Chitral Times

جلتے کیلاشیوں نے مجھے تکلیف پہنچائی۔لکشن بی بی رو رہی تھی۔تحریر: فاتح اللہ

جلتے کیلاشیوں نے مجھے تکلیف پہنچائی۔لکشن بی بی رو رہی تھی۔تحریر: فاتح اللہ

کہتے ہیں کہ انتظار میں جو مزہ ہے وہ وصال میں نہیں لیکن جس انتظار سے اب ہم گزر رہے تھے اس کا ایک ایک پل منٹوں سے گھنٹوں میں بدل گیا ۔ ہم نے ایک ایک منٹ گننا شروع کر دیا۔ ہمارے اس پروگرام کی تفصیل کچھ اس طرح تھی ۔ اب لکشن صاحبہ تیار ہو رہی ہوں گی اب ناشتہ کرنے بیٹھی ہوں گی۔ اب کپڑے بدل لی ہوگی ۔ ہاں تو اب ناشتہ ختم ہوگیا ہوگا ۔ اب محترمہ اپنی تیاری کے آخری مراحل سے گزرر ہمارے پاس آئی ۔ اس تجسس کی وجہ یہ تھی کہ لکشن بی بی سے پہلی ملاقات کے بعد انٹرویو کے لیے وقت مجھے ملا تھا جو کسی بھی وقت تاخیر کا شکار ہوتا تھا اور دوبارہ لکشن بی بی کا پیغام آتا تھا کہ اب وہ ٖ فری ہوچکی ہیں ۔ مگر وہ کبھی بھی فری نہیں بلکہ ہمیشہ اس کا کسی نہ کسی کے ساتھ نشت ہوتی تھی۔ لکشن بی بی سے ملنے کیلاش کیمونٹی کے لوگ ہی نہیں بلکہ پورے پاکستان سے لوگ ان کے رہائش گاہ میں ملاقات کے لئے موجود ہوتے تھے۔ اس کی وجہ سے مجھے کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔

لکشن بی بی سے میری پہلی ملاقات کے بعد ملاقاتیں مزید ہفتوں تک جاری رہی حتی کہ وہ نیورک پہنچ گئی ، میں جاننے کے لیے بے تاب تھا کہ آخر لکشن بی بی کیسی ہے۔؟ ، ماضی کیسا تھا ۔؟، حال کیسا ہے اور سب سے بڑھ کر مستقبل کیسا ہوگا ۔ ۔۔؟ زندگی میں پہلی مرتبہ کسی کو قریب سے جاننا چاہتا ہوں ۔

مزید سطور لکھنے کے بجائے دوستوں کی معلو مات کے لئے بتا تا چلو ں کہ لکشن بی بی پاکستان کے صوبے خیبر پختو نخوا کے ایک ڈسڑکٹ ضلع لوئیر چترال سے تعلق رکھتی ہیں جو کہ ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں۔ لکشن بی بی کی پیدائش وادی رمبور میں ہوئی ہے اور کیلاش کیمونٹی سے تعلق رکھتی ہیں ۔لکشن بی بی نے ایک گمنام کمیونٹی کو دنیا کے سامنےایک اچھے انداز میں پیش کیا ۔ لکشن بی بی کی خدمت کو نہ صرف کیلاش بلکہ ضلع کے تمام لوگ سراہتے ہیں ۔ کیلاش کیمونٹی کے لیے ان کی خدمات تاحیات نا قابل فراموش ہیں ۔ لکشن بی بی کی شہرت کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صوبے بھر کی پہلی خاتون پائلٹ تھی ۔ لکشن بی بی کا تعلق کلاش کمیونٹی سے ہونے کے باجود وہ کیلاش کمیونٹی کو ہی نہیں بلکہ پاکستان کو بھی چھوڑ کر امریکہ میں زندگی گزر رہی ہے۔ ایک وقت تھا جنرل پرویز مشرف ملاقات کے لئے وادی کیلاش چلے آئے اور لکشن بی بی سے ملاقات کے بعد انہیں اسلام آباد بلالیا اور اس وقت ا نہیں کروڑوں روپوں سے نوازا تاکہ لکشن بی بی اپنے علاقے کے محرومیوں کو دور کر سکے۔ اس کے علاوہ سابق وزیر عظم پاکستا ن یوسف گیلانی سے بھی وزیر عظم ہاؤس میں ملاقات کیا ۔ یہاں لمبے سطور لکھنے کا کوئی اور مقصد نہیں بلکہ اس کے حوالے سے لوگوں کو چند معلومات فراہم کرنا ہے ۔ کیونکہ گزشتہ کالم ” لکشن بی بی کے ساتھ ادھوری ملاقات ” میں بہت سارے دوستوں نے کہا کہ وہ لکشن بی بی کو جانتے تک نہیں اور اس کالم کے بعد وہ لکشن بی بی کے بارے میں جاننے کے لئے بے تاب ہیں ۔

اکثر ملاقات کے دوران لکشن بی بی اپنی ماضی کو دوہراتی تھی پتہ نہیں آخر وہ ہر کسی کو اپنے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو کیوں تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے ہمیں اس کا کوئی علم نہیں شاید وہ تو اس کی اپنی ذات تک محدود ہوگی ۔ برحال اس پر میں بھی افسوس کا اظہار کرتا تھا اور اس کے ماضی کو مزید پڑھنا چاہتا تھا ۔ جب بھی مجھے بتایا جاتا تھا کہ اب میں انٹرویو کر سکو ں گا تو کوئی نہ کوئی نمودار ہو کر میرے منصوبے پر پانی پھیر کر چلے جاتے تھے یہ سلسلہ ایک دن تک نہیں رہا بلکہ ہفتوں تک جاری رہا، جب وہ اگلے شام کو جانے والی تھی اس وقت انہوں نے اپنے کیمرہ مین کو میرے پاس بھیجا کہ کل شام کو وہ جا رہی ہے، انٹرویو بھی لیا جائے تب میں نے انہیں اپنا ہوم ورک دیکھایا کہ یہ سوالات میں نے تیار کیا ہے آپکو کوئی اعترض تو نہیں سوالات چیک کر لینا ۔تو انہوں نے ڈرٖافٹ بک دیکھی اور کہا کہ سارے سوالات زبردست ہیں مگر یہاں سے ایک وزیر زادہ کی سیاست پر جو پوچھنے چاہ رہے ہو یہ سوال ہٹا دو ، ” سوال یہ تھا کہ وزیر زادہ صاحب علاقے کے لیے کیا کچھ کیا ہے۔؟ کیا وہ کمیونٹی کے توقعات پر پورا اترتے ہیں” اس پر انہوں نے سوال ہٹانے کی بات کی اس کے بات کہا کہ بیٹا پہلے بھی میں ادھر تھا تو یہ ہی روڈ تھے اب سات سال کے بعد آئی ہوں تو وہی روڈ دیکھی ، میں سیاست سے بہت دور رہتی ہوں ، جب میں یہاں تھی تو کئی دفعہ وزیر بننےکی آفرز مجھے موصول ہوئے اس سلسلے میں میٹنگ بھی ہوا کرتی تھی اور میں اپنے علاقے کے لوگوں کو لے کر جاتی تھی وہ گواہ ہیں کہ میں نے ایسے آفرز ٹھوکرا دی ہیں ۔

لکشن بی بی نے ایک اور سوال کا ذکر کیا کہ یہ سوال مجھ سے نہ کیا جائے اور یہ سوال نجی زندگی کے حوالے سے تھا۔ اس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا میں اس بارے کچھ نہیں کہہ سکتی ۔ اس کے بعد آخری سوال میں یہ تھا کہ بحثیت پاکستانی شہری اپنے کمیونٹی کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے اس پر انہوں نے کہا کہ بیٹا میں اس وقت امریکی شہری ہوں، اس کے بعد مجھے محسوس ہوا کہ لکشن بی بی نے ملک چھوڑنے کے بعد پاکستان کو اور یہاں کے اپنی کیمونٹی کو بھول چکی ہیں مگر میں غلط تھا کیوں کہ وہ اب بھی اپنے کیمونٹی کو ترقی پسند دیکھنا چاہتی ہے وہ ہر نشت میں جس بات پر زور دیتی تھی وہ یہی تھا کہ یہاں کہ نئی نسل تعلیم یافتہ ہو ں محنتی ہوں اور ایک دوسرے سے جلنے کے بجائے اتحاد سے رہے۔

چند دن پہلے لکشن بی بی نے مجھے سے کہا کہ بیٹا آپ میرے کیمرہ مین کا ساتھ دے اور لوگوں سے انٹرویو لے میں دیکھنا چاہتی ہوں کہ کیا یہاں کے لوگ بدل گئے ہیں یا پہلے کی طرح جلیسی کا ماحول گرم ہے ۔ اس ضمن میں ہم نے بہت سارے لوگوں سے رائے لینے کی کوشش کی تو سنا کہ لکشن بی بی نے دیار غیر سے جتنی لوگوں کی مداد کی ہے اس کی مثال تاریخ میں کہیں پر بھی نہیں ملتی ۔ اکثر انٹریو میں ہم نے سنا کہ ہر چھے مہینے بعد انہیں لکشن کی طرف سے امداد مل رہی ہیں ۔ کئی نے بتایا کہ ان کے گھر کے بڑے وفات ہونے کے بعد انہیں گھر بنانے کے لیے بھی امداد ملے ہیں اس کے علاوہ لوگوں سے سنا کہ کئی یتیموں کو وہ تعلیم بھی دے رہی ہیں ۔ اس کے علاوہ ان کے رہائش گاہ میں دیکھا کے لوگوں کی بڑی تعداد شکریہ ادا کر رہے تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ان کے علاج معالجے کی تمام خرچہ لکشن بی بی نے اپنے ذمے لے کر انہیں بہترین علاج فراہم کروائی تھی اور ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اس بار لکشن بی بی کے تواسط سے اپنا علاج کر سکیں گے۔

لکشن بی بی صرف مجھ سے ہی نہیں بلکہ ہر ملاقاتی سے گھنٹوں باتیں کرتی تھی اور اپنے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی کو ہر بار دوہراتی تھی نا جانے وہ کیا چاہتی تھی اس سے تو وہ خود واقف ہے اگر اس پر تجزیہ کیا جائے اور اپنے اندازے سے بات کرو تو اس کا صاف صاف یہ ہی مقصد ہم عکس کر سکتے ہیں کہ وہ بے قصور تھی ان کے خلاف جھوٹا کیس بنا یا گیا اور علاقے میں ایک غلط پیغام کو پھیلا کر انہیں بدنام کیا گیا تاکہ علاقہ میں کوئی اس کے ساتھ نہ چلے بلکہ پہلے سے موجود کرپٹ گروپ کے پیچھے چلے ” لکیر کی فقیر ” بنانے والے کرپٹ گروپ پہلے سے بہت منظم ہو جائیں ۔ یہ کرپٹ مافیا گروپ لکشن بی بی کو قبول نہیں کر رہے تھے انہیں اس بات کا ڈر تھا کہ کل علاقے میں اور اداروں کے سامنے ان کی اہمیت کم ہوگی اور ان کی دوکان بند ہو جائے گی۔ یہ مافیا کیلاش کلچر اور خواتین کو دیکھا کر سرکاری ، غیر سرکاری اداروں میں جو مقام پیدا کیا تھا وہ بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے ۔ اس سازشی گروپ میں نامی گرامی شخصیات شامل تھے ۔ اس گروپ کے بارے میں لکشن بی بی نے بتایا کہ یہ لوگ انہیں کام کرنے سے روک رہے تھے کیونکہ لکشن بی بی خواتین کے لیے بشالینی( وہ جگہ جہاں کیلاش خواتین زچگی کے دنوں میں رہتی ہیں) کے اندرہیلتھ یونٹ تعمیر کر رہی تھی اس وقت لکشن بی بی کے خلاف کرپٹ مافیا گروپ نے باقاعدہ سازش شروع کیا ۔ لکشن بی بی کو ہر طرح تنگ کیا گیا انہیں ہر طرح سے نقصان پہنچانے کی بھر پور کوشش جاری رکھے۔ ان کے خلاف پریس کانفرنس کیا گیا ۔ میں نے لکشن بی بی سے پوچھا کہ آپ ڈر گئی کیا ۔۔؟ملک چھوڑنے کی کیا ضرورت تھی۔۔؟ ہنس کر جواب دیا بیٹا میں نے ان کے خلاف کچھ نہیں کیا اگر میں کرتی تو میں بہت کچھ کر سکتی تھی میرے پاس بے شمار اختیارت تھیں۔ میں ان سے ڈر کر ملک سے نہیں بھاگی بلکہ انہوں نے مجھے اس حد تک مجبور کیا کہ مجھ پر مذہبی الزمات لگائیں اس سے میری جان بھی خطرے میں پڑ سکتی تھی ۔ مجھے سب کچھ صاف صاف نظر آرہی تھی کہ یہ لوگ سیاست کے بھوکے ہیں مجھے ہمیشہ تنگ کریں گے میرے لیے یہاں رہنا مشکل ہوگئ تھی اور میں چاہتی تھی کہ یہاں میری وجہ سے کوئی حادث نہ ہو ،نہیں تو میں بہت کچھ کر سکتی تھی۔۔۔ کالم جاری ہے۔ ۔۔

 

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
63294

لکشن بی بی سے ادھوری ملاقات ۔ فتح اللہ

لکشن بی بی سے ادھوری ملاقات ۔ فتح اللہ

شام کا وقت تھا ایک دوست نے کال پر مجھ سے کہا کہ لکشن بی بی رمبور پہنچ چکی ہے کیا یہ خبر دورست ہے؟ ، میں نے لاعلمی کا اظہا ر کیا کہ میں دوکان میں نہیں ہوں گھر آیا ہوں مجھے کوئی علم نہیں۔ اس کے بعد میں نے ایک دوست کو کال کی اور اس سے پوچھنے پر انہوں نے تصدیق کے بعد مجھے میسچ کی کہ الیکشن بی بی اپنے رہائش گاہ پہنچ چکی ہے۔ صبح ہوئی تو میڈیا سے وابسط دوستوں سے بھی بات کی کہ میں لکشن بی بی سے ان کی ماضی ،حال اور نجی زندگی کے حوالے سے انٹرویو کرنا چاہتا ہوں اس ضمن میں کوئی سوال آپ کے زہن میں ہو تو مجھے بتائے اس حساب سے میں تیاری کر لوں، ان میں سے دو دوستوں کے سوالات بھی مجھے موصول ہوگئے میں نے ہوم ورک کرنے کے بعد جب ملاقات کے لیے ان کے پاس گیا تو دیکھا کہ لکشن بی بی سے ملنے درجنوں افراد ان کے رہائش گاہ میں موجود تھے۔ باری باری ان سے باتیں کر رہے تھے ۔ ہر انکھ میں نمی تھی سب ان سے معافی مانگ رہے تھے کہ انہوں نے غلطی کی۔ کسی اور کا ساتھ دے کر ایک عظیم خاتون کو وطن بدر ہونے پر مجبور کیا۔ سارے لوگ ایسے پیش آرہے تھے جسیے وہ سب الیکشن بی بی کو ملک چھوڑنے پر مجبور کیا ہوا تھا اور لکشن بی بی تنگ ہو کر ملک چھوڑ کر چلی گئی تھی۔

جب میں ملنے کے لیے ااستقبالیہ ہال میں گیا تو دیکھا وہ اندر کچن میں ہے میں نے کافی انتطار کیا کہ لوگ نہ ہو اور میں اکیلے میں ملو ں کیونکہ پہلی مرتبہ مل رہا ہوں ایسا نہ ہو کہ مجھے اس کے سامنے کوئی شرمندگی اٹھانا نہ پڑے میرے لیے وہ بالکل انجان تھی ۔ موقع ملتے ہی میں نے سلام کی ، سلام کی دیر تھی کہ انہوں نے مجھے گلے لگار کہا کہ ماشاءاللہ آپ بڑے ہو گئے ہیں اور کہا کہ آپ کو بہت پہلے دیکھا تھا۔ پھر اس نے ہمیں کہا کہ کرسی باہر رکھے گب شب کرتے ہیں اور ناشتہ بھی تیار ہے ۔ جب کمرے سے باہر نکلے تو دیکھا کہ میرے والد صاحب بھی باہر موجود ہے لکشن بی بی نے گرم جوشی سے والد کو کہا کہ تاش خان آپ میرے والد کی طرح عظیم لیڈر ہے آپ مجھے والد کی طرح یاد آرہے تھے آپ مجھے ایسے ہی لگے جیسے میرے والد تھے۔

جب والد اور لکشن بی بی کے درمیان گلے شکوے ختم ہوگئی تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ آپ تو اب مسلم ہیں ۔عملی زندگی کا بھی آغاز کر چکے ہیں ،مبارک ہو ، ساتھ میں کھڑا ایک شخص نے کہا کہ شاید یہ قسمت ہے جو بھی کیلاش مذہب میں شوقین یا کیلاش مذہب کی ترقی میں کام کر سکتے ہیں وہ ہمیں چھوڑ جاتے ہیں ، اس پر مخترمہ نے عرض کیا کہ انسان چاہتا ہے کہ اس سے زند گی میں بہت کچھ کرنا ہے ، مگر ہمارے معاشرے میں ایسے افراد کے لیے سوچنے اور فیصلہ کرنے میں حدود کا تعین کیا جاتا ہے اس سے ہم لوگ ناامیدی میں مبتلا ہو کر آخری فیصلہ کر کے اس معاشرے کی حدود کو پار کرتے ہوئے پورے کمیونٹی کو اپنے فیصلے اور سوچ سے الگ رکھتے ہیں ۔ باتیں ہو رہی تھی والد صاحب بلکل خا موشی سے یہ سب سن رہا تھا ۔

پھر میں موبائیل سے تصاویر بنا رہا تھا تو لکشن بی بی نے کہا آپ گھر کے آفراد میں شامل ہے بیٹا فوٹو گرافی تو کر لو مگر کسی قسم کے تصاویر یا وڈیوز کہیں پہ اپلوڈ نہیں کرنا میرے جانے کے بعد اپلوڈ کر سکتے ہو کیونکہ زاتی طور پر ٹھیک نہیں سمجھتی ہوں میری بھی اپنی ایک پرویسی ہے۔ یقین مانیے کہ اس قوم نے ایک بیٹی کو اتنی تکلیف پہنچائی ہے کہ اپنے ہی گھر میں خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہی ہے ۔ چاہتی ہے کہ کسی کو آنے کی خبر نہ ہو بس اپنوں سے ملاقات کرنے کے بعد یہاں سے فرار ہو جائے ، ہم وہ جاہل اور احسان فرا موش قوم ہیں جب کوئی ہمیں فائدہ پہنچا رہا ہو تو ہم اس کی زاتی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال دیتے ہیں ۔ خیر آگے باتیں بہت ہیں کرتے رہنگے ۔

جب مجھے لگا کہ لکشن بی بی مصروف ہیں ملنے والوں کی لمبی قطار ہے تو میں نے اپنے ملاقات کی خاص مقصد سے آگاہ کیا کہ آپ سے ملاقات کے لئے لوگ آ رہے ہیں مجھے اجازت دے میں جا رہا ہوں میں تو آپ سے کچھ پوچھنے آیا تھا آپکی نجی زندگی سے کچھ ہم بھی راز جان سکیں، خیر اب ممکن نہیں، پھر ملاقات ہوگی ۔

جب میں نے کہا کہ بڑی مہربانی اپ نے اپنی قیمتی وقت سے مجھے وقت دی ، اب مجھے جانا چاہیے ، اس نے کہا کہ میں آپکو انٹریوں دونگی مگر پہلے آپ ایک بیٹے کی طرح مجھ سے بات سنو میں نے اس قوم کو کیا دیا اور اس قوم نے مجھے کیا دی ہے ۔ لوگوں نے میری عزت خراب کی مجھ پر الزمات کی بر سات کی ، جبکہ میں نے اس قوم کو ایک پہچان دی ایک مقام دیا میری کوشش سے کئی ادروں میں کیلاش نوجونوں کو ملازمات کا موقع فراہم ہوا ۔ جب وہ باتیں کر رہی تھی تو انکھو ں میں نمی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی کسی کی اچانک موت کی کہانی سنا رہا ہو۔

افسوس سدا افسوس اس کی ولادت غم
وطن جس کی چمن ہو اور چمن بےزار ہو جائے

جب وہ کیلاش وادی میں ان کے ساتھ ہونے والی ظلم و زیادتی سے مجھے آگاہ کر رہی تھی تو اچانک ان کی امی بھی پہنچی اور موقع سے فائدہ اٹھا کر بیٹی کو اور وہاں موجود لوگوں کو اپنے اپر ہونے والی کہانی بتانا شروع کیا تو لکشن بی بی نے اپنی ماں کو مزید باتیں کرنے سے روک دی کیونکہ وہ ماضی کی تلخیاں بیان کر رہی تھی الیکشن کو اس بات کا احساس ہوا کہ سامنے کھڑے لوگ سارے میرے خلاف تحریک کا حصہ رہے ہیں اب امی کی وجہ سے ان کے جذبات تو ٹھیس نہ پہنچے، الیکشن بی بی کا یہ رویہ بتا رہی تھی کہ وہ ماضی میں جانا نہیں چاہتی ہیں بلکہ وہ چاہتی ہے کہ اب اس کی وجہ سے کسی کو کوئی تکلیف نہ ہو ، لکشن بی بی نے مجھ سے کہا کہ بیٹا میں نے پہلے بھی ایسا ہی پر امن رہنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے کہیں پر بھی اختیارت کا غلط اور بے جا استعمال نہیں کی ہے۔ جب لوگ میرے خلاف کورٹ میں کیس لڑ رہے تھے اس وقت میں انہیں اپنے ہی گاڑی میں کورٹ کو لے جاتی تھی میں چاہتی تھی کہ انہیں کوئی گاڑی لینے میں مشکل نہ ہو کیوں کہ میں بے قصور تھی مجھے اپنے علاقے کی خدمت عزیز تھی اس لیے جب میں یہاں خواتین کی مخصوص آیام میں اور زچگی کے دورن خاص مقام بشالینی میں رہنے والے ماؤں اور بہنوں کے لیے جدید بشالینی تعمیر کر رہی تھی اس وقت مقامی لوگوں نے مجھے اتنا مجبور کیا کہ میں اس جنت کو چھوڑ کر سات سمندر پار جاکر اپنے ماں باپ اور عزواقارب سے دور زندگی گزرنے پر مجبور ہوئی ، میں مرتے وقت اپنے والد کی دیدار تک نہیں کر سکی ۔ مجھے ایسی ایسی پریشانیوں سے دور چار کیا گیا کہ اب میں وہ سوچ کر انتہائی مایوس ہو جاتی ہوں ۔ جب میں اس ملک سے جانے کا اردہ کیا تو سوچا کہ میں اگر کیلاش کلچر کو استعمال کر کے کہیں پے پناہ حاصل کرتی ہوں تو لوگ پھر میرے خلاف ہو جائیں گے اس لیے میں اپنے بل بوتے پر یہاں سے چلی گئی اب میری زندگی دیار غیر میں کسی سفیر سے کم نہیں بلکہ ان سے بہتر زندگی وہاں گزر رہی ہوں۔ افسوس تو میری یہ ہی ہے کہ اگر میں ادھر ہوتی تو کیلاش وادیاں آج بہت الگ ہوتے یہاں کے لوگ ترقی یافتہ کہلاتے مگر بد قسمتی سے مجھے بہت تنگ کر کے اس ملک کو چھوڑنے پر مجبور کیاگیا اب سب لوگ جانتے ہیں کہ ترقی کا آغاز میری وجہ سے ہوئی تھی۔

یہاں آکر میرے ہاتھ روک گئی قلم نے ساتھ چھوڑ دیا میرے آنکھوں میں نمی کا نہ روکنے والا طوفان تھا اور دل میں غموں کا انبار لے کر واپس لوٹنا پڑا ۔

Posted in تازہ ترین, خواتین کا صفحہ, مضامینTagged
63017