Chitral Times

عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پرچترال پریس کلب میں تقریب

عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پرچترال پریس کلب میں تقریب

چترال ( نمائندہ چترال ٹائمز ) چترال میں عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر جاری کردہ ڈیکلریشن میں اس عزم کا اظہار کیا گیاکہ مقامی میڈیا کمیونٹی ڈیویلپمنٹ کے حوالے سے اپنی کردار میں مزید وسعت پید اکرکے معاشرتی ہم آہنگی اور صنفی مساوات کو یقینی بنانے کی راہ ہموار کرے گی جس میں بنیادی انسانی حقوق محفوظ ہوں گے ۔ڈیکلریشن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ آزادی صحافت کو اعلیٰ انسانی اقدار کو پروموٹ کرنے کے لئے استعمال کیا جائے گا جس سے انسانی ترقی کی راہیں ہموار ہوں گے۔

یورپین یونین اور آغا خان رورل سپورٹ پروگرام کی معاونت سے چترال پریس کلب اور کوہ انٹگریٹڈ ڈویلپمنٹ پروگرام کی طرف مشترکہ انتظام سے منعقد ہ اس کانفرنس میں عالمی تناظرمیں آزادی صحافت، چترال کی امن میں میڈیا کاکردار اور صنفی مسائل میں میڈیا کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے اس دن کی اہمیت اجاگر کی گئی۔ لویر چترال کے ڈسٹرکٹ پولیس افیسر اکرام اللہ خان اور گورنمنٹ سینٹنل ماڈل سکول کے پرنسپل فضل سبحان دومختلف نشستوں میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی جبکہ پروفیسر ڈاکٹر شاہ جہان، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، محکم الدین اور کمال عبدالجمیل نے مقالے پیش کئے۔مقررین نے آزادی اظہار رائے کو دوسرے تمام انسانی حقوق کا محرک قرار دیتے ہوئے کہاکہ اسی سے مستقبل کا نقشہ بھی تشکیل پاتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ 3 مئی دنیا بھرمیں حکومتوں کو یہ یاددہانی کراتی ہے کہ انہیں آزادی صحافت کو یقینی بنانی ہے اور یہ میڈیا پروفیشنلز کے لئے بھی اس احساس اور سوچ کودوبارہ زندہ کرنے کا دن ہے کہ انہیں اپنی آزادی اظہار رائے کے لئے کسی کے سامنے سر نڈر نہیں کرنی ہے جس سے انسانی حقوق محفوظ رہیں گے۔۔ وطن عزیز میں اظہار رائے کی آزادی کو یقینی بنانے اور صحافیوں کی تحفظ کی فراہمی پر بھی زور دیاگیا اور جمہوریت کو پروان چڑھنے کو اس سے مشروط قرار دیا گیا۔
چترال پریس کلب کے صدر ظہیر الدین نے 3مئی کو عالمی یوم آزادی صحافت منانے کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہاکہ اظہار رائے کی آزادی سے ہی بنیادی انسانی حقوق کا براہ راست تعلق ہے اوراسی تناظر میں یونیسکو نے تیس سال قبل 1993ء میں اس دن کو صحافت کی آزادی کے دن کے طور پر منانے کے لئے مقررکیا۔ انہوں نے چترال میں میڈیا کو آزادی کے حوالے سے درپیش مسائل کا ذکر کیا۔ انہوں نے کانفرنس کی انعقاد میں معاونت پر یورپین یونین اور اے کے آر ایس پی کا شکریہ اداکیا۔

عالمی یوم آزادی صحافت کے حوالے سے پیش کردہ مقالہ ‘عالمی تناظرمیں آزادی صحافت کا جائزہ’ میں کمال عبدالجمیل نے دنیا کے مختلف ممالک میں آزادی صحافت کا تقابلی جائزہ پیش کیااور صحافیوں کو درپیش مسائل کا تفصیلی احاطہ کیا اور بتایاکہ آزادی صحافت کے حوالے سے اعشاریہ میں وطن عزیز پاکستان دنیا کے ممالک میں 157نمبر پر آتا ہے۔ چترال میں امن اور معاشرتی ہم آہنگی کے موضوع پر سینئر صحافی محکم الدین ایونی نے چترال میں صحافیوں کی مثبت رول پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ وہ سنسنی پھیلانے سے ہمیشہ گریز کرتے رہے ہیں اور ہمیشہ علاقے میں امن وامان اور تہذیب وثقافت کے اقدار کو سامنے رکھتے ہوئے رپورٹنگ کی ہے جس کے خوشگوار اثرات سامنے آرہے ہیں۔چترال میں میڈیا کی تاریخ پر ممتاز کالم نگار ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی نے 1920ء کے عشرے سے لے کر چترال میں صحافت کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور تمام صحافیوں کا ذکرکیا۔ سینئر صحافی جہانگیر جگر نے بھی چترال میں میڈیا کی تاریخ اور خصوصی طور پر 1970ء کی دہائی کے بعد سے حالات پر تفصیل سے اظہار خیال کیا۔ مہمان خصوصی فضل سبحان نے اپنے خطاب میں صحافت کو ایک مقدس مگر بہت ہی مشکل اور نازک پیشہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ ہی لوگ معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ کے ذمہ دارہوتے ہیں کیونکہ یہ اپنی تحریروں کے ذریعے معاشرے کے افراد پر اثر پذیر ہوتے ہیں۔

 

کانفرنس کے دوسرے سیشن میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ جرنلزم کے سابق چیرمین پروفیسر ڈاکٹر شاہ جہان نے اسلام آباد سے ویڈیو کال کے ذریعے ” صنفی مسائل میں میڈیا کے کردار”کے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ کس طرح میڈیا صنف نازک کو اس کا متعین مقام دلانے اور ان کی حقیقی آزادی دلانے میں ممدومعاون ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے شرکاء کے سوالات کا بھی جواب دیا۔ اپنے خطاب میں مہمان خصوصی ڈی پی او اکرام اللہ خان نے قرآن وسنت کا حوالہ دے کر اس بات کو واضح کیا کہ کس طرح صحافیوں کو سچ اور جھوٹ میں تمیز کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ معاشرے میں امن وامان اور صلح وآشتی اوربھائی چارہ قائم ہوسکے۔ انہوں نے چترال کے تناظر میں صحافیوں پر زور دیاکہ وہ مشیات کی لعنت سمیت دوسری سماجی برائیوں کے خلاف اپنے قلم سے جہاد کریں اور چترال میں ٹورزم کی بے پناہ پوٹنشل سے فائدہ اٹھانے کی راہ ہموارکرنے کے لئے بھی اپنے قلم کا استعمال کرے اور اجتماعی معاملات پر بھی قلم اٹھائے۔

کانفرنس سے ممتاز دانشور علی اکبر قاضی نے خطاب کرتے ہوئے صحافت پر روشنی ڈالی اور برصغیر پاک وہند میں بابائے جدید تعلیم سرسید احمد خان کی تعلیمات کی روشنی میں صحافت کے تین رہنما اصول بیان کرتے ہوئے کہاکہ آج بھی ان پر کاربند رہ کر صحافت کے پیشے کے ساتھ انصاف کرسکتا ہے۔ پاکستان مرکزی مسلم لیگ کے صدررحمن سید ملک نے کہاکہ صحافت وہی اصل صحافت ہے جو ملک وقوم کے مفادات کا تحفظ کرے۔ معروف سماجی کارکن اور شاعر عنایت اللہ اسیر نے چترال کی تعمیر وترقی میں مقامی میڈیا کی کردار پر روشنی ڈالی۔ اس موقع پر اے کے آرایس پی کے سوشل سوسائٹی افیسر سید عارف جان نے بھی عالمی آزادی صحافت کے بارے میں اپنی خیالات کا اظہار کیا۔

chitraltimes chitral press club program on freedom of media faizi chitraltimes chitral press club program on freedom of media4

 

chitraltimes press club program on media freedom

chitraltimes chitral press club program on freedom of media3

chitraltimes chitral press club program on freedom of media

Posted in تازہ ترین, چترال خبریںTagged
74035

عالمی یوم آزادی صحافت – تحریر: قاضی شعیب خان

عالمی یوم آزادی صحافت – تحریر: قاضی شعیب خان

پاکستان سمیت پوری دنیا میں ہر سال کی طرح رواں سال میں 03مئی2023 کے دن قلم کی حرمت کے تحفظ کے لیے آزادی صحافت کا دن اس عہد کے ساتھ منایا جاتا ہے کہ دنیا بھر کے صحافیوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطع پر جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ صحافتی تنظیمیں ٓزادی صحافت کے حوالے سے سیمنارز، ریلیاں اور احتجاجی جلوس بھی نکالتے ہیں۔ مگر پاکستان میں یہ اہم دن انتہائی خاموشی کے ساتھ گزر گیا۔ پاکستان میں آزادی صحافت کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کے تحت صحافیوں کو مکمل آزادی دی گئی ہے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ تمام اپوزیشن سیاستدان اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کے لیے میڈیا کے کندھے استعمال کرتے ہیں اور جب مسند اقتدار پر بیٹھ جاتے ہیں تو سب سے پہلے میڈیا کی آزادی کو کچلنے کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے صحافیوں کے خلاف نئے نئے قوانین بنائے گئے ان کے خلاف پیکا ایکٹ اور دھشت گردی کے مقدمات بنائے جاتے رہے ہیں۔

 

آزادی صحافت سے خائف پاکستان کے جہوری اور آمریت دور حکومت نے ہمیشہ صحافیوں کو ہمنوا بنانے کے لیے میڈیا ہاؤسز کے ذریعے دباؤ ڈالتے ہوئے انھیں ملازمت سے بھی فارغ کیا جاتا رہا۔ انکار کی صورت میں صحافیوں اور ان کے زیر کفالت خاندانوں کی بھی شدید ذہنی اور معاشی مسائل سے دوچار کیا۔ جن کی تمام تفصیلات سرکاری اور نجی اداروں کے ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔ پاکستان میں صحافت کو ریاست کا چوتھا ستون ہونے کا اعزاز حاصل ہے جس کے لیے قلم کے مزدروں نے جان ہتھیلی پررکھ کر آزادی صحافت کے پرخار راستوں کو عبور کرتے ہوئے دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ اس صحافتی آزادی کو کچلنے کے لیے پاکستان کے حکمران طبقے سے اپنے اپنے دور میں فعال صحافیوں کے خلاف قوانین بنائے اور انھیں تخت مشق بنایا۔ پاکستان کے سیاستدان بھی عجیب ہیں جب اپوزیشن میں ہوں تو صحافیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اظہار یک جہتی کا دم بھرتے ہوئے نظر آتے ہیں اور جب برسر اقتدار ہوں تو صحافیوں کو اپنے ہم نوا بنانے اور ان کی زبان بندی کے لیے تمام ریاستی اداروں کو استعمال کرتے ہیں۔

 

حیران کن امر ہے کہ ریاست کے دیگر تین ستون عدلیہ، مقننہ اور انتظامیہ بھی اس دور میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے ازخود نوٹس کے تناظر میں پاکستان کے معروف سینئر صحافیوں حامد میر پر 19 اپریل 2014میں کراچی میں ہونے قاتلانہ حملے اور ارشدشریف کے قتل کے حوالے سے تین رکنی بینچ بھی تشکیل دئیے گئے۔ اس دوران صحافی ارشد شریف نے اپنے وکیل بیرسٹر شعیب رزاق کے توسط سے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے حصول کے لیے جب اسلام ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی تو وزارت داخلہ نے عدالت میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ قومی مفاد میں کمیشن کی روپورٹ جاری کرنا ممکن ہی نہیں۔حامد میر کے مطابق اگر ان کی رپورٹ پبلک ہوجاتی توارشد شریف کی جان بچ سکتی تھی۔ اس طرح صحافی مدثر نارو گزشتہ پانچ سال سے لاپتہ ہے جس کی والدہ پاکستان کے تمام مقتدر حلقوں کے سامنے فریادکر رہی ہے۔ عیدالفطرسے قبل اس کے لاپتہ بیٹے سے کم از کم زندہ ہونے کی تسلی ہی دلادیں مگر بدقسمتی سے تمام ادارے خاموش ہیں۔ صحافیوں اور ان کے متاثرہ خاندانوں بار بار کی استدعا کے باوجود عدالت کی رپورٹ منظرعام پر نہ لانا انصاف میں تاخیرانصاف میں انکار کے مترادف ہے۔

 

پاکستان کے نڈر اور بے باک سینئر صحافی ارشد شریف عوام کے اظہار رائے کی آزدی کے بنیادی آئینی حقوق کے تحفظ کی جنگ لڑتے لڑتے 3 اکتوبر 2022 کی شب کینیا کی پولیس کے ہاتھوں قتل ہو گئے اور بروز جمعرات 27 اکتوبر 2022 کو وفاقی دار ا لخلافہ اسلام آباد کے سیکٹر H-11 قبرستان میں لاکھوں اشک بار آنکھوں کے سامنے ابدی نیند سو گیا۔ جن کی شہادت کے بعد پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ ملک کے طول و عرض میں ان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی جا رہی ہے۔ پوری قوم ان کے درجات کی بلندی کے لیے دعا گو ہے۔ شہید صحافت ارشد شریف کی صحافتی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے پورے ملک سے آئے ہوئے عوام کا جم غفیر عوام میں اس کی مقبولیت کی ایک روشن دلیل ہے۔ جو اپنے عوام کے دلوں میں آج بھی زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔اللہ پاک نے انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کے ناطے بے پناہ نعمتوں سے نوازہ ہے۔انسان عطاکردہ ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کر سکتا۔ جس میں سے اظہار رائے کی آزادی سب سے قیمتی انعام ہے۔

 

اسلامی جہوریہ پاکستان کے1973 کے دستور میں پاکستان کے تمام شہریوں کو دیگر بنیادی حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آرٹیکل 19کے تحت انھیں اپنی رائے کے آزادانہ رائے کے اظہار کی مکمل گارنٹی دی گئی ہے۔ ملک کے دیگر صحافیوں کی طرح صوبہ پنجاب اورخیبر پختونخوا کے انتہائی حساس سرحدی ضلع اٹک کے صحافی حضرات بھی اپنے محدود وسائل کے باوجود عوام کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے مصروف عمل رہتے ہیں۔ عوام کو اپنے رائے کے آزادانہ اور غیر جاندارانہ اظہار کے لیے پریس کلب بہت اہمیت کا حامل رہا ہے۔ عوام کے حقوق کے تحفظ کی جدو جہد میں ضلع اٹک کے پروفیشنل صحافیوں نے گراں قدر خدمات سرانجا م دی ہیں۔ پاکستان کے معروف صحافی محمد اسماعیل کا تعلق بھی ضلع اٹک سے تھاجن کو 16سال قبل پی پی آئی نیوز ایجنسی اسلام آبادمیں صحافتی فرائض کے دوران شہید کر دیا تھا۔میڈیا اطلاعات کے مطابق گزشتہ روز مقبوضہ پریس کلب اٹک (رجسٹرڈ) کے سرپر ست اعلی سینیرصحافی سید رضا نقوی نے وزیر اعلی پنجاب سے مطالبہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ ضلع انتظامیہ اٹک نے نقص امن عامہ کی فرضی کہانی بنا کر راتوں و رات قانونی تقاضے بالائے تاق رکھتے ہوئے صحافی برادری کو پریس کلب سے محروم کر دیا ہے۔

 

اٹک پریس کلب اور اس میں پڑئے ہوئے لاکھوں روپے مالیت کا سامان چھین کر زبردستی قبضہ کرکے محکمہ مال کے سپر د دیا ہے۔ اٹک پریس کلب کا مین گیٹ توڑ کر صحن کو گاڑیوں کی پارکنگ میں تبدیل کر دیا ہے۔ ضلع انتظامیہ کے اس غیر قانونی اور غیرآئینی اقدام پر سراپا احتجاج صحافی برادری نے ڈپٹی کمشنر سمیت پنجاب کے تما م متعلقہ حکام کو اپیل کی جس پر ڈپٹی کمشنر اٹک نے سرسری سماعت کے بعد معاملہ ڈپٹی ڈائریکٹر پبلک ریلیشنز اٹک شہزاد نیاز کی حل کرنے کی ہدایات جاری کیں تو انھوں نے چھ ماہ قبل اٹک پریس کلب کی فائل چیف آفیسر ضلع کونسل اٹک بادشاہ خان کو ریکارڈ کے لیے بجھوا دی تھی۔ جو تاحال افسر شاہی کے خود ساختہ رکاوٹوں میں الجھا ہوا ہے۔ مقبوضہ پریس کلب اٹک (رجسٹرڈ) کے سرپر ست اعلی سینیرصحافی سید رضا نقوی نے بتایا کہ مذکورہ پریس کلب کی الائٹمنٹ 1985 میں سابق چیرمین ضلع کونسل اٹک سید اعجاز بخاری نے ضلع کونسل کی متفقہ قرار داد کی روشنی میں کی تھی۔ جس کے تمام واجبات کلب کے ارکان اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ بعد ازاں ضلع کونسل کی جانب سے مفاد عامہ کے تحت استثناء دے دیا تھا۔ضلع انتظامیہ نے صحافی برادری کو اپنے دفاع کا قانونی اور آئینی حق دیئے بغیر ہی پریس کلب پرغاصبانہ طور پر قبضہ قائم کر رکھاہے۔ جس کی وجہ سے صحافیوں کو اپنے فرائض منصبی سرانجام دینے کے لیے شدید مشکلات اور ازیت ناک صورت حال کا سامنا ہے۔

 

ضلع بھی کی صحافی برادری نے 5 فروری 2023کو کشمیر ڈے کے موقع پرکشمیری عوام کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے ساتھ ساتھ اپنے مقبوضہ پریس کلب کے غاصبانہ قبضے کے خلاف احتجاجی ریلی کے دوران بھی پنجاب کے اعلی حکام سے پریس کلب پر ضلع انتظامیہ کا بلاجواز قبضہ ختم کرانے کا مطالبہ کیا تھا۔ مقبوضہ پریس کلب اٹک (رجسٹرڈ) کے سرپر ست اعلی سینیرصحافی سید رضا نقوی نے معروف صحافی اور پنجاب کے نگران وزیر اعلی محسن نقوی سے اٹک پریس کلب کا قبضہ واگزار کرانے کے بعد فعال کرنے اور اس معاملے میں ملوث تمام افسران اور پس پردہ کرداروں کے خلاف قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا تھا۔ جسے منہ زور بیورو کریسی نے اپنی جھوٹی انا کا مسئلہ بنا تے ہوئے خود ساختہ دفتری رکاوٹوں کی نذد کر رکھا ہے۔ جس کے نیتجے میں صوبہ پنجاب اور خیبر پختونخواہ کے بین الصوبائی حساس سرحدی ضلع اٹک کی صحافی برادری کواپنے صحافتی فرائض سرانجام دینے میں کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی سے وکلاء برادری کے جان و مال کے تحفظ کے لیے بل منظور کر کے ایکٹ آف پارلیمنٹ نافذ کر دیا ہے اور سند ھ حکومت نے صحافیوں کے تحفظ کے لیے جرنلسٹس پروٹیکشن ایکٹ نافذ کیا ہے۔ اس طرح وفاقی حکومت کو بھی ملک کے دیگرعلاقوں کے صحافیوں،ان کے زیر کفالت خاندانوں کے جان و مال اور فرائض کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری قانون سازی کے لیے بروقت ٹھوس اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔

 

Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
74018