Chitral Times

داد بیداد ۔ قانون کی عملداری ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

داد بیداد ۔ قانون کی عملداری ۔ ڈاکٹرعنا یت اللہ فیضی

جڑنوالہ پنجاب میں سرکاری املا ک اور اقلیتوں کی عبادت گاہوں کو جلا نے کے جو حالات سامنے آئے وہ اچانک رونما نہیں ہوئے بلکہ مسلسل رونما ہونے والے وحشت نا ک واقعات کا تسلسل تھے وطن عزیز پا کستان میں ایسے واقعات باربار کیوں سراٹھا تے ہیں؟ پڑوسی ملک افغانستان میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟ ایران میں ایسے واقعات کیوں پیش نہیں ہوتے؟ ان سوالوں کا ایک ہی جواب ہے اور جواب یہ ہے کہ پا کستان میں قانون کی عملداری نہیں ہے 3دسمبر 2021کو سیا لکوٹ میں سری لنکا کے انجینر کو ہجوم نے ہلا ک کیا، 30جنوری 2023کو پشاور کی پولیس لائن والی مسجد میں حملہ کر کے 84نما زیوں کا خون بہا یا گیا 30جو لائی 2023کو خار باجوڑ میں حملہ کر کے 44پا کستا نیوں کا خون بہا یا گیا تھا 16اگست کو جڑ انوالہ میں بد امنی کا بڑا واقعہ ہوا ہم نے چار واقعات کو مثال کے طور پر لیا ہے 2021 سے 2023تک دوسالوں میں دہشت گردی کے 110واقعات اخبارات اور الیکٹرا نک میڈیا میں رپورٹ ہوئے جس طرح جڑانوالہ واقعے کے بعد 150مشتبہ افراد کو گرفتار کرنے کی خبر دی گئی

 

اس طرح ہر واقعے کے بعد درجنوں افراد کی گرفتاری کی خبریں میڈیا کی زینت بنا دی گئیں لیکن کسی ایک مجرم کو سزادینے کی خبر نہیں آئی 16اگست کو عدالت نے یہ افسوس نا ک تبصرہ اخبارات کو جاری کیا کہ پو لیس آرڈر 2002کے ذریعے پو لیس کے محکمہ تفتیش کو اپریشن سے الگ کیا گیا تھا اس لئے کسی بھی جرم کی درست تفتیش نہیں ہو تی اور مجرموں کو سزا سے بچا لیا جا تا ہے عدالت سے کسی نے یہ سوال نہیں پو چھا کہ 2002سے پہلے ہماری عدالتوں نے کس واردات کے مجرموں کو سزادی تھی؟ جواب یقینا نفی میں ہوگا ایک بزرگ شہری نے حکومت کے ایوانوں میں اپنے 70سالہ تجربات اور 98سال کی عمر کے مشا ہدات پر مبنی ایک خط لکھا ہے اور وصیت کی ہے کہ اس کو سر بمہر کر کے چیف جسٹس آف پا کستان اور چیف آف آرمی سٹاف کے دفترپہنچا دو خط میں کیا لکھا ہے اس کا علم نہیں خط کے ساتھ بزرگ شہری نے جو زبا نی پیغام دیا ہے وہ کھلے خط کی طرح ہے بزرگ شہری کا کہنا ہے کہ افغا نستان 50سالوں کی خا نہ جنگی کے باوجود ایک پرامن ملک ہے اس کی وجہ وہاں قانون کی عملداری ہے

 

مجرم سزا سے نہیں بچ سکتا بزرگ شہری کا کہنا ہے کہ 20جون 1994کو مشہد ایران میں اما م رضا کے مزار پر بم دھما کہ ہوا حکام نے تین مجرموں کو گرفتار کیا اور دودنوں کے اندر تینوں کو مزار کے باہر بڑی شاہراہ پر پھا نسی کی سزا دی اور ان کی لا شوں کو شدید گرمی میں دو دنوں تک لٹکائے رکھا اس کے بعد 29سال ہوئے ایسا حملہ کسی مزار یا مسجد پر نہیں ہوا حملہ آوروں کو پتہ ہے کہ ملک میں قانون کا سکہ چلتا ہے واردات کر کے زندہ بچنا ممکن نہیں ہمارے ہاں 19جنوری 2019کو ساہیوال میں بڑی شاہراہ پر سوزوکی آلٹو میں سفر کرنے والے میاں بیوی کو 12سالہ بیٹی اور ایک پڑو سی کے ہمراہ مو ت کے گھاٹ اتار دیا گیا 8سال 5سال اور 3سال عمر کے تین بچے زندہ بچ گئے واقعے کے عینی گواہ مو جود تھے سی سی ٹی وی فوٹیج مو جود تھی ملزمان معلوم تھے صرف قانون نہیں تھا، اس گھناونی واردات کے مجرم سزا سے بچ گئے 20جو لائی 2021کو اسلا م اباد کے پوش علا قے میں نور مقدم نا می دوشیزہ کو اس کے منگیتر نے بیدردی سے قتل کیا عینی شہا دتیں ریکارڈ کی گئیں،

 

سی سی ٹی وی فوٹیج کو عدالت میں پیش کیا گیا،تما م قانونی تقاضے پورے کئے گئے پھر عدالت کو بتا یا گیا کہ قاتل کھرب پتی شخص کا بیٹا ہے خود بھی کھر بوں کے کاروبار کا مالک ہے سال کے 10مہینے امریکہ اور یورپ میں گذار تا ہے صرف دومہینوں کے لئے پا کستان آتا ہے چنا نچہ مجرم سزا سے بچ گیا مقتو لہ نور مقدم بھی دولت مند خاندان سے تعلق رکھتی تھی تا ہم دولت میں مجرم ظاہر جعفر کا مقا بلہ نہیں کر سکتی تھی اس لئے مقتو لہ کے والدین کو انصاف نہ مل سکا سینئر شہری کا کہنا ہے کہ چیف جسٹس آف پا کستان اور چیف آف آرمی سٹاف مل کر فوجداری مقدمات میں مجرموں کو ایک ہفتے کے اندر پھا نسی دینے پر عملدر آمد کرائینگے تو ملک میں قانون کی حکمر انی نظر آئیگی پا کستان بھی پڑو سی ملک افغانستا ن اور ایران کی طرح امن کا گہوارہ بن جائیگا دہشت گردوں کی کمر بھی قانون ہی کے ذریعے توڑ ی جا سکتی ہے منشیات، سمگلنگ اور کرپشن پر بھی قانون کے ذریعے قابو پا یا جا سکتا ہے دونوں چیف مل کر قانون کی عملداری قائم کرینگے تو پا کستان کو درپیش تما م مسائل قانون کی حکمرانی کی وجہ سے حل ہوجائینگے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
78043

ہمارے معاشرے میں قانون کی عملداری – علی مراد خان

ہمارے معاشرے میں قانون کی عملداری – علی مراد خان

 ایک ریاست کی یہ اہم زمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنی شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کو یقینی بنائے اور جہاں کہیں انصاف کی فراہمی کی ضرورت ہو وہاں سستا انصاف مہیا کرے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بات اس کی الٹ ہے۔ ہہاں انتظام چلانے والے خود دانستہ طور پر قانون کی دھجیان اڑاتے ہیں۔


ٹھٹھہ میں میں فلمائی گئی ایک ویڈیو انٹرنیٹ پر اپلوڈ ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک پولیس اہلکار ایک غریب شہری کے سینے میں بیٹھ کر گلا دباتا ہے۔ دم گھٹنے سے شہری کا برا حال ہوتا ہے۔ پاس بیٹھی ماں آہ و فریاد کرتی ہے کہ کوئی اس کے بیٹے کو بچائے۔ اس کی پکار کی طرف کوئی کان نہیں دھرتا۔ پولیس اہلکار نوجوان پر تشدد یوں جاری رکھتا ہے جیسا کہ کسی شکاری بھڑیئے نے جنگل میں شکار پکڑا ہو۔ نام نہاد یہ خادم اور قانون کا عملدار دوسروں کی کیا مدد کر سکتا ہے جس کو خود قانون کا کچھ پتہ نہں۔ اردگرد کھڑی ہجوم یہ سب کچھ دیکھ رہی ہوتی ہے۔ لیکن ان میں یہ حوصلہ کہاں کہ وہ پولیس اہلکار کو یہ سمجھائیں کہ وہ مجرمانہ فعل کر رہا ہے۔


اوپر بیاں کئے گئے واقعے کی طرز کے واقعات ملک کے طول و عرض میں روز وقوع پزیر ہوتے ہیں۔ کہیں پولیس کی فائرنگ سے انسانی جانوں سے کھیلا جاتا ہےتو کہیں بے جا شیلنگ سے پر امن شہری لہولہاں ہوتے ہیں۔ یہاں تک کہ گزشتہ برس یہ خبر بھی میڈیا میں گردش کرتی رہی کہ شہر لاہور میں ایک پولیس افسر کی ہدایت پر مظاہرین پر کیمیکل ملا پانی پھینکا گیا جس سے ایک غریب شہری کی جان چلی گئی۔


ڈرائیوروں، ریڑھی بانوں اور معاشرے کے دوسرے غریب طبقات کو بے جا تنگ کرنا، خواہ مخواہ میں چالان کاٹنا، دھمکانا اور قانون کی پاسداری کے بجائے قانون کو ذاتی مفاد اور پسند یا ناپسند کی بنیاد پر استعمال کرنا تو عام سی بات بن گئی ہے۔


سب سے گھناؤنا کام اس وقت ہوتا ہے جب کوئی انتظامی عہدیدار یا اہلکار اپنی رشتہ داری، برادری، دوستی،ذاتی فائدے وغیرہ کی خاطر مجرموں سے ہمدردی کا اظہار کرتا ہےیا مدد کرتا ہے تاکہ وہ قانون کے شکنجے میں نہ آسکے۔ یہ ایک طرح سے ان کی سرپرستی ہوتی ہے۔ جس سے نہ صرف انصاف کی فراہمی رک جاتی ہے بلکہ مجرم کی حوصلہ افزائی بھی ہوتی ہے۔ اور وہ دوبارہ جرم کرنے، کسی کا حق چھیننے، یا امن و امان خراب کرنے میں خوف محسوس نہیں کرتا۔ اور یوں قانوں کے رکھوالے قانون اور انصاف کی پرچار کرنےکے بجائے معاشرتی بگاڑ کا سبب بنتے ہیں۔ جس سے لوگوں میں عدم اعتماد جنم لیتی ہے۔ لوگ اپنے اپ کو غیر محفوظ پاتے ہیں۔ نتیجتا کئی دوسرے معاشرتی برائیاں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ سب ایسے عملداروں کی وجہ سے ہوتا ہے جو اپنی پیشہ ورانہ زمہ داریوں کی اہمیت سے نا آشنا ہوتے ہیں۔ اور جو اپنی منصب کو ریاست کی امانت نہیں سمجھتے۔ یہی


لوگ معاشرتی برائیوں کی اصل جڑ ہوتی ہیں۔ انہی کی وجہ سے قانون کے نظام پر سوالیہ نشان لگتا ہے۔
صحتمند معاشرے کا قیام صرف اور صرف قانون کی حکمرانی سے ہی ممکن ہے۔ اس کے لئے قانون کو ایسے رکھوالوں کی ضرورت ہوتی ہے جو خود اعلٰی اخلاقی اقدار کے مالک ہو۔ ساتھ ساتھ ملک و قوم کی
ترقی کے لئے ان کے دل میں درد اور خدمت خلق کا جذبہ ہو۔ اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی کے دوران تعصب، اقرباء پروری، اور ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر تمام انسانون سے برابری کا برتاؤ کریں۔


کیونکہ صداقت پر مبنی برتاؤ اور فیصلوں سے معشرے میں روشنی پھیلتی ہے۔ سچائی اپنے ساتھ ہمیشہ امن اور آشتی لاتی ہے۔ لوگوں کے درمیاں برادرانہ سوچ کو پروان چڑھاتی ہے۔ معاشرتی اور اخلاقی اقدار ترقی پاتے ہیں اور یوں پورا معاشرہ تہذیب یافتہ بن جاتا ہے۔

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged , ,
51125