Chitral Times

فقیر محمد ہنزائی اور انکی اہلیہ کے نام ایک ادبی نشست……. تحریر: محمد شراف الدین فریا دؔ

Posted on

ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی شناکی ہنزہ ( ہنی) ناصرآباد میں قیام پاکستان سے گیارہ سال قبل یعنی 07 دسمبر1936 ؁ء میں پیدا ہوئے ۔آپ کے والدمحترم عبدالخالق علاقے کے نامور عالم دین ، خلیفہ اور درویش تھے ۔ آپ نے ناصرآباد ( ہنی ) کے پرائمری سکول سے ابتدائی تعلیم حاصل کی مگر گھر سے مڈل سکول تک طویل فاصلے کی وجہ سے کسی سکول میں آپ تعلیم کا سلسلہ برقرار تونہ رکھ سکے مگر آپ نے گھر کے اندر سیلف سٹڈی کے تحت فارسی زبان و ادب کی دستیاب اعلیٰ کتب کی خواندگی شروع کی ، اس غیر معمولی ریاضت سے آپ کو آگے جاکر عملی زندگی میں درس و تدریس اور تحقیق و تخلیق کے میدان میں کہنہ مشق اسکالر اور اہل قلم بننے میں بڑی مددملی ۔
آبائی گاؤں ناصر آباد میں جب عمرِ عزیز کے بیس ماہ وسال مکمل ہوئے تو تعلیم اور غنائے علم کی تلاش کے جنون نے آ پ کے دل میں بے چینی برپا کردی ، ایسے میں سفر مشکل ، حَضر مشکل کے دشوار مراحل پھلانگتے ہوئے آپ تعلیم اور روزگار کی دھمکتی سہولتوں سے معمور شہر کراچی پہنچنے میں کامیاب ہوگئے ۔ جہاں بصارت ، سماعت ، اور تفکر و تدبر سے متعلق خواب کی طرح ایک حسین دنیا جگمگا رہی تھی جس میں ظاہری و باطنی ترقی کے لیے گاؤں کی نسبت نئے آسمان اور نئے جہاں موجود تھے ۔ یہ ” سفر باعث ظفر” کا مصداق بنا اور میٹرک سے گریجویشن تک تعلیم مکمل کی ، بعد میں آپ کراچی یونیورسٹی سے ایم اے آنرز فلسفہ (ریگولر) اور عربی و فارسی میں ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے ان کامرانیوں میں ایک گولڈ میڈل بھی شامل ہے۔ تعلیم اور علم سے عشق کی حد تک وابستگی کے نتیجے میں رب جلیل نے ستر کے عشرے میں آپ کے لیے پی ایچ ڈی ڈگری کے لیے اوور سیز سکالرشپ کاراستہ کھول دیا ، چنانچہ آپ نے مانٹریال (کینڈا ) کی میکگل یونیورسٹی سے الٰہیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی ، یونیورسٹی کی انتظامیہ نے اپنے ایک رپورٹ میں لکھا کہ جناب فقیر محمد ہنزائی یونیورسٹی کے ماضی و حال کے تمام اسٹوڈنٹس میں سب سے محنتی ، قابل اور ذہین و متین طالب علم ثابت ہوئے ہیں ، یہ پاکستان اور بالخصوص گلگت بلتستان کے لیے ایک بڑا اعزاز تھا۔
1957 ؁ء میں آپ نے علمی و تحقیقی سفر کا آغا ز کیا۔ عالمی سطح کے سیمناروں اور کانفرنسوں میں اُمت مسلمہ کی فکری ترقی ، وحدت انسانی اور ناصر خسرو کی تعلیمات میں انسانی روح کی ترقی اور دیگر موضوعات پر مقالے پیش کئے ۔ جب آپ نے مغرب کی ایک مستند دانش گاہ سے امتیازی ریکارڈ کے ساتھ پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی تو عالمی شہرت کے حامل کئی یونیورسٹیوں میں آپ کو معلم اسٹاف میں شامل کیامگر آ پ نے مراعات اور مالی منفعت کے چمکدار مواقعوں کو ٹھکراتے ہوئے لندن کے ایک علمی و تحقیقی ادارے (I I S) میں ریسرچ ایسوسی ایٹ کی حیثیت سے ملازمت اختیار کرنے کو ترجیح دی جہاں سے عشرہ پہلے بیش بہا تدریسی اور تحقیقی خدمات مکمل کرکے ریٹائرڑ ہوگئے مگر علم اور تحقیق کا سفر 83 سال کی عمر میں بھی بغیر کسی ناغہ کے اب بھی جاری ہے۔
گزشتہ دنوں گلگت کے ایک مقامی ہوٹل میں ادبی تنظیم حلقہ ارباب ذوق گلگت اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی کے زیر اہتمام محترم ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور کی اہلیہ محترمہ رشیدہ ہنزائی کے نام ایک ادبی نشست منعقد ہوئی جس میں ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور رشیدہ ہنزائی نے خصوصی طور پر شرکت کیں ۔ اس ادبی محفل میں علاقے کے معروف گنان خواں مہرانگیزصاحبہ ، امبرین ، خلیفہ امیر جان اور گل بہار کے علاوہ گلگت بلتستان کے معروف سینئر شعرا ء کرام عبدالخالق تاج، جمشید خان دکھیؔ اور محمد نظیم دیا ؔ نے اپنے سحر انگیز کلام کے ذریعے ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور ان کی اہلیہ کی خدمات کا تذکرہ کیاجبکہ گلگت بلتستان کے وزیر تعمیرات عامہ ڈاکٹر محمد اقبال اور قراقرم یونیورسٹی گلگت کے وائس چانسلر ڈاکٹر عطااللہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی اور رشیدہ ہنزائی دو ایسی شخصیات ہیں جن پر پوری قوم کو فخر ہے۔ گلگت بلتستان کا خوبصورت عکس دنیا کودکھانا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہے ۔ اُنہوں نے ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی کو گلگت بلتستان کے عظیم فرزند اور شجرپاکستان کا شیرین میوہ قرار دیا ۔
واقعی ڈاکٹر فقیر محمد ہنزائی گلگت بلتستان کے عظیم سپوت ہونے کے ساتھ شجر پاکستان کے میوہ شیرین ہیں جنہوں نے علم و حکمت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اعلیٰ تعلیم و تحقیق اور ادبی نقد و تنقید میں بھی ایک منفرد مقام پایا ہے۔ آپ جید سکالر ، اعلیٰ محقق ، باکمال مدیر ، چارزبانوں عربی ، فارسی ، انگریزی اور اُردو ادب کے نقاد اور اعلیٰ پائے کے مترجم ہیں ۔ آپ چھتیس سال سے لندن میں تحقیق و تخلیق کی سرگرمیوں میں مصروف رہے ہیں ۔ آپ نے تصوف روحانیت سے متعلق صوفیائے کرام کے ستر کتابوں کا انگریزی میں تر جمعہ کیا ۔ کتاب العلاج ، ہزار حکمت (تاویلی انسائیکلو پیڈیا) صنادیق جواہر ، گنج گرانمایہ اور روح کیا ہے جیسی ستر کتابوں کا عالمی زبان میں با محاورہ ترجمہ کیاجو آپ کی شخصیت میں کارفرما علم و ہنر کی تواناصلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ علم و ادب سے وابستہ دانشمند حضرات اس امر کا بخوبی اندازہ کرسکتے ہیں کہ ترجمہ کی اس ریاضت کے دوران آپ نے مستند ڈکشنریوں کے سمند ر میں کس قدر تیراکی کی ہوگی تب جاکر صحیح اور مستند الفاظ جو کسی بھی محقق و مترجم کے لیے موتی سے بڑھ کر ہوتے ہیں ہاتھ آئے ہوں گے ۔ اسی نوعیت کی عرق ریزی کے لیے آپ نے اپنی عزیز جان و جگر کو نچوڑا تب تو علم و حکمت اور عقل و دانش کی تجلیات سے لبریز کتابوں کا عمدہ ترجمہ ممکن ہوا ۔ ڈاکٹر فقیر ہنزائی کے علمی و ادبی سفر کے دوران تالیفات ، تراجم اور ادارت کی کئی منزلیں عبور ہوگئیں ، گیارہویں صدی کے عظیم مفکر حکیم ناصروخسرو کی شہرہ آفاق کتاب ” وجہِ دین ” کا انگریزی میں ترجمہ اور ادارت کا دشوار کام منزل تکمیل تک پہنچایا ، جن دوسری کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ یا ادارت کا کام آ پ کے ہاتھوں مکمل ہوا ان میں حکیم ناصرخسرو کی تصنیف ” گشاش و رہائش ” اور کتاب ” شمرنگ لائٹ ” کے علاوہ مقدس ہستیوں کی شان میں مستند حدیثوں کی جامع کتاب بھی شامل ہے ۔ جو انگریزی اور اُردو دونوں زبانوں میں شائع ہوئی ہیں ۔ آپ نے عربی کے کلیدی معاخذ سے حدیثوں کا انتخاب کرکے انگریزی میں ترجمہ کیا اس کے علاوہ آپ نے اہم موضوعات پر متعدد تحقیقی مقالے بھی تحریرکئے جو ملکی و عالمی سطح کے اداروں سے شائع ہونے والی اہم کتابوں اور رسائل میں شائع ہوئے محققین نے ان مقالوں میں موجود علمی مواد کو سراہا ہے۔ محترمہ رشیدہ ہنزائی کینیاکے ایک معزز گھرانے میں پیدا ہوئیں اور ابتدائی تعلیم وہیں پائیں جبکہ اعلیٰ تعلیم کے لیے وہ کینڈا منتقل ہوئیں اور وہی سے ایجوکیشن میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ یہی وہ لمحہ تھا کہ اُن کاڈاکٹر صاحب سے تعلیمی تعلق پیدا ہوا ۔ میدان علم و حکمت میں دوستی نے دونوں کو ازدواجی رشتے میں منسلک کیا ، یہ رشتہ اس قدر توانا اور پائیدار ثابت ہوا کہ دونوں نے ادب اورتحقیق کے میدان میں ایک دوسرے کی خوب مدد کرکے یک جان دوقالب ہوگئے اور دونوں نے اپنے علمی اُستاد علامہ نصیر الدین ہنزائی کی ستر نادر کتابوں کا انگریزی میں ترجمہ کرکے حکتم سے محبت اور علمی ریاضت کی ایک نئی تاریخ رقم کی ۔ محترمہ رشیدہ ہنزائی نے مسلم لیگ کے پہلے صدر اور علی گڑھ یونیورسٹی کے بانی ہزہائنس سرسلطان محمد شاہ آغا خان سوئم پر انگریزی میں ایک تحقیقی کتاب (برج بٹوین ٹو ایپوکس) یعنی دو زمانوں کے درمیان پل تحریر کرکے عالمی محققین و مولفین میں شامل ہوگئیں ۔ محترمہ ایک عرصہ سے لندن کے ادبی و سماجی حلقوں میں (Inter faith harmony) کے لیے جان و دل سے کام کیا جس کے لیے اُنہوں نے اب تک امریکہ ، کینڈا ، یورپ ، افریقہ اور پاکستان میں منعقدہ سیمناروں ، کانفرنسز ، اجتماعات اور میڈیاپر اسلامی اقدار کی عظمت ، وحدت اسلامی اور مسلم خواتین کے کردار سمیت دیگر موضوعات پر چشم کشا لیکچر دیے ہیں ۔ تکثیریت کے موضوع پر تعلیم دینے والے ماہرین میں شما ر ہوتی ہیں۔
حلقہ ارباب ذوق گلگت اور بروشسکی ریسرچ اکیڈمی نے ان دو عظیم شخصیات کے نام پر ادبی تقریب منعقد کرکے نہ صرف اپنا اخلاقی حق ادا کیا ہے بلکہ گلگت بلتستان کے عوام میں یہ شعور بھی بیدار کیا کہ اس پسماندہ خطے میں تمام تر انسانی و بنیادی حقوق سے محروم ہونے کے باوجود قیمتی ہیروں کی کمی نہیں ہے اور ہم بھی علم و حکمت کے میدان میں دنیا کا مقابلہ کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں ۔

Posted in تازہ ترین, گلگت بلتستانTagged
14972