئے ہے۔یہ تمام نظام کامحور ہوتا ہے۔یہ اس نظام کے تمام اصولوں اور قوانین کاکسٹوڈین ہوتا ہے۔اسکی بات حرف آخر ہوتی ہے۔اور اس کوماننا سب کے لئے لازم ہوتا ہے۔پہلے میرژوئے عرفی حصے سے مقرر ہوتا تھا۔اوور وہ عامطورپربائیکے قبیلے کابڑا ہوتا تھا۔لیکن1970ء کےبعد یہ سسٹم تبدیل کیا گیا ہے۔اب لوگوں کے اتفاق رائے سے میرژوئے مقرر ہوتا ہے۔

تنازعات:
اب تک کوئی خاص بڑے تنازعات پیدانہیں ہوئے۔چھوٹے موٹے تنازعات میرژوئے خونمٹالیتے ہیں۔

نتائج:
(1) اس سسٹم کی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ یہاں کے لوگوں میں ہم اہنگی اور یکسانیت ہے۔
(2) بااختیار میرژوئے کارول نہایت اہم ہے۔
(3) پانی مقامی لوگوں کا ایک قیمتی اثاثہ ہے۔اس تصور نے یہاں کے لوگوں کو اس اثاثے کی حفاظت اور اسکے صحیح استعمال کاڈھنگ سکھایا۔
(3) کوئی بھی منصوبہ نیچے سے اوپر (جسے انگریزی میں Bottom upکہتے ہیں)ترتیب سے تشکیل پائے وہ کامیاب ہوجاتا ہے اور کوئی بھی منصوبہ اوپر سے نیچے تشکیل پائے یعنی کوئی باہر کاادارہ بغیرلوگوں کوساتھ لئے منصوبہ تیار کرے وہ عموماًناکام ہوجاتا ہے۔یہاں بھی ائیندہ کے لئے اگرکوئی بھی ترقیاتی کا اس نظام کی بہتری کے لئے کئے جائیں وہ مقامی لوگوں کی رہنمائی میں اس طرح ترتیب دیئے جائیں کہ اس سسٹم کے پُرانے نظام کو کوئی خطرہ نہ ہو۔

حضرت گیسو کی روایت:(روای رحمت عزیزعزیز)

کھوت کاقصہ حضرت گیسو کے مزار کے لئے بھی مشہور ہے۔جواس خطے کے مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔مقامی روایات کے مطابق حضرت گیسو میں حضرت محمدﷺ کاموئے مبارک موجود ہے۔خوشے قبیلے کاجد امجد مسمی میرخوش ایک نیک صالح انسان تھے۔اُنہوں نے ایک دن خواب دیکھا۔ایک نیک خوبصورت باصفا شخص اس سے کہہ رہا تھا۔”اے میرخوش!اُٹھو اور معجامو ڑی کے مقام پرچلے جاؤاور ایک بکرہ ذبح کرکے اسکی کھال الٹی کرکے موئے مبارک عزت واحترام سے اُٹھاو۔اور سات اوپر نیچے کمرے بناکر اس موئے مبارک کو اس آخری کمرے میں عزت واحترام کے ساتھ رکھ دو۔اوراس کی حفاظت کرو۔میرخوش خواب سے بیدار ہوا۔اور بتائی ہوئی جگہ پرموئے مبارک کوپالیا اور دئیے گئے ہدایات کے مطابق اس کو سنبھال کے رکھ لیا جواب تک اس جگے میں موجود ہے۔

حضرت گیسوکی کہانی کی جڑیں مقامی روایات میں بہت گہری ہیں اور یہ خیال کیاجاتا ہے۔کہ حضرت گیسو کی زیارت میں حاضری دینے سے بیماروں کواللہ تعالیٰ شفا یابی عطا فرماتے ہیں۔کہاجاتا ہے کہ بابامیرخوش اور اس کے ساتھی کاشغر سے نقل مکانی کرکے قدیم زمانے میں اس علاقے میں اسلام کوپھیلانے کے لئے آئے تھے۔یہ بتایا جاتا ہے کہ میرخوش بابا نے کھوت میں اپنے قیام کے دوران بہت سے کرامات دکھائے اور اس علاقے میں اس کے لوگوں کو اپنی روحانی طاقتوں سے سرفراز کیا۔ان کی دعائیں ہمیشہ قبول ہوتی تھیں۔

یہ مبارک مقام اب بھی مرجع خلایق ہے۔اور سالانہ بے شمار لوگ یہاں زیارت اور امن وسکون حاصل کرنے کے لئے حاضرہوتے ہیں۔

پتھر پر نقش کاری:
بوزوند سے کھوت جاتے ہوئے سڑک کے کنارے ایک پتھر پرقدیم زمانے کی نقش کاری راقم نے نوٹ کی تھی۔جوچیلاس میں پہاڑوں کی چٹانوں پرنقش کاری کے مانند تھی۔جن کا گندھارا زمانے سے تعلق بتایاجاتاہے۔میں نے اس کاذکر کارل جٹمار صاحب سے کیا تھا اور اس نے اسکی تصدیق کی تھی۔

قبیلے:
علاقہ کھوت میں مندرجہ زیل قبیلے آباد ہیں۔خوشوقتے،بائیکے،داشمنے،زوندرے،لالیکے،قوزئیے،خوشوقتے،دارغیر(لکڑی کے برتن بنانے والے)،ساڑھے،ڈنزے،موچی(اہنگر)۔

(تورکھو جاری باقی ائیندہ)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74238

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط 3)۔۔پروفیسر اسرار الدین

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط 3)۔۔پروفیسر اسرار الدین

دریا کے بائیں کنارے کے ساتھ سنوغر اگر چلیں توپہلے میراگرام اور اسکے بعد اوئ کے دیہات آتے ہیں۔اسکے بعد بونی پہنچا جاتا ہے۔سٹائین جب مستوج جاتے ہوئے اوی اور میراگرام سے گذرے تو اپنا تاثر یوں بیان کیا۔”اوی اور میراگرام کے خوبصورت گاؤں سے گذرتے ہوئے وہاں کے خوبصورت باغات،چناروں کے جھنڈ،پس منظر میں شاندار گلیشیر جہاں سے بہتے ہوئے ندی نالے جن پر یہاں کی زندگی کا دار ومدار ہے۔یہ سب کچھ یہاں کی پُرانی اور مستحکم تہذیب وتمدن کے ثبوت کے طورپر نظروں کے سامنے آجاتے ہیں۔“

چنار کے درخت کا چترال کے ادب وثقافت میں اہم حصہ رہا ہے۔چنار کا سایہ شاہ بڑوکی گاز اور چھیر وغوچھار ہر ایک چترالی شاعر کا آئیڈیل منظرنامہ ہواکرتا تھا۔اسکے علاوہ روایات کے مطابق چنار کے درخت کی سماجی طورپر بڑی اہمیت ہواکرتی تھی۔چونکہ چنار ایک تناوردرخت ہوتا ہے اور کافی جگہ گھیرلیتاہے۔اسلئے صرف ایسے لوگ اپنے گھروں میں یہ درخت لگایا کرتے تھے جن کے گھر بڑے ہوتے تھے۔روایت میں یہاں تک آتا ہے کہ پُرانے زمانے میں کسی گھر میں چنار کا درخت ہونے کی یہ نشانی ہوتی تھی کہ مالک مکان بارسوخ شخصیت کامالک ہوں گے۔اس لئے کوئی بھی اجنبی مسافر بلاروک ٹوک ایسے گھر میں مہمان بننا اپنا حق سمجھتا تھا۔اور اس چنار والے گھر کامالک اسے اپنی زمہ داری سمجھتا تھا کہ اس مہمان کی دل سے خاطر مدارت کرے“۔

sonoghur mastuj
ایک میراگرام کایارخون میں ذکر ہواتھا۔دوسرا میراگرام سنوغر کے ساتھ ہے۔جیساکہ پہلے ذکرہوا۔گرام ہندی لفظ ہے۔جوکسی قصبہ یاگاؤں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔میر(میرا)ڈاکٹر اسماعیل علی اخگرکے مطابق پہاڑ (یاشاید اونچھے مقام کو)کہتے ہیں۔اسلئے میراگرام کانام بھی اسکے محل وقوع کی وجہ سے شاید پڑاہوگا۔اس سے آگے اوئ کاچھوٹا اور خوبصورت گاؤں آتا ہے۔چترال کے دیہات میں اوئ،اویر،اورک،اویرت قسم کے مشترک نام مختلف علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔مثلاً ایک اوئ لٹکوہ کے علاقے میں شغور کے ساتھ ہے۔اسی طرح اسی مناسبت سے اوئ گول کو اویرت گول کانام دیاجاتا ہے۔اور اسی نام سے ایک چراگاہ بھی ہے۔اسی طرح اویر کے دیہات زیرین موڑکھو میں برم کے ساتھ لوٹ اویر کے نام سے،ارکاری میں ارکاری اویرکے نام سے،چرن کے ساتھ چرن اویر،لٹکوہ میں اورک نام سے(وادی ایژ میں) ایک گاؤں۔یہ یقینا پُرانے نام ہوں گے۔لیکن ان کے ماخظ کاپتہ نہیں چلتا۔فارسی ڈکشنری میں ایک عربی لفظ مجھے ملا۔اوی جس کا مطلب پناہ اورٹھکانا پکڑنا لکھا ہے۔بہت ممکن ہے کہ یہی لفظ اس کا ماخذ ہو۔باقی یہ اہم لفظ معلوم ہوتا ہے۔اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہوگی۔اوئ گاؤں معلوم نہیں کتنا پُرانا ہوگا البتہ یہ بات ہے کہ یہاں آباد قبیلے سنگھے،شعنیے،رضاخیل،زوندرے،بول ژاوے وغیرہ گردونواح کے مقامات سے آکر یہاں آباد ہوئے ہیں۔اسلئے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ گردونواح کے دیہات کی بہ نسبت یہ گاؤں بعد میں آباد ہوا ہوگا۔

بونی:(Booni)اپر ضلع چترال کا صدر مقام ایک وسیع میدان پرواقع ایک خوبصورت قصبہ ہے۔کہتے ہیں پُرانے زمانے میں یہاں گونی درخت کا جنگل ہوتا تھا۔اسی نسبت پہلے گونی بعد میں بونی مشہور ہوا۔(واللہ اعلم) بونی ہندی لفظ ہے جسکے معنی تخم پاشی یاتخم پاشی کاوقت ہے۔معلوم نہیں اس کا بونی سے کوئی تعلق ہوگا یا نہیں۔ہندی میں ایک اور لفظ بھی ہے یعنی بونی جوبونا(Dwarf)کامونث ہے۔لیکن اس کا ہمارے بونی سے دور کا تعلق بھی نہیں ہوسکتا۔ایک روایت کے مطابق یہاں ایک قبیلہ ڑوقے آباد ہے۔اس قبیلے کا جد امجد شاہ دردانہ بیگ پارئیس کے زمانے میں بدخشان سے آیاتھا۔اس وقت یہ بالکل غیرآباد تھا۔اس نے یہاں نہرنکال کر اسکو آباد کیا تھا۔رئیس مہتر نے اسی کو یہاں کا میر مقرر کیاتھا اس کابیٹا شاہ عظام درواز اور اسکے دوبیٹے امیر مہدی اور میرشاوی اپنے زمانے میں کافی اثرورسوخ کامالک رہے۔پہلوان مہتر کے زمانے میں ان کو زوال آیا۔اس خاندان سے تعلق رکھنے والے لوگ چٹورکنڈ(ورشگوم)اور چمرکن(لوئر چترال)میں بھی آباد ہیں۔ان کے علاوہ دوسرے قبیلے مندرجہ زیل ہیں۔
دوکے:۔یہ اپنے آپ کوسومالک کی اولاد بتاتے ہیں۔سومالک ایام قدیم میں بدخشان سے آیا تھا۔ثبوت کے طورپر بتاتے ہیں کہ اس قوم کے پاس ریشن میں سومالک کی جائیداد ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ کہ ڑوقے کے بعدیہ قبیلہ یہاں آباد ہوگا اور ڈوک Dokنام کی ایک جگے کوآباد کیا تھا اس نسبت سے ان کا ڈوکچی یا ڈوکی اور دوکے بن گیا۔روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس قبیلے کے اباواجداد کے پُرانے وقت کے حکمرانوں سے کسی وجہ سے چپقلش رہی تھی۔ان کے ایک بڑے جسکا نام مہربان شاہ کو جیل بھیج دیا گیا تھا اور جیل میں ہی اسکی وفات ہوگئی تھی۔

سیدان:۔ دمشق(شام) سے ایران وہاں سے خراسان پھر بذریعہ بروغل یارخون پھر براستہ شاہ جنالی تورکھو کے گاؤں رچ اوروہاں سے بعض یہاں آکر آباد ہوئے۔یہ مہترسلیمان شاہ کے زمانے میں یہاں آئے تھے یہاں کے علاوہ چترال کے کئی مقامات میں ان کی شاخیں آباد ہیں۔

قراچھئے:۔یہ سیدان کے ساتھ آئے تھے۔یہ ورکھپ،وریجن اور شالی میں بھی آباد ہیں۔
شغینے:۔بدخشان سے سلیمان شاہ کے وقت آئے تھے۔پہلے مستوج پھر یہاں اور دوسرے مقامات میں بس گئے۔اس قبیلے کے بعض لوگ ماہراھنگر تھے۔اور تلواریں بناتے تھے۔اسلئے شاہی درباروں میں ان کی بڑی قدر رہتی۔

زوندرے:۔یہاں کا اہم قبیلہ زوندرے ہے۔مقامی روایت کے مطابق یہ شاہ سلیمان مہتر کے زمانے میں بدخشان سے یہاں آئے تھے۔مقامی روایات کے مطابق یہ ورشگوم سے ہوکر یہاں آئے تھے۔مستوج میں اس وقت خوش وقتے مہترسلیمان شاہ کی حکومت تھی۔یہ لوگ پہلے یہاں آباد ہوئے وہاں سے بونی اور دوسرے علاقوں میں پھیل گئے۔ان کا جد امجد سومالک تھا۔وہ کسی زمانے میں اس تمام علاقے کا حکمران تھا۔یہ اپنا شجرہ سخی مردان تک ملاتے ہیں۔سخی شاہ مردان حضرت ابوطالب کے بیٹے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی تھے یا وہ خود تھے۔سرانگے،قاسمے اور سرونگے یہ تین شاخیں تین بھائیوں کی بن گئیں۔زوندرے نام اس لے پڑگیا۔بدخشان کے جس جگے سے یہ آئے اس کانام زوند تھا۔زوندرے کی متوازی شاخ سیاہ گوش ہے۔یہ شاہ عبدالقادر کی اولاد ہیں۔جوسرانگے اورقاسمے کا دوست تھا اور بدخشان سے سنوغر آکر آباد ہوگیا تھا۔بعد میں شاہ عبدالقادر کو چقار کوح(یارخون) میں کسی نے قتل کیا۔سرانگ کوپتہ چلاتواسکی بیوہ کو اپنے پاس بلاکے اس سے شاد ی کی اور اسکے نومولود بچے(جسکی ایک کان پرکالانشان تھا جسکی وجہ سے اسکو سیاگوش کانام دیا گیا)کی پرورش اور تربیت کی۔یہ بچہ بڑا ہوکر بڑی صلاحیتوں کامالک بنا اور مشہور ہوا اور شاہی دربار تک رسائی حاصل کی اور کافی اثرورسوخ کامالک بنا۔سیاہ گوش کے تین بیٹے تھے سلطان شاہ،قاسم اور صالح۔سلطان شاہ کی اولاد بونی اور مستوج میں تابریپ آباد ہیں۔قاسم کی اولاد بونی میں اور صالح کی اولاد میراگرام (نمبر1) سنوغر اوربونی میں آباد ہیں۔سومالک کے بارے یہاں کنفییوژن ہے کیا دوکے والا سومالک کوئی دوسرا سومالک ہے یا یہ ایک ہی لوگ ہیں اس کا جواب مقامی لوگ ہی دے سکتے ہیں۔

charun ovir upper chitral
شکارے:۔ یہ بڑونز(بلتستان) سے کٹور اول کے زمانے میں آئے تھے۔ان کے کچھ لوگ ڑاسپور میں آباد ہوئے تھے۔
امیربیگے۔کٹور اول کے زمانے میں گلگت سے پہلے مستوج پھریہاں آئے۔کچھ موژگول جاکے آباد ہوئے۔
بونی کے بارے میں دوباتیں محققین کو کھٹکٹھی ہیں۔ایک یہ کہ یہ ایک اہم مقام ہونے کے باوجود 1953ء سے پہلے کسی قسم کا انتظامی مرکز نہیں رہا۔جسکی وجہ سمجھ نہیں آرہی۔نیز دیگر اکثر اہم مقامات میں پُرانے قلعوں کے اثار پائے جاتے ہیں لیکن بونی میں اس قسم کے اثار ندارد ہیں۔مزید یہاں پرکسی قسم کے اثار قدیمہ کے بارے کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی۔بہرحال شاید آگے چل کرمقامی سکالر اس پرروشی ڈال سکیں۔

چرن اور چرن اویر:۔یہ جڑوان(Twin)دیہات بونی سے آگے واقع ہیں۔چرن دریا کے کنارے آباد ہے اور چرن اویر چرن سے اوپر جاکے پہاڑ کے اوپر واقع ہے۔اویرلفظ کا پہلے ذکر ہوا تھا۔یہاں اس پرمزید کچھ کہنے کی گنجائش نہیں۔بہرحال یہ لفظ اہم ہے اس پرتحقیق ہونی چاہیے۔چرن اویر جیساکہ میں نے سرسری انداز میں دیکھا۔ اس کے تین طرف پہاڑوں میں درمیان میں یہ ایکamphitheater(گول گھر) کے مانند ہے۔جیالوجی میں ایسے مقامات کو CWMکہتے ہیں جوکسی زمانے میں گلیشیر سے بھرا ہوتا ہے۔بعد میں گلیشیر پگھلنے کے بعد اس قسم کی ساخت کی ایک جگہ وجود میں آجاتی ہے۔(یہ میرا سرسری تصور ہے۔ماہرین اس پرصحیح رائے دے سکتے ہیں)۔چرن لفظ ہندی لفظ ہے۔جسکے معنی کسی کوکسی کے پناہ میں دینا ہے۔جیساکہ کہاجاتا ہے۔چرنوں میں دینا۔کھوار میں ایک طرز اظہار(expression)ہے۔”کوس اوانو موڑی دِک“۔یہ اس لفظ کابہتر مفہوم ہوسکتا ہے۔تاریخی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے۔کہ چرن گاؤں قدیمی دیہات میں سے ایک ہے۔چرن میں ایک پتھر پرخروشتی زبان میں تحریر شدہ ایک کتبہ ہے۔جسکی سرارل سٹائین نے جب یہاں سے گذرے تھے تشریح کی تھی۔وہ بتاتے ہیں کہ کتبہ پرلکھے ہوئے اصلی الفاظ یوں ہیں ”دیوا دھرمویام راجہ ورمانا“یعنی راجہ ورمن کی طرف سے دیوتاؤں کی خدمت میں نذرانہ“سٹائین لکھتے ہیں کہ سنٹرل ایشیاء کے مختلف علاقوں مثلاًکا شغر ختن وغیرہ میں بھی اس قسم کے کتبے موجود ہیں۔یہ بھی بتاتے ہیں کہ ہیون سانگ نے بلخ میں بھی اس قسم کے کتبوں کا ذکر کیا ہے اور ان کی آپس میں مشابہت اور مطابقت کی نشاندہی کرتے ہیں ان باتوں کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ جس وقت یہ کتبے لکھے گئے ہوں گے۔

 

اسی زمانے میں گاؤں کانام چرن(یعنی دیوتاؤں کے پناہ میں دیا ہوا)رکھا گیا ہوگا۔(واللہ اعلم)(اس قسم کا کتبہ برنس کے قریب پختوری دینی کے مقام پربھی سٹائین نے نوٹ کیا تھا۔وہاں پر اس پر مزید لکھا جائے گا۔ان کتبوں کی تصویریں بھی یہاں دی جارہی ہیں (۔سٹائین یہاں ایک غلطی کی طرف بھی اشارہ کرتا ہے کہ اس پتھر پرکتبے کوپہلے دفعہ بڈلف نے رپورٹ کی تھی۔اس نے کسی دوسرے کے کہنے پرعمل کرکے ”جے ورمن“کی جگہ”جے پال“ذکر کیا تھا۔جسکی وجہ سے بہت سے مورخین نے بعد میں ’جے ورمن“ کوپشاورکا ہندوبادشاہ ”جے پال“ سے ملادیا۔اوراس علاقے کو ہندوبادشاہ کا ایک حصہ قراردیا تھا۔ہندو شاہی کاتعلق گیارھویں صدی عیسوی سے ہے جبکہ اس کتبے کا زمانہ پانچویں صدی عیسوی بتایا ہے اور سٹائین اسے بدھ مت کازمانہ قراردیتا ہے۔شاہ مراد صاحب کے مطابق چرن اور چرن اویر میں مرادبیگے،مغلے،مغلیکے،شاہ غوثیے اور معشوقے قبیلے آباد ہیں۔چر ن میں ان کے علاوہ سیدان اور بوباکے بھی بستے ہیں۔چرن اویرکی قدامت کے ثبوت کے طورپر وہ بتاتے ہیں کہ حال کے زمانوں تک یہاں سینکڑوں سالوں کے عمر کے پُرانے اخروٹ اور دیگر درخت موجودتھے جن کواب لوگوں نے کاٹ دیا ہے۔یہاں کے قبیلوں میں خوش احمدے(یاخوشاماتے)کاتعلق شاہی خاندان سے ہے۔اس خاندان کا سلسلہ باباایوب تک جاتا ہے جو رئیس دور کے آخری زمانے میں خراسان سے آکے لون گاؤں میں آباد ہوئے تھے۔

ان کی تیسری پشت میں سنگین علی اپنی قدرتی صلاحیت کی وجہ سے نامور ہوا۔رئیس بادشاہ ناصررئیس کاداماد بنا۔اس رشتے سے اسکے دوبیٹے شاہ محمد رضا اور شاہ محمد بیگ تولد ہوئے۔محمد بیگ کے چھ لڑکے تھے۔شاہ محترم شاہ،خوشوقت،خوش احمد،بودلہ،طریق اللہ اور نعمت اللہ۔شاہ محترم شاہ نے بعد میں ملک میں طوائف الملوکی سے فائدہ اٹھاکرکافی خونریزی کے بعد ملک پرقبضہ کرلیاہے۔اور ملک کواپنے بھائیوں میں اس طرح تقسیم بعد میں ملک میں طوائف الملوکی سے فائدہ اٹھاکرکافی خونریزی کے بعد ملک پرقبضہ کرلیاہے۔اور ملک کواپنے بھائیوں میں اس طرح تقسیم کردیا۔محترم شاہ خود کٹور کالقب اختیار کرکے چترال میں بادشاہ بنا۔خوشوقت کویاسین گلگت کی مہتری دیدی،خوش احمد کو مستوج کی مہتری دیدی۔طریق اللہ موڑکہو کا گورنر،نعمت اللہ اور بودلہ کوموڑکہو میں جائیدادیں ملیں۔خوش احمد جو بعد میں جنگ میں رئیسوں کے مقابلے میں مارا گیا۔اسکی اولاد خوش احمد کہلائی۔بتایا جاتا ہے کہ اس کا بیٹا شاہ جہاں پناہ مانگنے یارکندچلاگیاتھا۔جہاں اس نے بہادری دکھا کے مقامی حکمران سے ڈوڈول کالقب پایا یہ بعد میں چترال واپس آیا اور بونی،جنالی کولی کوچ،چرون اویر اور ریشن میں جاگیر حاصل کی۔جہاں ان کی اولاد اب تک موجود ہے(بحوالہ اخوانزادہ فضل واحد بیگ،تاریخ اقوام چترال صفحہ 315 تا316)۔

مغلے: ۔یہ مغلان دہ چرن اویر اور چرن گاؤں میں آباد ہیں۔اخوانزادہ(صفحہ261)کے مطابق یہ قوم عہد رئیسہ سے ایک باعزت اور معزز قوم بتائی جاتی ہے۔روایات کے مطابق رئیس بادشاہ شاہ نادر کی بل سنگھ کے مقابلے میں مدد کے لئے شاہ چین نے ایک مغل سردار کی زیر قیادت کئی ہزار کی فوج چترال بھیجی تھی۔اس سردار کانام تاج مغل تھا۔یہ فرغانہ کا باشندہ تھا۔شاہ چین کے حکم سے یہ چترال پہنچ کر شاہ رئیس کی مدد کرکے ان کوفتح دلادی۔اس زمانے سے یہ قوم باعزت قوم تصور کی جاتی ہے۔یہ لوگ چرن اویر کے علاوہ سنگور،مغلان دہ،کوغذی،اویون،پرابیگ(لٹکوہ) سین اور سین لشٹ میں آباد ہیں۔
مغلیکے: ۔یہ بھی پُرانے زمانے میں وسطی ایشیاء سے آئے ہوئے لوگ ہیں۔چرن اویر میں چشمہ کے قریب ان کی آبادی ہے۔جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ یہاں اولین آباد کار رہے ہیں۔

شاہ غوٹیے:۔غالباً اویر کے علاقے سے یہاں آئے ہوں گے کیونکہ اویر میں ان کی زیادہ آبادی ہے۔اس کا ذکر وہاں کیا جائے گا۔
مفشوقے:۔گلگت سے کسی زمانے میں خوش احمد ے کے ساتھ یہاں آکے آباد ہوئے۔

چرن گاؤں میں مندرجہ بالا کے علاوہ سیدان،بوباکے اور خوشیے آباد ہیں۔بوباکے گلگت سے اور خوشے تورکہو سے کسی زمانے میں آکر یہاں آباد ہوئے ہیں اور سیدان چرن کامورث اعلےٗ سید وصی محمد رئیس حکمران کے زمانے میں چترال آئے تھے۔یہاں آنے سے پہلے وہ خراسان میں آباد تھے۔ان کی دسویں پشت میں سید عبدالحسن ابن سید گل خندہ چرن میں آباد ہوئے اور ان کی اولاد اس وقت سے یہاں سکونت پذیر ہے۔یہ لوگ نسلاًکاظمی کہلاتے ہیں اور سیدعبدالحسن اپنا نسب پینتیس(35)ویں پشت میں امام موسیٰ کاظم رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچاتے ہیں۔چرن سے نیچے جاتے ہوئے کوراغ سے گذرتے ہیں۔یہ غالباًچرن کے بعد میں ابادشدہ گاؤں ہوگا۔کیونکہ راغ فارسی کا لفظ ہے جسکے معنی سبزہ زار پہاڑ کے نیچے میدان،دامن کوہ اور جنگل لکھے گئے ہیں۔سناہے بدخشان میں بھی راغ کے دیہات موجودہیں اور چترال میں بھی راغ نام کاگاؤں آبادہے۔ریشن میں بھی راغین گول موجود ہے البتہ یہاں راغ کے ساتھ ”کو“کالاحقہ لگا ہواجسکامطلب شاید کوہ ہو۔کوراغ سے آگے کڑاک کی مشہور تاریخی گھاٹی آتی ہے۔جو 1895ء میں چترالی مجاہدین کا انگریزوں کے ساتھ مقابلہ کی یاد دلاتی ہے۔اس وقت دوانگریزافسروں کے ہمراہ ساٹھ مسلح سکھ سپاہی مستوج سے چترال آتے ہوئے مجاہدین کے نرغے میں آئے تھے۔

جسکے نتیجے میں ایک انگریز افسر کپٹن راس اور بہت سے سپاہی ہلاک ہوئے تھے۔دوسرا افسر کپٹن جونز اپنے بعض سپاہیوں کے ساتھ مجاہدین کے گھیرے سے نکلنے میں کامیاب ہوگیا تھا۔اور واپس بونی چلاگیاتھا۔کوئی بیس(20)سکھ سپاہی اس گھاٹی کے کسی غار میں چھپ چھپاتے کچھ دن لڑتے رہے۔مگر آخرکار ان کابھی خاتمہ ہوگیاتھا۔(بحوالہ تاریخ چترال غلا م مرتضیٰ)۔یہاں سے آگے جاتے ہوئے راستے میں زئیت کاگاؤں آتا ہے۔زئیت بھی فارسی کا لفظ ہے جوعربی سے لیاگیا ہے۔اسکے معنی روغن زیتون لکھا ہے۔جنگلی زیتون کے درخت چترال کے پہاڑوں میں کافی پیدا ہوتے ہیں شاید یہاں بھی ہوتے ہوں گے۔ریشن:۔ ریشن ضلع مستوج کے بڑے اوراہم دیہات میں سے ایک ہے۔لوئر چترال سے پرچترال جاتے ہوئے دریائے مستوج کے بائیں کنارے پر اپرضلع کا پہلا اہم گاؤں آتا ہے۔

گریم لشٹ،نرزوم،راغین گول اسکے ساتھ ملحقہ چھوٹی دیہات ہیں یہاں کئی قبائل آباد ہیں جن میں سے بعض کے نام یہ ہیں۔رضاخیل،خوشامدے،خوشوقتے،کٹورے،بیگالے،بروشے،زوندرے،بروڑے،میرشکارے،پانے،بوباکے،افغان،وزیربیگے،
سنھگے،ووکیلے،بائیکے،محنت گار،سید،کسارے،میگاسارے،بوڈے،شکارے،بالژاوے اور کلاشے۔

کہاجاتا ہے کہ پہلے یہ غیرآباد جنگل تھا۔دوبھائی محمدبیگ اور اس کا بھائی روم جوپہلے لون گاؤں میں رہتے تھے۔انہوں نے اس غیرآباد جگے کودیکھا توان کے دل میں خیال آیا کہ کیوں نہ اسکو آباد کیا جائے چونکہ اس گاؤں میں سے خوبصورت ندی بہتی تھی۔جسمیں سارا سال وافر مقدار میں پانی بہتا رہتا تھا۔چنانچہ انہوں نے مل کر اس کے لئے نہر نکال کرآباکیا۔یہ تقریباً500سال پہلے کاواقعہ بتایا جاتا ہے۔ان میں ایک بھائی نے لومان دور کوآباد کرکے وہیں سکونت اختیار کی اور دوسرے بھائی نے لوٹ دور میں اپنا گھربسایا۔میرشکارے بھی یہاں قدیم سے آباد تھے۔باقی مختلف وقتوں میں مختلف جگہوں سے یہاں آکر آباد ہوئے تھے۔اس جگے کانام معلوم نہیں کیسے رکھاگیا ہوگا بہرحال قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جب قدیم ترین آباد کار یہاں آئے تو اُنہوں نے دیکھا ہوگا کہ یہ علاقہ جنگل ہونے کے علاوہ ہرطرف ہون کوٹی(سیلاب آوردہ مواد)اور ریشٹوں (سیل برف سے جمع شدہ مواد) جمع تھے۔زیادہ ترشاید رشٹون موجود ہوں گے۔کیونکہ ریشن گول میں گلیشیر ایڈوانس(Glacial advance)کا سلسلہ دوسرے گلیشیر زدہ علاقوں (glaciated areas) کی طرح ہمیشہ سے رہا ہے چنانچہ اسی مناسبت سے پہلے یہاں کے لئے رشٹون کا لفظ استعمال ہواہوگا۔اور بعد میں یہ بدل کے ریشون ہوا ہوگا۔(واللہ اعلم)یہاں کے قبیلے رضا،خوشوقتے اور کٹورے مستوج وغیرہ سے، خوشامدے لون سے،بروڑے بروز سے،افغانی دیر سے،سنگھے اوی سے،واخیکے واخان سے،محنت گاڑ ڑاسپور سے،بولژاوے میراگرام سے،کلاشے کلاشگرم سے آئے تھے۔بیگالے یاسین سے ہاشم بیگم خونزہ کے ساتھ آئے تھے۔بروشے،وزیربیگے اور بوباکے گلگت سے آئے تھے۔پانے اور ماژے تریچ سے اور زوندرے چترال کے مختلف حصوں سے آئے تھے۔ریشن کے ساتھ ایک چھوٹا گاؤں گریم لشٹ ہے۔اس گاؤں کانام پُرانا لگتا ہے جوگرام لشٹ سے ماخوذہوگا۔جیسا کہ ذکرہوا ہے گرام کالاحقہ اکثر ہند ودور سے تعلق رکھتے ہیں۔(آج کل اس کانام غیرسرکاری طورپر بدل کر گرین لشٹ استعمال ہورہا ہے۔جو غلط ہے)گریم لشٹ کے بارے ایک خصوصی بات یہ ہے کہ یہاں ایک شاہ صاحب ہیں جس نے اپنے خاندان کا شجرہ محفوظ رکھا ہوا ہے جسمیں اسکے خاندان والوں کا سلسلہ حضرت علی رضہ اللہ عنہہ تک چلاجاتا ہے۔یہ دنیا کے نادر اور نایاب شجروں میں سے ایک شمار ہوتا ہے۔دوباتوں کی وجہ سے ریشن تاریخ میں امرہوگیا ہے۔جنکی کی طرف مختصر اشارہ بے جانہ ہوگا۔ایک تو چترال کے مشہور صوفی شاعر محمد سیر کے رومان یارمن ھمیں (یایورمین ہمین)کی روایت۔دوسری انگریزوں سے چترالی مجاہدین کی جنگ اور محمد عیسیےٰ غازی کاکارنامہ۔

ریشن کے بالمقابل دریا کے پارشوگرام گاؤں آباد ہے۔یہ گاؤں بھی قدیم دیہات میں سے آباد معلوم ہوتا ہے۔مارگن سٹین کے مطابق چترال میں جگہ جگہ شوگرام،شاگرام،شاگروم وغیرہ نام موجود ہیں۔ان کی اصلیت ہندو دور سے ہے۔جب ہندولوگ مختلف دیہات جسے گرام کہتے تھے کے ساتھ اپنے ایک اہم دیوتا شیواجی کانام لگاتے تھے۔یہ ذکر برسبل تذکرہ پیش ہوا۔بہرحال موجودہ شوگرام میں محمد بیگے قوم آباد ہے جن کا تعلق شاہی خاندان سے ہے۔(اس کا بعد میں بھی ذکرکیا جائے گا)۔محمد سیر کاتعلق اسی قبیلے سے تھا۔چترال کے لوگ عام طورپرمحمد سیر (جسے ماسیار کہتے ہیں)کوصرف ان کے مشہور گیت یورمان ھمین(یارمن ھمین)اور ان کے رومان کے حوالے سے جانتے تھے۔حالانکہ وہ ایک عالم فاضل انسان تھے۔اور فارسی میں ان کا دیوان موجود تھا جسے خوش قسمتی سے حال کے زمانے میں مولانگاہ مرحوم نے ترجمہ کرکے اور مقتدور قومی زبان اسلام آباد سے شائع کراکے دنیا سے متعارف کرایا۔محمدسیرمرحوم کے رومان کے بارے ایک ریڈیائی ڈرامہ کھوار زبان میں لکھا گیا ہے۔جسے کھوار پروگرام سے نشر کیا گیا تھا۔ریشن کے حوالے یہ بات قابل ذکر ہے کہ ریشن محمدسیر کی محبوبہ کاگاؤں تھا اور ریشن کاذکر یورمن ھمین میں انہوں نے یوں کیا ہے۔]ریشنو بوم رنگ گنی شیرمہ خوشو لعل شوناری[۔

انگریزوں کے خلاف 1895ء کی جنگ کی نہایت متحرک شخصیت محمد عیسےٰ تھے۔چترال سے لیکر ریشن،نسرگول اور چکلواخت ہرمحاذپروہ موجودنظر آتے ہیں۔مشکل مقامات پرپہاڑوں پرمورچے اور سنگر بنوانا،لشکروں کی تربیت،حالات کے مطابق ان کی تشکیل جیسے اہم امور کی انجام دہی میں نہایت ماہرانہ اندازمیں مصروف نظرآتے ہیں۔یہاں تک ایک انگریزمصنف (تھامسن)ان کی جنگی عملیوں کی تعریف کئے بغیرنہیں رہتا اور یہ تسلیم کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی کی بدولت ہم سے ان کو ہزیمت اٹھانی پڑی ورنہ مقامی حالاتکے مطابق ان کی طرف سے تیاری میں یا مقابلے میں کسی طرح بھی کمی نہیں تھی۔محمدعیسےٰ کی جنگی عملی کو اسلئے بھی سراہا جاتا رہا ہے کہ نہایت پراشوب حالات میں بھی اس نے دشمن کے سامنے ہتھیار ڈالنے کاتصوربھی نہیں کیا۔جب انگریزاپنی طاقت کے بل بوتے پرجنگ مین کامیاب بھی ہوئے تب بھی محمد عیسےٰ ان کے ہاتھوں سے نکل کے تانگیر کے یاغیستان میں پناہ لینے اور انگریزوں کے خلاف محاذبنانے کے عمل میں مصروف ہوچکا تھا۔

ریشن کے پولوگراونڈ کاواقعہ جسکا یہاں ذکر مقصود ہے۔یوں پیش آیا۔ انگریزوں کی فوج کاایک مختصر دستہ چترال میں محصور فوجوں کی کمک میں سامان کے ساتھ ریشن سے گذرتے ہوئے یہاں مجاہدین کے ہاتھوں محصور ہوگیا تھا۔اسی دوران چترال سے محمد عیسےٰ بھی ریشن پہنچ گیا تھا۔حالات ایسے ہوئے تھے کہ وقتی طورپر تین دن کے لئے صلح ہوگئی اور صلح نامے کے تیسرے دن محمد عیسےٰ نے انکوپولو میچ کھیلنے کی دعوت دی۔پولو میچ جب ختم ہوا اور جب انگریزفسران اُٹھ کے جانے لگے توحالات ایسے ہوگئے کہ جنگ کاسمان بن گیا۔محمد عیسےٰ دوانگریزوں کے درمیان کھڑاتھا۔اُنہوں نے دونوں کو اپنے ہاتھوں میں جکڑکے گرفتار کرلیا۔اسوقت انگریزوں کی گریژن کی طرف سے زبردست فائرنگ ہوئی اور کئی مجاہدین شہید ہوگئے اور مجاہدین نے ان کے قیام گاہ پرقبضہ کرکے ان کے کئی سپاہیوں کو تلواروں پر لیا دوسکھ سپاہیوں نے گرفتاری سے بچنے کے لئے خودکشی کرلی۔”انگریزافسران کانام لفٹننٹ فولر اور لفٹننٹ ایدورڈتھے۔جنکو عمرا خان کے پاس بھیجدیاگیا“۔اس واقعے میں محمد عیسےٰ کی طاقت کاجومظاہرہ ہوا وہ یادگار ہے۔(تفصیل پڑھیں ایچ سی تھامسن کی کتابChitral Campaignجسکا ترجمہ چترال کے ساتھ انگریزوں کے جنگ کے نام سے راقم نے کیا ہے۔(باقی آیندہ)۔

Posted in UncategorizedTagged
73074

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط دوم) تحریر:  پروفیسر اسرار الدین 

Posted on

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط دوم) تحریر:  پروفیسر اسرار الدین

وادی مستوج۔۔۔وادی یارخون کی حد بندی مستوج کے مقام تک ہے۔یہاں سے آگے وادی ڑاسپور اس کے ساتھ مل جاتی ہے اور دریائے مستوج کے ساتھ گنکورینی کے مقام تک یہ وادی مستوج کی شکل اختیار کرتی ہے۔البتہ تاریخی اعتبار سے ریشن تک اس وادی کو بیار اور اس سے آگے کو کوہ کا نام بھی دیا جارہا ہے۔تورکھو اور موڑکھو کی وادیاں اس وادی کی معاون وادیاں ہیں۔

مستوج:۔اس وادی میں سب سے پہلے مستوج کا قصبہ آتا ہے۔جو دریائے ڑاسپور سے چنار گاؤں تک پھیلا ہوا ہے۔یہ تمام چترال کے قدیم ترین دیہات میں سے ایک ہے۔چینی ریکارڈ میں اس کا نام شانگی یا شوانگ می آیا ہے۔قدرتی طورپر اس کی محل وقوع اس قدر ایڈیل ہے کہ یہ تین وادیوں کے سنگم پر واقع ہے۔یہاں سے وادی ڑاسپور کے ذریعے کشمیر اور برصغیر کی طر ف راستہ نکلتا ہے اور وادی یارخون کے ذریعے وسطی ایشیاء اور چین اور وادی مستوج اور چترال کے ذریعے افغانستان اور شمال مغربی برصغیر کے لئے گذرگاہ نکلتا ہے۔اسطرح تاریخ میں یہ نہایت اہمیت کا حامل رہا۔سرآرل سٹائین 1906ء میں یہاں سے گذرا تھا۔اور چینی ترکستان تک مطالعاتی دورہ کیا تھا۔وہ چینی رکارڈوں کے حوالے سے ان مقامات کے ناموں کے بارے لکھتے ہیں کہ”شانگ می ہیون سانگ کے مطابق واخان سے جنوب میں واقع ہے۔اونچے پہاڑوں پر سے گذر کر شانگ می کی سلطنت میں پہنچ جاتے ہیں یہ پہاڑوں اور وادیوں پر مشتمل علاقہ ہے اور یہاں مختلف اونچائی کے پہاڑ واقع ہیں۔پیداوار میں خاص طورپر دالیں اور گندم وافر مقدار میں پیدا ہوتے ہیں۔انگور بھی یہاں بہتات میں ملتے ہیں۔اس علاقے میں ورقی پڑتال بھی ملتے ہیں۔جسے لوگ کدال سے کھود کے نکالتے ہیں۔یہاں کی اب وہواسردہے۔لوگ زندہ دل،عجلت پسند اور راست باز ہیں۔ان کے رسم ورواج میں کسی قسم کی ظاہرداری یاتکلف کا شائیبہ نہیں۔یہ لوگ زیاد ہ تراونی لباس پہنتے ہیں۔ان کا بادشاہ ساکیہ خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔وہ گوتم بدھ کے قانون کااحترام کرتا ہے۔اسکی رعایا اسکی پیروی کرتی ہے اور تمام اس پاک عقیدے سے روحانی طاقت حاصل کرتے ہیں یہاں پردو خانقاہیں بھی ہیں جن میں چھوٹی تعداد میں راہب رہتے ہیں“۔

سٹائین اس تذکرے سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ یہ علاقہ مستوج کا ہی علاقہ ہے جسکے ساتھ تورکھو اور موڑکھو کے علاقے بھی شامل ہوسکتے ہیں۔مزیدوہ یہ بھی لکھتے ہیں۔کہ شانگی یاشوانگ می کی سلطنت ان پانج مملکتوں میں سے ایک تھی۔جو یووے چیہہ(Yueh-Chih)امراء کے ماتحت تھیں اور یہ تمام تخارستان (بدخشان) کے ماتحت تھیں۔سٹائین نے انہیں حوالوں سے کھووی(Chi-Wei)کا حوالہ بھی دیا ہے اور بتاتے ہیں اس سے کھو(Kho)علاقہ لیا جاسکتا ہے جو مستوج علاقے سے نیچے واقع ہے اور قشقار بالا کے مختلف وادیوں سے منسلک ہے اور کھوار زبان جو چترال کے لوگوں کی ایک زبان ہے بھی اسی سے نکلا ہے۔بہرحال ان دو حروف”کھو“ اور وی“(Chu-Wei)دوسری چینی تحریروں کی طرح ان علاقوں کے پرانے نام ہوں گے جو بعد میں کھو بن گئے ہو“۔مستوج قصبے کے اہم قبیلے زوندرے،کٹورے،رضاخیل،سیدان،یاغشے،زیادینے،غرزک،شامے،امیر بیگے،اچھنجے،وخک،شریفے،سنگارے وغیرہ ہیں۔ان میں سے یاغشے،یارکند سے رئیس دور میں آئے تھے۔

وخک (وخان سے)غرزک(غذرسے) حال کے زمانوں میں آئے۔سنگارے اور شریفے بدخشان سے کسی زمانے میں آئے تھے۔سیدان اور زوندرے سنوغر سے یہاں اور دوسرے مقامات میں پھیلے۔ان کاکچھ تفصیلی ذکر بعد میں آئے گا۔شمال سے آئے ہوئے مستوج میں پہلی دفعہ ترچ میرکی خوبصورت چوٹی نظر آتی ہے۔ترچ میر کی صحیح سپلنگTERICH MERہے۔غلطی سے انگریزوں نےTIRICH MIRسمجھا اور لکھا اور اب سب ان کی پیروی کرتے ہیں۔لفظMERیاMARکا لاحقہ بعض دوسرے پہاڑوں یا چوٹیوں کے ساتھ بھی لگاہوا ہے۔مثلاًدیامیر۔(DIAMAR)۔ڈاکٹر اسماعیل ولی کے مطابق میرMERیا(MAR)لفظ پہاڑکے لئے استعمال ہوتا ہے۔اس لحاظ تریچ میر ترچ علاقے والا پہاڑ ہوسکتا ہے۔یہاں ترچ کے وجہ تسمیہ کے چکر میں نہیں پڑتے۔ورنہ معاملہ پیچدہ ہوجائے گا۔اسماعیل ولی صاحب نے پامیر کابھی ذکر کیا ہے۔اور وجہ تسمیہ پائے میربتایا جاتاہے۔جس سے کنفیوژن ہوگیا۔بہتر ہوتا اسکو سنسکرت ہی رہنے دیا جاتاتواسکا مطلب پہاڑوں کا پاؤں بن جاتا۔جغرافیہ دانوں کے مطابق ہندوکش،ھمالیہ،قراقرم طیان شان وغیرہ پہاڑ پامیر سے نکلتے ہیں اور مختلف اطراف میں پھیل جاتے ہیں۔ڈکشنری میں پا کے ایک معنی بنیاد بھی لکھی ہے۔اسلئے پامیر کا ترجمہ پہاڑوں کی بنیادیں بن جاتا ہے۔جوکہ موذون لگتا ہے۔یاد رہے پامیر(Pamir)نہیں بلکہPAMERہے۔جغرافیہ دان اسکوپامیر ناٹ(Knot) یاگرہ بھی کہتے ہیں کیونکہ یہ مقام مختلف اطراف میں پھیلنے والے پہاڑوں کی یہاں گرہ(Knot)ہے۔

سرغوز۔۔۔مستوج قصبے کے جنوب میں دریائے ڑاسپور منحنی شکل میں گھوم کے دریائے مستوج میں شامل ہوجاتا ہے۔اسی سنگم پر سرغوز گاؤں آباد ہے۔تمام چترال میں یہ ان چنددیہات میں سے ہے جہاں اپنی کوئی ندی نہیں۔اور یہ دریاکے پانی سے نہر کے ذریعے سیراب ہوتے ہیں۔غوزیا غوزی فارسی لفظ ہے۔جسکے معنی منحنی شکل کے ہے۔چونکہ یہ مخفی مقام پر ہے۔اسلئے لگتا ہے۔اسی مناسبت سے یہ نام پڑگیا ہوگا۔میرکا لاحقہ اسلئے لگایا ہوگا۔اسی وادی میں آگے چل کے دومقامات ایسے ہیں جہاں غوزی ناموں سے واسطہ پڑتا ہے۔مثلاًکوغذی اور برغوزی۔یہ مقام چونکہ پہلے آتا ہے۔اسلئے اس کا نام سرغوز رکھا گیا ہوگا۔یعنی پہلا غوز(یاغوزی)فارسی زبان سے ماخوذاورجگہوں کے نام بھی موجود ہیں اسلئے یہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔
یہاں پرآباد قبلیوں کے نام سیدان،بوشے،داشمنے،زوندرے زیادئیے،یاغشے،باسوٹے،قاضئے،بہرامے اور مراتے ہیں۔جوگردونواح کے دیہات سے یہاں آکر بس گئے ہیں۔

نِسُر۔۔۔سرغوز سے آگے نِسُر کامقام آتا ہے۔ایک انگریز مصنف تھامسن نے نِسُر کوایک یونانی نام نسہ سے نسبت کرنے کی کوشش کی ہے اور بتایا ہے کہ سکندر اعظم کی فوجیں اس مقام تک آئی تھیں۔وہ یہاں سے پہاڑوں کو عبور کرکے ہندوستان جانا چاہتے تھے لیکن یہاں حالات کو مخدوش دیکھکر واپسی کا ارادہ کیا۔نسُر گول1895ء میں انگریزوں کے خلاف جنگ میں بھی اہم میدان جنگ رہاتھا۔

سونوغور یا سنوغر۔۔۔سنوغور تمام چترال میں ایک اہم خوبصورت گاؤں کی حیثیت سے مشہور ومعروف ہے۔یہ قدیم ترین دیہات میں سے ایک ہے۔یہاں نوغور غیرڈوک یاٹیلے پرایک پرانے قلعے کے نشانات باقی ہیں۔جہاں مٹی کے برتنوں کے بکھرے ٹکڑے اب بھی ملتے ہیں۔سٹائین نے ان کو دیکھکرکہا تھا کہ مٹی کے برتنوں کے یہ ٹکڑے موجودہ زمانے کے برتنوں سے بدرجہا بہتر کوالٹی کے معلوم ہوتے ہیں۔اس نے جوقلیل مقدار میں جوآثار دیکھے تھے۔ان میں دھات کے نیزے کے پھالے اور دسرے اقسام کے اسلحے کے نمونے شامل تھے۔اور ان کی یہ تاثر بناتھا کہ مقام بہت پرانے زمانے سے آباد ہے۔(اس ٹیلے کی ابھی تک صحیح معنوں میں کھدائی نہیں ہوئی ہے۔کھدائی کے بعد کافی اہم معلومات سامنے آسکتے ہیں۔)سونوغور (یاسنوغر)کی وجہ تسمیہ کے بارے میں ڈاکٹر اسماعیل ولی کا خیال ہے کہ یہ سورنوغور ہوگا۔ان سے میں اتفاق کرکے اسمیں یہ اضافہ کروں گا کہ ممکن ہے اس زمانے میں یہ نوغور (یاقلعہ) اس علاقے میں موجود دوسرے قلعوں کی بہ نسبت زیادہ اہم ہوگا۔اسلئے اس کا نام سورنوغور یعنی قلعوں میں اونچی حیثیت والا قلعہ مشہور ہوگا۔سنوغر اپنے چنار کے درختوں اورخوبصورت شاف شفاف چشموں کے لئے بہت مشہور ہے۔پس منظر میں پہاڑ کے اوپر شایوز یعنی گلیشیر کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔جوکسی زمانے میں زیادہ وسیع ہوگا۔لیکن اب سکڑ کے چھوٹا رہ گیا ہے۔(یادرہے لوگ گلیشیر اور ایولانچ میں فرق نہیں کرتے۔گلیشیر شایوز کوکہتے ہیں۔جسے بننے میں ہزاروں سال لگتے ہیں۔اور ایوالانچ ریشٹ کو کہتے ہیں جوتازہ برف کاسیل ہوتا ہے)۔

سنوغر سے متعلق ایک رومانوی شاعرکی رومانوی گیت بھی مشہورہے۔نیز یہاں کے ایک کلاسیکی ستارنواز شاہ گلی زار کانام بھی بہت معروف ہے۔اس گاؤں میں اہم قبیلے مندرجہ ذیل ہیں۔ سید،زوندرے(سرانگے،اورشاہگوشے)،داشمنے،رضا،ھشے،یاغیشئے،غوڑونے،اچھانجھے،باسوٹ،شیشے،بول ژاوے
،چھیرموژے، سنگھے،فرانگی۔
(1)سید، رئیس کے زمانے میں خراسان سے آئے تھے۔محمد رضائے ولی کی اولد ہیں۔جسکا مزارسونوغورمیں موجود ہے۔تقریباًگیارہ پشت سے یہ لوگ یہاں آباد ہیں۔یہاں سے یہ دوسرے دیہات میں بھی پھیلے۔

زوندرے(سرانگے)یہ ایک قدیمی قوم سومالک کی اولاد بتائی جاتی ہے۔جسکی حکومت موڑکھو تورکھو سے اسکردو تک کسی زمانے میں پھیلی ہوئی تھی۔یہ قوم تانگیر میں بھی آباد ہے۔جہاں ان کورونو کا نام دیا جاتا ہے۔چترال کے مختلف حصوں میں اس قبیلے کے افراد آباد ہیں۔ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کا شجر امام حنیفہ ؒ تک ملتا ہے۔چترال میں ان کی آمد کے بارے ایک روایت یہ بھی ہے کہ یہ محمد رضائے ولی کے ساتھ خراسان سے آئے تھے۔اور سنوغر میں سکونت پذیر ہوگئے تھے۔سرانگ کامکان پچھلی صدی کے شروع تک موجود تھا۔جو بعد میں منہدم ہوگیا۔شاہ گوشے ان کی ایک متوازی شاخ ہے۔یاغیشے،یاغشی سرانگ کا بھائی تھا۔اسکی اولاد یاغیشے کہلاتی ہے۔ان کاتیسرا بھائی سرونگ ڑاسپور میں آباد ہوا۔جہاں اسکی اولاد موجود ہے۔درونے،باسوٹے،اچھنجے،بول ژادے اور شیشے یہاں کے قدیمی باشندے ہیں۔جنہوں نے اس جگے کو آباد کیا۔

5۔سنگھے کشمیر سے کسی زمانے میں آئے تھے۔پہلے میراگرام (نمبر1)میں آباد ہوئے وہاں سے ان کی اولاد یہاں آئی۔
(6)داشمنے اور رضا موڑکہو سے ھشے مستوج سے آکرحال کے زمانوں میں یہاں آباد ہوئے۔

(7)فرانگی۔یہ اینگلو چترال(Angle Chitral)خاندان ہے۔جوکسی انگریزکی ایک مقامی خاتون سے شادی کے نتیجے میں وجود میں آئی۔یہ خاندان گذشتہ صدی کے شروع سے یہاں آباد ہے۔اب اسکی تیسری یا چوتھی پشت ہوگی۔

پرواک۔۔سونوغور کے بالمقابل دریائے مستوج کے مغرب کی طرف ایک وسیع میدان میں اپر اور لوئر پرواک کے دیہات آبادہیں۔پرواک کی وجہ تسمیہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں۔البتہ اس مقام کی تاریخی اہمیت بہت زیادہ ہے یہاں پُرانے قلعے کے آثار بھی ملے ہیں۔بتایا جاتا ہے کہ یہاں درباتوشالی نام کے ایک مقامی چیف کاقلعہ بھی تھا جسکی تفصیل سرآرل سٹائین نے دی ہے۔لیکن اسکے ذکر سے پہلے یہاں کے بارے ایک لوک کہانی ہے اس کا ذکر ضروری ہے۔اس کہانی کے راوی گل نواز خاکی مرحوم تھے۔

”کہتے ہیں چار پانج سوسال پہلے پرواک ایک سرسبزوشاداب علاقہ تھا۔یہاں ایک رئیس (دولتمند)خاندان آباد تھا۔جس نے دور سے دریا سے نہرلاکر اس گاؤں کو آباد کیا تھا۔ایک زمانے میں اس خاندان کے تین بھائی تھے۔دربتوشالی،ہمدیک اور شاپیر۔یہ بھائی اپس میں بہت محبت کرتے تھے۔ایک دفعہ اُنہوں نے اس بات پر آپس میں مقابلہ کیا کہ ان میں زیادہ دولتمند کون ہے۔چنانچہ سب سے پہلے دربتو شالی نے اپنی ثروت کا مظاہرہ اس طرح کیا کہ پرواک کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جوتقریباً6میل ہے)بڑی سڑک پرگھٹنوں جتنی اونچائی کے بقدر گندم کے دانے بچھائے اور لوگوں میں تقسیم کئے۔دوسرے بھائی ہمدیک نے تمام علاقے کے لوگوں کے لئے سنہ بچی(ہریرے کی مانندایک قسم کاکھانا،جوآٹا،گھی اور نمک ملاکر بنایا جاتاہے)پکوایا اور لوگوں کی دعوت کرکے ان سے کہا کہ خوب سیرہوکے جاؤ اور جاتے ہوئے ایک لقمہ قدر سنہ بچی میرے قلعے کی دیوار پرلگاتے جاؤ۔لوگ کھانا کھانے کے بعد جب چلے گئے توپتہ چلا قلعے کی تمام دیواریں سنہ بچی سے پلاسٹر ہوچکی تھیں۔تیسرے نمبر پرشاہ پیر کی باری تھی۔وہ مال داری کے لئے مشہورتھا چنانچہ اس نے حکم دیا کہ اپنی پن چکیوں کوبند کردواسکے بعد ایک وقت پراس نے اپنے مال مویشیوں سے حاصل کردہ دودھ ان چکیوں کی نالیوں میں چھوڑا۔جسکے نتیجے میں سات دنوں تک چکیاں چلتی رہیں۔اس طرح تینوں کا مقابلہ برابر(Draw)رہا۔

”1906میں اسٹائین نے دربتو شالی کے قلعے کو وقت کی کمی کی وجہ سے سرسری انداز میں دیکھا اورلکھا کہ یہ قدیم زمانے سے تعلق رکھتا ہے۔قلعہ کھنڈرات کی جوبچی ہوئی دیواریں ہیں مستطیل شکل کی ہیں۔اگرچہ ناہموار طورپر (Rough)تعمیر ہوئی ہیں۔قلعہ کاباہر کے دالان کا حصہ کسی قدرنظرآرہاتھا۔۔۔۔وقت دیرہونے کی وجہ سے زیادہ اندر سے دیکھنے کاموقع نہیں مل سکا“۔

سٹائین سے تقریباً ایک سوسال بعد محکمہ اثار یات صوبہ پختونخواہ نے ڈاکٹر احسان علی(ڈایرکٹر)کے زیرنگرانی میں اس مقام کی تفصیلی کھدائی کی۔ان کی رپورٹ کے مطابق یہ جگہ پُرانے زمانے میں تین بھائیوں میں سے ایک بھائی دربتوشالی کاقلعہ تھا۔دوسرے بھائی کے نام شپیراور ساق لکھا ہے۔رپورٹ فرنٹیر ارکیالوجی جلد سویم(2005)کے مجلے میں چھپی ہے۔وہاں سے استفادہ کرسکتے ہیں۔یہاں مختصراًاہم دریافت شدہ معلوما ت کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے۔(1)گیارہ خندقیں کھودی گئیں جو گندھارا دور کے قبروں کے کلچرسے تعلق رکھتی تھیں۔جو اشیاء ملیں ان کا تعلق بھی اسی دور سے تھا۔
(2)گیارہ قبریں ملیں۔تین طرح کے دفن کے طریقے ملے۔مثلاًدفن کرنا،مردوں کوجلانا اور جزوی طورپر دفن کرنا۔یہ تینوں اقسام کے دفنے طریقے گندھارا قبروں کے کلچر میں بھی دریافت ہوئے ہیں۔

(3) ایک قبرنما سٹرکچر ایسا ملاجوکہ اندر سے بالکل خالی تھا۔البتہ اس کے اندر کچھ پتھر پڑے ہوئے تھے۔جوغالباًجادوٹونے کے لئے استعمال ہوتے ہوں۔اس قسم کی خالی کانسی قبریں کسی کی یادمیں بنائی جاتی تھیں۔جن کوتعویزکہاجاتا ہے۔جووسطی ایشیاء میں کانسی کے دور(Bronze Age)سے تعلق رکھنے والے علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔

(4)سونے اور پیتل کی معمولی ایشاء بھی ملیں۔(5)جواشیاء ملیں ان کی تفصیل یہ ہیں۔
ایک پیتل کاکانسی کامہر،8عدد سونے اور پیتل یاکانسی کی بالیاں،کسی قدر قیمتی ایک انگوٹھی،لوہے کے کڑے،دوعدد چھری تیز کرنے کے پتھر،ایک پتھر کی تختی،دوعدد لوہے کی کلہاڑیاں،چھ عددنیزے کے بھالے،ایک عددمچھلی پکڑنے کا ہک،28عددکالی عقیق،لاجورداورنقلی لاجورد کے دانے،دوعدد چکی کے پتھر پانچ عدد سوراخ شدہ پتھر ایک چھری کا بلیڈ ایک عدد درانتی کا بلیڈ۔

پرواک میں اہم قبیلے بول ژاوے،شاموتے،زوندرے،فرنگی،نظارے،داشمنے،ھشے بوشے وغیرہ ہیں۔جوچترال کے اندر کے مختلف جگہوں سے یہاں آکرآباد ہوئے ہیں۔تقریباًتیس سال پہلے سائفین سکیم کے تحت پرواک میں ابپاشی کوترقی دی گئی ہے جسکی وجہ سے اس وسیع میدان کابہت زیادہ حصہ آباد ہوا اور یہاں کی آبادی بھی کافی بڑھ گئی۔یہاں کے پُرانے حالات پرغور کرنے سے یہ سوال پیدا ہوتاہے۔کہ پُرانے زمانے میں جب یہ گاوں سرسبز اور آباد گاؤں تھا۔تواس وقت یہاں پانی کابندوبست کسطرح کیاگیا ہوگا۔دریاسے نہرلانے کے لئے کم ازکم نودس میل اوپر نہربنانی پڑتی۔کوئی نشانات نہیں۔کیا اس زمانے میں نسر گول میں پانی کی مقدار کافی زیادہ تھی یاکیا؟؟ (باقی ائیندہ)

ضروری نوٹ:۔یہ مضمون میری زیرتصنیف کتاب(چترال۔شمال اور جنوب کاسنگم)کاحصہ ہے۔بعض روایاتی معلومات مقامی لوگوں سے لئے تھے۔اگرکوئی اضافہ یاترمیم کرناچاہے توڈایرکٹ میرے واٹس اپ پررابطہ کریں۔(03449700090)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71870

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط اول):  پروفیسر اسرار الدین

Posted on

چترال کے مختلف مقامات کی لوک تاریخ (قسط اول):  پروفیسر اسرار الدین

(نوٹ) علاقہ چترال کے مختلف مقامات کی تحقیقی سروے کے دوران مقامی لوگوں نے بعض مقامات کی تاریخ کے بارے میں کچھ معلومات بہم پہنچائی تھیں۔ان کے بنیاد پر نیز بعض کتابوں کے حوالے سے یہ مضمون (جوپوری زیر تصنیف کتاب کا حصہ ہے)آپ کی خدمت میں پیش کیا جاتا ہے۔اس سلسلے میں اگر قارئین کچھ اضافہ یاترمیم کرنا چاہیں تو خیر مقدم کروں گا۔(میر ا واٹس اپ نمبر03449700090)

(1) بروغیل۔۔۔

یہ چترال کے شمال مشرقی کونے پرواقع ایک اہم علاقہ ہے۔جو جغرافیائی طورپر پامیر (بام دنیا) کے خطے کا حصہ ہے اور سیاسی طورپر چترال کے حدود میں شامل ہے۔یہ تمام علاقہ گیارہ ہزار فٹ سے اونچا ہے۔اس کے شمال میں قرامبر کا خوبصورت جھیل ہے۔اور شمال مشرق میں چیانتار شایوز (گلیشیر)ہے جو25میل لمباہے۔اور قطب شمالی سے باہر ایک طویل ترین گلیشیر تصور کیاجاتاہے۔یہ دریائے چترال کا منبع بھی ہے۔بروغیل کے مغرب میں واخان کا علاقہ ہے جو افغانستان کا حصہ ہے۔بروغیل اور واخان کے درمیان بروغیل اور دوراہ کے درے مشہور ہیں۔جو تاریخ میں تاجکستان اور دیگر وسطی ایشیائی ممالک اور چترال اوربرصغیر کے درمیان رابطے کے اہم زرائع رہے ہیں اس کی وجہ تسمیہ کے بارے میں حتمی طورپر کچھ معلوم نہیں البتہ قیاس کیا جاتا ہے۔کہ بروغیل یا بروغول دوالفاظ کامرکب ہے۔برادرگول(یا گوڑ) کا فارسی میں ہراونچے مقام کی طرف سے اشارہ کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔گوڑ اور گول کھوار زبان میں بالترتیب کھائی اور نالہ کے لئے استعمال ہوتے ہیں۔بروغیل ایک ہموارمیدان ہے اور دریائے چترال اسمیں کاٹ کے کھائی یانالہ جیسی گذرگاہ بناکرگذرتا ہے۔اسلئے اس کانام اونچی کھائی (بڑاگوڑ) یا اونچا نالہ (بڑاگول) پڑگیاہوگا۔جسکی بگڑی شکل بروغیل ہے۔بتایا جاتا ہے کہ گذشتہ صدی کے ابتدائی دوعشروں تک یہ علاقہ غیرآباد تھا اور وخک لوگ چترال کی ریاست کو ٹیکس ادا کرکے اپنے مال مویشی یہاں چرانے لایا کرتے تھے۔بعد میں ان میں سے بعض لوگ شہزادہ ناصر الملک کی مستوج کے علاقے میں گورنری کے زمانے میں یہاں آکر مستقل طورپر آباد ہوئے۔کہا جاتا ہے کہ اس زمانے میں افغانستان میں ایک رواج تھا جسے پھوشکی کہا جاتا تھا۔اسکے مطابق لوگوں کو زبردستی بھرتی کرکے تین سالوں تک ان سے بیگار لیاجاتا تھا۔یہ بعض لوگ اس سے تنگ آکر یہاں آنے پر مجبور ہوگئے تھے اور بادشاہ چترال کی اجازت سے یہاں آباد ہوئے۔وخک کے علاوہ کچھ خاندان تاجک اور کرغیز بھی یہاں آباد ہیں۔تاجک 1939ء میں چینی علاقہ تاش قرغن سے آئے تھے۔پہلے ہنزہ میں بعد میں یہاں سکونت اختیار کی اورکرغیز اندیجان ازبکستان کے روسی علاقے سے1945میں آئے۔پہلے یہ پامیر صغیر(Little Pamir) میں بعد میں یہاں آکے رہنے لگے(بمطابق ڈاکٹر فیضی)۔

وادی یارخون۔۔

یارخون۔۔۔۔یارخون کی وجہ تسمیہ کے بارے میں ایک روایت یہ ہے کہ قدیم زمانے میں یارخون (اخوند)نامی ایک آدمی ترکستان سے آیا تھا۔اس نے اس علاقے کے مختلف مقامات کو آباد کیا تھا۔بعد میں جب سومالک نے ان علاقوں پر قبضہ کیا تو یارخون کو بھی اپنی حکومت میں شامل کیاتھا۔وخان سے یارخون میں ایک درہ بھی نکلتا ہے جسے کان خون درہ کہتے ہیں اخون اس درے سے آیا ہوگا اس لئے اسکا نام اسکی مناسبت سے آن خون پڑگیا ہوگا جو بعد میں کان خون بن گیا ہو۔یہ درہ بہت زیادہ دشوار گذار ہے۔اور ایوالنچوں کی وجہ سے نقصان بھی پہنچاتا رہاہے۔ممکن ہے کہ اس حوالے سے اسکا نام آن خون ہو۔یعنی خونی درہ جو آن خون بن گیا ہو،ویسے یارخون کے بارے میں بھی کہا جاتا ہے کہ پرُانے زمانے میں کسی نے اپنے ساتھی کو قتل کیا تھا۔جسکی وجہ یارخون یعنی یارکاخون پڑگیا۔

لشٹ یارخون۔۔شمال سے آتے ہوئے لشٹ یارخون اہم مقام ہے۔یہ تین دیہات پرمشتمل ہے۔یعنی لشٹ۔غیراروم اور انکپ۔لشٹ لفظ فارسی کے لفظ دشت سے نکلا ہے یہ مقام چونکہ ہموار میدان ہے اسلئے اس کانام لشٹ یادشت پڑگیا ہوگا۔یہاں دو قبیلے آباد ہیں جن کے نام ضلے(Zilla)اوربورے (Boora)ہیں۔ضلے قدیم زمانے میں یعنی رئیس کے دور سے پہلے سریُقل سے آئے تھے۔یہ قبیلہ آگے یارخون وادی کے میراگرام تک پھیلا ہوا ہے۔اندازہ ہے کہ اسی قبلے نے پہلے یہاں آکے ان علاقوں کوآباد کیا تھا۔اور ان کے بعد بورے قبیلہ کسی زمانے میں وخان سے آکے یہاں آباد ہوئے تھے۔یہ بھی پاور گاؤں تک پھیلے ہوئے ہیں۔یہ وخان کے قاضی خیل قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اورمعلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے پھیلاو کے سلسلے میں آئے تھے۔

شوئیست(Suist)۔لشٹ کے بعد شوئیست کا گاؤں آتا ہے۔یہ چھوٹا ساخوبصورت گاؤں ہے۔اس گاؤں کا ذکر مشہور ماہر اثار قدیمہ سرآرل سٹائین نے اپنی کتاب سرانڈیا میں یوں کیا ہے۔
”چینی ریکارڈوں میں ایک نام اشی یوشیپہ تو(Ashe-yu-shisto)آیا ہے۔جو غالباًشوئیست ہوگا۔یہ پرانے زمانے میں ایک اہم مقام تھا ممکن ہے بعد میں گلیشیر ٹوٹنے اور دریاوں کی طغیانی کی وجہ تباہ ہوگیا ہوگا۔

اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ شوئیست ایک قدیمی گاؤں رہا ہوگا۔یہاں ضلے،بورے،واروغونے اوریوم گانے قبیلے آباد ہیں۔واردغونے اور یوم گانے قدیمی قبیلے ہیں۔اور پُرانے زمانے میں وارغون اور یوم گان بدخشان یا تاجکستان سے آئے تھے۔دربند یارخون۔۔۔یارخون وادی میں ایک اہم مقام دربند آتا ہے جسکی تاریخی اہمیت ہے۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ 1868میں مہتر امان الملک کے زمانے میں بدخشان کے میر محمود شاہ اور چترال کے درمیان جنگ ہوئی تھی۔اس جنگ میں میر بدخشان زبردست تیاری کے ساتھ اپنے ساتھ12ہزار ترک،ازبک،بدخشی اور افغانی افواج لے کے توپوں اور بندوقوں سے لیس ہوکے چترال کی اینٹ سے بجانے کی بُری نیت سے حملہ آور ہواتھا۔لیکن اسطرف چترال کے لوگ بھی اللہ تعالےٰ کی مدد کے سہارے اپنے وطن کے لئے جان کی بازی لگانے کے لئے تیارمقابلے کے لئے ڈٹ گئے تھے اور ایسی زبردست جنگی حکمت عملی اختیار کی۔امیرخود زخمی ہوکے اور کئی بدخشی فوجیوں کی ہلاکت کا باعث بن کے اور اپنے توپوں اور دوسرے جنگی سامان کوچھوڑ کے واپس بھاگنا پڑا۔اور بورغیل کے راستے اپنے ملک کو چلے گئے۔اس جنگ کو بہترین پہاڑی جنگی حکمت عملی (Mountain Warfare) کے مثال کے طورپر پیش کیا جاتا ہے۔دربند کے حصار میں اونچے پہاڑوں پر چترالیوں کے نصب کردہ کئی برجیوں اور مورچوں کے نشان اب تک محفوظ ہیں جواثاریات سے دلچسپی رکھنے والوں کے لئے اہم مشغلہ پیش کرسکتے ہیں۔

میراگرام۔۔۔گرام ہندی یا سنسکرت لفظ ہے جوگاؤں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔چترال میں کئی گاؤں کے ساتھ گرام کا لاحقہ لگاہوا ہے۔اور ان میں سے زیادہ ترقدیم دور سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر چہ بعض گاؤں کے ساتھ بعد کے زمانوں میں بھی یہ لاحقہ لگایا گیا ہے۔یہ لفظ چترالی یا کھوار سوشل سٹ اپ کا بھی حصہ بن گیا ہے۔مثلاًگرام بیشی یا ہمسایہ پن یاگرام جوکسی بستی کے حدود کوبھی ظاہر کرتا ہے۔میراگرام کانام کیسے پڑگیا۔اسکے بارے کچھ کہنا مشکل ہے۔البتہ بتایا جاتا ہے کہ اس علاقے کے دوسرے دیہات کی طرح یہ بھی رئیس دور سے پہلے آباد تھا۔یہاں یومگانی قبیلہ آباد ہے جوپُرانے زمانے میں یومگان(بدخشان سے آئے تھے۔اور اس جگے کو آباد کیاتھا۔یہاں چھیرموژان نام کے کچھ قبیلے آباد ہیں جن کی اصلیت کاپتہ نہیں۔عموماًاس طرح کے لوگ اپنے آپ کو بوم کی یعنی اصلی باشندے بتاتے ہیں۔ان کے علاوہ زوندرے،رضا،شاوخوثئے اورسید چترال کے اندر بعد کے زمانوں میں آئے ہوئے قبیلے ہیں میراگرام کے وسطی ایشیاء سے رابطے کے حوالے سے سرارل سٹائین مشہور ارکیالوجسٹ نے وہاں حاکم عبیداللہ خان کے مکان کا مشاہدہ کرکے اپنے تاثرات یوں بیان کرتے ہیں۔”مجھے ایسا لگا گویا یہ گھر مقامی دیدہ زیب طرز تعمیر اور گھریلو فنکاری کا ایک چھوٹا سا نجی عجائب گھر ہے۔اسکے بعد برآمدے کے ستونوں اور گھر کے دوسرے حصوں میں لکڑی پر کندہ کاری کے کاموں کا مقابلہ گندھارا ختن،لوپ نار(وسطی ایشیاء) اور ترکستان میں اپنے مشاہدات سے کرتے ہیں اور ذیل نتائج اخذ کرتے ہیں۔

1۔لکڑی کے ستونوں پر کام اور کندہ کاری گندھاراآرٹ اور ختن کے لکڑی کے کام سے مشابہت رکھتے ہیں۔

2۔چاربڑے ستونوں پردیدہ زیب ابھروان ایسے نقوش ہیں جو کہ کلاسیکی کو اکنئتموس پودوں کے پتوں سے ملتی جلتی ہیں۔(نوٹ:بحیرہ روم کے علاقے میں پودوں کی ہروہ قسم جس کے بڑے خار دارپتے ہوتے ہیں وہ کواکنتھوس کہلاتے ہیں۔یہ سجاوٹ کا اندازہ ہے جسے یونانی اور رومی طرز تعمیر میں استعمال کرتے ہیں۔راقم)۔یہ ڈائزئن (نمونہ) لوپ نار(وسطی ایشیاء میں سٹائین کو بعد میں ملے تھے۔

3۔لکڑی کے تختوں پر کنول کے پھولوں کی کندہ کاری بھی عام طورپر کی گئی تھی۔جوگندھارا فن تعمیر کی خاص نشانی ہے۔

4۔ان کے علاوہ نمونے کے طورپر پتوں کے نقش یانیم کھلے کنول کے پھولوں کے نقوش استعمال کئے گئے تھے جو پُرانے ترکستان میں لکڑی پر کندہ کاری کے خاص نمونے ہیں۔

5،ستونوں پرنقش ونگار میں چار پتے والے ایسے پھولوں کا نقش بھی دیکھا۔چونیا(Niya)اورڈوموکو(Domoko) میں آثارقدیمہ کی کھدائی کے دوران لکڑی کے کندہ کاری کے نشانی کے طورپر ملے ہیں۔اور جس سے یہ ثابت ہواکہ یہ بدھوں کے زمانے کے ختن(تین صدی عیسوی اور بعد کے زمانوں) میں مقبول سجاوٹ کے لئے استعمال ہونے والے نمونے ہوتے تھے۔یہ ڈیزائن متمطیل جگہوں کوپُرکرنے کے لئے استعمال ہوتے تھے۔اور گندھارا آرٹ میں یونانی بدھ مت مشائیل سے ماخوذ ہیں۔

6۔وہ قالین پر ڈائزائن اور مختلف برتنو کے نمونو کا تعلق سواستیکا،یونانی نقش کاری اور ختن اور لوپ نار سے جوڑتے رہے۔

برپ۔۔۔یہ جملشٹ،تھورژال،دہ،راہیھنی،کوچ اور ناسوکوچ دیہات پرمشتمل ہے۔یہاں اہم قبیلے سیدان،رضا،زوندرے،رستمے اور لاوے ہیں۔لاؤے اپنے آپ کو قدیمی باشندے تصور کرتے ہیں۔اور رستمے بدخشان سے تقریباً دس پشت پہلے(مقامی روایت کے مطابق)آکر آباد ہوئے تھے۔سیدان شاہ خیر اللہ کے وقت سنوغر سے آئے تھے۔بتایا جاتا ہے یہ گاؤں شاہ خوشامدکے زمانے سے آباد ہے یہاں پُرانے زمانے کا ایک کھنڈر ہے جسے نوغور ڈوک کانام دیا جاتا ہے۔سرارل سٹائین وفادار خان دیوان بیگی کے حوالے سے بتاتا ہے کہ یہ قلمق(چینی)دور کااہم آثار قدیمہ ہے۔اس جگے کااُنہوں نے تفصیل سے مشاہدہ کیاتھا۔اور بتاتے ہیں کہ جس ٹیلے پر وہ قلعہ واقع تھا اسکی اونچائی مشرق کی طرف زمین سے تقریباًچونتیس(34)فٹ اور مغرب کی طرف دریا کا ڈھلان ہے جہاں اونچائی زیادہ ہے ٹیلے کے اوپر مستطیل شکل کی جوقلعہ بندی کی گئی ہے۔مشرقی اور مغربی اطراف جوشمال مشرق اور جنوب مغرب میں واقع ہیں،ان کی لمبائی 103اور133فٹ ہیں دیواروں کی بنیادیں غیرکٹی ہوئی پتھروں کی سلوں پراٹھائی گئی ہیں۔

مشرق کی طرف دیوار کی تعمیر نوفٹ کی اونچائی تک صاف نظرآتی ہے۔البتہ یہ جگہ جگہ ٹوٹی ہوئی ہے۔اور ملبے کے نیچے دبی ہوئی ہے۔جہاں تک بنیاد کا تعلق ہے مشرق کی طرف 3فٹ تک اور مغربی طرف 6فٹ تک نظرآرہی تھی،دیواروں کی چوڑائی معلوم کرنے کے لئے کافی ملبہ ہٹانا پڑتا تھا۔جو اس وقت ممکن نہیں تھا جو اینٹیں استعمال کی گئی تھیں وہ اوسطاً20×18انچ کی تھیں اور چوڑائی ساڑھے تین انچ سے ساڑھے پانچ انچ تک تھیں۔اینٹوں میں بہت سارے کنگر،چھوٹے پتھر اور مٹی کے برتنوں کے ٹکڑے شامل تھے،ٹلے اور اوپر کا حصہ مکمل ہموار نہیں ہے۔اور جگہ جگہ گری ہوئی دیواروں اور اندرونی تعمیر عمارتوں کے ملبوں سے بھرا ہوا ہے۔اس لئے زمین کے سطح پرکسی قسم کا نقشہ یاخاکہ معلوم کرنا مشکل ہے۔بہرحال تباہ شدہ کا سب سے زیادہ محفوظ حصہ درمیان میں موجود تھا۔یہ دھوپ میں خشک کئے انیٹوں کی ایک دیوار تھی جسکی چوڑائی دوفٹ اور آٹھ انچ اور لمبائی اٹھارہ فٹ تھی ان کی اونچائی آٹھ فٹ تھی۔اُسکی اینٹیں چار انچ موٹی اور12×14انچ اوسطاً تھیں۔مٹی میں بھیڑ کا گوبر ملاہوا تھا۔یہ گویا اس زمانے میں اینٹ بنانے کا ایک طریقہ تھا جو آج کل مروج نہیں ٹیلے کے درمیان ایک بڑا صندق بھی بنا ہوا تھا جوکہ بارہ فٹ گہرا تھا۔ایسا لگتا تھا کہ مقامی لوگوں نے اسے استعمال کئے یہاں سے مٹی نکالنے کے لئے یہ کھودا ہوگا جوکہ وہ مختلف کام کے لئے استعمال کرتے ہوں گے۔

حویلی کے دیواروں کے علاوہ جن چیزوں کی پہچان ہوسکتی ہے وہ ایک چھوٹا سا مستطیل شکل کا برج ہے۔جو مشرق کی طرف ذرا درمیان میں واقع ہے۔اسکے علاوہ ایک گول مینار ہے جو جنوب مغربی کونے پر ہے جسکی بنیادیں اینٹوں کی ہیں۔اس کا محیط 27فٹ ہے۔مٹی کے برتن کے تکڑے ٹیلے کے اوپراور اردگرد بکھرے ہوئے بہت ملتے ہیں۔جن کا رنگ اوپرسے چمکدار اور سرخ ہے۔جنہیں ہلکا سا صیقل کرکے چمکایا گیا ہے۔اندر سے یہ ٹکڑے ہلکا بادامی یا بھورے رنگ کے ہیں۔گاؤں والوں نے بتایا کہ وقتاًفوقتاً یہاں سے تسبیح کے دانے یادھات سے بنی ہوئی نیزے کے بھال ملتے رہے ہیں۔یہ قلعہ مقامی روایات کے مطابق چینیوں کاقلمق دور سے تعلق رکھتا ہے۔بڑی سائز کی اینٹوں کو دیکھ کر جنکی مانندارل سٹائین نے کاشغر میں بدھ مت کے زمانے کے کھنڈرات میں دیکھی تھی اور خاص برتنوں کے ٹکڑے ملاکر جس طرح یہ سخت کئے گئے تھے۔ان سے اندازہ لگایا کہ یہ اٹھارویں صدی کے وسط میں تعمیر کیا گیا ہوگا۔ایسے اشیاء جن سے صحیح تاریخ کا اندازہ لگایا جاسکے۔مثلاًپُرانے سکے یادھات کی اشیاء۔ان کے ان علاقوں میں غیرموجودگی کی وجہ سے زبانوں کا تعین مشکل ہوجاتا ہے۔یادرہے سٹائین نے قلعے کے صرف اوپر کاحصہ دیکھا جس سے یہ اندازہ لگایا کہ یہ 18ویں صدی کی تعمیر ہے۔لیکن پُرانے قلعوں کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ ان کی تعمیر مختلف زمانوں اور مختلف مراحل میں ہوتی رہی ہے،وقت کے ساتھ پُرانے حصے اندر دب جاتے ہیں اور ان کے اوپر نئی تعمیرات بنتی ہیں۔سٹائین کے ساتھ وقت نہیں تھا کہ وہ زیادہ کھودکے پُرانے حصے ملاحظہ کرتے۔لیکن افسوس ہے کہ بعد میں اس اہم تاریخی اثاثے کوختم کردیا گیااور اسکی جگہ سکول تعمیر کیا گیا۔سکول کہیں اور بھی بنایا جاسکتا تھا۔لیکن اس اہم تاریخی یادگار سے ہمیشہ کے لئے محرومی افسوسناک بات ہے۔

(باقی ایندہ)

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
71597