Chitral Times

محکمہ زراعت اپر چترال  کے زیر اہتمام وریجون میں کسان زراعت اگاہی ورکشاب

محکمہ زراعت اپر چترال  کے زیر اہتمام وریجون میں کسان زراعت اگاہی ایک روزہ ورکشاب

اپر چترال (جمشیداحمد) محکمہ زراعت اپر چترال موڑ کھو کے زیر اہتمام وریجون میں کسان زراغت اگاہی ایک روزہ ورکشاپ منعقد ہوا جس کی صدارت سابق چیرمین یو سی موڑکھو حاجی حسین شاہ نے کی جب کہ اس موقع پر ڈسٹرکٹ ڈاٸریکٹر محکمہ زراغت اپر چترال اسلام الحق مہمان خصوصی تھے۔ اس اگاہی ورکشاب میں زمین داری سے وابسطہ حضرات ،کسان, نو منتخب کونسلرز , چیرمنز علماۓ کرام اور معززیں علاقہ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ پروگرام کا باقاعدہ اغاز مولانا حیات کی تلاوت کلام پاک سے کیا گیا۔کامران اور حافظ عبدالعظیم نے نعت شریف پیش کی۔مولانا غلام اللہ نے ابتداٸی کلمات پیش کرتے ہوۓ مہمانوں کو خوش امدید کہا اور علاقے کی زرعی مشکلات سے مختصر اگاہ کیا۔واٸیس چیر مین وی سی وریجون گہت سلطان حسین شاہ نے علاقے موڑکھو کی جغرافیاٸی حالات اور زرغی مشکلات کے حوالے سے بات کرتے ہوۓ کہا کہ علاقہ موڑکھو کی زمین زراغت کے لیے انتہاٸی موزون ہے اس میں سال میں دو قسم کی فصلیں فصل ربیع اور فصل حریف کاشت کی جاتی ہے لیکن بد قسمتی سے بے ابی کا شکار ہے گلیشرز نہ ہونے کی وجہ سے پانی کی شدت قلت ہے پہاڑون میں جنگلات نہ ہونے کی وجہ سے اچانک تیز بارش سے سیلاب اتے ہیں اور سیلاب اس زرخیز مٹھی کو بھی بہا کر لے جاتی ہے

پہاڑوں پر جنگلات لگانے اور ڈھلوانوں میں کسی قسم کی جنگلی بوٹیوں کی بیج سے جڑی بوٹیان اگانے کی ضرورت ہے تاکہ سیلاب اور زمین کی کٹاو کو روک سکیں اور علاقے میں کسانوں کو زرعی سہولیات فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ ۔پرنسپل سمیع الحق نے کہا علاقہ موڑکھو کی زمین کاشت کے لیے انتہاٸی گرم زمین ہے جس کے لیے پانی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے یہاں ہر قسم کی فصل کاشت کی جاتی ہے بارش نہ ہونے اور پانی کی بروقت عدم دستیابی کی وجہ سے فصلوں میں مختلف قسم کی بیماری اتے ہیں جس کے لیے ادویات کی بروقت ضرورت ہے جو کہ علاقے میں ہر صورت دستیاب ہونی چاہیے اور وقتا فوقتا محکمہ زراعت کی طرف سے کسانوں کو تربیت دینی چاہیے جو کہ متعلقہ ادارہ اس علاقے میں انتظام کریں اور صحت مند تخم اور مصنوغی کھادیں بر وقت ادارے کی طرف سے بروقت مہیا ہونی چاہیے۔ سابق ممبر وسی گہت وریجون مولانا کریم الہی نے زراعت کی شرغی حثیت کے حوالے سے مفصل بات کی اور زراغت اور کاشت کاری کو ثواب اور سنت قرار دیا ۔۔محی الدیں حاتم جنگلی پودوں اور زمین کو ہموار کرنے سولر نظام سے پانی کی فراہمی کو یقینی بنانے ۔ڈھلوان زمینوں کو ہموار کر نے پودوں اور فصلوں کو ادویات اسپرے کر نے کی بات کی۔حسین ولی خان ممبر ماڈل فارم سروس نے علاقے میں زرعی دفتر کو فعال کرنے اور کسانوں کو مختلف فیلڈ میں تربیت دینے کی بات کی۔

ماسٹر نظام الدین پروگرام کی قراداد پیش کی۔ ممبر یوتھ کونسل وریجون گہت ضیا الدیں نے نظامت کی فراٸیض انجام دین۔ مہماں خصو صی ڈاٸر یکٹر محکمہ زراعت اپر چترال نے خطاب کر تے ہوۓ کہا کہ حکومت نے زراغت کو ملک میں عام کرنے کسانوں کو فاٸدہ پہنچانے اور زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے ہر ممکن کو شیش کر رہی ہے جس کے لیے حکومت نے زراعت محکمے کے زریعے کسانوں کو معیاری تخم فصلوں کو مختلف بیماریوں سے بچنے کے لیے ادویات اسپرے کی سہولت ارزان اور سستے نرخ پر مصنوغی کھادیں معیاری بیج اور ہر قسم کی سبسڈی اور زمیداروں کو کسان کارڈ فراہم کر رہی ہے زراغت سے فاٸدہ اٹھا نا لوگوں کا کام ہے زمین دار محنت کرے زرغی طریقے اپناٸے اپنے پیداوار بڑھاٸیں جس علاقے اور ملک خوش حال اور ترقی کرے گا انہوں علاقے کو درپیش زرعی مساٸل اور مطالبات کو ہر صورت میں حل کر نے کی یقین دہانی کی۔اور وریجون میں زراعت کی دفتر کو فعال کر نے اور کسانوں کو زرعی سہولیات فراہم کر نے کی یقین دہانی کی اور وریجون زراغت دفترافیس موجود فیلڈ اسسٹٹ اسدالدین کی کاموں کو سراہا۔ موقع پر کسانوں کو انعامات بھی دی گٸی ۔اخر میں یہ ایک روزہ کسان زراغت اگاہی ورکشاپ صدرے محفل حاجی حسین شاہ کی صدراتی خطاب اور مولانا ہدایت اللہ کی دعاٸیہ کلمات کے ساتھ اختتام پزیر ہوا۔

chitraltimes agriculture extantion warijun program4

chitraltimes agriculture extantion warijun program2 chitraltimes agriculture extantion warijun program

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
61739

محکمہ زراعت کے شعبہ توسیع کے زیر اہتمام کسان فیلڈ ڈے منایاگیا،ممبران اسمبلی کی شرکت

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) محکمہ زراعت کے شعبہ توسیع کے زیر اہتمام بدھ کے روز شاہی قلعہ کے سبزہ زار میں منعقدہ کسان فیلڈ ڈے مناکر اپر اور لویر چترال کے اضلاع سے آئے ہوئے کسانوں کو گزشتہ سال گندم کی بہترین پیدوار پر نقد انعام اور شیلڈ دے دئیے گئے جبکہ لویر چترال کے چالیس مختلف مقامات پر ٹماٹر کی ولایتی ورائیٹی کے پلاٹ لگانے والے کسانوں کو سازوسامان دے دئیے گئے جنہیں مہمان خصوصی ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی، وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ اور ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے تقسیم کی۔

اس موقع پر ڈسٹرکٹ ڈائرکٹر ایگریکلچر محمد نعیم، سبجیکٹ میٹر اسپیشلسٹ محمد رفیق اور ایگریکلچر افیسر شہزاد ایوب نے محکمے کی کارکردگی بیان کرتے ہوئے کہاکہ کسانوں تک جدید طریقے اور ٹیکنالوجی پہنچاکر ان کی معیار زندگی بلند کرنااور پائیدار بنیادوں پر زراعت کی سرگرمیاں قائم کرنے کے ساتھ ساتھ غذائی تحفظ میں اضافہ اور فصلوں کو خطرات سے آگاہ کرنا شامل ہیں۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ ایک سال کے دوران 12ہزار کسانوں سے مختلف ذرائع سے رابطہ کیاگیا، 15ایکڑ میں جوار کے نمائشی پلاٹ اور ٹماٹر کے 38نمائشی پلاٹ، 150فیلڈ وزٹ، گندم، جوار، دھان اور سبزی کی کاشت پر پانچ مختلف تربیتی پروگرام اور کسانوں کی پانچ اجتماعات منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ اپر اور لویر چترال میں چھ مختلف مقامات پر فروٹ نرسری قائم کرکے 10948عدد میودہ دار پودے کسانوں میں تقسیم کی۔

انہوں نے کہاکہ پرائم منسٹر ایمرجنسی پروگرام کے تحت بھی کسانوں میں کیمیائی کھاد اور کیڑے مار ادویات فراہم سبسڈائزڈ نرخوں پر تقسیم کئے گئے۔ انہوں نے محکمہ کو درپیش مسائل کاذکر کرتے ہوئے کہاکہ فیلڈ اسٹاف کی شدید کمی کا سامنا ہے جبکہ فنڈز کی قلت بھی درپیش مسائل میں شامل ہے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں مولانا عبدالاکبر چترالی نے کہاکہ زراعت ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے لیکن اس پر آج تک کسی حکومت نے کماحقہ توجہ نہیں دی جس کے نتیجے میں ہم اس میدان میں پسماندہ چلے آرہے ہیں حالانکہ یہاں پر زمین، جوان کسانوں اور ان میں محنت کا جذبہ اور ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ہے۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہارکیاکہ ملک میں ادارے کی بنیادیں کمزور اور کھوکھلی کردی گئی ہیں اور سیاسی اپروچ نے کارکردگی کو انتہائی متاثر کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نے تبدیلی کا نعرہ تو لگایا تھا لیکن یہ تبدیلی دوربین میں بھی نظر آنا ممکن نہیں ہے۔

انہوں نے محکمہ زراعت کے افسران کو یقین دہانی کرتے ہوئے کہاکہ اس محکمے کو چترال میں وسائل کی فراہمی کو یقینی بنائی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کے معاون خصوصی وزیر زادہ نے زراعت کو ترقی کا زینہ قرار دیتے ہوئے کسانوں پر زور دیا کہ وہ روایتی طریقہ زراعت چھوڑ کر جدید طریقے اپنالیں۔ انہوں نے محدود وسائل کے ساتھ بہترین کارکردگی کا مظاہر ہ کرنے پر محکمہ زراعت کی شعبہ توسیع کی تعریف کی۔ انہوں نے کہاکہ سول سیکرٹریٹ میں چترال کے دونوں اضلاع میں زراعت کے تمام محکمہ جات کا ایک بریفنگ رکھا جائے گا جس میں تمام مسائل سے آگاہی حاصل کی جائے گی۔

ایم پی اے مولانا ہدایت الرحمن نے کہاکہ ترقی محکمہ زراعت کے ذریعے ہی زرعی اجناس میں خود کفالت اور ترقی ممکن ہے اور اس محکمے کو فعال بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑا جائے گاجبکہ یونین کونسل لیول تک آگہی پھیلانے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ماڈل فارم سروسز سنٹر کے صدر فرید احمد نے محکمہ زراعت کو نظر انداز کرنے پر حکومت اور بیوروکریسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ اس اہم شعبے کو پسماندہ رکھنے میں حکمرانوں کا کردار ہے۔ نائب صدر شریف حسین نے ڈی سی چترال کو دعوت دینے کے باوجود عدم شرکت پر تشویش کا اظہارکیا اور محکمہ زراعت کے تمام شعبوں میں انقلابی تبدیلی اور اصلاحات متعارف کرانے کا مطالبہ کیا۔ محکمہ زراعت کے افسران نے افیسر ز ایسوسی ایشن کی ہڑتال کے باوجود پروگرا م کو منعقد کیا تاکہ دور سے آنے والے کسانوں کو تکلیف نہ پہنچ سکے۔

chitraltimes agriculture office program chitral6
chitraltimes agriculture office program chitral4
chitraltimes agriculture office program chitral3
chitraltimes agriculture office program chitral2
chitraltimes agriculture office program chitral7
chitraltimes agriculture office program chitral1
Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
50870