Chitral Times

دروش میں دو افراد کے قتل میں ملوث ملزم تاحال روپوش، عوام سراپا احتجاج،کلدام گول کے مقام پراحتجاجی مظآہرہ، چترال پشاور روڈ آٹھ گھنٹے تک بلاک رہی

Posted on

دروش میں دو افراد کے قتل میں ملوث ملزم تاحال روپوش، عوام سراپا احتجاج،کلدام گول کے مقام پراحتجاجی مظآہرہ، چترال پشاور روڈ آٹھ گھنٹے تک بلاک رہی

دروش ( نمایندہ چترال ٹایمز ) دروش میں گذشتہ روز جنگل کے تنازعے میں دو افراد کو قتل کرکے فرار ہونے والے نور عالم گجر کی گرفتاری میں تاخیر کے خلاف  آج دروش کے سینکڑوں افراد نے جمعہ کے بعد زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ اور  سات گھنٹے تک چترال پشاور روڈ بلاک کئے رکھا ۔ اس موقع پر مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے سیاسی و سماجی نمایندگان مفتی محمودالحسن ،رضیت باللہ ،شہزادہ ہشام الملک ، چیرمین عمران الملک ،غازی خان وردک ،ثمین اللہ تحصیل چیرمین پی ٹی آئی ،سمیع الحق راہ حق پارٹی ، فرید جان ایڈوکیٹ ،عبدالمجید حاجی شفا ودیگر نے کہا  کہ یہ بات بہت ہی افسوسناک ہے  کہ دو افراد کا قاتل تاحال گرفتار نہیں کیا جاسکا ہے ۔ جبکہ انتظامیہ اور پولیس نے پہلے روز یہ یقین دھانی کرائی تھی ۔ کہ ملزم کو بلا تاخیر گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرےمیں لایا جائے گا ۔ لیکن اب تک پولیس قاتل کا کوئی سراغ نہیں لگا سکی۔ اس سے متاثرہ خاندانوں اور عوام دروش میں زبردست اشتعال پھیل رہا ہے ۔ جو کہ کسی اور بڑے سانحے کا سبب بن سکتی ہے۔

 

احتجاج کے مقام سے میڈیا سے بات کرتے ہوئے چیرمین وقار احمد نے بتایا ۔ کہ ملزم کے دو چھوٹے بھائی فضل عالم ، محمد عالم اورملزم نورعالم کی بیوی کو پولیس نے گرفتار کر لیا ہے۔ لیکن لوگوں کا کہنا ہے ۔ کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے ۔ جب تک قاتل کو پولیس گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہوتی تب تک لوگوں میں پائی جانے والی اشتعال اور غم و غصے کو ٹھنڈا نہیں کیا جا سکتا ۔ انہوں نےکہ جہاں دو افراد کو قتل کیا گیا ہے ۔ وہ اٹھارہ مساجد کامشترکہ جنگل ہے۔ جس پر  قتل میں ملوث ملزم ڈھٹائی سے قبضہ جما چکا ہے ۔ اور خود اختیاری سے مکانات تعمیر کر لئے ہیں ۔ اب مقامی لوگوں کا یہ فیصلہ ہے ۔ کہ مذکورہ اٹھارہ مساجد کے لوگ اس جنگل میں جاکر خود اختیاری سے قبضہ کرنے والوں کے مکانات گرا کر دم لیں گے ۔کیونکہ یہ مکانات غیر قانونی تعمیر کئے گئے ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ دروش کےتمام وکلاءنے عہد کر لیا ہے ۔کہ کوئی وکیل قاتل کا کیس نہیں لڑے گا ۔جبکہ مقتولین کے کیس کو بغیر معاوضہ لڑا جائے گا۔ انہوں نے کہا ۔ کہ وکلاء کی سربراہی کرتے ہوئے فرید جان ایڈوکیٹ کیس کی تفتیش پر کڑی نظر رکھیں گے ۔ اور روزانہ کی بنیاد پر پولیس کی طرف سے پیش رفت کا جائزہ لیں گے ۔

 

احتجاجی مظاہرین نے تقریبا دن دو بجے سے شام آٹھ بجے تک روڈ بلاک کئے رکھا ۔ جس سے ٹریفک معطل رہی ۔ اور لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ بعض افراد نے دروش کے پرانے سڑکوں کا استعمال کیا ۔ اورآمدورفت جاری رکھنے کی کوشش کی تاہم بعد آزان بعض عمائدین کی کوششوں سے اجتجاج شام 8بجے ختم کر دیا گیا ۔ واضح رہے ۔ کہ دروش کلدام اور شاہنگار کے لوگوں نے قتل کی وردات کے بعد مقتولین کی لاشوں کو دروش چوک میں رکھ کر  ملزم کی گرفتاری کیلئے زبردست احتجاج کیا تھا ۔ جو کہ بعد آزان اسسٹنٹ کمشنر دروش کی طرف سےدو دنوں کے اندر قاتل کی گرفتاری کی یقین دھانی کے بعد مظاہریں نے احتجاج ختم کردیا گیا تھا ۔ لیکن تین دن گزرنےکے باوجود  ملزم گرفتار نہ ہوسکا ۔ جس پر لوگ دوبارہ اشتعال میں آگئے اور کلدام گول کے مقام پر روڈ بلاک کرکے احتاجی مظآہرہ کررہے تھے۔ جہاں  اے سی دروش نے مظاہرین سے مذاکرات کی اوریقین دلایا کہ کہ اگلے جمعے تک گجر برادری نے چراگاہ میں جو غیر قانونی تجاوزات کیے ہیں انھین ہٹائے گا۔ورنہ سات دن کے بعد عوام ہٹائیں گے۔اور قاتلوں کی گرفتاری کیلئے مزید تین دن کا وقت دیا گیا۔

chitraltimes drosh protest road blocked against two murder 1 chitraltimes drosh protest road blocked against two murder 2 chitraltimes drosh protest road blocked against two murder 3 chitraltimes drosh protest road blocked against two murder 4

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
78284