Chitral Times

مارشل لاء کیوں لگے؟……….. تحریر:تقدیرہ خان

Posted on

ایوارڈ یافتہ صحافی خاتون وزیر ریلوے شیخ رشید کا انٹرویو کر رہی تھی۔ شیخ صاحب ایوبی دور کی نشانی ہیں اور اب سینئر سیاستدان ہیں۔ اس انٹرویو کی خاص بات شیخ رشیداور صحافی خاتون کی ہم لباسی تھی۔ ہم لباسی کا شاید کچھ تعلق ہم خیالی اور ہم آہنگی سے بھی ہو۔ دونوں نے اس انٹرویو کے لے نیلے رنگ کا چناؤ کیا جس کی بہت سی وجوہات ہو سکتیں ہیں۔ نیلا رنگ سمندرو آسمان کی نمائندگی کرتا ہے جس میں وسعت، تدبر،درستگی، سکون، مدوجزر اور حکمت ہے۔ خاتون صحافیہ کا تو پتہ نہیں مگر شیخ صاحب میں ایسی کوئی خوبی نہیں جو سمندر اور آسمان کی نمائندگی کرتی ہو۔ رنگوں کا الگ علم اور اثرات ہیں مگر بیان کردہ انٹرویو میں اس رنگ کا بھی کوئی اثر دکھائی نہ دیا۔
.
شیخ صاحب متعدد بار وزیر اطلاعات بھی رہ چکے ہیں۔ صحافت اور ثقافت سے شیخ صاحب کا پرانا رشتہ ہے اور ٓآپ اس شعبے سے وابستہ خواتین و حضرات میں آج بھی مقبول ہیں۔آپ نے فن اور فنکاروں کے لیے بہت کچھ کیا جس کی تشہیر بھی ہوتی رہی۔
اس انٹرویو میں دیگر روائیتی سوالوں میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ اس ملک میں صرف سیاستدانوں کو ساز ملتی ہے ڈکیٹروں کو کیوں نہیں۔ شیخ صاحب نے فرمایا سزا تو کسی کو نہیں ملی مقدمات بنتے ہیں، لوگ جیلوں میں جاتے ہیں جن کا ماحول گھرجیسا بلکہ جنت جیساہوتا ہے۔وہاں چند روز عیش وعشرت کے گزارتے ہیں اور پھر بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ سوائے ذوالفقار علی بھٹو کے کسی سیاستدان کو کبھی سزا نہیں ہوئی۔جن کو سزا ہو تی ہے وہ بیماری کا بہانہ کر کے لندن سے پہلے کہیں نہیں رُکتے چونکہ دنیا کے کسی ملک میں اُن کی بیماریوں کا علاج ہی نہیں۔
سوائے لباس، روایتی سوالات اور سٹائل کے اس انٹرویو میں تو کچھ نہ تھا مگر ہمارے ذہن میں یہ سوال آیا کہ ہمارے صحافی مارشل لاؤں کی اصل وجوہات پر کیوں نہیں لکھتے اور اپنے پروگراموں اور انٹرویو ز میں من پسند سیاستدانوں سے یہ سوال کیوں نہیں کرتے کہ آخر مارشل لا لگتے ہی کیوں ہیں۔
.
مارشل لاؤں کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ سمجھنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے گی کہ ہر مارشل لا کے لیے خود سیاستدانوں نے ہی راہ ہموار کی یا پھر ملک کے اندر ایسا ماحول پیدا کیا جس کی وجہ سے مارشل لا لگا کر ملک کوبچایا گیا۔
بہت سے سیاستدانوں، داناؤں اور دانشوروں کا کہنا ہے کہ مشرقی پاکستان مارشل لا کی وجہ سے بنگلہ دیشں بنا، مسئلہ کشمیر کی بنیادی وجہ ڈکیٹٹر شپ بنی، خارج پالیسی پر فوج ہاوی رہی، داخلہ پالیساں فوج کی مداخلت کی وجہ سے کامیاب نہ ہوئیں اور فوج نے ہی جمہوریت کا گلہ دبائے رکھا۔
ملک میں ایوبی مارشل لا سے پہلے کیا حالات تھے اور سیاسی ابتری کس حدکو چھو رہی تھی اس پر لکھنے والے تجزیہ نگاروں کی نظر ہی نہیں جاتی۔ کوئی دانشوریہ نہیں لکھتا کہ پہلا مارشل لا ایوب خان نے نہیں بلکہ صدر سکندر مرزا نے اپنی کابینہ کی منظوری سے لگایا تھا جس میں دور حاضر کے سیاسی گھرانوں کے بڑے بابے بشمول وزیر دفاع جنرل ایوب اورفخر ایشیأذوالفقار علی بھٹو بھی شامل تھے۔ مارشل لا لگانے کے بعد سکندر مرزا نے فوج اور ملک کے خلاف سازشوں کاجال پھیلانا شروع کیا تو ایوب خان جسے سکندر مرزا نے چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقر ر کر رکھا تھا نے ملکی نظام اپنے ہاتھ میں لے لیا۔اگر ایوب خان ایسا نہ کرتے تو ملک ٹکڑوں میں بٹ جاتا۔
.
ایوب خان نے جمہوریت کی بحالی کا عندیہ دیا تو بھٹو اورمجیب الرحمن نے جنرل یحییٰ خان، جنرل حمید اور دیگر سے رابطہ قائم کر لیا۔ یحییٰ خان نے سیاستدانوں کی ایمأ پر اقتدار پر قبضہ کیا اور مارشل لابھی لگا دیا۔ یحییٰ خان کے مارشل لا کی آڑ میں بھٹو اور مجیب نے گھناؤنا سیاسی کھیل کھیلا اور اِدھر ہم اُدھر تم کی پالیسی کو حتمی شکل دیکر ملک تقسیم کر لیا۔
.
بھٹو صاحب نے مارشلائی انداز میں جمہوریت کا آغاز کیا اور جو اُن کی خواہشات کے راستے میں آیا اسے نشان عبرت بنا دیا۔ بھٹو کی جمہوریت سے لوگوں کے دلوں میں نفرت پیدا ہوگئی تو الیکشن میں دھاندلی کی آڑمیں اپوزیشن نے ملک گیر احتجاج شروع کر دیا۔ وہی پاکستانی عوام جو بھٹو سے محبت کرتے تھے بھٹو کی ظالمانہ پالیسوں کی وجہ سے نفرت کرنے لگے۔ حالات دن بدن خراب ہوتے گئے تو بھٹو نے جنرل ضیاء الحق کی مدد سے تین بڑے شہروں میں مارشل لا لگادیا۔ بھٹو صاحب نے اپنے سویلین ساتھیوں اور پارٹی رہنماؤں کی طرح اپنے فوجی دوستوں ائیر مارشل رحیم خان، جنرل گل حسن اور نیول چیف کو جس طرح ذلت و رسوائی کیساتھ فوج سے نکالا تھا ضیا ء الحق اور اُنکے ساتھی اسے سمجھتے تھے۔ انہیں پتہ تھا کہ مارشل لا تو بھٹو نے لگوایا ہے مگر اُسکا خمیازہ وردی والے ہی بھگتیں گے۔ بھٹو کو مری سے رہا کرنے کے بعد جنرل چشتی نے جنرل ضیاء الحق کو آرٹیکل چھ پڑھنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرشد،بھٹو پھر وزیراعظم بن جائیگا اور ہم سب کو پھانسی گھاٹ کا سامنا کرنا ہوگا۔ اسی دوران ایک قبر اور دو لاشوں کا بھی تذکرہ ہونے لگا۔ ضیاء الحق کے سیاستدان ساتھیوں نے بھی انہیں یاد دلایا کہ مارشل لا تو بھٹو کے حکم پر لگا ہے مگر آرٹیکل چھ کا سامنا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر جنرل ضیاء الحق کر یگا۔ بھٹو صاحب میکاولین ہیں اور میکاولی کی ”دی پرنس“اُن کے سرہانے رکھی ہوتی ہے۔ آگے جو ہوا اُسکی ابتداء خود بھٹو صاحب نے ہی کی تھی۔
.
جنرل پرویز مشرف نے مارشل لاتو نہ لگایا مگر اقتدار اپنے ہاتھوں میں لیکر سول انتظامیہ کی مانیٹرنگ شروع کر دی جس کے نتائج آمرانہ جمہوریت سے ہزاروں درجے اچھے رہے۔ جنرل مشرف نے جن حالات میں ملک اور فوج کو بچایا اُس کی تفصیل میرے دو مضامین ”غدار کون“ میں آچکی ہے۔
جنرل پرویز مشرف نے ایمرجنسی کا نفاذ کیوں کیا اس پر کسی کا دھیان ہی نہیں جاتا۔دیکھا جائے تو جنرل پرویز مشرف کوجسٹس افتخار چوہدری نے ان اقدامات پر مجبور کیااور پھردوبارہ بحال ہو کر بھی روش نہ بدلی اور عوام الناس کو مایوس کر دیا۔
.
نواز شریف، مریم نواز اور اُس کی ٹیم نے پانچ سال تک ملک پر شاہی جمہوریت نفاذ کیے رکھا اور ملکی نظام پرویز رشید جیسے لوگوں کے ہاتھوں میں رہا۔ ڈان لیک جیسے کئی واقعات منظر پر آئے مگر فوج نے کمال صبروتحمل کا مظاہر کرتے ہوئے ن لیگ کی سازشوں میں الجھنے کے بجائے ملک کے دفاع اور قومی سلامتی کے امور پر توجہ مذکور رکھی۔
میاں نواز شریف اور اُنکی بیٹی کی سازشوں کے باوجود جنرل راحیل شریف اور جنرل باجوہ نے ملک کے اندرونی او ر بیرونی دشمنوں کو ہر محاذ پر چیلنج کیا اور انہیں دندان شکن شکست دی۔ کراچی اور فاٹا کے حالات درست کیے اور عوام کا ملکی اداروں پر اعتماد بھی بحال کیا۔مریم میڈیا کی ملک دشمن پالیسیوں کو عوام اور عدلیہ کے سامنے رکھا مگردونوں عظیم اداروں نے اس پر کوئی فیصلہ نہ دیا۔
.
نواز شر یف اپنی تیسری ٹرم میں مارشل لا کے لیے راہیں ہموار کرتے رہے جس میں اُن کی بیٹی اور اُن کی سازشی کابینہ بھی شامل رہی۔ نواز شریف اور اُس کے خاندان کی پالیسوں کی وجہ سے ملک تباہی کے دھانے پر جا پہنچا اور عوام بد حال ہو گئے۔ایوارڈ یافتہ دانشور صحافیہ نے شیخ رشید سے پوچھا کہ حکومت میڈیا سے کیوں نالاں ہے۔شیخ صاحب نے تو کوئی خاص جواب نہ دیا مگرمجھ جیسے دیکھنے والوں کو یہ سوال اچھا نہ لگا۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ ہم لباسی، ہم رنگی اور ہم آہنگی ہم خیالی کی دلیل ہے۔اگ حکومت اور صحافت ہم رنگ اور ہم لباس ہیں تو اندرواندری ہم آہنگ اور ہم خیال بھی ہونگے۔ ہر رنگ کااپنا اثر ہوتا ہے۔ہم رنگی اور ہم لباسی عشق ومحبت کی نشانیاں بھی ہیں۔جو جس کے رنگ میں رنگ جائے وہ اُسی کا ہو جاتا ہے۔ دنیا کی ہر فوج کا ایک ہی لباس اور رنگ ہوتاہے۔ صوفیأ کا لباس اور اُسکا رنگ بھی ایک ہی ہے جسے تصوف کی نشانی کہا جاتا ہے۔ چین جیسے ملک کی ترقی کا راز ہم لباسی اورہم رنگی میں ہے۔ ہمارے ہاں صحافت اور سیاست کے کئی رنگ ہے مگر کبھی کبھی ہم رنگی اور ہم آہنگی ہم خیالی میں بدل جاتی ہے۔ ہم آہنگی، اور ہم خیالی کا مظاہرہ مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پر سرشام پیش کیا جاتا ہے مگر ہم اس پر غور نہیں کرتے اور نہ ہی وجہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ ہر سیاستدان کے دل میں مارشل لأ کی خواہش کیوں رہتی ہے۔
ہماری ناقص سمجھ میں جوبات آئی ہے اُسکا تعلق سیاست میں مارشل ریس اور خاندانی عصبیت کی کمی ہے۔ شیخ رشید نے بھی یہی کہا ہے کہ اچھے لوگوں کی معاشرے اور ریاست میں کمی ہے۔
.
برسوں پہلے حضرت مولانا مودودیؒ نے بھی یہی بات کہی تھی مگر کسی نے غور نہ کیا۔ فرمایا کہ ہر برائی کا آغاز حکومت کرتی ہے اور عوام اُس کے معاون ہوتے ہیں۔ اگر چوروں کے ہاتھوں میں خزانے کی چابیاں دے دی جائیں تو وہ خزانہ لوٹنے کے سوااور کیا کرینگے۔؟

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
30011