Chitral Times

ملاکنڈ کو انتظامی طور پر دوڈویژن میں تقسیم کرنیکا اعلان دیر اورچترال کےعوام کیلئے خوش آئندہے۔نورعالم باچہ

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) بزنس مین پینل (بی ایم پی) کے وائس پریزیڈنٹ ، سابق صدر دیر چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری اور معروف بزنس مین نورعالم باچہ نے چترال کا دورہ کیااور چترال چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفتر میں عمائدین علاقہ سے ملاقات کی۔ ایف پی سی سی آئی کے صوبائی کوارڈنیٹر سرتاج احمد خان نے انھیں چیمبر کے دفتر کا وزٹ کرایا۔اور انھیں چیمبرکے سرگرمیوں سے اگاہ کیا۔

نورعالم باچہ نے اس موقع پر چترال اوردیر کے عوام خصوصا چترال چیمبرکے ممبران کومبارک دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ نے اپنے حالیہ دورہ چترال کے موقع پر ملاکنڈ ڈویژن کو انتظامی طور پر دو ڈویژن میں تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے جو کہ بہت خوش آئند بات ہے ۔ اس سے علاقہ ترقی کریگا اور روزگار کے مواقع بڑھیں گے ۔ انھوں نے اس سلسلے میں چیمبرکی کاوشوں خصوصا سرتاج احمد خان کی کوششوں کو شاندار الٖفاظ میں سراہا اور مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی قلم بند کی۔ انھوںنے مذید کہاکہ مجھے چترال چیمبرآف کامرس کے دفتر کا وزٹ کرکے بہت خوشی ہوئی جو انتہائی قلیل مدت میں صوبے کے بڑے چیمبرز میں شمار ہونے لگا ہے۔ انھوں نے اس امید کا بھی اظہارکیا کہ چیمبر کے آئندہ الیکشن میں بی ایم پی کی کامیابی یقینی ہے۔

chitraltimes bmp vp bacha visit chtral

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
55691

ملاکنڈ سمیت سابقہ پاٹا کا علاقہ سال 2023تک ہر قسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے۔وزیراعلیٰ

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے مطابق سابقہ پاٹا کا علاقہ سال 2023تک ہر قسم کے ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہے اس لئے ٹیکس وصولی کا کوئی بھی ادارہ اس علاقے سے ٹیکس وصول نہیں کر سکتا، جو بھی ادارے 2023سے قبل ملاکنڈ ڈویژن سمیت سابقہ پاٹا میں ٹیکس وصولی کے لئے اپنے دفاتر کھول رہے ہیں و ہ بلا وجہ عوام میں بے چینی پھیلارہے ہیں جس کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی۔


ان خیالات کا اظہار وزیراعلیٰ نے جمعرات کے روز سوات چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے ان کے دفتر میں ان سے ملاقات کی اور سوات میں کاروباری اور صنعتی شعبے سے وابستہ لوگوں کو درپیش مسائل اور علاقے میں صنعتی اور کاروباری سرگرمیوں کے فروغ سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ سیکرٹری صنعت ہمایون خان، وزیراعلیٰ کے اسپیشل سیکرٹری محمد خالق اور دیگر متعلقہ حکام بھی اس موقع پر موجود تھے۔ وفد نے وزیراعلیٰ کو آگاہ کیا کہ ٹیکس وصولی کا ایک وفاقی ادارہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے لئے دفاتر کھول رہا ہے اورادارے کی طرف سے علاقے میں بعض لوگوں کو ٹیکس ادائیگی سے متعلق پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں جس سے علاقے کے لوگوں میںبے چینی پائی جاتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ وفاقی حکومت نے سال 2023تک سابقہ پاٹا کے علاقوں کو ٹیکسوں میں چھوٹ دی ہے تب تک کوئی بھی ادارہ ٹیکس وصول نہیں کر سکتا اس کے باوجود کوئی بھی ادارہ وہاں سے ٹیکس وصول کرنے کی کوشش کرے گا وہ حکومتی فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس وصولی کے ادارے کی جانب سے قبل از وقت دفتر کے قیام کا معاملہ وفاقی سطح پر متعلقہ حکام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت کی کوشش ہے کہ ان علاقوں کی پسماندگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع دی جائے جس کے لئے معاملہ وفاقی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائےگا۔ وفد کے ضلع سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے مطالبے پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت پہلے ہی سے سوات میں انڈسٹریل اسٹیٹ کے قیام کے منصوبے پر کام کر رہی ہے جبکہ منصوبے کا پی سی ون بھی تیارکر لیا گیا ہے ۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے لئے رہائشی علاقوں میں قائم ماربل فیکٹریوں کو دیگرموزوں مقامات پر منتقل کر رہی ہے ۔ پشاور میں ورسک روڈ پر قائم ماربل فیکٹریوں کو مہمند ماربل سٹی منتقل کیا جارہا ہے ۔ اسی طرح سوات میں بھی شہر کے اندر قائم ماربل فیکٹریوں کو شہر سے باہر منتقل کیا جائے گا۔ انہوں نے تجارتی اور کاروباری حلقوں پر زور دیا کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کو ختم کرنے کے لئے صوبائی حکومت کے ساتھ بھر پور تعاون کرےں کیونکہ ماحول کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور موجودہ حکومت اس سلسلے میں بہت سنجیدہ ہے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت صنعت و تجارت کے فروغ کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھار ہی ہے جن کا حتمی مقصد اس شعبے کو ترقی دیکر لوگوں کے لئے روزگار کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کرنا ہے۔صنعتوں کی ترقی و فروغ کے لئے انڈسٹریل پالیسی مرتب کی گئی ہے جس کے تحت صوبے کے مختلف اضلاع میں اکنامک زونز کا قیام، بند صنعتوں کی بحالی کے علاوہ دیگر اقدامات اٹھائے جائیں گے۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
53614

ملاکنڈ ڈویژن کے کنٹریکٹرز شدید مشکلات کا شکار، ٹیکس کا نفاذ معاشی قتل ہے۔ کنٹریکٹرایسوسی ایشن

چکدرہ (نمائندہ چترال ٹائمز ) کنٹریکٹر ایسوسی ایشن ملا کنڈ ڈویژن کا اجلاس چکدرہ میں منعقدہ ہوا جس میں ملاکنڈ ڈیژن کے صدر انجینئر محمد اکرام، ڈویژنل نائب صدر جاوید اختر، ڈویژنل چیئرمین ارشد شاھین، جنرل سیکرٹری عمران ٹھاکر صوبائی سیکر ٹری اطلا عات نیاز اللہ بر کی، صوبائی سیکرٹری فنانس شاکر اللہ خان سمیت دیر لوئر دیر بالا سوات بونیر شانگلا چترال با جوڑ بونیر اضلاع کے صدور اور جنرل سیکر ٹریز نے بھر پور شر کت کی ۔

اجلاس میں ملا کنڈ ڈویژن کے کنٹریکٹرز کو درپیش مسائل زیر بحث لا ئے گئے مقررین نے کہا کہ فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے ٹھیکہ دار برادری شدید مشکلات کا شکار ہے اور پچھلے حکومت کے جاری کر دہ ٹینڈرز میں ٹھیکداروں کے اب تک کرڑوں روپے کے واجبات بقایاہے اورساتھ ہی موجودہ حکومت کی ناقص حکمت عملی اور منتخب نمائندوں کے جاری ترقیاتی کاموں میں بے جا مداخلت کے سبب ٹھیکداروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے اور بہت سے جاری پراجیکٹ میں فنڈز ریلیز نہیں کئے گئے ہیں جس کی وجہ سے سیمنٹ سریا پائپ اور دیگر میٹریل کے نر خ روز بروز بڑھ رہے جس سے کنٹریکٹرز کو موجودہ وقت میں مالی خسارے کا سامنا رہا ہے۔

لہذا مارکیٹ ریٹ کے مطابق جاری کاموں میں ریٹ دیا جائے اسکالیشن،ٹیکنیکل سینکشن بروقت ورک ارڈر ز کااجراء ٹائم میں توسیع بروقت فراہمی ڈرائینگ اور ڈیزائین ٹنڈرز فارم ریٹ نافذ کر نے کا فیصلہ واپس کر نے سمیت ملاکنڈ ڈویژن کو 2023تک استثنیٰ حاصل ہے اور اگر کیپراور ایف بی آر نے ٹیکس نفاذ کی کوشش کی تو اس کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے جبکہ اب سات فیصد انکم ٹیکس اور ودہولڈنگ ٹیکس نفاذ ان کا معاشی قتل ہے۔

بلوں سے زیادہ بلوں پر پابندی لگائی جا ئے ورک ڈن فنڈز نہ ہونے پر کراچی انٹربینک ریٹ منافع دینے کے قانون کو یقینی بنا یا جا ئے اور ٹینڈڑز میں اباو اور بیلو سسٹم ختم کر کے ائٹم سسٹم نافذ کیا جا ئے۔ وکلاء بار کونسل کی طر ح کنٹریکٹرز کی بھی ریگولیٹری اتھا ر ٹی سی اے پی کو اختیا رات دئیے جا ئیں پر فارمنس سیکورٹی اور گارنٹی کو منظور کیا جا ئے منتخب ممبران اسمبلی کی مداخلت بند کی جا ئے اور جس سکیم میں پچاس فیصد فنڈز پہلے سے دستیاب نہ ہو اْس کا ٹینڈرز نہ کیا جا ئے اور ضم اضلاع میں ای بیڈنگز ختم کیا جائے۔

chitraltimes contractor association malakand2
chitraltimes contractor association malakand22
Posted in تازہ ترین, جنرل خبریں, چترال خبریںTagged
52424

ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامی معاملات حوالے وزیراعلیٰ کے زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس

پشاور ( چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منگل کے روز ملاکنڈ ڈویژن کے انتظامی معاملات اور امن و امان سے متعلق ایک اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملاکنڈ ڈویژن میں تجاوزات کے خلاف آپریشن، امن و امان کی صورتحال، جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور دیگر معاملات پر تفصیلی غور وخوض کیا گیا ۔رکن صوبائی اسمبلی میاں شرافت علی ،چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، انسپکٹر جنرل پولیس معظم جاہ انصاری، سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو سید ظفر علی شاہ، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری امجد علی خان، کمشنر ملاکنڈ ڈویژن ظہیر الاسلام کے علاوہ دیگر اعلی حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی ۔

وزیراعلیٰ نے ڈویژن کے بعض علاقوں میں پیش آنے والے امن و امان کے چند ناخوشگوار واقعات پر برہمی کا اظہارکرتے ہوئے متعلقہ انتظامیہ اور پولیس حکام کو انتظامی معاملات اور امن و امان کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے ایک مہینے کی ڈیڈ لائن دیتے ہوئے واضح کیا کہ ایک مہینے کے اندر صورتحال میں واضح بہتری نہ ہونے کی صورت میں انتظامیہ اور پولیس کا کوئی بھی آفیسر اپنے عہدے پر نہیں رہ سکے گا۔وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو یہ بھی ہدایت کی ہے کہ انتظامی معاملات اور امن و امان کی صورتحال سے متعلق ہفتہ وار رپورٹ پیش کی جائے۔اُنہوںنے کہاکہ سیاحتی مقامات میں سیاحوں کو لوٹنے جیسے واقعات ناقابل برداشت ہیں اور اس قسم کے واقعات کو مستقل بنیادوں پر روکنے اور سیاحوں کو ہر قسم کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے موثر اور جامع حکمت عملی وضع کی جائے ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ سوات میں تجاوزات کے خلاف آپریشن کو تیز کیا جائے جبکہ دریاﺅں کے کناروں پر غیر قانونی تعمیرات کے خلاف بلا امتیاز اور موثر کاروائی عمل میں لائی جائے ۔

اُنہوںنے مزید ہدایت کی کہ غیر قانونی تعمیرات میں ملوث عناصر اور لینڈ مافیا کے خلاف کاروائیوں کے عمل میں بھی تیزی لائی جائے ۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ ریور پروٹیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی کرنے اور قانون اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے ساتھ آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے اور غیر قانونی تعمیرات میں ملوث کسی بھی شخص کو نہیں چھوڑا جائے گا چاہے وہ کتنا ہی بااثر کیوں نہ ہو۔وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ حکومتی عمل داری کو چیلنج کرنے والوں کے خلاف مقدمے درج کرکے انہیں فوری طور پر گرفتار کیا جائے۔علاوہ ازیں وزیراعلیٰ نے سیکرٹری جنگلات کو کالام میں درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام اور جنگلات کی حد بندیوں کا معاملہ طے کرنے کے لئے پلان تیار کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کے لئے نئی بھرتیوں کا عمل جلد مکمل کیا جائے۔

وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکا م کو ہدایت کی کہ کالام میں تین ماہ کے اندراندر زمینوں کی سیٹلمنٹ کا عمل شروع کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ کم سے کم ممکنہ وقت میں یہ عمل مکمل کرلیا جائے ۔ اجلاس کو کالام میں سیٹلمنٹ کے حوالے سے پیشرفت کے بارے میں بتایا گیا کہ دیر اپر ، دیر لوئر اور کالام میں سیٹلمنٹ کیلئے 1.9 ارب روپے کا منصوبہ منظور کرلیا گیا ہے جس پر عمل درآمد کیلئے پراجیکٹ ڈائریکٹر کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ جنگلات کے حکام کو ہدایت کی کہ مقامی لوگوں کی تعمیراتی لکڑی کے ذاتی ضروریات کوپورا کرنے کیلئے مروجہ قواعد و ضوابط کے مطابق لوکل کوٹہ پر عمل درآمد کیلئے میکنزم تیار کریں اور پکڑی جانے والی غیر قانونی لکڑی کی مقامی سطح پر نیلامی کیلئے بھی طریقہ کار وضع کریں تاکہ مقامی لوگوں کی ذاتی ضروریات پوری ہو سکیں اور اس طرح جنگلات کی غیر قانونی کٹائی کی موثر روک تھام ہو۔

Posted in تازہ ترین, جنرل خبریںTagged
52219