Chitral Times

غزل___!………. شاہ عالم علیمی..

Posted on

بڑے دنوں کے بعد فلک یوں گویا ہوا
تجھے دیکھ نہیں سکتا عدو بھی روتا ہوا
چار پل کے جو لمحے ہیں سو گزارے خوشی خوشی
دل کو تسلی دیتے ہوئے دل کو بہلاتا ہوا
قصے اس کے حسن کے بن بن کے دیوان ہوئے
زندگی بہہ گئی اس کے قصے جوڑتاہوا
منزل پہ پہنچتے پہنچتے قدم یوں مڈ گئے
دل پہ ستم ڈھاتا ہوا دل کو رلاتا ہوا
ہم سے کیا خاک فرشتے پوچھینگے احوال و حال
ہر قدم پہ جنگ لڑی ہے زندگی گزارتا ہوا
وادی میں خوشبو پھیلی اج اس کے بدن کی
قافلہ نازبر کا گزرا شاید خوشبوئیں لٹاتا ہوا
باغ ارم میں دل ہے، اس کے خیال کا کرم ہے
دل کے اسماں پہ نکلا وہ چاندہ چمکتا ہوا
دل کو خوش فہمی ہے یہ اس کی مہربانی ہے
اج اس کے در پہ تھا ایک جھلک کی صدا لگاتا ہوا
کافر تھا دل جو جامِ عشق پیا
پھر زندگی گزر گئی غم کا بوجھ اٹھاتا ہوا
کب تیری بات اس کے محفل میں ہوئی ہوگی
جو ایک چراغ بجھاتا ہے دوجا جلاتا ہوا
اس کے ستم سے خوشی ہوتی ہے ستم گر کو
اہ کی صدا لگاتا ہے فلک کو دیکھاتا ہوا
جگر میں چسپاں ہیں یوں ہزار تیر نیم کش
دل کراہ اٹھتا ہے درد کو چھپاتا ہوا
عشق کا جو نشہ ہے وہ دل ہی جانتا ہے
اتا نہیں کبھی وہ، مگر دکھتا ہے اتا ہوا
بےپرواہ کو کیا خبر کیا گزری ہے ہم پر
اس کی راہ میں مر گیا دل ناز سے پالا ہوا
عقل و دانش نہ سمجھے عشق کے فلسفے کو
جو لفظ لکھا گیا اسماں سے اترا ہوا

Posted in شعر و شاعریTagged
17315